Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 34

سورة الروم

لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ؕ فَتَمَتَّعُوۡا ٝ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۴﴾

So that they will deny what We have granted them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

تاکہ وہ اس چیز کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں دی ہے اچھا تم فائدہ اٹھالو ابھی ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لِيَكْفُرُوا بِمَا اتَيْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا ... So as to be ungrateful for the graces which We have bestowed on them. Then enjoy; Then Allah warns them by saying: ... فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ but you will come to know. One of them said: By Allah, if a law enforcement officer were to say this to me, I would be afraid, so how about when the One Who is issuing the warning is the One Who merely says to a thing "Be!" and it is. Then Allah denounces the idolators for fabricating lies and worshipping others instead of Him with no evidence or proof:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

341یہ وہی مضمون ہے جو سورة عنکبوت کے آخر میں گزرا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا ۪ ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (٦٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰہُمْ۝ ٠ ۭ فَتَمَتَّعُوْا۝ ٠ ۪ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ ٣٤ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو خوشحالی دی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں سو مکہ والو دنیا میں چند روز اور مزے اڑا لو پھر جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ (لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط) ” یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔ (فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) ” یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : (کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:34) لیکفروا بما اتینھم میں لام کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یہ لام امر کا ہے اور تہدید اور دھمکی کے معنی دیتا ہے جیسے کسی کو غصہ سے کہا جاتا ہے۔ اعصنی ما استطعت تو میری نافرمانی کرلے جتنی کرسکتا ہے (انجام کار تجھے اس کا مزہ چکھاؤں گا) یہاں معنی یہ ہیوں گے کہ بیشک وہ کفر کی روشن اختیار کرلیں۔ اور چند روزہ زندگی میں مزے اڑالیں۔ لیکن جب ان کو اپنا انجام معلوم ہوگا تو پچھتائیں گے مگر بےسود۔ لفظی ترجمہ : وہ کرلیں ناشکری اس نعمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ہے۔ (2) یہ لام، لام عاقبت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ کہ عاقبت کار وہ ناشکری کریں اس نعمت و رحمت کی جو ہم نے ان کو عطا کی ۔ مثال ملاحظہ ہو ؛ 28ـ:8) ۔ لیکون لہم عدوا وحزنا۔ (3) لام کی ہے یعنی کی کے معنی دیتا ہے ۔ تاکہ : جیسے جاء کی یسئل وہ آیا تاکہ پوچھے۔ فتمتعوا : تمتعوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تمتع (تفعیل) مصدر سے۔ تم فائدہ اٹھالو۔ تم لطف اندوز ہولو۔ مزے لے لو۔ امر تہدید کیلئے۔ یعنی اب تم دنیا کی زندگی کے لطف اٹھالو (عنقریب تمہیں اس شرک اور ناشکری کا مزہ چکھنا ہی ہوگا) ۔ فتمتعوا فسوف تعلمون میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے۔ اور یہ ان کے شرک اور ناشکری کے انجام کی شدت کو ان کے ذہن نشین کرانے کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 کہ شرک اور ناشکری کی تمہیں کیا سزا ملتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

27: لام بمعنی کَیْ ہے یعنی وہ اپنی کامیابی کو غیر الہ کی طرف منسوب کر کے کے اللہ کے انعام و احسان کی نا شکری کرتے ہیں۔ اچھا دنیا کی چند روزہ زندگی میں ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو اور کفرانِ نعمت کرلو عنقریب اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ام انزلنا الخ ام منقطعہ ہے بمعنی بل والہمزۃ اور استفہام انکاری ہے اور اس میں خطاب سے غیبت کی طرف الفتفات ہے۔ کیا ان مشرکین کے پاس ہماری طرف سے کوئی دلیل و حجت موجود ہے جس سے شرک کا ثبوت ہوتا ہو ؟ ہرگز نہیں ان کے پاس ایسی کوئی دلیل موجود نہیں محض اہواء و ظنون کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ ام بمعنی بل والہمزۃ للاضراب عن الکلام السابق والاستفہام عن الحجۃ استفہام انکار و توبیخ (بحر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

34۔ جس کا انجام اور حاصل یہ ہوتا ہے کہ جو احسان ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے اور جو آرام ان کو دیا ہے اس کی نا شکری اور کفران نعمت کریں سو اچھا چند روز اور فائدہ اٹھا لو اب عنقریب تم کو سب حال معلوم ہوجائے گا ۔ یعنی اس کا ماحصل یہی ہے کہ کفران نعمت ان نعمتوں پر جو ہم نے عطا کی ہیں یعنی مصیبت لے گئے راحت عنایت فرما دی ۔ سو چند دن اس آرام و عیش کا اور فائدہ اٹھالو مرنے کے بعد عذاب کے وقت سب معلوم ہوجائے گا۔