Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 52

سورة العنكبوت

قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ شَہِیۡدًا ۚ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۵۲﴾

Say, "Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah - it is those who are the losers."

کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالٰی گواہ ہونا کافی ہے وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا عالم ہے ، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالٰی سے کفر کرنے والے ہیں وہ زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ... Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you..." `He knows best the words of denial that you utter, and he knows what I am telling you about Him and that He has sent me. If I were telling lies about Him, He would have executed His vengeance upon me,' as Allah says elsewhere: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ لاأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ And if he had forged a false saying concerning Us, We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his aorta, and none of you could have withheld Us from (punishing) him. (69:44-47) `But I am telling the truth in what I say to you about Him, so He has supported me with clear miracles and definitive evidence.' ... يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... He knows what is in the heavens and the earth. means, nothing is hidden from Him at all. ... وَالَّذِينَ امَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُوْلَيِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers. means, on the Day of Resurrection, they will be punished for what they did, and will get what they justly deserve for rejecting the truth and following falsehood, for disbelieving in the Messengers of Allah even when there was proof that they were telling the truth, and for worshipping false gods with no evidence. Allah will punish them for all that, for He is All-Wise and All-Knowing.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

521اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے یقینا منجانب اللہ ہے۔ 522یعنی غیر اللہ کی عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کا انکار کرتے ہیں۔ 523کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لئے انہوں نے سودا کیا ہے کہ ایمان والوں کے بدل کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٤] کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے خالق ومالک ہونے کی صفات کے قائل تھے۔ لہذا ان سے یہ کہا گیا کہ آپ ان سے کہیئے اگر میں رسالت کا دعویٰ کرکے اس پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کر رہا ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردیتا مگر عملاً یہ ہو رہا ہے کہ وہ روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو بڑھا رہا ہے۔ پھر مجھے معجزہ بھی دیا ہے۔ جس کا جواب پیش کرنے سے تم عاجز ہو تو کیا میری رسالت پر اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں ؟ ہاں کوئی شخص اگر یہ تہیہ کرلے کہ وہ حق بات کبھی نہ مانے گا تو وہ اور بات ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور اس کے حق میں نقصان دہ بات ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ كَفٰي باللّٰهِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَهِيْدًا : کفار کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کا یہ ایک اور جواب ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ ) [ الرعد : ٤٣ ] ” اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔ “ یعنی اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب اور سرکشی کو اور میری سچائی اور خیر خواہی کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر میں اس پر جھوٹ باندھتا تو وہ ضرور مجھ سے انتقام لیتا، کیونکہ وہ ایسے لوگوں کو بغیر انتقام لیے نہیں چھوڑتا، جیسے خود اس کا فرمان ہے : (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ ) [ الحاقۃ : ٤٤ تا ٤٧ ] ” اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقیناً ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقیناً ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ “ چونکہ اس پر میری سچائی روشن ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا ہوں اور اس کا نام لے کر اس کی کہی ہوئی بات تم سے کہتا ہوں، اس لیے وہ میری تائید کر رہا ہے اور مجھے روز بروز غلبہ دیتا جا رہا ہے اور واضح معجزات اور قطعی دلائل کے ساتھ میری تائید فرماتا جا رہا ہے۔ ( ابن کثیر) يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، نہ میرا پیغام رسالت پہنچانا اور نہ تمہارا جھٹلانا۔ وہ اپنے علم کے مطابق قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْبَاطِلِ ۔۔ : جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اصل خسارے والے یہی لوگ ہیں، کیونکہ انھوں نے حق کو چھوڑا اور باطل کو اختیار کیا، پھر اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہوگا ؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں اس کی جزا دے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 2 قُلْ كَفٰي بِاللہِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَہِيْدًا۝ ٠ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللہِ۝ ٠ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝ ٥٢ كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل . ( ک ف ی ) الکفایۃ وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] اور خدا مومنوں کے لئے جنگ کی ضرور یات کے سلسلہ میں کافی ہوا ۔ إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچا نے کے لئے جو تم سے استہزا کرتے ہیں کافی ہیں اور آیت کریمہ :۔ وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] اور حق ظاہر کرنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے میں بعض نے کہا ہے کہ باز زائد ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی گواہ ہونے کے لئے کافی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ با اصلی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ پر ہی اکتفاء کرو الکفیۃ من القرت غذا جو گذارہ کے لئے کافی ہو ۔ ج کفی محاورہ ہے ۔ کافیک فلان من رجل یعنی فلاں شخص تمہارے لئے کافی ہے اور یہ حسبک من رجل کے محاورہ کے ہم معنی ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو لوگوں کا حال بتانے کو گواہ طلب کریں گے ۔ میں بھی شہید بمعنی شاہد ہی ہے علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے فرما دیجیے کہ میری رسالت کا بس اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس کو تمام مخلوق کی خبر ہے اور جو لوگ یعنی ابو جہل وغیرہ شیطانی باتوں پر یقین رکھتے ہیں وہ لوگ بڑے ہی خسارے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٢ (قُلْ کَفٰی باللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ شَہِیْدًا ج) ” وہ خوب جانتا ہے کہ اس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ‘ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے قرآن جیسا بصیرت افروز معجزہ مجھے عطا فرمایا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:52) کفی باللہ شھیدا میں کفی کا فاعل اللہ ہے ب زائدہ ہے۔ شھیدا کفی کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور تمیز بھی۔ کفی یکفی (ضرب) کفایۃ مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ (ضرورت پوری کرنے کے لئے) کافی ہے (اس کے بعد کسی کی حاجت نہیں ہے) شہیدا۔ بطور گواہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں جاکر انہیں پتہ چلے گا کہ وہ اپنی جہالت کے باعث سمجھ نہ پائے دراصل وہ جہنم میں ہی گھرے ہوئے جیتے رہے درمیان میں صرف دنیا کی زندگی کا پردہ تھا۔ ایک روز یہ پردہ نہ رہے گا تو عذاب نے انہیں اوپر نیچے ہر طرف سے گھیر رکھا ہوگا ب انہیں سنایا جائے گا کہ اپنے اعمال کا نتیجہ چکھو۔ آگے خطاب کا رخ مومنین کی طرف ہوتا ہے کہ اگر کفا ر خود قبول نہ بھی کریں اور تمہیں بھی دین پہ عمل کرنے سے روکیں تو میری زمین بہت وسیع ہے کہیں اور چلے جاؤ مگر دین پر ضرور قائم رہو اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو بھلا کب تک انسان ایک جگہ یا ملک یا گھر میں رہے گا آخر سب کو موت آئے گی اور سب گھر بار چھوڑ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو آج سے ہی اس کی خاطر گھر بار چھورنا پڑے تو یہ عین سعادت ہے۔ ہجرت : علماء کے مطابق جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہجرت کا علم ہوا تو مکہ مکرمہ سے ہجرت سب مسلمانوں کے لیے فرض عین تھی حتی کہ بلا عذر شرعی ہجرت نہ کرنے والے کو مسلمان شمار ہی نہ کیا جاتا تھا جو فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی اس کے بعد اگر کسی ملک میں حکومت کافروں کی ہو اور دین پر عمل کرنے سے مانع ہو تو ہجرت واجب ہے بشرطیکہ وہ قدرت رکھتا ہو یعنی کرسکتا ہو اور اگر دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ نہ ہو تو مستحب ضرور ہے کہ کفار کی حکومت سے نکل کر اسلامی حکومت میں اور نیک لوگوں میں چلا جائے۔ ہجرت میں آدمی اگر دنیا کی ملکیت و میراث قربان بھی کرتا ہے تو مومن اور صالح شخص اللہ سے بہترین جگہ بھی حاصل کرے گا اللہ کی جنت میں جہاں جھروکوں میں بیٹھے گا اور جن میں نہریں جاری ہوں گی اور وہاں ہمیشہ کا رہنا ہوگا وہاں سے نکلنے کا اندیشہ بھی نہ ہوگا بھلا محنت کرنے والوں کو کس قدر اعلی اجر ملے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا مصیبت میں بھی قربانی دینے میں بھی اور اپنے آپ کو گناہ سے روکنے میں بھی اور انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا کہ دنیا کی چیزیں اس بھروسے پہ قربان کیں۔ اللہ کی راہ میں نکلنے سے روزی کی فکر مانع نہیں ہونی چاہیے کہ زمین پر اللہ کی کس قدر مخلوق بستی ہے جو اپنی روزمرہ کی خوراک بھی ساتھ نہیں رکھتی مگر اللہ انہیں ہر حال میں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی وہی رزق دیتا ہے یہ اسباب دنیا تو محض ایک پردہ ہیں۔ اور وہ ہر ایک کی سنتا بھی ہے اور سب کے حال سے واقف بھی ہے۔ اگر ان پر بھی سوال کیا جائے کہ اس زمین و آسمان کو کس نے بنایا اور چاند سورج ستاروں سیاروں کی گردش اور کام و اثرات کس نے مقرر کردیے کہ ساری سائنس یہی کچھ کہ سکتی ہے کہ فلاں فلاں اجزاء یا گیس یا روشنی کی کرنیں یہ اثرات پیدا کرتے مگر ان سب کی بنیاد ارض و سما اور شمس و قمر کا بنانے والا اور ان میں یہ سب اثرات سمونے والا کون ہے تو سوائے اس کے کچھ نہ کہ پائیں گے کہ یہ سب اللہ کے کام ہیں اس لیے کہ اللہ کے علاوہ اور کسی سے یہ ثابت کرنا ممکن ہی نہیں پھر نہ جانے یہ کس الٹی سمت چلے جاتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کا کام ہے کہ کسی پر روزی فراخ کردے جبکہ اپنے ہی دوسرے بندے پر کمی کردے کہ ان تمام باتوں کی حکمت وہی خوب جانتا ہے۔ اگر ان کی عقول یہی کہتی ہیں کہ زمین سے بارش برس کر سب کچھ اگنے کا سبب ہے تو پوچھ لیجیے بارش کون برساتا ہے اور اس میں یہ زندگی کے اثرات کہ زمین اس کے سبب کھیتیاں اور نباتات پیدا کرنے لگے کس نے رکھے ہیں کہ زمین خشک ہو کر مردہ ہوچکی ہوتی ہے اور پھر اس میں زندگی لوٹ آتی ہے تو انہیں کہنا پڑے گا کہ یہ سب اللہ کی قدرت ہے تو کہیے کہ یہ سب کمالات اور ساری خوبیاں اسی اللہ ہی کے لیے ہیں اگر یہ ایسا نہیں کہتے تو یہ ان کی عقلوں میں کمی اور بیوقوفی ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت تو اس کا انکار کفر باللہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے، تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں، پس لا محالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک اور جواب۔ منکرین نبوت کے پے در پے مطالبات پورے کر دئیے گئے اور ان کے ہر سوال کا مُدّلل جواب دیا گیا اور وہ اس کے مقابلے میں لا جواب ہوئے مگر اس کے باوجود مطالبہ کرتے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی نبّوت کی تائید میں فلاں قسم کا معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو بالآخر یہ جواب دیا گیا کہ تمہارے پاس دیگر معجزات کے ساتھ قرآن مجید جیسا عظیم اور زندہ جاوید معجزہ آچکا ہے۔ لیکن پھر بھی تم ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہو۔ اب میرے اور تمہارے درمیان ” اللہ “ ہی گواہ ہے اور وہ ٹھیک، ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے جو نہ صرف تمہاری نیتوں کو جانتا ہے بلکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ جو باطل کو مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا انکار کرتے ہیں بالآخر نقصان پائیں گے۔ اس فرمان میں باطل پرستوں کو دائمی اور لا محدود نقصان سے آگاہ کرنے کے ساتھ یہ سمجھایا ہے کہ اگر تم ٹھوس دلائل اور واضح حقائق کو نہیں مانتے تو میرے ساتھ الجھنے کی بجائے تم اپنا کام کرو۔ میری نبوت کی تائید کے لیے میرے رب کی گواہی کافی ہے۔ ایسے موقعہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ آیت پڑھنے اور اس پر مضبوط عقیدہ رکھنے کی تلقین فرمائی گئی کیونکہ جسے ” اللہ “ کا سہارا حاصل ہوجائے وہ کامیاب ہوگا، ہر مبلغ اور مسلمان کے لیے یہی آخری سہارہ اور بیش بہا سرمایہ ہے۔ (فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَہُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ ) [ التوبہ : ٢٩] ” پھر اگر وہ منہ موڑیں تو فرما دیں مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے اجر دیتا ہے ۔ اجردیتا ہے ۔ اجر یہ کہ ایمان سے قلبی اطمینان اور زندگی کی راہوں کا تعین ہوجاتا ہے ۔ جو داقعات بھی اس زندگی میں پیش آئیں ، بندئہ مومن ان کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے ، وہ اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ اللہ کی حمایت کا طلبگار اور امیدوار ہوتا ہے اور اسے اچھے انجام کا یقین ہوتا ہے یہ بذات خود ایک کسب ہے ، ایک کمائی ہے جس سے کافر محروم ہوتے ہیں ۔ اولئک ھم الخسرون (29: 52) ” وہی لوگ خسارے میں ہوتے ہیں “۔ اب مشرکین کی بحث ذرا آگے بڑھتی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے میں عجلت کرتے ہیں حالانکہ جہنم تو ان کے بہت ہی قریب ہے ۔ ویستعجلونک بالعذاب ۔۔۔۔۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون (53 – 55) مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے ڈراوے اور تخویف کی آیات سنتے تھے ، لیکن ان کی سمجھ میں یہ حکمت نہ آتی تھی کہ پھر ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ اس مہلت کی وجہ سے بےباک ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ حالانکہ بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو حد سے گزرنے کی مہلت دیتا ہے تاکہ وہ سرکشی اور فساد کی آخری حدوں کو چھو لیں۔ پھر عذاب آجاتا ہے یا یہ مہلت اس لیے طویل ہوجاتی ہے کہ اللہ اہل ایمان کا امتحان لیان چاہتا ہے تاکہ وہ بہت زیادہ ثابت قدم اور پختہ مومن بن جائیں اور ان کی صفوں سے وہ شخص نکل جائے جو صبر و ثبات نہیں رکھتا۔ یا یہ مہلت اس لیے ہوتی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے اور اسے معلوم ہے کہ اہل کفر کی صفوں میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کی راہیں تلاش کرکے ہدایت پر آجائیں گے یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے ہوتے ہیں جو راہ ہدایت پالینے والے ہوں گے۔ وہ اللہ کی پارٹی میں شامل ہوں گے اگرچہ ان کے والدین مشرک ہوں۔ ان کے علاوہ بھی اللہ کی مصلحتیں ہوسکتی ہیں جو وہ خود جانتا ہے اور جو ہم سے مستور ہیں۔ ان مشرکین کو ایسا فہم و ادراک حاصل نہ تھا کہ وہ اللہ کی ان حکمتوں اور تدبیروں کو سمجھ سکیں ۔ اس لیے وہ علی سبیل التحدی اور بطور چیلنچ عذاب کا مطالبہ کرتے تھے لیکن ولولا اجل مسمی لجآءھم العذاب (29: 53) ” اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حکمت کے بیان کے درمیان میں بھی ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ جس عذاب کے بارے میں تمہیں جلدی ہے وہ اچانک ہی تم پر آجائے گا لیکن اس وقت تمہیں اس کا انتظار اور توقع نہ ہوگی اور جب یہ اچانک آجائے گا تو یہ لوگ مبہوث ہو کر رہ جائیں گے۔ ولیاتینھم ۔۔۔۔ لایشعرون (29: 53) ” اور یقیناً وہ آکر رہے گا اچانک اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی “۔ اور بعد میں بدر کے میدان میں ان پر یہ عذاب آیا۔ اللہ کا کہنا سچ ہوکر رہا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ کا وعدہ کس قدر سچا ہوتا ہے۔ اللہ نے ان پر ایسا جامع اور ہمہ گیر عذاب نازل نہ کیا جس طرح پہلی اقوام پر آیا اور اللہ نے مادی معجزات کے اظہار کا مطالبہ بھی قبول نہ کیا جس طرح پہلی اقوام کی معجزات دکھائے گئے۔ انہوں نے انکار کیا اور ان پر ہمہ گیر عذاب آیا۔ وہ نیست و نابود ہوئے کیونکہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جو علم الٰہی کے مطابق زمانہ مابعد میں ایمان لانے والے تھی۔ جو اسلامی لشکر کے بہترین لوگ بننے والے تھے اور ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے ازمنہ مابعد میں طویل عرصہ تک اسلام کے جھنڈے اٹھائے رکھے۔ یہ سب کچھ اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ہونا تھا اور ہوا۔ یستعجلونک ۔۔۔۔۔ بالکفرین (29: 54) ” یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے “۔ یہ قرآن کا مخصوص اور عجیب موثر اسلوب کلام ہے کہ وہ مستقبل موعود کا عالم شہود کی شکل دے دیتا ہے۔ ایسی تصور کشی یہاں کردی گئی ہے کہ گویا جہنم کفار کو گھیرے میں لے چکی ہے جبکہ ابھی وہ مستقبل کے پردوں میں مستور ہے۔ لیکن ان کے کرتوتوں کے اعتبار سے وہ واقعہ ہے جو مشاہدہ میں آچکا ہے اور انسانی احساس کے پردوں پر نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کو ایسا خطرناک چیلنچ دینے سے باز رہنا چاہئے۔ کیا وہ لوگ جلدی مچاتے ہیں جن کو جہنم گھیرے میں لے چکی ہے اور کسی بھی وقت گھیرا تنگ کرکے وہ ان کو گرفت میں لے سکتی ہے۔ اب وہاں ان کی صورت حالات کیا ہوگی جس کیلئے یہ بہت سی شتابی کر رہے ہیں۔ یوم یغشھم العذاب ۔۔۔۔۔ کنتم تعملون (29: 55) ” اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی۔ اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کو توتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا۔ نہایت ہی خوفناک حالت میں ان کو یوں طنزیہ سرزنش کی جائے گی۔ ذوقوا ما کنتم تعملون (29: 55) ” اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے “۔ یہ ہے انجام اس جلد بازی اور عجلت کا جو تم کرتے تھے اور ڈرانے والوں کو تم اہمیت نہ دیتے تھے۔ یہاں سیاق کلام منکرین اور مکذبین اور حد سے گزرنے والوں کو ایک دردناک عذاب کے منظر میں چھوڑ دیتا ہے ، یہ عذاب انہیں اوپر نیچے سے گھیرے ہوئے ہے۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے جن پر یہ مکذبین محض عقائد و نظریات کی وجہ سے مظالم ڈھاتے ہیں اور ان کو ان کے رب کی عبادت سے روکتے ہیں ، ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے اپنے دین ، اپنے عقائد کو لے کر کہیں اور جابسو۔ یہ نصیحت نہایت ہی پر محبت اور تروتازہ اور نہایت ہی موثر اسلوب میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کا یہ نغمہ دل کی تمام تاروں کو چھیڑ دیتا ہے اور ان میں ارتعاش پیدا کردیتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل باطل کی تکذیب اور تکذیب پر تعذیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں پر منکرین کو یقین نہیں تھا، حالانکہ آپ کے معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے، اور سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے، تم مانو یا نہ مانو وہ میری رسالت کا گواہ ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ ان سب کو جانتا ہے، میں جو تم پر حق پیش کرتا ہوں اسے اس کا بھی علم ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو یعنی انکار اور تکذیب کے ساتھ پیش آتے ہو اسے اس کا بھی علم ہے، تمہیں حرکتوں کی سزا ضرور ملے گی اور تم بہت بڑے خسارہ میں پڑو گے۔ اسی کو فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بالْبَاطِلِ وَ کَفَرُوْا باللّٰہِ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کے ساتھ کفر کیا یہی لوگ نقصان والے ہیں) نقصان بھی کتنا بڑا ؟ (خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) قیامت کے دن اپنی جانوں سے بھی گئے اور گھر والوں سے بھی، جب جان دوزخ میں گئی تو جان کہنے کے لائق نہ رہی اور نہ کوئی اپنا رہا، عذاب سے چھوٹنے کا کوئی راستہ نہیں، یہ کتنا بڑا خسارہ ہے، منکرین کو سمجھ لینا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا کہ اگر اتنے دلائل وبراہین کے باوجود بھی نہیں مانتے تو آپ فرما دیں میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر اللہ سب سے بڑا گواہ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ والذین امنوا بالباطل، باطل سے معبودانِ غیر اللہ مراد ہیں وھو ما یعبد من دون اللہ تعالیٰ (ابو السعود ج 6 ص 700) قال ابن عباس (رض) ای بغیر اللہ عز و جل وھو شامل لنحو عیسیٰ والملائکۃ (علیہم السلام) والباطل فی الھقیقۃ عبادتہم الخ (روح ج 21 ص 8) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

52۔ آگے ایک اور جواب دیا جاتا ہے اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان با اعتبار گواہ کے اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو لوگ جھوٹی باتوں کا یقین کرتے اور جھوٹی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کی توحید کا انکار کرتے ہیں تو وہی لوگ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں اور وہی لوگ زیاں کار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب میری رسالت کا گواہ ہے اور اس کا علم تمام امور پر محیط ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو معلوم ہے تو وہ تم کو تمہارے اعمال پر سزا دے گا اور اس کی سزا دینا یہی نقصان اور زیاں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کی گواہی یہی کہ سچوں کو دن پر دن بڑھایا اور جھوٹوں کو مٹایا ۔ 12