Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 33

سورة فاطر

جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾

[For them are] gardens of perpetual residence which they will enter. They will be adorned therein with bracelets of gold and pearls, and their garments therein will be silk.

وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے ۔ اور پوشاک وہاں ان کی ریشم کی ہوگی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا ... `Adn (Gardens) will they enter, Allah tells us that those whom He chose among His servants, those who inherited the Book which was revealed from the Lord of the worlds, will, on the Day of Resurrection, have an abode in Everlasting Gardens which they will enter on the Day when they are raised anew and meet Allah. ... يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُوْلُوًا ... therein will they be adorned with bracelets of gold and pearls, It was recorded in the Sahih from Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said: تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُوْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوء The ornaments of the believer will reach as far as his Wudu'. ... وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ and their garments therein will be of silk. For this reason it is forbidden for them (the males) in this world, but Allah will permit it for them in the Hereafter. It was recorded in the Sahih that the Messenger of Allah said: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الاْخِرَة Whoever wears silk in this world, will not wear it in the Hereafter. And he said: هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الاْخِرَة It is for them in this world, and for you in the Hereafter.

اللہ کی کتاب کے وارث لوگ ۔ فرماتا ہے جن برگزیدہ لوگوں کو ہم نے اللہ کی کتاب کا وارث بنایا ہے انہیں قیامت کے دن ہمیشہ والی ابدی نعمتوں والی جنتوں میں لے جائیں گے ۔ جہاں انہیں سونے کے اور موتیوں کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ حدیث میں ہے مومن کا زیور وہاں تک ہو گا جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا ہے ۔ ان کا لباس وہاں پر خاص ریشمی ہو گا ۔ جس سے دنیا میں وہ ممانعت کر دیئے گئے تھے ۔ حدیث میں ہے جو شخص یہاں دنیا میں حریر و ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا اور حدیث میں ہے یہ ریشم کافروں کے لئے دنیا میں ہے اور تم مومنوں کے لئے آخرت میں ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت کے زیوروں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انیہں سونے چاندی کے زیور پہنائے جائیں گے جو موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہوں گے ۔ ان پر موتی اور یاقوت کے تاج ہوں گے ۔ جو بالکل شاہانہ ہوں گے ۔ وہ نوجوان ہوں گے بغیر بالوں کے سرمیلی آنکھوں والے ، وہ جناب باری عزوجل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہم سے خوف ڈر زائل کر دیا اور دنیا اور آخرت کی پریشانیوں اور پشمانیوں سے ہمیں نجات دے دی حدیث شریف میں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے والوں پر قبروں میں میدان محشر میں کوئی دہشت و وحشت نہیں ۔ میں تو گویا انہیں اب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے سروں پر سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے ہیں اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا ۔ ( ابن ابی حاتم ) طبرانی میں ہے موت کے وقت بھی انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو گی ۔ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے ان کی بڑی بڑی اور بہت سی خطائیں معاف کر دی گئیں اور چھوٹی چھوٹی اور کم مقدار نیکیاں قدر دانی کے ساتھ قبول فرمائی گئیں ، یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے یہ پاکیزہ بلند ترین مقامات عطا فرمائے ہمارے اعمال تو اس قابل تھے ہی نہیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے تم میں سے کسی کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے پوچھا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا ہاں مجھے بھی اسی صورت اللہ کی رحمت ساتھ دے گی ۔ وہ کہیں گے یہاں تو ہمیں نہ کسی طرح کی شفقت و محنت ہے نہ تھکان اور کلفت ہے ۔ روح الگ خوش ہے جسم الگ راضی راضی ہے ۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو دنیا میں اللہ کی راہ میں تکلیفیں انہیں اٹھانی پڑی تھیں آج راحت ہی راحت ہے ۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ پسند اور دل پسند کھاتے پیتے رہو اور اس کے بدلے جو دنیا میں تم نے میری فرماں برداریاں کیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے لیکن یہ صحیح نہیں قرآن کا سیاق اس امر کا مقتاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔ 33۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ ' ریشم کا لباس دنیا میں مت پہنو، اس لئے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٣٨] نوابوں اور راجوں اور مہاراجوں میں یہ دستور تھا کہ وہ سونے کے کنگن پہنتے جن میں ہیرے اور جواہرات وغیرہ جڑے ہوتے تھے۔ نیز وہ ریشم کا نرم و نازک لباس پہنتے تھے یہی عیش و عشرت کی وہ انتہا تھی جو اس دنیا میں سمجھی جاسکتی تھی۔ اس لئے ان چیزوں کا نام لیا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ جنت والوں کا لباس اور عیش و عشرت اس دنیا کے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں سے کم نہ ہوگا۔ سونا اور ریشم اس دنیا میں امت مسلمہ کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔ جس میں بیشمار حکمتیں پوشیدہ ہیں سب سے بڑی اور عام فہم بات ہے کہ جو لوگ ایسی عیاشیوں میں پڑ کر اپنی ذات پر ہی اس طرح خرچ کرنا شروع کردیں تو وہ غریبوں کا کیا خیال رکھ سکیں گے۔ یہی باتیں طبقاتی تقسیم اور اس سے آگے بہت بڑے فتنہ و فساد کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ مگر جنت میں چونکہ ایسی خرابیوں کا احتمال ہی نہ ہوگا۔ لہذا وہاں یہ چیزیں جائز ہوں گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا : یعنی یہ تینوں گروہ آخر کار جنات عدن میں داخل ہوجائیں گے۔ طبری اور بیہقی نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے نقل فرمایا ہے : ( ہُمْ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَرَّثَہُمُ اللّٰہُ کُلَّ کِتَابٍ أَنْزَلَہُ ، فَظَالِمُہُمْ یُغْفَرُ لَہُ ، وَ مُقْتَصِدُہُمْ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا، وَ سَابِقُہُمْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) [ طبري : ٢٩٢٣٦۔ البعث والنشور للبیھقي : ١؍٦٨، ح : ٦٤ ] ” یہ (کتاب کے وارث) امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نازل کردہ تمام کتابوں کا وارث بنایا۔ ان میں سے ظالم کو بخش دیا جائے گا، ان کے میانہ رو کا آسان حساب ہوگا اور ان کے سبقت لے جانے والے جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۔ “ یعنی امت مسلمہ میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے لوگ اگر جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ وہاں نہیں رہیں گے، بلکہ ایمان کی برکت سے انھیں شفاعت کے ذریعے سے یا ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے نتیجے میں جہنم سے نکال لیا جائے گا اور وہ جنات عدن میں داخل ہوجائیں گے اور یہ بہت ہی بڑا فضل ہے جو ان لوگوں کو کبھی حاصل نہیں ہوگا جو امت مسلمہ میں داخل ہو کر کتاب اللہ کے وارث نہیں بنے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے حرام کردی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ) [ الأعراف : ٥٠ ] ” اللہ تعالیٰ نے جنت کا پانی اور اس کا رزق کافروں پر حرام کردیا ہے۔ “ بعض مفسرین نے ان تینوں گروہوں میں سے ” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ “ کفار کو قرار دیا ہے اور تینوں گروہوں کی تفصیل ان تین گروہوں کے مطابق کی ہے جن کا ذکر سورة واقعہ میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین قسمیں ہوجائیں گی، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون۔ ان میں سے سابقون اور اصحاب الیمین جنتی ہوں گے اور اصحاب الشمال جہنمی ہوں گے۔ مگر پہلی تفسیر راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تینوں گروہوں کا ذکر کرکے تینوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امت مسلمہ کا ہر فرد ہی جنت میں داخل ہوگا تو ایمان لانے کے بعد جہنم سے ڈرانے اور ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا، بلکہ اگر کوئی شخص جہنم میں مدتوں رہنے کے بعد آخر کار جنت میں داخل ہوجائے تو یہ بھی فضل کبیر ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگ جنت میں جائیں گے تو کافر اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش ! وہ کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے تو ہمیشہ جہنم میں نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ ) [ الحجر : ٢ ] ” بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش ! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔ “ مزید سورة حجر کی آیت (٢) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حج کی آیت (٢٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

A close look at the last sentence of verse 32 and the statement in verse ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌ جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ‌ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِ‌يرٌ‌ (That is the great bounty, gardens of eternity they enter. They will be ornamented with bracelets of gold and with pearls, and their dress therein will be (of) silk. - 35:32, 33) shows that in the beginning of verse 32, Allah Ta’ ala has pointed out to three kinds of His chosen servants following which it was said: ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ‌: That is, &this counting of all these three among His chosen servants is the great bounty.& Next comes the statement relating to their recompense - that they will go to Jannah, that they will be given bracelets of gold and ornaments of pearls to wear and that their dress shall be of silk. For men, in this mortal world, it is حَرَام haram to wear ornaments of gold, and dresses made of silk too. To compensate, they will have these in Jannah. Let there be no doubt about it, something like: Ornaments are for women, not for men in whose case these do not suit. The reason is simple. Taking the conditions prevailing in the &Akhirah (Hereafter) and Jannah (Paradise) on the analogy of conditions prevailing in the mortal world is unreasonable, even dumb. According to a narration of Sayyidna Abu Said al-Khudri (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, &Crowns on the heads of the people of Jannah will be studded with pearls. Light emitted by the smallest of its pearls will fill the entire horizon from the East to the West.& (Reported by at-Tirmidhi and al-Hakim, who has authenticated it, and by al-Baihaqi - from Mazhari) Imam al-Qurtubi (رح) Ta’ ala said: Commentators explain that every inmate of Jannah will have bracelets to wear on their hands - of gold, silver, and pearls. About this celestial bracelet, a verse mentions &of silver& (76:21) while others, &of gold& (18:31; 22:23; 35:33; 43:53). The present explanation brings both verses in correspondence.

