Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 64

سورة آل عمران

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾

Say, "O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you - that we will not worship except Allah and not associate anything with Him and not take one another as lords instead of Allah ." But if they turn away, then say, "Bear witness that we are Muslims [submitting to Him]."

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں ، نہ اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں ، پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Every Person Knows about Tawhid This Ayah includes the People of the Book, the Jews and Christians, and those who follow their ways. قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ ... Say: "O people of the Scripture! Come to a word." `Word' - in Arabic - also means a complete sentence, as evident from this Ayah. Allah described this word as being one, ... سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ... that is the same between us and you, an honest and righteous word that is fair to both parties. Allah then explained this word, ... أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْيًا ... that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him, we worship neither a statue, cross, idol, Taghut (false gods), fire or anything else. Rather, we worship Allah Alone without partners, and this is the message of all of Allah's Messengers. Allah said, وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ And We did not send any Messenger before you but We revealed to him (saying): "None has the right to be worshipped but I (Allah), so worship Me (Alone and none else)." (21:25) and, وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ And verily, We have sent among every Ummah a Messenger (proclaiming): "Worship Allah (Alone), and avoid (or keep away from) Taghut (all false deities)." (16:36) Allah said next, ... وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ ... "and that none of us shall take others as lords besides Allah." Ibn Jurayj commented, "We do not obey each other in disobedience to Allah." ... فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ Then, if they turn away, say: "Bear witness that we are Muslims." if they abandon this fair call, then let them know that you will remain in Islam as Allah has legislated for you. We should mention that the letter that the Prophet sent to Heraclius reads, "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Heraclius, Leader of the Romans: peace be upon those who follow the true guidance. Embrace Islam and you will acquire safety, embrace Islam and Allah will grant you a double reward. However, if you turn away from it, then you will carry the burden of the peasants, and, قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ ... فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ "O people of the Scripture: Come to a word that is the same between us and you, that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him, and that none of us shall take others as lords besides Allah." Then, if they turn away, say: "Bear witness that we are Muslims."" (3:64) Muhammad bin Ishaq and other scholars said that; the beginning of Surah Al Imran, and more than eighty verses thereafter; were revealed about the delegation of Najran. Az-Zuhri stated that; the people of Najran were the first people to pay the Jizyah (tax money paid to the Muslim State). However, there is no disagreement that the Ayah that ordained the Jizyah (9:29) was revealed after the Fath (conquering Makkah, and therefore, after the delegation of Najran came to Al-Madinah). So, how can this Ayah (3:64) be contained in the Prophet's letter to Heraclius before the victory of Makkah, and how can we harmonize between the statements of Muhammad bin Ishaq and Az-Zuhri The answer is that the delegation of Najran came before Al-Hudaybiyyah (before the victory of Makkah), and what they paid was in lieu of the Mubahalah; not as Jizyah. The Ayah about the Jizyah was later revealed, and its ruling supported what occurred with the Najran people. In support of this opinion, we should mention that in another instance, the ruling on dividing the booty into one - fifth (for the Prophet) and four-fifths (for the fighters) agreed with the practice of Abdullah bin Jahsh during the raid that he led before Badr. An Ayah later on upheld the way Abdullah divided the booty. Therefore, it is possible that the Prophet wrote this statement (Say, "O People of the Scripture. ..") in his letter to Heraclius before the Ayah was revealed. Later on, the Qur'an agreed with the Prophet's statement, word by word. It is also a fact that the Qur'an was revealed in agreement with what Umar said regarding the captured disbelievers at Badr, the Hijab (Muslim woman code of dress), refraining from performing prayer for the hypocrites, and regarding his statements: وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَهِيمَ مُصَلًّى And take you the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer. (2:125) and, عَسَى رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَجاً خَيْراً مِّنكُنَّ It may be if he divorced you (all) that his Lord will give him instead of you, wives better than you. (66:5)

یہودیوں اور نصرانیوں سے خطاب یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے ، کلمہ کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے ، جیسے یہاں کلمہ کہہ کر پھر سوآء الخ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے ۔ سواء کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں ، پھر اس کی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایک اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی بت کو نہ پوجیں صلیب ، تصویر ، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نہ آگ کو نہ اور کسی چیز کو بلکہ تنہا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں ، یہی عبادت تمام انبیاء کرام کی تھی ، جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) 21 ۔ الانبیآء:25 ) یعنی تجھ سے پہلے جس جس رسول کو ہم نے بھیجا سب کی طرف یہی وحی کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کیا کرو اور جگہ ارشاد ہے آیت ( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) 16 ۔ النحل:36 ) یعنی ہر امت میں رسول بھیج کر ہم نے یہ اعلان کروایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا سب سے بچو ۔ پھر فرماتا ہے کہ آپس میں بھی ہم اللہ جل جلالہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب بنائیں ، ابن جریج فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ایک دوسرے کی اطاعت نہ کریں ۔ عکرمہ فرماتے ہیں کسی کو سوائے اللہ تعالیٰ کے سجدہ نہ کریں ، پھر اگر یہ لوگ اس حق اور عدل دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو انہیں تم اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لو ، ہم نے بخاری کی شرح میں اس واقعہ کا مفصل ذکر کر دیا ہے جس میں ہے کہ ابو سفیان جبکہ دربار قیصر میں بلوائے گئے اور شاہ قیصر روم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کا حال پوچھا تو انہیں کافر اور دشمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے باوجود آپ کی خاندانی شرافت کا اقرار کرنا پڑا اور اسی طرح ہر سوال کا صاف اور سچا جواب دینا پڑا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے اسی باعث قیصر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) بدعہدی کرتے ہیں؟ ابو سفیان نے کہا نہیں کرتے لیکن اب ایک معاہدہ ہمارا ان سے ہوا ہے نہیں معلوم اس میں وہ کیا کریں؟ یہاں صرف یہ مقصد ہے کہ ان تمام باتوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پیش کیا جاتا ہے جس میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ خط محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو اللہ کے رسول ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہرقل کی طرف جو روم کا شاہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام ہو اسے جو ہدایت کا تابعدار ہو اس کے بعد اسلام قبول کر سلامت رہے گا ، اسلام قبول کر اللہ تعالیٰ تجھے دوہرا اجر دے گا اور اگر تو نے منہ موڑا تو تمام رئیسوں کے گناہوں کا بوجھ تجھ پر پڑے گا پھر یہی آیت لکھی تھی ، امام محمد بن اسحاق وغیرہ نے لکھا ہے کہ اس سورت یعنی سورۃ آل عمران کو شروع سے لے کر اننی سے کچھ اوپر تک آیتیں وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، امام زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی لوگوں نے ادا کیا ہے اور اس بات میں بھی مطلقاً اختلاف نہیں ہے کہ آیت جزیہ فتح مکہ کے بعد اتری ہے پس یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے تو پھر فتح سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں ہرقل کو یہ آیت کیسے لکھی؟ اس کے جواب کئی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ ممکن ہے یہ آیت دو مرتبہ اتری ہو اول حدیبیہ سے پہلے اور فتح مکہ کے بعد ، دوسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے شروع سورت سے لے کر اس آیت تک وفد نجران کے بارے میں اتری ہو یا یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی ہو اس صورت میں ابن اسحاق کا یہ فرمانا کہ اسی کے اوپر کی کچھ آیتیں اسی وفد کے بارے میں اتری ہیں یہ محفوظ نہ ہو کیونکہ ابو سفیان والا واقعہ سراسر اس کے خلاف ہے ، تیسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے وفد نجران حدیبیہ سے پہلے آیا ہو اور انہوں نے جو کچھ دینا منظور کیا ہو یہ صرف مباہلہ سے بچنے کے لئے بطور مصالحت کے ہو نہ کہ جزیہ دیا ہو اور یہ اتفاق کی بات ہو کہ آیت جزیہ اس واقعہ کے بعد اتری جس سے اس کا اتفاقاً الحاق ہو گیا ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدر سے پہلے غزوے کے مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا اور پانچواں حصہ باقی رکھ کر دوسرے حصے لشکر میں تقسیم کر دیئے ، پھر اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کی آیتیں بھی اسی کے مطابق اتریں اور یہی حکم ہوا ۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خط میں جو ہرقل کو بھیجا اس میں یہ بات اسی طرح بطور خود لکھی ہو پھر آنحضرت کے الفاظ ہی میں وحی نازل ہوئی ہو جیسے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پردے کے حکم کے بارے میں اسی طرح آیت اتری ، اور بدوی قیدیوں کے بارے میں انہی کے ہم خیال فرمان باری نازل ہوا اسی طرح منافقوں کا جنازہ پڑھنے کی بابت بھی انہی کی بات قائم رکھی گئی ، چنانچہ مقام ابراہیم کے مصلے بنانے سے متعلق بھی اسی طرح وحی نازل ہوئی اور آیت ( عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰۗىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰۗىِٕحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا ) 66 ۔ التحریم:5 ) بھی انہی کے خیال سے متعلق آیت اتری ، پس یہ آیت بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہی اتری ہو ، یہ بہت ممکن ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

64۔ 1 کسی بت نہ صلیب کو نہ آگ اور نہ کسی چیز کو بلکہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جیسا کہ تمام انبیاء کی دعوت رہی ہے۔ 64۔ 2 یہ ایک تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم نے حضرت مسیح اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کی ربوبیت (رب ہونے) کا جو عقیدہ کھڑا کر رکھا ہے یہ غلط ہے وہ رب نہیں ہیں انسان ہیں دوسرا اس بات کی طرف اشارہ ہے تم نے اپنے احبارو رہبان کو حلال یا حرام کرنے کا جو اختیار دے رکھا ہے یہ بھی ان کو رب بنانا ہے حلال اور حرام کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے (ابن کثیر و فتح القدیر) 64۔ 3 صحیح بخاری میں ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرقل شاہ روم کو مکتوب تحریر فرمایا اور اس میں اسے اس آیت کے حوالے سے قبول اسلام کی دعوت دی اسے کہا تو مسلمان ہوجائے گا تو تجھے دوہرا اجر ملے گا ورنہ ساری رعایا کا گناہ تجھ پر ہوگا اسلام قبول کرلے سلامتی میں رہے گا کیونکہ رعایا کا عدم قبول اسلام کا سبب تو ہی ہوگا۔ اس آیت مذکورہ میں تین نکات 1۔ صرف اللہ کی عبادت کرنا۔ 2 اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ 3 اور کسی کو شریعت سازی کا خدائی مقام نہ دینا۔ لہذا اس امت کے شیرازہ کو جمع کرنے کے لئے بھی ان تینوں نکات اور اس کلمہ سواء کو بدرجہ اولیٰ اساس و بنیاد بنانا چاہیے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٧] صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف شاہان عجم کی طرف اسلامی دعوت کے خطوط بھیجے۔ جو خط ہرقل شاہ روم کو بھیجا گیا۔ اس میں اسلام کی طرف دعوت کے بعد یہی آیت درج تھی۔ ان دنوں ابو سفیان اپنے چند ساتھیوں سمیت شام گیا ہوا تھا۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہرقل نے دربار میں بلا کر پیغمبر اسلام کے متعلق بہت سے سوال و جواب کئے۔ تاآنکہ اسے پیغمبر اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا۔ پھر اس نے روسائے مملکت کو ایک بند کمرے میں بلا کر کہا کہ اگر مسلمان ہوجاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمہارے ہی پاس رہے گا مگر وہ لوگ اس دعوت پر تلملا اٹھے اور باہر بھاگنا چاہا۔ ہرقل نے انہیں دوبارہ بلا کر کہا میں صرف تمہاری آزمائش کر رہا تھا کہ تم اپنے دین میں کتنے پختہ ہو۔ چناچہ انہوں نے ہرقل کو سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے۔ (طویل حدیث کا خلاصہ) (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت ( یاھل الکتاب تعالوا) مندرجہ بالا حدیث میں جن سوالات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک سوال ہرقل نے یہ بھی کیا تھا کہ آیا & تمہارے اور اس نبی کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ؟ تو اس کا جواب ابو سفیان نے یہ دیا کہ ہاں ہوئی۔ پھر ہرقل نے پوچھا، اس جنگ کا نتیجہ کیا رہا ؟ تو ابو سفیان نے جواب دیا کہ : الحرب سجال یعنی لڑائی تو ڈولوں کی طرح ہے کبھی ایک فریق کی فتح کبھی دوسرے کی اور یہی وہ جملہ ہے جو ابو سفیان نے جنگ احد کے اختتام پر کہا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ نیز اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ہرقل بالکل صحیح نتیجہ پر پہنچ گیا تھا۔ مگر اس کے درباریوں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ گئی اور اتنی جرات ایمانی اس میں نہ تھی کہ وہ سلطنت کو چھوڑ کر مسلمان ہوجاتا، اور یہی نتیجہ جس پر ہرقل پہنچا تھا۔ کلمۃ سواء ہے جس کا اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے اور یہ ہر الہامی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ بعد میں لوگ اس کلمۃ سواء یا کلمہ توحید میں کئی طرح کی آمیزش کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ عیسائیوں نے بعد میں الوہیت مسیح اور عقیدہ تثلیث وغیرہ ایجاد کرلیے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ ۔۔ : اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے : 1 اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔ 2 اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ 3 اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے۔ تورات و انجیل میں تحریف کے باوجود تورات تو اب بھی توحید سے اور شرک کی ممانعت سے لبریز ہے، انجیل میں بھی یہی تعلیم متفرق طور پر موجود ہے، جیسے : ” تو خداوند خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر۔ “ [ متٰی : ٤ : ١٠ ] بلکہ یہ بھی ہے : ” زمین پر اللہ کے احکام پر عمل ہونا چاہیے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ “ [ متیٰ : ٦ : ١٠ ] اہل کتاب تینوں باتوں کی مخالفت کر رہے تھے، یہود نے عزیر کو اور نصاریٰ نے مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر ان کی پرستش شروع کردی اور دونوں نے اپنے اپنے احبارو رہبان کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ کو حرام ٹھہرا کر انھیں رب ہونے کا درجہ دے دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (٣٠، ٣١) اور ان کے حواشی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی دعوت دی، جو قریب تھے انھیں براہ راست دعوت دی اور جو دور تھے انھیں خط لکھے، چناچہ شاہ روم ہرقل کو خط لکھا تو اسلام کی دعوت دینے کے ساتھ زیر تفسیر آیت بھی لکھی، جیسا کہ صحیح بخاری ” کتاب التفسیر (٤٥٥٣) “ میں مذکور ہے۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ : یعنی اگر اہل کتاب اس عقیدہ کے ماننے سے انحراف کریں تو تم اپنی طرف سے اس عقیدہ پر قائم رہنے کا اعلان کر دو ۔ اس میں متنبہ کیا ہے کہ اہل کتاب اس عقیدہ سے منحرف ہوچکے ہیں، کیونکہ انھوں نے عزیر اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کے بیٹے قرار دے دیا تھا۔ علاوہ ازیں انھوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary: Important Principles of Tabligh and Da&wah: This verse: تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ unfolds an important principle of Tabligh تبلیغ (Preaching) and Da&wah دعوہ (Preaching Islam). The principle requires that a person, who desires to carry his call to a group which holds beliefs and ideas different from his own, should follow a particu¬lar method. That method is to induce that group to unite only on what they both can agree to, for instance, when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave the Byzantine ruler, Hiraql (Heraclius) the call to Islam, he picked up a particular point on which there was mutual agreement, i.e., on the Oneness of Allah Almighty. That invitation is reproduced below: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، مِن محمد عبداللہ ورسولہ الی ھرقل عظیم الروم، سلام علی من اتبع الھدی، اما بعد فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام ، اسلم ِ تسلم یؤتک اللہ اجرک مرتین فان علیک اثم الیریسین، لْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِ‌كَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْ‌بَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ (البخاری) I begin with the name of Allah who is All-Merciful, Very-Merciful. From Muhammad, servant of Allah, and His messen¬ger: To Heraclius, the Byzantine emperor. Peace be on him who takes the right path. After that, I invite you to the call of Islam. Embrace Islam and be in peace. Allah will bestow upon you a twofold reward, but should you turn away, then, on you shall be the sin of your subjects. |"0 people of the Book, come to a word common between us and you that we worship none but Allah, that we associate nothing with Him and that some of us do not take some others as Lord instead of Allah.|" (Al-Bukhari) The statement, &you be witness...& in the last sentence of the verse teaches us a lesson, that is, should someone refuse to accept the truth, even after it has been proved clearly, then the proper course is to re-state one&s own belief and conclude the conversation. Entering into fur-ther debate and verbal altercation is not appropriate.

