Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 68

سورة آل عمران

اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾

Indeed, the most worthy of Abraham among the people are those who followed him [in submission to Allah ] and this prophet, and those who believe [in his message]. And Allah is the ally of the believers.

سب لوگوں سے زیادہ ابرہیم سے نزدیک تروہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے ، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers. This Ayah means, "The people who have the most right to be followers of Ibrahim are those who followed his religion and this Prophet, Muhammad, and his Companions from the Muhajirin, Ansar and those who followed their lead." Sa`id bin Mansur recorded that Ibn Mas`ud said that the Messenger of Allah said, إِنَّ لِكُلِّ نَبِيَ وُلاَةً مِنَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي عَزَّ وَجَل Every Prophet had a Wali (supporter, best friend) from among the Prophets. My Wali among them is my father Ibrahim, the Khalil (intimate friend) of my Lord, the Exalted and Most Honored. The Prophet then recited, إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ (Verily, among mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him...). Allah's statement, ... وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُوْمِنِينَ And Allah is the Wali (Protector and Helper) of the believers. means, Allah is the Protector of all those who believe in His Messengers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

68۔ 1 اسی لئے قرآن کریم میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملت ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے علاوہ ازیں حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ہر نبی کے نبیوں میں سے دوست ہوتے ہیں، میرے ولی (دوست) ان میں سے میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم علیہ السلام) ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] عقائد و اعمال کے لحاظ سے حضرت ابراہیم سے قریب تر وہ لوگ تھے جو ان کے پیرو کار تھے یا پھر یہ نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیرو کار ہیں۔ گویا ایسے لوگوں میں دو صفات ہوتی ہیں ایک تو وہ مشرک نہیں ہوتے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے سب کے سب احکام بجا لاتے ہیں اور مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ غالباً اسی نسبت سے جو درود امت محمدیہ کو نماز میں پڑھنے کے لیے سکھلایا گیا ہے۔ اس میں ایسے ہی الفاظ وارد ہیں اور وہ اسی آیت کی تفسیر ہیں۔ && اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی آل ابراہیم انک حمید مجید &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ ۔۔ : مطلب یہ کہ اگر تم اس معنی میں ابراہیم (علیہ السلام) کو یہودی یا نصرانی کہتے ہو کہ ان کی شریعت تمہاری شریعت سے ملتی جلتی ہے تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پیروکاروں کے بعد ان کے سب سے زیادہ قریب یہ نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والے ہیں۔ اس اعتبار سے مسلمانوں کو یہ کہنے کا حق تم سے زیادہ پہنچتا ہے کہ ہم اس طریقہ پر ہیں جس پر ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ وُلاَۃً مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ إِنَّ وَلِیِّیْ أَبِیْ وَ خَلِیْلُ رَبِّیْ )” ہر نبی کے لیے نبیوں میں سے کچھ دوست ہیں۔ جن سے اس کا خصوصی تعلق ہوتا ہے اور میرا (خاص تعلق والا) دوست میرا باپ اور میرے رب کا خلیل ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة آل عمران : ٢٩٩٥۔ صحیح ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِـاِبْرٰہِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْاۭ وَاللہُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٦٨ أَوْلَى ويقال : فلان أَوْلَى بکذا . أي أحری، قال تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] ، إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ، فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] ، وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] وقیل : أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] من هذا، معناه : العقاب أَوْلَى لک وبك، وقیل : هذا فعل المتعدّي بمعنی القرب، وقیل : معناه انزجر . ويقال : وَلِيَ الشیءُ الشیءَ ، وأَوْلَيْتُ الشیءَ شيئا آخرَ أي : جعلته يَلِيهِ ، والوَلَاءُ في العتق : هو ما يورث به، و «نهي عن بيع الوَلَاءِ وعن هبته» »، والمُوَالاةُ بين الشيئين : المتابعة . ۔ فلان اولیٰ بکذا فلاں اس کا زیادہ حق دار ہے قرآن میں ہے : ۔ النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ [ الأحزاب/ 6] پیغمبروں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ [ آل عمران/ 68] ابراہیم (علیہ السلام) سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ فَاللَّهُ أَوْلى بِهِما [ النساء/ 135] تو خدا انکا خیر خواہی وَأُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ [ الأنفال/ 75] اور رشتہ دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ آیت : ۔ أَوْلى لَكَ فَأَوْلى[ القیامة/ 34] افسوس تم پر پھر افسوس ہے ۔ میں بھی اولٰی اسی محاورہ سے ماخوذ ہے اور اولیٰ لک وبک دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ اور معنی یہ ہیں کہ عذاب تیرے لئے اولی ہے یعنی تو عذاب کا زیادہ سزا وار ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے فعل متعدی بمعنی قرب کے ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اولیٰ بمعنی انزجر سے یعنی اب بھی باز آجا ۔ ولی الشئیء دوسری چیز کا پہلی چیز کے بعد بلا فصل ہونا ۔ اولیت الشئیء الشئیء دوسری چیز کو پہلی چیز کے ساتھ ملا نا ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٨) اب اللہ تعالیٰ ان حضرات کے معاملے کو بیان فرماتے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر تھے، البتہ سب سے زیادہ دین ابراہیمی کے وہ حق دار ہیں، جنہوں نے ان کے زمانہ میں ان کا اتباع کیا اور اس طرح وہ اہل ایمان جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر ہیں اور جو حضرات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لائے وہ دین ابراہیمی پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کا محافظ و مددگار ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٨ (اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰہِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ ) (وَہٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط) (وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ) وہ اہل ایمان کا حامی و مددگار ہے ‘ پشت پناہ ہے ‘ حمایتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:68) اولی۔ زیادہ لائق۔ زیادہ مستحق۔ زیادہ قریب۔ ولی سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے جب اس کا صلہ لام واقع ہو تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے۔ اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے جیسے اولی لک فاولی (75 ۔ 34 ۔ 35) تیرے لئے خرابی ہی خرابی ہے۔ یہاں اولی ۔۔ یا براہیم۔ لوگوں میں سے ابراہیم کے سب سے نزدیک یا قریب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ایک حیدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لکلی نبی ولا ۃ من النبین وان ولی منھم ابی واخلینلی کہ ابنیا سے ہر نبی کا کوئی تعلق ہے اور میرا تعلق میرے باپ اور خلیل حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر۔ ترمذی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پس وہ لوگ جو حضرت ابراہیم کی زندگی میں ان کے پیرو رہے ‘ اور ان کے نظام اور طریقے پر چلے ‘ اور انہوں نے ان کے احکام کے مطابق فیصلے کیے تو وہی ان کے دوست تھے ۔ پھر یہ نبی ان کے دوست ہیں جو اللہ کی شہادت کے مطابق ان کے دین پر ہیں وہ ان کے دوست ہیں ‘ اس کے بعد وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوست ہیں جو اس نبی پر ایمان لائے ۔ اور وہ اپنے نظام زندگی اور طریقہ حیات میں ان کے ہم رنگ ہوگئے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ” اللہ صرف ان کا حامی اور مددگا رہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہی لوگ اللہ کی پارٹی کے ہیں ‘ یہی لوگ اللہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایک ہی خاندان ہیں ۔ یہ ایک امت ہیں ‘ چاہے صدیاں گزرجائیں ‘ زمانے گزرجائیں ‘ زمین اور وطن کے فاصلے طویل کیوں نہ ہوں ‘ نسل اور قوم مختلف کیوں نہ ہو ‘ خاندان اور قبائل مختلف کیوں نہ ہوں ‘ یہ ایک ہیں ‘ ایک رہیں گے۔ انسانی اجتماع کی یہ سب سے ترقی یافتہ شکل ہے جو حضرت انسان کے لئے موزوں ترین ہے ، اور یہی صورت اسے حیوانوں کے ریوڑ سے ممتاز کرتی ہے۔ دوسری جانب مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں سے یہ سوسائٹی سب سے عام اور بلاقید ہے ۔ اس لئے کہ اس اجتماعی نظام کی اساس جس شرط کے ساتھ مشروط ہے وہ شرط اختیار ہے ۔ انسان کے بس میں ہے کہ وہ اس شرط کو پوری کردے ۔ وہ شرط نظریاتی ہے اور ہر شخص کسی بھی نظرئیے کو اپنانے میں آزاد اور مختار ہے ۔ جب کوئی شخص اپنی نسل تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگرچہ ہم اجتماعی نظام کی اساس کسی نسل پر رکھ دیں تو کوئی شخص بہرحال اس نسل میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ اگرچہ اجتماعیت کو قومیت کی اساس پر استوار کریں تو پھر کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگر ہم اجتماعی نظام رنگ پر رکھیں تو کوئی بھی شخص اپنا رنگ نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر ہم زبان کی اساس پر اجتماعی نظام استوار کریں تو کوئی شخص اپنی زبان بھی نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر نظام طبقات پر مبنی ہو ‘ تو طبقہ بدلنا بھی آسانی سے ممکن نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض اوقات طبقات بھی ناقابل تبدیل ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان میں اچھوت وغیرہ ‘ یہی وجہ ہے تمام دوسری سوسائٹیوں میں بعض طبقات کی راہ میں پردے حائل ہوتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کا ممبر نہیں بن سکتے ۔ صرف نظریاتی اساس پر تشکیل پانے والی سوسائٹی اس عیب سے خالی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ نظریاتی سوسائٹی میں کوئی نظریہ اپنانے نہ اپنانے کا معاملہ ایک فرد کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ بغیر اس کے اس کی اصلیت بدلے ‘ اس کی زبان بدلے ‘ اس کا طبقہ بدلے ‘ یا وصف بدلے جس کی اساس ‘ اس کا پردہ اس میں شامل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نظریاتی سوسائٹی میں انسان کے مقام اور اس کے اکرام میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور اس کا نظریہ اجتماع ان عناصر کی اساس پر ہوتا ہے جو انسانی عناصر ہیں ۔ ان پر نہیں جو جانوروں کو باہم اکٹھا کرتے ہیں ۔ اب انسان کے لئے صرف دوراستے ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نظریہ اجتماع کے مطابق وہ روحانی اور نظریاتی اساسوں پر جمع ہو اور انسانوں کی طرح رہے اور یا پھر حیوانوں کے ایک ریوڑ اور گلے کی طرح ہم جنس ‘ جو اکٹھے ہوں یا ایسے مویشی اکٹھے ہوں جن کی چراگاہ ایک ہے ۔ اور ان حدود وقیود کے اندر رہیں جو ان مویشیوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اب امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس جدل وجدال اور بحث ومباحثے کے پس منظر میں اہل کتاب کا اصل منصوبہ کیا ہے ؟ اس لئے اہل کتاب کی مکاریوں ‘ ان کی خفیہ تدبیروں اور دین کے ساتھ اس کھیل کا بھانڈا امت مسلمہ کے سامنے بھرے چورا ہے میں پھوڑا جاتا ہے وہ ستر پاش پاش کردیا جاتا ہے جس کے پیچھے چھپ کر یہ لوگ گھناؤنا کھیل کھیلا کرتے تھے اور انہیں جماعت مسلمہ کے سامنے صاف ننگا کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم سے زیادہ خصوصی تعلق والا کون ہے ؟ پھر فرمایا (اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ ) (الآیۃ) (بلاشبہ انسانوں میں ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ خصوصیت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا) یہود و نصاریٰ نے نہ صرف یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنا تعلق ظاہر کیا بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی تکذیب فرمائی اور فرمایا کہ ابراہیم سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی شریعت کا اتباع کیا اور یہ نبی یعنی سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ ان پر ایمان لائے یہ بھی ابراہیم سے قریب تر ہیں کیونکہ یہ امت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے۔ جیسا کہ سورة حج کے آخر میں فرمایا۔ (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ ) توحید اور عقیدہ معاد میں تمام انبیاء (علیہ السلام) مشترک ہیں لیکن شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کثیر تعداد میں ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے موافق ہیں توحید کے لیے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے جو محنت کی جان جوکھوں میں ڈالی۔ اس کے لیے آگ میں ڈالے گئے وطن چھوڑا۔ امت محمدیہ نے پوری طرح محنت اور کوشش کرکے جانوں اور مالوں کی قربانی دے کر اس دعوت کو صحیح طریقہ پر باقی رکھا اور کروڑوں موحد ان کوششوں کی وجہ سے وجود میں آئے۔ دعوت توحید کے لیے اور توحید پر خود باقی رہنے اور دوسروں کو باقی رکھنے میں امت محمدیہ نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی نظیر دوسری امتوں میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ تو مشرک ہوگئے۔ انہوں نے توحید کی دعوت ختم ہی کردی ان کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ اللہ مومنین کا ولی ہے : آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ) کہ اللہ ایمان والوں کا ولی ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں ان کی مدد اور حفاظت فرمائے گا اور ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا دے گا وَلِیُّھُمْ کی بجائے (وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ) فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ صفت ایمان ہی ایسے چیز ہے جس کے ذریعہ اللہ کی مدد و نصرت اور حفاظت حاصل ہوتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

