Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 2

سورة فاطر

مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾

Whatever Allah grants to people of mercy - none can withhold it; and whatever He withholds - none can release it thereafter. And He is the Exalted in Might, the Wise.

اللہ تعالٰی جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دے سو اس کا کوئی بند کرنے والا نہیں اور جس کو بند کردے سو اس کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

None can withhold the Mercy of Allah Allah tells, مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ Whatever of mercy, Allah may grant to mankind, none can withhold it; and whatever He may withhold, none can grant it thereafter. And He is the Almighty, the All-Wise. Allah tells us that what He wills, happens, and what He does not will, does not happen. None can give what He withholds, and none can withhold what He gives. Imam Ahmad recorded that Warrad, the freed slave of Al-Mughirah bin Shu`bah, said, "Mu`awiyah wrote to Al-Mughirah bin Shu`bah, saying, `Write for me what you heard from the Messenger of Allah.' So Al-Mughirah called me and I wrote for him: `I heard the Messenger of Allah say when he finished praying, لاَا إِلهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللْهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد There is no god (worthy of worship) except Allah alone, with no partner or associate. To Him be praise and dominion, and He is able to do all things. O Allah, there is none who can withhold what You give, and none can give what You withhold, and good fortune and richness in anything cannot benefit one against Your will. `And I heard him forbid gossiping, asking too many questions and wasting money, burying girls alive, disobeying one's mother, and withholding from others while asking from them."' This was also recorded by Al-Bukhari and Muslim, with several chain of narration. It was recorded in Sahih Muslim that Abu Sa`id Al-Khudri, may Allah be pleased with him, said, "When the Messenger of Allah raised his head from bowing, he would say: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللْهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاءِ وَالاَْرْضِ وَمِلْءُ مَا شِيْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ اللْهُمَّ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللْهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَد Allah hears those who praise Him. O Allah, our Lord, to You be praise, filling the heavens and the earth, and filling whatever You wish besides. O Allah, the One deserving praise and glory. The truest words that any servant says -- and all of us are Your servants -- are: O Allah, there is none who can withhold what You give, and none can give what You withhold, and no wealth or majesty can benefit anyone against Your will." This Ayah is like the Ayah: وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَ رَادَّ لِفَضْلِهِ And if Allah touches you with harm, there is none who can remove it but He; and if He intends any good for you, there is none who can repel His favor. (10:107) And there are many similar Ayat.

اللہ تعالیٰ کا چاہا ہوا سب کچھ ہو کر رہتا ہے بغیر اس کی چاہت کے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ جو وہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ۔ اور جسے وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں ۔ نماز فرض کے سلام کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فضول گوئی اور کثرت سوال اور مال کی بربادی سے منع فرماتے تھے اور آپ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور ماؤں کی نافرنیاں کرنے اور خود لینے اور دوسروں کو نہ دینے سے بھی روکتے تھے ( بخاری ۔ مسلم وغیرہ ) صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اسی آیت جیسی آیت ( وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗٓ اِلَّا هُوَ ۭ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 17؀ ) 6- الانعام:17 ) ہے ۔ اور بھی اس کی نظیر کی آیتیں بہت سی ہیں ۔ حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بارش برستی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہم پر فتح کے تارے سے بارش برسائی گئی ۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے ( ابن ابی حاتم )

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 ان ہی نعمتوں میں سے ارسال رسل اور انزال کتب بھی ہے۔ یعنی ہر چیز کا دینے والا بھی ہے، اور واپس لینے والا یا روک لینے والا بھی وہی ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معطی ہے اور نہ مانع و قابض۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥] رحمت کی مادی شکل بارش اور روحانی شکل وحی الٰہی ہے۔ باقی ہر طرح کی رحمتیں ان کے بعد ہیں۔ اور یہ دونوں باتیں خالصتاً اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ جن میں مشرکوں کے معبودوں کا ذرہ بھر بھی دخل نہیں۔ وہ چاہیں بھی کہ وحی الٰہی کو روک دیں تو کبھی نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہی وہ یہ کرسکتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ قریش پر قحط مسلط کر دے تو وہ بارش برسا کر اپنے عبادت گزاروں کی تکلیف کو رفع کردیں اور جو کچھ خود چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق کرتا ہے اور جو کچھ کرنا چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ سب پر غالب ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ ۔۔ : اس آیت سے مقصود بھی مشرکین کی اس غلط فہمی کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی انھیں اولاد، روزی یا کوئی نعمت دے سکتا ہے یا روک سکتا ہے۔ رحمت سے مراد وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش، روزی، اولاد اور صحت وغیرہ، یا معنوی اور روحانی ہو، جیسے علم و حکمت، ایمان و اسلام، بعثت انبیاء، دعا کی قبولیت اور توبہ کی توفیق وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دینا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔ مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر فرض نماز کے بعد کہا کرتے تھے : ( لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَ لَہُ الْحَمْدُ ، وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ، اللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَ لَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَ لاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ) [ بخاري، الأذان، باب الذکر بعد الصلاۃ : ٨٤٤ ] ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ دینے والا کوئی نہیں اور تیرے مقابلے میں کسی شان والے کو اس کی شان کوئی کام نہیں دیتی۔ “ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (١٧) ، یونس (١٠٧) اور سورة زمر (٣٨) ۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا۔ یہ پہلے جملے کی علت ہے کہ وہی ایسا زبردست غالب ہے کہ اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا اور ایسا کمال حکمت والا ہے جس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، کسی اور میں یہ صفات ہیں ہی نہیں، تو پھر کون ہے جو اس کے کھولے ہوئے کو بند کرسکے یا اس کے بند کیے ہوئے کو کھول سکے ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The word: رَّ‌حْمَةٍ (rahmah: mercy) appearing in verse 2: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّ‌حْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back,) is general at this place. It includes blessings of one&s religion in this world along with those of the Hereafter, such as, faith, knowledge, rightly guided conduct as well as the mission of a prophet and the station of a Waliyy or man of Allah. And it also includes material blessings in the present world, such as, provisions, means, comfort, health, wealth, property, recognition and things like that. The meaning of the verse is quite obvious. It is being said here that the person for whom Allah Ta’ ala intends to open the doors of His mercy, there is no one who can stop it. Similarly, the second sentence: وَمَا يُمْسِكْ (wa ma yumsik: there is none to hold it back) is general, meaning: what Allah Ta’ ala holds back cannot he released by anyone. This includes hardships and sorrows of the world. Y or example, when Allah intends to shield some servant of His from these, then, there is no one who can dare harass or harm him. And included here is the matter of mercy as well in the sense that, should Allah Ta’ ala decide to deprive a person of His mercy due to some wise consideration of His, then, there is no one who can dare pass it on to him. (Abu Hayyan) Related to this very subject of the verse, there is a Hadith that reports that Sayyidna Mu&awiyah (رض) wrote to Sayyidna Mughirah Ibn Shu&abah (رض) ، his governor at Kufah, asking him to send back to him in writing some Hadith he had personally heard from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Sayyidna Mughirah (رض) called Rawwad, his chief scribe, in his office and dictated his report as: &I heard from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) |", soon after he finished his salah his recitation of the words: اَللَّھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعطَیتَ وَ لَا مُعطیَ لِمَا مَنَعتَ وَ لَا یَنفَعُ ذَا الجَدِّ مِنکَ الجَدُّ (0 Allah, for that which You give, there is no one to stop, and for that which you hold back, there is no one to give it out, and no efforts by any maker of effort1 works against Your will& ). (Ibn Kathir from Musnad of Ahmad) And according to a narration of Sayyidna Abu Said al-Khudri (رض) عنہ in Sahih of Muslim, he said these words at the time he raised his head from the (bending) position of ruku& before another sentence: اَحَقُ مَا قَالَ العَبدُ وَ کُلُّنا لَکَ (that is, these words, out of all that a servant of Allah can say, are the most true, incumbent and superior). Trust in Allah delivers from all hardships The lesson taught by the cited verse (2) to all human beings is that one should not hope any benefit or fear any harm from anyone other than Allah, instead, one should keep his or her sight trained towards Allah alone. This is the master prescription for a better life in this world as well as in the life to come. This simple antidote delivers one from thousands of anxieties and sorrows. (Ruh-ul-Ma’ ani) Sayyidna ` Amir Ibn ` Abd Qays (رض) said: Once I get to recite four verses of the noble Qur&an in the morning, I stop worrying about what would happen in the morning and what would happen in the evening. These verses are as follows. The first one is this very verse under study: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّ‌حْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْ‌سِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back, and whatever He holds back, there is none to release it thereafter - 35:2). The second verse having the same sense appears in Surah al-An&am, 6:17: وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ‌ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِن يُرِ‌دْكَ بِخَيْرٍ‌ فَلَا رَ‌ادَّ لِفَضْلِهِ (And if Allah causes you some harm, no one is there to remove it except He Himself; and if He causes you some good, then He is powerful over everything - 6:17). The third verse is from Surah At-Talaq, 65:7: سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ‌ يُسْرً‌ا (Allah will soon bring ease after a difficulty). The fourth verse is from Surah Hud, 11:6: وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِ‌زْقُهَا (And there is no creature on earth whose sustenance is not on Allah - 11:6). (Narrated by Ibn al-Mundhir, as in Ruh ul-Ma&ani) And when Sayyidna Abu Hurairah (رض) saw rain falling, he used to say: مُطِرنَا بنوء الفَتحِ (The rain has come upon us through the rise of fath: (the opening) and would, then, recite the verse: مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّ‌حْمَةٍ (Whatever blessing Allah opens for the people, there is none to hold it back,- 34:2). This term of &rise of fath& used by him was in rebuttal of the false notion prevailing among Arabs of those days who used to attribute the coming of rains to the rise of particular stars and said that the rains had come upon them through the rise of such and such star. Sayyidna Abu Hurairah (رض) countered it by saying that (the mercy of) rains came to him through (the statement in) the verse of fath or opening. By this, he meant this very verse quoted above. He used to recite it particularly on such occasions. (Reported by Imam Malik in al-Mu&watta) [ 1] This translation is based on one way of reading this prayer, that is, jidd (with kasrah on the letter jim, but if it is read as jadd, then the correct translation would be: &no high status of a person may benefit him against Your decree. (Muhammad Taqi Usmani)

