Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 27

سورة العنكبوت

وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾

And We gave to Him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.

اور ہم نے انہیں ( ابراہیم کو ) اسحاق و یعقوب ( علیہما السلام ) عطا کئے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ثواب دیا اور آخرت میں تو وہ صالح لوگوں میں سے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ ... And We bestowed on him, Ishaq and Ya`qub, This is like the Ayah, فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلًّ جَعَلْنَا نَبِيّاً So, when he had turned away from them and from those whom they worshipped besides Allah, We gave him Ishaq and Ya`qub, and each one of them We made a Prophet. (19:49) That is, when he left his people, Allah gave him joy in a righteous son who was also a Prophet, to whom in turn was born, in his grandfather's lifetime, a righteous son who was also a Prophet. Allah also says: وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَـقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً And We bestowed upon him Ishaq, and Ya`qub in addition (21:72) meaning, as an additional gift. This is like the Ayah, فَبَشَّرْنَـهَا بِإِسْحَـقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ But We gave her glad tidings of Ishaq, and after Ishaq, of Ya`qub. (11:71) meaning, to this son would be born a son during their lives, who would be a delight to them. .... وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ... and We ordained among his offspring Prophethood and the Book, This is a tremendous blessing. Not only did Allah take him as a close friend and make him an Imam for mankind, but He also ordained Prophethood and the Book among his offspring. After the time of Ibrahim there was no Prophet who was not from among his descendants. All of the Prophets of the Children of Israel were from among his descendants, from Ya`qub bin Ishaq bin Ibrahim to the last of them, `Isa bin Maryam, who stood in the midst of his people and announced the good news of the Hashimi Qurashi Arab Prophet, the last of all the Messengers, the leader of the sons of Adam in this world and the next, whom Allah chose from the heart of the Arab nation, from the descendants of Ismail bin Ibrahim, may peace be upon them. There is no Prophet from the line of Ismail besides him, may the best of blessings and peace be upon him. ... وَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الاْاخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous. Allah granted him happiness in this world that was connected to happiness in the Hereafter, for in this world he had plentiful provision, a splendid home, a beautiful and righteous wife, and he was and still is spoken of highly, for everyone loves him and regards him as a friend. Ibn Abbas, Mujahid, Qatadah and others said: "He obeyed Allah in all ways." This is like the Ayah, وَإِبْرَهِيمَ الَّذِى وَفَّى And of Ibrahim who fulfilled all. (53:37) He did all that he was commanded to do and obeyed his Lord to the utmost. Allah says: وَاتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الاْاخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِين (and We granted him his reward in this world; and verily, in the Hereafter he is indeed among the righteous). And He says: إِنَّ إِبْرَهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَـنِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ Verily, Ibrahim was an Ummah, Qanit to Allah, a Hanif, and he was not one of the idolators, until: وَإِنَّهُ فِى الاٌّخِرَةِ لَمِنَ الصَّـلِحِينَ and in the Hereafter he shall be of the righteous. (16:120-122)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

271یعنی حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے یعقوب (علیہ السلام) ہوئے، جن سے بنی اسرئیل کی نسل چلی اور انہی میں سارے انبیاء ہوئے، اور کتابیں آئیں۔ آخر میں حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا۔ 272اس اجر سے مراد رزق دنیا بھی ہے اور ذکر خیر بھی۔ یعنی دنیا میں ہر مذہب کے لوگ (عیسائی، یہودی وغیرہ حتی کہ مشرکین بھی) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیرو، ان کے ہاں وہ محترم کیوں نہ ہونگے ؟ 273یعنی آخرت میں بھی وہ بلند درجات کے حامل اور زمرہ صالحین میں ہونگے۔ اس مضمون کو دوسرے مقام پر بھی بیان کیا گیا ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٤٢] حضرت ابراہیم پر جتنے بھی ابتلاء کے دور آئے ان سب میں آپ کامیاب رہے جب ہجرت کی تو اس وقت تک آپ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ گھر بار اور وطن اور عزیز و اقارب چھوڑنے پر اللہ نے آپ کو اولاد عطا فرما دی کہ دل بہلا رہے۔ مزید یہ انعام فرمایا کہ نبوت آپ ہی خاندان سے مختص فرما دی۔ آپ کے بعد جتنے بھی نبی آئے آپ ہی نسل سے آئے۔ اسی لئے آپ کو ابو الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے صرف آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسماعیل کی اولاد سے مبعوث ہوئے باقی سب حضرت اسحاق بلکہ ان کے بیٹے حضرت یعقوب کی اولاد سے تھے۔ جنہیں اسرائیل بھی کہا جاتا ہے۔ [ ٤٣] دنیا میں ایک تو یہ اجر دیا کہ نبوت کو ان کے خاندان سے مختص کردیا اور دوسرا اجر یہ دیا کہ آپ کو تمام لوگوں کا امام اور پیشوا بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں بلکہ اور بھی کئی مذاہب کے ہاں یکساں محترم ہیں حتیٰ کہ مکہ کے مشرکین بھی اپنے آپ کو انہی سے منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر مزید مہربانی یہ تھی کہ رہتی دنیا تک آپ کا ذکر خیر ان میں چھوڑ دیا۔ امت محمدیہ میں اس ذکر خیر کی صورت یہ ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اپنی ہر نماز میں آپ پر دورد پڑھے۔ اور آخرت میں آپ کو اعلیٰ درجہ کے صالحین (جو انبیائے اولوالعزم کی جماعت ہے) میں شامل کیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ : اس آیت میں ایک لطیف فائدہ ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ابراہیم (علیہ السلام) پر آنے والے تمام مشکل حالات کو ایسے بہترین حالات کے ساتھ بدل دیا جو پہلے حالات کے بالکل الٹ تھے، یعنی قوم نے انھیں توحید کی دعوت کی وجہ سے آگ میں پھینکا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس سے خیریت و سلامتی کے ساتھ بچا لیا۔ وہ پوری قوم میں تنہا تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں انھیں اتنی اولاد عطا فرمائی جس سے دنیا بھر گئی۔ ان کے رشتے دار خود گمراہ اور مشرک تھے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے اور شرک کی دعوت دینے والے تھے، جن میں ان کا باپ آزر بھی تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان رشتہ داروں کے بدلے میں ایسے رشتہ دار دیے جو خود ہدایت یافتہ اور دوسروں کو ہدایت دینے والے تھے، یہ ان کی وہ اولاد تھی جن میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب رکھ دی۔ وہ اپنے وطن میں بےوطن تھے، تو اللہ تعالیٰ نے بابرکت زمین شام میں انھیں ٹھکانا عطا فرمایا۔ ان کے پاس مال و جاہ نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اتنا مال عطا فرمایا کہ وہ اچانک آنے والے چند مہمانوں کے لیے تھوڑی دیر میں بھنا ہوا بچھڑا لے آتے ہیں اور جاہ و مرتبہ اتنا عطا فرمایا کہ قیامت تک آخری رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود کے ساتھ ان پر بھی درود بھیجا جاتا رہے گا۔ ایک وقت تھا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر بےحیثیت تھے کہ انھیں ایک بےنام شخص سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ سورة انبیاء میں ہے : (قَالُوْا سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗٓ اِبْرٰهِيْمُ ) [ الأنبیاء : ٦٠ ] ” انھوں نے کہا ہم نے ایک جوان سنا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ “ اور دعوت توحید کی وجہ سے ان کی قوم ان کی دشمن تھی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت تک آنے والوں میں ایسی لسان صدق (سچی شہرت اور ناموری) عطا فرمائی کہ اب کم ہی کوئی شخص ہوگا جو انھیں نہ جانتا ہو۔ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان سب ان سے محبت کرتے ہیں، ان کا ذکر اچھے سے اچھے طریقے سے کرتے ہیں اور ان کی طرف نسبت پر فخر کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اس بات کی بلا ریب شہادت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے کہیں بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ : یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ان کی اولاد کے سوا کسی کو نبوت اور آسمانی کتاب نہیں دی گئی، جتنے انبیاء ہوئے ان کی اولاد سے ہوئے، اس لیے انھیں ابو الانبیاء کہا جاتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کا ایک سلسلہ اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کا ہے، جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) تک بہت سے حضرات کو نبوت ملی۔ دوسرا سلسلہ اسماعیل (علیہ السلام) کا ہے جس میں آخری نبی سید ولد آدم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوئے۔ زمخشری نے یہاں ایک سوال ذکر کیا ہے کہ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمانے کا ذکر ہے، اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر نہیں، پھر خود ہی جواب دیا کہ یہاں ان کا اور سید الرسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر بھی ” وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ “ کے ضمن میں موجود ہے۔ بعض مفسرین نے یہاں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر صراحت کے ساتھ نہ کرنے میں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں شروع سے اہل ایمان کی آزمائش اور امتحان کا ذکر آرہا ہے، جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کا ذکر بھی ہے، ان کی آزمائش کے ذکر کے بعد ان پر انعامات کا ذکر ہے، جن میں صراحت کے ساتھ اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا، کیونکہ آزمائش کے خاتمے پر بڑھاپے میں ان کا ملنا انعام ہی انعام تھا۔ اسماعیل (علیہ السلام) بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کا انعام تھے، مگر ان کے ساتھ شدید قسم کے امتحانات بھی وابستہ تھے، مثلاً وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنا، انھیں ذبح کرنے کا حکم دینا وغیرہ۔ اس لیے انعام کے تذکرے میں اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں فرمایا، اگرچہ نبوت و کتاب عطا کی جانے والی اولاد میں ان کا ذکر بھی فرما دیا۔ (واللہ اعلم) اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا : اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت کے فائدہ (١) میں گزرا ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ” یعنی دنیا میں حق تعالیٰ نے مال، اولاد، عزت اور ہمیشہ کا نام دیا اور ملک شام ہمیشہ کے لیے ان کی اولاد کو بخشا۔ “ (موضح) وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ : یعنی دنیا میں دیے جانے والے اجر سے ان کے آخرت کے درجات میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ انھیں صالحین میں شمولیت کا شرف عطا کیا گیا جس کے حصول کی دعا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر بھی کرتے رہے، جیسے سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کی : (وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ ) [ النمل : ١٩ ] ” اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ “ اور یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ ) [ یوسف : ١٠١ ] ” مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ “ اور عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے : ( مَا مِنْ نَبِيٍّ یَمْرَضُ إِلاَّ خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَکَانَ فِيْ شَکْوَاہُ الَّذِيْ قُبِضَ فِیْہِ أَخَذَتْہُ بُحَّۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ( مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ) [ النساء : ٦٩ ] فَعَلِمْتُ أَنَّہُ خُیِّرَ ) [ بخاري، التفسیر، باب : ( فاولٓئک مع الذین أنعم اللہ علیھم ۔۔ ) : ٤٥٨٦ ]” جو بھی نبی بیمار ہوتا ہے اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ “ اور آپ جس بیماری میں فوت ہوئے آپ کو بہت سخت کھانسی ہوئی، تو میں نے سنا آپ کہہ رہے تھے : ” ان لوگوں کے ساتھ (ملا دے) جن پر تو نے انعام کیا نبیوں، صدیقوں، شہداء اور صالحین میں سے۔ “ تو میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دے دیا گیا ہے۔ “ 3 اس آیت میں دین حق کی خاطر صبر کرنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کی ترغیب ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

because the next sentence, i.e وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ (And We granted him Ishaque and Yaqub) is pointing certainly toward Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . However, some other commentators are of the view that إِنِّي مُهَاجِرٌ‌ إِلَىٰ رَ‌بِّي (I am going to leave my homeland) was said by Sayyidna Lut (علیہ السلام) . But in the present context, the former explanation appears more appropriate. Although Sayyidna Lut (علیہ السلام) had accompanied Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) during this journey, but being subordinate to him, his separate mention was not called for, like Sayyidah Sarah, who was subordinate to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، was not mentioned separately. First prophetic migration in world&s history Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was the first prophet who had to migrate from his hometown for the sake of religion. He underwent this migration at the age of 75 years. (Qurtubi). The reward for some actions is bestowed in this world as well وَآتَيْنَاهُ أَجْرَ‌هُ فِي الدُّنْيَا (And gave his reward in the world - 29:27). That is, ` We rewarded Ibrahim for his sacrifices in the way of Allah and righteous actions in this world also&. He is made popular and the Imam among the people of the world. He is respected by all alike, whether Jews, Christians or idol worshippers. In the Hereafter he will be among the Salihin (righteous) of the Paradise. It clarifies that although the real reward for good deeds will be awarded in the Hereafter, but a small part of it is also given in this world. Some authentic ahadith have also described about the award of benefits in this world against good deeds, and depraved outcome of the bad deeds. Maulana Hakim-ul-Ummah (رح) has put together all such acts in his booklet ` Jaza&-ul-A` mal& (جَزَاّء الاَعمَال ).