94 ان کے دعو وں کی تکذیب کے بعد فرمایا کہ ابراہیمی ہونے اور ابراہیم سے زیادہ قریب ہونے کا صرف وہی لوگ حق رکھتے ہیں جو ان کے دین کے صحیح متبع تھے اسی طرح یہ پیغمبر یعنی حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ پر ایمان لانے والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر ہیں۔ کیونکہ یہ سب ان کی ملت کے متبع ہیں۔ وَاللہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار اور ناصر ہے اہل باطل کی ریشہ دوانیوں سے دنیا میں انہیں محفوظ رکھے گا بشرطیکہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں کیونکہ اللہ کی ولایت اور نصرت وامداد وصف ایمان سے متعلق ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3۔ یقینا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں میں سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کے زمانے میں ان کے پیرو اور متبع تھے اور یہ نبی اور وہ اہل ایمان جو اس نبی پر ایمان لائے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر اور خصوصی نسبت رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا حامی و کار ساز ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ تم لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کس طرح اپنی مناسبت اور خصوصیت بیان کرتے ہو وہ چونکہ یہودیت اور نصرانیت سے قبل گزرے ہیں اس لئے نہ تو وہ یہودی تھے نہ نصرانی رہی یہ بات کہ تم ان کی امت پر ہو اور یہودیت و نصرانیت کا مسلک وہی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تھا تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ نہ تمہارے اصول ان سے ملتے ہیں اور نہ تمہارے مسائل فرعیہ ان سے مطابقت و موافقت رکھتے ہیں لہٰذا تم کو کوئی قرب اور کوئی مناسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے نہیں البتہ اگر کسی کو کوئی قرب اور خصوصی تعلق ان سے حاصل ہے تو وہ لوگ وہی ہوسکتے ہیں جو ان کے زمانے میں ان پر ایمان لائے ان کے ساتھ رہے ۔ ہر دکھ درد میں ان کے شریک رہے ان کی پیروی کرتے رہے اور پھر یہ نبی اور اس کی امت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ اصول میں تو بالکلیہ اور بےشمارفروع میں بھی ملت ابراہیمی کی پابند ہے اور ان کی ملت کا نام ہی ملت ابراہیمی ہے اگرچہ یہ نبی ایک مستقل شریعت رکھتا ہے جو تمام شرائع سابقہ کی ناسخ ہے لیکن جہاں تک ملت کا تعلق ہے اس میں اور ملت ابراہیمی میں کوئی فرق نہیں ہے اور اتنی بات سے کہ دونوں ملتیں یکساں ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے استقلال پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، جیسا کہ ہم پہلے پارے میں بالتفصیل عرض کرچکے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ نہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت ہو اور نہ تم اصول اور اکثر فروع میں ان کے موافق ہو لہٰذا تم کو ان سے قرب اور خصوصیت کا کوئی حق نہیں ۔ اس کے حق دار تو ان کی امت کے لوگ ہیں اور یہ نبی یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور اس کی امت ہے جو اس پر ایمان لائی ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی ولایت و حمایت کا اعلان فرمایا کیونکہ یہ لوگ تمام انبیاء (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں بخلاف یہود و نصاریٰ کے کہ کسی پر ایمان لاتے ہیں اور کسی پر ایمان نہیں لاتے اور جن پر ایمان لاتے ہیں ان کی شریعت کو بھی اپنے مطلب کا بنا لیتے ہیں اور اپنے دھب کی شریعت پر عمل کرتے ہیں لہٰذا ان کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے اپنی حمایت اور اپنے ثواب کی بشارت کا اظہار فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ صاحب نے فرمایا کہ ابراہیم کو یہودی یا نصرانی اگر اس معنی میں کہتے ہو کہ توریت اور انجیل پر عمل کرتا تھا تو صریح بےعقلی ہے توریت اور انجیل اس سے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اور اگر یہ غرض ہے کہ اس وقت بھی اہل ہدایت کا نام تھا یہود اور نصاریٰ تو بھی غلط ہے بلکہ ابراہیم نے اپنے تئیں حنیف کہا ہے۔ حنیف کے معنی جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب راہ باطل چھوڑ دے اور مسلم کے معنی حکم بردار اور اگر یہ عرض ہے کہ دینوں میں یہود کے دین کو یا نصاریٰ کے دین کو زیادہ مناسبت ہے ۔ ابراہیم کے دین سے سو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ زیادہ مناسبت ابراہیم سے اس وقت کی امت کو تھی یا پچھلی امتوں میں اس نبی کی امت کو ہے تو یہ امت نام میں بھی اور راہ میں بھی ابراہیم سے مناسبت زیادہ رکھتی ہے کہ اپنی راہ کے حق ہونے پر کسی کی موافقت سے دلیل جب پکڑے کہ اپنے اوپر وحی نہ آتی ہو سو یہ اللہ والی ہے ، مسلمانوں کا یہ کہ اس کے حکم پر چلتے ہیں۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو تفصیل فرمائی ہے وہ مطلب کی وضاحت کے لئے بہت کافی ہے اب آگے اہل کتاب کی مزید خواہشات فاسد کا رد کیا جاتا ہے اور ان کو آیات خداوندی کے انکار پر تنبیہ کی جاتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)