Commentary In these verses the miraculous event of the Ascension of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus Christ) has been mentioned. |"And they made a move|" refers to the evil designs of the Jews who planned to arrest him and to get him crucified. The next sentence i.e. |"and Allah made a move|" refers to the plan designed by Allah Almighty to save his prophet ` Isa (علیہ السلام) from their ill designs. They sent one of them to Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to arrest him and Allah changed his face totally and made him resemble Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and raised Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to heavens, while that person was crucified under the mistaken identity. How Allah had planned to save ` Isa (علیہ السلام) from their clutches was disclosed to him when his enemies came to arrest him. The details of these disclosures have been men¬tioned in verse 55. Explanation of important words in the verse Some sects which deny, contrary to the belief of the entire Muslim community, the Ascension of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus Christ), his being alive in the heavens and his descension towards the later times, have worked through the words and meanings of these verses to open doors of distortion in the Qur&anic text. Therefore, it seems appropriate that these words be explained in some details. Let us begin with وَاللَّـهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ translated as and Allah is the best of those who make moves&. The word, مکر makr in Arabic denotes a subtle and secret move or plan. If this is for a good purpose, it is good; and if this is for a bad purpose, it is bad. It was why the restriction of saiyy سِّٰی : evil) was placed with مکر makr (: move, plan) in: وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا (And evil plan besets none but its perpetrator - 35:43). The Qur&anic word, مکر makr, is used exclusively for conspiracy, evil plan and strategy in the everyday idiom of the Urdu language (in which this commentary was originally written), therefore, it should not be equated with the Arabic usage. This is the reason why Allah has been called: خَيْرُ الْمَاكِرِينَ &Khair al-Makirin& here. The verse means that the Jews started making a series of conspira¬cies and secret schemes against Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) going to the limit of convincing the ruler of the time that he was a heretic (God forbid) all bent upon changing the Torah and was going to make apostates of everybody. The ruler ordered the arrest of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . While this was the scene on one side, the subtle and secret move made by Allah Almighty was countering their evil plans more effectively, which has been mentioned in the verses coming next.
خلاصہ تفسیر اور ان لوگوں نے ( جو کہ بنی اسرائیل میں سے آپ کے منکر نبوت تھے آپ کو ہلاک کرنے اور ایذا پہنچانے کے لئے) خفیہ تدبیر کی ( چناچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہوئے) اور اللہ تعالیٰ نے ( آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے) خفیہ تدبیر فرمائی ( جس کی حقیقت کا ان لوگوں کو بھی پتہ نہ لگا، کیونکہ انہیں مخالفین میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل پر بنادیا، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا جس سے وہ محفوظ رہے، اور وہ ہمشکل سولی دیا گیا، ان لوگوں کو اس تدبیر کا علم تک بھی نہ ہوسکا اور دفع پر تو کیا قدرت ہوتی) اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں ( کیونکہ اوروں کی تدبیریں ضعیف ہوتی ہیں، اور کبھی قبیح اور بےموقع بھی ہوتی ہیں، اور حق تعالیٰ کی تدبیریں قوی بھی ہوتی ہیں اور ہمیشہ خیر محض اور موافق حکمت کے ہوتی ہیں، اور وہ تدبیر اللہ تعالیٰ نے اس وقت فرمائی) جبکہ اللہ تعالیٰ نے (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جبکہ وہ گرفتاری کے وقت متردد اور پریشان ہوئے) فرمایا اے عیسیٰ ( کچھ غم نہ کرو) بیشک میں آپ کو (اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے) وفات دینے والا ہوں ( پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدر ہے تو ظاہر ہے کہ ان دشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہو گے) اور (فی الحال) میں تم کو اپنے ( عالم بالا کی) طرف اٹھائے لیتا ہوں، اور تم کو ان لوگوں (کی تہمت) سے پاک کرنے والا ہوں جو (تمہارے) منکر ہیں اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ ( تمہارے) منکر ہیں روز قیامت تک ( گو اس وقت یہ منکرین غلبہ اور قدرت رکھتے ہیں) پھر (جب قیامت آجائے گی اس وقت) میری طرف ہوگی، سب کی واپسی ( دنیا و برزخ سے) سو میں ( اس وقت) تمہارے ( سب کے) درمیان (عملی) فیصلہ کردوں گا ان امور میں جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے کہ ( منجملہ ان امور کے مقدمہ ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کا) ۔ آیت کے اہم الفاظ کی تشریح : اس آیت کے الفاظ و معانی میں بعض فرقوں نے تحریفات کا دروازہ کھولا ہے جو تمام امت کے خلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات اور آخر زمانہ میں نزول کے منکر ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان الفاظ کی تشریح و ضاحت کے ساتھ کردی جائے۔ (واللہ خیر الماکرین) لفظ |" مکر |" عربی زبان میں لطیف و خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں، اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو تو اچھا ہے، اور برائی کے لئے ہو تو برا ہے، اسی لئے ولا یحیق المنکر السیء (٣٥: ٤٣) میں مکر کے ساتھ |" سیء |" کی قید لگائی، اردو زبان کے محاورات میں مکر صرف سازش اور بری تدبیر اور حیلہ کے لئے بولا جاتا ہے، اس سے عربی محاورات پر شبہ نہ کیا جائے، اسی لئے یہاں خدا کو |" خیر الماکرین |" کہا گیا، مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کردیں، حتی کہ بادشاہ کے کان بھر دیئے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے، تورات کو بدلنا چاہتا ہے، سب کو بد دین بنا کر چھوڑے گا، اس نے مسیح (علیہ السلام) کی گرفتاری کا حکم دیدیا، ادھر یہ ہورہا تھا، اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی جس کا ذکر اگلی آیات میں ہے۔ ( تفسیر عثمانی)