کیونکہ اس کے بعد وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ تو یقینا انہی کا حال ہے اور بعض حضرات مفسرین نے اِنِّىْ مُهَاجِرٌ کو حضرت لوط (علیہ السلام) کا قول قرار دیا ہے، خلاصہ تفسیر کا ترجمہ اسی کے مطابق ہے، مگر سیاق کلام سے پہلی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) بھی اگرچہ اس ہجرت میں شریک ضرور تھے مگر جیسا حضرت سارہ کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تابع تھیں اسی طرح لوط (علیہ السلام) کی ہجرت کا ذکر مستقلاً نہ ہونا کچھ بعید نہیں۔ دنیا میں سب سے پہلی ہجرت : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جن کو دین کے لئے ترک وطن اور ہجرت اختیار کرنا پڑی، ان کی یہ ہجرت پچھتر سال کی عمر میں ہوئی (یہ سب بیان قرطبی سے لیا گیا ہے۔ ) بعض اعمال کی جزاء دنیا میں بھی مل جاتی ہے : وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا، یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اللہ کی راہ میں قربانیوں اور دوسرے اعمال صالحہ کی جزاء دنیا میں بھی دے دی کہ ان کو تمام مخلوق میں مقبول و امام بنادیا، یہودی، نصرانی، بت پرست سبھی ان کی عزت کرتے ہیں اور اپنا مقتداء مانتے ہیں اور آخرت میں وہ صالحین اہل جنت میں سے ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعمال کی اصل جزاء تو آخرت میں ملے گی مگر اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی نقد دیا جاتا ہے، جیسا کہ احادیث معتبرہ میں بہت سے اچھے اعمال کے دنیوی فوائد اور برے اعمال کے دنیوی مفاسد کا بیان آیا ہے، ایسے اعمال کو سیدی حضرت حکیم الامت نے ایک مستقل رسالہ |" جزا اعمال |" میں جمع فرما دیا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰہُ اَجْرَہٗ فِي الدُّنْيَا۝ ٠ ۚ وَاِنَّہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ ٢٧ وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ( ف ) ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] خدا کا شکر ہے جس نے مجھے بڑی عمر اسماعیل اور اسحاق بخشے ۔ إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا یعنی فر شتہ ہوں اور اسلئے آیا ہوں کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ( ا ج ر ) الاجروالاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دینوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا جر تو خدا کے ذمے ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا[يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧) اور پھر ہم نے ان کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) (بیٹا) اور یعقوب (علیہ السلام) (پوتا) عنایت فرمایا اور ہم نے ان کی نسل کو نبوت و کتاب اور اولاد صالح کے ساتھ معزز فرمایا کہ ان کی نسل میں انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی ہوئے اور کتابیں بھی نازل ہوئیں اور ہم نے ان کا صلہ دنیا میں بھی اس طریقہ پر دیا اور آخرت میں بھی وہ بڑے درجے کے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ ) ” نبوت اور کتاب کی یہ وراثت ایک طویل عرصے تک حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں رہی اور پھر آخری نبوت اور آخری کتاب کی سعادت حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی اولاد کے حصے میں آئی۔ اس حوالے سے ایک اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد دنیا میں کوئی نبی یا رسول آپ ( علیہ السلام) کی نسل سے باہر نہیں آیا۔ لیکن آپ ( علیہ السلام) کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی ؟ اس بارے میں ہمیں قطعی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ تورات نے تو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے صرف ایک بیٹے یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی نسل (بنی اسرائیل) کے بارے میں معلومات کو محفوظ کیا ہے۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ایک جڑواں بھائی ” عیسو “ کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے لیکن ان کی نسل کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں کہاں آباد ہوئی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی ” قطورہ “ سے بھی آپ ( علیہ السلام) کے بہت سے بیٹے تھے۔ ان میں سے آپ ( علیہ السلام) کے صرف ایک بیٹے کا تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ مدین میں آباد ہوئے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تعلق ان ہی کی نسل سے تھا۔ لیکن ” بنی قطورہ “ میں سے باقی لوگ کدھر گئے کچھ معلوم نہیں۔ اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے عیسو کی اولاد میں سے کچھ لوگ ہندوستان میں آکر آباد ہوئے اور برہمن کہلوائے۔ میرے خیال میں یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ نسلی تعلق کی بنا پر خود کو ” براہم “ یا ” براہما “ کہلواتے تھے۔ بعد میں اسی براہم یا براہما کا لفظ ” برہمن “ بن گیا۔ واللہ اعلم ! بہر حال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی ‘ یہ انسانی تاریخ کا ایک اہم لیکن گمنام باب ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اعلیٰ پائے کا کوئی سکالر تحقیق کرکے اس موضوع کے گمنام گوشوں کو بےنقاب کرے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

47 The Prophet Isaac was the son and the Prophet Jacob the grandson. The other sons of the Prophet Abraham have not been mentioned here, because from his Midianite descendants only the Prophet Shu'aib was appointed a Prophet, and no Prophet was born among his lshmaelite descendants for 2500 years or so till our Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace and blessings be upon him). Contrary to this, the descendants of the Prophet Isaac (peace be upon him) continued to be blessed with the Prophethood and the Book till the Prophet Jesus (peace be upon him). 48 This covers all the Prophets who were raised from aII the branches of the Prophet Abraham's progeny. 49 What is meant to be said is this: The rulers and the learned men and the priests of Babylon who tried to defeat the mission of the Prophet Abraham (Allah's peace be upon him) and the polytheistic people who had followed their wicked chiefs blindly, have since been blotted out and no trace of them is to be found anywhere in the world, but the person whom they had wanted to annihilate by burning in the fire only because he had proclaimed the Word of Allah, and who eventually had to leave his country empty-handed, was so blessed by Allah that his name has been well known in the world since the past 4,000 years and will remain so till the Last Day. All the Muslims and the Christians and the Jews unanimously recognize that Friend of the Lord of the worlds as their spiritual Leader. Whatever guidance mankind has received during the past 40 centuries has been received through this one man and his righteous descendants. The unique reward that he will get in the Hereafter is assured, but the place of honour that he has gained even in this world has not been gained so far by any of those who have exerted themselves in pursuit of the worldly benefits and advantages.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 47 حضرت اسحاق بیٹے تھے اور حضرت یعقوب پوتے ۔ یہاں حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولاد ابراہیم کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ڈھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا ۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسی علیہ السلام تک مسلسل اس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق علیہ السلام سے چلی تھی ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 48 اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسل ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے ہیں ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 49 مقصود بیان یہ ہے کہ بابل کے وہ حکمراں اور پنڈت اور پروہت جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو نیچا دکھانا چاہا تھا اور اس کے وہ مشرک باشندے جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ان ظالموں کی پیروی کی تھی ، وہ تو دنیا سے مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج دنیا میں کہیں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ۔ مگر وہ شخص جسے اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں ان لوگوں نے جلا کر خاک کردینا چاہا تھا اور جسے آخر کار بے سروسامانی کے عالم میں وطن سے نکل جانا پڑا تھا ، اس کو اللہ تعالی نے یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ چار ہزار برس سے دنیا میں اس کا نام روشن ہے اور قیامت تک رہے گا ۔ دنیا کے تمام مسلمان ، عیسائی اور یہودی اس خلیل رب العالمین کو بالاتفاق اپنا پیشوا مانتے ہیں ۔ دنیا کو ان چالیس صدیوں میں جو کچھ بھی ہدایت کی روشنی میسر آئی ہے اسی ایک انسان اور اس کی پاکیزہ اولاد کی بدولت میسر آئی ہے ۔ آخرت میں جو اجر عظیم اس کو ملے گا وہ تو ملے گا ہی ، مگر اس دنیا میں بھی اس نے وہ عزت پائی جو حصول دنیا کے پیچھے جان کھپانے والوں میں سے کسی کو آج تک نصیب نہیں ہوئی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:27) وھبنالہ : وھنبا ماضی جمع متکلم۔ وھب وھبۃ۔ مصدر۔ وھب یھب (فتح) ہم نے بخشا۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب حضرت ابراہیم کی طرف راجع ہے۔ ذریتہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کی اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف عام میں چھوٹی اور بڑی اولاد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

3 ۔ چناچہ ان کے بعد جتنے انبیا دنیا میں آئے سب انہی کی اولاد میں سے آئے اور یہاں ” الکتاب “ کا توراۃ انجیل اور الفرقان سب کو شامل ہے۔ (قرطبی) 4 ۔ دنیا میں یہ بدلہ دیا کہ انہیں نیک اولاد عطا فرمائی۔ سلسلہ ٔ نبوت کو ان ہی کے خاندان میں جاری کیا اور رہتی دنیا تک ان کا ذکر خیر باقی رکھا۔ چناچہ تمام امتیں چاہے وہ یہودی ہوں یا نصاریٰ یا مسلمان، انہیں اپنا پیشوا مانتی ہیں۔ مسلمان تو ان پر ہر نماز میں درود بھیجتے ہیں اور آخرت میں ان کے نیک بندوں میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھرپور اجر اور علی مرتبہ کے مستحق ہیں۔ اس آیت میں دین حق کی خاطر صبر کرنے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی قتا کی ترغیب پائی جاتی ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس صلہ سے مراد قرب و قبول ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارتوں سے نوازا جانا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی بیوی حضرت سارہ اور لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کی تو اس وقت ان کی عمر مبارک تقریباً اسی سال کے قریب ہوچکی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے وقت جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ میرے رب مجھے نیک بیٹا عطا فرما۔ ہجرت کے دوران ایک ظالم حکمران نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رفیقہ حیات حضرت سارہ کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ نے اسے معجزانہ طور پر ناکام کیا۔ اس سے متاثر ہو کر اس نے اپنی بیٹی ہاجرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عقد میں دی۔ حضرت ابراہیم حضرت سارہ اور حضرت ہاجرہ کو لے کر فلسطین کی سرزمین میں آباد ہوئے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت کو پہلے حضرت اسماعیل عنایت کیا اور پھر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ بیٹے اور پوتے کی خوشخبری کے ساتھ یہ بھی خوشخبری دی گئی کہ ابراہیم تیری اولاد میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کردیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں عظیم صلہ دینے کے ساتھ قیامت کے دن صالحین میں شامل فرمایا لیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث کیے وہ حضرت اسحاق کی اولاد میں تھے۔ حضرت اسماعیل کی پوری نسل میں صرف نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی مبعوث کیے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق جس دور سے ہے۔ اس دور کو معاشی تاریخ میں گلہ بانی کا دورشمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت کی سب سے بڑی دولت بھیڑ بکریاں تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اتنا مال تھا کہ بڑے سے بڑا جنگل بھی تنگی واماں کی شکایت کرتا دکھائی دیتا تھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منفر اعزاز : (وَ اِذِابْتَلآی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنََ ) [ البقرۃ : ١٢٤] ” جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور انہوں نے ان کو پورا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا۔ ابراہیم نے عرض کی کہ میری اولاد کو بھی۔ فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں ہے۔ “ تمام مؤرخین نے تحریر فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو آپ ( علیہ السلام) کی عمر سو سال اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ( علیہ السلام) کی عمر نوّے سال تھی۔ قرآن مجید نے ولادت اسحاق (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ فرشتے انسانوں کی شکل میں جناب خلیل (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑابھون لائے لیکن انسانی شکل میں آنے والے ملائکہ کھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ تب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آپ میں ایک خوف محسوس کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ کیفیت دیکھ کر فرشتوں نے فورا اصل حقائق سامنے رکھ دے ئے ساتھ ہی جناب اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی اور اسکے ساتھ ہی پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری بھی سنا دی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کے بعد اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) اور پوتا یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمائے۔ ٢۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھی بلند مقام عطا فرمایا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آخرت میں صالح لوگوں میں شامل فرما لیا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے امتیازات : ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ : ١١٤) ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : ٤١) ٣۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : ٧٥) ٤۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصٰفت : ١١١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو پوری دنیا کا پیشوا بنایا۔ ( البقرۃ : ١٢٤) ٦۔ ابراہیم (علیہ السلام) معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : ٤) ٧۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : ٥١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ووھبنا لہ اسحاق ۔۔۔۔۔ لمن الصلحین (29: 27) ” “۔ یہ اللہ کا ایسا انعام ہے جس میں سے فیوض و برکات کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، جس میں اللہ کی رضا مندی عیاں ہے۔ اس ذات بابرکات کی شخصیت میں یہ فیض عیاں ہے جس کے جلا ڈالنے پر تمام باغی اور سرکش قوتیں جمع ہوگئی تھیں لیکن اللہ نے عظیم معجزانہ انداز میں ان کے ماحول کو ٹھنڈا اور سلامتی سے بھرا ہوا بنا دیا۔ یہ تھی اللہ کی مہربانی ، اس کا کرم اور اہل توحید کے لیے جزائے مناسب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر قصے کے بعد اب حضرت لوط کا قصہ آتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کی طرف مہاجر ہوئے۔ دونوں وادی اردن میں اترے۔ حضرت لوط بحر مردار کے کنارے کسی قوم کو دعوت دینے لگے۔ اس کے بعد اس بحیرے کا نام بحیرہ لوط پڑگیا۔ آپ شہر سدوم میں مقرر ہوئے۔ حضرت لوط نے ان لوگوں میں رشتہ داری بھی کی اور معاشی سرگرمی بھی ان لوگوں میں اختیار کی۔ اس قوم میں ایک عجیب اخلاقی بیماری پھیل گئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ قبیح بیماری اس سے قبل کسی قوم میں نہ پھیلی تھی۔ یہ کہ ان لوگوں نے عورتوں کے مقابلے میں اور ان کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا شروع کر دئیے۔ حالانکہ اللہ نے اس مقصد کے لیے عورتوں کو پیدا کیا تھا تاکہ ایک مرد اور عورت سے ایک خاندان وجود میں آئے۔ اور اس طرح فطری طور پر انسانی زندگی کا تسلسل قائم رہے۔ جس طرح تمام دوسرے حیوانات میں یہ نظام قائم ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات کو اللہ نے جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ مرد اور عورتیں ، مذکر اور مونث غرض یہ بیماری قوم لوط سے قبل کسی اور قوم میں پیدا نہ ہوئی تھی

