Surat Saba

Surah: 34

Verse: 18

سورة سبأ

وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ الۡقُرَی الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرۡنَا فِیۡہَا السَّیۡرَ ؕ سِیۡرُوۡا فِیۡہَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۸﴾

And We placed between them and the cities which We had blessed [many] visible cities. And We determined between them the [distances of] journey, [saying], "Travel between them by night or day in safety."

اورہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی چند بستیاں اور ( آباد ) رکھی تھیں جو بر سر راہ ظاہر تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں ان میں راتوں اور دنوں کو بہ امن و امان چلتے پھرتے رہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Trade of Saba' and Their Destruction Allah tells us about the blessings which the people of Saba' enjoyed, and the luxuries and plentiful provision which was theirs in their land, with its secure dwellings and towns which were joined to one another, with many trees, crops and fruits. When they traveled, they had no need to carry provisions or water with them; wherever they stopped, they would find water and fruits, so they could take their noontime rest in one town, and stay overnight in another, according to their needs on their journey. Allah says: وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ... And We placed, between them and the towns which We had blessed, Mujahid, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Malik, who narrated it from Zayd bin Aslam, and Qatadah, Ad-Dahhak, As-Suddi, Ibn Zayd and others -- all said that; this means the towns of Syria. It means they used to travel from Yemen to Syria via towns easy to be seen and connected to one another. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said, "`The towns which We had blessed by putting Jerusalem among them." ... قُرًى ظَاهِرَةً ... towns easy to be seen, meaning, clear and visible, known to travelers, so they could take their noontime rest in one town and stay overnight in another. Allah says: ... وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ... and We made the stages (of journey) between them easy. meaning, `We made it in a way that met the needs of the travelers.' ... سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا امِنِينَ Travel in them safely both by night and day. means, those who travel in them will be safe both by night and by day.

ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں ۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی ۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گذار لیں اور راحت و آرام امن و امان سے جائیں آئیں کہتے ہیں کہ یہ بستیاں صنعا کے قرب و جوار میں تھیں ، باعد کی دوسری قرأت بعدہ ۔ اس راحت و آرام سے وہ پھول گئے اور جس طرح بنو اسرائیل نے من سلویٰ کے بدلے لہسن پیاز وغیرہ طلب کیا تھا انہوں نے بھی دور دراز کے سفر طے کرنے کی چاہت کی تاکہ درمیان میں جنگل بھی آئیں غیر آباد جگہیں بھی آئیں کھانے پینے کا لطف بھی آئے ۔ قوم موسیٰ کی اس طلب نے ان پر ذلت و مسکنت ڈالی ۔ اسی طح انہیں بھی فراخی روزی کے بعد ہلاکت ملی ۔ بھوک اور خوف میں پڑے ۔ اطمینان اور امن غارت ہوا ۔ انہوں نے کفر کر کے خود اپنا بگاڑا اب ان کی کہانیاں رہ گئیں ۔ لوگوں میں ان کے افسانے رہ گئے ۔ تتر بتر ہوگئے ۔ یہاں تک کہ جو قوم تین تیرہ ہو جائے تو عرب میں انہیں سبائیوں کی مثل سناتے ہیں ۔ عکرمہ ان کا قصہ بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں ایک کاہنہ اور ایک کاہن تھا جن کے پاس جنات ادھر ادھر کی خبریں لایا کرتے تھے اس کاہن کو کہیں پتہ چل گیا کہ اس بستی کی ویرانی کا زمانہ قریب آ گیا ہے اور یہاں کے لوگ ہلاک ہونے والے ہیں تھا یہ بڑا مالدار خصوصاً جائیداد بہت ساری تھی اس نے سوچا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے اور ان حویلیوں اور مکانات اور باغات کی نسبت کیا انتظام کرنا چاہئے آخر ایک بات اس کی سمجھ میں آ گئی اس کے سسرال کے لوگ بہت سارے تھے اور وہ قبیلہ بھی جری ہونے کے علاوہ مالدار تھا ۔ اس نے اپنے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا سنو کل لوگ میرے پاس جمع ہو جائیں گے میں تجھے کسی کام کو کہوں گا تو انکار کر دینا میں تجھے برا بھلا کہوں گا تو بھی مجھے میری گالیوں کا جواب دینا میں اٹھ کر تجھے تھپڑ ماروں گا تو بھی اس کے جواب میں مجھے تھپڑ مارنا اس نے کہا ابا جی مجھ سے یہ کیسے ہو سکے گا ؟ کاہن نے کہا تم نہیں سمجھتے ایک ایسا ہی اہم معاملہ درپیش ہے اور تمہیں میرا حکم مان لینا چاہئے ۔ اس نے اقرار کیا دوسرے دن جبکہ اس کے پاس اس کے ملنے جلنے والے سب جمع ہو گئے اس نے اپنے اس لڑکے سے کسی کام کو کہا اس نے صاف انکار کر دیا اس نے اسے گالیاں دیں تو اس نے بھی سامنے گالیاں دیں ۔ یہ غصے میں اٹھا اور اسے مارا لڑکے نے بھی پلٹ کر اسے پیٹا یہ اور غضبناک ہوا اور کہنے لگا چھری لاؤ میں تو اسے ذبح کروں گا تمام لوگ گھبرا گئے ہر چند سمجھایا لیکن یہ یہی کہتا رہا کہ میں تو اسے ذبح کروں گا لوگ دوڑے بھاگے گئے اور لڑکے کے ننھیال والوں کو خبر کی وہ سب آگئے اول تو منت سماجت کی منوانا چاہا لیکن یہ کب مانتا تھا انہوں نے کہا آپ اسے کوئی اور سزا دیجئے اس کے بدلے ہمیں جو جی چاہے سزا دیجئے لیکن اس نے کہا میں تو اسے لٹکا کر باقاعدہ اپنے ہاتھ سے ذبح کروں گا انہوں نے کہا ایسا آپ نہیں کر سکتے اس سے پہلے ہم آپ کو مار ڈالیں گے ۔ اس نے کہا اچھا جب یہاں تک بات پہنچ گئی ہے تو میں ایسے شہر میں نہیں رہنا چاہتا جہاں میرے اور میری اولاد کے درمیان اور لوگ پڑیں مجھ سے میرے مکانات جائیدادیں اور زمینیں خرید لو میں یہاں سے کہیں اور چلا جاتا ہوں چنانچہ اس نے سب کچھ بیچ ڈالا اور قیمت نقد وصول کرلی جب اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنی قوم کو خبر کر دی سنو عذاب اللہ کا آ رہا ہے زوال کا وقت قریب پہنچ چکا ہے اب تم میں سے جو محنت کر کے لمبا سفر کر کے نئے گھروں کا آرزو مند ہو وہ تو عمان چلا جائے اور جو کھانے پینے کا شوقین ہو وہ بصرہ چلا جائے اور جو مزیدار کھجوریں باغات میں بیٹھ کر آزادی سے کھانا چاہتا ہو وہ مدینے چلا جائے ۔ قوم کو اس کی باتوں کا یقین تھا جسے جو جگہ اور جو چیز پسند آئی وہ اسی طرف منہ اٹھائے بھاگا ۔ بعض عمان کی طرف بعض بصرہ کیطرف ۔ بعض مدینے کی طرف ۔ اس طرف تین قبیلے چلے تھے اوس اور خزرج اور بنو عثمان جب یہ لوگ بطن مر میں پہنچے تو بنو عثمان نے کہا ہمیں تو یہ جگہ بہت پسند ہے اب ہم آگے نہیں جائیں گے ۔ چنانچہ یہ یہیں بس گئے اور اسی وجہ سے انہیں خزاعہ کہا گیا ۔ کیونکہ وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے ۔ اوس و خزرج برابر مدینے پہنچے اور یہاں آ کر قیام کیا ۔ یہ اثر بھی عجیب و غریب ہے ۔ جس کاہن کا اس میں ذکر ہے اس کا نام عمرہ بن عامر ہے یہ یمن کا ایک سردار تھا اور سبا کے بڑے لوگوں میں سے تھا اور ان کا کاہن تھا ۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ سب سے پہلے یہی یمن سے نکلا تھا اس لئے کہ سد مارب کو کھوکھلا کرتے ہوئے اس نے چوہوں کو دیکھ لیا تھا اور سمجھ گیا تھا کہ اب یمن کی خیر نہیں یہ دیوار گری اور سیلاب سب کچھ تہ و بالا کرے گا تو اس نے اپنے سب سے چھوٹے لڑکے کو وہ مکر سکھایا جس کا ذکر اوپر گذرا اس وقت اس نے غصے میں کہا کہ میں ایسے شہر میں رہنا پسند نہیں کرتا میں اپنی جائیدادیں اور زمینیں اسی وقت بیچتا ہوں لوگوں نے کہا عمرو کے اس غصے کو غنیمت جانو چنانچہ سستا مہنگا سب کچھ بیچ ڈالا اور فارغ ہو کر چل پڑا قبیلہ اسد بھی اس کے ساتھ ہو لیا راستے میں عکہ ان سے لڑے برابر برابر کی لڑائی رہی ۔ جس کا ذکر عباس بن مرد اس اسلمی رضی اللہ عنہ کے شعروں میں بھی ہے ۔ پھر یہ یہاں سے چل کر مختلف شہروں میں پہنچ گئے ۔ آل جفتہ بن عمرو بن عامر شام میں گئے ۔ اوس و خزرج مدینے میں ، خزاعہ مر میں از مراۃ سراۃ میں ، ازدعمان عمان میں ۔ یہاں سیلاب آیا جس نے مارب کے بند کو توڑ دیا ۔ سدی نے اس قصے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اپنے مقابلے کے لئے اپنے بیٹے کو نہیں بلکہ بھتیجے کو کہا تھا ۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ اس کی عورت جس کا نام طریقہ تھا اس نے اپنی کہانت سے یہ بات معلوم کر کے سب کو بتائی تھی اور روایت میں ہے کہ عمان میں غسانی اور ازد بھی ہلاک کر دیئے گئے ۔ میٹھے اور ٹھنڈے پانی کی ریل پیل پھلوں اور کھیتوں کی بیشمار روزی کے باوجود سیل عرم سے یہ حالت ہو گئی کہ ایک ایک لقمے کو اور ایک ایک بوند پانی کو ترس گئے یہ پکڑ اور عذاب یہ تنگی اور سزا جو انہیں پہنچی اس سے ہرصابر وشاکر عبرت حاصل کر سکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانیاں کس طرح انسان کو گھیر لیتی ہیں عافیت کو ہٹا کر آفت کو لے آتی ہیں ۔ مصیبتوں پر صبر نعمتوں پر شکر کرنے والے اس میں دلائل قدرت پائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مومن کے لئے تعجب ناک فیصلہ کیا ہے اگر اسے راحت ملے اور یہ شکر کرے تو اجر پائے اور اگر اسے مصیبت پہنچے اور صبر کرے تو اجر پائے ۔ غرض مومن کو ہر حالت پر اجر و ثواب ملتا ہے اس کا ہر کام نیک ہے ۔ یہاں تک کہ محبت کے ساتھ جو لقمہ اٹھا کر یہ اپنی بیوی کے منہ میں دے اس پر بھی اسے ثواب ملتا ہے ( مسند احمد ) بخاری و مسلم میں ہے آپ فرماتے ہیں تعجب ہے کہ مومن کے لئے اللہ تعالیٰ کی ہر قضا بھلائی کے لئے ہی ہوتی ہے ۔ اگر اسے راحت اور خوشی پہنچتی ہے تو شکر کر کے بھلائی حاصل کرتا ہے اور اگر برائی اور غم پہنچتا ہے تو یہ صبر کرتا ہے اور بدلہ حاصل کرتا ہے ۔ یہ نعمت تو صرف مومن کو ہی حاصل ہے کہ جس کی ہر حالت بہتری اور بھلائی والی ہے ۔ حضرت مطرف فرماتے ہیں صبر و شکرانے والا بندہ کتنا ہی اچھا ہے کہ جب اسے نعمت ملے تو شکر کرے اور جب زحمت پہنچے تو صبر کرے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 برکت والی بستیوں سے مراد شام کی بستیاں ہیں یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیاں لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئی تھیں بعض نے ظاھرۃ کے معنی متواصلۃ ایک دوسرے سے پیوست اور مسلسل کے لیے ہیں مفسریں نے ان بستیوں کی تعداد 4 ہزار سات سو بتلائی ہے یہ ان کی تجارتی شاہراہ تھی جو مسلسل آباد تھی جس کی وجہ سے ایک تو ان کے کھانے پینے اور آرام کرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لینے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی دوسرے ویرانی کی وجہ سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا جو اندیشہ ہوتا ہے وہ نہیں ہوتا تھا 18۔ 2 یعنی ایک آبادی سے دوسری آبادی کا فاصلہ متعین اور معلوم تھا، اور اس کے حساب سے وہ بہ آسانی اپنا سفر طے کرلیتے تھے۔ مثلا صبح سفر کا آغاز کرتے تو دوپہر تک کسی آبادی اور قریے تک پہنچ جاتے۔ وہاں کھا پی کر قیلولہ کرتے اور پھر سر گرم سفر ہوجاتے تو رات کو کسی آبادی میں جا پہنچتے۔ 18۔ 3 یہ ہر قسم کے خطرے سے محفوظ اور زاد راہ کی مشقت سے بےنیاز ہونے کا بیان ہے کہ رات اور دن کی جس گھڑی میں تم سفر کرنا چاہو کرو نہ جان مال کا کوئی اندیشہ نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی ضرورت۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٢٩] ان کی ترقی اور خوشحالی کی دوسری وجہ ان کا تجارتی نظام تھا۔ && ایسی سرزمین جسے ہم نے برکت دے رکھی ہے && کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان دنوں یہ چار ماہ سفر تھا اور اس تجارتی شاہراہ کو اللہ تعالیٰ نے && امام مبین && کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے اسی تجارتی شاہراہ پر قریش کے تجارتی قافلے مکہ سے شام تک سفر کرتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اس لحاظ سے تھی کہ برلب سڑک اور نزدیک نزدیک آبادیاں موجود تھیں۔ جہاں مسافروں کو کھانا پانی مل سکتا تھا ایک بستی پر انسان پہنچ جائے تو اگلی بستی سامنے نظر آنے لگتی تھی (اور یہ قریً ظَاھِرَۃً کا مطلب ہے) اس شاہراہ کی بڑی خوبی یہ تھی کہ کوئی شخص جس وقت بھی آرام کرنا چاہتا تو وہ کرسکتا تھا اور آرام کرنے کے لئے اگلی منزل اس کے قریب ہی ہوتی تھی۔ پھر چونکہ اس شاہراہ پر بکثرت آمدروفت رہتی تھی اس لئے لوٹ مار کا بھی اس پر اتنا خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ جتنا کہ عرب کے دوسرے علاقوں میں تھا۔ اس لحاظ سے ان کا یہ تجارتی سفر دوسرے علاقوں کی نسبت بہت آسان بھی تھا اور پرامن بھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا۔۔ : برکت والی بستیوں سے مراد شام کا علاقہ ہے۔ قرآن مجید میں اکثر برکت والی زمین شام کی سر زمین کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (١٣٧) ، بنی اسرائیل (١) اور سورة انبیاء (٧١ اور ٨١) یعنی یمن سے شام تک سڑک کے کنارے مسلسل بستیاں تھیں، جو پہاڑیوں یا اونچی جگہوں پر بنائی گئی تھیں اور ایک دوسری سے اتنی قریب تھیں کہ ایک بستی سے دوسری بستی نظر آتی تھی اور ایسے اندازے اور تناسب سے آباد تھیں کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور نظر آتے رہنے کی وجہ سے نہ مسافروں کا دل گھبراتا تھا، نہ چوروں ڈاکوؤں کا خوف تھا اور نہ زاد راہ ساتھ لینے کی مشقت تھی۔ سِيْرُوْا فِيْهَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ : یعنی رات دن کی جس گھڑی میں سفر کرنا چاہو کرو، نہ جان و مال کا کوئی اندیشہ، نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی کوئی ضرورت۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 18, it was said: وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَ‌ى الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا قُرً‌ى ظَاهِرَ‌ةً وَقَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌ سِيرُ‌وا (And We had made towns to be seen between them and between the towns in which We had placed Our blessings, and had measured the journey between them: |"Travel along them at nights and days peacefully. - 18|" ) This verse mentions yet another blessing Allah Ta’ ala had bestowed on the people of Saba&. Then it goes on to refer to the ungratefulness of those people who acted ignorantly and chose to ask for a reversal of this blessing by praying that the thing be made harder and more challenging for them. The statement: الْقُرَ‌ى الَّتِي بَارَ‌كْنَا فِيهَا (towns in which We had placed Our blessings) in this verse probably means the rural areas of the country of Syria, because the reference to the descent of mercy in several verses of the Qur&an is specifically related to that country. The sense of the verse is that Allah Ta’ ala had made their travels to the towns of Syria very easy for them during their trips they had to undertake for their business. Given the conditions that prevailed in the world of that time, the travel distance between the city of Ma&arib and the country of Syria was fairly long with routes being uneven. In view of this difficulty, Allah Ta’ ala had blessed the people of Saba& by having made for their convenience a series of towns at intermittent distances all the way from the city of Ma&arib to the country of Syria. These habitations were close by the main road, therefore, these were called: قَدَّرْ‌نَا فِيهَا السَّيْرَ‌ (had measured the journey between them). These habitations appearing one after the other were a source of convenience for weary travelers. If a traveler from one of them left home in the morning, he had the choice of reaching some other town on his way, stop there, have lunch or take rest as he wished and could leave after Zuhr and reach the next stage by sundown and spend the night there. The sentence: سِيرُ‌وا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ (Travel along them at nights and days peacefully - 18) means that these habitations were made at distances that were balanced and equal so that they would reach from one to the other within a fixed time. In the last sentence of verse 18: (Travel along them at nights and days peacefully.), mention has been made of a third blessing bestowed on the people of Saba&. It means that these settlements were located at such equal and balanced distances that a traveler would be able to cover them in almost identical time. Then the routes were secure. Theft and highway robbery were unknown. One could travel at any time of the night or day without any hesitation or concern.

اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کردیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھرو ان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَعَلْنَا بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْہَا قُرًى ظَاہِرَۃً وَّقَدَّرْنَا فِيْہَا السَّيْرَ۝ ٠ ۭ سِيْرُوْا فِيْہَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ۝ ١٨ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ ظَاهَرَ وظَهَرَ الشّيءُ أصله : أن يحصل شيء علی ظَهْرِ الأرضِ فلا يخفی، وبَطَنَ إذا حصل في بطنان الأرض فيخفی، ثمّ صار مستعملا في كلّ بارز مبصر بالبصر والبصیرة . قال تعالی: أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ، إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] ، يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] ، أي : يعلمون الأمور الدّنيويّة دون الأخرويّة، والعلمُ الظَّاهِرُ والباطن تارة يشار بهما إلى المعارف الجليّة والمعارف الخفيّة، وتارة إلى العلوم الدّنيوية، والعلوم الأخرويّة، وقوله : باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] ، وقوله : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] ، أي : كثر وشاع، وقوله : نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً [ لقمان/ 20] ، يعني بالظَّاهِرَةِ : ما نقف عليها، وبالباطنة : ما لا نعرفها، وإليه أشار بقوله : وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها [ النحل/ 18] ، وقوله : قُرىً ظاهِرَةً [ سبأ/ 18] ، فقد حمل ذلک علی ظَاهِرِهِ ، وقیل : هو مثل لأحوال تختصّ بما بعد هذا الکتاب إن شاء الله، وقوله : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً [ الجن/ 26] ، أي : لا يطلع عليه، وقوله : لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] ، يصحّ أن يكون من البروز، وأن يكون من المعاونة والغلبة، أي : ليغلّبه علی الدّين كلّه . وعلی هذا قوله : إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] ، وقوله تعالی: يا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 29] ، فَمَا اسْطاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ [ الكهف/ 97] ، وصلاة الظُّهْرِ معروفةٌ ، والظَّهِيرَةُ : وقتُ الظُّهْرِ ، وأَظْهَرَ فلانٌ: حصل في ذلک الوقت، علی بناء أصبح وأمسی «4» . قال تعالی: وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ [ الروم/ 18] ظھر الشئی کسی چیز کا زمین کے اوپر اس طرح ظاہر ہونا کہ نمایاں طور پر نظر آئے اس کے بالمقابل بطن کے معنی ہیں کسی چیز کا زمین کے اندر غائب ہوجانا پھر ہر وہ چیز اس طرح پر نمایاں ہو کہ آنکھ یابصیرت سے اس کا ادراک ہوسکتا ہو اسے ظاھر کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسادَ [ غافر/ 26] یا ملک میں فساد ( نہ ) پیدا کردے ۔ ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأعراف/ 33] ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] مگر سرسری سی گفتگو ۔ اور آیت کریمہ : يَعْلَمُونَ ظاهِراً مِنَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الروم/ 7] یہ دنیا کی ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ صرف دنیو یامور سے واقفیت رکھتے ہیں اخروی امور سے بلکل بےبہر ہ ہیں اور العلم اظاہر اور الباطن سے کبھی جلی اور خفی علوم مراد ہوتے ہیں اور کبھی دنیوی اور اخروی ۔ قرآن پاک میں ہے : باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] جو اس کی جانب اندورنی ہے اس میں تو رحمت ہے اور جو جانب بیرونی ہے اس طرف عذاب ۔ اور آیت کریمہ : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ۔ میں ظھر کے معنی ہیں زیادہ ہوگیا اور پھیل گیا اور آیت نِعَمَهُ ظاهِرَةً وَباطِنَةً [ لقمان/ 20] اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ۔ میں ظاہرۃ سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو ہمارے علم میں آسکتی ہیں اور باطنۃ سے وہ جو ہمارے علم سے بلا تر ہیں چناچہ اسی معنی کی طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها [ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ اور آیت کریمہ : قُرىً ظاهِرَةً [ سبأ/ 18] کے عام معنی تو یہی ہیں کہ وہ بستیاں سامنے نظر آتی تھیں مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بطور مثال کے انسانی احوال کیطرف اشارہ ہو جس کی تصریح اس کتاب کے بعد دوسری کتاب ہیں ) بیان کریں گے انشاء اللہ ۔ اظھرہ علیہ اسے اس پر مطلع کردیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً [ الجن/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اپنے غائب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا اور آیت کریمہ : لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ [ التوبة/ 33] میں یظھر کے معنی نمایاں کرنا بھی ہوسکتے ہیں اور معاونت اور غلبہ کے بھی یعنی تمام ادیان پر اسے غالب کرے چناچہ اس دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ [ الكهف/ 20] اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ يا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ [ غافر/ 29] اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو ۔ فَمَا اسْطاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ [ الكهف/ 97] پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس کے اوپر چڑھ سکیں ۔ صلاۃ ظھر ظہر کی نماز ظھیرۃ ظہر کا وقت ۔ اظھر فلان فلاں ظہر کے وقت میں داخل ہوگیا جیسا کہ اصبح وامسیٰ : صبح اور شام میں داخل ہونا ۔ قرآن پاک میں ہے : وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ [ الروم/ 18] اور آسمان اور زمین میں اسی کیلئے تعریف ہے اور سہ پہر کے وقت بھی اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو ۔ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے اہل سبا اور اردن و فلسطین والوں کے درمیان جہاں ہم نے پانی اور درختوں سے برکت کر رکھی ہے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو سڑک پر سے ہی نظر آتے تھے اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان رات گزارنے اور آرام کرنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا۔ کہ بھوک و پیاس اور رہزنوں سے مطمئن ہو کر ان میں سفر کرو اس کے بعد پھر انبیاء کرام نے ان سے فرامیا کہ اب بھی اپنے پروردگار کی نعمتوں کا شکر ادا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح اس نے تم سے پہلی نعمت چھین لی یہ بھی چھین لے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨{ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً } ” ہم نے ان کے (علاقے) اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں “ یہاں پر ” بابرکت بستیوں “ سے ارض فلسطین مرا د ہے۔ اس ضمن میں سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔ ان کا علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور وہاں مختلف اقسام کی خوشبوئیں کثرت سے پیدا ہوتی تھیں۔ پرانے زمانے کے سیاحوں کے حوالے سے قوم سبا کے بارے میں ایسی بہت سی معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں۔ چناچہ اپنے دور کی ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت پر ان کی اجارہ داری تھی (بعد میں ایک مدت تک اس تجارت پر قریش ِمکہ ّکی اجارہ داری رہی جس کا ذکر سورة القریش میں آیا ہے) ۔ ہندوستان ‘ چین اور دیگر مشرقی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان یمن کی بندرگاہ پر اترتا تھا ‘ جبکہ یورپ سے آنے والا سامان بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کے راستے فلسطین کی بندرگاہ پر پہنچتا تھا۔ چناچہ یمن اور فلسطین کے درمیان قوم سبا کے تجارتی قافلے اس سامان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مذکورہ شاہراہ پر سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے بہت ُ پر سکون ‘ پر امن اور ہر لحاظ سے مثالی تھی۔ اس کی کیفیت یوں تھی کہ تقریباً سو میل کے فاصلے تک اس شاہراہ کے دونوں طرف ان کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد عین شاہراہ کے اوپر جگہ جگہ بستیاں اس طرح آباد تھیں کہ ایک بستی کی حدود ختم ہوتے ہی دوسری بستی کے آثار شروع ہوجاتے تھے۔ اس طرح تجارتی قافلے نہ صرف رہزنی وغیرہ کے خطرات سے محفوظ رہتے تھے بلکہ انہیں سفر و قیام کے دوران اشیائِ ضرورت اور مطلوبہ سہولیات بھی ہر جگہ ہر وقت دستیاب رہتی تھیں۔ { وَّقَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَ } ” اور ہم نے اندازہ مقرر کردیا تھا ان میں سفر کرنے کا۔ “ یعنی ان کے درمیان سفر کی منزلیں مقرر کردی تھیں۔ یہ آبادیاں شاہراہ کے عین کناروں پر اس طرح واقع تھیں کہ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک کا درمیانی فاصلہ تیس چالیس میل کے لگ بھگ تھا اور یہ فاصلہ سفر کی منزلوں کے حساب سے رکھا گیا تھا تاکہ ہر منزل پر قافلوں کو قیام و طعام کی مطلوبہ سہولیات آسانی سے میسر آسکیں۔ { سِیْرُوْا فِیْہَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ } ” (ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ) تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔ “ یعنی ان میں رات دن بےخوف و خطر سفر کرو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 "Blessed habitations": the lands of Syria and Palestine, which have been generally mentioned in the Qur'an by this title, as for instance, in AI-A'raf: 137, Bani Isra`il: 1, Al-Anbiya`: 71, 81. "Conspicuous habitations": habitations situated on the highway and not inside the country. It may also mean that the habitations were not very far apart but contiguous so that as the outlying areas of one habitation came to an end those of the other started coming into view. "Set...distances" implies that from the Yaman to the borders of Syria the whole journey passed through inhabited lands, and the distances between one station and another were known and determined. That makes the distinction between the journey through inhabited land and the journey through uninhabited desert area. In the desert the traveller continues to travel as long as he wills and halts when tired. Contrary to this, in settled areas as the distance between one habitation and the other is well known, the traveller can plan beforehand when he would break his journey, where he would have his midday rest and when he would stay for the night.