(آیت) ذلک ہوالفضل الکبیر جنت عدن یدخلو نہا یحلون فیہا من اساور من ذھب ولولوءا ولباسہم فیہا حریر، شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ منتخب لوگوں کی تین قسمیں بتلائی ہیں، پھر فرمایا ذلک ہو الفضل الکبیر، یعنی ان تینوں کو برگزیدہ بندوں میں شمار کرنا یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ آگے ان کی جزاء کا بیان ہے کہ یہ جنت میں جائیں گے، ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے، اور لباس ان کا ریشمی ہوگا۔ دنیا میں مردوں کے لئے سونے کا زیور پہننا بھی حرام ہے اور ریشمی لباس بھی، اس کے عوض میں ان کو جنت میں یہ سب چیزیں دی جائیں گی۔ اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ زیور پہننا تو عورتوں کا کام ہے، مردوں کے شایان شان نہیں، کیونکہ آخرت اور جنت کے حالات کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنا بےعقلی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل جنت کے سروں پر تاج موتیوں سے مرصع ہوں گے۔ ان کے ادنیٰ موتی کی روشنی ایسی ہوگی کہ مشرق سے مغرب تک پورے عالم کو روشن کر دے گی۔ رواہ الترمذی والحاکم وصحیحہ والبیہقی از مظہری) ۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ہر جنتی کے ہاتھ میں کنگن پہنائے جائیں گے، ایک سونے کا ایک چاندی کا ایک موتیوں کا۔ جنتی کنگن کے متعلق ایک آیت میں چاندی کے اور دوسری میں سونے کے مذکور ہیں۔ اس تفسیر سے ان دونوں آیتوں میں تطبیق بھی ہوگئی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَہَا يُحَلَّوْنَ فِيْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُــؤْلُــؤًا۝ ٠ ۚ وَلِبَاسُہُمْ فِيْہَا حَرِيْرٌ۝ ٣٣ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ عدن قال تعالی: جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] ، أي : استقرار وثبات، وعَدَنَ بمکان کذا : استقرّ ، ومنه المَعْدِنُ : لمستقرّ الجواهر، وقال عليه الصلاة والسلام : «المَعْدِنُ جُبَارٌ» «2» . ( ع د ن ) عدن ( ن ض ) کے معنی کسی جگہ قرار پکڑنے اور ٹہر نے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ عدن بمکان کذا یعنی اس نے فلاں جگہ قیام کیا قرآن میں ہے : ۔ جَنَّاتِ عَدْنٍ [ النحل/ 31] یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات ۔ اسی سے المعدن ( کان ) ہے کیونکہ کا ن بھی جواہرات کے ٹھہر نے اور پائے جانے کی جگہ ہوتی ہے حدیث میں ہے ۔ المعدن جبار کہ اگر کوئی شخص کان میں گر کر مرجائیں تو کان کن پر اس کی دیت نہیں ہے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ حلی الحُلِيّ جمع الحَلْي، نحو : ثدي وثديّ ، قال تعالی: مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ الأعراف/ 148] ، يقال : حَلِيَ يَحْلَى «4» ، قال اللہ تعالی: يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ [ الكهف/ 31] ، ( ح ل ی ) الحلی ( زیورات ) یہ حلی کی جمع ہے جیسے ثدی کی جمع ثدی آجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَداً لَهُ خُوارٌ [ الأعراف/ 148] اپنے زیور کا ایک بچھڑا ( بنالیا ) وہ ایک جسم ( تھا ) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی حلی یحلٰی آراستہ ہونا اور حلی آراستہ کرنا ) قرآن میں ہے ۔ يُحَلَّوْنَ فِيها مِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ [ الكهف/ 31] ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ وَحُلُّوا أَساوِرَ مِنْ فِضَّةٍ [ الإنسان/ 21] اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ اور حلیتہ کے معنی زیور کے ہیں ۔ ذهب ( سونا) الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ورجل ذَهِبٌ: رأى معدن الذّهب فدهش، وشیء مُذَهَّبٌ: جعل عليه الذّهب، وكميت مُذْهَبٌ: علت حمرته صفرة، كأنّ عليها ذهبا، ( ذ ھ ب ) الذھب ۔ سونا ۔ اسے ذھبتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ رجل ذھب ، جو کان کے اندر زیادہ سانا دیکھ کر ششدرہ جائے ۔ شیئ مذھب ( او مذھب ) زرا ندددہ طلاء کی ہوئی چیز ۔ کمیت مذھب ( اومذھب ) کمیت گھوڑا جس کی سرخی پر زردی غالب ہو ۔ گویا وہ سنہری رنگ کا ہے ۔ لؤلؤ قال تعالی: يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ [ الرحمن/ 22] ، وقال : كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] جمعه : لَآلِئٌ ، وتَلَأْلَأَ الشیء : لَمَعَ لَمَعان اللّؤلؤ، وقیل : لا أفعل ذلک ما لَأْلَأَتِ الظِّبَاءُ بأذنابها «1» . ( ل ء ل ء ) اللؤ لوء ۔ جمع لاتی ۔ قرآن میں ہے : يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ [ الرحمن/ 22] دونوں دریاؤں سے ہوتی ۔۔۔ نکلتے ہیں ۔ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] جیسے چھپائے ہوئے ہوتی ۔ اور تلالالشئی کے معنی کسی چیز کے موتی کی طرح چمکنے کے ہیں مشہور محاورہ ہے ۔ لاافعل ذلک مالالات الظباء باذنابھا جب تک کہ آہو اپنے دم ہلاتے رہیں گے میں یہ کام نہیں کرونگا ۔ یعنی کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا ۔ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی: هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله : 402- فدی لک من أخي ثقة إزاري«1» وجعل التّقوی لِبَاساً علی طریق التّمثیل والتّشبيه، قال تعالی: وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] وقوله : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] يعني به : الدِّرْعَ ، وقوله : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] ، وجعل الجوع والخوف لباسا علی التّجسیم والتشبيه تصویرا له، وذلک بحسب ما يقولون : تدرّع فلان الفقر، ولَبِسَ الجوعَ ، ( ل ب س ) لبس الثوب ۔ کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں اور البسہ کے معنی دوسرے کو پہنانا کے ۔ قرآن میں ہے : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] اور وہ سبز کپڑے پہنا کریں گے ۔ اللباس واللبوس واللبس وہ چیز جو پہنی جائے ۔ قرآن میں ہے : قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈاھانپے ۔ اور لباس کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے ۔ جو انسان کے برے کاموں پر پردہ ڈال سکے ۔ چناچہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو قبائح کے ارتکاب سے روکتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] وہ تمہاری پوشاک اور تم ان کی پوشاک ہو ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعرنے اپنی بیوی کو ازار کہا ہے ۔ اے میرے قابل اعتماد بھائی پر میری ازار یعنی بیوی قربان ہو ۔ اور تمثیل و تشبیہ کے طور پر تقوی کو بھی لباس قرار دیا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] اور جو پر ہیزگاری کا لباس ہے ۔ اور آیت کریمہ : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک طرح کا لباس بنانا ۔۔۔۔۔ میں لبوس سے زر ہیں مراد ہیں اور آیت کریمہ : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا ۔ میں جوں یعنی بھوک اور خوف کی تصویر کھینچے کے لئے اس لباس کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی: هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله : 402- فدی لک من أخي ثقة إزاري«1» وجعل التّقوی لِبَاساً علی طریق التّمثیل والتّشبيه، قال تعالی: وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] وقوله : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] يعني به : الدِّرْعَ ، وقوله : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] ، وجعل الجوع والخوف لباسا علی التّجسیم والتشبيه تصویرا له، وذلک بحسب ما يقولون : تدرّع فلان الفقر، ولَبِسَ الجوعَ ، ( ل ب س ) لبس الثوب ۔ کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں اور البسہ کے معنی دوسرے کو پہنانا کے ۔ قرآن میں ہے : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] اور وہ سبز کپڑے پہنا کریں گے ۔ اللباس واللبوس واللبس وہ چیز جو پہنی جائے ۔ قرآن میں ہے : قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈاھانپے ۔ اور لباس کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے ۔ جو انسان کے برے کاموں پر پردہ ڈال سکے ۔ چناچہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو قبائح کے ارتکاب سے روکتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] وہ تمہاری پوشاک اور تم ان کی پوشاک ہو ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعرنے اپنی بیوی کو ازار کہا ہے ۔ اے میرے قابل اعتماد بھائی پر میری ازار یعنی بیوی قربان ہو ۔ اور تمثیل و تشبیہ کے طور پر تقوی کو بھی لباس قرار دیا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] اور جو پر ہیزگاری کا لباس ہے ۔ اور آیت کریمہ : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک طرح کا لباس بنانا ۔۔۔۔۔ میں لبوس سے زر ہیں مراد ہیں اور آیت کریمہ : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا ۔ میں جوں یعنی بھوک اور خوف کی تصویر کھینچے کے لئے اس لباس کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ حَريرُ من الثیاب : ما رقّ ، قال اللہ تعالی: وَلِباسُهُمْ فِيها حَرِيرٌ [ فاطر/ 33] لحریری ( ریشمی کپڑا ) ہر ایک بار کپڑے کو حریر کیا جاتا ہے فرمایا :۔ وَلِباسُهُمْ فِيها حَرِيرٌ [ فاطر/ 33] وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جنت الفردوس ان کا ٹھکاناہ ہوگا کہ باغات جس کے چاروں طرف ہوں گے اور جنت میں مردوں کو سونے کے کنگن اور عورتوں کو موتی پہنائے جائیں گے اور پوشاک وہاں ریشم کی ہوگی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣{ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا } ” (ان کے لیے ) باغات ہوں گے رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے “ ” جَنّٰتُ عَدْنٍ “ کا ترجمہ ” ہمیشگی کے باغات “ بھی کیا گیا ہے اور ” رہنے کے باغات “ (residential gardens) بھی۔ { یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّلُؤْلُؤًاج وَلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ} ” ان میں انہیں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی ‘ اور ان میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔ “ سورة الحج کی آیت ٢٣ میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 One section of the commentators has held the view that this sentence is related with the two sentences immediately preceding it. That is, the ones who excel in good duds are the best of the people and they alone will enter the Gardens. As for the first two groups, nothing has been stated about them so that they became worried concerning their fate and try to improve their lot. This view has been presented by `Allama Zamakhshari forcefully and supported by Imam Razi. But the majority of the commentators opine that it is related with the whole preceding discourse, which means that all the three classes of the Ummah shall eventually enter Paradise, whether without accountability, or afar the accountability, whether remaining secure from every punishment, or after receiving some punishment. This commentary is supported by the Qur'anic context, for a little below about those who are contrasted with the heirs of the Book, it has been said: "And for those who have disbelieved, there is the fire of Hell. " This shows that there is Paradise for all those who have believed in the Hook, and Hell for all those who have refused to believe in it. The same has been supported by the Hadith of the Holy Prophet, which Imam Ahmad, Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Tabarani, Baihaqi and some other traditionists have related on the authority of Hadrat Abu ad-Darda'. The Holy Prophet said: Those who have excelled in good works shall enter Paradise without; and those who arc following the middle course, shall be subjected to accountability; but their accountability shall be light. As for those who have been unjust to themselves, they shall be detained throughout the long period of Resurrection and accountability (mahshar). Then Allah shall cover them also with His mercy. And they are the ones who will say: 'Thanks to Allah Who has removed sorrow from us!'" In this Hadith the Holy Prophet has himself given a complete commentary of the verse under discussion, and stated separately the end to be met by each of the three groups of the believers. The "light accountability" for the ones following the middle course means this: The disbelievers will be punished for their disbelief as well as for each single crime and sin of theirs separately, but, contrary to this, the good and bad deeds of the believers who come with both the good and evil deeds will be judged on the whole: they will not be rewarded for each good deed and punished for each evildeed separately. As for those "who will be detained throughout the period of Resurrection and accountability because they had been unjust to themselves," it means: They will not be thrown into Hell, but will be sentenced to be detained "till the rising of the Court." In other words, they will be exposed to all the severities and rigours of the lengthy Day of Resurrection (and God alone knows how lengthy it will be !) till Allah Almighty will turn to them in His mercy and command at the rising of the Court that they too be admitted into Paradise. The traditionists have cited several sayings to the same effect from many Companions like Hadrat 'Umar, Hadrat `Uthman, Hadrat `Abdullah bin Mas'ud, Hadrat 'Abdullah bin `Abbas, Hadrat `A`ishah, Hadrat Abu Said Khudri and Hadrat Bara bin 'Azib. And obviously, the Companions could not have said any such thing in such matters unless they had heard it from the Holy Prophet himself. But from this one should not form the impression that `those who have been unjust to themselves" from among the Muslims will only be sentenced to be detained "till the rising of the Court", and none of them will go to Hell at all. Several crimes have been mentioned in the Qur'an and Hadith, whose perpetrator will go to Hell in spite of his faith. For instance, Allah Himself has declared that the believer who kills another believer wilfully shall go to Hell. Likewise, Hell has been mentioned as the punishment of those people also who violate the provisions of the Divine Law of Inheritance. Those who devour interest even after its prohibition have been declared to be "the dwellers of Hell." Besides these, some other major sins also have been mentioned in Hadith, whose perpetrator shall go to Hell.

سورة فَاطِر حاشیہ نمبر :57 مفسرین میں سے ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس فقرے کا تعلق قریب ترین دونوں فقروں سے ہے ، یعنی نیکیوں پر سبقت کرنے والے ہی بڑی فضیلت رکھتے ہیں اور وہی ان جنتوں میں داخل ہوں گے ۔ رہے پہلے دو گروہ ، تو ان کے بارے میں سکوت فرمایا گیا ہے تاکہ وہ اپنے انجام کے معاملہ میں فکر مند ہوں اور اپنی موجودہ حالت سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں ۔ اس رائے کو علامہ زمخشری نے بڑے زور کے ساتھ بیان کیا ہے اور امام رازی نے اس کی تائید کی ہے ۔ لیکن مفسرین کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے ہے ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے یہ تینوں گروہ بالآخر جنت میں داخل ہوں گے ، خواہ محاسبہ کے بغیر یا محاسبہ کے بعد ، خواہ ہر مواخذہ سے محفوظ رہ کر یا کوئی سزا پانے کے بعد ۔ اسی تفسیر کی تائید قرآن کا سیاق کرتا ہے ، کیونکہ آگے چل کر وارثین کتاب کے بالمقابل دوسرے گروہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو مان لیا ہے ان کے لیے جنت ہے اور جنہوں نے اس پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم ۔ پھر اسی کی تائید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کرتی ہے جسے حضرت ابوالدارداء نے روایت کیا ہے اور امام احمد ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، طَبَرانی ، بہقی اور بعض دوسرے محدثین نے اسے نقل کیا ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: فامّا الذین سبقوا فاولٰئِک الذین یدخلون الجنۃ بغیر حساب ، وامّا الذین اقتصدوا فاولٰئِک الذین یحاسبون حسابا یسیرا ، واما الذین ظلموا انفسہم فاولٰئِک یُحبَسوْن طول المحشر ثم ھم الذین یتلقّا ھم اللہ برحمتہ فھم الذین یقولون الحمد لِلہ الذی اذھب عنا الحزن ۔ جو لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں وہ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ۔ اور جو بیچ کی راس رہے ہیں ان سے محاسبہ ہوگا مگر ہلکا محاسبہ ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے تو وہ محشر کے پورے طویل عرصہ میں روک رکھے جائیں گے ، پھر انہی کو اللہ اپنی رحمت میں لے لیگا اور یہی لوگ ہیں جو کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا ۔ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی پوری تفسیر خود بیان فرمادی ہے اور اہل ایمان کے تینوں طبقوں کا انجام الگ الگ بتا دیا ہے ۔ بیچ کی راس والوں سے ہلکا محاسبہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کفار کو تو ان کے کفر کے علاوہ ان کے ہر ہر جرم اور گناہ کی جداگانہ سزا بھی دی جائے گی ، مگر اس کے برعکس اہل ایمان میں جو لوگ اچھے اور برے دونوں طرح کے اعمال لے کر پہنچیں گے ان کی نیکیوں اور ان کے گناہوں کا مجموعی محاسبہ ہو گا ۔ یہ نہیں ہو گا کہ ہر نیکی کی الگ جزا اور ہر قصور کی الگ سزا دی جائے ۔ اور یہ جو فرمایا کہ اہل ایمان میں سے جن لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہوگا وہ محشر کے پورے عرصے میں روک رکھے جائیں گے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ ان کو تا برخاست عدالت کی سزا دی جائے گی ، یعنی روز حشر کی پوری طویل مدت ( جو نہ معلوم کتنی صدیوں طویل ہوگی ) ان پر اپنی ساری سختیوں کے ساتھ گزر جائے گی ، یہاں تک کہ آخر کار اللہ ان پر رحم فرمائے گا اور خاتمہ عدالت کے وقت حکم دے گا کہ اچھا ، انہیں بھی جنت میں داخل کردو ۔ اسی مضمون کے متعدد اقوال محدثین نے بہت سے صحابہ ، مثلاً حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عائشہ ، حضرت ابو سعید خُدری اور حضرت بَراء ابن عازب سے نقل کیے ہیں ، اور ظاہر ہے کہ صحابہ ایسے معاملات میں کوئی بات اس وقت تک نہیں کہہ سکتے تھے جب تک انہوں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو نہ سنا ہو ۔ مگر اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے ان کے لیے صرف تا برخاست عدالت ہی کی سزا ہے اور ان میں سے کوئی جہنم میں جائے گا ہی نہیں ۔ قرآن اور حدیث میں متعدد ایسے جرائم کا ذکر ہے جن کے مرتکب کو ایمان بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکتا ۔ مثلاً جو مومن کسی مومن کو عمداً قتل کر دے اس کے لیے جہنم کی سزا کا اللہ تعالیٰ نے خود اعلان فرما دیا ہے ۔ اسی طرح قانون وراثت کی خداوندی حدود کو توڑنے والوں کے لیے بھی قرآن مجید میں جہنم کی وعید فرمائی گئی ہے ۔ سود کی حرمت کا حکم آجانے کے بعد پھر سود خواری کرنے والوں کے لیے بھی صاف صاف اعلان فرمایا گیا ہے کہ وہ اصحاب النار ہیں ۔ اس کے علاوہ بعض اور کبائر کے مرتکبین کے لیے بھی احادیث میں تصریح ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٣ تا ٣٥۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے اور ان کو سونے اور موتی کے کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت علی (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ مشکوۃ ص ٣٧٨ باب الخاتم فصل ٢‘) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کر یہ فرمایا کہ میری امت کے مردوں پر دنیا میں دونوں چیزیں حرام ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر (رض) سے روایت ٤ ؎ ہے (٤ ؎ مشکوۃ ص ٣٧٣۔ ) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص دنیا میں ریشمی کپڑا پہنے گا اس کو جنت میں ریشمی لباس نہ ملے گا صحیح بخاری ومسلم میں اسی مضمون کی روایت انس بن مالک (رض) سے بھی ہے صحیح مسلم میں حضرت عمر (رض) سے روایت ١ ؎ ہے (١ ؎ مشکوۃ ص ٣٧٤) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چار انگل تک کے ریشمی کپڑے کی گوٹ وغیرہ مرد کو جائز ہے تار رشیم اور اون وغیرہ کو ملا کر جو کپڑا بنا جاوے اس کا استعمال صحابہ (رض) نے جائز رکھا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے (٢ ؎ صحیح بخاری ص ٨٧١ ج ٢ باب خرا تیہم الذہب) جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کی انگوٹھی کی مردوں کو ممانعت فرمائی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حذیفہ (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے (٣ ؎ ایضا ص ٨٤١ ج ٢ باب الثب فی آیتہ الزہب) جس میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی بھی اس لیے دنیا میں مناہی کی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوموسیٰ اشعری سے جو روایت ٤ ؎ ہے (٤ ؎ مشکوۃ ص ٤٩٦ باب صفۃ الحنۃ۔ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں کھانے پینے کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے ‘ دنیا میں آدمی کو معیشت کا جانی اور مالی نقصانات کا خاتمہ بخیر ہونے کا اور عبادت کے قبول ہونے کا اسی طرح طرح طرح کا فکر وغم تھا جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ سب غم جاتے رہیں گے اس لیے جنتی لوگ اللہ تعالیٰ شکرادا کریں گے اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے کہ اس نے ہمارے گناہ معاف کر دئے اور وہ بڑا قدرد ان ہے کہ اس نے ہماری تھوڑی سی عبادت کے بدلہ میں ہم کو جنت جیسا مقام عنایت فرمایا کہ جہاں بےمحنت اور مشقت کے ہم ہمیشہ رہیں گے ‘ صحیح بخاری مسلم ترمذی ٥ ؎ وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) اور ابوسعید خدری (رض) کی روایتیں گزر چکی ہیں (٥ ؎ ایضا باب صفۃ الجنۃ واہلہا۔ ) کہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے ہی فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے اے جنتیو اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی تم کو کوئی بیماری نہ ہوگی ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی موت کو صورت نہ دیکھو گے کیوں کہ موت کو ذبح کردیا گیا ہمیشہ جو ان رہو گے کبھی بڈھے نہ ہوگے ہمیشہ خوش حال رہوگے کبھی کوئی رنج وغم پاس نہ آوے گا۔ فرشتوں سے یہ خوشی کی باتیں سن کر جنتی لوگ اللہ تعالیٰ کا وہ شکریہ ادا کریں گے جس کا ذکر آخر آیت میں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:33) جنت عدن مضاف مضاف الیہ۔ رہنے بسنے کے باغات یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن بالمکان اس نے اس جگہ مقام کیا اور عدن سے مراد قامۃ علی وجہ الخلود ہے۔ یعنی دائمی طور پر رہنا بسنا۔ اور بعض عدن کو علم قرار دیتے ہیں اور اسے جنت میں ایک خاص مقام کا نام دیتے ہیں۔ جنت عدن۔ مبتدا ہے اور یدخلونھا اس کی خبر اس میں ضمیر جمع مذکر غائب الذین اصطفینا کی طرف راجع ہے یا ثلثۃ اقسام (ظالم لنفسہ، متقصد سابق بالخیرات) کی طرف راجع ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنت کی طرف راجع ہے۔ یحلون فیھا یہ جنت کی خبر ثانی ہے۔ یحلون مضارع مجہول جمع مذکر غائب (ضمیر جمع بمطابق یدخلون) تحیلۃ (تفعیل) مصدر، وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلیۃ زیور۔ اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن، پہنچیاں ۔ یہ دستوار فارسی سے معرب ہے ۔ اساور۔ بوجہ جمع وعجمہ غیر منصرف ہے۔ من تبعیضیہ ہے۔ اور من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے۔ لؤ لؤا۔ اس کی جمع لالی ہے موتی۔ اس کا عطف من اساور پر ہے۔ ای ویحلون فیھا لؤلؤا۔ اور ان کو وہاں موتی پہنائے جائیں گے۔ حریر۔ اسم ہے۔ ریشمی کپڑا۔ ہر ایک باریک کپڑے کو حریر کہا جاتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 بعض مفسرین (رح) نے ان داخل ہونیوالوں سے صرف نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ ان سے تمام مسلمان مراد ہیں چاہے وہ مذکور بالا تینوں قسموں میں سے کسی قسم میں داخل ہوں۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دنیا میں فضل کبیر اور آخرت میں اجرِعظیم۔ جن لوگوں نے کتاب الٰہی کی وراثت کا قولاً اور عملاً حق ادا کرنے کی کوشش کی اللہ تعالیٰ ان کو اجرِعظیم سے سرفراز کرتے ہوئے سدابہار جنت میں داخل فرمائے گا۔ ان کی کلائیوں میں موتیوں سے سجے ہوئے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کالباس جنت کی ریشم سے تیار کیا ہوگا۔ جونہی وہ جنت کے محلات میں داخل ہوں گے۔ تو بےساختہ پکار اٹھیں گے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے بچا لیا۔ وہ اس بات کا بھی اقرار اور اظہار کریں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے ہم سے بیشمار کوتاہیاں ہوئیں لیکن ہمارے رب نے ہمیں معاف فرماکر ہمیں جنت کے عیش و آرام سے سرفراز فرما دیا ہے۔ یقیناً ہمارا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا اور ان کے اعمال کی قدر کرنے والا ہے۔ رب شکور نے ہمیں اپنے خاص فضل سے ہمیشہ رہنے والے گھر میں ٹھہرایا جہاں نہ ہمیں کسی قسم کا رنج پہنچے گا اور نہ ہی ہمیں کوئی نقاہت اور تھکان ہوگی۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جو بندہ جنت میں داخل ہوگا وہ عیش میں ہوگا، بدحال نہیں ہوگا اور اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے اور نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔ “ [ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا ] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) [ رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....] ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ مسائل ١۔ جنتی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ ٢۔ جنتی جنت میں ہر دم اپنے رب کا شکر ادا کریں گے۔ ٣۔ جنتیوں کو موتیوں سے جڑے ہوئے سونے کے کنگن اور ریشمی لباس پہنایا جائے گا۔ ٤۔ جنت میں جنتیوں کو کسی قسم کا غم، مشقت اور تھکاوٹ نہیں ہوگی۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جنت کی مثال جس کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرّعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : ٢٨ تا ٣٠) ٥۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کریں گے۔ (حٰم السجدۃ : ٣١) ٦۔ مومنوں کے ساتھ جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں شہد، دودھ، شراب اور شفاف پانی کی نہریں ہوں گی۔ ( محمد : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذلک ھو الفضل الکبیر ۔۔۔۔۔۔ فیھا لغوب (22 – 25) اس منظر میں نہایت ٹھوس اور مادی نعمتوں کا ذکر ہے اور ایسی نفسیاتی سہولتوں کا ذکر ہے جنہیں محسوس کیا جاتا ہے ۔ وہاں ان کی ظاہری حالت یہ ہوگی۔ یحلون فیھا ۔۔۔۔۔ فیھا حریر (35: 33) ” وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا “۔ یہ سازو سامان مادی اور ٹھوس ہے اور نظر آنے والا ہے۔ انسان کا نفس ان چیزوں کو پسند کرتا ہے اور اس کے علاوہ اللہ کی رضا مندی ، دلی اطمینان اور امن و سکون ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

32:۔ جنت عدن الخ : یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا خبر اول، یحلون الخ، خبر ثانی و لؤلؤا، من اس اور کے محل پر معطوف ہے۔ یا لؤلؤا فعل مقدر کا مفعول ہے۔ مثلا یؤتون (روح وغیرہ) ۔ حضرت شیخ نے یلبسون، محذوف مانا ہے۔ یدخلون اور یحلون کی ضمیروں سے تینوں جماعتیں مراد ہیں یعنی وہ سب جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اور انہیں سونے کے کنگن اور موتیوں کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ وقالوا الحمد للہ الخ : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کریں گے کہ جس طرح دنیا میں تو ہی منعم اور کارساز تھا اسی طرح آج آخرت میں بھی تو ہی کارساز اور مہربان ہے۔ ہر قسم کی حمد و ثنا کے لائق وہی ذات پاک ہے جس نے ہمیں ہر غم سے آزاد کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار گناہ گاروں پر مہربان اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی قبول فرماتا ہے۔ عن ابن عباس انہ قال فی ذلک غفر لنا العظیم من ذنوبنا و شکر لنا القلیل من اعمالنا (روح ج 22 ص 199) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) وہ اجوروثواب جن کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا وہ دائمی اور ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ لوگ اس کیفیت سے داخل ہوں گے کہ ان باغوں میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان باغوں میں ان کی عام پوشاک ریشمی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سونا اور ریشم مسلمانوں کو وہاں ہے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو ریشمی پہنے دنیا میں وہاں نہ پہنے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا تعلق تینوں فرقوں کے ساتھ رکھا ہے۔ مگر بعض نے ان الذین یتلون کتاب اللہ سے قائم کیا ہے فقیر کے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔ (واللہ اعلم)