Surat Saba

Surah: 34

Verse: 6

سورة سبأ

وَ یَرَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ہُوَ الۡحَقَّ ۙ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۶﴾

And those who have been given knowledge see that what is revealed to you from your Lord is the truth, and it guides to the path of the Exalted in Might, the Praiseworthy.

اور جنہیں علم ہے وہ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ ( سراسر ) حق ہے اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راہ کی ر ہبری کرتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ ... And those who have been given knowledge see that what is revealed to you from your Lord is the truth, This is another kind of wisdom, following on from the one before, which is that when those who believed in what was revealed to the Messengers see the onset of the Hour and how the righteous and the wicked will be rewarded and punished respectively, which they knew of beforehand in this world from the Books of Allah and which they are now seeing with their own eyes, they will say: لَقَدْ جَأءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ Indeed, the Messengers of our Lord did come with the truth. (7:43) And it will be said: هَذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمـنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ This is what the Most Gracious had promised, and the Messengers spoke truth! (36:52) لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَـبِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـذَا يَوْمُ الْبَعْثِ Indeed you have stayed according to the decree of Allah, until the Day of Resurrection; so this is the Day of Resurrection (30:56) وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ And those who have been given knowledge see that what is revealed to you from your Lord is the truth, and that it guides to the path of the Exalted in might, Owner of all praise. The Exalted in might is the One Who is All-Powerful, Whom none can overwhelm or resist, but He subjugates and controls all things. The Owner of All praise is the One Who, in all His words, deeds, laws and decrees, is deserving of praise, may He be glorified and exalted.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رؤیت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین ہیں۔ یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ 6 ۔ 2 یہ عطف ہے حق پر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے اور وہ راستہ کیا ہے ؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیھم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ۔۔ : ” یری “ میں رُؤیت (دیکھنے) سے مراد یہاں دل کے ساتھ دیکھنا یعنی جاننا ہے۔” 3 وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ‘ کا پہلا مفعول ” الَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ “ ہے اور دوسرا مفعول ” الحق “ ہے۔ ” ھو “ ضمیر فصل ہے۔ خبر ” الحق “ پر الف لام کی وجہ سے اور ضمیر فصل کی وجہ سے کلام میں حصر اور تاکید پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ” وہی حق ہے۔ “ ” الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “ سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام ہیں، پھر تمام مسلمان جو فکرو دانش اور علم نافع سے بہرہ مند ہوئے، یا اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام (رض) ۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول، وحی الٰہی اور قیامت کے متعلق اہل علم و دانش کا یقین و ایمان اور کفار کا عقیدہ و اعلان بیان فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا، جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ تو جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس ذات پاک کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پر غالب اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔ کفار اور شیطان لاکھ کوشش کرلیں، وہ اس کے سب پر غالب ہونے اور تمام خوبیوں کا مالک ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بتانے کے مطابق قیامت قائم ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کرتے ہیں۔ 3 بعض مفسرین نے ” وَيَرَى الَّذِيْنَ “ کا عطف ” لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “ پر بیان کیا ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ اسے نیا کلام قرار دیا جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 6: وَيَرَ‌ى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (34:6) talks about believers in contrast with those who denied the coming of the Qiyamah. The former had put their faith in it and became the beneficiaries of the knowledge given by Allah Ta’ ala to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) by revelation.