خلاصہ تفسیر : ( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرمادیجیے کہ اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان (مسلم ہونے میں) برابر ہے (وہ) یہ (ہے) کہ بجز اللہ تعالیٰ کے ہم کسی اور کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو رب قرار نہ دے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پھر اگر ( اس کے بعد بھی) وہ لوگ (حق سے) اعراض کریں تو تم ( مسلمان) لوگ کہہ دو کہ تم (ہمارے) اس (اقرار) کے گواہ رہو کہ ہم تو (اس بات کے) ماننے والے ہیں ( اگر تم نہ مانو تو تم جانو) ۔ معارف و مسائل : تبلیغ و دعوت کے اہم اصول : (تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم) اس آیت سے تبلیغ و دعوت کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جماعت کو دعوت دینے کا خواہش مند ہو جو عقائد و نظریات میں اس سے مختلف ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ مخالف العقیدہ جماعت کو صرف اسی چیز پر جمع ہونے کی دعوت دی جائے جس پر دونوں کا اتفاق ہوسکتا ہو، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب روم کے بادشاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دی تو ایسے مسئلہ کی طرف دی جس پر دونوں کا اتفاق تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر، وہ دعوت نامہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، من محمد عبداللہ و رسولہ الی ھرقل عظیم الروم، سلام علی من اتبع الھدی، اما بعد ! فانی ادعوک بدعایۃ الاسلام اسلم تسلم یوتک اللہ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الیریسین، یاھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ (بخاری) |" میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی جانب سے، روم کے بادشاہ ہرقل کی جانب ہے۔ سلامتی ہو اس شخص کے لئے جو راہ ہدایت کی پیروی کرے بعد اس کے میں تجھے اسلام کے بلاوے کی طرف دعوت دیتا ہوں، اسلام لا تو سلمات رہے گا، اور اللہ تعالیٰ تجھ کو دوہرا اجر دے گا، اور اگر تو اعراض کرے گا تو تجھ پر ان سب کسانوں کا وبال ہوگا جو تیری رعایا ہیں، اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات پر آکر جمع ہوجاؤ جو ہم اور تم دونوں میں برابر ہے، یہ کہ ہم سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ شریک کریں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں اپنوں کو رب بنائیں۔ (فقولو اشھدوا بانا مسلمون) اس آیت میں جو یہ کہا گیا کہ تم گواہ رہو، اس سے تعلیم دی گئی ہے کہ جب دلائل واضح ہونے کے بعد بھی کوئی حق کو نہ مانے تو اتمام حجت کے لئے اپنا مسلک ظاہر کر کے کلام ختم کردینا چاہئے، مزید بحث و تکرار کرنا مناسب نہیں ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَۃٍ سَوَاۗءٍؚبَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ وَلَا نُشْرِكَ بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝ ٠ ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۝ ٦٤ تَعالَ قيل : أصله أن يدعی الإنسان إلى مکان مرتفع، ثم جعل للدّعاء إلى كلّ مکان، قال بعضهم : أصله من العلوّ ، وهو ارتفاع المنزلة، فكأنه دعا إلى ما فيه رفعة، کقولک : افعل کذا غير صاغر تشریفا للمقول له . وعلی ذلک قال : فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا[ آل عمران/ 61] ، تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ [ آل عمران/ 64] ، تَعالَوْا إِلى ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ النساء/ 61] ، أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] ، تَعالَوْا أَتْلُ [ الأنعام/ 151] . وتَعَلَّى: ذهب صعدا . يقال : عَلَيْتُهُ فتَعَلَّى تعالٰی ۔ اس کے اصل معنی کسی کو بلند جگہ کی طرف بلانے کے ہیں پھر عام بلانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے بعض کہتے ہیں کہ کہ یہ اصل میں علو ہے جس کے معنی بلند مر تبہ کے ہیں لہذا جب کوئی شخص دوسرے کو تعال کہہ کر بلاتا ہے تو گویا وہ کسی رفعت کے حصول کی طرف وعورت دیتا ہے جیسا کہ مخاطب کا شرف ظاہر کرنے کے لئے افعل کذا غیر صاغر کہا جاتا ہے چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا[ آل عمران/ 61] تو ان سے کہنا کہ آ ؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں ۔ تَعالَوْا إِلى كَلِمَةٍ [ آل عمران/ 64] تعالو ا الیٰ کلمۃ ( جو ) بات ( یکساں تسلیم کی گئی ہے اس کی ) طرف آؤ تَعالَوْا إِلى ما أَنْزَلَ اللَّهُ [ النساء/ 61] جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف رجوع کرو ) اور آؤ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] مجھ سے سر کشی نہ کرو ۔ تَعالَوْا أَتْلُ [ الأنعام/ 151] کہہ کہ ( لوگو) آؤ میں ( تمہیں ) پڑھ کر سناؤں ۔ تعلیٰ بلندی پر چڑھا گیا ۔ دور چلا گیا ۔ کہا جاتا ہے علیتہ متعلٰی میں نے اسے بلند کیا ۔ چناچہ وہ بلند ہوگیا إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ سواء ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال : فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] ، ( س و ی ) المسا واۃ مکان سوی وسواء کے معنی وسط کے ہیں اور سواء وسوی وسوی اسے کہا جاتا ہے جس کی نسبت دونوں طرف مساوی ہوں اور یہ یعنی سواء وصف بن کر بھی استعمال ہوتا ہے اور ظرف بھی لیکن اصل میں یہ مصدر ہے قرآن میں ہے ۔ فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] تو اس کو ) وسط دوزخ میں ۔ وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] تو وہ ) سیدھے راستے سے ۔ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] تو ان کا عہد ) انہیں کی طرف پھینک دو اور برابر کا جواب دو ۔ تو یہاں علی سواء سے عاولا نہ حکم مراد ہے جیسے فرمایا : ۔ إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] اے اہل کتاب ) جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں ( تسلیم کی گئی ) ہے اس کی طرف آؤ ۔ اور آیات : ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگوں ان کے حق میں برابر ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ بعض بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] ( ب ع ض ) بعض الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

اطاعت نبی دراصل اطاعت الٰہی ہے قول باری ہے (قل یا اھل الکتاب تعالوالی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ، کہو اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں ہے دہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں) تاآخر آیت قول باری (کلمۃ سوآء) سے مراد ۔ واللہ علم ہمارے اور تمھارے درمیان انصاف کی بات جس میں ہم سب یکساں ہیں کیونکہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر خودہی ان الفاظ میں بیان کی (الانعبدالا اللہ ولانشرک بہ ولایتخذبعضنا بعضا اربابا حن دون اللہ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اللہ کو چھوڑکرہم ایک دوسرے کو اپنارب نہ بنالیں) یہی وہ کلمہ ہے جس کی صحت کی عقول انسانی گواہی دیتی ہیں۔ کیونکہ تمام انسان اللہ کے بندے ہیں ان میں سے بعض کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں سے اپنی عبادت کرواتیں اور ان پر اللہ کی طاعت کے سوا اور کسی ذات کی طاعت واجب نہیں الا یہ کہ اللہ کی طاعت میں کسی اور کی طاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طاعت کو اس شرط کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ کہ وہ معروف میں ہو۔ منکر میں نہ ہو۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معروف ہی کا حکم دیں گے لیکن اس کے باوجود درج بالا شرط اس لیے عائد کردی تاکہ کسی کے لیے یہ گنجائش پیدانہ ہوسکے کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی پر اپنی ذات کی طاعت لازم کردے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں سے بعیت لینے کے سلسلے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (ولایعصینک فی معروف فبایعھن، اور یہ عورتیں کسی معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں تو ان سے بیعت لے لو) اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معروف کے اندرجس کا آپ حکم کریں نافرمانی نہ کرنے کی شرط عائد کردی۔ یہ شرط تاکید کے طورپرلگائی گئی ہے تاکہ کسی پر غیر اللہ کی طاعت لازم نہ آئے سوائے اس صورت کے جس میں اللہ کی طرف سے کسی کو ایسا کرنے کا حکم دیاگیا ہو اور جو اللہ ہی کی طاعت کی ایک شکل ہو۔ غیر اللہ رب نہیں ہوسکتے قول باری ہے (ولایتخذبعضنابعضا اربابا من دون اللہ) یعنی کسی چیز کی تحلیل یاتحریم میں کوئی کسی کی پیروی نہ کرے صرف اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حلال اور حرام کردہ چیز کو حرام تسلیم کیا جائے اس کی نظیر یہ قول باری ہے (اتخذوا احیارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح بن مریم، انہوں نے اللہ کو چھوڑکر اپنے احبار و رہبان یعنی علماء اور درویشوں اور مسیح ابن مریم کو اپنارب بنالیا ہے) عبدالسلام بن حرب نے عطیف ابن اعین سے انہوں نے مصعب بن سعد سے انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے۔ عدی (رض) کہتے ہیں کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا۔ اس وقت میرے گلے میں سونے کی صلیت لٹک رہی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اس بت کو اپنے گلے سے اتارپھینکو۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ) میں نے عرض کیا کہ ہم ان کی پرستش نہیں کرتے تھے پھر آیت میں یہ بات کیوں کہی گئی ؟ اس پر آپ نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کہ یہ علماء اور ورویش اللہ کی حرام کردہ باتوں کو ان کے لیئے حلال کردیتے اور یہ انہیں حلال سمجھ لیتے اسی طرح اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو یہ ان کے لیے حرام قراردیتے اور پھر یہ انہیں حرام سمجھ لیتے ؟ یہی ان کی طاعت اور عبادت کا مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی یہ بری بات کہ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اپنارب بنالیا تھا۔ اس لیے بیان کی کہ ان لوگوں نے انہیں اس لحاظ سے اپنے رب اور خالق کا درجہ دے رکھا تھا کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال یا حرام قرار نہیں دیا تھا۔ ان کی تحلیل وتحریم کے سلسلے میں اس کی اطاعت کی جائے۔ تمام کے تمام مکلف بندے اللہ کی عبادت کے لزوم، اس کے حکم کی پیروی اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنے میں یکساں حکم رکھتے ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٤) اب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی ہے کہ کلمہ (آیت) ” لا الہ الا اللہ “ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان تسلیم شدہ ہے اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اپنا رب نہ بنائے، چناچہ انہوں نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اعراض اور توحید کے اقرار سے انکار کریں تو تم کہہ دو کہ تم لوگ اس بات پر گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی توحید کا اقرار کرنے والے ہیں، اب اللہ تعالیٰ ان نصاری کے مباحثہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آکر مباحثہ کرنے لگے کہ ہم دین ابراہیم پر مسلمان ہیں اور توریت کو ثبوت میں پیش کرنے لگے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

سورة آل عمران کے نصف اوّل کا تیسرا حصہ ٣٨ آیات (٦٤ تا ١٠١) پر مشتمل ہے اور یہ سورة البقرۃ کے نصفِ اوّل کے تیسرے حصے (رکوع ١٥ تا ١٨) سے بہت مشابہ ہے جن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ‘ بیت اللہ کا ذکر ‘ اہل کتاب کو دعوت ایمان اور تحویل قبلہ کا حکم ہے۔ کم و بیش وہی کیفیت یہاں ملتی ہے۔ فرمایا : آیت ٦٤ (قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍم بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ) یہاں اہل کتاب کے صیغۂ خطاب میں یہود و نصاریٰ دونوں کو جمع کرلیا گیا ‘ جبکہ سورة البقرۃ میں یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ کے صیغۂ خطاب میں زیادہ تر گفتگو یہود سے تھی۔ یہاں ابھی تک حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ تھا اور گویا صرف نصرانیوں سے خطاب تھا ‘ اب اہل کتاب دونوں کے دونوں مخاطب ہیں کہ ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے مابین یکساں مشترک اور متفق علیہ ہے۔ وہ کیا ہے ؟ (اَلاَّ نَعْبُدَ الاَّ اللّٰہَ ) (وَلاَ نُشْرِکَ بِہٖ شَیْءًا) (وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط) یہود و نصاریٰ نے اپنے احبارو رہبان کا یہ اختیار تسلیم کرلیا تھا کہ وہ جس چیز کو چاہیں حلال قرار دے دیں اور جس چیز کو چاہیں حرام ٹھہرا دیں۔ یہ گویا ان کو رب مان لینے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ سورة التوبۃ میں فرمایا گیا : (اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (آیت ٣١) ۔ مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے عدی بن حاتم (رض) (جو پہلے عیسائی تھے) ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قرآن کہتا ہے : انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا۔ حالانکہ ہم نے تو انہیں رب کا درجہ نہیں دیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (أَمَا اِنَّھُمْ لَمْ یَکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَھُمْ وَلٰکِنَّھُمْ اِذَا اَحَلُّوْا لَھُمْ شَیْءًا اسْتَحَلُّوْہُ وَاِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْھِمْ شَیْءًا حَرَّمُوْہُ ) (١) وہ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے ‘ لیکن جب وہ ان کے لیے کسی شے کو حلال قرار دیتے تو وہ اسے حلال مان لیتے اور جب وہ کسی شے کو حرام قرار دے دیتے تو وہ اسے حرام مان لیتے۔ چنانچہ حلت و حرمت کا اختیار صرف اللہ کا ہے ‘ اور جو کوئی اس حق کو اختیار کرتا ہے وہ گویا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اب یہ ساری قانون سازی جو شریعت کے خلاف کی جا رہی ہے یہ حقیقت کے اعتبار سے ان لوگوں کی جانب سے خدائی کا دعویٰ ہے جو ان قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں ‘ اور جو وہاں پہنچنے کے لیے بےتاب ہوتے ہیں اور اس کے لیے کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر تو پہلے سے یہ طے ہوجائے کہ کوئی قانون سازی کتاب و سنت کے منافی نہیں ہوسکتی تو پھر آپ جایئے اور وہاں جا کر قرآن و سنت کے دائرے کے اندر اندر قانون سازی کیجیے۔ لیکن اگر یہ تحدید نہیں ہے اور محض اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی ہو رہی ہے تو یہ شرک ہے۔ اہل کتاب سے کہا گیا کہ توحید ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک عقیدہ ہے۔ اس طرح انہیں غور و فکر کی دعوت دی گئی کہ وہ موازنہ کریں کہ اس قدر مشترک کے معیار پر اسلام پورا اترتا ہے یا یہودیت اور نصرانیت ؟ (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ) ۔ ہم نے تو اللہ کی اطاعت قبول کرلی ہے اور ہم متذکرہ بالا تینوں باتوں پر قائم رہیں گے۔ آپ کو اگر یہ پسند نہیں تو آپ کی مرضی !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

56. This marks the beginning of the third discourse of this surah. Its contents invite the conclusion that the surah was revealed sometime between the battles of Badr and Uhud. The subjects of these three discourses are so closely interrelated that some commentators have wrongly understood the verses which follow to be part of the foregoing discourse. From the whole tenor of the discourse which now begins, however, it is evident that it is addressed to the Jews. 57. The invitation here is for the two parties to agree on something believed in by one of them, the Muslims, and the soundness of which could hardly be denied by the other party, the Christians. For this was the belief of their own Prophets and had been taught in their own scriptures.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :56 یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کے درمیانی دور کی ہے ۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربط کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا ۔ اسی بنا پر بعض مفسرین کو شبہہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفد نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں ۔ مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا اندازہ صاف بتا رہا ہے کہ اس کے مخاطب یہودی ہیں ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :57 یعنی ایک ایسے عقیدے پر ہم سے اتفاق کرلو جس پر ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جس کے صحیح ہونے سے تم بھی انکار نہیں کر سکتے ۔ تمہارے اپنے انبیا سے یہی عقیدہ منقول ہے ۔ تمہاری اپنی کتب مقدسہ میں اس کی تعلیم موجود ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