(آیت) ما یفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا، یہاں لفظ رحمت عام ہے اس میں دینی اور اخروی نعمتیں داخل ہیں، جیسے ایمان اور علم اور عمل صالح اور نبوت و ولایت وغیرہ اور دنیوی نعمتیں بھی، جیسے رزق اور اسباب اور آرام و راحت اور صحت و تندرستی اور مال و عزت وغیرہ معنی آیت کے ظاہر ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے لئے اپنی رحمت کھولنے کا ارادہ کرے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اسی طرح دوسرا جملہ وما یمسک عام ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ روکتا ہے اس کو کوئی کھول نہیں سکتا۔ اس میں دنیا کے مصائب و آلام بھی داخل ہیں کہ جب اللہ ان کو اپنے کسی بندے سے روکنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ ان کو کوئی گزند و مصیبت پہنچا سکے اور اس میں رحمت بھی داخل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت سے کسی شخص کو رحمت سے محروم کرنا چاہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کو دے سکے (ابو حیان) اسی مضمون آیت کے متعلق ایک حدیث اس طرح آتی ہے کہ حضرت معاویہ نے اپنے عامل (گورنر) کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی حدیث لکھ کر بھیجو جو تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو۔ حضرت مغیرہ نے اپنے میر منشی رواد کو بلاکر لکھوایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت جبکہ آپ نماز سے فارغ ہوئے یہ کلمات پڑھتے ہوئے سنا اللھم لا مانع لما اعطیت ولامعطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد (یعنی یا اللہ جو چیز آپ کسی کو عطا فرما دیں اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو آپ روکیں اس کو کوئی دینے والا نہیں، آپ کے ارادے کے خلاف کسی کوشش کرنے والے کی کوشش نہیں چلتی) ابن کثیر از مسند احمد) اور صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری کی روایت یہ ہے کہ یہ کلمہ آپ نے رکوع سے سر اٹھانے کے وقت فرمایا اور اس کلمہ سے پہلے فرمایا احق ما قال العبد وکلنا لک (یعنی یہ کلمہ ان تمام کلمات میں جو کوئی بندہ کہہ سکتا ہے سب سے زیادہ احق اور مقدم و اعلیٰ ہے۔ اللہ پر توکل و اعتماد سارے مصائب سے نجات ہے :۔ آیت مذکورہ نے انسان کو جو سبق دیا ہے کہ غیر اللہ سے نفع و ضرر کی امید و خوف نہ رکھے، صرف اللہ تعالیٰ کی طرف نظر رکھے۔ دین و دنیا کی درستی اور دائمی راحت کا نسخہ اکسیر ہے اور انسان کو ہزاروں غموں اور فکروں سے نجات دینے والا ہے۔ (روح) حضرت عامر بن عبد قیس نے فرمایا کہ جب میں صبح کو چار آیتیں قرآن کریم کی پڑھ لوں تو مجھے یہ فکر نہیں رہتی صبح کو کیا ہوگا شام کو کیا، وہ آیتیں یہ ہیں۔ ایک یہ آیت (آیت) مایفتح اللہ للناس من رحمة فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرس لہ من بعدہ۔ دوسری آیت اسی کے ہم معنی یہ ہے ان یمسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو و ان یردک بخیر فلا راد لفضلہ، تیسری آیت سیجعل اللہ بعد عسر یسراً چوتھی وما من دابة فی الارض الا علی اللہ رزقھا (اخرجہ ابن منذر، روح) اور حضرت ابوہریرہ جب بارش ہوتے دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے مطرنا بنواء الفتح اور پھر آیت (آیت) ما یفتع اللہ للناس من رحمة پڑھتے تھے یہ عرب کے باطل خیالات کی تردید ہے جو بارش کو خاص خاص ستاروں کی طرف منسوب کر کے کہا کرتے کہ ہمیں یہ بارش فلاں ستارے کی وجہ سے ملی ہے۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بارش آیت فتح سے ملی ہے۔ مراد آیت فتح سے یہی مذکورہ آیت ہے جس کو وہ ایسے وقت تلاوت فرمایا کرتے (رواہ مالک فی الموطا)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا يَفْتَحِ اللہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِكَ لَہَا۝ ٠ ۚ وَمَا يُمْسِكْ۝ ٠ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ مِنْۢ بَعْدِہٖ۝ ٠ ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٢ فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان : أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] . والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ يفرج، وفقر يزال بإعطاء المال ونحوه، نحو : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، أي : وسعنا، وقال : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ، أي : أقبل عليهم الخیرات . والثاني : فتح المستغلق من العلوم، نحو قولک : فلان فَتَحَ من العلم بابا مغلقا، وقوله : إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ، قيل : عنی فتح مكّةوقیل : بل عنی ما فتح علی النّبيّ من العلوم والهدایات التي هي ذریعة إلى الثّواب، والمقامات المحمودة التي صارت سببا لغفران ذنوبه وفَاتِحَةُ كلّ شيء : مبدؤه الذي يفتح به ما بعده، وبه سمّي فاتحة الکتاب، وقیل : افْتَتَحَ فلان کذا : إذا ابتدأ به، وفَتَحَ عليه كذا : إذا أعلمه ووقّفه عليه، قال : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] ، ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] ، وفَتَحَ الْقَضِيَّةَ فِتَاحاً : فصل الأمر فيها، وأزال الإغلاق عنها . قال تعالی: رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] ، ومنه الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ، قال الشاعر : بأني عن فَتَاحَتِكُمْ غنيّ وقیل : الفتَاحةُ بالضمّ والفتح، وقوله : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] ، فإنّه يحتمل النّصرة والظّفر والحکم، وما يفتح اللہ تعالیٰ من المعارف، وعلی ذلک قوله : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] ، قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] ، أي : يوم الحکم . وقیل : يوم إزالة الشّبهة بإقامة القیامة، وقیل : ما کانوا يَسْتَفْتِحُونَ من العذاب ويطلبونه، ( ف ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں اور یہ ازالہ دوقسم پر ہے ایک وہ جس کا آنکھ سے ادراک ہو سکے جیسے ۔ فتح الباب ( دروازہ کھولنا ) اور فتح القفل ( قفل کھولنا ) اور فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] اور اگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ ان پر کھولتے ۔ دوم جس کا ادراک بصیرت سے ہو جیسے : فتح الھم ( یعنی ازالہ غم ) اس کی چند قسمیں ہیں (1) وہ جس کا تعلق دنیوی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے جیسے مال وغیرہ دے کر غم وانددہ اور فقر و احتیاج کو زائل کردینا ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا نَسُوا ما ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] پھر جب انہوں ن اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی ۔ فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ۔ یعنی ہر چیز کی فرادانی کردی ۔ نیز فرمایا : لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے ۔ یعنی انہیں ہر طرح سے آسودگی اور قارغ البالی کی نعمت سے نوازتے ۔ (2) علوم ومعارف کے دروازے کھولنا جیسے محاورہ ہے ۔ فلان فتح من العلم بابامغلقا فلاں نے طلم کا بندو دروازہ کھول دیا ۔ یعنی شہادت کو زائل کرکے ان کی وضاحت کردی ۔ اور آیت کریمہ :إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبِيناً [ الفتح/ 1] ( اے محمد ) ہم نے تم کو فتح دی اور فتح صریح وصاف ۔ میں بعض نے کہا ہے یہ فتح کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نہیں بلکہ اس سے علوم ومعارف ار ان ہدایات کے دروازے کھولنا مراد ہے جو کہ ثواب اور مقامات محمودہ تک پہچنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور آنحضرت کیلئے غفران ذنوب کا سبب ہے ۔ الفاتحۃ ہر چیز کے مبدء کو کہاجاتا ہے جس کے ذریعہ اس کے مابعد کو شروع کیا جائے اسی وجہ سے سورة فاتحہ کو فاتحۃ الکتاب کہاجاتا ہے ۔ افتح فلان کذ افلاں نے یہ کام شروع کیا فتح علیہ کذا کسی کو کوئی بات بتانا اور اس پر اسے ظاہر کردینا قرآن میں ہے : أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِما فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ [ البقرة/ 76] جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو ۔۔۔ بتائے دیتے ہو ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ [ فاطر/ 2] جو لوگوں کیلئے ۔۔ کھولدے فتح القضیۃ فتاحا یعنی اس نے معاملے کا فیصلہ کردیا اور اس سے مشکل اور پیچیدگی کو دور کردیا ۔ قرآن میں ہے ؛ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وَبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ [ الأعراف/ 89] اے ہمارے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ اسی سے الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ [ سبأ/ 26] ہے یعن خوب فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ سے ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (335) وانی من فتاحتکم غنی اور میں تمہارے فیصلہ سے بےنیاز ہوں ۔ بعض نے نزدیک فتاحۃ فا کے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ صحیح ہے اور آیت کریمہ : إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچیں اور فتح حاصل ہوگئی ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الفتح سے نصرت ، کامیابی اور حکم مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ علوم ومعارف کے دروازے کھول دینا مراد ہو ۔ اسی معنی ہیں میں فرمایا : نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( یعنی تمہیں ) خدا کی طرف سے مدد ( نصیب ہوگی ) اور فتح عنقریب ( ہوگی ) فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] تو قریب ہے خدا فتح بھیجے وَيَقُولُونَ مَتى هذَا الْفَتْحُ [ السجدة/ 28] اور کہتے ہیں ۔۔۔ یہ فیصلہ کب ہوگا ۔ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ [ السجدة/ 29] کہدو کہ فیصلے کے دن ۔۔۔ یعنی حکم اور فیصلے کے دن بعض نے کہا ہے کہ الفتح سے قیامت بپا کرکے ان کے شک وشبہ کو زائل کرے کا دن مراد ہے اور بعض نے یوم عذاب مراد لیا ہے ۔ جسے وہ طلب کیا کرتے تھے نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به ومسکت به، قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] . يقال : أَمْسَكْتُ عنه كذا، أي : منعته . قال : هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] ، وكنّي عن البخل بالإمساک . والمُسْكَةُ من الطعام والشراب : ما يُمْسِكُ الرّمقَ ، والمَسَكُ : الذَّبْلُ المشدود علی المعصم، والمَسْكُ : الجِلْدُ الممسکُ للبدن . ( م س ک ) امسک الشئی کے منعی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاطت کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] پھر ( عورت کو ) یا تو بطریق شاہستہ نکاح میں رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھور دینا ہے ۔ وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] اور وہ آسمان کو تھا مے رہتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ۔ استمسکت اشئی کے معنی کسی چیز کو پکڑنے اور تھامنے کا ارداہ کرنا کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اسے مضبوط پکرے رہو ۔ أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے ( سند ) پکڑتے ہیں ۔ محاورہ ہے : ۔ کیس چیز کو پکڑنا اور تھام لینا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] اور کافر عورتوں کی ناموس قبضے میں نہ رکھو ( یعنی کفار کو واپس دے دو ۔ امسکت عنہ کذا کسی سے کوئی چیز روک لینا قرآن میں ہے : ۔ هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] تو وہ اس کی مہر بانی کو روک سکتے ہیں ۔ اور کنایہ کے طور پر امساک بمعنی بخل بھی آتا ہے اور مسلۃ من الطعام واشراب اس قدر کھانے یا پینے کو کہتے ہیں جس سے سد رہق ہوسکے ۔ المسک ( چوڑا ) ہاتھی دانت کا بنا ہوا زبور جو عورتیں کلائی میں پہنتی ہیں المسک کھال جو بدن کے دھا نچہ کو تھا مے رہتی ہے ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لہزا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اللہ تعالیٰ جو رحمت یعنی بارش رزق اور سلامتی بندوں کے لیے بھیجے تو اس کی رحمت کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس رحمت کو وہ بند کردے سو اس کے بند کرنے کے بعد کوئی اس رحمت کا جاری کرنے والا نہیں۔ اور وہ بند کرنے پر غالب اور جو چھوڑی ہے اس میں حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَہَا } ” جو رحمت (کا دروازہ) بھی اللہ لوگوں کے لیے کھول دے تو اسے بند کرنے والا کوئی نہیں۔ “ یہاں ” رحمت “ سے مراد نبوت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے وحی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ اسی لیے سورة الانبیاء میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر “۔ بنی نوع انسان کو چونکہ ایک بہت بڑے امتحان سے سابقہ ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آسانی کے لیے نبوت کا دروازہ کھول دیا ہے اور اپنے رسول کی شخصیت اور سیرت کو ان کے سامنے رکھ دیا ہے ‘ جو بذات خود اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے ‘ تاکہ لوگ احکامِ وحی سے راہنمائی حاصل کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کی پیروی کر کے اس امتحان میں سرخرو ہونے کی کوشش کریں۔ بہر حال یہاں پر اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ‘ مشیت اور اختیار کا ذکر اس طرح فرمایا گیا کہ انسانیت کی راہنمائی کے لیے اس نے نبوت کی صورت میں اپنی رحمت کا جو دروازہ کھولا ہے اسے کوئی بند نہیں کرسکتا۔ { وَمَا یُمْسِکْ فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ } ” اور جسے وہ روک لے تو پھر اسے کوئی جاری کرنے والا نہیں ہے اس کے بعد۔ “ جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت سے نبوت کا دروازہ بند فرما دے گا تو پھر اسے کوئی کھول نہیں سکے گا۔ چناچہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے ‘ اس لیے اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ مختلف ادوار میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی صورت میں دجالوں کا ظہور ہوتا رہے گا۔ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ” اور یقینا وہ زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 This also is meant to remove the misunderstanding of the polytheists, who believed that from among the servants of Allah some one gave them the jobs, some one the children and some one health to their patients. All these superstitions of shirk are baseless, and the pure truth is just that whatever of mercy reaches the people, reaches them only through Allah Almighty's bounty and grace. No one else has the power either to bestow it or to withhold it. This theme has been expressed at many places in the Qur'an and the Ahadith in different ways so that man may avoid the humiliation of begging at every do er and at every shrine and may realize that making or marring of his destiny .n the power of One Allah alone and of none else. 5 He is the All-Mighty": He is dominant and the owner of Sovereignty: none can stop His judgments from being enforced. Also "He is All-Wise": every of His is based on wisdom. When He gives somebody something He because it is demanded by wisdom, and when He withholds something judgement gives it from somebody He withholds it because it would be against wisdom to give it.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :4 اس کا مقصود بھی مشرکین کی اس غلط فہمی کو رفع کرنا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی انہیں روزگار دلانے والا اور کوئی ان کو اولاد عطا فرمانے والا اور کوئی ان کے بیماروں کو تندرستی بخشنے والا ہے ۔ شرک کے یہ تمام تصورات بالکل بے بنیاد ہیں اور خالص حقیقت صرف یہ ہے کہ جس قسم کی رحمت بھی بندوں کو پہنچتی ہے محض اللہ عز وجل کے فضل سے پہنچتی ہے ۔ کوئی دوسرا نہ اس کے عطا کرنے پر قادر ہے اور نہ روک دینے کی طاقت رکھتا ہے ۔ یہ مضمون قرآن مجید اور احادیث میں بکثرت مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان در در کی بھیک مانگنے اور ہر آستانے پر ہاتھ پھیلانے سے بچے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہے ۔ سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :5 زبردست ہے ، یعنی سب پر غالب اور کامل اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے ۔ کوئی اس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے نہیں روک سکتا ۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے ۔ جو فیصلہ بھی وہ کرتا ہے سراسر حکمت کی بنا پر کرتا ہے ۔ کسی کو دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ حکمت اسی کی مقتضی ہے ۔ اور کسی کو نہیں دیتا تو اس لیے نہیں دیتا کہ اسے دینا حکمت کے خلاف ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢۔ صحیح سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے ٢ ؎ (٢ ؎ مشکوۃ باب التوکل وابصر فصل دوسری ‘) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کو طرح طرح کی نصیحت فرمائی ہے اس حدیث کا ٹکڑا گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے فرمایا کہ اگر تمام روئے زمین کی مخلوقات جمع ہور تم کو کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو بدوں حکم خدا کے کوئی قفائدہ کسی طرح کا ہرگز تم کو نہ پہنچاسکیں گے۔ اسی طرح تمام دنیا کے لوگ ضرر پہنچانے پر آمادہ ہوجاویں تو بدوں حکم خدا کے کبھی کوئی شخص کچھ ضرر ہرگز تم کو نہ پہنچا سکے گا اس واسطے پنجگانہ نماز کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعاء مانگا کرتے تھے اللھم لا مانع نماا عطیت ولا عطے نمامنعت جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی کوئی چیز کوئی چھین نہیں سکتا اور بغیر حکم اللہ کے کوئی کسی کو کچھ دے نہیں سکتا صحیح مسلم میں مغیرہ (رض) بن شعبہ سے جو روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ ایضا باب الذکر بعد الصلوۃ فصل اول۔ ) اس میں اس دعاء کا ذکر ہے وھو العزیز الحکیم اس کا مطلب یہ ہے وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کوئی روک نہیں سکتا صاحب حکمت ایسا ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:2) ما یفتح اللہ۔ ما شرطیہ ہے۔ یفتح مضارع مجزوم (بوجہ عمل ما شرطیہ ) واحد مذکر غائب۔ من رحمۃ میں من تبعیضیہ ہے۔ ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ۔ اللہ تعالیٰ (اپنی) رحمت میں سے لوگوں کو جو عطا فرمائے (یا لوگوں کے لئے جو رحمت کھول دے) ۔ فلا ممسک لھا۔ میں لا نفی جنس کا ہے۔ ممسک اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ عمل لا نفی جنس۔ امساک (باب افعال) بمعنی روکنے والا۔ بند کرنے والا۔ فلا ممسک لھا۔ کوئی اس (رحمت ) کو روکنے والا نہیں۔ بند کرنے والا نہیں۔ وما یمسک۔ ما شرطیہ۔ یمسک (مضارع مجزوم بوجہ عمل ما شرطیہ) واحد مذکر غائب۔ اور جو وہ روک دے، بند کر دے۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ فلا مرسل لہ۔ لا نفی جنس کا۔ مرسل اسم فاعل واحد مذکر ۔ ارسال۔ (افعال) سے مصدر۔ اس کا مادہ رسل ہے الرسل کے اصل معنی ہیں آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنا۔ ناقۃ رسلۃ ، نرم رفتار اونٹنی کو کہتے ہیں۔ کبھی اس سے صرف روانہ ہونے کا مطلب بھی لے لیتے ہیں۔ چناچہ اسی اعتبار سے اس سے رسول مشتق ہے۔ بمعنی مرسل بھیجا گیا۔ روانہ کیا گیا۔ جب رسل سے باب افعال بنایا جائے تو ارسال کا معنی ہوگا۔ آزاد کرنا۔ چھڑا دینا۔ رہا کرنا۔ اور مرسک کا معنی ہوگا۔ چھڑا دینے والا۔ بندش کو دور کردینے والا۔ گویا مرسل ممسک کی ضد ہوگیا۔ اور کلمہ نفی کے بعد ترجمہ ہوگا۔ کوئی چھڑانے والا کوئی بندش کو دور کرنے والا نہیں ہے۔ لہ میں ضمیر واحد مذکر غائب۔ ما یمسک (جس کو اس نے بند کردیا ہو یا روک دیا ہو) کی طرف راجع ہے۔ من بعدہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے اور بعدہ بمعنی غیرہ ہوگا۔ اور امساک بھی ہوسکتا ہے یعنی اس امساک (روک دینے یا بند کرنے ) کے بعد ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 رحمت سے مراد ہر وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرمائے چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش اور روزی وغیرہ۔ یا روحانی جیسے بعث انبیاء، دعا کی قبولیت، توبہ ہدایت وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرح سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دنیا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ( اللھم لا مانج لما ما اعطیت ولا معطی لما صنعت ولا ینفع ذا الجدمشک الجد) اے اللہ ! جسے تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ تیرے مقابلہ میں کسی بڑائی والے کی بڑائی اسے کوئی کام نہیں دے سکتی۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قادر قدیر کے اختیار ات کی ایک اور جھلک پر غور کریں۔ مشرکین میں سے ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کچھ اختیارات دے رکھے ہیں یہاں اس عقیدہ کی کھلے الفاظ میں نفی کرتے ہوئے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی ذات کو رائی کے دانے کے برابر بھی اپنی خدائی میں اختیارات نہیں دیئے۔ وہ کسی کو اپنی رحمت سے سرفراز کرنا چاہے تو اسکی رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اسے کوئی نازل کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے حکم اور فیصلے نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پوری طرح غلبہ حاصل ہونے کے باوجود اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا کہ وہی دینے اور عطا فرمانے والا ہے۔ یہ ایسا عقیدہ اور فکر ہے جس سے انسان نہ صرف مخلوق سے بےنیاز ہوجاتا ہے بلکہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے بھی بچ جاتا ہے۔ اس کے اخلاق اور معاملات میں اخلاص کا پہلو غالب رہتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ ہمدردی اس لیے نہیں کرتا کہ آنے والے کل کو یہ اسے ضرور فائدہ پہنچائے گا۔ وہ کسی بڑے کو سلام کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ خوف نہیں ہوتا کہ اگر اس نے اسے سلام نہ کیا تو یہ اسے کسی چیز سے محروم کر دے گا۔ کیونکہ اس کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ جو چیز میرا رب مجھے عطا کرنا چاہے گا اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو اس نے روک لیا اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اسی عقیدہ کو تازہ اور پختہ رکھنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ ” حضرت ابو سعیدخدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو پڑھتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے، تو اس ثناء کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو ثناء اور عظمت تیرے لیے بندہ بیان کرتا ہے ہم تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء کرنا چاہیے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع دینے والا نہیں۔ “ [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد رکھے گا۔ تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی پر کرم فرمائے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے محروم کرنا چاہے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے غالب ہے۔ تفسیر بالقرآن زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں : ١۔ ” اللہ “ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ : ١٠٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٣۔ ” اللہ “ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٤۔ ” اللہ “ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦) ٥۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ : ٤٩) ٦۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک : ١) ٧۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح : ١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ما یفتح اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (2) ” “۔ اس سورة کی اس دوسری آیت میں اللہ کی قدرتوں کا ایک رنگ دکھایا گیا ہے جبکہ پہلی آیت میں اللہ کی قدرت کا ذکر تھا۔ جب یہ رنگ کسی انسان کے تصور اور عمل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے تصورات ، اس کا شعور ، اس کا رخ ، اس کے حسن و قبح کے پیمانے بھی اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور اسکی پوری زندگی اس رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ یوں کہ یہ رنگ انسان کو اس کائنات کی پوری قوتوں سے کاٹ کر اللہ کی قوت سے جوڑ دیتا ہے۔ اسے زمین و آسمان کی تمام مشکوک رحمتوں سے مایوس کردیتا ہے۔ صرف اللہ کی رحمت سے جو ڑتا ہے اور اس کے امیدوار بنا دیتا ہے۔ زمین و آسمان کے تمام دروازے بند کرکے صرف اللہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے اور اس کے سامنے زمین و آسمان کے تمام راستے بند کرکے صرف اللہ کا دروازہ کھلا چھوڑتا ہے۔ اس کے سامنے زمین و آسمانوں کے تمام راستے بند کرکے صرف اللہ کا راستہ کھلا چھوڑتا ہے۔ اللہ کی رحمت کے مظاہر متعدد ہوتے ہیں ، لا تعداد ہوتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کی جس انداز سے تخلیق کی ، اس کی نفس کے اندر جو ممتاز قوتیں ودیعت کیں اور اپنی مخلوق میں سے جس طرح اسے مکرم بنایا صرف ان رحمتوں کو اگر انسان قلم بند کرنا چاہئے تو وہ انتہاؤں تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس طرح اللہ نے انسان کے لیے اس کے ماحول کو سازگار بنایا ہے۔ اس کے اردگرد ، اس کے اوپر نیچے ہر چیز کو اس کے لیے مسخر کیا ہے اور اس کے اوپر جو انعامات کیے ہیں جنہیں وہ جانتا ہے اور وہ انعامات جنہیں وہ نہیں چاہتا ، یہ انعامات بیشمار ہیں ، ان گنت ہیں۔ اللہ کی رحمت ان چیزوں میں بھی موجود ہے جو ممنوع ہیں۔ ان میں بھی موجود ہے ، جن کی اجازت ہے اور جس شخص پر اللہ کی رحمتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے ، اسے یہ رحمت ہر چیز میں نظر آتی ہے۔ ہر حال ، ہر ماحول ، اور ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اس کے شعور میں ، اس کے ماحول میں جہاں بھی وہ ہو ، جیسا بھی ہو ، اگرچہ انسان ان تمام نعمتوں سے محروم ہوجائے جنہیں لوگ محرومیت سمجھتے ہیں۔ اس رحمت سے اپنی آپ کو وہ ہر شخص محروم پاتا ہے جس پر اللہ اس کا دروازہ ہر چیز میں بند کردیتا ہے۔ ایسا شخص پھر ہر حال میں ، ہر صورت میں اور ہر جگہ محروم ہی ہوتا ہے اگرچہ اس کے پاس بظاہر وہ سازوسامان موجود ہوں جس کو لوگ خوشحالی تصور کرتے ہیں۔ دنیا کے بیشمار سازوسامان ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل نہیں ہوتی ، وہ عذاب الٰہی بن جاتے ہیں اور کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں جن کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل ہوتی ہے۔ یہ مشکلات بذات خود رحمت بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات انسان کانٹوں پر سوتا ہے مگر اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ یہ کانٹے اس کے لیے نرم بچھونا ہوجاتے ہیں ۔ بعض اوقات نرم و نازک بستر انسان کے لیے کانٹے بن جاتے ہیں اور بہت ہی اذیت کا باعث ہوتے ہیں۔ انسان مشکل ترین کام کر رہا ہوتا ہے اور وہ اس کے لیے اللہ کی رحمت ہوتے ہی پر تعیش زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ اس کے لیے مصیبت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ ایک خوفناک صورت حالات میں گھس جاتا ہے اور وہ اس کے لیے امن ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ مشکلات کے بغیر مراحل عبور کرلیتا ہے اور وہ اس کے لیے ہلاکت کا باعث بن جاتے ہیں۔ اللہ کی رحمت کے ساتھ کوئی تنگی ، تنگی نہیں رہتی۔ اگرچہ کوئی جیل کی تاریکیوں میں ہو ، یا ہلاکت کی دیواروں میں یا سخت مصائب میں ہو ، بلکہ اللہ کی رحمت کے سوا تمام کشادگیاں تنگی ہوتی ہیں۔ اگرچہ کوئی نعمتوں اور سہولتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو۔ خوشحال ہو ، اسے زندگی کی تمام سہولیات حاصل ہوں۔ جب انسان اللہ کی رحمت کی وجہ سے قلبی طمانیت کا مقام حاصل کرلیتا ہے تو اس کے اندر سے نیک بختی ، رضا مندی اور اطمینان کے سرچشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور یوں نفس کے اندر قلق ، تھکاوٹ ، واماندگی اور محنت و مشقت کی تکلیف وہ نیش زیناں ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اگرچہ وہ نفس کے اندر جمی ہوئی ہوں۔ اللہ کی رحمت کی کنجی تمام دروازوں کے لیے ماسٹر چابی ہے۔ اس سے تمام دروازے کھل جاتے ہیں ، اس سے تمام چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں بند ہوجاتی ہیں اور تمام غلط راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ، انسان بےفکر ہوجاتا ہے ، اللہ کی رحمت کا دروازہ کھل جانے سے پھر وسعتیں ، کشادگیاں اور آرام و سکون حاصل ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا دروازہ ہے کہ اس کے کھل جانے سے تمام نفع بخش دروازے اور راستے کھل جاتے ہیں اور تمام غیر نفع بخش دروازے بند ہوجاتے ہیں اور جب یہ دروازہ بند ہوجائے تو تمام ایسے دروازے ، کھڑکیاں اور راستے کھل جاتے ہیں جو نفع بخش نہیں ہوتے اور انسان تنگی ، کرب ، سختی ، بےچینی اور داماندگی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات اللہ کا یہ فیض انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ، پھر اگر زندگی تنگ ہو یا مالی حالت اچھی نہ ہو ، رہنے اور سہنے کے حالات خراب ہوں تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ یہ فیض رحمت ہی دوام ، راحت ، سعادت ہے۔ اور جب اس رحمت کا دروازہ بند ہوتا ہے اور دوسری جانب سے رزق کشادہ ہوتا ہے اور ہر سامان کی آمد آمد ہوتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اسے سے تنگی ، حرج اور شقاوت و بدبختی حاصل ہوتی ہے۔ مال و دولت ، صحت و قوت ، شان و شوکت بھی بسا اوقات رنج الم اور تھکاوٹ اور مشقت کا باعث ہوتے ہیں۔ اگر دست قدرت اپنا فضل و رحمت کھینچ لے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور متاع حسن اور دنیا کے سازو سامان کو جمع کردیا ۔ پھر کیا ہوتا ہے ہر طرف آرام اور سکون ہوتا ہے۔ دنیا میں عیش و عشرت اور آخرت کے لیے پوری تیاری ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف پھر دنیا پرستوں کے دل میں حسد اور کینہ برپا ہوتا ہے لیکن مال و دولت کے ساتھ ایک شخص کو اگر بخل دے دیا جائے تو وہ محروم ہوجاتا ہے یا مال و دولت کے ساتھ بیماری بھی دے دی جائے تو بھی وہ دنیا کے انعامات سے محروم ہوجاتا ہے اور بعح اوقات مالدار سرکش ہوجاتا ہے اور اس کا مال تلف بھی ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات اللہ کسی بو اولاد دیتا ہے اور اس اولاد کے ساتھ رحمت خداوندی بھی شامل ہوتی ہے ۔ پھر یہ اولاد زینت حیات بن جاتی ہے۔ خوشی اوسعادت کا باعث بن جاتی ہے اور آخرت میں ، مزید اجر کا باعث بنتی ہے۔ وہ اس شخص کے لیے نیک اور اچھے جانشین بن جاتے ہیں اور اسی اولاد کے ساتھ اگر رحمت خداوندی نہ ہو تو یہی میٹھی اولاد زحمت بن جاتی ہے ، بلائے جان ہوتی ہے ، باعث بدبختی اور پریشانی ہوتی ہے۔ راتوں کی نیند حرام کردیتی ہے اور دن کا آرام غارت کردیتی ہے۔ اللہ انسان کو صحت اور قوت دیتا ہے۔ اب اگر اس صحت اور قوت کے ساتھ رحمت خداوندی بھی ہو تو یہ نعمت ہوتی ہے۔ زندگی اچھی طرح بسر ہوتی ہے۔ زندگی کی لذتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس صحت و قوت کے ساتھ رحمت خداوندی شامل نہ ہو تو یہ صحت اور یہ قوت بلائے جان بن جاتی ہے۔ اور ایک صحیح اور قوی شخص مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی صحت اور اپنی قوت کو ان کاموں میں کھپا دیتا ہے جو خود اس کی صحت اور قوت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی روح اور اس کے اخلاق کی تباہی کے ساتھ ساتھ اس کی آخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کو اللہ مرتبہ اور مقام دیتا ہے اور اس کی رحمت ایسے لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے ۔ یہ مرتبہ و مقام اصلاح کا ذریعہ بن جاتے ہیں ۔ ملک میں امن قائم ہوجاتا ہے اور یہ مرتبہ و جاہ اس بات کا ذریعہ بن جاتے ہیں کہ انسان اپنے پیچھے اچھے اعمال اور اچھے آثار چھوڑے جو آخرت کا بہترین ذخیرہ ہوں ۔ اگر اللہ کی رحمت اقتدار اور جاہ کے ساتھ شامل نہ ہو تو وہ شخص بےچین رہتا ہے۔ لوگوں پر ظلم کرتا ہے ۔ حد دے تجاوز کرتا اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ نہایت بغض اور کینہ رکھتا ہے۔ یہ جاہ و اقتدار ہی ایسے لوگوں کے لیے عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ایسا شخص پھر ایسے کام کرتا ہے کہ اپنے لیے آخرت میں آگ کا ایک بہت بڑا سرمایہ جمع کرلیتا ہے۔ گہرا علم اور طویل عمر اور جاہ و مرتبہ بدلتے رہتے ہیں۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ علم و معرفت کسی کے لیے مفید ہوتے ہیں اور کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ طویل عمر باعث برکت ہو۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ قلیل عمر ہی برکت کا باعث ہوتی ہے اور نہایت ہی قلیل مال و دولت بڑی سعادت مندی کا ذریعہ ہوجاتا ہے۔ جماعت بھی ایک فرد کی طرح ہوتی ہے اور ملت بھی ایک فرد ہے۔ ہر حال اور ہر صورت میں اور مثالوں پر غور کرنے سے کوئی نتیجہ نکالنا مشکل کام نہیں ہے۔ اللہ کی رحمت کی علامت یہ ہے کہ انسان اللہ کی رحمت کو محسوس کرے۔ اس طرح اللہ کی رحمت پھر انسان کو سینے سے لگا لیتی ہے اور رحمر الٰہی کی بارش ہوجاتی ہے۔ فیوض و برکات نازل ہوتے ہیں۔ لیکن کسی کا یہ شعور کہ اس پر اللہ کی رحمت ہے ، سب سے بڑی رحمت یہی ہے ۔ کسی انسان کا صرف اللہ سے امیدوار ہونا ، اسی پر بھروسہ کرنا رحمت ہے۔ ہر معاملے میں اللہ سے امیدیں وابستہ کرنا اور اللہ پر اعتماد کرنا ہی رحمت ہے۔ اور حقیقی عذاب یہ ہے کہ انسان اس سے چھپ جائے۔ اس سے مایوس ہوجائے اور اس میں شک کرے۔ یہ ایک ایسا عذاب ہے جو کسی مومن کے کبھی قریب ہی نہیں جاتا۔ انہ لا بیئس ۔۔۔۔۔ الکفرون ” اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس صرف کافر ہوا کرتے ہیں “۔ اللہ کی رحمت کا اگر کوئی طالب ہو تو وہ ہر کسی کو ہر جگہ مل جاتی ہے۔ کسی کے لیے ناپید نہیں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے آگ میں پایا۔ یونس (علیہ السلام) نے اسے مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں پایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے سمندر کی لہروں میں پایا جبکہ وہ طفل ناتواں تھے۔ پھر انہوں نے اسے فرعون کے محل میں پایا جبکہ وہ ان کا دشمن ہوگیا اور اس کی تلاش میں نکل گیا۔ اصحاب کہف نے اسے غار میں پایا جبکہ محلات اور شہروں میں وہ اس سے محروم رہے جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ فاوا الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ (18: 16) ” غار میں پناہ لے لو ، تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت کی چادر بچھا دے گا “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے رفیق نے اسے غار میں پایا جبکہ کفار ان لوگوں کا تعاقب کر رہے تھے۔ اور ان کے قدموں کے نشانات کو تلاش کرکے غار کے دھانے تک پہنچ گئے تھے۔ یہ رحمت ہر اس شخص کو ملتی ہے جو تمام دوسرے ذرائع سے مایوس ہوجائے اور اسے بالکل یہ امید نہ رہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت بھی بچانے والی ہے اور وہ پوری طرح یقین کرتا ہے کہ اب اللہ کی رحمت ہی بچانے والی ہے اور تمام دروازوں کو چھوڑ کر وہ اللہ کے در پر سوالی ہوگیا ہو۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اللہ اپنی رحمت کا دروازہ کسی پر کھول دے تو اس کا بند کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اور جب اللہ اپنی رحمت کے دروازے کسی پر بند کر دے تو کوئی کھولنے والا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ایک سچے مومن کے دل میں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ کسی سے کچھ امید نہیں رہتی۔ کسی چیز کے چلے جانے کا خوف نہیں رہتا اور کسی چیز کی امید نہیں رہتی کسی ذریعے کے فوت ہونے کا ڈر نہیں ہوتا اور کسی وسیلے کی موجودگی کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ اللہ کی مطلق مشیت ہی اصل فیکٹر ہے۔ لہٰذا اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو کوئی بند کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ بند کر دے تو کوئی کھولنے والا نہیں ہے۔ معاملہ براہ راست اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ عزیز و حکیم ہے۔ وہ ایسے اندازے اور تقدیر مقرر کرتا ہے کہ کسی کو روکنے یا عطا کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں رہتا۔ اللہ کی عطا اور اللہ کا روک لینا اس کی اپنی رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔ بلکہ اس کی اپنی حکمتوں کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کے ہر کام کے پیچھے ایک حکمت کام کر رہی ہوتی ہے۔ ما یفتح اللہ ۔۔۔۔۔ ممسک لھا ” اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا ہی نہیں ہے “۔ اللہ کی رحمت اور لوگوں کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں۔ لوگ براہ راست اللہ سے براہ راست طلب کرسکتے ہیں۔ وہ بلا وسیلہ طلب کرسکتے ہیں۔ صرف بندے کی طرف سے توجہ ، اطاعت ، امید ، بھروسے اور سر اطاعت ختم کردینے کی ضرورت ہے وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ ” اور جسے وہ بند کر دے اسے پھر اللہ کے سوا کوئی کھولنے والا نہیں ہے “۔ یہ آیت انسانی ضمیر کو انتہائی قرار و سکون اور انسانی شعور اور تصور کو نہایت ہی نمایاں کرتی اور انسانی اقدار اور پیمانوں کو اونچا معیار عطا کرتی ہے۔ انسانی شخصیت کو وقار اور اطمینان ملتا ہے۔ یہ ایک مختصر آیت ہے لیکن زندگی کے لیے بالکل ایک نیا نقشہ تیار کرتی ہے۔ انسانی تصور اور شعور کو نہایت مستحکم قدریں عطا کرتی ہیں۔ ایسی قدریں جن میں نہ تزلزل ہے ، نہ جھکاؤ اور نہ وہ وقتی باتوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہ اثرانداز ہونے والے فیکٹر آئیں یا جائیں ، بڑے ہوں یا چھوٹے ہوں ، عظیم ہوں یا چھوٹے ہوں ، ان کا مبدا لوگ ہوں یا واقعات ہوں ، یا اشیاء ہوں۔ ان سے یہ قدریں متاثر نہیں ہوتیں۔ یہ زندگی کی ایک صورت ہے اگر یہ عقیدہ انسانی زندگی میں بیٹھ جائے تو وہ واقعات ، اشیاء ، افراد ، بڑی بڑی قوتوں ، اقدار اور حالات کے سامنے پہاڑ کی طرح سینہ سپر ہو کر کھڑا ہوجائے۔ اگرچہ اس پر جن و انس باہم مل کر ، سب کے سب ٹوٹ پڑیں۔ یہ تمام جن و انس نہ اللہ کی رحمت کے دروازے کو بند کرسکتے اور نہ اگر بند ہوں تو کھول سکتے ہیں۔ صرف اللہ ہی العزیز اور الحکیم ہے۔ اسلام کے آغاز میں اسلام اور قرآن نے انسانوں کا ایک ایسا ہی گروہ پیدا کردیا تھا۔ یہ ایسا گروہ تھا کہ اللہ نے خود اپنی نگرانی میں اس قرآن کے ذریعہ پیدا کردیا تھا ، تاکہ یہ گروہ قدرت الہیہ کے لیے دست قدرت ہو۔ یہ گروہ اس زمین کے اندر وہ عقائد و تصورات تخلیق کرے جنہیں اللہ چاہتا تھا۔ وہ قدریں عطا کرے جن کو اللہ کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ وہ حالات اور صورت حالات پیدا کر دے جو اللہ چاہتا تھا اور دنیا کے اندر ایک ایسی زندگی ، عملی زندگی قائم کرکے چلا جائے جس کے بارے میں آج جب ہم پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں افسانہ اور قصے نظر آتے ہیں۔ وہ گروہ جو اللہ کی تقدیر تھا ، اسے اللہ جس پر چاہتا تھا ، مسلط کردیتا تھا۔ اس کے ذریعہ اللہ نے کچھ کو اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور کچھ کو قائم کردیا۔ جنہیں اللہ مٹانا چاہتا تھا یا جنہیں اللہ کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ یہ اس لیے کہ یہ یہ گروہ اس قرآن کے الفاظ ہی کے ساتھ معاملہ نہ کرتا تھا ، نہ خوبصورت نطریات و تصورات ہی سے بحث کرتا تھا بلکہ اس نے قرآن کو اپنی زندگیوں کے اندر عملاً قائم کردیا تھا اور وہ گروہ قرآن کی دنیا میں زندہ رہتا تھا۔ وہی قرآن لوگوں کے پاس موجود ہے۔ یہ قرآن اب بھی ایسے گروہ پیدا کرسکتا ہے جو دنیا سے اقوام کو مٹا دیں اور دوسری اقوام کو اٹھا دیں۔ لیکن یہ تب ہوگا کہ قرآنی تصورات کسی گروہ کی زندگی میں ٹھوس شکل میں ، عملی شکل میں بیٹھ جائیں ، رائج ہوجائیں اور قرآن کسی گروہ کی زندگی میں چلتا پھرتا نظر آئے ۔ اسے لوگ آنکھوں سے دیکھ سکیں اور ہاتھوں سے چھو سکیں۔ اب میں اس طرح آتا ہوں کہ اس مختصر آیت کے ذریعے میں نے معلوم کرلیا ہے کہ اللہ کی مجھ پر خاص رحمت ہے۔ میں نے جب اس آیت کا سامنا کیا تو میں روحانی لحاظ سے نہایت ہی خشک ، فکری لحاظ سے بہت تنگ ، نفسیاتی لحاظ سے بہت ہی پریشان ، جسمانی اور سازوسامان کے لحاظ سے مشکل حالات میں تھاما۔ ایسے سخت اور شدید حالات میں ، میں نے اس آیت کا مطالعہ کیا۔ اللہ نے مجھے اس آیت کی حقیقت تک پہنچا دیا۔ یہ حقیقت میری روح میں انڈیل دی گئی۔ گویا وہ ایک شراب طہور ہے جو میرے جسم کی رگ رگ میں سرایت کر رہی ہے اور میں اسے محسوس کر رہا ہوں۔ یہ حقیقت ہے جس کا میں ادراک کر رہا ہوں۔ محض تصور نہیں ہے۔ یہ حقیقت بذات خود میرے لیے رحمت ہے اور یہ آیت میرے سامنے خود اپنی تفسیر بیان کر رہی ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی تفسیر تھی۔ جس طرح اس آیت کے اسرار و رموز میرے سامنے کھلے اسی طرح اللہ کی رحمت کے دروازے بھی میرے سامنے کھلے۔ اس سے قبل میں اس آیت کو پڑھتا رہا اور اس آیت کے پاس سے اس سے قبل میں بارہا گزرا ہوں لیکن آج یہ آیت مجھ پر رحمت کا فیضان کر رہی ہے۔ میں اس کے معانی اور مفہومات سے سیراب ہو رہا ہوں۔ میں اس آیت کی حقیقت کو صاف صاف دیکھ رہا ہوں۔ یہ آیت مجھے پکار رہی ہے کہ آئیے میں ادھر ہوں۔ میں اللہ کی رحمت ہوں ، جس کا دروازہ کبھی کبھی کھلتا ہے۔ ذرا دیکھئے اللہ کی رحمت کے کرشمے۔ غور کیجئے میرے ماحول کی کوئی چیز نہیں بدلی لیکن میرے احساس نے اب ہر چیز کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔ یہ ایک نہایت عظیم رحمت ہے جو کسی پر ہوجاتی ہے۔ اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس طرح اس آیت کے خزانے مجھ پر کھل گئے۔ یہ ایک نعمت خدواندی ہے اور جب یہ کسی پر آتی ہے تو انسان اسے چکھتا ہے۔ اس کے اندر زندگی بسر کرتا ہے لیکن اس کے لیے اس کا بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح اس احسا کو اور اس ذوق کو قلم بند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں ایک عرصہ رحمت خداوندی کے اس فیضان میں زندہ رہا ہوں ، اسے محسوس کرتا رہا ہوں اور اسے پہچانتا رہا ہوں۔ اپنی زندگی کے مشکل ترین حالات میں مجھ پر یہ کیفیت طاری ہوئی ہے۔ اب میری حالت یہ ہے کہ میں کشادگی ، خوشی ، سیرابی ، آزادی اور بےقیدی محسوس کرتا ہوں۔ ہر چیز سے آزادی ، ہر کرب اور ہر رنج سے آزادی محسوس کرتا ہوں اور میں اسی جگہ ہوں ، جہاں تھا۔ یہ اللہ کی رحمت ہی ہے جس کے دروازے مجھ پر کھل گئے ہیں۔ یہ اللہ کا فیض ہی ہے جس کی مجھ پر اس آیت کے ذریعہ بارش ہو رہی ہے۔ یہ آیت ہے ، قرآن کی بس ایک ہی آیت لیکن اس نے تاریک کوٹھڑی میں روشنی کا ایک طاق کھول دیا ہے۔ اس نے میری سیرابی کے لیے خشک جگہ پر ایک چشمہ آب صافی بہا دیا ہے اور میں اب نہایت ہی کھلی شاہراہ پر رضائے الٰہی کی سمت نہایت ہی اطمینان کے ساتھ بڑھ رہا ہوں۔ اور چشم زون میں۔ اذیت کے بجائے میری زندگی راحت میں بدل گئی ہے۔ الحمدللہ ، حمدا کثیرا ” اے پروردگار ، جس نے اس قرآن کو اللہ کی رحمت بنا کر بھیجا مومنین کے لیے رحمت اور شفاء اور ہدایت “۔ مطالعہ کلام الٰہی کے دوران یہ ایک چمک تھی جسے میں نے قلم بند کردیا۔ اب دوبارہ ہم سورة کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پہلی دو آیات کے اندر جو اشارات تھے وہی تیسری آیت میں بھی ہیں۔ لوگوں پر ان کے حوالے سے اللہ کے انعامات اور رحمتوں کا ذکر ہے۔ اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ مالک اور حاکم اور رازق نہیں ہے۔ تعجب انگیز اسلوب سے کہا جاتا ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی یہ لوگ یہ اختیارات اللہ کے سوا کسی اور معبود کو دیتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان رحمت کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو بھی کوئی رحمت کھول دے یعنی لوگوں پر رحم فرمائے اس رحمت کو کوئی روکنے والا نہیں جس شخص پر بھی جس طرح کی نعمت اللہ تعالیٰ بھیجنا چاہے اسے اس پر پوری پوری قدرت ہے، کسی بھی مخلوق کی مجال نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو روک دے، بعض چھوٹے درجہ کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے وہ بڑھتے اور ترقی کرتے چلے جاتے ہیں جلنے والے ان سے جلتے ہیں، حسد کرنے والے ان سے حسد کرتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ کی رحمت برابر جاری رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو جس سے روک لے کسی میں طاقت نہیں کہ اس کو جاری کر دے، وہ غالب ہے جس کو چاہے دے جس سے جو چاہے چھین لے، وہ غالب بھی ہے اور حکیم بھی ہے جس کو جو کچھ وہ دیتا ہے اور جس سے واپس لیتا ہے یہ سب کچھ حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ما یفتح اللہ الخ : یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ رحمت و برکت اللہ کے قبضے میں ہے جس پر چاہے رحمت کے دروازے کھول دے اور جس پر چاہے بند کردے۔ وہ جس پر رحمت کے دروازے کھول دے انہیں کوئی بند نہیں کرسکتا اور جس پر بند کردے انہیں کوئی کھول نہیں سکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ وہ سب پر غالب ہے کوئی اس کے ارادے پر غالب نہیں آسکتا۔ اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں جب رحمت و برکت کے دروازے کھولنا اور بند کرنا اسی کے اختیار میں ہے تو کارساز بھی وہی ہے لہذا ما فوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) جو کچھ کھول دے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے رحمت اور مہر سے تو اس کا کوئی روکنے اور بند کرنے والا نہیں اور وہ جو کچھ روک لے اور بند کرلے تو اس کے بند کئے پیچھے کوئی بھیجنے والا اور جاری کرنے والا نہیں اور وہی ہے کمال قوت کمال علم کا مالک۔ یعنی اس کی قدرت کاملہ کا یہ عالم ہے کہ وہ مہربانی سے اپنے بندوں کو نوازنا چاہے تو اس کی مہربانی کو کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ خود اپنی کسی مصلحت سے کوئی چیز روک لے تو اس کے روکنے کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں۔ مثلاً اگر وہ بارش اور نباتات کی روئیدگی اور ارزانی کا دروازہ کھول دے تو کوئی ان نعمتوں کو روک نہیں سکتا اور اگر کبھی حضرت حق تعالیٰ ہی اپنی مصلحت اور حکمت کے ماتحت کوئی چیز روک لیں تو ان کے روکنے کے بعد کوئی جاری کرنے والا نہیں وہ غالب بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔ حدیث میں آتا ہے۔ اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد یعنی تو جو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مند کو اس کی دولت تیرے عذاب کے مقابلے میں نفع نہیں دے سکتی۔