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :31 برکت والی بستیوں سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے جسے قرآن مجید میں عموماً اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے ( مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف ، آیت 137 ۔ بنی اسرائیل ، آیت 1 ۔ الانبیاء ، آیات 71 و 81 ) نمایاں بستیوں سےرماد ہیں ایسی بستیاں جو شاہراہ عام پر واقع ہوں ، گوشوں میں چھپی ہوئی نہ ہوں ، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں بہت زیادہ فاصلے پر نہ تھیں بلکہ متصل تھیں ۔ ایک بستی کے آثار ختم ہونے کے بعد دوسری بستی کے آثار نظر آنے لگتے تھے ۔ سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یمن سے شام تک کا پورا سفر مسلسل آباد علاقے میں طے ہوتا تھا جس کی ہر منزل سے دوسری منزل تک کی مسافت معلوم و متعین تھی ۔ آباد علاقوں کے سفر اور غیر آباد صحرائی علاقوں کے سفر میں یہی فرق ہوتا ہے ۔ صحراء میں مسافر جب تک چاہتا ہے چلتا ہے اور جب تھک جاتا ہے تو کسی جگہ پڑاؤ کرلیتا ہے ۔ بخلاف اس کے آباد علاقوں میں راستے کی ایک بستی سے دوسری بستی تک کی مسافت جانی بوجھی اور متعین ہوتی ہے ۔ مسافر پہلے سے پروگرام بنا سکتا ہے کہ راستے کے کن کن مقامات پر وہ ٹھہرتا ہوا جائے گا ، کہاں دوپہر گزارے گا اور کہاں رات بسر کرے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: اس سے مراد شام اور فلسطین کے علاقے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان علاقوں کو ظاہری حسن اور شادابی سے بھی نوازا ہے اور انبیاء کرام کی سر زمین ہونے کا بھی شرف عطا فرمایا ہے۔ 12: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا۔ یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لیے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لیے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ تھا کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا، اور مسافر جہاں چاہے، کھانے پینے اور سونے کے لیے ٹھہر سکتا تھا۔ اور دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس طرح بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے نہ چوری ڈاکے کا خطرہ تھا۔ نہ راستہ بھٹک جانے کا، نہ کھانے پینے کے سامان کے ختم ہوجانے کا۔ لیکن بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس نعمت کی قدر پہچان کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، انہوں نے الٹا اللہ تعالیٰ سے یہ کہنا شروع کردیا کہ بستیوں کے اس تسلسل کی وجہ سے ہمیں سفر کی مہم جوئی کا مزہ ہی نہیں آتا، اس لیے یہ بستیاں ختم کر کے منزلوں کا فاصلہ بڑھا دیجئے، تاکہ صحراؤں اور جنگلوں میں سفر کرنے کا لطف آئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨ تا ٢٠۔ ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلیف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا ایک گاؤں میں دوپہر کو سوتا دوسرے گاؤں میں رات کو جارہتا لیکن جب وہ لوگ بہت نعمت کے سبب سے اترا گئے تو انہوں نے اس نعمت کی قدرنہ کی اور شکر کے بدے ناشکری کی اور کہنے لگے اے رب ہمارے دوری کردے ہمارے سفروں میں غرض انہوں نے ایسے جنگل اور بیا بان کو سند کیا جن کے طے کرنے میں سواری اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا لگے اور خوفناک مقاموں میں سفر کرنے کی ہوس ان لوگوں کے دل میں یہاں تک اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا لگے اور خوفناک مقاموں میں سفر کرنے ہوس ان لوگوں کے دل میں یہاں تک پیدا ہوئی کہ انہوں نے اس آرام کے ملک کے سفر کو برا جان کر اپنے حق میں برا کیا کہ سختی کے سفر کیا اللہ سے دعاء کی جو حقیقت میں ایک بددعاء تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بددعاء قبول کرلی اور پانی کے ریلہ کا عذاب بھیج کر ملک یمن سے ان کو بالکل اجاز دیا جس سے ان میں کے کچھ لوگ ملک شام کو کچھ مدینہ اور عمان وغیرہ کو چلے گئے اور ملک یمن کی راحت پھر ان کو خواب میں بھی نظر نہ آئی اور ان کی یمن کی راحت کی حالت اور اس راحت کے بعد تکلیف کی حالت اس وقت کے لوگوں میں ایک کہانی کی طرح مشہور ہوگئی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابہریرہ (رض) کی حدیث ایک گہ گزر چکی ہے کہ مصیبت کے وقت صبر اور راحت کے وقت شکر کرنا ایمانداروں کا کام ہے اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ایسے قصے مصیبت کے وقت صبر اور راحت کے وقت شکر کرنے ولاوں کے حق میں عبرت کی نشانیاں ہیں اور یہ عبرت ایمان کی نشانی ہے اس لیے تھوڑے سے ایمانداروں کے