Sequence Earlier, in ; يَقُولُونَ ,(they say - 75), there was a refutation of the claim made, by the people of the Book. Onwards from there, in verses 76-77, the same refutation has been re-asserted and the merit of fulfilling a commitment as well as the condemnation for its breach have been clarified. Commentary Ahd عھد (pledge or covenant) is what gets settled between parties concerned after mutual discussions and by which both of them have to abide. Contrary to this is وعدہ wa&dah or promise which issues forth from a single side, that is, عہد ` ahd (pledge or covenant) is bilateral while wa&dah (promise) is unilateral. That commitments should be fulfilled has been stressed in the Qur&an and Sunnah time and again. For instance, right here in verse 77 cited above, five warnings have been given to those who break their solemn pledge: 1. They will have no share in the blessings of the heaven. In a hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said that one who usurps the right of a Muslim under false oath makes the fire of Hell compulsory for himself. The narrator of the hadith asked if the Fire will become compulsory even if this concerned something very insignificant? In reply, he said: Even if this be the green bough of a tree. (Muslim vide Mazhari) 2. Allah Almighty will not speak to them with glad tidings. 3. Allah Almighty will not look at them mercifully on the Day of Doom. 4. Allah Almighty will not forgive them their sins since they wast¬ed away the rights of a servant of Allah through breach of trust, and Allah will not forgive what a human being owes to another human be¬ing. In Islamic terminology, this is known as the hagq al-&abd or the right of a servant of Allah. And a grievous punishment shall await them.
ربط آیات : اوپر ویقولون سے اہل کتاب کے دعوی کی تکذیب مذکور تھی، آگے ان آیات سے اسی تکذیب کی تاکید اور ایفاء عہد کی فضیلت اور نقض عہد کی مذمت کی تصریح ہے۔ خلاصہ تفسیر : (خائن پر) الزام کیوں نہ ہوگا ( ضرور ہوگا، کیونکہ اس کے متعلق ہمارے یہ دو قانون ہیں، (ایک یہ کہ) جو شخص اپنے عہد کو (خواہ وہ عہد اللہ تعالیٰ سے ہوا ہو، یا بشرط جواز کسی مخلوق سے) پورا کرے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرے تو بیشک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں (ایسے) متقیوں کو (اور دوسرا قانون یہ ہے کہ) یقینا جو لوگ معاوضہ (یعنی نفع دنیوی) لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو (انہوں نے) اللہ تعالیٰ سے کیا ہے (مثلا انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا) اور (بمقابلہ) اپنی قسموں کے (مثلا حقوق العباد و معاملات کے باب میں قسم کھا لینا) ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہ ملے گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے (لطف کا) کلام فرماویں گے پاک کریں گے، اور ان کے لئے دردناک عذاب (تجویز) ہوگا۔ معارف و مسائل : عہد کی تعریف اور اس کے خلاف کرنے والے پر چند وعیدیں : عہد اس قول کا نام ہے جو فریقین کے درمیان باہمی بات چیت سے طے ہوتا ہے، جس پر جانبین کو قائم رہنا ضروری ہوتا ہے، بخلاف وعدہ کے کہ وہ صرف جانب واحد سے ہوتا ہے، یعنی عہد عام ہے اور وعدہ خاص ہے۔ ایفائے عہد کی قرآن وسنت میں بہت تاکید آئی ہے، چناچہ اوپر کی آیت نمبر ٧٧ میں بھی عہد کی خلاف ورزی کرنے والے پر پانچ وعیدیں مذکور ہیں۔ (١) ان کے لئے جنت کی نعمتوں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، ایک حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اس نے اپنے لئے آگ کو واجب کردیا، راوی نے عرض کیا کہ اگر وہ چیز معمولی سی ہو تب بھی اس کے لئے آگ واجب ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا اگرچہ وہ درخت کی سبز ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔ (رواہ مسلم بحوالہ مظہری) (٢) اللہ تعالیٰ ان سے خوش کن بات نہیں کریں گے۔ (٣) اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ (٤) اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہ کو معاف نہیں کریں گے، کیونکہ عہد کے خلاف کرنے کی وجہ سے عہد کا حق تلف ہوا ہے اور حق العبد کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ (٥) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