Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 20

سورة آل عمران

فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾  10

So if they argue with you, say, "I have submitted myself to Allah [in Islam], and [so have] those who follow me." And say to those who were given the Scripture and [to] the unlearned, "Have you submitted yourselves?" And if they submit [in Islam], they are rightly guided; but if they turn away - then upon you is only the [duty of] notification. And Allah is Seeing of [His] servants.

پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں تو آپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالٰی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے اور اہل کتاب سے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دیجئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہدایت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں ، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَإنْ حَأجُّوكَ ... So if they dispute with you (Muhammad), so if they argue with you about Tawhid. ... فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ... Say: "I have submitted myself to Allah (in Islam), and (so have) those who follow me." meaning, Say, `I have made my worship sincere for Allah Alone without partners, rivals, offspring or companion, وَمَنِ اتَّبَعَنِ (and those who follow me) who followed my religion and embraced my creed.' In another Ayah, Allah said, قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِى أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِى Say (O Muhammad): "This is my way; I invite unto Allah with sure knowledge, I and whosoever follows me..." (12:108) Islam is the Religion of Mankind and the Prophet Was Sent to all Mankind Allah commanded His servant and Messenger, Muhammad, to call the People of the Two Scriptures and the unlettered idolators to his religion, way, Law and all that Allah sent him with. Allah said, ... وَقُل لِّلَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ وَالاُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَغُ ... And say to those who were given the Scripture (Jews and Christians) and to those who are illiterates (Arab pagans): "Do you (also) submit yourselves!" If they do, they are rightly guided; but if they turn away, your duty is only to convey the Message. meaning, their reckoning is with Allah and their return and final destination is to Him. It is He Who guides whom He wills and allows whom He wills to stray, and He has the perfect wisdom and the unequivocal proof for all of this. This is why Allah said, ... وَاللّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ And Allah sees the servants. for He has perfect knowledge of who deserves to be guided and who does not deserve to be guided. Verily, لاَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (He cannot be questioned for what He does, while they will be questioned) (21:23) because of His perfect wisdom and mercy. This and similar Ayat are clear proofs that the Message of Muhammad is universal to all creation, as it is well established in the religion, according to the various texts of the Book and Sunnah. For instance, Allah said, قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا Say (O Muhammad): "O mankind! Verily, I am sent to you all as the Messenger of Allah." (7:158) and, تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً Blessed be He Who sent down the criterion to His servant that he may be a warner to the Alamin (mankind and Jinn). (25:1) The Two Sahihs and other collections of Hadith recorded that; the Prophet sent letters to the kings of the earth during his time and to different peoples, Arabs and non-Arabs, People of the Book and the unlettered, just as Allah had commanded him. Abdur-Razzaq recorded that Ma`mar said, that Hammam said that Abu Hurayrah said that the Prophet said, وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الاْاُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلاَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُوْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّار By He in Whose Hand is my soul! No member of this Ummah, no Jew or Christian, hears of me but dies without believing in what I was sent with, but will be among the people of the Fire. Muslim recorded this Hadith. The Prophet said, بُعِثْتُ إِلَى الاَْحْمَرِ وَالاَْسْوَد I was sent to the red and black. and, كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّة A Prophet used to be sent to his people, but I was sent to all mankind.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

20۔ 1 ان پڑھ لوگوں سے مراد مشرکین عرب ہیں جو اہل کتاب کے مقابلے میں بلعموم ان پڑھ تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ ): اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صدق ثابت ہوجانے کے باوجود بھی اگر اہل کتاب کفر و عناد کی راہ اختیار کرتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو اپنا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور یہی حال میرا اتباع کرنے والے مسلمانوں کا بھی ہے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور امی لوگوں، یعنی مشرکین عرب، سب سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اسلام لے آؤ گے تو صراط مستقیم پر گامزن ہوجاؤ گے اور اگر روگردانی کرو گے تو میرا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب تو تمہیں اللہ ہی کو دینا ہوگا۔ اس آیت کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب و عجم کے تمام ملوک و امراء کو دعوتی خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! اس امت میں سے اگر کوئی بھی یہودی ہو یا نصرانی، وہ میرے بارے میں سنے اور اس پر ایمان نہ لائے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ اصحاب النار میں سے ہوگا۔ “ [ مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ ۔۔ : ١٥٣ ] اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے سرخ و سیاہ (یعنی عرب و عجم) کی طرف بھیجا گیا ہے۔ “ [ مسند أحمد : ٥؍١٤٥، ح : ٢١٣٥٧، عن أبی ذر (رض) ] نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ “ [ بخاری، التیمم، باب : ٣٣٥ ] آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیامت تک اور تمام لوگوں کی طرف رسول ہونے پر کتاب و سنت میں بکثرت دلائل موجود ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (١٥٨) اور سبا (٢٨) حتیٰ کہ جنوں کی طرف بھی۔ دیکھیے احقاف (٣١) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Surah began with the confirmation of Divine Oneness and the refutation of Trinity. Answered here are argumentations in which the disbelievers and deniers among the people of the Book persist - even after the truth of Islam has been proved conclusively. The advice against such ongoing. and unnecessary disputations is that the accep¬tance or rejection of disputers should be of no use to a believer who simply has to declare that he and those with him have entered the fold of Islam being in no doubt about its truth. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was entrusted with the mission of calling the people of the Book, the Jews and Christians, and the disbelievers of Arabia to submit to Allah and embrace Islam which will be for their own good for they will be on the right path. In case they continue to maintain their hostile attitude, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been comforted here by saying that his duty is only limited to conveying the message of Allah and His com¬mandments. That the message does not seem to get across to them, as they elect to reject rather than accept, should really not be a matter of concern for him. This is something Allah will take care of in His own way for He is in full sight of what His servants are doing.

