Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 11

سورة آل عمران

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۱﴾

[Theirs is] like the custom of the people of Pharaoh and those before them. They denied Our signs, so Allah seized them for their sins. And Allah is severe in penalty.

جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالٰی نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور اللہ تعالٰی سخت عذاب دینے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَدَأْبِ الِ فِرْعَوْنَ ... Like the Da'b of the people of Fir`awn. Ad-Dahhak said that Ibn Abbas said that the Ayah means, "Like the behavior of the people of Fir`awn." This is the same Tafsir of Ikrimah, Mujahid, Abu Malik, Ad-Dahhak, and others. Other scholars said that the Ayah means, "Like the practice, conduct, likeness of the people of Fir`awn." These meanings are all plausible, for the Da'b means practice, behavior, tradition and habit. The Ayah indicates that the disbelievers will not benefit from their wealth or offspring. Rather, they will perish and be punished. ... وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَذَّبُواْ بِأيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللّهُ بِذُنُوبِهِمْ ... and those before them; they belied Our Ayat. So Allah punished them for their sins. This is the same end the people of Fir`awn and the previous nations met, those who rejected the Messengers, the Ayat, and proofs of Allah that they were sent with. ... وَاللّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ And Allah is severe in punishment. meaning, His punishment is severe and His torment is painful. None can escape Allah's grasp, nor does anything escape His knowledge. Allah does what He wills and prevails over all things, it is He to Whom everything is humbled and there is no deity worthy of worship, nor any Lord except Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب کافروں کو خواہ وہ مشرکین تھے یا یہود مدینہ یا منافقین اور مشرکین مدینہ یا نصاریٰ جو اسلام کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے تھے۔ متنبہ فرمایا کہ اسلام دشمنی سے باز آجاؤ ورنہ جس طرح آل فرعون اور قوم عاد، ثمود وغیرہ تباہ و برباد کئے جاچکے ہیں۔ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور گناہوں کی پاداش میں دھر لیا تھا اور تمہیں بھی دھرے گا کیونکہ اللہ اپنے مسلمان بندوں سے دشمنی رکھنے والوں کو سزا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ۝ ٠ ۙ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۝ ٠ ۭ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝ ٠ ۚ فَاَخَذَھُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ۝ ١١ دأب الدَّأْب : إدامة السّير، دَأَبَ في السّير دَأْباً. قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] ، والدّأب : العادة المستمرّة دائما علی حالة، قال تعالی: كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ، أي : کعادتهم التي يستمرّون عليها . ( د ء ب ) الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ داب السیر دابا ۔ وہ مسلسل چلا ۔ قرآن میں ہے وَسَخّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دائِبَيْنِ [إبراهيم/ 33] اور سورج اور چاند کو تمہارے لئے کام میں لگا دیا کہ دونوں ( دن رات ) ایک دستور پر چل رہے ہیں ۔ نیز داب کا لفظ عادۃ مستمرہ پر بھی بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ [ آل عمران/ 11] ان کا حال بھی فرعونیوں کا سا ہے یعنی انکی اسی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ عُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب والعُقُوبَةُ والمعاقبة والعِقَاب يختصّ بالعذاب، قال : فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] ، شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] ، وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] ، وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] . اور عقاب عقوبتہ اور معاقبتہ عذاب کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَحَقَّ عِقابِ [ ص/ 14] تو میرا عذاب ان پر واقع ہوا ۔ شَدِيدُ الْعِقابِ [ الحشر/ 4] سخت عذاب کر نیوالا ۔ وَإِنْ عاقَبْتُمْ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ [ النحل/ 126] اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی ہے ۔ وَمَنْ عاقَبَ بِمِثْلِ ما عُوقِبَ بِهِ [ الحج/ 60] جو شخص کسی کو اتنی ہی سزا کہ اس کو دی گئی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١) جیسا کہ فرعون والوں کا معاملہ تھا، یعنی آپ کے ساتھ بھی آپ کی قوم قریش نے وہی معاملہ کیا کہ آپ کو جھٹلایا اور ستایا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان کو ستایا تو ہم غزوۂ بدر کے دن ان کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کریں گے، یعنی انہیں شرمناک شکست دے کر کمزور مسلمانوں کو غلبہ عطا کریں گے جیسا کہ فرعون وآل فرعون کو غرق کرنے کے ان ان کے ساتھ کیا، پھر اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ ہم نے سلامتی و عروج کا فیصلہ کیا اور اس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے لوگوں کا معاملہ بھی تھا کہ انہوں نے ہماری بھیجی ہوئی کتابوں اور رسولوں کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جھٹلانے کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کرڈالا اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١ (کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ لا والَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط ) تمہاری تو حیثیت ہی کیا ہے ! کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ آل فرعون کا معاملہ یاد کرو ‘ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ فرعون بہت بڑا شہنشاہ اور بڑے لاؤ لشکر والا تھا ‘ لیکن اس کا کیا حال ہوا ؟ اور اس سے پہلے عاد وثمود جیسی زبردست قومیں اسی جزیرہ نمائے عرب میں رہی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:11) کداب۔ ک حرف تشبیہ یا تمثیل۔ داب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ مسلسل روش۔ عادۃ مستمرہ۔ ایسی عادت جس پر ہمیشہ عمل ہوتا ہے۔ کداب ال فرعون میں اگر اس کو نیا جملہ تصور کیا جائے تو اس صورت میں دابھم محذوف تصور ہوگا۔ اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آیۃ ماقبل میں جن کفار کا ذکر ہوا ہے ان کا طریقہ بھی وہی تھا جو کہ آل فرعون کا اور ان سے پہلے لوگوں کا تھا۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس کا تعلق آیہ سابقہ میں مذکور کفار کے مال و اولاد سے ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی لن تغنی عنھم اموالہم واولادھم من اللہ شیئا کداب ال فرعون یعنی جس طرح آل فرعون کو اس کا مال اور اس کی اولاد اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی ان (کفار) کو بھی ان کا مال اور ان کی اولاد اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ ایک تیسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کا تعلق وقود النار سے ہے۔ اور عبارت کچھ اس طرح ہے۔ اولئک ھم وقود النار کداب ال فرعون یعنی آل فرعون کی طرح یہ بھی جہنم کی آگ کا ایندھن ہونگے جمہور علماء نے سب سے پہلی صورت کو اختیار کیا ہے عقاب۔ مار، سزا، ایذائ، عذاب، عقوبت، سزا دینا، عاقب یعاقب کا مصدر ہے ۔ عقاب عقوبۃ معاقبۃ۔ عذاب کے لئے مخصوص ہیں۔ عقاب کے اصل معنی پیچھے ہو لینے کے ہیں (جیسے تعاقب پیچھا کرنے کو کہتے ہیں) چناچہ بولتے ہیں عقب الثانی الاول دوسرا پہلے کے پیچھے ہو لیا۔ اس اعتبار سے عقاب وہ سزا ہوئی جو ارتکاب جرم کے پیچھے دی جاتی ہے لہٰذا اس کا ترجمہ پاداش عمل کرنا چاہیے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی جس طرح کا عذاب قوم فرعون اور امم سابقہ کو ان کے رسولوں کو جھٹلا نے کی وجہ سے دیا گیا اسی طرح کا عذاب مالدار کفار کو بھی دیا جائے گا۔ یہاں ان کفار سے مراد وفد نجران یہودی مشرکین عرب اور دوسرے تمام کفار بھی ہوسکتے ہیں۔ (ابن کبیر۔ شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “ یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس سنت کو کام میں لاتا ہے ۔ اس لئے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو اس جہاں میں کوئی گارنٹی حاصل نہیں ‘ نہ وہ محفوظ ہیں ۔ اس لئے اب جو لوگ رسالت محمدیہ کا انکار کررہے ہیں اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے ۔ ان کے لئے اس انجام ست دوچار ہونا یقینی ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے یہاں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کفار اہل کتاب کو اس انجام بد سے خبردار کریں۔ اگر وہ فرعون اور تاریخ اسلامی کے دوسرے نافرمانوں کے انجام بد کو بھول چکے ہیں تو خدارا اہل مکہ کے اس انجام بد پر غور کریں جس کا مظاہرہ ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے ۔ یہ سب کچھ تکذیب آیات ہی کا شاخسانہ تو ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15 کَدَابِ اٰلِ فِرْعَوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ ای دابھم کداب ال فرعون اور دابٌ کے معنی حال ہیں یعنی تکذیب و انکار میں ان کافروں کا حلا اور رویہ بالکل وہی ہے جو فرعونیوں اور ان سے پہلے کافروں کا تھا۔ اسی طرح عذاب میں بھی ان کا وہی حال ہوگا جو ان کا ہوا۔ داب ھؤلاء الکفرۃ فی تکذیب الحق کداب من قبلھم من اٰل فرعون وغیرھم (مدارک ج 1 ص 511) ای حال ھؤلاء فی الکفر و استحقاق العذاب کحال ال فرعون (روح ج 3 ص 93) 16 یہ ان کے داب اور حال کی تفسیر ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انہیں ان کے جرائم کی وجہ سے مبتلائے عذاب کردیا اور ایسے لوگوں کے لیے خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔ آیات سے مراد یہاں کتب الٰہی کی آیتیں ہیں یا مراد اللہ کی توحید اور انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت کے دلائل ہیں۔ والمراد بالآیات اما المتلو فی کتب اللہ تعالیٰ او العلامات الدالۃ علی توحید اللہ تعالیٰ وصدق الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام (روح ج 3 ص 94، بحر ج 2 س 390) یحتمل ان یرید الآیات المتلوۃ ویحتمل ان یرید الآیات المنصوبۃ للدلالۃ علی الوحدانیۃ (قرطبی ج 4 ص 36)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi