Surat Faatir

Surah: 35

Verse: 45

سورة فاطر

وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوۡا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہۡرِہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیۡرًا ﴿٪۴۵﴾  17

And if Allah were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon the earth any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allah has ever been, of His servants, Seeing.

اور اگر اللہ تعالٰی لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب دارو گیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن اللہ تعالٰی ان کو ایک میعاد معین تک مہلت دے رہا ہے سو جب ان کی وہ میعاد آپہنچے گی اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَوْ يُوَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ ... And if Allah were to punish men for that which they earned, He would not leave a moving creature on the surface of the earth; meaning, if He were to punish them for all of their sins, He would destroy all the people of the earth and all that they own of livestock and crops. Sa`id bin Jubayr and As-Suddi commented on the Ayah: مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ (He would not leave a moving creature on the surface of the earth), "This means, He would have stopped sending rain to them, and all the animals would have died as a result." ... وَلَكِن يُوَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ... but He gives them respite to an appointed term, means, but He is delaying until the Day of Resurrection, when He will bring them to account and will reward or punish each one according to his deeds: He will reward those who obeyed Him and will punish those who disobeyed Him. He says: ... فَإِذَا جَاء أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا and when their term comes, then verily, Allah is Ever All-Seer of His servants. This is the end of the Tafsir of Surah Fatir. All praise and gratitude is due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 انسانوں کو ان کے گناہوں کی پاداش میں اور جانوروں کو انسانوں کی نحوست کی وجہ سے یا مطلب یہ ہے کہ تمام اہل زمین کو ہلاک کردیتا، انسانوں کو بھی اور جن جانوروں اور روزیوں کے وہ مالک ہیں ان کو بھی یا مطلب ہے کہ آسمان سے بارشوں کا سلسلہ منقطع فرما دیتا ہے جس سے زمین پر چلنے والے سب دابتہ مرجاتے ہیں۔ 45۔ 1 یہ میعاد معین دنیا میں بھی ہوسکتی ہے اور یوم قیامت تو ہے ہی۔ 45۔ 3 یعنی اس دن ان کا محسابہ کرے گا اور ہر شخص کو اس کے عملوں کا پورا بدلہ دے گا اہل ایمان واطاعت کو اجرو ثواب اور اہل کفر و معصیت کو عتاب و عقاب۔ اس میں مومنوں کے لیے تسلی ہے اور کافروں کے لیے وعید۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ٥٢] دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ ورنہ زمین پر کوئی جاندار زندہ نہ رہ سکتا :۔ انسان اور جن کے علاوہ دوسرا کوئی جاندار نہ شریعت کا مکلف ہے اور نہ اللہ کا نافرمان ہوتا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ اصل مجرم تو انسان ہے۔ مگر اس کی سزا سے دوسرے جاندار بیچارے مفت میں مار کھاتے ہیں جیسے گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ مثلاً انسانوں کے جرم کی پاداش میں اگر اللہ تعالیٰ بارش روک دے تو دوسرے جاندار بھی بےچارے پانی کی نایابی کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مرجائیں گے۔ اسی طرح اگر سیلاب آجائے یا زلزلہ آجائے تو متاثرہ علاقہ کے جاندار بھی متاثر ہوں گے اور مرجائیں گے۔ مجرم انسانوں کو فوری طور پر گرفت نہ کرنے اور انہیں ڈھیل دینے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی کیا مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ بےزبان جانوروں کی فریاد کی وجہ سے ہی مجرموں پر عذاب نہ بھیج رہا ہو۔ بہرحال یہ مہلت بھی ایک مقررہ وقت تک ہی ہے۔ انفرادی لحاظ سے یہ مہلت ہر انسان کی موت کا وقت ہے۔ اور اجتماعی لحاظ سے کسی قوم پر اللہ کے عذاب کا یا قیامت کا وقت ہے۔ اس مقررہ وقت کے بعد محاسبہ کا وقت ہے۔ کوئی مجرم نہ اس سے چھپ سکے گا نہ بھاگ سکے گا۔ اور اس کا یہ محاسبہ حق و انصاف پر مبنی ہوگا کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل اور ان کی ایک ایک حرکت کو خود دیکھ رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل کی آیت (٦١) کی تفسیر۔ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا : یعنی جب ان کا مقرر وقت آگیا تو اللہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کون کہاں ہے۔ لہٰذا اس وقت نہ کوئی اس سے چھپا رہ سکے گا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکے گا، پھر کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں، وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلا دے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللہُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَہْرِہَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ وَّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۝ ٠ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِيْرًا۝ ٤٥ۧ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ ظهر الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] ( ظ ھ ر ) الظھر کے معنی پیٹھ اور پشت کے ہیں اس کی جمع ظھور آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10] اور جس کا نام اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائیگا دب الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] ( د ب ب ) دب الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6] اور زمین پر چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے ۔ أخر ( تاخیر) والتأخير مقابل للتقدیم، قال تعالی: بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ [ القیامة/ 13] ، ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَما تَأَخَّرَ [ الفتح/ 2] ، إِنَّما يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصارُ [إبراهيم/ 42] ، رَبَّنا أَخِّرْنا إِلى أَجَلٍ قَرِيبٍ [إبراهيم/ 44] ( اخ ر ) اخر التاخیر یہ تقدیم کی ضد ہے ( یعنی پیچھے کرنا چھوڑنا ۔ چناچہ فرمایا :۔ { بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ } ( سورة القیامة 13) جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ۔ { مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ } ( سورة الفتح 2) تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ { إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ } ( سورة إِبراهيم 42) وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ دہشت کے سبب آنکھیں کھلی کی کھلی ۔ رہ جائیں گی ۔ { رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ } ( سورة إِبراهيم 44) اسے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کر أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر اللہ تعالیٰ جن و انس پر ان کے اعمال کے سبب فورا پکڑ فرمانے لگتا تو روئے زمین پر جن و انس میں سے خاص طور پر ایک متنفس کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے۔ سو جب ان کی ہلاکت کا وقت آئے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آپ دیکھ لے گا کہ کس کو ہلاک کرے اور کسے بچائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥{ وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ } ” اور اگر اللہ (فوری) گرفت کرتا لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس (زمین) کی پشت پر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا “ { وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } ” لیکن وہ موخر کرتا رہتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک۔ “ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی ہے کہ وہ کسی مجرم یا نافرمان کی فوری طور پر پکڑ کرنے کے بجائے اسے ایک طے شدہ وقت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ { فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا } ” پھر جب ان کا وقت ِمعین ّآ جائے گا تو اللہ یقینا اپنے بندوں کے حالات کو خود دیکھنے والا ہے۔ “ اللہ کی مشیت کے مطابق طے شدہ وقت پر جب بھی کسی مجرم کی گرفت ہوگی تو اسے اپنے ایک ایک جرم کا حساب دینا پڑے گا ‘ کیونکہ ان کا کوئی معاملہ بھی اللہ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(35:45) لو یؤاخذ۔ مضارع واحد مذکر غائب، مواخذۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ اگر وہ گرفت کرے۔ اگر وہ پکڑے۔ وہ داروگیر کرے بما۔ باء سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے۔ کسبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے کمایا۔ انہوں نے (اچھا یا برا کام) کیا۔ یہاں برے کا ہی کے متعلق آیا ہے۔ علی ظھرھا۔ ای علی ظھر الارض۔ زمین کی پشت پر۔ زمین پر۔ فائدہ : مولانا عبد الماجد دریا بادی صاحب تفسیر الماجدی رقمطراز ہیں :۔ ولو۔۔ دابۃ۔ یعنی یہ تو مشیت تکوینی سرے سے ہے ہی نہیں کہ معاصی وذنوب پر گرفت فی الفور اور اسی دنیا ہی میں ہوجایا کرے۔ یہ اگر ہوتا ہے تو کوئی کافر زندہ ہی نہ رہنے پاتا۔ اور اہل ایمان اس لئے اٹھا لئے جاتے کہ نظام عالم مجموعہ کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور جب انسان نہ رہتے تو کوئی حیوان بھی نہ باقی رہنے دیا جاتا کہ حیوانات کی حیثیت تو محض انسان کے خادم کی ہے۔ یؤخرہم مضارع واحد مذکر غائب تاخیر (تفعیل) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کو مہلت دیتا ہے۔ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے، یا دے رہا ہے۔ اجل مسمی موصوف وصفت، مقررہ وقت، متعین وقت۔ اجلہم مضاف مضاف الیہ۔ اجل جیسا کہ ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے مدت مقررہ کو کہتے ہیں۔ اسی اس سے مراد کبھی موت بھی لی جاتی ہے اور کبھی قیامت دونوں کا وقت مقرر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 جاندار سے مراد جن و انس کے علاوہ عام جاندار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن و انس تو اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے۔ اور دوسری جاندار چیزیں جن و انس کے گناہوں کی نحوست کی وجہ سے بعض آثار میں ہے۔ (کاذ الجعل ان یعذب فی حجرہ بذنب ابن ادم) (قرطبی)3 کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں ہے وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیگا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اس کے حضور اپنے گناہوں کی توبہ کرلیں۔ رب کریم کی عطاکردہ مہلت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کی بجائے مجرم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فی الفور ہماری گرفت نہیں کرتا اور ہمیں بدستور دنیا کے مال و دولت اور شان و شوکت دیئے جارہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہم پر ناراض نہیں۔ ایسے لوگوں کی خوش فہمی دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ ” اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے جرائم کی وجہ سے انہیں دنیا میں پوری، پوری سزا دینا چاہے تو روئے زمین پر کوئی بھی چلنے پھر نے والا باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک وقت معین تک مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے جب کسی قوم یا فرد کی مہلت پوری ہوجاتی ہے تو وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اس میں دنیا اور آخرت کے دونوں انجام شامل ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر جگہ اور ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔ ” بَصِیْرً “ کی صفت لا کر ایک دفعہ پھر انتباہ کیا ہے کہ مجرموں کو مہلت دینے کا معنٰی یہ نہیں کہ ” اللہ “ ان کے باطل افکار اور برے کردار سے بیخبر ہے۔ نہیں وہ سب کچھ دیکھتا ہے مگر اپنے طے شدہ فیصلے کے مطابق مہلت دئیے جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کی دنیا میں پکڑ کرتا ہے اور کچھ کو چھوڑ دیتا ہے۔ تاہم آخرت میں مجرموں کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو پوری، پوری طرح سزا دینا چاہے تو زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا باقی نہ رہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو باربار مہلت دیتا ہے۔ ٢۔ ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولو یؤاخذ اللہ۔۔۔۔۔ بعبادہ بصیرا (45) لوگ جو اللہ کے انعامات کا کفر کرتے ہیں ، زمین میں شروفساد کا ارتکاب کرتے ہیں اور ظلم و زیادتی اور سرکشی کرتے ہیں یہ ان کی جانب سے بہت ہی بری حرکت ہے۔ اگر اللہ لوگوں کو ان کی اس بری حرکت پر پکڑتا تو اللہ کی پکڑ کا دائرہ پورے کرہ ارض تک پھیل جاتا اور یہ پورا کرہ ارض زندگی کے قابل ہی نہ رہتا۔ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ کوئی زندہ چیز بھی یہاں نہ رہتی۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ بہت برا اور گھناؤنا کام ہے اور اگر اللہ اس پر فوراً ہی پکڑ لیتا تو لوگوں کے اعمال کے طبعی اور اخلاقی نتائج ان کی فوری بربادی پر منتج ہوئے۔ لیکن اللہ حلیم ہے اور وہ لوگوں کی پکڑ میں شتابی نہیں فرماتا۔ ولکن یواخرھم الی اجل مسمی (35: 45) لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک کیلئے مہلت دیتا ہے “۔ یعنی ہر فرد کو اسکی عمر طبیعی تک مہلت دیتا ہے اور دنیا میں وہ اپنی عمر پوری کرتا ہے۔ اور وہ سوسائٹیوں اور ملتوں کو بھی اپنے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ نیست و نابود ہو کر دوسری طلل کے لیے جگہ خالی کرتی ہیں اور پوری بنی نوع انسان کو وہ مہلت دیتا ہے جب وقت مقرر آئے گا تو قیامت برپا کرکے حساب و کتاب لے گا اور وہ اسطرح لوگوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ شاید نیک کام کر سکیں فاذا جآء اجلھم (35: 45) ” پھر جب ان کا وقت پورا ہوگا “۔ جب کسب و عمل کا وقت پورا ہوگا اور حساب و کتاب کا وقت آئے گا تو اللہ ان پر کوئی ظلم نہ کرے گا۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیرا (35: 45) ” تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا “۔ اللہ کا اپنے بندوں کو دیکھ لیان اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ پورا حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کرلے۔ ان کے اعمال میں سے صغیرہ اور کبیرہ کوئی چیز رہ نہ جائے گئ۔ یہ اس سورة کا آخری زمزمہ ہے۔ اس کا آغاز حمد الٰہی سے ہوا تھا جو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے وہ جاعل الملئکۃ اولی اجنحلۃ (35: 1) ” جو فرشتوں کو رسول بناتا ہے جو پروں والے ہیں “۔ اور جو آسمانوں سے اس کا پیغام زمین پر لاتے ہیں جس کے اندر خوشخبری اور ڈر اوا ہے۔ خوشخبری جنت کی ہے اور ڈراوا جہنم کا ہے۔ اس آغاز اور اختتام کے درمیان اس سورة نے قارئین کو اس پوری کائنات کے مطالعہ کے لیے بیشمار سفر کرائے ۔ یہ ہے اختتام ان اسفار کا ۔ یہ ہے انجام زندگی کا اور یہ ہے انجام حضرت انسان کا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سورت کے ختم پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا، دنیا میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے کفر کی وجہ سے بربادی کے مستحق ہیں اگر اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ فرمائے تو زمین پر کسی چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑے، لیکن اس کے یہاں تاخیر ہے اور ڈھیل ہے اس نے جو اجل اور میعاد مقرر فرما رکھی ہے جب وہ آئے گی تو عذاب آجائے گا۔ اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ کتنے کافر گزر گئے اور کتنوں نے بد عملی کرلی ان سب کی فہرست کہاں ہے اور ہر ایک کا مواخذہ کیسے ہوگا، جو شخص ایسا خیال کرتا ہے یہ اس کی جہالت کی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنے ہر ہر بندہ کو دیکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے، جب مقررہ میعاد آجائے گی تو اپنے علم کے مطابق سزا دے دے گا۔ اسی کو فرمایا : (فَاِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا) (سو جب ان کی اجل آجائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ ) یہاں جو یہ اشکال ہوتا ہے کہ زمین کے باشندوں میں سب کی ہلاکت ہوگی تو اہل ایمان کو بھی شامل ہوگی، وہ ہلاکت میں کیوں شریک کیے جائیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی قانون کے مطابق ہلاک تو سبھی ہوں گے لیکن قیامت کے دن اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے، اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں جائیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو جو بھی لوگ وہاں موجود ہوں ان سب کو عذاب پہنچ جاتا ہے پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ص ١٠٥٣) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ایک لشکر کعبہ شریف پر حملہ کرنے کے لیے آئے گا جب وہ میدان میں ہوں گے تو اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اول سے آخر تک سب کو کیسے دھنسا دیا جائے گا حالانکہ ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو خریدو فروخت کے لیے نکلے ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان میں شامل نہ ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ دھنسائے تو جائیں گے سب ہی پھر اپنی اپنی نیت پر اٹھائے جائیں گے۔ (رواہ البخاری ج ١: ص ٢٨٤) کہیں لکھا تو نہیں دیکھا لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے یہ ہلاکت باعث اجر وثواب ہوگی اور محض ایمان و اعمال صالحہ پر جو اجر ملتا ہے اس مجموعی عذاب میں شامل کیے جانے کی وجہ سے مزید اجر ملے گا اور اس تکلیف کو مستقل ثواب کا سبب بنا دیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ھذا اٰخر التفسیر من سورة فاطر فی السباع من ایام ربیع الاول ١٤١٧ ھ من الھجرۃ النبویۃ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ ولو یؤاخذ الخ : اللہ تعالیٰ کے حلم کا بیان ہے کہ وہ نہ تو ہر گناہ پر گرفت کرتا ہے اور نہ گناہگار کو فورًا ہی پکڑ لیتا ہے بلکہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور قابل مؤاخذہ گناہوں کے بعد مہلت دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ بنی آدم پر ہر گناہ کی وجہ سے مؤخذاہ فرماتا تو زمین پر کوئی بھی انسان اب تک زندہ موجود نہ ہوتا بلکہ سب کسی نہ کسی گناہ کے بدلے ہلاک ہوچکے ہوتے۔ دابۃ سے خاص انسان مراد ہیں۔ قیل المراد بالدابۃ الانس وحدہم واید بقولہ تعالیٰ ولکن یوخرھم الخ (روح ج 22 ص 207) ۔ یا دابۃ سے ہر ذی روح مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ بنی آدم کے گناہوں کی شوم اور نحوست سے ہر جاندار ہلاک ہوجاتا۔ ای من حیوان یدب علی الارض لشوم المعاصی (روح) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ 46:۔ فاذا جاء الخ : اذا کی جزا محذوف ای اخذھم یعنی جب ان کے مؤاخذے کا وقت آئے گا تو وہ ان کو پکڑ لے گا۔ فان اللہ کان بعبادہ بصیر۔ یہ ماقبل کے لیے بمنزہ تعلیل ہے وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے اسے معلوم ہے کون عذاب کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ سورة فاطر میں آیات توحید 1 ۔ الحمد للہ فاطر السموات والارض۔ تا۔ فانی توفکون (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف 2 ۔ واللہ الذی ارسل الریاح۔ تا۔ فللہ العزۃ جمیعا (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف 3 ۔ واللہ خلقکم من تراب۔ تا۔ ان ذالک علی اللہ یسیر۔ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔ 4 ۔ وما یستوی البحران۔ تا۔ ذالکم اللہ ربکم لہ الملک (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 5 ۔ والذین تدعون من دونہ۔ تا۔ ولا ینبئک مثل خبیر (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی الدعاء۔ 6 ۔ یا ایہا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔ تا۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 7 ۔ وما یستوی الاعمی والبصیر۔ تا۔ وما انت بمسمع من فی القبور (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 8 ۔ الم تر ان اللہ انزل من السماء۔ تا۔ مختلف الوانہ کذالک (رکوع 4) ۔ نفی شرک فی التصرف 9 ۔ ان اللہ علم غیب السموات والارض۔ انہ علیم بذات الصدور۔ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی العلم۔ 10 ۔ قل ارءیتم شرکاء کم۔ تا۔ انہ کان حلیما غفورا۔ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی العبادۃ و نفی شرک فی التصرف۔ سورة فاطر ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کسب اور ان کے اعمال کی وجہ سے گرفت اور مواخذہ کرنے لگے تو روئے زمین پر کسی حرکت کرنے والے اور کسی متنفس کو بھی نہ چھوڑے لیکن وہ ایک وقت مقررہ تک لوگوں کو مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ وقت مقررہ اور میعاد معینہ آجائے گی تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں۔ یعنی اگر بندوں کو ان کی شامت اعمال کے سبب گرفتار کرنا شروع کر دے تو ایک بھی متنفس باقی نہ رہے اور روئے زمین پر کوئی چلنے والا نہ دکھائی دے اور جب انسان ہی نہ رہیں تو حیوانات جو انتفاع خلق کے لئے ہیں وہ بھی بیکار ہوجائیں۔ لیکن یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے اور توبہ کر کے باز آجانے کا موقع دیا ہے جب وہ وقت آجائے گا۔ خواہ کسی خاص قوم کے ختم کرنے کا وقت ہو یا قیامت کا وقت ہو تو اس وقت گرفت کی جائے گی کیونکہ وہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے اور سب اچھے برے اس کی نگاہ میں ہیں۔ اس وقت ہر شخص کے ساتھ سزا اور جزا کا معاملہ کیا جائے گا۔ الحمدللہ والمنتہ کہ سورة فاطر کی تیسیر ختم ہوئی وللہ الحمد علی ذلک