Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 54

سورة آل عمران

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿۵۴﴾٪  13 الثلٰثۃ

And the disbelievers planned, but Allah planned. And Allah is the best of planners.

اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالٰی نے بھی ( مکر ) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالٰی سب خُفیہ تدبیر کر نے والوں سے بہترہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they plotted, and Allah planned too. And Allah is the Best of those who plot. Allah states that the Children of Israel tried to kill `Isa by conspiring to defame him and crucify him. They complained about him to the king who was a disbeliever. They claimed that `Isa was a man who misguided people, discouraged them from obeying the king, caused division, and separated between man and his own son. They also said other lies about `Isa, which they will carry on their necks, including accusing him of being an illegitimate son. The king became furious and sent his men to capture `Isa to torture and crucify him. When they surrounded `Isa's home and he thought that they would surely capture him, Allah saved him from them, raising him up from the house to heaven. Allah put the image of `Isa on a man who was in the house; when the unjust people went in the house while it was still dark, they thought that he was `Isa. They captured that man, humiliated and crucified him. They also placed thorns on his head. However, Allah deceived these people. He saved and raised His Prophet from them, leaving them in disarray in the darkness of their transgression, thinking that they had successfully achieved their goal. Allah made their hearts hard, and defiant of the truth, disgracing them in such disgrace that it will remain with them until the Day of Resurrection. This is why Allah said, وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (And they plotted, and Allah planned too. And Allah is the Best of those who plot).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

54۔ 1 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بےباپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] یہود اور ان کے علماء و فقہاء سب کے سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن بن گئے تھے مگر آپ کے دلائل کے سامنے انہیں مجبوراً خاموش ہونا پڑتا تھا۔ پھر جب آپ نے سبت کے احکام میں تخفیف کا اعلان کیا تو یہود کو پروپیگنڈا کے لیے ایک نیا میدان ہاتھ آگیا کہ یہ شخص ملحد ہے اور تورات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ملک شام کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا ہوا تھا اور یہاں یہود کی حکومت نہ تھی بلکہ رومیوں کی حکومت تھی۔ آپ اپنے حواریوں کو ساتھ لے کر شام کے مختلف شہروں میں تبلیغ فرماتے اور معجزہ دکھلاتے جس سے لا تعداد شفایاب بھی ہوجاتے تھے اور آپ پر ایمان بھی لے آتے تھے۔ ہر شہر میں سینکڑوں مرد اور عورتیں آپ پر ایمان لے آئے تو یہودیوں کے بغض اور حسد میں اور بھی اضافہ ہوگیا اور وہ آپ کی جان لینے کے درپے ہوگئے۔ آپ کے حواریوں میں سے ہی ایک شخص نے یہود سے بہت سی رقم بطور رشوت وصول کرکے یہ مخبری کردی کہ اس وقت عیسیٰ (علیہ السلام) فلاں پہاڑی پر مقیم ہیں۔ چناچہ یہود کی ایک مسلح جماعت اس پہاڑی پر پہنچ گئی اور آپ کو گرفتار کرلیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر آپ کے حواری سب تتر بتر ہوگئے۔ ان کے پاس صرف دو تلواریں تھیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ حواری ایک مسلح جماعت کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے اور میں تمہیں اپنی طرف زندہ اٹھا لوں گا۔ قیصر روم کی طرف سے جو حاکم شام پر مقرر تھا۔ اس کا نام ہیروڈیس تھا۔ یہودیوں نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرلیا تو آپ کے منہ پر طمانچے مارے اور مذاق اڑاتے ہوئے شہر میں لے گئے۔ پھر آپ کو ہیرو ڈیس کے نائب حاکم پلاطوس کے پاس لے گئے اور آپ پر دو الزام لگا کر پلاطوس سے آپ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ ایک الزام یہ تھا کہ یہ شخص قیصر روم کو محصول دینے سے منع کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے لیکن آپ نے ان دو الزاموں سے انکار کردیا تو پلاطوس کہنے لگا کہ میرے نزدیک اس کا کوئی ایسا جرم نہیں جو مستوجب قتل ہو۔ مگر جب اس نے یہودیوں کا اپنے مطالبہ پر اصرار دیکھا تو اس نے یہ مقدمہ ہیروڈویس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن اسے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی ایسا جرم نظر نہ آیا جو مستوجب قتل ہو۔ لہذا اس نے یہ مقدمہ واپس پلاطوس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن یہود کے علماء و فقہاء سب اسی بات پر بضد تھے کہ اس شخص کو ملحد ہونے اور دوسروں کو ملحد بنانے کی بنا پر قتل کرنا ضروری ہے۔ پلاطوس نے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور ضد سے مجبور ہو کر کہا کہ میں تمہارے کہنے پر اسے سولی تو دے دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور تمہاری اولاد پر ہوگا۔ یہود نے ضد میں آکر اس بات کو بھی تسلیم کرلیا۔ پھر جب آپ کو سولی پر چڑھانے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ حرکت میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمانوں کی طرف اٹھا لے گئے اور کسی دوسرے شخص کی شکل و صورت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملتی جلتی بنادی اور سب کو یہی معلوم ہونے لگا کہ یہی شخص عیسیٰ ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام پر (وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ١٥٧؀ۙ ) 4 ۔ النسآء :157) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ دوسرا شخص کون تھا ؟۔ تو اس کے متعلق ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہی شخص تھا جو آپ کو سولی کی سزا دلوانے میں سب سے پیش پیش تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سب سے بڑے دشمن کو اس کی کرتوت کی سزا سولی کی شکل میں دے دی۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ شخص وہی حواری تھا جس نے بھاری رشوت لے کر آپ کی مخبری کرکے آپ کو گرفتار کروایا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بعض لوگوں نے اس شبہ کی اور بھی کچھ صورتیں ذکر کی ہیں۔ تاہم ان سب کا ماحصل یہی ہے کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا اور آپ کی جگہ مصلوب کوئی دوسرا مشتبہ شخص ہوا تھا۔ یہ تو تھی قرآن کی وضاحت لیکن اناجیل کا بیان اس سے مختلف ہے۔ عیسائی یہ کہتے ہیں کہ سولی آپ ہی کو دی گئی تھی اور آپ نے چیخ چیخ کر جان دی۔ پھر یوسف نامی ایک شخص نے پلاطوس سے درخواست کی کہ لاش اس کے حوالے کردی جائے۔ چناچہ اس نے آپ کو قبر میں دفنا دیا اور اوپر چٹان دھر دی، یہ جمعہ کی شام کا واقعہ تھا۔ پھر تین دن بعد اتوار کو حضرت عیسیٰ زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیئے۔ پھر آسمان پر چڑھ گئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے۔ اس وقت آپ کی عمر ٣٣ سال کی تھی۔ اناجیل کے اسی بیان پر عیسائیوں کے مشہور و معروف عقیدہ کفارہ مسیح کی عمارت کھڑی کی گئی۔ اناجیل کا حضرت عیسیٰ کے مصلوب ہونے سے متعلق بیان کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ مثلاً ( : ١) اناجیل اربعہ کے مؤلفین میں سے کوئی بھی موقعہ کا عینی شاہد نہیں۔ حتیٰ کہ یہ اناجیل دوسری صدی عیسوی میں مرتب ہوئیں۔ یہ مؤلفین حضرت عیسیٰ کے حواریوں کے شاگرد در شاگرد ہیں اور صلیب کے موقعہ پر ایک بھی حواری موجود نہ تھا۔ سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ (٢) انجیل برنباس کا مؤلف برنباس حواری ہے اور یہ انجیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ سے صدہاسال پیشتر عیسائیوں میں مشہور و معروف تھی۔ اس میں یہ عبارت موجود ہے & تب فرشتوں نے باکرہ سے کہا کیونکہ یہودا عیسیٰ کی شکل میں مبدل ہوگیا & اور یہ یہودا وہی حواری ہے۔ جس نے حضرت عیسیٰ کی مخبری کی تھی۔ یہ انجیل برنباس چونکہ عیسائیوں کے تمام مشہور و معروف عقاید یعنی الوہیت مسیح، عقیدہ تثلیث اور کفارہ مسیح کی تردید کرتی ہے۔ لہذا اہل کلیسا نے اس انجیل کو الہامی کتابوں کے زمرہ سے خارج کردیا ہے اور اسے ضبط کرلیا گیا۔ تاہم یہ کتاب آج بھی دنیا سے ناپید نہیں ہوئی۔ (٣) اسلام سے پیشتر عیسائیوں کے کئی فرقے ایسے موجود تھے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے کے منکر تھے۔ مثلاً فرقہ باسلیدی، سربنتی، کاریوکراتی، ناصری، پوئی وغیرہ۔ لہذا عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کا عقیدہ متفق علیہ ہے۔ غلط ثابت ہوتا ہے۔ بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب دمشق کی مسجد کے سفید منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ ان کے ایک طرف جبرائیل ہوں گے اور دوسری طرف میکائیل، اس وقت مسلمان کئی طرح کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے جن میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہوگا۔ آپ دجال کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کی امداد فرمائیں گے۔ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے، بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتی بن کے رہیں گے اسی زمانہ میں آپ شادی کریں گے اولاد ہوگی آپ کے دور میں اسلام کا بول بالا ہوگا، اور بعدہ آپ اپنی طبعی موت مریں گے۔ اس دوران آپ یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہوگا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ یہاں ایک یہودی موجود ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کا مابعد والی آیت میں ذکر ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نزول عیسیٰ کے متعلق حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو ( وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ١٥٩؀ۚ ) 4 ۔ النسآء :159) اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ ۔۔ : شیخ شنقیطی نے فرمایا : ” یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا تھا، جیسا کہ فرمایا : ( وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ ) [ النساء : ١٥٧ ] ” اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔ “ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے : (وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ ) [ النساء : ١٥٧ ] ” اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا) کا شبیہ بنادیا گیا۔ “ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ کو سولی دے کر سمجھ بیٹھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (١٥٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In these verses the miraculous event of the Ascension of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus Christ) has been mentioned. |"And they made a move|" refers to the evil designs of the Jews who planned to arrest him and to get him crucified. The next sentence i.e. |"and Allah made a move|" refers to the plan designed by Allah Almighty to save his prophet ` Isa (علیہ السلام) from their ill designs. They sent one of them to Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to arrest him and Allah changed his face totally and made him resemble Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and raised Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to heavens, while that person was crucified under the mistaken identity. How Allah had planned to save ` Isa (علیہ السلام) from their clutches was disclosed to him when his enemies came to arrest him. The details of these disclosures have been men¬tioned in verse 55. Explanation of important words in the verse Some sects which deny, contrary to the belief of the entire Muslim community, the Ascension of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus Christ), his being alive in the heavens and his descension towards the later times, have worked through the words and meanings of these verses to open doors of distortion in the Qur&anic text. Therefore, it seems appropriate that these words be explained in some details. Let us begin with وَاللَّـهُ خَيْرُ‌ الْمَاكِرِ‌ينَ translated as and Allah is the best of those who make moves&. The word, مکر makr in Arabic denotes a subtle and secret move or plan. If this is for a good purpose, it is good; and if this is for a bad purpose, it is bad. It was why the restriction of saiyy سِّٰی : evil) was placed with مکر makr (: move, plan) in: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ‌ السَّيِّئُ إِلَّا (And evil plan besets none but its perpetrator - 35:43). The Qur&anic word, مکر makr, is used exclusively for conspiracy, evil plan and strategy in the everyday idiom of the Urdu language (in which this commentary was originally written), therefore, it should not be equated with the Arabic usage. This is the reason why Allah has been called: خَيْرُ‌ الْمَاكِرِ‌ينَ &Khair al-Makirin& here. The verse means that the Jews started making a series of conspira¬cies and secret schemes against Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) going to the limit of convincing the ruler of the time that he was a heretic (God forbid) all bent upon changing the Torah and was going to make apostates of everybody. The ruler ordered the arrest of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . While this was the scene on one side, the subtle and secret move made by Allah Almighty was countering their evil plans more effectively, which has been mentioned in the verses coming next.