سوا اکثر لوگ مصیبت کے وقت گھبرا کر اور راحت کے وقت اترا کر بےصبری اور ناشکری میں شیطان کے پیرو بن جاتے ہیں اور شیطان نے آسمان سے نکالے جانے کے وقت یہ جو کہا تھا کہ نبی آدم کو ہر طرح سے بہکاؤں گا اس کو سچا کردیتے ہیں شیطان کا یہ قول سورة الاعراف میں گزر چکا ہے سورة الاعراف کی آیتوں کو اس سورت کی ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ شیطان نے نبی آدم کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ اٹکل سے کہا تھا بنی آدم نے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد شیطان کی اس اٹکل کو سچا کر کے دکھا دیا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:18) جعلنا۔ جعل (باب فتح) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم نے کیا۔ ہم نے ٹھہرایا۔ ہم نے مقرر کردیا۔ یہاں آیۃ ہذا میں بمعنی ہم نے آباد کردیا تھا۔ آباد کر رکھا تھا۔ بینہم۔ ان کے درمیان۔ ضمیر ہم جمع مذکر غائب کا مرجع اہل سبا ہیں مراد سبا کے علاقہ کے درمیان اور ملک شام کے درمیان۔ القری۔ جمع القریۃ واحد ۔ بستیاں ۔ شہر۔ ام القری مکہ شریف کو کہتے ہیں التی برکنا فیھا۔ جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ ان سے مراد شام اور فلسطین کے قصبے اور شہر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بابرکت بنادیا تھا۔ کہ یہاں متعدد انبیا کا ظہورہوا ۔ قری ظاہرۃ۔ قری قریۃ کی جمع ہے بستیاں۔ موصوف ہے ظاہرۃ صفت، مراد اس سے وہ شہر اور بستیاں جو کسی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے مسافروں کو دور سے نظر آنے لگیں۔ ظاہرۃ بمعنی عامرۃ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی آباد۔ قری منصوب بوجہ جعلنا کے مفعول ہونے کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سبا کے علاقہ اور ملک شام کے علاقہ کے درمیان تجارتی شاہراہ پر برلب سڑک بلندوبالا عمارتوں والی بستیاں ہم نے آباد کر رکھی تھیں۔ السیر۔ سار یسیر (ضرب) سے مصدر ہے جس کے معنی زمین پر چلنا کے ہیں یہاں مسافت مراد ہے وقدرنا فیھا السیر اور ان سر راہ واقع بستیوں کی درمیانی مسافت کو ہم نے مناسب منزلوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ یعنی ایک بستی دوسری بستی سے مناسب فاصلہ پر آباد کر رکھی تھیں۔ صبح ، دوپہر، شام کسی وقت بھی ہر مسافر کو ایک نہ ایک بستی میں رہائش کی سہولتیں میسر تھیں۔ سیروا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ تم چلو پھرو، تم سیر کرو، تم آئو جائو۔ ای قلنا لہم سیروا لیالی وایاما۔ ہم نے ان سے کہا کہ آئو جائو۔ رات ہو یا دن۔ رات دن۔ مفعول بوجہ مفعول فیہ۔ امنین۔ امن کی جمع۔ بےخوف، مطمئن۔ بےدھڑک، بےکھٹکے۔ یعنی تم رات دن بےخطر ان بستیوں کے درمیان آئو جائو تمہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں مثلاً بھوک، پیاس۔ چوری، ڈاکہ۔ وغیرہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی جب یہ لوگ تجارت کی غرض سے اپنے وطن یمن سے ملک شام کا سفر کرتے تھے تو بےخوف و خطر اور آرام و سکون سے کرتے۔ ہر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر گائوں آباد تھے اس لئے زاد راہ اور پانی کا ذخیرہ رکھنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی۔ رات کو یا دن کو جس گائوں میں بھی پہنچ جاتے وہاں کھانے پینے کے لئے سب کچھ مل جاتا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم سبا کا تمدّن۔ قوم سبا اپنے دور میں نظام آبپاشی اور زراعت میں ہی خود کفیل اور انتہائی ترقی یافتہ نہ تھی بلکہ تہذیب و تمدّن کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ اور باکمال تھی۔ اس کے اکثر شہر اور بستیاں شاہراؤں پر واقع تھے جس سے سفر آسان، محفوظ اور مسافروں کو کھانے پینے اور قیام میں کوئی دقت پیش نہیں آیا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر و ترقی کی ایسی صلاحیتیں عطا فرمائیں تھیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے ٹھیک منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیراتی کام کیے اور شہروں کے بہترین نقشے بنائے جس سے عوام کو ہر قسم کی سہولت میسرتھی۔ لوگ پُر سکون اور عیش کی زندگی بسر کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ پُر سکون زندگی اور ملک کی ترقی پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے لیکن انہوں نے شکر کی بجائے نا شکری کا رویہ اختیار کیا اور اس قدر بغاوت کی۔ کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے شہروں کے درمیان مسافت پیدا کردے۔ اس طرح انہوں نے آبادی کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے لیے بوجھ جانا۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی ترقی اور خوشحالی کو ان کے لیے وبال بنایا اور شدید سیلاب کے ذریعے انہیں تہس نہس کردیا جو طویل عرصہ تک اپنے بعد آنیوالی اقوام کے لیے عبرت گاہ بن گئے۔ قوم سبا کی تاریخ اور آثار اس شخص کے لیے سامان عبرت ہیں جو مشکلات پر صبر اور خوشحالی پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو کہ ” اللہ “ ہماری بستیوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے۔ دراصل جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے گویا وہ زبان حال اور اپنے برے کردار کے ذریعے یہ کہتا ہے کہ الٰہی میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ وایاما امنین (18) ” “۔ یہ راستہ ایسا تھا کہ مسافر اور قافلے صبح نکلتے اور اندھیرا ہونے سے پہلے دوسرے شہر تک پہنچ جاتے۔ لہٰذا ان شہروں کے درمیان محدود فاصلے کا سفر ہوتا اور یہ راستہ مسافروں کے لیے نہایت ہی امن وامان کا اور محفوظ ہوتا تھا۔ روز کے سفر کے بعد مسافر آرام کرسکتے تھے اور ان کو جگہ جگہ سروسز کی سہولیات مل جاتی تھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

19:۔ وجعلنا الخ : یہ لقد کان لسبا فی مسکنہم الخ کا اعادہ ہے بوجہ بعد عہد یعنی انعام دیگر کا ذکر ہے۔ یہ بھی اہل سبا پر اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تھا۔ القری التی بارکنا فیہا سے ملک شام کے شہر مراد ہیں۔ یہ سرزمین سر سبز و شاداب اور ہر قسم کے پھلوں اور دیگر نعمتوں سے مالا مال تھی۔ والمراد بالقری التی بورک فیہا قری الشام وذلک بکثرۃ اشجارھا واثمارھا والتوسعۃ علی اھلہا (روح ج 22 ص 129) اور قری ظاھرۃ وہ بستیاں جو برلب سڑک واقع تھیں۔ قال قتادۃ معنی ظاھرۃ متصلۃ علی الطریق۔ (قرطبی ج 14 ص 289) ۔ قدرنا فیہا السیر : راستے پر واقع ان بستیوں کا باہمی فاصلہ ایسا مناسب کہ ایک بستی سے چل کر جلدی ہی دوسری آبادی میں پہنچ جائیں اور ضروریاتِ سفر حاصل کرنے میں کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔ اہل سبا اکثر تجارت پیشہ لوگ تھے۔ اور ان کی زیادہ تر تجارت اہل شام سے تھی ان کے تجارتی قافلے دن رات سفر کرتے تھے۔ اور سفر اس قدر آسان تھا کہ کسی قسم کی تکلیف نہ تھی۔ راستے میں بستیاں چونکہ قریب قریب آباد تھیں اس لیے انہیں نہ تو کہیں جنگل میں رات کاٹنے کی ضرورت پڑتی اور نہ دیگر ضروریات حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش آتی۔ آبادیاں قریب قریب ہونے کی وجہ سے ان کے قافلے چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی محفوظ رہتے اور بےکھٹکے رات دن اپنا سفر جاری رکھ سکتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) اور ہم نے اہل سبا کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی ہے بہت سی بستیاں ایسی آباد کر رکھی تھیں جو راستے میں سے نظر آتی تھیں اور ہم نے سفر کی رعایت سے ان بستیوں کے درمیان ایک خاص اندازے اور مناسبت سے فاصلہ رکھا تھا کہ تم لوگ ان بستیوں میں راتوں کو اور دنوں میں جب چاہے امن کے ساتھ بےخوف و خطر سفر کرو اور چلو۔ حضرت حق تعالیٰ نے ایک اور احسان کی ناسپاسی کی جانب اس آیت میں ذکر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اہل سبا کو ان کے ملک میں ہر طرح آسودگی اور مرفہ الحالی عطا فرمائی تھی اسی طرح ان لوگوں کیلئے سفر اور تجارت کی بڑی سہولتیں عطا کی تھیں۔ یمن سے لے کر شام تک ایک شارع عام اور گزرگاہ تھی جس پر نہ صرف یمن اور جدہ اور بصرہ سے تجارت ہوتی تھی بلکہ عرب لوگ ہندوستان سے لاکھوں روپے کے مال کی تجارت کیا کرتے تھے۔ یہ شارع عام ملک شام تک چلا جاتا تھا اور ہندوستان کا مال شام تک اس راہ سے پہنچتا تھا۔ اس راستے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں آباد تھیں۔ ان بستیوں سے مسافروں کو بڑا آرام ملتا تھا پھر یہ بستیاں ایک ایسے مناسب فاصلے سے آباد تھیں کہ صبح کا مسافر دوپہر کو اور دوپہر کا مسافر شام کو ان میں پہنچ کر آرام کرسکتا تھا۔ ان بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے یہ طویل راستہ محفوظ اور مامون بہت تھا۔ راستے میں لوٹ مار کے واقعات بہت ہی کم ہوتے تھے تو راستہ محفوظ تجارت کی آسانی اور کثیر المنافع کا سفر اور سفر میں قیام اور آرام کی سہولتیں پانی کی فراوانی غرض ! ہر قسم کی سہولتیں ان کو اس عام گزرگاہ سے حاصل تھیں مگر انہوں نے سفر کی ان تمام سہولتوں کو ٹھکرا دیا جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں برکت والی بستیاں یعنی ملک شام ان کے ملک سے شام تک راہ امن کی آباد بستیاں پاس پاس سفر تھا جیسے سیر۔