Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 76

سورة آل عمران

بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۷۶﴾

But yes, whoever fulfills his commitment and fears Allah - then indeed, Allah loves those who fear Him.

کیوں نہیں ( مواخذہ ہوگا ) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے ، تو اللہ تعالٰی بھی ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى ... Yes, whoever fulfills his pledge and fears Allah much, fulfills his promise and fears Allah among you, O People of the Book, regarding the covenant Allah took from you to believe in Muhammad when he is sent, just as He took the same covenant from all Prophets and their nations. Whoever avoids Allah's prohibitions, obeys Him and adheres to the Shariah that He sent with His Final Messenger and the master of all mankind. ... فَإِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ verily, then Allah loves the Muttaqin.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

76۔ 1 قرار پورا کرے کا مطلب وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور پرہیزگاری کرے یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچے اور ان باتوں پر عمل کرے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقینا مواخذہ الٰہی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالیٰ ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦۔ ا ] یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بددیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بےباک اور نڈر ہوگئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا جو کچھ بھی وہ کرلیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کردی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و ناجائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے اور ان میں چند ایک جو فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قسم کی بددیانتی اور خیانت کے روادار تھے اور نہ لوگوں کے معاملہ میں۔ ایسے ہی متقی لوگوں میں سے ایک عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے حلقہ اثر کے لوگ تھے۔ جو لوگوں سے بھی کسی طرح کی بددیانتی یا ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے تھے اور جب انہیں یہ تسلی ہوگئی کہ یہ نبی واقعی وہی نبی ہیں جن کی تورات میں بشارت دی گئی ہے ہے تو وہ بلاخوف لومۃ لائم فوراً اسلام لے آئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

” بَلٰي “ (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر مبعوث ہوئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence Earlier, in ; يَقُولُونَ ,(they say - 75), there was a refutation of the claim made, by the people of the Book. Onwards from there, in verses 76-77, the same refutation has been re-asserted and the merit of fulfilling a commitment as well as the condemnation for its breach have been clarified. Commentary Ahd عھد (pledge or covenant) is what gets settled between parties concerned after mutual discussions and by which both of them have to abide. Contrary to this is وعدہ wa&dah or promise which issues forth from a single side, that is, عہد ` ahd (pledge or covenant) is bilateral while wa&dah (promise) is unilateral. That commitments should be fulfilled has been stressed in the Qur&an and Sunnah time and again. For instance, right here in verse 77 cited above, five warnings have been given to those who break their solemn pledge: 1. They will have no share in the blessings of the heaven. In a hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said that one who usurps the right of a Muslim under false oath makes the fire of Hell compulsory for himself. The narrator of the hadith asked if the Fire will become compulsory even if this concerned something very insignificant? In reply, he said: Even if this be the green bough of a tree. (Muslim vide Mazhari) 2. Allah Almighty will not speak to them with glad tidings. 3. Allah Almighty will not look at them mercifully on the Day of Doom. 4. Allah Almighty will not forgive them their sins since they wast¬ed away the rights of a servant of Allah through breach of trust, and Allah will not forgive what a human being owes to another human be¬ing. In Islamic terminology, this is known as the hagq al-&abd or the right of a servant of Allah. And a grievous punishment shall await them.