خلاصہ تفسیر : ربط آیات : شروع سورت میں توحید کا اثبات اور تثلیث کا رد کیا گیا تھا، ان آیات میں مشرکین اور منکرین اہل کتاب کی حجتوں کا جواب دیا گیا ہے۔ (اسلام کے حق ہونے پر دلیل قائم ہونے کے بعد) پھر بھی اگر یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (خوامخواہ کی) حجتیں نکالیں تو آپ ( جواب میں) فرمادیجیے کہ ( تم مانو یا نہ مانو) میں تو اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکا اور جو میرے پیروکار تھے وہ بھی ( اپنا رخ خاص اللہ کی طرف کرچکے۔ یہ کنایہ ہے اس سے کہ ہم سب اسلام اختیار کرچکے جس میں اعتقاد الوہیت کے اعتبار سے قلب کا رخ خاص اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے، کیونکہ دوسرے مذاہب میں کچھ کچھ شرک ہوگیا تھا) اور (اس جواب کے بعد دریافت فرمانے کے طور پر) کہیں اہل کتاب سے اور (مشرکین) عرب سے کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو سو اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں تو وہ لوگ بھی راہ راست پر آجائیں گے اور اگر وہ لوگ (اس سے بدستور) روگردانی رکھیں سو ( آپ اس کا بھی غم نہ کیجیے، کیونکہ) آپ کے ذمہ صرف (احکام خداوندی کا) پہنچا دینا ہے اور (آگے) اللہ تعالیٰ خود دیکھ ( اور سمجھ) لیں گے، (اپنے) بندوں کو ( آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی باز پرس نہیں ہے)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاِنْ حَاۗجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِيَ لِلہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ۝ ٠ ۭ وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ۝ ٠ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا۝ ٠ ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ۝ ٠ ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ۝ ٢٠ ۧ حاجَّة والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] ، وقال تعالی: وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] ، وسمّي سبر الجراحة حجّا، قال الشاعر : يحجّ مأمومة في قعرها لجف الحاجۃ ۔ اس جھگڑے کو کہتے ہیں جس میں ہر ایک دوسرے کو اس کی دلیل اور مقصد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں ( کیا بحث کرتے ہو ۔ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] پھر اگر یہ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چکی ہے ۔ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تم کو کچھ بھی علم نہیں ۔ وَإِذْ يَتَحاجُّونَ فِي النَّارِ [ غافر/ 47] اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے ۔ اور حج کے معنی زخم کی گہرائی ناپنا بھی آتے ہیں شاعر نے کہا ہے ع ( بسیط) یحج مامومۃ فی قھرھا لجف وہ سر کے زخم کو سلائی سے ناپتا ہے جس کا قعر نہایت وسیع ہے ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے أُمِّيُّ هو الذي لا يكتب ولا يقرأ من کتاب، وعليه حمل : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ [ الجمعة/ 2] قال قطرب : الأُمِّيَّة : الغفلة والجهالة، فالأميّ منه، وذلک هو قلة المعرفة، ومنه قوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] أي : إلا أن يتلی عليهم . قال الفرّاء : هم العرب الذین لم يكن لهم کتاب، والنَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِنْدَهُمْ فِي التَّوْراةِ وَالْإِنْجِيلِ [ الأعراف/ 157] قيل : منسوب إلى الأمّة الذین لم يکتبوا، لکونه علی عادتهم کقولک : عامّي، لکونه علی عادة العامّة، وقیل : سمي بذلک لأنه لم يكن يكتب ولا يقرأ من کتاب، وذلک فضیلة له لاستغنائه بحفظه، واعتماده علی ضمان اللہ منه بقوله : سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى [ الأعلی/ 6] . وقیل : سمّي بذلک لنسبته إلى أمّ القری. الامی ۔ وہ ہے جو نہ لکھ سکتا ہو ، اور نہ ہ کتاب میں سے پڑھ سکتا ہو چناچہ آیت کریمہ ؛۔ { هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ } ( سورة الجمعة 2) وہی تو ہے جس نے ان پڑھو میں انہی میں سے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو پیغمبر بناکر بھیجا ۔ میں امیین سے یہی مراد ہے قطرب نے کہا ہے کہ امییہ بمعنی غفلت جہالت کے ہے اور اسی سے امی ہے کیونکہ اسے بھی معرفت نہیں ہوتی چناچہ فرمایا ؛۔ { وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ } ( سورة البقرة 78) اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سواخدا کی کتاب سے ) واقف نہیں ہیں ۔ یہاں الا امانی کے معنی الا ان یتلیٰ علیھم کے ہیں یعنی مگر یہ کو انہین پڑھ کر سنا یا جائے ۔ فراء نے کہا ہے کہ امیون سے مراد ہیں جو اہل کتاب نہ تھے اور آیت کریمہ ؛ { الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا } ( سورة الأَعراف 157) اور ہو جو ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) رسول ( اللہ ) نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جن ( کے اوصاف ) کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ امی اس امت یعنی قوم کی طرف منسوب ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو جس طرح کہ عامی اسے کہتے ہیں جو عوام جیسی صفات رکھتا ہو ۔ بعض نے کہا ہے کہ آنحضرت کو امی کہنا اس بنا پر ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ لکھنا جانتے تھے اور نہ ہی کوئی کتاب پڑھتے تھے ۔ بلکہ وحی الہی کے بارے میں اپنے حافظہ اور خدا کی اس ضمانت پر کہ { سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى } ( سورة الأَعلی 6) ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے ۔ اعتماد کرتے تھے یہ صفت آپ کے لئے باعث فضیلت تھی ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ ام القریٰ یعنی مکہ کی طرف نسبت ہے اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، وقال : فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] ، فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . ويقال المُهْتَدِي لمن يقتدي بعالم نحو : أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] تنبيها أنهم لا يعلمون بأنفسهم ولا يقتدون بعالم، وقوله : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] فإن الِاهْتِدَاءَ هاهنا يتناول وجوه الاهتداء من طلب الهداية، ومن الاقتداء، ومن تحرّيها، وکذا قوله : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] وقوله : وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] فمعناه : ثم أدام طلب الهداية، ولم يفترّ عن تحرّيه، ولم يرجع إلى المعصية . وقوله : الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ [ البقرة/ 157] أي : الذین تحرّوا هدایته وقبلوها وعملوا بها، وقال مخبرا عنهم : وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] . الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ۔ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں ۔ لیکن کبھی اھتداء کے معنی طلب ہدایت بھی آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو ۔ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 150] سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور یہ بھی مقصود ہے کہ میں تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہ راست پر چلو ۔ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا [ آل عمران/ 20] اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں ۔ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا [ البقرة/ 137] . تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہوجائیں ۔ المھتدی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی عالم کی اقتدا کر رہا ہے ہو چناچہ آیت : ۔ أَوَلَوْ كانَ آباؤُهُمْ لا يَعْلَمُونَ شَيْئاً وَلا يَهْتَدُونَ [ المائدة/ 104] بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ کسی کی پیروی کرتے ہوں ۔ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ نہ وہ خود عالم تھے اور نہ ہی کسی عالم کی اقتداء کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّما أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ [ النمل/ 92] تو جو کوئی ہدایت حاصل کرے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے ۔ میں اھتداء کا لفظ طلب ہدایت اقتدا اور تحری ہدایت تینوں کو شامل ہے اس طرح آیت : ۔ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لا يَهْتَدُونَ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال انہین آراستہ کر کے دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آتے ۔ میں بھی سے تینوں قسم کی ہدایت کی نفی کی گئی ہے اور آیت : ۔ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى [ طه/ 82] اور جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے راستہ پر چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں ۔ میں اھتدی کے معنی لگاتار ہدایت طلب کرنے اور اس میں سستی نہ کرنے اور دوبارہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ الَّذِينَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ إلى قوله : وَأُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ«1» [ البقرة/ 157] اور یہی سیدھے راستے ہیں ۔ میں مھتدون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت الہیٰ کو قبول کیا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کی اور اس کے مطابق عمل بھی کیا چناچہ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ وَقالُوا يا أَيُّهَا السَّاحِرُ ادْعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنا لَمُهْتَدُونَ [ الزخرف/ 49] اے جادو گر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٠) ان لوگوں کو دین اسلام کے بارے میں جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دشمنی تھی اب اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتے ہیں کہ اگر یہود و نصاری نے اس کے بعد بھی آپ سے دین میں جھگڑا کیا تو آپ فرما دیجیے کہ میں تو اپنے دین اور عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرچکا ہوں اور میرے صحابہ کرام (رض) بھی ایسا ہی کرچکے ہیں اور اے نبی آپ یہود و نصاری اور اہل عرب سے فرما دیجیے کہ ہم اسلام لائے ہیں کیا تم بھی اس طرح اسلام لاتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اسلام لے آئیں تو راہ راست پر آگئے اور اگر انہوں نے اس سے روگردانی کی تو آپ پر تو احکام کا پہنچا دینا فرض ہے باقی ان منکرین حق سے اللہ تعالیٰ خود سمجھ لیں گے کہ حقیقت میں کون ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٠ (فَاِنْ حَآجُّوْکَ ) دلیل بازی اور مناظرے کی روش اختیار کریں۔ (فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ط) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے دو ٹوک انداز میں یہ آخری بات کہہ دیں کہ ہم نے تو اللہ کے آگے سراطاعت خم کردیا ہے۔ ہم نے ایک راستہ اختیار کرلیا ہے۔ تم جدھر جانا چاہتے ہوجاؤ ‘ جس پگڈنڈی پر مڑنا چاہتے ہو مڑ جاؤ ‘ جس کھائی میں گرنا چاہتے ہو گر جاؤ۔ (لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ) (الکافرون) ۔ (وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ءَ اَسْلَمْتُمْ ط) کیا تم بھی سرتسلیم خم کرتے ہو یا نہیں ؟ تابع ہوتے ہو یا نہیں ؟ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہو یا نہیں ؟ (فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اہْتَدَوْا ج) (وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ط) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارا پیغام ان تک پہنچا دیا ‘ ہماری دعوت ان تک پہنچا دی ‘ ہماری آیات انہیں پڑھ کر سنا دیں ‘ اب قبول کرنا یا نہ کرنا ان کا اپنا اختیار (choice) ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ذمہ داری نہیں ہے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ سورة البقرۃ میں ہم یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں : (وَلَا تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ) ۔ (وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بالْعِبَادِ ) وہ ان سے حساب کتاب کرلے گا اور ان سے نمٹ لے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ جو فرض ہے آپ اس کو ادا کرتے رہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18. The Prophet (peace be on him) is asked to tell them in effect: I and my followers have embraced the original, unadulterated Islam which is the true religion enjoined by God. Tell us, now, if you are prepared to give up the accretions introduced by your forefathers, and embrace this original, true religion?'

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :18 دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھیے کہ”میں اور میرے پیرو تو اس ٹھیٹھ اسلام کے قائل ہو چکے ہیں جو خدا کا اصل دین ہے ۔ اب تم بتاؤ کہ کیا تم اپنے اور اپنے اسلاف کے بڑھائے ہوئے حاشیوں کو چھوڑ کر اس اصلی و حقیقی دین کی طرف آتے ہو“ ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:20) ومن اتبعن۔ اتبعن اصل میں اتبعنی تھا۔ اور وہ جنہوں نے میری پیروی کی۔ الامیین۔ مشرکین عرب جو اہل یہود اور نصاری کے علاوہ تھے۔ امی کے معنی اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو نہ لکھ سکے نہ پڑھ سکے۔ اس زمانہ میں عرب کی یہ مخصوص صفت تھی کہ وہ اکثر و بیشتر بےپڑھے لکھے تھے اور اس صفت میں دوسری قوموں سے ممتاز تھے۔ تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی سے۔ اگر تولی کا لفظ متعدی بنفسہٖ ہو تو معنی ولایت (دوستی) اور قریب تریں مواضع سے اس کے حصول کو چاہتا ہے۔ جیسے ولیت سمعی کذا۔ میں نے اپنے کان کو فلاں چیز پر لگایا۔ یا جیسے قرآن حکیم میں ہے ومن یتولی اللہ ورسولہ (5:56) اور جو شخص خدا اور اس کے رسول سے دوستی کرے گا۔ اور جب تعدیہ بذریعہ عن ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا مقدر تو اس کے معنی اعراض اور روگردانی اور دور ہونے کے ہیں جیسے آیت ہذا میں ۔ یہاں عن مقدر ہے پس فان تولوا کا معنی ہوگا اگر وہ روگردانی کریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جلد محاسبہ ہونے والا ہے اور آیت الہیٰ سے کفر کی سزا مل کر رہے گی۔