Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 128

سورة آل عمران

لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾

Not for you, [O Muhammad, but for Allah ], is the decision whether He should [cut them down] or forgive them or punish them, for indeed, they are wrongdoers.

اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ، اللہ تعالٰی چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah then mentions a statement that testifies that the decision in this life and the Hereafter is for Him Alone without partners, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers. لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ (Not for you is the decision), meaning, "The matter is all in My Hand." Allah also said, فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَـغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning. (13:40) and, لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَأءُ Not upon you is their guidance, but Allah guides whom He wills. (2:272) and, إِنَّكَ لاَ تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَأءُ Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills. (28: 56) Muhammad bin Ishaq said that Allah's statement, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ (Not for you is the decision), means, "No part of the decision regarding My servants is yours, except what I command you." Allah then mentions the rest of the consequences of Jihad, ... أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ... whether He pardons them, concerning the acts of disbelief that they commit, thus delivering them from misguidance to the guidance. ... أَوْ يُعَذَّبَهُمْ ... or punishes them; in this life and the Hereafter because of their disbelief and errors. ... فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ verily, they are the wrongdoers. and thus, they deserve such a fate. Al-Bukhari recorded that, Salim bin Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah saying -- when he raised his head from bowing in the second unit of the Fajr prayer -- "O Allah! Curse so-and-so," after saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. Thereafter, Allah revealed this Ayah, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ (Not for you is the decision). This was also recorded by An-Nasa'i. Imam Ahmad recorded that Salim bin Abdullah said that his father said that he heard the Messenger of Allah saying, اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَنًا اللَّهُمَّ الْعَنِ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّة O Allah! Curse so-and-so. O Allah! Curse Al-Harith bin Hisham. O Allah! Curse Suhayl bin Amr. O Allah! Curse Safwan bin Umayyah. Thereafter, this Ayah was revealed; لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers). All these persons were pardoned (after they embraced Islam later on). Al-Bukhari recorded that Abu Hurayrah said that; when Allah's Messenger would supplicate against or for someone, he would do so when he was finished bowing and saying; Sami` Allahu Liman Hamidah, Rabbana wa lakal-Hamd. He would then say, (the Qunut) اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُوْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُف O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid, Salamah bin Hisham, Ayyash bin Abi Rabiah and the weak and the helpless people among the faithful believers. O Allah! Be hard on the tribe of Mudar and let them suffer from years of famine like that of the time of Yusuf. He would say this supplication aloud. He sometimes would supplicate during the Dawn prayer, "O Allah! Curse so-and-so (persons)," mentioning some Arab tribes. Thereafter, Allah revealed, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ (Not for you is the decision). Al-Bukhari recorded that Hamid and Thabit said that, Anas bin Malik said that the Prophet was injured during the battle of Uhud and said, كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ How can a people achieve success after having injured their Prophet? Thereafter, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ (Not for you is the decision), was revealed. Imam Ahmad recorded that Anas said that, the Prophet's front tooth was broken during the battle of Uhud and he also sustained injuries on his forehead until blood dripped on his face. The Prophet said, كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ How can a people achieve success after having done this to their Prophet who is calling them to their Lord, the Exalted and Most Honored? Allah revealed, لَيْسَ لَكَ مِنَ الاَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (Not for you is the decision; whether He turns in mercy to (pardons) them or punishes them; verily, they are the wrongdoers). Muslim also collected this Hadith. Allah then said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