ربط آیات : اوپر ویقولون سے اہل کتاب کے دعوی کی تکذیب مذکور تھی، آگے ان آیات سے اسی تکذیب کی تاکید اور ایفاء عہد کی فضیلت اور نقض عہد کی مذمت کی تصریح ہے۔ خلاصہ تفسیر : (خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا ( ضرور ہوگا، کیونکہ اس کے متعلق ہمارے یہ دو قانون ہیں، (ایک یہ کہ) جو شخص اپنے عہد کو (خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہوا ہو، یا بشرط جواز کسی مخلوق سے) پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو (اور دوسرا قانون یہ ہے کہ) یقینا جو لوگ معاوضہ (یعنی نفع دنیوی) لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو (انہوں نے) اللہ تعالیٰ سے کیا ہے (مثلا انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا) اور (بمقابلہ) اپنی قسموں کے (مثلا حقوق العباد و معاملات کے باب میں قسم کھا لینا) ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہ ملے گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے (لطف کا) کلام فرماویں گے پاک کریں گے، اور ان کے لئے دردناک عذاب (تجویز) ہوگا۔ معارف و مسائل : عہد کی تعریف اور اس کے خلاف کرنے والے پر چند وعیدیں : عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے، جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے، بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے، یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔ ایفائے عہد کی قرآن وسنت میں بہت تاکید آئی ہے، چناچہ اوپر کی آیت نمبر ٧٧ میں بھی عہد کی خلاف ورزی کرنے والے پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔ (١) ان کے لئے جنت کی نعمتوں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے آگ کو واجب کردیا، راوی نے عرض کیا کہ اگر وہ چیز معمولی سی ہو تب بھی اس کے لئے آگ واجب ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ (رواہ مسلم بحوالہ مظہری) (٢) اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کریں گے۔ (٣) اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ (٤) اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہ کو معاف نہیں کریں گے، کیونکہ عہد کے خلاف کرنے کی وجہ سے عہد کا حق تلف ہوا ہے اور حق العبد کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ (٥) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلٰي مَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۝ ٧٦ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:76) بلی۔ حرف ۔ ہاں۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے : (1) نفی ما قبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافروں کو خیال ہے کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کیا زید کھڑا نہیں۔ جواب میں کہا جائیگا بلی۔ ہاں یعنی کھڑا ہے۔ یا استفہام تو بیخی ہو جیسے ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ ۔ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:403) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں بلکہ ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کی پورپور درست کردیں۔ یا استفاہم تقریری ہو۔ جیسے الست بربکم قالوا بلی شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) ہم گواہ ہیں۔ نعم اور بلی میں فرق یہ ہے کہ نعم استفہام مجرد کے جواب میں آتا ہے۔ اور بلی بالاتفاق ایجاب کے جواب میں نہیں آتا۔ بلکہ اس استفہام کے جواب میں آتا ہے جو مقرن (متصل) بنفی ہو۔ نیز بلی ابطال کی مثال۔ اور نعم کی مثال۔ فہل وجدتم مادعد ربکم حقا قالوا نعم۔ اوفی۔ ایفاء سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے پورا کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 بلی ٰ کیوں نہیں یعنی اس کی بد عہدی اور خیانت پر ضرور مئو خذہ ہوگا اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے۔ (اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہو معالہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے او اس شریعت کی اتباع کرتا ہے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر مبعوث ہوئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ موسیٰ کے علاوہ کسی نبی کو تسلیم نہ کریں۔ یہاں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمام انبیاء سے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا عہد لیا تھا۔ لہٰذا جو شخص انبیاء کے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور اللہ کی نافرمانی سے بچے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ انسان کا تعلق کسی مذہب سے ہو وہ فطری اور شرعی طور پر تین باتوں کا مکلّف ہوتا ہے۔ تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ سے ” اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ “ کے جواب میں توحید کا اقرار کرنا، ہر نبی کے عہد اور اعلان کے مطابق نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا اور ایک دوسرے کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاسداری کرنا۔ جو شخص بھی وعدہ ایفاء کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے یقینًا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلاَّ قَالَ لاَ إِیمَانَ لِمَنْ لاَ أَمَانَۃَ لَہُ وَلا دینَ لِمَنْ لاَ عَہْدَ لَہُ )[ رواہ احمد ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا آپ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانتداری نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے عہد اور اس کے تقاضے پورے کرنے چاہییں۔ ٢۔ ایک دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ایفائے عہد کا حکم : ١۔ وعدہ پورا کرنے کا حکم۔ (المائدۃ : ١) ٢۔ قیامت کو عہد کی باز پرس۔ (بنی اسرائیل : ٣٤) ٣۔ عہد پورا کرنے والے متقی۔ (البقرۃ : ١٧٧) ٤۔ عہد پورا کرنے والے عقل مند۔ (الرعد : ١٩، ٢٠) ٥۔ عہد پورا کرنے والوں کو اجر عظیم۔ (الفتح : ١٠) ٦۔ عہد پورا کرنے والے جنتی ہیں۔ (المومنون : ١٠، ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔ یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔ یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی توجہ نہ کرے گا اور ان کی کوئی رو رعایت نہ ہوگی ۔ یوں ادا کیا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کے ساتھ بات کرے گا ‘ نہ ان کی طرف نظر اٹھاکر دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا ۔ یہ وہ انداز ہے جو بالعموم نظر انداز کرنے کے لئے عام لوگوں کے درمیان متعارف ہے ۔ قرآن کریم نے اس تصویری انداز بیان کو اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان کی رسوائی کی ایک زندہ اور وجدانی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے ۔ یہ زندہ اور وجدانی پیرایہ اظہار محض تجریدی انداز بیان سے زیادہ دلنشین ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا پیرایہ اظہار ‘ بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ۔ ذرا آگے بڑھئے اور دیکھئے اہل کتاب کے کچھ اور نمونے ‘ ایک نمونہ ان گمراہ کنندگان کا ہے جو خود کتاب اللہ کو لوگوں کی گمراہی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر چالاکی سے بات کرتے ہیں اور مراد کچھ سے کچھ بن جاتی ہے ۔ وہ آیات کتاب میں ایسی توڑپھوڑ کرتے ہیں جس سے مراد اور مفہوم ان کی متعینہ خواہشات کے مطابق ہوجاتا ہے اور اس توڑ اور پھوڑ کے بدلے میں ایک حقیر فیس وصول کرتے ہیں ۔ اور اس فیس کا تعلق اس دنیا کے حقیر مقاصد کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو تحریفات اور تاویلات کرتے تھے منجملہ ان میں سے وہ عقائد تھے ‘ جو انہوں نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں گھڑرکھے تھے ۔ اور وہ عقائد اہل کنیسا اور حکام وقت کے مفید مطلب تھے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مَنْ اَوْفیٰ بِعَھْدِہٖ وَا تَّقٰی کی تفسیر : آخر میں فرمایا : (بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) کہ یہ بات نہیں ہے کہ ان پڑھوں کے مالوں کو حرام طریقے پر رکھ لینے سے ان پر کوئی مواخذہ نہ ہو ان پر مواخذہ ضرور ہے۔ فی الروح لصفحہ ٢٠٣: ج ٣ بلی جواب لقولھم لیس علینا فی الامیین سبیل وایجاب لما نفوہ والمعنی بلی علیھم فی الامیین سبیل اور من او فی بعھد و اتقی۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہودی باو جود ایسی حرکتوں کے جو اوپر ذکر ہوئیں اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی سمجھتے ہیں۔ اللہ کا محبوب وہ ہے جو اس کے عہد کو پورا کرے (عہد میں یہ بھی شامل ہے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں) اور گناہوں سے بچے سب سے بڑا گناہ کفر اور شرک ہے اس سے بھی بچے اور لوگوں کے اموال مارنے سے بھی بچے (یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پوری طرح خیال رکھے) جو شخص ایسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ قال ابن کثیر صفحہ ٣٧٤: ج ١ ای لکن من او فی بعھدہ و اتقی منکم یا اھل الکتاب الذی عاھد کم اللّٰہ علیہ من الایمان بمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذا بعث کما اخذ العھد والمیثاق علی الانبیاء و اممھم بذلک و اتقی محارم اللّٰہ و اتبع طاعتہ و شریعتہ التی بعث بھا خاتم رسلہ و سید ھم (فان اللّٰہ یحب المتقین) اس آیت میں عہد پورا کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر ہے۔ اللہ سے عہد ہو یا بندوں سے اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اللہ سے اہل کتاب کا یہ عہد تھا کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اسے انہوں نے پورا نہ کیا اور ہر مسلمان کا اللہ سے عہد ہے کہ میں آپ کے احکام کی تعمیل کروں گا۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک بات بتا دیجیے جس کے بعد مجھے آپ کے علاوہ کسی اور سے پوچھنا نہ پڑے اور یہ بات اسلام کی باتوں میں سب سے زیادہ جامع ہو آپ نے فرمایا : قال اٰمنت باللّٰہ ثم استقم (تو امنت باللہ کہہ دے اور اس پر جما رہے) ۔ (رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ ١٢) اسلام کا کلمہ پڑھ لینا محض زبانی بات نہیں ہے اس کی ذمہ داریاں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ سے اقرار ہے اور عہد ہے کہ میں آپ کے احکام پر چلوں گا جو آپ کی کتاب اور آپ کے رسول کے ذریعے مجھے پہنچے ہیں۔ اسلام کی جو پابندیاں ہیں ہر مسلمان ان کے پورے کرنے کا عہد کرچکا ہے ان کا پورا کرنا لازم ہے اور بندوں سے بھی بہت سے عہد کیے جاتے ہیں ان میں سے جو گناہ نہ ہو اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَ اَوْفُوْا بالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (اور عہد کو پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں جس شخص میں ہوں گی خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں ایک خصلت ہوگی جب تک اسے چھوڑ نہ دے گا اس میں نفاق کی ایک خصلت موجود ہوگی (١) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (٢) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (٣) جب عہد کرے تو دھوکہ دے۔ (٤) جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

105 کلمہ بَلیٰ ماقبل کی نفی کے لیے ہے۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ امیین کے اموال میں ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں تو اس کا رد فرمایا کہ کیوں نہیں۔ ذمہ داری تو ہر شخص پر عائد ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی سے کوئی عہد کرتا ہے تو اس کی پابندی اس پر لازم ہے لہذا جو شخص اپنے عہد کی باپندی کرے اور خدا سے ڈرے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ خلاصہ یہ جس طرح تم نے سمجھ رکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یوں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ اور ان اہل کتاب میں سے بعض شخص تو ایسا ہے کہ اگر اے مخاطب تو اس کے پاس ڈھیر کا ڈھیر مال بھی امانت رکھ دے تو جب تو طلب کرے وہ اس مال کو تجھے ادا کر دے اور انہی اہل کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اے مخاطب اگر تو اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دے تو وہ تجھ کو وہ دینار بھی ادا نہ کرے مگر یہ کہ تو ہر وقت اس کے سر پر کھڑا رہے یہ امانت کا ادا نہ کرنا اور ان کا خیانت کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پڑھ یعنی غیر اہل کتاب کا حق مار لینے میں ہم پر کوئی الزام اور کوئی مواخذہ نہیں اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ یہ خود اس بات کے غلط ہونے کو جانتے ہیں مواخذہ کیوں نہ ہوگا ضرور ہوگا۔ بات یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا اور خیانت و کفر کی روش سے بچتا رہے گا تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ایسے پرہیز گاروں کو پسند کرتا اور دوست رکھتا ہے۔ ( تیسیر) قنطار کو اس سورت کے شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ مال کے انبار کو کہتے ہیں دینار سونے کے سکے کو کہتے ہیں ۔ شاہ صاحب (رح) نے اشرفی ترجمہ کیا ہے یہاں مراد تھوڑا مال ہے مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں کچھ لوگ تو امین اور امانت کے سچے ہیں ان کے پاس کتنا ہی مال رکھ دو جب ان سے طلب کرو وہ فوراً نکال کر رکھ دیں اور بعض ایسے کم بخت لیچڑ ہیں کہ ان کے پاس تھوڑا سا مال مثلاً ایک گنی امانت رکھ دو تو طلب کرنے کے وقت وہ اشرفی بھی واپس نہ کریں بلکہ موقع لگے تو مکر جائیں مگر ہاں لینے والا ان کے سر پر ہی کھڑا رہے یعنی خوب تقاضا کرے اور ان کے خلاف حاکم کے ہاں دعویٰ کر دے یا خوشامد کر کے مانگے تب ان سے وہ امانت وصول ہوجائے تو ہوجائے۔ خیر یہاں تک تو بخل اور لیچڑ پنے کی بات تھی لیکن آگے فرمایا کہ ان نادہندوں نے ایک مسئلہ بنا رکھا ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ یہاں کہتے ہیں کہ ان عرب کے جاہل لوگوں کا مال کھا جانا ہمارے لئے حلال ہے یعنی جو لوگ اہل کتاب نہیں ہیں ان کی رقم خواہ کسی طرح کھا جائو سب جائز ہے۔ خیانت کرلو ، دھوکہ دے دو چرا چھپا کے ان کا حق مار لو سب جائز ہے یہ لوگ اللہ کی جانب جھوٹی بات کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ دل سے یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ توریت میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ غیر اہل کتاب کا مال تم کو خیانت سے کھا جانا جائز ہے اور ایسا کرنے سے تم پر کوئی الزام نہیں۔ آگے فرمایا بلی یعنی تم پر الزام ضرور ہوگا اور تم سے اس قسم کی خیانت پر ضرور مواخذہ ہوگا کیونکہ ہمارا قاعدہ یہ ہے اور آسمانی شریعت کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیا ہو یا کوئی جائز یا صحیح عہد بندے سے کیا ہو اس عہد کی پابندی کرے گا اور خدا سے ڈرتا رہے گا ۔ جس میں خیانت اور کفر سے بچنا بھی آگیا کیونکہ جو خدا سے ڈرے گا وہ کفر اور خیانت سے پرہیز کرے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے پرہیز گاروں کو محبوب رکھتا ہے۔ آیت کے شان نزول کے بارے میں بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت دار حضرات سے وہ اہل کتاب مراد ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے یا بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا یہ آیت ان کی تعریف اور مدح میں نازل ہوئی ہے۔ کسی نے عبد اللہ بن سلام (رض) کے پاس 0021 اوقیہ امانت رکھا تھا اور انہوں نے طلب کرنے کے وقت جوں کا توں ادا کردیا تھا اور جن لوگوں کی خیانت کا ذک رہے اور جن کی مذمت کی گئی ہے ان سے مراد کعب بن اشرف یا فخاص بن عازورا ہے کہ کسی قریشی نے اس کے پاس ایک دینار امانت رکھوایا تھا مگر اس نے اس میں بھی خیانت کرلی ۔ بہر حال آیت کا نزول خواہ کسی خاص موقع کے ساتھ تعلق رکھتا ہو مگر آیت کا مفہوم عام ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اللہ صاحب مسلمانوں کو سناتا ہے کہ جن کی یہ نیت ہے کہ پرانا حق کھانے کو یہ مسئلہ بنا لیا کہ ہم کو غیر دین والوں کی امانت میں خیانت کرنی روا ہے ان کی بات دین کے مقدمہ میں کیا سند ہو سکے ۔ ہمارے ہاں بھی کافر حربی کا مال زور سے لینا روا ہے لیکن امانت میں خیانت روا نہیں۔ ( موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب (رح) نے فقہ کے ایک اور مسئلہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ ہمارے ہاں جو حربی کے مال اور اس کے خون کو مباح کہا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑ کر اس کا مال چھین سکتے ہو یا اس کی رضا مندی سے لے سکتے ہو لیکن جھوٹ بول کر یا خیانت کر کے حربی کا مال لینا جائز نہیں اور بات بھی یہ ہے کہ آسمانی شریعت میں شریعت میں خیانت اور کذب کی اجازب ہو بھی نہیں سکتی۔ پھر اہل کتاب کا یہ کہنا کہ لیس علینا فی الامین سبیل اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حربی اور غیر حربی کا سوال نہ تھا بلکہ وہ غیر اہل کتاب کو اپنے سے کمتر اور جاہل وان پڑھ سمجھتے تھے اس لئے اپنے کو اس کا مستحق سمجھتے تھے ان کا مال کھا لینا اور ان کا حق دبا لینا ہم کو جائز اور روا ہے اگر کسی کو آیت کی عمومیت پر یہ شبہ ہو کہ اگر آیت کو عام رکھا جائے اور یہ کہا جائے کہ آیت میں امانت داروں کی مدح ہے خواہ وہ کافر ہوں یا مسلمان ہوں تو اس تقریر پر کافر کے ایک فعل کی تعریف لازم آئے گی حالانکہ کافر کا کوئی عمل بدوں اسلام کے مقبو ل نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مقبول عدم مقبول کی بحث نہیں بلکہ یہاں تو ایک اچھے فعل کی تعریف کرنا مقصود ہے خواہ اس کا مرتکب کافر ہی کیوں نہ ہو اور یہی وہ اسلا م کی خوبی فیاضی اور انصاف ہے کہ وہ اچھی بات کو سراہتا ہے ، خواہ وہ کافر ہی کی ہو۔ امانت دار ی ایک بہترین فعل ہے اگر وہ کافر میں ہو تب بھی قابل ستائش ہے اور مسلمان میں ہو تب بھی قابل تعریف ہے باقی رہا مقبول ہونا تو یہ ظاہر ہے کہ کافر کی کوئی بھلائی جب تک وہ مسلمان نہ ہو قابل نہیں البتہ دنیا میں اس کو کوئی فائدہ پہنچ جائے اس کے مال و اولاد میں زیادتی ہوجائے یا قیامت میں اس خوبی کی وجہ سے تھوڑی بہت عذاب میں کمی ہوجائے وہ دوسری بات ہے ۔ اوپر لیس علینا فی الامین سبیل کا رد تھا اور ان کا دعویٰ کی تکذیب تھی اب آگے اسی تکذیب کی تاکید اور وفائے عہد کی فضلیت اور عہد شکنوں کی مذمت اور ان کے لئے وعید کا ذدک رہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)