7 اوتوا اہل کتاب اور مشرکین عرب سب کو مالعموم اسلام کی دعوت دو ۔ جنا نچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آّیت کے مطابق عرب وعجم کے تمام ملوک وامر گو دعوت خطوط لکھے اور اپنی عمومی رسالت کا اعلان کیا۔ ایک حدیث میں ہے بعث الی الا حمر ولا اسود۔ کہ عرب و عجم کی طرف معبوث کیا گیا ہوں۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : والذی نفس محمد بیدہ ولا یسمع بی احدمن ھذہ الا متہ یھوددی ولا نصر انی ومات ولم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اھل النار کہ قسم ہے اس ذات پاکی کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے اس امت میں سے کوئی بھی یہودی یا نصرانی اگر میرا نام سن کر میری رسالت پر ایمان نہیں لائے گا تو وہ دوزخ میں جائے گا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے عالگیر اور تا قیامت ہونے پر کتاب و سنت میں بکثر دلائل موجود ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت کچھ کہہ دیا گیا ‘ اس لئے اب یا تو تم لوگ اللہ وحدہ کی الوہیت کا اعتراف کرو ‘ اس کی نگہبانی کا اعتراف کرو اور نتیجتاً اتباع اور انقیاد کرو ورنہ پھر تمہیں اس کا کوئی حل نہ ملے گا ۔ اور یہ مباحثہ یونہی جاری رہے گا ۔ اور تم توحید اور اسلام سے محروم رہو گے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو صرف ایک لفظ ایسا بتاتے ہیں جو بیک وقت نظریہ حیات اور نظام زندگی کا مظہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر پھر بھی یہ لوگ تم سے جھگڑیں تو تم صاف کہہ دو کہ ہم نے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ…………میں اسلام لایا اور میرے متبعین بھی ‘ یہاں اہل ایمان کو متبعین کہہ کر اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ اسلام صرف تصدیق ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد اتباع بھی ضروری ہے ‘ اسی طرح یہ تعبیر کہ میرا چہرہ اللہ کے سامنے جھک گیا ہے۔ اس لئے کہ اسلام محض قول وقرار کا نام بھی نہیں ہے ۔ نہ صرف عقیدے اور تصور کا نام ہے ۔ اس کے مفہوم میں انقیاد بھی داخل ہے ۔ اتباع اور اطاعت بھی داخل ہے ۔ چہرے کا مطیع ہونا مقصد ہے مکمل انقیاد واتباع ‘ اس لئے کہ انسان کے جسم میں چہرے کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ چہرے مہرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر مطیع ‘ متبع ‘ فرماں بردار اور ہر وقت عمل کے لئے چاق وچوبند ہے ۔ یہ ہے خود حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتقاد اور آپ کا نظام زندگی ‘ نظام مصطفیٰ ‘ اور مسلمان تو ہیں ہی وہ لوگ جو اس کے متبع اور مقلد ہیں ‘ اس کے اعتقاد میں بھی اور اس کے عمل میں بھی اس لئے اب یہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے پوچھا جائے ۔ اب یہ سوال کیا جائے جو دونوں کیمپوں کے درمیان واضح حد بندی کردے ۔ دونوں کے درمیان حد فاصل قائم کردے ۔ جس میں کوئی اشتباہ نہ رہے اور دونوں کے درمیان کوئی فکری اختلاط والتباس نہ رہے ۔ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالأمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ……………” اہل کتاب اور امیوں (غیر اہل کتاب) سے کہو :” کیا تم نے بھی سر تسلیم خم کردیا ؟ “ یہاں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا فرق اب ختم کردیا جاتا ہے ۔ اب دونوں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو دعوت اسلام دی جاتی ہے اور یہ دعوت اسلام اسی مفہوم کے ساتھ ہے جس کی تشریح ہم کرتے ہیں ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ عقیدہ توحید قبول کریں اللہ کی ذات میں اور اس کی قیومیت اور نگہبانی میں ‘ اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس عقیدے کو اپنانے کے بعد پھر مطیع فرمان ہوجائیں اور اطاعت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پوری زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں ‘ اسلامی نظام زندگی کو اپنائیں فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا……………” اگر انہوں نے یہ اطاعت قبول کرلی تو راہ راست پاگئے ۔ “ معلوم ہوا کہ ہدایت کا ظہور صرف ایک ہی شکل میں ہوتا ہے یعنی اسلام کی صورت میں یعنی اس کی ماہیت اور اس طبیعت کے مطابق ‘ اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا تصور نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا طریق کار نہیں اور نہ کوئی دوسرا ایسا منہاج ہے جس کے ذریعہ ہدایت حاصل کی جاسکتی ہو ۔ اس کے سوا جو بھی اور راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے ہیں ‘ وہ سب حیرانی و پریشانی کے راستے ہیں ۔ وہ سب زیغ وضلال کے راستے ہیں۔ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہ داری ہے ۔ “ پیغام پہنچانے کے بعد رسول کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے ۔ آپ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کو ان لوگوں کے ساتھ قتال کی اجازت نہ دی گئی تھی جو اسلام قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ باز آجائیں ‘ بعد کا حکم یہ تھا وہ یا تو مکمل انقیاد اختیار کرلیں اور اسلامی نظام کے مطیع ہوجائیں یا پھر وہ معاہدہ کریں اور جزیہ ادا کرکے اسلامی نظام کے تابع ہوجائیں پھر وہ آزاد ہیں اس لئے کہ اسلام میں عقائد تبدیل کرنے کا کوئی جبر نہیں ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اللہ اپنے بندوں کے معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ “ وہ اپنے علم اور بصیرت کے مطابق ہی ان کے معاملات کو چلاتا ہے اور ان کے تمام امور اسی کے ہاتھ میں ہیں ہر حال میں ‘ اس لئے وہ اپنے بندوں کو اندھیرے میں نہیں رکھتا ۔ اور وہ انہیں صاف صاف بتاتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ بتاتا ہے کہ گزشتہ تاریخ انسانیت میں اللہ کے باغیوں اور نافرمانیوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور اب بھی اس کی سنت وہی ہے ۔ فرماتے ہیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

لفظ اسلام کا مادہ سلامتی ہے جو شخص اسلام قبول کرے گا دنیا و آخرت کی آفات اور مصائب اور عذاب اور تکالیف سے محفوظ رہے گا اسے ہر طرح کی سلامتی ملے گی۔ مضمون بالا سورة بقرہ کی آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ النَّصٰرٰی وَ الصّٰبِءِیْنَ ) اور دوسری آیت (اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ ) کے ذیل میں بھی بیان ہوچکا ہے اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے جو اختلاف کیا اور داعی اسلام حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف راستہ اختیار کیا ان کا یہ اختلاف جہالت سے نہیں بلکہ یہ جاننے کے بعد ہے کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں اسلام کی حقانیت کی دلیل پہنچ گئی پھر بھی ضدا ضدی کا مزاج رکھنے کے جذبات نے ان کو حقانیت اسلام کے انکار پر آمادہ کیا۔ انہیں دنیا میں سرداری مطلوب ہے جس کی وجہ سے اللہ کی آیات کے منکر ہو رہے ہیں اور جانتے بو جھتے حق کا انکار کرکے مستحق عذاب بن رہے ہیں اللہ تعالیٰ جلد سب کا حساب لے لے گا اسی کو فرمایا (وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) پھر فرمایا (فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ) (پس اگر وہ آپ سے حجت بازی کریں تو آپ فرما دیں کہ میں نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے جھکا دیا اور ان لوگوں نے بھی جنہوں نے میرا اتباع کیا) تم نہیں مانتے تم جانو نہ ماننے کی سزا بھگتو گے ہم اللہ کے ہوگئے اس کی فرما نبر داری ہمارا شعار ہے پھر فرمایا (وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَ اَسْلَمْتُمْ ) یعنی آپ ان لوگوں سے فرما دیں جن کو کتاب دی گئی۔ (یعنی یہود و نصاری) اور مشرکین عرب سے بھی فرما دیں جو امی یعنی ان پڑھ ہیں کہ بولو تم نے اسلام قبول کیا ؟ یعنی ان کو دعوت دے دو ۔ (فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا) اگر اسلام قبول کرلیں تو ہدایت والے ہوجائیں گے (وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ) اور اگر وہ آپ کی دعوت سے اعراض کریں اور رو گردانی کریں تو آپ کو اس سے کوئی ضرر نہ ہوگا کیونکہ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے منوانا آپ کے ذمہ نہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌ بالْعِبَادِ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے وہ مسلم کو بھی جانتا ہے اور کافر کو بھی۔ داعی حق کا بھی اسے علم ہے اور حق قبول کرنے والے کا بھی۔ وہ ہر ایک کو اس کی جزاء دے دے گا۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میری حرکتوں کی میرے خالق کو خبر نہیں ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖ 29 اگر عوم اہل کتاب اپنے گمراہ اور ضدی مولویوں اور پیروں کے شرکیہ اقوال اور عبارتیں پیش کریں تو آپ اس کا صاف صاف جواب دیدیں کہ توحید کے عقلی اور نقلی قطعی دلائل کے مقابلے میں یہ شرکیہ عبارتیں ناقابل تسلیم ہیں اس لیے میں اور میرے تمام متبعین صرف اللہ ہی کو اپنا حاکم اور معبود سمجھتے ہیں صرف اسی کی عبادت کرتے اور صرف اسے ہی پکارتے ہیں۔ ٖ 30 اَسْلَمْتُمْ صورۃً استفہام ہے لیکن معنیً امر ہے۔ ھو استفہام فی معرض التقریر والمقصود منہ الامر (کبیر ج 2 ص 631) اور اُمِّیِّیْنَ سے مراد مشرکین عرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اہل کتاب اور مشرکین عرب سے فرمائیں کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور دعا و پکار میں کسی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں اگر وہ لوگ اسلام لے آئیں اور ضدی لوگوں کی شرکیہ عبارتیں چھوڑ کر مسئلہ توحید کو مان لیں تو وہ بھی آپ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متبعین کی طرح ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ کیونکہ اسلام ہی حق اور اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ۔ اور اگر وہ اعراض کریں اور اسلام قبول نہ کریں اور ضدی لوگوں کی عبارتیں چھوڑ کر مسئلہ توحید نہ مانیں تو اس میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ حکم پہنچانا تھا وہ آپ نے کما حقہ پہنچا دیا۔ ای لایضرک شیئا اذما علیک الا البلاغ وقد اوتیہ علی اکمل وجہ وابلغہ (روح ج 3 ص 109) اور اللہ اپنے بندوں کے حالات بخوبی جانتا ہے اس لیے وہ انہیں ان کے اعمال پر پوری پوری جزا دیگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 ۔ بلا شبہ دین حق اور پسندیدہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی یعنی اہل کتاب نے اسلام کی صداقت سے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ ان کو اسلام کی حقانیت اور صداقت کا علم پہنچ چکا ۔ اس علم کے پہنچ جانے کے بعد ان لوگوں نے دین حق سے اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی محض باہم حسد اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاطر کیا اور جو شخص اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا اور کافرانہ روشن اختیار کرے گا تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس کا حساب لینے والا ہے پھر اگر اب بھی یہ لوگ اے پیغمبر ! آپ سے کج بحثی اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی کریں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ میں اور میرے پیرو تو سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کرچکے اور میں نے اور جو میرے پیرو ہیں انہوں نے اپنا سر تسلیم اللہ کے آگے خم کردیا اور آپ اہل کتاب اور مشرکین عرب سے دریافت کیجئے کہ کیوں جی تم سب بھی اسلام قبول کرتے ہو اور جو دین ہم نے اختیار کر رکھا ہے تم بھی اس کو قبول کرتے ہو ۔ سو اگر وہ لوگ مسلمان ہوجائیں تو سمجھو کہ وہ راہ پر آگئے اور اگر وہ لوگ روگردانی کریں اور بدستور اپنامنہ موڑیں تو آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں کیونکہ آپ کے ذمہ تو تو صرف پیغام الٰہی اور احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے اور آگے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اعمال و احوال کو دیکھنے والا ہے۔ ( تیسیر) ہم الم اور سیقول میں اس آیت کے مضامین کا کچھ حصہ بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں نجران کے نصاریٰ کے سلسلے میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں ۔ سونپنا تفویض کرنا ، اپنے کو کسی کے سپرد کردینا ، اور کسی کے حوالے کر کے اس کے آگے گردن ڈال دینا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور احکام کی بجا آوری کے لئے سر جھکا دینا ، یہ سب معنی لفظ اسلام کے آتے ہیں۔ انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مذہب کو بھی اسلام اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایک مسلمان میں یہ سب باتیں ہوتی ہیں وہ اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے اپنا سر جھکا دیتا ہے اسی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمان کی مثال ایک فرمانبردار اونٹ کے ساتھ دی ہے کہ جب اس کو بٹھائو بیٹھ جاتا ہے اور جب اس کو اٹھائو تو وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا مذہب مادیات اور روحانیات دونوں پر مشتمل ہے اس لئے اس سے بہتر کوئی مذہب نہیں ہوسکتا ۔ سوسائٹی اور انسانی عقل جو مذہب بھی تجویز کرے گی اس میں ہرگز اتنی جامعیت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ اتنی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے جو خود خالق کائنات اور مالک عباد اپنے بندوں کے لئے تجویز کریگا یہی وجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اسلام کو اپنا پسندیدہ اور مقبول مذہب فرمایا ہے پھر اہل کتاب کے اختلاف کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ بات یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ اسلام یک حقانیت سے واقف نہیں ہیں کیونکہ جو مذہب ان کو ملا تھا وہ بھی تو اسلام تھا اور وہی مکمل رنگ میں خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا ہے اور جو کتر بیوت اہل کتاب نے اپنے مذہب میں کردی تھی اس سب کو چھانٹ کر آخری نبی کی امت کو دیا گیا ہے اور ان کو اس مذہب اسلام کی صداقت کا علم مل چکا ہے اور اس کی حقانیت کا یقین ان کو حاصل ہوچکا ہے کیونکہ اول تو خود ان کی کتابوں میں اسلام کی تعریف موجود ہے جو خود ان کا مذہب تھا پھر یہ کہ ان کی کتابوں میں پیشین گوئی موجود ہے جس سے آخری نبی کا مذہب اسلام اور آخری پیغمبر کی کتاب کا نام قرآن ظاہرہوتا ہے انہوں نے اپنے مذہب کو بھی محض ذاتی اغراض اور آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کی غرض سے بدل ڈالا ۔ نصاریٰ نے یہود کی دشمنی میں اور یہود نے نصاریٰ کی عداوت میں باہم اختلاف کیا اور آخری نبی کے دین کو قبول کرنے سے بھی محض آپس کے حسد اور حب جاہ اور حب ریاست کی وجہ سے انکار کیا اور اس کے قبول کرنے میں جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وجوہات کچھ بھی ہوں جو بھی آیات الٰہی کے ماننے اور قبول کرنے سے انکارکرے گا تو ہمیں اس سے حساب لینے دیر نہیں لگتی ہم اس سے جلد حساب لینے والے ہیں ۔ سریع الحساب کے ہم سورة بقرہ میں دو معنی بیان کرچکے ہیں لیکن یہاں یہی ایک معنی مناسب ہیں اتنی کھلی اور واضح دلیل کے بعد بھی یہ لوگ اگر بحث و مباحثہ کریں جیسا کہ انہوں نے کیا ۔ یہاں مجادلہ کو مجازا ً حاجہ فرمایا ہے۔ بہر حال جب یہ کج بحثی پر آمادہ ہوجائیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تو اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرچکا ہوں اور وہ لوگ جو میرے پیرو ہیں وہ بھی اپنارخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرچکے ہیں یعنی میں اور میرے ساتھی تو مسلمان ہیں تم اسلام قبول کردیا نہ کرو۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے اور ان پڑھوں یعنی مشرکین عرب سے دریافت کرلیجئے کہ تم مسلمان ہوتے ہو اور کیا تم لوگ اسلام قبول کرتے ہو ۔ آپ کے اس دریافت کرنے پر اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو یہ صحیح راہ پر پڑجائیں گے اور اگر حسب عادت نہ مانے اور منہ موڑا تو اے پیغمبر آپ کے ذمہ تو صرف احکام کا پہنچا دینا ہے ۔ آپ ان کے قبول کرنے نہ کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں آپ اسلام کی دعوت ان لوگوں تک پہنچا دیجئے باقی ہم اپنے بندوں کے احوال پر خود خوب گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔ جیسا مناسب سمجھیں گے ویسا سلوک کریں گے ۔ ہم نے آیت کی تفسیر تمام اقوال کو سامنے رکھ کر کی ہے ہماری تقریر سب صورتوں کو شامل ہے ۔ بعض مفسرین نے اس اختلاف سے یہود و نصاریٰ کا باہم اختلاف مراد لیا ہے اور بعض نے اہل کتاب اور مسلمانوں کا اختلاف مراد لیا ہے۔ پھر آیت کا تعلق وفد نجران کے نصاریٰ سے ہے ہم نے سب کی رعایت رکھ کر تقریر کی ہے ۔ آیت اپنی عمومیت کے اعتبار سے ہر شکل کی گنجائش رکھتی ہے۔ ( واللہ اعلم) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مذہب حق اللہ کے نزدیک اسلام ہے اہل کتاب نے علم صحیح پہنچ جانے کے بعد محض باہمی حسد کے باعث اختلاف ڈالا اور اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا ، لہٰذا جو احکام الٰہی کا منکر ہوگا اس سے بہت جلد حساب لیا جائے گا یہ دلائل سن کر بھی جھگڑا کریں اور خواہ مخواہ کی کٹ حجتی نکالیں تو اپنے اور اپنے ساتھیوں کے اسلام کا اعلان کردو اور سب کو اسلام کی دعوت پیش کردو ۔ قبول کرلیں تو فیہا ان کا بھلا ہے نہ قبول کریں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو وہ دانا اور بینا ہے بخران کے نصاریٰ سے اس بحث کی ابتداء ہوئی تھی پھر یہود کا ذکر بھی ان کے ساتھ آگیا ۔ عام دعوت میں اہل کتاب کے ساتھ مشرکین عرب کو بھی شامل کیا گیا ۔ اب آگے یہود کے بعض افعال شنیعہ اور حرکات قبیحہ کا ذکر ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان پڑھے کہتے تھے عرب کے لوگوں کو ان کے پاس پہلے پیغمبروں کا علم نہ تھا۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے لفظ امی ۔ امیین کی وضاحت فرمائی ہے اہل کتاب میں حب جاہ ، حب مال ، اور حب ریاست کا ہونا پہلے پارے میں گزر چکا ہے اسی طرح باہم ایک دوسرے پر ظلم اور زیارتی کا حال بھی پہلے پارے میں تظاھرون عیھم بالاثم والعدوان کی تشریح کرتے وقت گزر چکا ہے۔ رہی یہ بات منکرین کے مقابلے میں صرف اتنا کہہ دینا کہ میں تو اسلام قبول کرچکا تم کو اختیار ہے یہ کس طرح کافی ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ عا م منکرین کو جواب نہیں دیا گیا ہے بلکہ ان خاص منکروں کو جواب دیا گیا ہے جو کسی شبہ کی بناء پر منکر نہ تھے بلکہ محض عداوت اور عناد کی بنا پر انکار کرتے تھے۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے سامنے مکرر دلائل کا بیان کرنا بےکار ہونا ۔ اسلمت وجہی کے معنی بھی من اسلم وجھہ میں گزر چکے ہیں یعنی اپنا منہ اللہ کے سامنے دھر دیا ہے یہ لفظی ترجمہ ہے اور مطلب وہی انقیاد و اطاعت ، تسلیم و رضا اور تفویض الی اللہ ہے اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ ( تسہیل)