128۔ 1 یعنی ان کافروں کو ہدایت دینا یا ان کے معاملے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنا سب اللہ کے اختیار میں ہی ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جنگ احد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک بھی شہید ہوگئے اور چہرا مبارک بھی زخمی ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کردیا ' گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی ہدایت سے ناآمیدی ظاہر فرمائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض کفار کے لئے قنوت نازلہ کا بھی اہتمام فرمایا جس میں ان کے لئے بد دعا فرمائی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بد دعا کا سلسلہ بند فرما دیا (ابن کثیر فتح القدیر) اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مختار کل قرار دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو اتنا اختیار بھی نہ تھا کہ کسی کو راہ راست پر لگا دیں حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی راستے کی طرف بلانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ 128۔ 2 یہ قبیلے جن کے لئے بددعا فرماتے رہے اللہ کی توفیق سے سب مسلمان ہوگئے۔ جن سے معلوم ہوا مختار کل اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١٧] میدان احد کے مزید حالات تو آگے چل کر مذکور ہوں گے۔ یہاں صرف ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب بنا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ جنگ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور سر زخمی ہوگیا۔ آپ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے اور فرماتے، وہ قوم کیسے فلاح پائے گی۔ جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کردیا اور دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا && تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد، باب غزوہ احد) چناچہ اس موقع پر چند نامور مشرکین کا نام لے لے کر انہیں بددعا دی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چند ہی روز گزرے تھے کہ جن مشرکوں کے حق میں آپ نے یہ بددعا کی تھی، انہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں پر لا ڈالا اور اسلام کے جانباز سپاہی بنادیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ ۔۔ : اس آیت میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں، ہر قسم کے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (موضح) بئرِ معونہ پر جن قبائل نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ستر صحابہ کو دھوکے سے قتل کیا تھا، ان کے خلاف اور جنگ احد میں مشرکین کی طرف سے جو لوگ پیش پیش تھے، ان کے خلاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نام لے لے کر دعائے قنوت شروع کی۔ بئر معونہ والا واقعہ بخاری میں موجود ہے۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ الرجیع۔۔ الخ : ٤٠٨٦ ] عبد اللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد سر اٹھاتے تو ” سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَ لَکَ الْحَمْدُ “ کے بعد یہ دعا کیا کرتے : ” اے اللہ ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ( لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ ) ” تیرے اختیار میں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب لیس لک من الامر شئ : ٤٠٦٩ ] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو جن کا نام لے کر آپ لعنت فرماتے تھے، توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مختار کل اور عالم الغیب ذات صرف اللہ وحدہٗ لا شریک لہ ہی ہے، ورنہ آپ اپنے عزیز چچا کو ضرور مسلمان کرلیتے اور احد اور بئر معونہ میں ظلم کرنے والوں کو ضرور ملعون کروا لیتے۔ 2 ان آیات اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قنوت نازلہ میں کسی کافر کا نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیا خبر اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق بخش دے۔ ہاں، عام کفار پر لعنت درست ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ثابت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

آیت لیس لک من الامر شیء۔ یہاں سے پھر اصل قصہ احد کی طرف عود ہے، درمیان میں مجملا قصہ بدر کا ذکر آگیا تھا، اور سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ اس غزوہ احد میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دندان مبارک جو کہ سامنے کے دو اوپر کے دو نیچے کے دانتوں کی کروٹوں میں چار دانت ہوتے ہیں دو اوپر داہنے بائیں، دو نیچے داہنے بائیں، ان چاروں میں نیچے داہنی طرف کا دانت شہید ہوگیا، اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا، تو آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات آگئے، کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا، حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلا رہا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری سے ایک قصہ اور بھی نقل کیا گیا ہے کہ آپ نے بعض کفار کے لئے بد دعا بھی فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل فرمائی، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و تحمل کی تعلیم دی گئی ہے۔ (از بیان القرآن ملخصا)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْھِمْ اَوْ يُعَذِّبَھُمْ فَاِنَّھُمْ ظٰلِمُوْنَ۝ ١٢٨ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته :إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٨۔ ١٢٩) اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے قبضہ قدرت میں خود توبہ اور عذاب نہیں کہ آپ غزوہ احد کے شکست خوردہ یا ان کے تیراندازوں کے لیے بددعا کریں، اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ان پر اپنی مہربانی سے توجہ فرمائے گا اور ان کے گناہوں کو اسلام (مکمل اطاعت) کی توفیق دے کر معاف کردے گا اور جو اللہ کے ہاں مغفرت کا اہل ہوتا ہے اس کی مغفرت اور جو عذاب کا مستحق ہوتا ہے اسے عذاب دیتا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو قبیلوں عصیہ اور ذکوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے کچھ صحابہ کرام کو شہید کردیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے بددعا فرمائی تھی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح ) شان نزول : (آیت) ” لیس لک من الامر شیئی “۔ (الخ) حضرت امام احمد (رح) اور امام مسلم (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے چار دندان مبارک میں سے ایک دانت شہید ہوگیا اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا، چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا، اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ” ایسی قوم کس طرح فلاح پا سکتی ہے جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلارہا ہے “۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی یعنی آپ کو کسی کے مسلمان ہونے یا کفار ہونے کے متعلق خود کوئی دخل نہیں، اور امام احمد (رح) اور بخاری (رح) نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ الہ العالمین فلاں پر لعنت نازل فرما، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت فرما، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت فرما، اے اللہ صفوان بن امیہ پر لعنت فرما، اس پر اخیر تک یہ آیت نازل ہوئی اور پھر بعد میں ان سب کو اسلام کی توفیق ہوگئی نیز امام بخاری (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) فرماتے ہیں، دونوں روایتوں میں مطابقت اس طرح ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے لیے آپ نے اپنی نماز میں جب کہ غزوہ احد میں آپ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، اس کے بعد بددعا فرمائی تو آیت ایک ساتھ ان دونوں واقعوں کے بارے میں نازل ہوئی، جو آپ کے ساتھ پیش آیا اور جو ان لوگوں نے صحابہ کے ساتھ کیا، فرماتے ہیں لیکن اس توجیہ پر صحیح مسلم کی اس حدیث سے اشکال پیدا ہوتا ہے جو ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں فرماتے تھے ” الہ العالمین رعل، ذکوان، عصیہ پر لعنت نازل فرما تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اشکال کی وجہ یہ ہے کہ آیت احد کے واقعہ میں نازل ہوئی اور رعل وزکوان کا واقعہ بعد کا ہے مگر حدیث کی علت پھر بعد میں میری سمجھ میں آئی وہ یہ کہ اس روایت میں ادراج (اضافہ) ہے وہ یہ کہ حتی انزل اللہ علیہ کا جو مسلم میں متصلا لفظ مروی ہے، وہ امام زہری کی روایت میں موجود نہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ رعل وذکوان کا واقعہ اس کے بعد ہوا اور نزول آیت میں اپنے سبب سے کچھ تاخیر ہوگئی ہو، پھر آیت کریمہ تمام واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہو، امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کے سبب نزول کے بارے میں ایک روایت اور بھی ہے جو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابن اسحاق نے سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کی ہے۔ روایت یہ ہے کہ قریش میں سے ایک شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ گالی گلوچ سے منع کرتے ہیں اس کے بعد اس نے اپنا منہ آپ کی طرف سے پھیرلیا اور اپنی گدی آپ کی طرف کردی، تاآنکہ اس کی سرین کھل گئی تو اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت فرمائی اور اس کے لیے بددعا کی تب یہ آیت لیس لک من الامر شئی “۔ نازل ہوئی پھر اس کے بعداس شخص کو اسلام کی توفیق ہوئی اور اس کا اسلام بھی اچھا ہوگیا، یہ روایت مرسل غریب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٨ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ) (اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ ) یہ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے دے گا ‘ وہ ایمان لے آئیں گے ‘ یا اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا۔ (فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوْنَ ) ان کے ظالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ‘ لہٰذا وہ سزا کے حق دار تو ہوچکے ہیں۔ لیکن ہوسکتا ہے اللہ انہیں ہدایت دے دے۔ دیکھئے ‘ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ چند سال پہلے طائف میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس طرح بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کا شدید ترین دن تھا۔ اس پر جبرائیل ( علیہ السلام) نے آکر کہا کہ یہ ملک الجبال حاضر ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں تو ان دونوں پہاڑوں کو ٹکرا دوں جن کے مابین وادی کے اندر یہ شہر طائف آباد ہے ‘ تاکہ یہ سب پس جائیں ‘ ان کا سرمہ بن جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں ‘ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو ہدایت دے دے۔ لیکن یہ وقت کچھ ایسا تھا کہ بربنائے طبع بشری زبان مبارک سے وہ جملہ نکل گیا۔ اس لیے کہ : ؂ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی وَالرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلْ بندہ بندہ ہی رہتا ہے چاہے کتنا ہی بلند ہوجائے ‘ اور ربّ ‘ رب ہی ہے چاہے کتنا ہی نزول فرما لے !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(128 ۔ 129) ۔ اس آیت کے شان نزول علماء نے کئی طرح بیان کی ہے چناچہ صحیح بخاری اور احمدبن حنبل کی مسند میں حضرت ابن عمر (رض) سے اور صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ چند روز تک صبح کی نماز کی دوسری رکعت کے قومہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفوان بن امیہ اور حارث بن ہشام اور سہیل بن عمر اور قریش کے نام لے کر بدعا کرنی شروع کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ٣۔ اور مسلم اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ احد کی لڑائی کے بعد عتبہ بن ابی وقاص اور ابن قیمہ وغیرہ پر جنہوں نے آنحضرت کو زخمی کیا تھا آپ نے بد دعا کی اس پر یہ آیت اتری ٤ اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رعل اور ذکوان اور عصیتہ ان تینوں قبیلے کے لوگوں پر آپ نے بددعا کی تھی ٥ جب ان لوگوں نے ستر صحابہ کو شہید کر ڈالا تھا۔ جس کو بیر معوذ کا واقعہ کہتے ہیں۔ لیکن فیصلہ صحیح اس اختلاف کا وہی ہے جو علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں کیا ہے احد کی لڑائی اور بیر معوذکا واقعہ یہ دونوں واقعے ایک ہی سال کے اندر کے ہیں ان دونوں واقعوں کے بعد ان دونوں واقعوں کے سرکش لوگوں کے حق میں آپ نے بددعا کی تھی اس پر یہ آیت اتری ہے۔ نظام شرعی اور نظام تکوینی کے احکام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں انتظام ہیں ایک شرعی انتظام ہے جس کا تعلق انبیاء سے ہے اور جس کے قیام کے لئے اللہ نے ہر وقت کی حالت کے موافق آسمانی کتابیں نازل فرمائیں دوسرا انتظام تکوینی ہے بعض قضا و قدر کے حکم کے موافق تمام عالم کے موجودات کا انتظام جس انتظام کی رو سے اللہ نے سوا حضرت موسیٰ کی ماں کے اور دائیوں کے دودھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حرام کر کے وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمِرا ضِعَ (٢٨۔ ١٢) فرما دیا یہ حرمت شرعی نہیں بلکہ تکوینی تھی یا جس طرح الہام کے ذریعہ سے کشتی کے توڑنے یا دیوار کے سیدھا کرنے اور لڑکے کے مار ڈالنے کے اسباب تکوینی حضرت خضر کو اللہ تعالیٰ نے بتلا دئیے اور حضرت موسیٰ کو ان اسباب سے بیخبر رکھا۔ اسی طرح شرعی اسباب کی بنا پر لوگوں کو آنحضرت نے قابل بد دعا خیال فرمایا تھا۔ اور اسباب تکوینی اس بددعا کے مخالف تھے یعنی علم ازلی الٰہی میں فتح مکہ پر صفوان بن امیہ وغیرہ کا اسلام لانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو بددعا کرنے سے منع فرمایا۔ اور فرما دیا کہ ان لوگوں کا حال اللہ پر چھوڑ دیا جائے۔ جو ظالم ان میں سے حالت کفر میں مرے گا اس کو اللہ تعالیٰ عذاب کرے گا اور جو اسلام لائے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ چناچہ ویسا ہی ہوا ابن قیمہ اور عتبہ بن ابی وقاص سعد بن ابی وقاص کا بھائی حالت کفر میں مرے اور اکثر لوگ ان میں کے ایمان لائے۔ صَدَقَ اللّٰہُ الْعَلی العَظِیْمُ ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس آیت میں پیغمبر سے فرمایا کہ بندے کو اختیار نہیں ہر قسم کے اختیار رات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ (ازموضح) تفاسیر میں ہے کہ احد کے دن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیف یفلح قوم شجو ابیتھم اور بخاری میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نمازوں میں قنوت بھی شروع کردی جس میں نام لے کر مشرکین پر لعنت بھجتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعاقنوت ترک کردی اور یہ وقعہ ہے کہ جب کے نام لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدعا کرتے تھے وہی قبلیے بعد میں مسلمانوں ہوگئے۔ اسی طرح ا او یتوب علیھم کا منظر سامنے آگیا ابن کثیر ،۔ قرطبی) جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی حرمت کی حکم بظاہر بےربط سا معلوم ہوتا ہے مگر علما نے لکھا ہے کہ اوپر جہاد میں فشل نامردی کا ذکر ہوا ہے اور سود خواری سے قوم میں دھن اور بزدلی پیدا ہوتی ہے خود غرضی اور بخل کا جذبہ فروغ پا جاتا ہے۔ اور سود خوار قوم جہاد کے قابل نہیں رہتی اور پھر انصار کے یہود کے ساتھ سودی لین دین کے تعلقات تھے اور احد میں منافقین یہود کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا گویا اس کو حرام قرار دیکر ان تعلقات کو ختم کردیا۔ ( حواشی مختلفہ) زمانہ جاہلیت میں بہت سے لوگ دوسروں کو سودی قرضے دیا کرتے جب قرضہ کی میعاد ختم ہوجاتی تو مقروض سے کہتے قرض اد اکر و ورنہ سو میں اضافہ کرو۔ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں میعاد میں توسیع کردی جاتی اور سود کی مقدار اصل زر سے بھی کئی گنا زیادہ ہوجاتی اور یہ سود تجارتی اور غیر تجارتی دونوں طرح کا ہوتا تھا۔ جیسا کہ آیت کی تفسیر کے تحت تابعین نے تصریح کی ہے سودی کاروبار کی اس بھانک صورت حال کی طرف قرآن نے اضعافا مضا فعتہ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے ورنہ یہ ملطب نہیں ہے کہ مرکب سود حرام ہے اور سادہ جائز ہے۔ اسلام میں ہر قسم کا سود حرام ہے اور اس کا ادنی ترین گناہ ماں سے بدکاری کے برابر ہے۔ باقی دیکھئے بقرہ آیت 275 شوکانی ،۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ غزوہ احد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دندان مبارک شہید ہوگیا اور چہرہ مبارک مجروح ہوگیا تو آپ نے یہ فرمایا کہ ایسی قوم کو کیسے فلاح ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ اسی طرح معاف کرنا یا کسی کو عذاب دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے کیونکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ غزوۂ احد میں مسلمانوں کے سر کردہ جنگجو یہاں تک کہ حضرت حمزہ (رض) بڑی بیدردی کے ساتھ شہید کردیے گئے اور رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو بھی زخم آئے، رباعی دانت شہید ہوا اور آپ بےہوش ہو کر ایک گھاٹی میں جا گرے جونہی ہوش سنبھالا تو آپ کی زبان اطہر سے بےساختہ بددعا نکلی : (کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِیَّھُمْ وَکَسَرُوْا رُبَاعِیَتَہٗ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ إِلَی اللّٰہِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْءٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ أحد ] ” وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا سر پھوڑ ڈالا اور اس کا دانت شہید کردیا ؟ حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ میرے محبوب ! آپ کو کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَر (رض) أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَ ارَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنَ الْفَجْرِ یَقُوْلُ اللّٰھُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا بَعْدَ مَایَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) وَعَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِيْ سُفْیَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَدْعُو عَلٰی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ وَسُھَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ فَنَزَلَتْ (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ )إِلٰی قَوْلِہٖ (فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب لیس لک من الأمر شیء ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جب آپ فجر کی دوسری رکعت میں رکوع سے سر اٹھا نے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد دعا کر رہے تھے۔ اے اللہ ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) آیت نازل فرمائی۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے سالم بن عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بد دعا کرتے تو (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ۔۔ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ ) آیت نازل ہوئی۔ “ اس فرمان میں آپ کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ میرے محبوب ! آپ کو دل شکستہ اور حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیونکہ کسی کو معاف کرنا یا اسے عذاب دینا آپ کے اختیار میں نہیں یہ تو رب کبریا کے فیصلے ہیں جو اس کی حکمت کے مطابق صادر ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور وہ لا محدود اختیارات اور ہر چیز کی ملکیت رکھنے کے باوجود معاف کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔ آپ کو بددعا سے منع کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تھوڑے ہی عرصے بعد احد میں کفار کے لشکر کی کمان کرنے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے خالد بن ولید، عمرو بن عاص، ابوسفیان بن حرب اور بڑے بڑے لوگ مسلمان ہوئے یہاں تک کہ پورے عرب میں لوگ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ مسائل ١۔ حقیقتاً کسی کو معاف کرنا یا عذاب دینا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی مختار کل ہے : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی پر عذاب نازل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ (آل عمران : ١٢٨) ٢۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کے لیے دعا اور ان کی قبروں پر جانے سے روک دیا گیا۔ (التوبۃ : ٨٤) ٣۔ نبی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں۔ (التوبۃ : ١١٣) ٤۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کا پابند نہیں۔ (التوبۃ : ٩٦) ٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ (الجن : ٢١) ٦۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ (القصص : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ کفر کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ‘ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نیز وہ اس اصلاحی نظام حیات کے مقابلے میں اتر کر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں جو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی صورت میں دنیا میں نافذ ہونے کے لئے آیا ہے ۔ غرض وہ سب مظالم اس میں شامل ہیں جو کفر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کی راہ کو مسدود کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ سب پروگرام حکمت الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس آیت کی رو سے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو بھی اس پروگرام میں دخل انداز ہونے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ اور ان امور میں فیصلے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فیصلے ذات باری کے شایان شان ہیں ۔ ان میں ذات باری منفرد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یوں اہل ایمان کی ذات فتح و کامرانی کے ساتھ اس منظر سے باہر آجاتی ہے ۔ وہ خود فتح و کامرانی کے اسباب کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اس کے نتائج میں ان کا کوئی دخل نہیں رہتا ۔ یوں وہ اس کبر و غرور سے محفوظ رہتے ہیں جو فاتحین کے دلوں میں بالعموم پیدا ہوجاتا ہے ‘ نیز وہ سخت گیری ‘ غرور اور احساس برتری سے بھی مامون ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر فاتحین پھولے نہیں سماتے اور ان کے روح اور طرز عمل غیر متوازن ہوتے ہیں ۔ چناچہ اہل ایمان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں ۔ اختیارات تو سب کے سب اللہ کے پاس ہیں ۔ غرض لوگ مطیع فرمان ہوں یا نافرمان ہوں ان سب کے امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے ‘ خواہ وہ اچھے لوگ ہوں یا برے ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ۔ یہ ہے تحریک اسلامی کی حقیقت اور یہ ہے اس میں لوگوں کا مقام چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ہوں۔ اس میدان میں خود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اور نتائج اللہ پر چھوڑدیں ۔ وہ اپنے کئے پر صرف اللہ سے اجر کے طلب گار ہوں ‘ وہ انہیں پورا پورا اجردے گا اور ان کا والی اور مددگار ہوگا۔ یہ آیت کہ ” فیصلے کے اختیارات میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے “ اس لئے بھی یہاں لائی گئی ہے کہ آنے والی آیت میں بعض لوگوں کی یہ بات نقل ہونے والی ہے ۔ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ……………” اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ (١٥٤ : ٣) اور یہ کہ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” اگر اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ (١٥٧ : ٣) اور یہ آیت دراصل ان مزعومات کا پیشگی جواب ہے کہ جی ہاں اختیارات الٰہیہ میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ نہ فتح کسی کے اختیار میں ہے نہ شکست ۔ تمہارا کام صرف اطاعت امر ہے ‘ ادائے فرض ہے اور مکمل وفاداری ہے ۔ یہی امور تم سے مطلوب ہیں ۔ ان کے بعد نتائج کیا نکلتے ہیں تو بس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ان میں کسی کا دخل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی دخل نہیں ہے ۔ یہ وہ اصلی حقیقت جو اسلامی تصور حیات کے پیش نظر ہے اور اسے نفس انسانی کی گہرائیوں میں جاگزیں ہونا چاہئے اور اسے واقعات ‘ حالات اور افراد کار سے بھی برتر اور بلند ہونا چاہئے ۔ واقعہ بدر کی یہ یاد دہانی اور اسلامی تصور حیات کے ان اساسی حقائق کا اختتامیہ اس عام حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ آخر کار فتح وہزیمت دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکیمانہ پالیسی کے تابع ہوتی ہیں اور یہاں آکر اس بیان کے خاتمہ پر ‘ اس سے بھی زیادہ عمومی حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات میں اللہ کا امر جاری وساری ہے ۔ اس لئے جسے وہ چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کو سب کچھ اختیار ہے یہاں سے پھر غزوہ احد کے واقعہ کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ اسباب النزول صفحہ ١١٦ میں حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ غزوہ احد میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے دانت شہید ہوگئے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ چہرہ مبارک سے خون بہہ رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون سے رنگ دیا۔ اس حال میں کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ) نازل فرمائی یعنی تمام امور اللہ کی طرف مفوض ہیں اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آپ کو صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو ان کو ایمان کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر چاہے گا تو ان کو عذاب دے گا۔ کفر پر مریں گے، عذاب میں مبتلا ہوں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا جو لوگ احد میں مکہ معظمہ سے لڑنے کے لیے آئے تھے ان میں سے بعض بعد میں مسلمان ہوگئے جن میں ابو سفیان بھی تھے۔ صفوان بن امیہ بھی تھے ابو سفیان کی بیوی ہند بھی مسلمان ہوگئی جس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت حمزہ (رض) کا کلیجہ چبایا تھا۔ اور وحشی بن حرب بھی مسلمان ہوئے جنہوں نے حضرت حمزہ (رض) کو شہید کیا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

195 اس آیت کا تعلق جنگ احد سے ہے صحیح مسلم میں ہے کہ جنگ احد میںحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامنے ایک دانت شہید کردیا گیا۔ اور آپ کے سر مبارک میں بھی زخم آیا۔ آپ زخم سے خون پوچنھ رہے تھے اور ساتھ یہ بھی فرماتے جارہے تھے۔ کیف یقلح قوم شجوا نبیھم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وکسروا رباعیتہ وھو یدعوھم الی اللہ تعالیٰ (صحیح مسلم ص 108 ج 2) یعنی اس قوم کو کس طرح ہدایت نصیب ہوگی۔ جس نے اپنے پیغمبر کو زخمی کردیا حالانکہ وہ ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے گویا کہ آپ نے ان کے لیے توفیق ایمان کو مستبعد سمجھا اور ان کی ہلاکت کے لیے بدعا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آپ کا استبعاد دور فرمادیا اور آپ کو ان کے اسلام لانے کی امید دلا دی۔ استبعاد لتوفیق من فعل ذالک بہ وقولہ تعالیٰ لیس لک من الامر شیئ تقریب لما استبعدہ واطماع فی اسلامھم (قرطبی ص 199 ج 4) اَوْ یَتُوْبَ اور اَوْ یُعَذِّبَھُمْ میں اَوْ بمعنی اِلَّا اَنْ ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے ایمان سے مایوس ہو کر ان پر بددعا کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکین کی عاقبت اور انجام کار کو میں جانتا ہوں نیز ان کے تمام امور اور معاملات میرے اختیار و تصرف میں ہیں۔ کیونکہ میرا علم محیط اور قدرت ہر چیز پر حاوی ہے آپ کا نہ علم ہر چیز پر محیط ہے اور نہ قدرت اس لیے آپ کو بددعاء کرنے کا اختیار نہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو میں توبہ کی توفیق دیدوں اور وہ اسلام قبول کرلیں اور جو کفر پر قائم رہیں ان کو دائمی عذاب میں مبتلا کروں ومعنی الایۃ لیس لک من امر مصالح عبادی شیء الا ما اوحی الیک فن اللہ تعالیٰ ھو مالک امرھم ناما ان یتوب علیھم ویھدیھم فیسلموا او یھلکھم ویعذبھم ان اصروا علی الکفر (خازن ص 350 ج 1) یا یہ دونوں لیقطع پر معطوف ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں اس لیے تمہاری امداد فرمائی تاکہ وہ کافروں کو ہلاک کرے یا ذلیل کرے یا ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان کو عذاب دائمی میں مبتلا کرے والمعنی ان مالک امرھم علی الاطلاق وھو اللہ تعالیٰ نصرکم علیھم لیھلکھم او یکبتھم او یتوب علیھم ان اسلموا او یعذبھم ان اصروا ولیس لک من امرھم شیٗ ان انت الا عبد ما مور بانذارھم وجھادھم (روح ص 50 ج 4) بعض روایات کے مطابق آپ بعض مشرکین پر چالیس دن بد دعا کرتے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بہر حال شان نزول جو بھی ہو یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ غیب دان تھے اور نہ مختار کل۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اے پیغمبر ! آپ کو ان کافروں کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں تفویض کیا گیا ہے ان کے مسلمان ہونے یا کافر رہنے میں آپ کو کوئی دخل نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت و صفقت کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ مسلمان ہوجائیں یا اللہ تعالیٰ ان کو دنیا ہی میں کوئی سزا دے کیونکہ یہ بڑا ظلم کر رہے ہیں اور اپنے ظلم کی وجہ سے سزا کے مستحق ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض سرکش اور ظالموں کے حق میں بددعا کی تھی اس سے آپ کو منع کیا گیا کہ آپ ان کے حق میں ہلاک ہونے کی بددعا نہ کریں بلکہ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کو توبہ کی توفیق دے دیں اور وہ مسلمان ہوجائیں یا ان کو سزا دیں اگر وہ کفر پر اصرار کرتے رہیں آپ کا کام تبلیغ کرنا اور ان کو ہمارا احکام پہنچانا ہے اور ان کی باتوں کے مقابلہ میں برداشت اور صبر کرنا۔۔۔۔ ہے۔ فراء نے کہا اویتوب اوحتی ان کے معنی میں ہے ابن عیسیٰ نے کہا او الذان کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ تمہیں ان کے معاملہ میں کہ وہ مسلمان ہوتے ہیں یا کافر رہتے ہیں کوئی دخل دینے کا حق نہیں یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوجائیں تو تم کو اس وقت خوشی ہوگی اور اگر کفر کی وجہ سے ان کو ہم عذاب کریں تو اس وقت آپ کے صبر کا بدلہ ہوجائے گا اور آپ کے قلب کو تسلی ہوجائے گی۔ اس آیت کا تعلق بظاہر غزوۂ احد سے ہے احد میں چونکہ ستر صحابہ شہید ہوئے تھے اور کفار نے انتہائی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا تھا۔ حضرت حمزہ (رض) کی لاش کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ برتائو کیا تھا خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی کافروں نے اس جنگ میں گزند پہنچایا آپ کی پیشانی مبارک کو زخمی کیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خود کی کڑیاں رخسار مبارک میں گھس گئیں۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا داہنا دانت شہید ہوگیا۔ جسم مبارک سے بہت خون نکلا آپ پر غشی طاری ہوگئی کفار نے مشہور کردیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے اس غلط خبر سے عام مسلمانوں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ اس نازک موقعہ پر سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے بےساختہ نکلا کیف یضلح قوم شبحوا نبیھم و کسروارباخیتہٗ بھلا اس قوم کو کس طرح فلاح نصیب ہوگی جس نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور اپنے نبی کے دانت کو شہید کیا اور آپ نے چند لوگوں کے حق میں بددعا کا ارادہ کیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ بیرمعونہ پر جو کافروں نے ستر قاریوں کو شہید کردیا تھا آپ نماز میں ان کے لئے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ بعض کا قول ہے کہ آپ نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے اور قبیلہ رعل ۔ کعان اور عصیہ کے لئے بددعا فرماتے تھے اور ان قبیلوں پر لعنت بھیجتے تھے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا گیا اور ہلاک وعدم ہلاک کے بارے میں آپ کے اختیار کی نفی فرمائی۔ (واللہ اعلم) لوگوں نے ان مختلف اقوال کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ آیت کسی ایک موقع پر نازل ہوئی ہو اور دوسرے موقعہ پر اس کی جانب توجہ دلائی ہو۔ بہرحال علماء و محققین کی رائے یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان آیتوں کا تعلق غزوۂ احد کے ساتھ ہے کیونکہ اس موقعہ پر مسلمان بہت متاثر تھے اور بالخصوص حضرت حمزہ (رض) کی شہادت اور ان کا ممثلہ کرنا ناک کان کاٹ کر ان کا ہار بنا کر پہننا۔ حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر اس کو چبانا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو گزند پہنچانا یہ سب امور ایسے تھے جن کا مسلمانوں پر بہت زیادہ اثر تھا اور بعض صحابہ نے فرمایا تھا کہ اگر ہم کو موقعہ ملا اور کفار پر ہم نے قابو پایا تو ہم سود در سود ان کافروں سے وصول کریں گے خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حضرت حمزہ (رض) کی نعش کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ میں کافروں کو ستر بددعائیں دوں گا اس پر سورة نحل کی آخری آیتیں نازل ہوئیں اور اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ رہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بددعا کرنا یا بدعا کا قصد کرنا تو ظاہر ہے کہ یہ اجتہاداً تھا نہ آپ کو ممانعت کی گئی تھی نہ حکم دیا گیا تھا اس لئے آپ کی معصومیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اب آگے اس اختیار پر جو نفی فرمائی تھی اس کی مزید تاکید ہے اور اس پر دلیل ہے کہ یہ اختیار تمہیں کیوں نہیں اور ہم کو کیوں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے پیغمبر کو تربیت فرمائی کہ بندے کو اختیار نہیں ہے اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے اگرچہ کافر تمہارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں لیکن چاہے ان کو ہدایت دے اور چاہے عذاب کرے اپنی طرف سے بددعا نہ کرو۔ (موضح القرآن) یہ امت بھی کیا خوش قسمت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ عذاب کو پیغمبر سے دریافت کرے تو پیغمبر رضامند نہ ہوں جیسا کہ طائف میں ہوا اور کبھی پیغمبر بددعا پر آمادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ روک دے۔ صد شکر کہ ہستیم میان ردکریم۔ (تسہیل)