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بیٹے اور پوتے کی بشارت اور موہبت : اس وقت آپ کی عمر بعض مفسرین کے قول کے مطابق ٧٥ سال تھی اور آپ کی اہلیہ محترمہ بوڑھی تھیں، شام میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی : (رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ ) (اے میرے رب مجھے صالحین میں ایک لڑکا عطا فرمائیے) اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فرشتوں کے ذریعہ آپ کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دی، یہ فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ یہ بشارت حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش سے متعلق تھی، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) دوسری بیوی یعنی حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سلسلہ نبوت جاری فرمانا : حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائے اور ہمیشہ کے لیے ان کی ذریت میں نبوت بھی رکھ دی اور کتابوں کا نازل فرمانا بھی انہیں کی ذریت میں رکھ دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں نبیوں پر ہی نازل ہوا کرتی تھیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے سب انہیں کی نسل میں سے تھے، آخر سید الانبیاء والمرسلین سیدنا حضرت محمد حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں۔ ذکر خیر کی دعا اور قبولیت : اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑا مرتبہ دیا، دنیا میں بھی ان کو چن لیا اور اپنا خلیل بنالیا اور بعد میں آنے والی قوموں میں اچھائی کے ساتھ ان کا ذکر جاری فرما دیا، جتنے ادیان ہیں ان کے ماننے والے حضرت ابراہیم کو اچھائی کے ساتھ یاد کرتے ہیں ان میں یہود و نصاریٰ بھی ہیں اور دیگر مشرک اقوام بھی ہیں، مسلمانوں کے علاوہ دوسری قومیں گو سیدنا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں سب ہی اچھے کلمات کہتے ہیں انہوں نے جو دعا کی تھی (وَاجْعَلْ لِّی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِیْنَ ) وہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کا ذکر حسن تمام ادیان میں جاری رکھا۔ (وَ اٰتَیْنٰہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا) (اور ہم نے ان کو ان کا صلہ دنیا میں دے دیا) ان کی ذریت میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کا آنا متعین فرما دیا اور انہیں دارالکفر سے نجات دلا کر فلسطین میں پہنچا دیا اور ان سے کعبہ شریف بنوا دیا اور ان کے ذریعے قربانی کا سلسلہ جاری فرما دیا، دنیا میں جو کچھ ملا وہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی وجہ سے آخرت کا اجر وثواب اور رفع درجات اور قرب الٰہی کا حصول اس کے علاوہ ہیں، اسی کو سورة بقرہ، سورة نحل اور سورة عنکبوت میں فرمایا (وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (اور بلاشبہ وہ آخرت میں نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کی خاطر بڑی مصیبتیں اٹھائیں، ہم نے بھی دین و دنیا کی نعمتیں ان پر پوری کردیں۔ اسحاق ایسا لائق فرزند اور یعقوب ایسا پوتا عطا کیا اور نبوت کو اس کی اولاد کے ساتھ مختص کردیا اور دنیا کی دولت بھی وافر عطا فرمائی اور دنیا میں ان کے نام کو زندہ جاوید بنا دیا تمام اہل ادیان ان کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ فلم یبعث اللہ نبیا بعد ابراہیم الا من صلبہ اھل الملل کلہا تدعیہ و تقول ھو منا۔ ان اھل کل دین یتولونہ (قرطبی ج 13 ص 340) ۔ اور آخرت میں وہ مقربین بارگاہِ خداوندی کے درجات پر فائز ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

27۔ اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ہم نے نبوت اور کتاب کا سلسلہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کی نسل میں جاری رکھا اور ہم نے دنیا میں بھی ابراہیم کو اس کا صلہ عطا فرمایا اور بلا شبہ وہ آخرت میں بھی نیک اور شائستہ لوگوں میں سے ہوگا ۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں سارہ کے بطن سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اسحاق (علیہ السلام) کے ہاں یعقوب پیدا ہوئے ، جیسا کہ سورة انبیاء میں فرمایا اور ہم نے ان کے خاندان میں نبوت کا اور آسمانی کتب کا سلسلہ جاری رکھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھی ہم نے اچھا صلہ عطا فرمایا اور آخرت میں بھی وہ صالحین یعنی مقربین میں سے ہوگا اور بڑے بڑے درجے کے نیک لوگوں میں سے ہوگا ، دنیا میں برگزیدگی اور قیامت میں قرب خداوندی ۔