Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 83

سورة آل عمران

اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَ لَہٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

So is it other than the religion of Allah they desire, while to Him have submitted [all] those within the heavens and earth, willingly or by compulsion, and to Him they will be returned?

کیا وہ اللہ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالٰی ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے ، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Only Valid Religion To Allah is Islam Allah says; أَفَغَيْرَ دِينِ اللّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا ... Do they seek other than the religion of Allah, while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. Allah rebukes those who prefer a religion other than the religion that He sent His Books and Messengers with, which is the worship of Allah Alone without partners, to Whom, وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ (submitted all creatures in the heavens and the earth), Willingly, or not. Allah said in other Ayat, وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا And unto Allah (Alone) falls in prostration whoever is in the heavens and the earth, willingly or unwillingly. (13:15) and, أَوَ لَمْ يَرَوْاْ إِلَى مَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَلُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالْشَّمَأيِلِ سُجَّدًا لِلّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الاَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَليِكَةُ وَهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُوْمَرُونَ Have they not observed things that Allah has created: (how) their shadows incline to the right and to the left, making prostration unto Allah, and they are lowly. And to Allah prostrate all that is in the heavens and all that is in the earth, of the moving creatures and the angels, and they are not proud. They fear their Lord above them, and they do what they are commanded. (16:48-50) Therefore, the faithful believer submits to Allah in heart and body, while the disbeliever unwillingly submits to Him in body only, since he is under Allah's power, irresistible control and mighty kingship that cannot be repelled or resisted. Waki reported that Mujahid said that; the Ayah, وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا (While to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly), is similar to the Ayah, وَلَيِن سَأَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ And verily, if you ask them: "Who created the heavens and the earth!" Surely, they will say: "Allah." (39:38) He also reported that Ibn Abbas said about, وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا (while to Him submitted all creatures in the heavens and the earth, willingly or unwillingly), "When He took the covenant from them." ... وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ And to Him shall they all be returned. on the Day of Return, when He will reward or punish each person according to his or her deeds. Allah then said,

اسلامی اصول اور روز جزا اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ) 13 ۔ الرعد:15 ) یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً اور جگہ ہے آیت ( اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ ) 16 ۔ النحل:48 ) کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں ، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں ، اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گذار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں ، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے ، ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں ۔ اس حدیث کی اور سند بھی ہے ، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے ، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے آیت ( وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ) 31 ۔ لقمان:25 ) اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا ۔ پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب علیہم السلام پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے ، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو حضرت یعقوب کی نسل میں سے تھے یہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے ، حضرت موسیٰ کو توراۃ دی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے ، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آکر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے ، روزہ آکر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا ۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے آیت ( وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ) 3 ۔ آل عمران:85 ) یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے اور اس کے راوی حسن کا حضرت ابو ہریرہ سے سننا ثابت نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

83۔ 1 جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے باہر نہیں چاہے خوشی سے چاہے ناخوشی سے۔ تو پھر تم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو ؟ اگلی آیت میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر مُنَزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے کھانے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] اللہ کا دین کیا ہے ؟ اللہ کا دین صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے کا نام ہے۔ کائنات کی ہر چیز زمین و آسمان، شمس و قمر، ستارے اور سیارے، فرشتے اور ہوائیں غرض جو چیز بھی موجود ہے خواہ یہ اطاعت اضطراری ہو یا اختیاری، بہرحال وہ اللہ کی مطیع فرماں ہے اور اس کے حکم سے سرمو تجاوز نہیں کرسکتی۔ انسانوں اور جنوں کو کسی حد تک فرمانبرداری اور نافرمانی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن کاموں میں انہیں تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے ان میں بھی وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں۔ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء پر نازل ہوا اور اسی کی وہ تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

طَوْعًا وَّكَرْھًا : اگر کوئی کہے کہ بہت سے انسان اللہ کے فرماں بردار ہیں ہی نہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ بھی فرماں بردار ہونے میں بےبس ہیں، ورنہ اپنا سانس یا دل کی دھڑکن یا بھوک و پیاس یا پیشاب و پاخانہ روک کردکھائیں، ہاں اعمال سے متعلق انسان کو ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور اسی سے متعلق باز پرس ہوگی ۔ اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ : یعنی جب آسمان و زمین کی ہر چیز، فرشتے، جن و انس وغیرہ اللہ کے قانون فطرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اختیاری و غیر اختیاری طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت ” دِيْنِ اللّٰهِ “ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اگر آخرت میں نجات چاہتے ہیں تو اللہ کا دین، جو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اسے اختیار کرلیں۔ نیز دیکھیے سورة آل عمران (٨٥) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللہِ يَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا وَّاِلَيْہِ يُرْجَعُوْنَ۝ ٨٣ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔ بغي البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، والبَغْيُ علی ضربین : - أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع . - والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42] ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ بغی دو قسم پر ہے ۔ ( ١) محمود یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز کرکے تطوع بجا لانا ۔ ( 2 ) مذموم ۔ یعنی حق سے تجاوز کرکے باطل یا شہارت میں واقع ہونا چونکہ بغی محمود بھی ہوتی ہے اور مذموم بھی اس لئے آیت کریمہ : ۔ { السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ } ( سورة الشوری 42) الزام تو ان لوگوں پر ہے ۔ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں ۔ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٣) اب اللہ تعالیٰ یہود ونصاری کی دشمنی اور ان کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے کا ذکر فرماتے ہیں، انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ ہم میں سے کون حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیمی پر نہیں ہے، وہ بولے ہم آپ کی اس بات سے راضی نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کیا اس دین اسلام کے علاوہ اور کسی طریقہ کو چاہتے ہو حالانکہ توحید اور اسلام کے سامنے تمام فرشتے اور مومنین سرجھکائے ہوئے ہیں تمام آسمانوں والے بخوشی اور زمین والے زبردستی اور یہ معنی بھی کیے گئے ہیں کہ اخلاص والے لوگ خوشی خوشی اور منافق بےاختیاری سے اسلام میں داخل ہوئے وہ بےاختیاری کے ساتھ سرجھکائے ہوئے ، اور مرنے کے بعد سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے، اب اللہ تعالیٰ اسلام کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں، تاکہ ان لوگوں کو اس کی طرف رہنمائی ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71. The basic principle characterizing the universe, in other words the religion of the universe and of every part of it, is Islam; insofar as the universe is in a state of total obedience and service to the Will of God. Here people are asked if they would follow a way of life different from Islam though they are part of the universe which is characterized by submission to God (islam).

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :71 یعنی تمام کائنات اور کائنات کی ہر چیز کا دین تو یہی اسلام ، یعنی اللہ کی اطاعت و بندگی ہے ، اب تم اس کائنات کے اندر رہتے ہوئے اسلام کو چھوڑ کر کونسا طریقہ زندگی تلاش کر رہے ہو؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

30: مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے اہل ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل وجان سے بخوشی قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چار وناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سرجھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند ہرحال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی مومن ہو یا کافر اسے فیصلے کے آگے سرجھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(83 ۔ 85) ۔ غصہ کے ایک استفسار کے طور پر اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے ہزارہا برس پہلے دنیا کے ہر ایک دور کی مصلحت کے موافق ایک قانون قرار دیا ہے۔ جس کو اس دور کی شریعت ٹھہرایا ہے اور اسی مصلحت وقتیہ کے انتظام کے لئے ہر نبی اور امت سے وہ معاہدہ قرار پا چکا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے تو پھر اب جو کوئی اس انتظام الٰہی میں خلل ڈالے گا۔ اور سوائے اس شریعت وقتیہ کے غیر وقتیہ شریعت پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے کچھ اجر نہ پائے گا۔ اور اس کا کیا کرایا سب اکارت ہے کیونکہ اجر اسی عمل پر ہے جو مرضی کے موافق ہو خلاف مرض الٰہی کام پر تو اور مواخذہ ہوگا اجر کہاں رہا۔ اور آسمان و زمین میں سب پر اللہ کا حکم چلتا ہے اس لئے جو اس کے حکم کے برخلاف کرے گا وہ آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ حاصل مقام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام تکونیہ کے تو سب مسخر ہیں اور کرہ سے یہی مراد ہے اور بہترے احکام شرعیہ کے بھی مطبع ہیں اور طوع کا یہی مطلب ہے تو ایک قسم حکم کی تو سب ہی پر جاری ہے اور دوسری قسم کو بھی بہتوں نے قبول کر رکھا ہے جس سے حاکم کی عظمت نمایاں ہے اب بعض جو دوسری قسم میں خلاف کرتے ہیں تو کیا کوئی اور اس عظمت کا مالک ہے جس کی موافقت کے لیے یہ مخالفت کرتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب اور اللہ کے نافرمانوں کو بار بار سوچنا چاہیے کہ تمہاری بد عہدی اور نافرمانی سے رب کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے خالق ومالک کی تابعدار ہے۔ جب ساری مخلوق تابعدار اور تمام انبیاء نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اقرار اور اس سے عہد کیا تو تم نبوت کا انکار اور اللہ کی بغاوت کرنے والے کون ہوتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکامات ماننے کا نام دین ہے۔ اے اہل کتاب اور دنیا جہان کے لوگو ! کیا اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر کسی اور کی تابعداری کرنا چاہتے ہو ؟ ذراغور کرو اور سوچو کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے۔ سورج اس کے حکم کے مطابق ڈیوٹی دے رہا ہے، چاند اس کی اطاعت میں اپنی منازل طے کرتا ہے، ستارے اسی کے نظام کے مطابق چھپتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ دریا اور سمندر اس کے حکم سے رواں دواں ہیں۔ ہوائیں اس کی فرمانبرداری میں چلتی اور رکتی ہیں، رات اور دن اس کے حکم سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے چل رہے ہیں جونہی حکم ہوگا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، ہوائیں تھم جائیں گی، سمندر جامد ہوجائیں گے، سورج اپنا رخ موڑلے گا، اور لیل ونہار کی گردشیں رک جائیں گی گویا کہ پورے کا پورا نظام لفظ ” کُنْ “ سے جامد، ساکت اور الٹ پلٹ ہوجائے گا۔ جب پورا نظام اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت اور اس کے حکم سے انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے تو حیف ہے انسان پر جو اس کی ذات کا انکار اور اس کے حکم سے سرتابی کرتے ہوئے پورے نظام کے ساتھ بغاوت اور اس کے خلاف چلتا ہے۔ لہٰذا انتباہ کے انداز میں سوال کیا جا رہا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کے خلاف چلنا چاہتے ہو ؟ جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز چاروناچار اس کے حکم کی فرمانبردار ہے۔ لفظ ” کَرْھًا “ استعمال فرما کر باغی انسانوں کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اللہ ہواؤں کا رخ موڑدیتا ہے، سمندروں کو پرسکون بنا دیتا ہے، پہاڑوں کو پھاڑکر چشمے چلا دیتا ہے، شمس وقمر اپنے وجود عظیم کے باوجود اس کے سامنے بےبس ہیں، آسمان اپنی بلندیوں کے باوجود اس کے زیر تسلط ہیں، زمین کی وسعت و کشادگی اس کی کرسی اقتدار کے سامنے ایک انگوٹھی کے مانند ہے تو اے انسان ! تم اس رب کی دسترس سے کس طرح باہر ہوسکتے ہو ؟ اس کی دی ہوئی مہلت کے بعد بالآخر تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ دین کی روح اور مدعا اللہ تعالیٰ کی سمع وطاعت کا نام ہے اور یہی انبیاء کرام کی دعوت ہے اور اسی پر وہ ایمان لائے اور اسی کی اطاعت کرتے رہے۔ لہٰذا اے رسول ! تم اس بات کا اعلان کرو کہ میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کے سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور جو کچھ ہم پر اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، موسیٰ اور عیسیٰ پر نازل کیا گیا ہم ان میں سے کسی ایک کی نبوت کی نفی اور ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے ماننے والے ہیں اور یہی انبیاء کا دین اور طریقۂ حیات تھا۔ جو بھی اس طرز بندگی اور سمع وطاعت کے طریقہ سے ہٹ کر زندگی بسر کرے گا اس کی کوئی نیکی اور کاوش اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوگی اور اس کا انجام بالآخر نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ مسائل ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تابع فرمان ہے۔ لہٰذا جن و انس کو بھی اللہ کی اطاعت کرنا چاہیے۔ ٢۔ سب نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ٣۔ اسلام کے سوا دوسرادین قبول نہیں کیا جائے گا۔ ٤۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ انبیاء کی کتابوں کا من جانب اللہ ہونا بلاتفریق تسلیم کیا جائے۔ ٥۔ دین اسلام کے خلاف چلنے والا بالآخر نقصان اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن اسلام کی اہمیّت : ١۔ اسلام کے بغیر کوئی دین قبول نہیں۔ (آل عمران : ٨٥) ٢۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ (آل عمران : ١٩) ٣۔ یوسف (علیہ السلام) کی اسلام پر موت کی دعا۔ (یوسف : ١٠١) ٤۔ سب کو اسلام پر ہی مرنے کا حکم۔ (البقرۃ : ١٣٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ ہے کہ اسلام اور سرتسلیم خم کرنے کی ایک گہری شکل ‘ ایک ایسی شکل و صورت جو تکوینی ہے جو انسان کے شعور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے انسانی ضمیر میں اللہ خوفی پیدا ہوتی ہے ۔ ایک عظیم قانون قدرت کی صورت جو قہاروجبار ہے ۔ جو تمام کائنات کی مردہ اور زندہ چیزوں کو ایک ہی سنت الٰہیہ اور شریعت الٰہیہ کے تابع فرمان بناتی ہے ۔ اور جس کے مطابق دونوں کا مال اور انجام ایک ہے ۔ یہ ہے اسلام وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ……………” اور سب نے اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ “…………لہٰذا یہ سب چیزیں آخرکار لازماً اسی اللہ کو پلٹ کرجائیں گی جو سب کو گھیرے ہوئے ہیں ‘ سب کا مدبر ہے اور نہایت ہی جلال و عظمت کا مالک ہے اور اس انجام سے کوئی راہ فرار نہیں ہے ۔ اگر انسان اپنی کامیابی اور سعادت چاہتا ہے ‘ اگر وہ راحت اور اطمینان چاہتا ہے ‘ اگر وہ اطمینان قلب اور صلاح حال چاہتا ہے تو اس کے لئے ماسوائے اس کے کوئی اور راہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی طرف رجوع کرے ۔ اپنی ذات میں بھی ‘ اپنے نظام زندگی میں بھی اور اپنے اجتماعی نظام میں بھی تاکہ اسکی زندگی اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے ۔ اور اس فطرت کائنات کے برخلاف اپنے لئے کوئی علیحدہ نظام زندگی وضع کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ اس لئے کہ اس کا یہ خود ساختہ نظام ‘ نظام کائنات کے ساتھ متضاد ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے ۔ اور یہ انسان طوعاً وکرہاً اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند ہے ۔ وہ نظام جو اس کے تصور اور شعور میں ہے ‘ جو اس کی عملی زندگی اور اس کے باہمی تعلقات میں ہے ‘ جو اس کی تمام جدوجہد اور سرگرمیوں میں ہے ۔ جب اس کائناتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے درمیان کوئی تصادم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ جب انسان کائناتی قوتوں کے ساتھ تصادم کی راہ لیتا ہے تو وہ پاش پاش ہوجاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کا وجود نہیں مٹتا تو وہ کم ازکم فریضہ خلافت کی ادائیگی کے قابل نہیں رہتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار کیا ہے ۔ اور اگر وہ قوانین قدرت اور کائناتی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ‘ جو خود اسے اور اس کے گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ خواہ زندہ ہوں یا غیر زندہ تو اس صورت میں وہ تمام اسراکائنات کا رازدان ہوگا ‘ وہ اس کی قوتوں کو مسخر کردے گا ان سے مفاد حاصل کرے گا اور اسی طرح وہ راحت ‘ آرام اور سکون حاصل کرے گا ۔ اور بےچینی ‘ قلق اور خوف سے نجات ملے گی ۔ مثلاکائنات کا مفاد یوں ہوگا کہ ایک کائناتی قوت کو جلانے اور تخریب کے لئے استعمال کرنے کے بجائے وہ کھانے پکانے ‘ گرمی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرے گا ۔ اور اس سے روشنی حاصل کرے گا۔ انسانی مزاج اپنی اصلیت کے اعتبار سے ان کائناتی قوتوں اور نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ انسان کا وجدان اسی طرح اپنے رب کی اطاعت چاہتا ہے جس طرح اس کائنات کی پوری زندہ اور غیر زندہ اشیاء اس کے سامنے سربسجود ہیں ۔ جب ایک انسان قوانین فطرت کے خلاف راہ اختیار کرتا ہے۔ تو وہ صرف نظام فطرت کے خلاف ہی نہیں جاتا بلکہ وہ خود ان نوامیس طبیعت کے بھی خلاف جاتا ہے جو اس کے نفس کے اندر موجود جاری وساری ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت پریشان ‘ شکستہ حیران اور بےچین نظرآتا ہے ۔ اور اس کی زندگی اسی طرح برباد ہوجاتی ہے جس طرح آج کا ایک گمراہ ‘ بےراہ رو انسان کی زندگی ہوتی ہے ۔ اور جسے ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ حالانکہ آج کے انسان نے علمی میدان میں بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں اور وہ مادی ترقی کے بام عروج پر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانیت ایک انتہائی تلخ روحانی خلا میں مبتلا ہے ۔ اور یہ ایک ایسا خلا ہے جسے فطرت انسان بھول نہیں سکتی ۔ یعنی انسانیت ذوق یقین سے محروم ہے ۔ اس کی زندگی اسلامی نظام سے محروم ہے ‘ اس لئے کہ یہی نظام زندگی ‘ ان مادی ترقیات اور قوانین فطرت کے درمیان توازن پیدا کرسکتا ہے جس میں انسان کی تگ ودو اور قوانین فطرت کی رفتار ایک سمت میں ہوجاتی ہے ۔ انسانیت اس وقت جھلس دینے والی تپتی دھوپ میں سرگردان ہے اور وہ اسلامی نظام زندگی کی گھنی چھاؤں سے محروم ہے جس میں کو خوشگوار زندگی بسر کرسکے ۔ اور شر و فساد سے اسے نجات ملے جس میں وہ محض اس لئے گرفتار ہے کہ وہ اسلام کے شاہراہ مستقیم اور جادہ مانوس سے ہٹ گئی ہے ۔ اس دشوار گزار راستے اور حیرانی و پریشانی ‘ قلق وبے چینی اور اضطراب وگمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ وہ ہر وقت بھوک ‘ افلاس اور روحانی خلا اور محرومیت کے احساس کا شکار ہے ۔ اور اسی صورت حال سے اس نے فرار کا یہی ایک راستہ پایا ہے ۔ کہ حشیش ‘ چرس اور ہیروئن جیسی منکرات اور تباہ کن ذرائع اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یہ جنونی سرعت ‘ احمقانہ حرکات ‘ اخلاقی بےراہ روی سے اس خلاکو بھرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ناکام ہے ۔ اور یہ صورت حال باوجود اس بےپناہ مادی ترقی ‘ بےحد و حساب پیداوار اور ساری زندگی کی بےپناہ سہولیات کے باوجود جوں کی توں ہے ۔ بلکہ اس قلق اور اس حیرانی اور ان پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اور اسی نسبت سے ہورہا ہے جس نسبت سے مادی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیاوی سہولیات اور آسائشوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یہ خوفناک اور تلخ خلا ‘ انسانیت کو ایک خوفناک بھوت کی طرف بھگارہا ہے ۔ لیکن بھاگتے بھاگتے وہ جس مقام تک بھی پہنچتی ہے ‘ ہر جگہ یہ بھوت اس کے پیچھے کھڑا نظرآتا ہے ‘ آج جو شخص بھی مغرب کے مالدار اور ترقی یافتہ دور میں جاتا ہے اس کے احساسات میں پہلا تاثر یہ بیٹھتا ہے کہ یہ سب لوگ بھاگ رہے ہیں ۔ کوئی بھوت ہے جو انہیں بھگارہا ہے اور اس سے بھاگ رہے ہیں ‘ بلکہ وہ خود اپنی ذات اور اپنے سائے سے بھاگ رہے ہیں ۔ اس شخص پر بہت جلد یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان مادی ترقیات نے اور حسی لذتیت نے ان لوگوں کو گندے کیچڑ میں لت پت کردیا ہے ۔ وہ بیشمار نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ان کے اعصاب شل ہوگئے ۔ وہ بےراہ روی کے ہیجان میں مبتلا ہیں اور اپنی اس روحانی کمی کو منکرات ‘ منشیات اور دوسری مہلک اشیاء کے استعمال سے پورا کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ جنوں کی حد تک جرائم پیشہ ہوگئے ہیں اور ان کی زندگی ہر قسم کے شریفانہ تصور سے خالی ہے ۔ ان لوگوں نے اپنی شخصیت ہی کو گم کردیا ہے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اپنے وجود کا اصل مقصد ہی بھلادیا ہے ۔ وہ روحانی سعادت سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے اسلامی زندگی کو کم کردیا ہے ۔ جو انسان کی روحانی اور جسمانی زندگی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرکے اسے ان روحانی امراض سے نجات دیتا ہے جس میں مبتلا ہیں ۔ اور وہ اس خلجان میں مبتلا اس لئے ہیں کہ وہ معرفت خداوندی سے محروم ہیں جس کی طرف انہوں نے لوٹنا ہے۔ صرف تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے ہی نہیں ‘ بلکہ حقیقی نفس الامری کے اعتبار سے امت مسلمہ ہی وہ امت ہے جس نے اس عہد کو اچھی طرح اپنالیا ہے ‘ جو اللہ اور اس کے نبیوں کے درمیان طے پایا تھا ‘ صرف اس امت نے اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ اللہ کا دین ایک ہے اور اس کا نازل کردہ نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اور وہ قافلہ انبیائے کرام بھی ایک ہے جنہوں نے تاریخ میں ہمیشہ اسی واحد دین کو پیش کیا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نبی آخرالزماں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرے یعنی یہ کہ یہ امت تمام نبیوں پر ایمان لاتی ہے ‘ وہ تمام رسل کا احترام کرتی ہے ۔ وہ دین اسلام کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ دین جس کے سوا کوئی دوسرا دین اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دین اسلام ہی اللہ کے نزدیک معتبر ہے جو دین اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند فرمایا ہے وہ دین اسلام ہے جیسا کہ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (بےشک دین جو معتبر ہے اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہی ہے) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام مکمل کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا) اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا ہے جس کا معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی فرمانبر دار ہے اور ہمیشہ سے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین اسلام ہی تھا یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کی دعوت دی جس کا طریقہ اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ معلوم ہوتا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم اور اسمعٰیل (علیہ السلام) جب کعبہ شریف بنا رہے تھے تو اس وقت انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ہم کو تو اپنا فرمانبر دار بنا اور ہماری ذریت میں سے ایک امت مسلمہ پیدا فرمانا۔ ان کی دعا اللہ نے قبول فرمائی اور حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور امت مسلمہ پیدا فرمایا جو امت محمدیہ ہے۔ دین اسلام میں سراپا خالق اور مالک کی فرمانبر داری ہے۔ بندہ کا کام ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے ظاہر و باطن سے جسم و جان سے جھک جائے اور ہر حکم کو مانے سارے فرشتوں کا دین اور ان کے علاوہ ساری مخلوق اور جو کچھ بھی آسمان اور زمین میں ہے سب کا دین اسلام ہے۔ مخلوق میں انسان اور جنات بھی ہیں اللہ پاک کی طرف سے ان کے لیے بھی دین اسلام ہی کو پسند فرمایا ہے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قوموں کا ابتلاء بھی مقصود ہے اس لیے ان کو مجبور نہیں کیا گیا کہ اسلام ہی کو اختیار کریں اسی وجہ سے ان میں بہت سے کافر اور بہت سے مومن ہیں (خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) البتہ تکوینی طور پر یہ دونوں بھی وہی کرتے ہیں جو اللہ کی قضاو قدر کا فیصلہ ہوتا ہے مجبوراً قضاو قدر کے فیصلے کے مطابق ہی جیتے اور مرتے ہیں۔ ان دونوں قوموں کو بتادیا ہے کہ ایمان کی جزاء یہ ہے اور کفر کی سزا یہ ہے۔ اب اپنے اختیار سے دوزخ یا جہنم کی تیاری کرتے ہیں۔ (وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا) تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) مسلم تھے۔ اللہ کے فرمانبر دار تھے اپنی امتوں کو بھی انہوں نے اسی کی دعوت دی اسی لیے فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اعلان فرما دیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر بھی جو ہم پر نازل کی گئی اور ان چیزوں پر جو ابراہیم، اسمعٰیل، اسحاق یعقوب اور یعقوب کی اولاد پر نازل کی گئیں اور اس پر جو موسیٰ اور عیسیٰ اور تمام نبیوں ( علیہ السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ان سب پر بھی ایمان لائے۔ ان حضرات میں سے ہم کسی کے درمیان بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرمانبر دار ہیں۔ کیونکہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی ہے اس لیے ہم سبھی پر ایمان لاتے ہیں جو احکام ان پر نازل ہوئے ہم ان پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کی طرف سے ہیں۔ یہ سب حضرات اللہ کے فرمانبر دار ہیں (لفظ النبیون) تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو شامل ہے پھر بھی بعض انبیاء (علیہ السلام) کا خصوصی تذکرہ فرما دیا کیونکہ یہود و نصاریٰ ان حضرات کو جانتے اور مانتے تھے۔ طوعاً و کرھاً کی تفسیر : طوعاً وکرھاً کی تفسیر بتاتے ہوئے مفسرابن کثیر لکھتے ہیں صفحہ ٣٧٩: ج ١۔ اما من فی السموٰت فالملائکۃ و اما من فی الارض فمن ولد علی الاسلام و اما کرھا فمن اتی بہ من سبایا الامم فی السلاسل والا غلال یقادون الی الجنۃ و ھم کارھون۔” یعنی آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں وہ لوگ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے یہ بخوشی اسلام پر چلتے ہیں اور ناخوشی سے چلنے والے وہ لوگ ہیں جن کو زنجیروں میں اور بیڑیوں میں قید کرکے لایا گیا۔ (اس وقت وہ کافر تھے) بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا یہ قید کرکے لانا ان کے جنت میں جانے کا سبب بن گیا جس وقت کیے گئے تھے ان کو ناگوار تھا) صاحب روح المعانی نے کرھاً کا ایک معنی بتاتے ہوئے لکھا ہے ما کان حاصلا بالسیف و معاینۃ ما یلجئ الی الاسلام یعنی اہل اسلام کی تلواروں کی وجہ سے اور ان چیزوں کی وجہ سے اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوئے جنہوں نے اضطراری طور پر اسلام کے لیے آمادہ کردیا۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور قول بھی لکھا ہے وہ ان کو خود ہی پسند نہیں آیا۔ پھر صوفیہ سے ایک قول نقل کیا کہ طوعًا کا معنی یہ ہے کسی ظلمت نفسانیہ کے بغیر اللہ کے احکام کو مان لیا اور انانیت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہوا۔ اور کرھاً کا معنی یہ ہے کہ وساوس پیش آگئے اور پردے حائل ہوگئے۔ پھر لکھتے ہیں کہ طوعاً کا مصداق حضرات ملائکہ اور بعض ان حضرات کا اسلام ہے جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں زمین میں رہتے ہیں اور دوسرا اسلام ان لوگوں کا ہے جن کو شکوک پیش آتے رہتے ہیں، پھر لکھتے ہیں کہ کفار قسم ثانی سے ہیں کیونکہ انہوں نے خالق کو تو مانا لیکن ظلمات نفسانیہ کی وجہ سے خالق جل مجدہ کے ساتھ انہوں نے شرک شروع کردیا۔ ان کا ایمان شرک میں ملا ہوا ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمان اور زمین کس نے پید کیا تو کہتے ہیں اللہ نے پیدا کیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ طوعاً و کرھاً کی تفسیر مجاہد (تابعی) کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ اس تفسیر سے اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو بالکل ہی خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے وہ خالق اور صانع کے منکر ہیں۔ اور من کا عموم سامنے رکھا جائے تو ابن کثیر کی بات بھی عام اور تام نہیں ہوتی۔ اس لیے احقر نے وہ تفسیر کی ہے جو اوپر مذکور ہے جس میں کرھاً کا معنی اللہ کی قضا اور قدر کے تابع ہونا اور تکوینی طور پر اس کے فیصلوں کے مطابق چلنا اختیار کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تکوینی طور پر سب اسی کی قضا اور قدر کے مطابق مرتے اور جیتے ہو تو جو دین تشریعی طور پر اس نے تمہارے لیے بھیجا ہے اسے بھی اختیار کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