(آیت) ویری الذین اوتوا العلم، یہ منکرین قیامت کے بالمقابل ان مومنین کا ذکر ہے جو قیامت پر ایمان لائے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا تھا وہ اس علم سے مستفید ہوئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ہُوَالْحَقَّ۝ ٠ ۙ وَيَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۝ ٦ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط ) الصراط ۔ سیدھی راہ ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے ۔ اسے سراط ( بسین مھملہ ) پڑھا جاتا ہے ملاحظہ ہو ( س ر ط) السراط کے معنی آسان راستہ ، کے آتے ہیں اور اصل میں سرطت الطعام وزاردتہ سے مشتق ہے جس کے معنی طعام کو نگل جانے کے ہیں ۔ اور راستہ کو صراط اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ راہر کو گویا نگل لیتا ہے یار ہرد اس کو نگلتا ہوا چلایا جاتا ہے ۔ مثل مشہور ہے ۔ قتل ارضا عالھا وقتلت ارض جاھلھا کہ واقف کار رہر و توزمین کو مار ڈالتا ہے لیکن ناواقف کو زمین ہلاک کردیتی ہے ۔ ابو تمام نے کہا ہے ۔ رعتہ الفیما فی بعد ماکان حقبۃ رعاھا اذا ماالمزن ینھل ساکبہ اس کے بعد کو اس نے ایک زمانہ دراز تک سرسبز جنگلوں میں گھاس کھائی اب اس کو جنگلات نے کھالیا یعنی دبلا کردیا ۔ اسی طرح راستہ کو لقم اور ملتقم بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ گویا ر ہرو اس کو لقمہ بنالیتا ہے۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حمید إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، ( ح م د ) حمید اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تکاہ جن لوگوں کو توریت کا علم دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ قرآن کی صداقت کو سمجھ لیں اور یہ کہ وہ خدائے غالب و محمود کے دین کا راستہ بتاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ہُوَ الْحَقَّ } ” اور (تا کہ) دیکھ لیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو چیز نازل کی گئی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی طرف سے وہ حق ہے “ { وَیَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ } ” اور وہ راہنمائی کرتی ہے ‘ نہایت غالب ‘ لائق ِحمد و ثنا ہستی کے راستے کی طرف۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That is, "These antagonists cannot succeed in their object to prove the truth presented by you false, however hard they may try, for they can only delude and misguide the ignorant people by their designs. Those possessed of knowledge cannot be deceived by them. "

سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :9 یعنی یہ معاندین تمہارے پیش کردہ حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے خواہ کتنا ہی زور لگائیں ، ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں ، کیونکہ ان باتوں سے وہ جہلا ہی کو دھوکا دے سکتے ہیں ۔ علم رکھنے والے لوگ ان کے فریب میں نہیں آتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(34:6) ویری الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق۔ یری فعل الذین اوتوا العلم فاعل الذی انزل الیک مفعول اول ھو ضمیر الفصل الحق مفعول ثانی۔ اوتوا العلم وہ جن کو علم دیا گیا۔ مراد اس سے یا اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے اہل علم ہیں یا اہل کتاب کے علماء میں سے جو مشرف با سلام ہوئے مثلاً عبداللہ بن سلام وکعب وغیرہ (رض) ترجمہ :۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو تیرے پروردگار کی طرف سے تیری طرف ضمیر فاعل الذی انزل کی ضمیر ہے ای القران۔ العزیز (فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ) غالب ، زبردست، قوی، گرامی قدر۔ الحمید (حمد سے فعل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی مفعول) ستودہ، صفت کیا ہوا۔ محمود۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسما حسنیٰ میں سے ہیں بوجہ مضاف الیہ ہونے کے مجرور ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 مراد صحابہ کرام ہیں یا تمام مسلمان اور با اعتبار عموم یہ دوسرا احتمال زیادہ صحیح ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان سے مراد اہل کتاب ہیں اور غالباً ترجمہ کا بریکٹ ( اگلی کتابوں کا) اسی قول کے پیش نظر ہے مگر یہ قول بوجہ ضعیف ہے۔ ( قرطبی) بعض نے (ویری الذین الایۃ) کو ولیجوی پر معطوف مانا ہے اور یہ مطلب لیا ہے یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن کو یقین تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن برحق تھا۔۔۔۔ ( وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قیامت برپا ہونے کے بارے میں ایک اور ثبوت۔ کسی بھی حقیقت کو جاننے کے لیے دنیا میں جو ثبوت اور دلائل پائے جاتے ہیں ان میں یہ بات ہمیشہ سے مسلّمہ رہی ہے کہ اس مسئلہ کے بارے اس دور کے منعف مزاج اہل علم کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ اگر صحیح اور ٹھوس علم رکھنے والے لوگ اس بات کی تائید کریں تو معاشرتی اعتبار سے اس کو تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ جہاں تک قیامت برپا ہونے کا عقیدہ ہے اس کے بارے میں ہر دور کے دانش ور اور اہل علم یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور رکھیں گے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی۔ اور عقل کا بھی یہ تقاضا ہے کہ قیامت قائم ہونی چاہیے تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کی جزا یا سزا مل سکے۔ اسی فکر کی بنیاد پر قرآن مجید نے منکرین قیامت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر تمہیں قیامت کے برپا ہونے کے بارے میں شک ہے تو اپنے دور کے اہل علم سے استفسار کیجیے وہ یقیناً تمہیں بتلائیں گے کہ جس قرآن سے تمہیں قیامت برپا ہونے کے دلائل دیئے جاتے ہیں وہ حقیقتاً آپ کے رب کی طرف سے سچ اور حق بن کر نازل ہوا ہے قرآن کو نازل کرنے والا ہی کائنات کی ہر چیز پر غالب اور ہر لحاظ سے تعریف کے لائق ہے۔ اور قرآن صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والا ہے۔ اہل علم سے مراد صحابہ (رض) اور وہ حضرات ہیں جو اہل کتاب کے نیک علماء ہیں اور جن پر ان کے ہم عصر اور ہم مکتب لوگ اعتماد کرتے تھے۔ عبداللہ بن سلام (رض) یہود کے ممتاز علماء میں سے تھے اور حقیقت پسند تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور عبداللہ بن سلام نے آپ میں وہ نشانیاں دیکھیں جو تورات میں نبی آخر الزماں کی بتلائی گئی ہیں آپ سے چند سوالات پوچھنے کے بعد وہ اسلام لے آئے۔ اور رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہود کی سرشت سے آگاہ کیا ‘ جس پر یہود ان کے دشمن بن گئے۔ بعد ازاں زنا کے ایک مقدمہ میں یہود نے تورات سے رجم کی آیت کو چھپانا چاہا تو عبداللہ بن سلام (رض) نے اس آیت کی نشاندہی کر کے یہود کو شرمندہ کیا۔ [ رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود، باب فی رجم الیہودیین ] (عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَاد۔۔ رَأَیْتُ رُؤْیَا عَلَی عَہْدِ النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَصَصْتُہَا عَلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال۔۔ فَأَنْتَ عَلَی الإِسْلاَمِ حَتَّی تَمُوت۔۔ )[ رواہ البخاری : کتاب المناقب ‘ باب مناقب عبداللہ بن سلام ] ” قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام (رض) کو ایک خواب آیا جس کی تعبیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتلائی کہ عبداللہ بن سلام آخر دم تک اسلام پر ثابت قدم رہیں گے۔ “ مسائل ١۔ ہر دور کے اہل علم قیامت آنے کی تصدیق کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ٢۔ اہل علم سے مراد وہ لوگ ہیں جو تورات، انجیل اور قرآن مجید کو تسلیم کرتے ہیں ٣۔ ” اللہ “ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ ٤۔ قیامت ہر صورت قائم ہو کر رہے گی۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ ہی ہدایت دینے والا ہے : ١۔ ہدایت وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہدایت قرار دے۔ (البقرۃ : ١٢٠) ٢۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے۔ (القصص : ٥٦) ٣۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢١٣) ٤۔ ہدایت پر چلانا انبیاء کی ذمہ داری نہیں۔ (البقرۃ : ٢٧٢) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر کوئی ہدایت نہیں پاسکتا۔ (الاعراف : ٤٣) ٦۔ جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ (الرعد : ٣٣) ٧۔ ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔ (الحجرات : ١٧) ٨۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے۔ (الکہف : ١٧) ٩۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ : ١٤٢) ١٠۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ (ابراہیم : ٤) ١١۔ جسے اللہ گمراہ کر دے کوئی اسے ہدایت نہیں دے سکتا۔ (الاعراف : ١٨٦) ١٢۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور (ہدایت دینے والا) ہے۔ (النور : ٣٥) ١٣۔ اللہ ہی اندھیرے اور روشنی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویری الذین اوتوا ۔۔۔۔۔ صراط العزیز الحمید (6) ” “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل العلم سے مراد اہل کتاب ہیں جن کو اپنی مذہبی کتابوں کی پیشن گوئیاں کی وجہ سے معلوم تھا کہ قرآن کتاب برحق ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والا ہے ، لیکن آیت کا دائرہ اطلاق اہل کتاب تک محدود نہیں ہے۔ اس سے مطلق اہل علم مراد ہیں۔ یہ آیت کسی زمان و مکان تک بھی محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے کے اہل علم اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہر زمانے ، ہر نسل اور ہر قسم کے اہل علم مراد ہیں۔ بشرطیکہ ان کا علم صحیح علم ہو۔ اس لیے کہ قرآن کریم تو تمام زمانوں کے لیے کھلی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو سچائی ہے وہ ہر زمانے اور علاقے کے اہل علم کے لیے سچائی ہے۔ یہ کتاب اسی سچائی پر مشتمل ہے جو اس کائنات کی تہہ میں ہے۔ اس لیے قرآن کریم اس کائناتی سچائی کا بہترین اور سچا ترجمہ ہے۔ ویھدی الی صراط العزیز الحمید (34: 6) ” اور خدائے عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے “۔ اللہ عزیز وحمید کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے اس کائنات کے لیے اختیار کیا ہے اور وہی راستہ اللہ نے انسان کے لیے بھی اختیار کیا ہے تاکہ انسانی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو جو اس کائنات کے لیے ہے جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ راستہ قانون قدرت ہے اور ناموس فطرت کا راستہ ہے جس کے مطابق یہ کائنات چلتی اور جس کے مطابق خود یہ زندگی چلتی ہے کیونکہ خود انسانی زندگی اپنے نظام اور اپنی رفتار کے مطابق اس کائنات سے علیحدہ نہیں ہے۔ نہ ان تمام چیزوں سے علیحدہ ہے جو اس کائنات میں ہیں۔ وہ اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یوں کہ وہ مومنین کی قوت مدرکہ کے اندر اس کائنات کا متناسب تصور پیدا کرتا ہے ، اور پھر اس کائنات کے ساتھ مومنین کے تعلقات ، روابط اور اقدار کا ایک تصور پیدا کرتا ہے کہ اس کائنات کے اندر انسان کا مقام کیا ہے۔ اس کے اندر انسان کا کردار کیا ہے ، انسان اور اس کے گرد پھیلی ہوئی کائنات مل کر کس طرح اللہ کی حکمت تخلیق کو بروئے کار لاسکتے ہیں اور انسان اور یہ کائنات باہم مل کر کس طرح اللہ طرح اللہ جل شانہ کی سمت کی طرف سفر کرسکتے ہیں یہ سچائی انسان کو عزیز وحمید کے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے ۔ یوں کہ وہ انسان کو ایک منہاج فکر دیتی ہے۔ اس فکر کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر اٹھاتی ہے اور یہ کائناتی اثرات فطرت انسانی پر اثر انداز ہوکر اسے اس کائنات کا بہترین ادراک عطا کرتے ہیں۔ انسان اس کائنات کے خواص اور قوانین کو سمجھتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ پھر وہ کائناتی حقائق کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ یہ سچائی انسان کو اللہ عزیز وحمید کی راہ یوں دکھاتی ہے کہ ایک فرد کی تربیت کرکے اسے ایک سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلانا سکھائی ہے۔ پھر یہ ایک سوسائٹی کو دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اس پوری کائنات کی تعمیر اور ترقی کے لیے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اور تمام سوسائٹیوں کو اس کائنات کے ساتھ ہم قدم کرتی ہے تاکہ یہ کائنات اور اس کے اندر انسانی سوسائٹیاں بڑی سہولت کے ساتھ چل سکیں۔ یہ سچائی اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف یوں بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ انسان اور انسانی سوسائٹی کو ایسے قوانین عطا کرتی ہے جو فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہوں۔ انسانی زندگی کے حالات اور انسانی معیثت کے بارے میں ایسی ہدایات دیتی ہے کہ انسان تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلے ۔ یہ نہ ہو کہ انسانی نظام اس کائنات اور اس کے اندر موجود دوسرے حیوانات کے نظام کے ساتھ متضاد ہو۔ حالانکہ انسان بھی اس کرہ ارض کی دوسری مخلوقات اور امم میں سے ایک امت ہے۔ غرض یہ کتاب اور یہ سچائی راہنما ہے ، سیدھی راہ کی طرف اور یہ راہنما بھی اللہ کا راسال کردہ ہے اور یہ راستہ بھی اسی کا پیدا کردہ ہے ۔ اگر آپ نے کسی سڑک پر چلنا ہے اور آپ کو راہنمائی کیلئے وہی انجینئر مل جائے جس نے اس راستے کا نقشہ بنایا تھا تو آپ جیسا خوش قسمت اور کون ہے اور آپ کس خوش اسلوبی اور بےفکری سے یہ سفر طے کرسکیں گے۔ یقیناً بہت اطمینان کے ساتھ ! اس حساس تبصرے کے بعد اب دوبارہ بات شروع ہوتی ہے بعث بعد الموت کے موضوع پر ، تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ بعث بعد الموت پر کس قدر بےت کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اپنی جانب سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تعجب کرتے ہیں کہ آپ ایسی انہونی باتیں کرتے ہیں ، یا اللہ پر افتراء باندھتے ہیں حالانکہ خود ان کی تعجب انگیزی احمقانہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اہل علم کی تعریف فرمائی (وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) (الآیۃ) کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف بھیجا گیا ہے حق سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا راستہ بتاتا ہے جو غالب اور مستحق حمد ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ویری الذین الخ : یہ علماء اہل کتاب سے دلیل نقلی ہے وہ علماء اہل کتاب مراد ہیں جو ایمان لا چکے ہیں۔ یعنی مومنی اھل الکتاب عبداللہ بن سلام و اصحابہ (خازن و معالم ج 5 ص 232) ۔ اور ویری یہاں بمعنی یعلم ہے ای و یعلم (روح، مدارک) ۔ ھو الحق میں ھو ضمیر فصل ہے یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ تورات و انجیل کے صحیح عالم تھے وہ بھی جانتے ہیں اور اس پر شاہد ہیں کہ آپ پر جو قرآن نازل کیا گیا ہے وہ سراپا حق ہے اور توحید وتقوی کی راہ دکھاتا ہے۔ یھدی الی صراط العزیز الحمید : یہ دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس قرآن کی نہ صرف علمائے اہل کتاب تصدیق کرتے ہیں بلکہ خود قرآن کی اندرونی شہادتیں بھی اس کی سچائی کو واضح کرتی ہیں۔ کیونکہ قرآن کی تعلیمان توحید وتقوی پر مشتمل ہیں جو اس خدائے واحد کی سیدھی ہیں جو سب پر غالب ہے اور تمام صفات کمالی سے متصف ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اور وہ لوگ جن کو کتب سماویہ کا صحیح علم دیا گیا ہے وہ تو اس کتاب کو جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے۔ یہی جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے اور وہ اس اللہ تعالیٰ کا راستہ بتاتی ہے اس کے رستے کی رہنمائی کرتی ہے جو بڑا زبردست اور جملہ صفات محمودہ سے متصف ہے۔ یعنی جو لوگ اہل علم ہیں ان کو یقین ہے کہ یہ قرآن کریم حق ہے اور چونکہ اس قرآن کریم میں قیامت کا ذکر ہے اس لئے قیامت یقینی ہے۔ بہرحال ان اہل علم سے مراد یا تو صحابہ کرام ہیں اور ان کے تابعین ہیں اور یا اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے۔ جیسے عبداللہ بن سلام (رض) اور کعب بن احبار (رض) وغیرہ۔ ایسا ہی ایک مضمون سورة شعراء کے آخر میں بھی گزرا ہے اور یہ بھی ایک طریقۂ استدلال ہے کہ نہ جاننے والے جاننے والوں سے معلوم کرلیں۔ چناچہ اہل عرب اگر تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنے ملک کے اہل کتاب یہودونصاریٰ سے دریافت کرلیں کہ ان کی کتابوں میں اس نبی کا اور اس قرآن کریم کا اور خاص طور پر قیامت کا ذکر ہے یا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس جملے کو بھی لیجزی الذین امنوا کے ساتھ ملا کر ترجمہ کیا ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں یعنی اس واسطے قیامت آی ہے کہ جن کو یقین تھا وہ آنکھوں سے دیکھ لیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے اس آیت کا لیجزی الذین امنوا پر عطف کیا ہے یعنی وایری الذین اوتوا العلم ورنہ تو بات صاف ہے کہ اس آیت کا تعلق قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت سے ہے اور اہل کتاب میں سے جو علماء حق ہیں وہ بھی اس قرآن کریم کی صداقت کے قائل ہیں۔ صراط العزیز الحمید سے مراد دین حق کا راستہ ہے۔ آگے پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی بحث ہے جو اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ جیسا کہ ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ دنیا کے کفار و مشرکین ایک جانب ہیں اور تمام کتب سماویہ ایک جانب ہیں۔