Surat ul Ahzaab

Surah: 33

Verse: 3

سورة الأحزاب

وَّ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۳﴾

And rely upon Allah ; and sufficient is Allah as Disposer of affairs.

آپ اللہ ہی پر توکل رکھیں ، وہ کار سازی کے لئے کافی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ... Verily, Allah is Well-Acquainted with what you do. And put your trust in Allah, means, nothing at all is hidden from Him, and put your trust in Allah, i.e., in all your affairs and situations. ... وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلً and sufficient is Allah as a Wakil. means, sufficient is He as a Trustee for the one who puts his trust in Him and turns to Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔ 32ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١۔ الف ] یعنی تمہارے دشمن جیسی بھی باتیں بناتے ہیں اور جو الزام بھی آپ پر دھرتے ہیں دھرنے دو ۔ تمہارا کام فقط یہ ہے کہ وحی کا حکم بجا لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھو۔ ان دشمنوں سے نمٹنا یا ان کی سازشوں اور چالوں کو ناکام بنانا میرا کام ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۙوَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۔۔ : یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے نتیجے میں کفار و منافقین کی طرف سے جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے، اس کی پروا مت کریں، اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ اس کے سپرد جو کام کر دیاجائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Once again, the last statement: وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا (And place your trust in Allah and Allah is enough as a guardian- 3) is also a complement of the same order. Here it is being said: As for your approach, just pay no heed to what they say and, in order to succeed in your objective, you should trust no one but Allah for He, in Himself and by Himself, is the ultimate doer, maker and fixer of all matters and things. With Him there, you do not need to acquiesce in the opinion of anyone. Ruling The cited verse proves that, in religious matters, even consulting with disbelievers is not permissible. In other matters relating to technical or functional experience, there is no harm in doing so. And Allah knows best.

و توکل علی اللہ وکفیٰ باللہ وکیلاً ، یہ بھی اسی حکم کی تکمیل ہے۔ اس میں ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی باتوں پر کان نہ دھریں اور اپنے مقصد کی کامیابی میں صرف اللہ پر بھروسہ کریں کہ وہی کافی کارساز ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی کی رواداری کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ : آیات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ امور دین میں کفار سے مشورہ لینا بھی جائز نہیں۔ دوسرے امور جن کا تعلق تجربہ وغیرہ سے ہو ان میں مشورہ لینے میں مضائقہ نہیں۔ واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝ ٠ ۭ وَكَفٰي بِاللہِ وَكِيْلًا۝ ٣ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل . ( ک ف ی ) الکفایۃ وہ چیز جس سے ضرورت پوری اور مراد حاصل ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] اور خدا مومنوں کے لئے جنگ کی ضرور یات کے سلسلہ میں کافی ہوا ۔ إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچا نے کے لئے جو تم سے استہزا کرتے ہیں کافی ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] اور حق ظاہر کرنے کے لئے اللہ ہی کافی ہے میں بعض نے کہا ہے کہ باز زائد ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی گواہ ہونے کے لئے کافی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ با اصلی ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ پر ہی اکتفاء کرو الکفیۃ من القرت غذا جو گذارہ کے لئے کافی ہو ۔ ج کفی محاورہ ہے ۔ کافیک فلان من رجل یعنی فلاں شخص تمہارے لئے کافی ہے اور یہ حسبک من رجل کے محاورہ کے ہم معنی ہے ۔ وكيل التَّوْكِيلُ : أن تعتمد علی غيرک وتجعله نائبا عنك، والوَكِيلُ فعیلٌ بمعنی المفعول . قال تعالی: وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] أي : اکتف به أن يتولّى أمرك، ( و ک ل) التوکیل کے معنی کسی پر اعتماد کر کے اسے اپنا نائب مقرر کرنے کے ہیں اور وکیل فعیل بمعنی مفعول کے وزن پر ہے ۔ قرآن میں : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ وَكِيلًا[ النساء/ 81] اور خدا ہی کافی کار ساز ہے ۔ یعنی اپنے تمام کام اسی کے سپرد کر دیجئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ { وَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ پر توکل ّکیجیے۔ اور اللہ کافی ہے توکل کے لیے ۔ “ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی طرف سے منفی پراپیگنڈے کا جو اندیشہ ہے اسے نظر انداز کردیجیے اور اللہ پر توکل اور بھروسہ کیجیے جس کا سہارا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کافی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 The addressee of this sentence is again the Holy Prophet. He is being instructed to the effect "Carry out the duty that is being entrusted to you with full confidence in Allah, and do not care at all even if the whole world turns hostile to you." When a man comes to know with certainty that a certain Command has been given by Allah, he should have the satisfaction that his whole well-being and his good lies in its compliance. Then, it is not for him to see and understand its wisdom, but he should carry it out with full confidence in Allah. Allah is enough for him that the servant should entrust all his affairs to Him. He is enough for his guidance as well as help, and He alone is also responsible that the one working under His guidance should never meet with evil consequences.

سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :4 اس فقرے کے مخاطب پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جو فرض تم پر عائد کیا گیا ہے اسے اللہ کے بھروسے پر انجام دو اور دنیا بھر بھی اگر مخالف ہو تو اس کی پروا نہ کرو ۔ جب آدمی کو یقین کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ فلاں حکم اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے تو پھر اسے بالکل مطمئن ہو جانا چاہیے کہ ساری خیر اور مصلحت اسی حکم کی تعمیل میں ہے ۔ اس کے بعد حکمت و مصلحت دیکھنا اس شخص کا اپنا کام نہیں ہے ، بلکہ اسے اللہ کے اعتماد پر صرف تعمیل ارشاد کرنی چاہیے ۔ اللہ اس کے لیے بالکل کافی ہے کہ بندہ اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے ۔ وہ رہنمائی کے لیے کافی ہے اور مدد کے لیے بھی ، اور وہی اس امر کا ضامن بھی ہے کہ اس کی رہنمائی میں کام کرنے والا آدمی کبھی نتائج بد سے دو چار نہ ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(33:3) توکل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ (اس کا تعدیہ بذریعہ علی ہوتا ہے) توکل (تفعل) مصدر تو بھروسا کر۔ تو اعتماد کر۔ تو توکل کر۔ کفی باللہ وکیلا : کفی یکفی (ضرب) کفایۃ کافی ہونا۔ کاف (صفت) کافی ۔ کفیتہ شرعدوہ۔ میں نے اس کو اس کے دشمن کے شر سے بچا دیا۔ کفی کے فاعل پر حرف باء زائد بھی آتا ہے جیسے آیت ہذا میں کفی باللہ وکیلا یعنی اللہ کی وکالت دوسرے کسی کی وکالت سے بےنیاز کردیتی ہے۔ لفظ اللہ حالت رفعی میں ہے اور وکیلا تمیز ہے۔ (وکالت : کوئی کام کسی کو سونپنا یا اس کے سپرد کرنا) ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں (یہ ایک حقیقت ہے جو اکثر و بیشتر ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے۔ اگر شاذو نادر کسی کے دو دل فی الواقع اس کے سینے میں پائے جائیں تو علم الایدان میں اس کی کئی وجاہت ملیں گی اور ایسے انسان کے زندہ رہنے کی کوئی مثال آپ کو نہ ملے گی۔ رحم مادر میں جنیب کی ابتدائی نشو و نما کے دوران کسی امر کی کمی بیشی اس کا سبب بن سکتی ہے جو بذات خود اس خالق حقیقی کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے) اس مثال کے بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں ہوسکتے اسی طرح اس کی دو مائیں بھی نہیں ہوسکتیں۔ (اس کی ماں وہی ہے جس نے اسے جنم دیا) اور نہ ہی ایک اولاد کے (بیٹا ہو یا بیٹی) دو باپ ہوسکتے ہیں (بیٹے یا بیٹی کا باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہو بالفاظ دیگر آدمی اسی اولاد کا باپ کہلا سکتا ہے جو اس کے اپنے نطفے کی پیداوار ہو) ۔ زبانی کہنے سے اپنی حقیقی ماں کے بغیر نہ کوئی ماں ہوسکتی ہے اور اپنے نطفے کی اولاد کے علاوہ نہ کوئی اولاد ہوسکتی ہے۔ جوف۔ اندرونی حصہ جو خالی یا کھوکھلا ہو جوف کہلاتا ہے انسان کے پیٹ کو جوف کہتے ہیں لیکن چونکہ دل پیٹ میں نہیں سینہ میں ہوتا ہے اس لئے ترجمہ میں اسے سینہ ہی کہیں گے ؟ الی۔ یہ التی کی جمع ہے اسم موصول جمع ہے اسم موصول جمع مؤنث (وہ سب عورتیں) جو ۔ جنہوں۔ تظھرون منھن۔ الظھر کے معنی پیٹھ۔ پشت کے ہیں۔ اس کی جمع ظھور ہے ۔ انقض ظھرک (94:3) جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھی۔ ظھر ظاہر ہونا۔ مثلاً ما ظھر منھا وما بطن (6:15) ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ ظھر پھیلنا۔ مثلاً ظھر الفساد فی البر والبحر (30:14) خشکی اور تری میں (لوگوں کے اعمال کے سبب) فساد پھیل گیا ۔ وغیرہ۔ تظھرون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) وظھار مصدر سے تم ظہار کرتے ہو۔ الظھار کے معنی خاوند کا بیوی سے یہ کہنا : انت علی کظھر امی (تو میرے لئے اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پشت) چناچہ کہا جاتا ہے ظھر من امراتہ اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ فقرہ ظہار بول کر عرب میں مرد اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیا کرتا تھا۔ منھن میں ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ازواجکم کی طرف راجع ہے۔ ادعیاء کم، ادعیائ، دعی (بروزن فعیل بمعنی مفعول) کی جمع ہے مضاف کم ضمیر جمع مذکر مجاف الیہ۔ تمہارے منہ بولے بیٹے۔ تمہارے لے پالک۔ ادعیائ۔ بوجہ جعل کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ یہ جعل کا مفعول اول ہے اور ابناء مفعول ثانی۔ وما جعل ادعیاء کم ابناء کم کی جمع ہے فم اصل میں فوہ تھا ہ کو اگر واؤ کو م سے بدل دیا گیا۔ ذلکم قولکم بافواہکم یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے۔ ھو یھدی السبیل : ای اللہ یرشد الی سبیل الحق۔ اللہ راہ حق پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے۔ سیدھے راستہ پر چلاتا ہے !

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی، اس لئے کچھ اندیشہ نہ کیجئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ و توکل الخ۔ یہ تیسرا امر ہے۔ آپ بلا خوف و خطر توحید کی تبلیغ کرتے جائیں اور اگر کوئی ڈر خطرہ ہو تو اللہ پر بھروسہ کریں اور اپنے تمام معاملات خدا کے سپرد کریں اس سے بہتر کوئی کارساز اور حافظ و ناصر نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3۔ اور آپ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھیے اور اسی پر توکل کیجئے اور اللہ تعالیٰ با اعتبار کار ساز ہونے کے کافی ہے اور اللہ تعالیٰ بس ہے کام بنانے والا ۔ یعنی آپ اللہ پر توکل رکھیئے جیسا کہ آپ کیا کرتے ہیں ہمیشہ ایسا ہی توکل اور بھروسہ رکھا کیجئے اللہ تعالیٰ کار ساز اور کام بنانے کو کافی اور بس ہے۔