119 دِیْنِ اللہِ سے یہاں دین اسلام مراد ہے۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے جس آخری پیغمبر (علیہ السلام) کے متعلق عہد لیا گیا تھا۔ اب وہ آچکا اور اس نے بھی اللہ کا وہی دین پیش کیا ہے جو ان سے پہلے تمام انبیاء نے پیش کیا تھا تو معلوم ہوا کہ دین اسلام تمام انبیاء سابقین کا متفق علیہ دین ہے ان کے علاوہ زمین و آسمان کی ساری مخلوقات خواہ وہ جاندار ہو یا غیر جاندار اور خواہ وہ ذی عقل ہو یا غیر ذی عقل سب کا دین اسلام ہے۔ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) تمام فرشتے، اور تمام مومنین جن وانس اپنے ارادہ اور اختیار سے دین اسلام کے پابند ہیں اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود ومستعان سمجھتے ہیں اور اسے ہی دن رات پکارتے ہیں اور اسی طرح زمین و آسمان کی باقی تمام جاندار اور غیر جاندار مخلوق بھی اللہ کے تکوینی قوانین کی مطیع وفرمانبردار ہے۔ تو پھر یہ لوگ اللہ کے دین کو چھوڑ کر باطل دین کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اللہ کے سوا غیروں کو کیوں پکارتے ہیں۔ جب انجام کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ تو چاہئے کہ اللہ کے دین کی پیروی کر کے اس وقت کے لیے کچھ سامان کیا جائے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 ۔ کیا اب یہ لوگ اللہ کے دین یعنی اسلام کے سوا کسی اور طریقہ کے متلاشی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ اس کے جاہ و جلال کے سامنے تمام مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے خوشی اور نا خوشی سے سب کی سب سرافگندہ ہے اور جس قدر خلوق آسمان و زمین میں ہے سب اس کی تابع فرمان ہے خواہ کوئی خوشی سے ہو یا نا خوشی سے کوئی اختیار سے ہو یا بےاختیاری سے اور سب کو اسی کی جناب میں پلٹنا اور واپس ہونا ہے۔ ( تیسیر) خدا کے دین سے مراد اسلام ہے یہی سب پیغمبروں کا دین رہا ہے اب آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی دین فطرت کے داعی اور پیغامبر ہیں جو احکام لے کر یہ آئے ہیں ان کو قبول کرو اور ان کی بات مانو اب انہی کی پیروی میں فلاح و نجات ہے اور انہی کا دین خدا کا دین ہے اور انہی کا طریقہ اس کا بتایا ہوا طریقہ ہے اور یہ جو فرمایا ولہ اسلم اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے معنی ہیں انقیاد و اطاعت تو یہ ظالم کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقہ کے علاوہ اور طریقہ بھی کون سا ہوسکتا ہے ۔ جب ہر طرف اسی کی خدائی جلوہ گر ہے اور اسی کی کار فرمائی اور اسی کی حکومت ہے تو بندے کو سوائے اس کے اور کیا چارہ کار ہے کہ جو دین اس نے بھیجا ہے اس کو قبول کرے کیونکہ زمین و آسمان کی تمام بسنے والی مخلوق اس کی مطیع و منقاد ہے خواہ خوشی سے اس کے آگے سرنگوں ہوں ۔ جیسے ملائکہ اور مسلمان کہ انہوں نے خوشی اور اپنے دل سے اللہ کی اطاعت قبول کی یا ناگواری طبع کے ساتھ اطاعت وانقیاد پر آمادہ ہوئے ہوں ۔ جیسے منافق یا کافر کہ مسلمانوں کے اقتدار کی ہیبت سے جھک گئے یا خدا کے عذاب کو دیکھ کر اطاعت وانقیاد کا اعلان کرنے لگے جیسے وہ لوگ جو عذاب کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعلان کرنے لگتے ہیں جیسے یہود کو پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر جھک گئے اور جیسے فرعون کہ غرق کے وقت اپنے ایمان کا اعلان کرنے لگا اور ہوسکتا ہے کہ کرھا سے مراد عدم اختیارہ و۔ اگر یہ معنی ہوں تو پھر عالم تکوینی کے حوادثات و واقعات مراد ہوں گے جن سے تمام مخلوق بلکہ کائنات کا ہر ذرہ اثر پذیر ہوتا ہے ان حوادثات پر جو عالم تکوینی میں مشیت ایزادی کے ماتحت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ان سے کوئی خوشی ہو یا نا خوش ہو سب کو ان کے سامنے گردن جھکانی ہی پڑتی ہے۔ اب اسلم سے مراد وہ تسخیر ہوگی جس میں کائنات کی ہر شے مبتلا ہے جس کو ہماری اصطلاح میں کہا کرتے ہیں کہ ہر چیز خدا کے حکم کے تابع ہے آخر میں فرمایا کہ سب کو قیامت میں لوٹ کر اسی کے حضور میں حاضر ہونا اور جواب دہی کرنا ہے۔ ان حالات میں سوالے اس کے کیا چارہ ہے کہ اسی کا بھیجا ہوا دین قبول کیا جائے ۔ ورنہ قیامت میں ہم کیا منہ لے کر جائیں گے تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اسلام کو چھوڑ کر کسی اور دین کی تلاشی میں لگے ہوئے ہو ۔ شان نزول کے سلسلہ میں کیا گیا ہے کہ یہود اپنے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر کہتے تھے اور نصاریٰ اپنے کو بتاتے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تم دونوں کے دین سے بری ہیں اس پر یہ لوگ بہت بگڑے چناچہ ان کو بگڑنے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر عہد کا جو حکم فرمایا اس کے سوا اور دین قبول نہیں ۔ ( مواضح القرآن) اب آگے اسلام کی حقیقت کو اور واضح فرمایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ اتمام حجت کے طور پر اسلام کی مزید تفصیل ان کے آگے بیان کر دیجئے۔ ( تسہیل)