خلاصہ تفسیر اور ان لوگوں نے ( جو کہ بنی اسرائیل میں سے آپ کے منکر نبوت تھے آپ کو ہلاک کرنے اور ایذا پہنچانے کے لئے) خفیہ تدبیر کی ( چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوئے) اور اللہ تعالیٰ نے ( آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے) خفیہ تدبیر فرمائی ( جس کی حقیقت کا ان لوگوں کو بھی پتہ نہ لگا، کیونکہ انہیں مخالفین میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل پر بنادیا، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہمشکل سولی دیا گیا، ان لوگوں کو اس تدبیر کا علم تک بھی نہ ہوسکا اور دفع پر تو کیا قدرت ہوتی) اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں ( کیونکہ اوروں کی تدبیریں ضعیف ہوتی ہیں، اور کبھی قبیح اور بےموقع بھی ہوتی ہیں، اور حق تعالیٰ کی تدبیریں قوی بھی ہوتی ہیں اور ہمیشہ خیر محض اور موافق حکمت کے ہوتی ہیں، اور وہ تدبیر اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمائی) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جبکہ وہ گرفتاری کے وقت متردد اور پریشان ہوئے) فرمایا اے عیسیٰ ( کچھ غم نہ کرو) بیشک میں آپ کو (اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے) وفات دینے والا ہوں ( پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدر ہے تو ظاہر ہے کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہو گے) اور (فی الحال) میں تم کو اپنے ( عالم بالا کی) طرف اٹھائے لیتا ہوں، اور تم کو ان لوگوں (کی تہمت) سے پاک کرنے والا ہوں جو (تمہارے) منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ ( تمہارے) منکر ہیں روز قیامت تک ( گو اس وقت یہ منکرین غلبہ اور قدرت رکھتے ہیں) پھر (جب قیامت آجائے گی اس وقت) میری طرف ہوگی، سب کی واپسی ( دنیا و برزخ سے) سو میں ( اس وقت) تمہارے ( سب کے) درمیان (عملی) فیصلہ کردوں گا ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے کہ ( منجملہ ان امور کے مقدمہ ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا) ۔ آیت کے اہم الفاظ کی تشریح : اس آیت کے الفاظ و معانی میں بعض فرقوں نے تحریفات کا دروازہ کھولا ہے جو تمام امت کے خلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات اور آخر زمانہ میں نزول کے منکر ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان الفاظ کی تشریح و ضاحت کے ساتھ کردی جائے۔ (واللہ خیر الماکرین) لفظ |" مکر |" عربی زبان میں لطیف و خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو تو اچھا ہے، اور برائی کے لئے ہو تو برا ہے، اسی لئے ولا یحیق المنکر السیء (٣٥: ٤٣) میں مکر کے ساتھ |" سیء |" کی قید لگائی، اردو زبان کے محاورات میں مکر صرف سازش اور بری تدبیر اور حیلہ کے لئے بولا جاتا ہے، اس سے عربی محاورات پر شبہ نہ کیا جائے، اسی لئے یہاں خدا کو |" خیر الماکرین |" کہا گیا، مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کردیں، حتی کہ بادشاہ کے کان بھر دیئے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے، تورات کو بدلنا چاہتا ہے، سب کو بد دین بنا کر چھوڑے گا، اس نے مسیح (علیہ السلام) کی گرفتاری کا حکم دیدیا، ادھر یہ ہورہا تھا، اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی جس کا ذکر اگلی آیات میں ہے۔ ( تفسیر عثمانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللہُ۝ ٠ ۭ وَاللہُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۝ ٥٤ ۧ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٤) یہودیوں نے حضرت عسی (علیہ السلام) کو قتل کرنے اور ان کو سولی پر چڑھانے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے لوگوں میں سے طیطانوس نامی ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں تبدیل کرکے سولی پر چڑھوا دیا اور اللہ تعالیٰ جل شانہ سب تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٤ (وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ ط) یہود کے علماء اور فریسی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے خلاف مختلف چالیں چل رہے تھے کہ کسی طرح یہ قانون کی گرفت میں آجائیں اور ان کا کام تمام کردیا جائے۔ ان لوگوں نے آنجناب ( علیہ السلام) کو مرتد اور واجب القتل قرار دے دیا تھا ‘ لیکن ملک پر سیاسی اقتدار چونکہ رومیوں کا تھا لہٰذا رومی گورنر کی توثیق (sanction) کے بغیر کسی کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی تھی۔ ملک کا بادشاہ اگرچہ ایک یہودی تھا لیکن اس کی حیثیت کٹھ پتلی بادشاہ کی تھی ‘ جیسے انگریزی حکومت کے تحت مصر کے شاہ فاروق ہوتے تھے۔ یہود کی مذہبی عدالتیں موجود تھیں جہاں ان کے علماء ‘ مفتی اور فریسی بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے ‘ اور اگر وہ سزائے موت کا فیصلہ دے دیتے تھے تو اس فیصلے کی تنفیذ ‘ (execution) رومی گورنر کے ذریعے ہوتی تھی۔ اس صورت حال میں علماء یہود کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو رومی قانون کی زد میں لانے کے لیے اپنی سی چالیں چل رہے تھے۔ وہ آنجناب ( علیہ السلام) سے اس طرح کے الٹے سیدھے سوالات کرتے کہ آپ ( علیہ السلام) کے جوابات سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ شخص رومی حکومت کا باغی ہے۔ یہود کی ان چالوں کا توڑ کرنے کے لیے اللہ نے اپنی چال چلی۔ اب اللہ کی چال کیا تھی ؟ اس کی تفصیل قرآن یا حدیث میں نہیں ہے ‘ بلکہ انجیل برنباس میں ہے جو پوپ کی لائبریری سے برآمد ہوئی تھی۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے حواریوں میں سے ایک حواری یہودا کو یہود نے رشوت دے کر اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ وہ آپ ( علیہ السلام) کی مخبری کر کے گرفتار کرائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی غدار حواری کی شکل حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی سی بدل دی اور وہ خود گرفتارہو کر سولی چڑھ گیا۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) پر وہ ہاتھ ڈال ہی نہیں سکے۔ حضرت مسیح ( علیہ السلام) ایک باغ میں روپوش تھے اور باغ کے اندر بنی ہوئی ایک کو ٹھڑی میں رات کے وقت عبادت میں مشغول تھے ‘ جبکہ آپ ( علیہ السلام) کے بارہ حواری باہر موجود تھے۔ اس وقت وہ شخص وہاں سے چپکے سے سٹک گیا اور جا کر سپاہیوں کو لے آیا تاکہ آپ ( علیہ السلام) کو گرفتار کرا سکے۔ یہ رومی سپاہی تھے اور قندیلیں لے کر آئے تھے۔ اس نے سپاہیوں سے کہا تھا کہ میں اندر جاؤں گا ‘ جس شخص کو میں کہوں اے ہمارے استادبس اسی کو پکڑ لینا ‘ وہی مسیح ( علیہ السلام) ہیں۔ اس لیے کہ رومیوں کو کیا پتا تھا کہ مسیح ( علیہ السلام) کون ہیں ؟ یہ شخص جیسے ہی کو ٹھڑی کے اندر داخل ہوا اسی وقت کو ٹھڑی کی چھت پھٹی اور چار فرشتے نازل ہوئے ‘ جو حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو لے کر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی شکل تبدیل کردی اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) والی شکل بنا دی۔ اب یہ گھبرا کر باہر نکلا تو دوسرے حواریوں نے اس سے کہا اے ہمارے استاد ! یہ سنتے ہی سپاہیوں نے اسے قابو کرلیا اور اصل میں یہی شخص سولی چڑھا ہے ‘ نہ کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) ۔ یہ ساری تفاصیل انجیل برنباس میں موجود ہیں۔ یہ شہادت درحقیقت نصاریٰ ہی کے گھر سے ہمیں ملی ہے اور قرآن کا جو بیان ہے اس میں یہ پوری طرح فٹ بیٹھتی ہے کہ انہوں نے اپنی سی چالیں چلیں اور اللہ نے اپنی چال چلی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یہود کے علما نے اس وقت باشاہ کو بہکا یا کہ یہ شخص ملحد اور تو رات کے احکام کو بد لنا چاہتا ہے اور ان پر اتہام لگائے تو اس بادشاہ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے کچھ آدمی مقرر کردیئے۔ انہوں نے ایک مکان کے اند حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ہیں : اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسی کو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھا دیا۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوگئے۔ 2۔ ایک اور شخص کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل بنادیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیغام کا ردّ عمل اور ان کی حفاظت کے ساتھ اہل ایمان کی برتری کا اعلان۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنما حاکم وقت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ شخص یہودیت کے لیے زہر قاتل اور مذہب کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ اس سازش کو کامیاب بنانے کے لیے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے یہودا نامی شخص کو بھاری رشوت دے کر وعدہ معاف گواہ بنایا اس نے سرکاری اہلکاروں کو مخبری کردی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فلاں پہاڑیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس گرفتاری سے بچنے کے لیے بارہ حواریوں کے سوا باقی سب حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر رفوچکر ہوگئے۔ قیصرِروم کے نمائندے شام کے گورنر ہیرو ڈیس نے آپ کو گرفتار کیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ گرفتاری کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرۂ مبارک پر تھپڑ مارے گئے۔ یہ بات اس لحاظ سے غلط معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وہ جلال بخشا تھا کہ بڑے بڑے گستاخ یہودی دائیں بائیں تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں تہمت لگاتے تھے لیکن ان کے سامنے ایسا کہنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔ بہرحال عیسیٰ (علیہ السلام) گرفتار ہوئے مقدمہ چلا اور وقت کی حکومت نے انہیں الزامات سے بری الذمہ قرار دیا لیکن یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ بالآخر شام کے گورنر نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے نائب بلاطوس کے حوالے کیا۔ اس نے رائے عامہ کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ کہتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کا فیصلہ دیا کہ یہ جرم میری گردن کے بجائے تمہاری گردن پر ہوگا۔ یہودیوں نے متفق ہو کر کہا کہ ہمیں یہ منظور ہے۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لے جانے کے لیے آدمی آگے بڑھے تو بعض روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی حالت میں آسمانوں پر اٹھا لیا اور جو لوگ انہیں لینے کے لیے آگے بڑھے ان میں سے یہودا کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ کردیا گیا سرکاری اہلکاروں نے اسے عیسیٰ سمجھ کر سولی چڑھا دیا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ( وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاَ صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ) [ النساء : ١٥٧] کہ انہوں نے نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھا سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک شخص کو مشابہ کردیا۔ اسی واقعہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف مکروفریب کیا۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے پر حکمت تدبیر کے ذریعے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بہتر تدبیر کرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں کے الزامات اور مقدمات سے محفوظ فرماکر اپنے ہاں رفعت مکانی سے ہمکنار کیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب نے میرے ہاں لوٹ کر آنا ہے اور میں تمہارے اختلافات کا قطعی اور آخری فیصلہ کروں گا۔ تاہم جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین ہیں انہیں قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اور ان کی نبوت کا انکار کرنے والوں پر بلند رکھوں گا۔ مفسّرین نے ان الفاظ کے دو مفہوم درج فرمائے ہیں کہ عیسائی علمی اور سیاسی طور پر ہمیشہ یہودیوں پر غالب رہیں گے۔ چناچہ آج بھی اسرائیل کے علاوہ یہودیوں کی کہیں حکومت اور عزت نہیں پائی جاتی۔ اسرائیلی حکومت بھی امریکہ، برطانیہ اور دوسرے عیسائی ملکوں کے سہارے قائم ہے ان کے بغیر یہودی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ بعض عیسائی قرآن مجید کے اس مقام سے مسلمانوں کو یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھیں تمہارا قرآن ہماری بالا دستی کی گواہی دے رہا ہے حالانکہ یہ بات قرآن کے مفہوم اور تاریخی حقائق کے سراسر خلاف ہے کیونکہ مسلمان تقریبًا ایک ہزار سال تک دنیا میں بلاشرکت غیرے حکومت کرتے رہے ہیں اور عیسائی مسلمانوں کے زیر دست اور ذمی بن کررہے ہیں اس لحاظ سے صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو عیسائی مسلمان ہوجائیں وہ یہودیوں پر بالادست رہیں گے۔ اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا مقابلہ کیا جائے تو عیسائی سیاسی اور علمی طور پر یہودیوں پر غالب رہیں گے۔ یاد رہے کہ عربی میں مکر کا معنی فریب، دھوکہ دہی اور سازش ہوا کرتا ہے لیکن جب اس لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کی طرف ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے تدبیر کرنا۔ یہاں اسی فرق کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی پر یہودیوں، عیسائیوں اور مرزائیوں کے مؤقف کا جواب : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پوری زندگی معجزات سے عبارت ہے۔ وہ بن باپ پیدا ہوئے، جھولے میں اپنی والدہ ماجدہ کی براءت اور صاحب کتاب نبی ہونے کا اعلان فرمایا، یہودیوں نے تختۂ دار پر چڑھانے کی کوشش کی تو جسد اطہر سمیت آسمانوں پر اٹھا لیے گئے۔ ان کے رفع آسمانی کے بارے میں یہاں قدرے اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہے لیکن سورة النساء : آیت ١٥٨، ١٥٧ میں کھل کر اس بات کی تردید کی گئی کہ جو لوگ یہ دعو ٰی کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھا دیا ہے وہ سراسر اٹکل پچو اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھالیا اور پھانسی دینے والوں نے کسی دوسرے آدمی کو سولی پر چڑھادیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اتنی واضح اور دوٹوک تردید کے بعد بھی یہودی اپنے خبث باطن کی تسکین اور بےبنیاد کامیابی پر اتراتے ہوئے دعو ٰی کرتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی پر چڑھا دیا ہے۔ عیسائیوں کے ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سب نے یہودیوں کا جواب دینے کے بجائے اپنے مفادات اور لوگوں کو آوارگی کا سر ٹیفکیٹ دینے کے لیے یہ عقیدہ بنایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سولی پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ بن چکے ہیں۔ گویا کہ یہودی جہنم میں چند دن جانے کے قائل ہیں عیسائیوں نے جہنم کا قصہ ہی پاک کردیا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی مرزا قادیانی نے یہ کہہ کر نبوت کا دعو ٰی کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو فوت ہوئے۔ قرب قیامت جس مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے وہ میں ہی ہوں۔ اپنے موقف کو سچا ثابت کرنے کے لیے مرزائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بھی کشمیر میں ڈھونڈ نکالی تاکہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جاسکے رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے کہ کسی جھوٹے نبی کی نبوت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ ہر دور کے لوگوں نے جلد ہی ایسے کذّاب سے اللہ کی زمین کو پاک کردیا لیکن ہندوستان میں مرزائیوں کو انگریز کی وجہ سے ساز گار ماحول میسر ہوا۔ اس لیے یہ جھوٹا نبی ہندؤوں، عیسائیوں اور اسلام دشمن لوگوں کی سرپرستی میں محفوظ رہا لیکن علمی اور اعتقادی طور پر علماء نے اسے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ مسلمانوں نے اپنی گروہی تفریق کے باوجود مرزائیوں کا ناطقہ بند کردیا اس سلسلہ میں تمام علماء اور مذہبی جماعتوں کی خدمات لائقِ تحسین ہیں۔ سب سے پہلے مرزا کے خلاف مولانا محمد حسین بٹالوی (رح) نے کفر کا فتویٰ جاری کرنے کی ابتدا کی۔ جب کہ مرزا کا انجام شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (رح) کے ہاتھوں ہوا۔ انہی کے ساتھ مرز انے مباہلہ کیا جس کے نتیجے میں لاہور برانڈرتھ روڈ پر احمدیہ مارکیٹ میں اپنے ایک مرید کے گھر لیٹرین میں واصل جہنم ہوا۔ اس کے بعد 1973 ء میں علماء کی زبردست تحریک پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئینی طور پر مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مسائل ١۔ اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جسد اطہر سمیت آسمان پر اٹھا لیا۔ ٣۔ سب نے اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش ہونا ہے اور وہی اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن رفع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) : ١۔ آسمانوں پر اٹھانے کا اعلان۔ (آل عمران : ٥٥) ٢۔ عیسیٰ (علیہ السلام) قتل نہیں ہوئے۔ (النساء : ١٥٧) ٣۔ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر اٹھالیے گئے۔ (النساء : ١٥٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ مکاری جو یہودیوں نے اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کی وہ عظیم مکاری تھی ‘ اس کا تانا بانا بہت طویل و عریض تھا۔ جس طرح اناجیل میں مذکور ہے کہ انہوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے منگیتر یوسف نجار کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے ۔ حالانکہ وہ پاک دامن تھیں اور ابھی یوسف کے ساتھ ان کی شادی نہ ہوئی تھی ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ۔ شغز اور اس کے بعد انہوں نے رومی حکمران بیلاطس کے پاس ان کے خلاف شکایات کیں اور کہا کہ وہ لوگوں کو رومی حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارتا ہے۔ اور یہ کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور عوام الناس کے عقائد خراب کررہا ہے ۔ چناچہ بیلاطس نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا کہ وہ خود اسے جو سزا دینا چاہیں دیدیں ‘ اس لئے کہ وہ اگرچہ ایک بت پرست تھا مگر یہ جانتا تھا کہ ایک ایسے شخص کو کس طرح سزا دے جس پر اس کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔ یہ تھیں ان کی سازشیں بلکہ یہ ان سازشوں کا ایک حصہ تھا۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ……………” وہ اس کے خلاف خفیہ تدبیریں کرنے لگے اور اللہ نے ان کے خلاف خفیہ تدبیر کی ‘ اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے ۔ “ اللہ کی تدبیر اور یہودیوں کی تدبیر کے درمیان صرف ایک مشاکلت لفظی ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے یہودیوں کی تدبیر مکر ہے اور اللہ کا جواب تدبیر ہے اور مکر کا مفہوم بھی تدبیر کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں لفظ مکر اپنے لئے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس سے اللہ ان کے مکر کی حقارت کا اظہار فرمائیں ۔ اس لئے کہ ان کا مقابلہ اللہ سے کیسے ہوسکتا ہے ۔ وہ کہاں اور اللہ کہاں ان کا مکر کیا اور اس کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر دونوں میں کیا مقابلہ ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا یا سولی چڑھانا چاہتے تھے ۔ لیکن اللہ نے انہیں صحیح سلامت اپنے ہاں بلالیا ‘ اور انہیں ان کفار اور ان کے گندے ماحول سے پاک کرلیا ۔ یعنی دور کردیا ‘ اور اس کے بعد انہیں یہ عزت دی گئی کہ وہ لوگ ان کے ماننے والے ہیں قیامت تک ان لوگوں کے مقابلے میں برتر رہیں گے جو ان کی تعلیمات کے ساتھ کفر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح اللہ نے چاہا ایسا ہی ہوا ۔ اور اللہ نے مکاروں کے مکر کے بخئیے ادھیڑ دیئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کا حضرت عیسیٰ کے قتل کا منصوبہ بنانا اور اس میں ناکام ہونا جیسے جیسے سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت آگے بڑھتی گئی اور آپ اپنے عہدہ رسالت کے مطابق کام کرتے رہے اور کچھ نہ کچھ افراد ان کے ساتھی ہوتے گئے بنی اسرائیل کی دشمنی تیز ہوتی گئی اور بالآخر انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی ٹھان لی اور طے کرلیا کہ انہیں ختم کر کے رہیں گے۔ اب بنی اسرائیل نے ایسی تدبیریں شروع کردی جس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) شہید کردیئے جائیں اور ان سے اب بنی اسرائیل کا چھٹکارہ ہوجائے۔ بنی اسرائیل نے جب سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ تو ان کو ایک مکان میں بند کردیا اور ان پر ایک نگران مقرر کردیا۔ جب قتل کرنے کے لیے وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اس نگران کی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی صورت بنا دی اور ان کو اوپر اٹھا لیا (ذکرہ البغوی فی معالم التنزیل صفحہ ٤٩٦: ج ١) ان لوگوں نے اندر جا کر دیکھا تو وہاں ایک ہی شخص کو پایا اور اسے قتل کردیا کیونکہ یہ شخص صورۃً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل تھا لیکن اس سوچ بچار میں رہے کہ اگر یہ شخص وہی تھا جس کے قتل کرنے کے لیے ہم آئے تھے تو ہمارا آدمی کہاں گیا ؟ قتل تو اس کو کردیا لیکن پھر بھی شک و شبہ میں رہے، اس کو سورة نساء میں یوں بیان فرمایا : (وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ) (اور انہوں نے نہ ان کو قتل کیا نہ ان کو صلیب پر چڑھایا لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا اور بلاشبہ جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ ان کی طرف سے ضرور شک میں ہیں) اس کی مزید توضیح انشاء اللہ تعالیٰ سورة نساء کی آیت بالا کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوگی۔ جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تھا وہ ان کے قتل میں ناکام ہوگئے اور ان کو اشتباہ ہوگیا کہ ان کا اپنا آدمی قتل ہوا یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقتول ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب آئی اور یہود کی مکاری دھری رہ گئی اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ (اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعَکَ اِلَیَّ وَ مُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) پورا ہوگیا۔ مکر کا معنی : لفظ مکر خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، یہ اچھے کام کے لیے بھی ہوتی ہے اور برے کام کے لیے بھی، سورة فاطر میں فرمایا (وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّئُ اِلَّا بِاَھْلِہٖ ) اس سے معلوم ہوا کہ مکر اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی، اور عربی زبان میں دونوں معنی کی گنجائش ہے اگر چالبازی اور دھوکہ سے کوئی تدبیر کی جائے گی تو وہ اردو زبان کے محاورہ میں مکاری ہوگی اور ضروری نہیں کہ تدبیر بری ہی ہو، قرآن مجید میں جو مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس سے اردو کے محاورہ والا مکر مراد نہیں ہے بلکہ عربی کے معنی مراد ہیں، یعنی خفیہ اور لطیف تدبیر جس کا دوسرے کو پتہ نہ چل سکے۔ فی روح المعانی ص ٧٩: ج ٣ و نقل من الامام ان المکر ایصال المکروہ الی الغیر علی وجہ یخفی فیہ و انہ یجوز صدورہ عنہ تعالیٰ حقیقۃ، و قال غیر واحد انہ عبارۃ عن التدبیر المحکم و ھو لیس بممتنع علیہ تعالیٰ ! و قال فی تفسیر قولہ تعالیٰ واللّٰہ خیر الماکرین ای اقواھم مکراً و اشدھم أو ان مکرہ احسن و اوقع فی محلہ لبعدہ عن الظلم۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

77 مَکْرٌ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی گہری اور خفیہ تدبیر سوچنے کے ہیں اور یہ چیز اپنے اصل کے اعتبار سے بری اور معیوب نہیں ہے اس لیے اللہ کی طرف اس کی نسبت بےکھٹکے جائز ہے۔ البتہ خفیہ تدبیر اگ رکسی ناجائز کام کے لیے ہوگی تو معیوب و مذموم ہوگی۔ مَکَرُوْا کا فاعل یہودی ہیں یہ لوگ چونکہ مشرک اور بدعقیدہ تھیے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توحید پرستی اور حق بیانی سے برہم ہو کر ان کے دشمن بن چکے تھے اس لیے انہوں نے ان پر الحاد اور بیدینی کا الزام لگا کر اپنی مذہبی عدالت سے ان کے کافر اور واجب القتل ہونے کا فیصلہ حاصل کرلیا۔ یہودی چونکہ رومیوں کی مشرک اور بت پرست حکومت کے ما تحت تھے اور رومی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی قتل کی سزا نہیں دے سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) پر بغاوت کا ایک جھوٹا مقدمہ بھی قائم کردیا اور رومی عدالت سے ان کے قتل کے احکام حاصل کرلیے اس وقت سزائے موت صلیب کے ذریعے دی جاتی تھی۔ اس لیے اب وہ ان کو سولی پر لٹکانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیریں خاک میں ملا دی۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو ان سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا جب یہودی حضرت کو سولی کے لیے پکڑنے آئے تو جس آدمی کو اندر بھیجا اللہ نے اس کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ہمشل بنا دیا اور ان کو اوپر اٹھا لیا۔ چناچہ یہودیوں نے اسی شخص کو مسیح سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 ۔ اور بنی اسرائیل کے ان لوگوں نے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخالف اور ان کی نبوت کے منکر تھے ایک چال چلی اور خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بھی ان کو شکست دینے کی غرض سے ایک چال چلا اور ان کے جواب میں اس نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ تمام تدبیر کرنیوالوں میں بہتر اور عمدہ تدبیر کرنے والا ہے ( تیسیر) مخالفوں کی تدبیر یہ تھی کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرایا اور سولی پر چڑھانے کا سامان کیا اور یہ چاہا کہ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہلاک کردیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ کہ ان کو مع الخیر آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے مخالفوں میں سے ایک شخص کو ان کی ہم شکل اور ان کا مشابہ کردیا جس کو انہوں نے سولی پر چڑھا دیا ۔ اور ان کو اس تبدیلی کی خبر بھی نہیں ہوئی اسی کو فرمایا اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرینوالا ہے کیونکہ اس کی چال اور اس کی تدبیر سب کی تدبیر اور چالوں پر غالب ہوتی ہے۔ مکر کسی شخص کو حیلہ بہانہ سے ایسی چیز کی طرف کھینچ لانا جو اس کو نقصاندہ ہو ۔ راغب نے کہا کسی شخص کو حیلہ بہانہ سے اس کے مقصد اور ارادے سے پھیر دینا، یہ مکر کسی اچھی غرض کے لئے کیا جائے تو محمود ہے اور کسی برے مقصد کیلئے کیا جائے تو مذموم ہے۔ جیسے سورة فاطر میں فرمایا ولا یحیق المکرالسیئی الا باھلہ عام طریقہ سے قرآن میں مکر اور کیہ کفار کی ان سازشوں پر بولا گیا ہے جو وہ اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف کیا کرتے تھے۔ عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ جن عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو آمادہ کرنی کی چال چلی ان کی چال کو بھی مکر فرمایا ہے۔ حضرت حق جل مجدہٗ کافروں کی سازشوں کو نا کام کردیا ہے اس لئے اس کی جانب بھی مکر اور کید کی نسبت جواباً اور جزاء کردی جاتی ہے نیز اس لئے کہ ان کا مکر محمود ہے کیونکہ ان کا مکر انبیاء کی حمایت و حفاظت اور کفار کو نا کام کرنے کے لئے ہوتا ہے اور چونکہ ان کی گرفت اچانک اور بےسامان و گمان ہوتی ہے اور ان کو پکڑنے مجرم فرار نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے خیر الماکرین فرمایا یعنی ان کا مکر نہایت قوی نہایت مضبوط اور نہایت خفیہ ہوتا ہے ۔ اور یہ بالکل ایسا ہی محاور ہ ہے جیسے کوئی بادشاہ باغیوں پر قابو پانے کے بعد کہتا ہے کہ تم لوگ تو میری سلطنت کا تختہ الٹنے کی ترکیب اور ترتب کر ہی رہے تھے مگر میں نے ایسا دائو کیا کہ تم سب کو گرفتار کرلیا ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تمہاری سازش اور تمہاری تدبیر کو اپنی سازش اور تدبیر سے خاک میں ملا دیا ہم پہلے پارے میں بھی اس بحث کو تفصیلاً عرض کرچکے ہیں آگے بھی اکثر مقامات پر یہ چیزیں آئیں گی۔ مثلاً یحذعون اللہ وھو خادعھم نسو اللہ فنیھم وغیرہ یہ تمام افعال محض مقابلۃ حضرت حق کی طرف نسبت کئے جاتے ہیں ۔ آیت زیر بحث میں بھی یہی شان ہے کہ مسیح کے مخالفوں نے حکومت میں ان کی غلط سلط شکایتیں کر کے ایک یہودی بادشاہ سے ان کی سولی کا حکم حاصل کرلیا اور ان کو ایک مکان میں محصور کردیا ۔ جب سولی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک شخص جس کا نام طیطانوس تھا وہ ان کو ہم شکل کردیا گیا ۔ لوگ اس کو پکڑ لائے اور اس کی چیخ و پکار پر توجہ نہ کی اور اس کی سولی پر چڑھا دیا اور اس کے ساتھ ہر قسم کا سفا کانہ برتائو کیا اور سب کچھ کرنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ صلیب زدہ اگر عیسیٰ تھا تو طیطانوس کہاں ہے اور اگر صلیب زدہ طیطیانوس تھا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں گئے پھر اس کے بعد مختلف روایتیں بنی اسرائیل میں مشہور ہوگئیں ۔ قرآن نے ان سب غلط واقعات کا رد کردیا اور جو صحیح چیز تھی وہ ظاہر کردی اور یہ بتادیا کہ یہود کے تمام منصوبے خاک میں ملا دیئے گئے ، نہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرسکے اور نہ صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کار گر ہوئی کہ وہ ان کو صحیح سلامت اپنی حفاظت میں لے گیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہود کے عالموں نے اس وقت کے بادشاہ کو بہکایا کہ یہ شخص ملحد ہے توریت کے حکم سے خلاف بتاتا ہے ۔ اس نے لوگ بھیجے کہ ان کو پکڑ لاویں ۔ جب وہ پہنچے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کییار سرک گئے ۔ اس شنابی میں حضرت حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور ایک صورت ان کی رہ گئی اسکو پکڑ لائے پھر سولی پر چڑھایا۔ ( موضح القرآن) اس واقعہ کی زیادہ تفصیل تو انشاء اللہ چھٹے پارے میں آئے گی ۔ یہاں صرف ان پیشین گوئیوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس رات ان کو بتائیں جس رات بعض ان کے معتمد لوگوں نے ان کو گرفتار کرایا اور حکومت کے مقابلے میں بزولی کا ثبوت دیا اور معمولی سے نفع پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ بتادیا ۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اپنوں نے اس قسم کی بیوائی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا ، چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)