یہ آیت انہی نجرانی لوگوں کے مباحثہ کے وقت نازل ہوئی ہے اور اس کے حکم میں سب اہل کتاب شریک ہیں سیدھی بات کی تفسیر وہی ہے جو خود آیت میں ہے کہ ہم تم سب مل کر سوا اللہ کے کسی کی عبادت نہ کریں کیوں کہ یہ ایسی سیدھی بات ہے کہ اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے انبیاء اس پر قائم رہے ہیں اس شریعت اعتقاد میں کبھی ایسا اختلاف نہیں پڑا جیسا تم لوگوں نے اہل کتاب ہو کر ڈال رکھا ہے پھر آخر کو فرمادیا کہ بات تو یہ سیدھی ہے اگر اہل کتاب ہو کر یہ لوگ اس کو نہ مانیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ تم ہمارے گواہ رہو کہ ہم تو حکم الٰہی کے تابع ہیں حاصل مطلب یہ ٹھہرا کہ اہل کتاب ہو کر تم لوگوں نے جو باتیں تراش رکھی ہیں وہ نوح (علیہ السلام) کی شریعت سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت تک کبھی نہیں تھیں اس لئے تم لوگ حکم الٰہی کے ہرگز تابع نہیں بلکہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس مسئلہ توحید کی تم لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں وہی مسئلہ سب شریعتوں میں ہے اور جو اس پر عمل کرے وہی حکم الٰہی کا تابع ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:64) کلمۃ سے یہاں مراد جملہ الا نعبد ۔۔ من دون اللہ ہے جو آیۃ شریفہ میں آگے چل کر مذکور ہے۔ سواء بیننا۔ اسم مصدر ہے۔ برابر۔ استواء یعنی دونوں طرف سے برابر ہونا۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ س پر اگر ھ ہو تو قصر ہوگا جیسے سوی (ولا انت مکانا سوی) اور اگر س پر ( َ ) ہوگا تو مدّ کے ساتھ آئے گا۔ جیسا کہ آیت ہذا میں۔ سواء بمعنی وسط کے بھی آیا ہے جیسے فی سواء الجحیم (37:55) دوزخ کے بیچوں بیچ۔ بمعنی تمام کے بھی آتا ہے جیسے فی اربعۃ ایام سواء للسائلین (41:10) چار دن میں سائلین کی ضرورت کے مطابق پوری پوری۔ کلمۃ سواء بیننا وبینکم۔ وہ بات جو ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے یعنی الا نعبد ۔۔ من دون اللہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی اہل کتاب کو اس مشترکہ عقیدہ کی طرف دعوت دو ۔ ، چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ہرقل (شاہ روم) کو خط لکھا تو یہی آیت لکھ کر اس کے سامنے دعوت اسلام پیش کی جیسا کہ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ اور مدینہ کے یہود کے سامنے بی اسی کلمہ سوائ کی دعوت پیش کی اور آپس میں ایک دوسرے کو رب بنانے کے مفہوم میں سجدہ کرنا بھی شامل ہے۔ ، اور یہ بھی کہ کسی کے قول کو بلاد لیل اسی طرح مان لینا کہ جس چیز کو حلال کہے اسے حلال سمجھا جائے اور جس چیز کو حرام کہے اسے حرام خیال کیا جائے اور کتاب وسنت سے صرف نظر کرلی جائے۔ مزید دیکھئے۔ التو بہ آیت :31 ۔ (شوکانی۔ وحیدی بتصرف) حاٖفظ ابن کثیر (رح) نے اس آیت پر ایک اشکال پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ محمد بن اسحاق نے اس آیت کے مطابق اگر آل عمران کی ابتدائی 83 آیتوں کا سبب نزول وفد نجران کی آمد کو قرار دیا جائے جو بالا تفاق 5 ھ میں مدینہ آیا تو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرقل کی طرف یہ آیت کیسے لکھ کر بھیج دی جو 7 ھ کا واقعہ ہے۔ پھر اس کے چار حل پیش کیے ہیں۔ فی الجملہ یہ کہ آیت 1 کا نزول دو مرتبہ تسلیم کیا جائے یا 2 38 آیتوں کی تعین کو محمد بن اسحاق کا وہم قرار دیا جائے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت اسلام کے لیے یہ جملے اپنے طور پر لکھ کر بھیجے ہوں۔ بعد میں یہ آیت اس کے مطابق نازل ہوئی ہوجیسا کہ بہت سے آیات حضرت عمر (رض) کے موافق نازل ہوئیں۔ ہوسکتا ہے کہ وفد نجران کی آمد صلح حدیبیہ سے قبل ہو۔ (ابن کثیر)4 یعنی اگر اہل کتاب اس عقیدہ کے ماننے سے انحراف کریں تو تم اپنی طرف سے عقیدہ پر قائم رہنے کا اعلان کردو۔ اس میں متتبہ کیا ہے کہ اہل کتاب اس عقیدہ سے منحرف ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت عزیر ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرردے لیا تھا۔ (ابن کثیر۔ )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 64 71 اسرارومعارف قل یا اھل الکتاب…………بانا مسلمون۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! آئو ، ایک ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو ہمارے تمہارے درمیان مسلم ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، نہ عبادت میں کسی کو اس کا شریک بنائیں۔ خواہ بت ہو یا شیطان ، فرشتہ ہو یا انسان۔ اور نہ کسی کو واجب الوجود ہونے میں اس کا شریک ٹھہرائیں۔ یعنی توحید کی دعوت تو ہر نبی نے دی ہے ہر کتاب میں موجود ہے تورات ہو یا انجیل۔ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ، ذات وصفات باری میں اس کی وحدانیت کا اقرار اور عبادات کا واحد مستحق صرف اللہ کا ہونا ، تمام شریکوں سے پاک اور بالاتر صرف اسی کی ذات کا ہونا سب انبیاء کی تعلیم ہے اور یہی دعوت اسلام بھی دے رہا ہے تو آئو ! اس پر متفق ہوجائیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہ بنائیں یعنی حاجت براری کی امید اس سے وابستہ کرکے اللہ کے مقابل اس کی اطاعت پہ کمر بستہ نہ ہوجائیں کہ اگر کوئی اللہ کا حکم پہنچاتا ہے تو یہ اطاعت اللہ کی ہوگی ، جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ اسی طرح علماء و حکماء میں سے بھی جو اللہ کے حکم کی طرف بلائے گا ، اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص خلاف شرع حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے ، لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق اوکما قال۔ اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ (الحدیث) ظاہر ہے جب بھی کوئی اللہ کا حکم نظر انداز کرکے کسی دوسرے کی اطاعت کرے گا تو یقینا کسی لالچ یا خوف میں آکر کرے گا تو اس نے اسی کو اپنا رب سمجھ لیا بلکہ عملاً اختیار کرلیا اور اگر یہ شخصیت پرستی ، انانیت اور طمع درمیان سے اٹھ جائے تو آدمی کو قبول حق سے کوئی شے مانع نہیں ہوسکتی۔ تبلیغ کا سلیقہ : اسی لئے اللہ کریم نے ایسا پیارا طریق تبلیغ تعلیم فرمایا کہ اے میرے حبیب (علیہ السلام) ! انہیں معرفت حق کی طرف بلائیے ، اور انانیت وخود غرضی کے دلدل سے نکالئے۔ جہاں ان کے دل اللہ کے لئے صاف ہوں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت سے انکار نہ کرسکیں گے اور انہیں ایمان نصیب ہوگا۔ دعوت وتبلیغ کا طریقہ اور اصول یہ ہے کہ عظمت الٰہی سے دلوں کو آشنا کیا جائے اور غیر اللہ سے امیدیں منقطع کی جائیں لیکن اگر یہ کوشش بھی بارآور ثابت نہ ہو اور وہ قبول نہ کریں تو احقاق حق کے لئے یہ ضرور بتادیا جائے کہ میاں ! ہم تو اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں یعنی عقیدہ حقہ بیان کردیا جائے کہ تم بھی گواہ رہو کہ ہم اللہ کی توحید اور اس کے انبیاء کی نبوت اور اس کے احکام کو ماننے والے ہیں۔ یا اھل الکتاب……………واللہ ولی المومنین۔ فرمایا اے اہل کتاب ! تمہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے بارے میں جھگڑا کرنے کا تو حق ہی حاصل نہیں تم جو اپنے انبیاء یعنی موسیٰ وعیسیٰ (علیہم السلام) کا لایا ہوا دین محفوظ نہ رکھ سکے۔ تورات وانجیل کی تعلیمات محفوظ نہ رکھ سکے تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کس طرح کرسکتے ہو کہ یہود بھی اپنے آپ کو ان کے دین پہ قائم رکھنے کے مدعی ہوں اور نصاریٰ بھی ہوں حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل ہوئیں۔ تقریباً ایک ہزار سال بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے بھی دوہزار سال بعد۔ فروعات دین میں تمہارا اتباع ابراہیمی کا دعویٰ جہالت ہے ۔ کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے بلکہ تم تو ایسے لوگ ہو کہ جو حقائق تمہارے پاس موجود ہیں یعنی توراۃ وانجیل ، اور ان میں بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف حمیدہ میں تلبیس کرتے ہو اور حق نہ تو قبول کرتے ہو نہ ظاہر۔ تو جن حقائق کی تمہیں خبر ہی نہیں صدیاں بیت گئیں انہیں گزرے ، اللہ ہی ان کے بارے بہتر جانتا ہے تمہیں تو کوئی خبر نہیں۔ پھر ان باتوں میں جھگڑا یا مناظرہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بلکہ حق بات یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ یعنی ان کے دین کی فروعات نہ شریعت موسوی کے مطابق تھیں اور نہ دین عیسوی کے مطابق۔ بلکہ وہ تو تمام غلط عقائد کو رد کرنے والے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے اور موحد تھے مشرک ہرگز نہ تھے جس طرح کہ تم شرک میں مبتلا ہو کہ عزیر (علیہ السلام) اور مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہو اور ملت ابراہیمی کا دعویٰ بھی کرتے ہو۔ ان سے قریبی نسبت رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور ہر طرح کے شرک سے دامن بچا لیا ان کے وقت میں بھی اور اب بھی۔ بدعقیدہ شخص سے ولایت کی نفی : جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے کہ اکثر فروعات میں بھی مطابقت رکھتے ہیں جیسے ختنہ کرانا ، قربانی دینا ، کعبہ کی طرف نماز پڑھنا وغیرہ۔ اللہ کریم تو ایمان والوں کے حامی ہیں۔ یعنی کوئی بدعقیدہ شخص ولایت کا مدعی نہیں ہوسکتا بلکہ بدعمل بھی ولایت خاصہ کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تکمیل ایمان عمل سے ہے۔ ودت طائفۃ…………وانتم تعلمون۔ فرمایا کہ ان کی اصلاح کیا ہوگی ؟ یہ یہود الٹا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں اور اللہ مسلمانوں کو تو ان کے شر سے بچاتا ہے الٹا اس قبیح کوشش کا وبال ان کی اپنی گمراہی میں اضافہ کرتا ہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔ ان سے کہئے کہ ولایت کا دعویٰ اور احکام الٰہی سے انکار۔ کیا یہ جمع ہوسکتے ہیں ؟ حالانکہ تم وہ ہو ، جو جان بوجھ کر آیات الٰہی کا انکار کر رہے ہو۔ تمہاری اپنی کتابوں میں بعثت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر موجود ہے پھر قرآن کا اللہ کی کتاب ہونا بالکل واضح ہے۔ اے اہل کتاب ! اللہ سے حیا کرو۔ کیوں حق کو باطل کے ساتھ مخلوط کرتے ہو۔ یعنی احکام الٰہی کے ساتھ اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے اپنی طرف سے عبادات شروع کرادیتے ہو جیسا کہ آج کل کے جھوٹے مدعیان ولایت ثواب کے نام پر طرح طرح کی رسومات وبدعات شروع کرادیتے ہیں۔ غرض اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا ہوتی ہے اور کیوں جان بوجھ کر چھپاتے ہو۔ یعنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف جو تمہاری کتب میں موجود ہیں کیوں ظاہر نہیں کرتے ہو ؟

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 64 کلمة (بات) سواء (یکساں، برابر) بیننا (ہمارے درمیان) الانعبد (یہ کہ ہم بندگی نہیں کریں گے) لانشرک (ہم شریک نہ کریں گے) شیء (کچھ بھی) لایتخذ (نہیں بنائے گا) اربابا (معبود (رب کی جمع ہے) اشھدوا (تم گواہ رہو) مسلمون (فرماں بردار) ۔ تشریح : آیت نمبر 64 یہود اور نصاریٰ دونوں توحید خالص پر چلنے کے مدعی تھے۔ وہ یہی کہتے تھے کہ ہم تو اللہ کو ایک ہی مانتے ہیں لیکن زبانی دعوے کے باوجود وہ طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے۔ یہود ونصاریٰ جن کو تمام دلیلوں سے دین کی سچائی بتادی گئی تھی اور ان کے باطل عقائد کو کھول کر بیان کردیا گیا تھا اب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے کہلوایا جارہا ہے۔ کہ اے نبی آپ یہود ونصاریٰ سے فرمائے کہ آؤ ہم ایک ایسی حقیقت پر آجائیں جس کا تم بھی بظاہر انکار نہیں کرتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن کریم، توریت، زبور اور انجیل میں یہ بالکل واضح ہے کہ اللہ کسی کی عبادت و بندگی جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو اپنے باہمی اتحاد کی بنیاد بنالیتے ہیں دوسری بات یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کی ذات وصفات میں شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کی تعلیم بھی تمام آسمانی لتابوں میں ایک جیسی ہے۔ لہٰذا اللہ کی ذات میں حضرت عیسیٰ کو شامل کرکے ان کو الوہیت کا ایک حصہ قرار دینا کسی طرح جائز اور مناسب نہیں ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب نہ بنائے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم سے اس کو نہ مانا جائے یا اللہ کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت کا حکم دیا جائے تو اسے تسلیم نہ کیا جائے۔ لہٰذا تمہارے پادریوں اور راہبوں نے جو حکم بھی اطاعت الہٰی کے خلاف دیئے ہیں ان کو ہرگز قبول نہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی شخص ان پادریوں اور راہبوں کے کہنے پر بلاچون وچرا تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کو رب بنانے ہی کے مترادف ہے، لہٰذا ان کو رب نہ بنایاجائے۔ حضرت عدی ابن حاتم نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ولایتخذ بعضنا بعضا ارباباً من دون اللہ نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام سے پہلے ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیوں نہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا اور لوگوں نے ان کی پیروی کی یہی تو ان کو رب اور معبود بنانے کے برابر ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر اللہ اور مخلوق کو رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کے کہنے سے اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال اور حلال کی ہوئی چیز کو حرام مان لینا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسی تقلید اخیتار کرنا حرام اور کفر وشرک ہے۔ البتہ ایسی تقلید جائز ہے جس میں کسی عالم ، مجہتد، فقیہ نے کوئی ایسی شرح اور تفسیر کی ہو جس سے اصول دین کے مطابق حرام اور حلال واضح ہوجائیں، جیسے فقہاء کرام نے برسوں کی محنت اور تجربات کی روشنی میں قرآن وحدیث اور صحابہ کرام کے عمل کے مطابق کچھ اصولوں کو متعین کیا ہے۔ جس کو فقہ اسلامی کہتے ہیں اگر دین کے اہم مسائل خصوصاً حرام و حلال کے مسائل کو عام مسلمانوں کی رائے پر چھوڑدیا جائے گا تو اس سے نہ صرف ہزاروں فتنے پیدا ہوں گے بلکہ حرام اور حلال میں امتیاز کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اب جو فتنہ ہمارے سامنے ہے وہ ہمارے بزرگوں نے صدیوں کی کاوشوں اور جدوجہد کے بعد تیار کیا ہے۔ درحقیقت ان کے مرتب کئے ہوئے فقہ کی اتباع اور پیروی وہ قرآن وسنت ہی کے ابدی اصولوں کی پیروی ہے۔ لہٰذا ایسی تقلید میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر آج بھی کوئی ایمان فروش حلال کو حرام اور حرام کو حلال اپنی مرضی سے قرار دیتا ہے۔ ایسے شخص کی بات سننا بھی گناہ عظیم ہے اور یہودیوں اور نصاریٰ کی وہ روش ہے جس پر چل کر وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے بھٹکادیا۔ ضلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے یہ کہلوادیا ہے کہ اگر یہ واقعتاً اپنی نجات چاہتے ہیں تو ساری رسموں کو چھوڑ کر صرف ان اصولوں کی طرف آجائیں جو آسمانی کتابوں سے ثابت ہیں لیکن اگر ان کے نزدیک اپنی گھڑی ہوئی رسمیں اور باتیں ہی اصل ہیں تو پھر آپ صاف صاف کہہ دیجئے کہ ہم تو اللہ ہی کے فرماں بردار ہیں اور ان ہی کے حکم کو مانتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : توحید حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت اور مشن ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کو اس کی پھر دعوت دی جارہی ہے۔ سورۃ البقرہ میں یہودیوں کو اور سورة آل عمران میں نصاریٰ کو مفصل خطاب کرنے کے بعداب دونوں کو ایسی بات کی طرف دعوت دی جارہی ہے جو تمام انبیاء کی دعوت کی ابتدا اور انتہا ہوا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف پیرائے میں اس بات کی وضاحت و صراحت فرمائی ہے کہ ہم نے جتنے انبیاء مبعوث کیے وہ یہی دعوت دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ہر قسم کے طاغوت کا انکار کردو۔ الانعام : ٨٨ میں اٹھارہ پیغمبروں کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر یہ شرک کرتے تو ان کے سب اعمال ضائع کردیے جاتے۔ یہاں حکم دیا جارہا ہے کہ اے خاتم المرسلین ! ان کو دعوت عام دو کہ آؤ اس بات پر متفق ہوجائیں۔ جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت تھی وہی ہماری دعوت ہے۔ اگر لوگ یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کردیں تو آپ فرما دیں کہ گواہ رہنا ہم تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے تابع فرمان ہیں۔ اس دعوت کے تین بنیادی اصول ہیں۔ 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ 2 ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 3 ۔ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو معبود کا مقام نہ دیا جائے اس دعوت کا منطقی نتیجہ ہے نبی معظم کو اللہ کا آخری رسول ماناجائے کیونکہ آپ ہی توحید کی دعوت دینے والے ہیں۔ یہی دعوت آپ نے سلطنت رومہ کے فرماں روا ہرقل کو ایک مراسلہ کے ذریعے دی تھی۔ [ رواہ البخاری : کتاب بدء الوحی ] مسائل ١۔ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان قدر مشترک توحید ہے۔ ٢۔ سب کو توحید کی دعوت دینا چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہی وجہ ہے کہ اس تہدید اور توبیخ کے بعد سیاق کلام میں اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے نظریے کی طرف اٹھ آئیں جو فریقین کے درمیان یکساں ہے ۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی ‘ اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ اور ایک دوسرے کو رب نہ بنانا ۔ اگر وہ یہ صورت نہیں اپناتے تو پھر ہماری راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں ۔ اس کے بعد نہ ملاپ ہوسکتا ہے اور نہ مکالمہ ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” کہو اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے ۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں ۔ “ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک منصفانہ دعوت ہے ۔ ایسی دعوت ہے جس میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر کسی قسم کی کوئی فضیلت و برتری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اور نہ اہل اسلام اس میں کسی قسم کی برتری چاہتے ہیں ۔ ایک یکساں موقف جس کے سامنے سب کے سب برابری کی پوزیشن میں کھڑے ہوں گے ۔ کوئی کسی پر برتری نہ چاہے گا ۔ کوئی کسی دوسرے کو اپنا غلام نہ بنائے گا ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے جس سے صرف بدفطرت اور مفسد ہی انکار کرسکتا ہے ۔ جو یہ نہیں چاہتا کہ حق کے سامنے جھک جائے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ نہ کسی بشر کو ‘ نہ کسی پتھر کو ‘ اللہ کی طرف ایسی دعوت کہ جس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو ۔ نہ نبی کا غلام ہو ‘ نہ رسول کا غلام ہو ‘ بلکہ سب اللہ کے بندے اور غلام ہوں ۔ نبی اور رسول تو وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے تبلیغ دین کے لئے چن لیا ہوتا ہے۔ اس لئے نہیں منتخب کیا ہوتا کہ وہ اللہ کے ساتھ الوہیت یا ربوبیت میں شریک بن جائیں۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو پھر صاف کہہ دو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یعنی اگر وہ اس بات سے انکار کردیں کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور اس بات سے انکار کردیں کہ بندگی صرف اللہ کے لئے ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ۔ یہ دو ایسے مظاہر ہیں جن سے اللہ کی نسبت سے بندے کے موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔ تو اگر اس نظریئے سے وہ منہ موڑیں تو تم اس کے مطابق اپنے اسلام کا اعلان کردو ۔ یہاں مسلمانوں اور ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب مانتے ہیں ‘ ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے ‘ جس سے اس بات کی فیصلہ کن وضاحت ہوجاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ” المُسْلِمُونَ “ کون ہیں ‘ مسلمون وہ ہیں جو صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں اور ساتھ ساتھ باہم ایک دوسرے کو بھی اپنا رب بنائیں ۔ یہ ہے مسلمانوں کی خصوصیت جو انہیں تمام ملتوں اور تمام مکاتب فکر سے جدا کرتی ہے ۔ اور ان کے نظام زندگی کو تمام نظامہائے زندگی سے جدا اور ممتاز کرتی ہے ۔ اب اگر ان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے تو وہ مسلمان ہیں اور اگر ان میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی تو وہ مسلمان نہیں چاہے جس قدر وہ دعویٰ کریں اپنے مسلمان ہونے کا ۔ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان بندے کی غلامی سے مطلقاً آزاد ہوجائے اور اسلامی زندگی وہ واحد نظام زندگی ہے جو کسی انسان کو اس ہمہ گیر آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض میں جس قدر نظام ہائے حیات رائج ہیں ان میں بعض دوسرے لوگوں کو اپنا رب تسلیم کئے ہوئے ہیں ۔ دنیا کی بہترین سے بہترین جمہوریتوں میں بدترین سے بدترین آمریتوں میں یہ صورت حال ہے ۔ ربوبیت کا پہلا خاصہ یہ ہے کہ لوگ اس رب کی بندگی کریں ۔ اور وہ رب لوگوں کے لئے اجتماعی نظم ‘ طرز زندگی ‘ ضابطے ‘ قوانین اور نیک وبد کے پیمانے وضع کرے ۔ اور اس وقت دنیا میں جس قدر نظامہائے زندگی رائج ہیں ان میں یہ حق بعض افراد کو حاصل ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں یہ حق لوگوں کے کسی مجموعے کو حاصل ہوتا ہے ۔ لوگوں کا یہ گروہ جو دوسروں کے لئے قوانین وضع کرتا ‘ نیک وبد کے پیمانے وضع کرتا ہے اور ان کے لئے فکر اور فلسفہ وضع کرتا ہے یہی وہ گروہ ہے جو اپنے آپ کو اس زمین پر رب بناتا ہے ۔ یہی مفہوم ہے اس آیت کا تم میں سے بعض بعض کو رب نہ بناؤ۔ ان لوگوں کے متبعین ان کو ربوبیت اور الوہیت کا مقام عطا کرتے ہیں اور پھر اللہ کے سوا ان کی بندگی کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ان کے سامنے رکوع و سجود نہ کرتے ہوں ‘ اس لئے بندگی ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ۔ صرف اسلامی نظام وہ نظام ہے ‘ جس میں انسان کے گلے سے غیر اللہ کی غلامی کا یہ جوأ اترتا ہے ۔ اور وہ مکمل طور پر آزاد ہوجاتا ہے ۔ وہ اس قدر آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے تصور حیات ‘ اپنے لئے اجتماعی نظم ونسق ‘ اپنے لئے نظام زندگی اور طریقہ حیات اور اپنے نیک وبد کے پیمانے صرف اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ اور اس کی حیثیت بعینہ وہی ہوتی ہے جو اس کرہ ارض پر کسی بھی دوسرے انسان کی ہوتی ہے ۔ پس زید دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ من کل الوجوہ مساوی ہوجاتا ہے ۔ تمام لوگ ایک سطح پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تمام لوگوں کی نظریں ایک ہی مالک کی طرف اٹھی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اور ان میں کوئی بھی ایک دوسرے کا مالک نہیں ہوتا ۔ اسی اور فقط اسی معنی میں اسلام اللہ کا دین ہے ۔ اور یہی دین ہے جسے تمام رسل لے کر آئے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اسی مفہوم میں مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کریں۔ اور لوگوں کے ظلم سے انہیں نکال کر اللہ کے انصاف کے اندر داخل کریں ۔ پس اگر کوئی اس مفہوم کے مطابق اسلام سے منہ پھیرے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کے مطابق مسلم نہیں رہتا ۔ چاہے تاویل کرنے والے کس قدر تاویلیں کرلیں ۔ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے والے جس قدر گمراہ کریں بات یہی ہے ۔ اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلامُ……………” اللہ کے نزدیک معتبر دین صرف اسلام ہے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب کو توحید کی دعوت اس آیت میں یہود و نصاریٰ کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے نزدیک مسلم ہے ہم بھی مانتے ہیں تم بھی مانتے ہو اور وہ یہ کہ ہم سب صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ یہود و نصاریٰ کو معلوم تھا کہ ہمارے دین کی اصل تعلیم یہی ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں۔ اگرچہ انہوں نے شرک اختیار کرلیا تھا لیکن ان کے دین میں جو صحیح بات تھی وہ ان کو معلوم تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اس کو قبول کرو صحیح بات کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ مسلمان عیسائیوں سے یہ بات کریں کہ ہمارا دین اور تمہارا دین جن چیزوں پر اتفاق ہے دونوں قومیں مل کر غیر قوموں کو ان چیزوں کی دعوت دیں یعنی یہود و نصاریٰ اپنے اپنے دین پر ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور توحید کی دعوت دیتے رہیں العیاذ باللہ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے قرآن کسی قوم کو دین کفر پر باقی رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر لوگوں کو صرف توحید کی دعوت دی اور اسلام کی دعوت نہ دی اور وہ موحد ہوگئے تو یہ توحید اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں جب تک دین اسلام قبول نہ کریں گے باو جود موحد ہونے کے آخرت میں نجات نہ پائیں گے یہ تو غیر اقوام کو دھوکہ دینا ہوا کہ تم توحید کی دعوت میں شریک ہوجاؤ اگرچہ اسلام قبول نہ کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ملک روم ہرقل کو خط لکھا تو اس میں تحریر فرمایا : سلام علی من اتبع الھدی یعنی اللہ کا سلام ہے اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے، پھر تحریر فرمایا کہ : اما بعد فانی ادعوک بد عایۃ الاسلام اسلم تسلم یعطک اللّٰہ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الیریسین۔ ” کہ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں تو اسلام قبول کر سلامت رہے گا۔ اللہ تجھے دہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تو نے اعراض کیا تو تیرے اوپر تمام کاشتکاروں کا گناہ ہوگا۔ “ مطلب یہ کہ اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے تجھ پر تیرا گناہ تو ہوگا ہی تیری وجہ سے تیری مملکت کے کاشت کار جو اسلام قبول نہ کریں گے ان کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا کیونکہ تو ان کو اسلام سے روکنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مکتوب گرامی میں آیت بالا تحریر فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ ٥) آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اول اسلام کی دعوت دی پھر آیت بالا تحریر فرمائی جس سے واضح ہوا کہ آیت شریفہ کا مقصد اسلام ہی کی دعوت دینا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ تم یہودیت اور نصرانیت پر باقی رہتے ہوئے ہمارے ساتھ مل کر دعوت توحید کا کام کرو۔ قولہ تعالیٰ (وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (اور نہ بنائیں ہم آپس میں ایک دوسرے کو رب، اللہ کو چھوڑ کر) تفسیر روح المعانی صفحہ ١٩٣: ج ٣ میں ہے کہ حضرت عدی بن حاتم (صحابی (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم غیر اللہ کی عبادت تو نہیں کرتے تھے (پھر یہ کیوں فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں) آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ تمہارے لیے کچھ چیزوں کو حلال اور کچھ چیزوں کو حرام قرار نہیں دیتے تھے اور تم ان کی بات پر عمل نہیں کرتے تھے تو عرض کیا ہاں ایسا تو تھا، آپ نے فرمایا یہ رب بنانے میں داخل ہے (کیونکہ چیزوں کو حلال یا حرام قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق ہے وہ خالق ومالک ہے اپنی مخلوق میں جسے چاہے جس کے لیے حلال یا حرام قرار دے یہ مرتبہ کسی کو حاصل نہیں) واضح رہے کہ عدی بن حاتم پہلے نصرانی مذہب رکھتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

89 توحید سے متعلق نصاریٰ کے تمام شبہات کا ازالہ کرنے کے بعد تمام اہل کتاب کو توحید کی دعوت عام دی ہے۔ سواء مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور کلمہ سے بطور مجاز مرسل کلام مراد ہے یعنی اہل کتاب کو ایک ایسی بات کی دعوت دو جو تمہارے اور ان کے درمیان متفق علیہ ہے اور جس میں تورات، انجیل اور قرآن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ای لایختلف فیہا التوراۃ والانجیل والقرآن (روح ج 3 ص 193) اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ ۔ فموضع ان خفض علی البدل من کلمۃ (قرطبی ج 4 ص 106) یعنی وہ بات جس کی طرف اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے کو رب اور مالک ومختار سمجھیں۔ اور نہ ہی اپنے عالموں اور درویشوں کی خود ساختہ تحلیلات اور تحریمات کو مانیں۔ ای لانطیع احبارنا فیما احدثوا من التحریم والتحلیل (مدارک ج 1 ص 126) نصاریٰ میں چونکہ یہ تینوں باتیں موجود تھیں اس لیے ان تینوں کا ذکر کیا۔ وہ خالص اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ کے سوا مسیح کی عبادت بھی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے۔ فیعبدون غیر اللہ وھو المسیح ویشرکون بہ غیرہ (ج 2 ص 704) نیز وہ اپنے مولویوں اور پیروں کو حلال و حرام کا مختار سمجھتے تھے اور نذرونیاز اور سجدوں سے ان کی عبادت بھی کرتے تھے۔ انہم اتخذوا احبارھم ورہبانہم اربابا من دون اللہ فیدل علیہ وجوہ احدھا انہم کانوا یطیعونہم فی التحلیل والتحریم والثانی انہم کانوا یسجدون لاحبارھم الخ (کبیر ج 2 ص 705) بالکل اسی طرح جس طرح آجکل بدعتی لوگ اپنے مولویوں اور پیروں کی ہر بات پر وحی کی طرح ایمان لاتے ہیں اگرچہ وہ کتاب وسنت کے صریح خلاف ہو۔ 90 لیکن اگر یہود ونصاریٰ اس دعوت توحید کو قبول نہ کریں تو پھر آپ ان سے کہہ دیں کہ اچھا تم اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں اور اللہ کی خالص توحید کو دل وجان سے ظاہراً و باطناً ماننے والے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ اے پیغمبر آپ اہل کتاب سے کہئے کہ اے اہل کتاب ! ایک ایسی بات کی طرف آئو جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں طور پر مسلم اور مشترک ہے وہ یہ کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب نہ ٹھہرائے اور کوئی کسی کو رب نہ قرار دے ، پھر اگر وہ اہل کتاب اس توحید اور ترک شرک کی دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو اے مسلمانو ! تم ان سے کہہ دو کہ تم لوگ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اس بات کو مانتے ہیں تم نہیں مانتے تو تم جانو۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یہ تین باتیں ایسی ہیں جو اصولاً ہر پیغمبر کی تعلیم میں موجود ہیں اور کوئی آسمانی کتاب ایسی نہیں جس میں توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کی ممانعت نہ ہو ۔ یہ وہ چیزیں ہیں کہ سب کتب سماویہ میں مسلم ہیں اور یہ باتیں ہم تم میں مشترک ہیں تو آئو ہم تم ان باتوں پر تو جمع ہوجائیں ۔ تم نے جو عزیز کو یا مسیح کو خدا کا بیٹا اور اس کو خدا کی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے یہ باتیں چھوڑ دو ۔ اسی طرح اپنے علماء اور رہبان کی باتوں کو اس طرح مانتے ہو جس طرح خدا کے احکام کو مانتے ہو ، خواہ تمہارے علماء خدا کے احکام کے خلاف کہیں تب بھی تم ان کی اطاعت کرتے ہو ۔ یہ سب باتیں تمہاری شریعت میں بھی حرام ہیں ان کو ترک کردو۔ غرض اتنی صاف اور کھلی ہوئی بات کو ماننے سے بھی اعراض کریں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ ہمارے متعلق گواہ رہو کہ ہم سب کتب سماویہ کو مانتے ہیں اگر تم نہیں مانتے تو تم جانو ۔ حضرت عدی بن حاتم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اپنے علماء اور مشائخ کی عبادت تو نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا کیا وہ تمہارے حلال اور حرام کے مالک نہیں بنے ہوئے ہیں جو وہ کہہ دیتے ہیں تم اس کو اختیار کرلیتے ہو۔ عدی نے کہا ہاں یہ بات تو ہے آپ نے فرمایا یہی تو وہ بات ہے کہ تم نے خدا کے مقابلے میں ان کو رب بنا رکھا ہے یعنی تم لوگ ایسے مسائل میں بھی ان کا اتباع کرتے ہو جو نصوص قطعیہ کے خلاف ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ یہ لوگ ان باتوں کو جانتے تھے اور پھر بھی شرک میں مبتلا تھے اور ایسی توجیہات اور تاویلات کرتے تھے۔ جیسی ہمارے زمانے کے مبتدعین اور قبر پرست کرتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کو بندوں کے لئے ثابت کرتے تھے اور بالذات اور بالعرض کا فرق کرتے تھے حالانکہ یہ فرق صفات غیر مختصہ میں ہوسکتا ہے لیکن باری تعالیٰ کی صفات مختصہ میں یہ فرق نہیں چل سکتا اسی طرح احکام میں یہ کرتے تھے کہ جو احکام ان کتابوں میں قطعی طور پر بغیر کسی معارض کے منصوص تھے ان کے خلاف بھی جو حکم ان کے راہب دیتے تھے اس پر عمل کرتے تھے اور ایک غیر مشروع تقلید میں مبتلا تھے جو اہل باطل کا شیوہ ہے۔ باقی رہے مسائل ظنیہ اور قیاسیہ جن میں کئی احتمال ہوں اور کسی ایک احتمال کو مجتہد کے قیاس سے ترجیح حاصل ہوئی ہو اور اس کی ترجیح کسی نص قطعی سالم عن المعارض اور اجماع کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا جیسا کہ ائمہ اربعہ کی تقلید کرنے والے کرتے ہیں تو یہ اس آیت میں داخل نہیں اور اس آیت سے اس مشروع تقلید کی حرمت پر استدلال کرنا جو آج کل عام اہل اسلام کا معمول ہے۔ بڑی زیادتی اور توجیہہ الکلام بما لا یرضی بہ قائلہ کے مرادف ہے اور یہ جو اس آیت میں اصول پر دعوت دی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اہل کتاب اصول سے متفق ہوجائیں اور اسلام کے اصول مان لیں تو فروع پر متفق ہوجانا اور جزیات کو تسلیم کرلینا سہل اور آسان ہوجائے گا ۔ گویا یہ دعوت ایک تدریجی دعوت ہے کہ اچھا آئو جن باتوں میں ہمارا تمہارا اختلاف نہیں ہے اور جو باتیں تمہارے نزدیک بھی صحیح ہیں ان کو تو مان لو اور غیر اللہ کی عبادت شرک اور تقلید حامد غیر مشروع سے تو توبہ کرلو ۔ دوسری باتوں پر پھر غور کرلینا ۔ اب آگے اسی سلسلے کی ایک اور بات کا ذکر ہے جس سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اثبات بھی ضمنا ً ہوتا ہے اور یہود و نصاریٰ کے باہمی جھگڑے کا ایک نہایت واضح فیصلہ ہوجاتا ہے وہ یہ کہ جب نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو مدینہ کے بعض یہود بھی ان سے ملنے آئے۔ اثناء گفتگو میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر نکل آیا تو یہود نے کہا ۔ ابراہیم یہودی تھا نصاریٰ کہنے لگے نہیں بلکہ ابراہیم نصرانی تھا اس پر آگے آیتیں نازل ہوئیں ۔ (تسہیل)