Commentary The expression: ضرب مثل (cite an example) in verse 13: وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ (And cite to them the example of the People of the Town) is generally used to prove something by giving the example of a similar thing. The following event has been narrated by the Holy Qur&an to alert people against disbelievers who rejected the very notion of there being a prophet or messenger. The town in which this event took place The Qur&an does not tell us the name of this town. In historical narrations, Muhammad Ibn Ishaq has reported from Sayyidna Ibn ` Abbas, Ka&b Ahbar and Wahb Ibn Munabbih (رض) that it was the town of Antakiyah (Antioch) and majority of commentators have opted for it. Abu Hayyan and Ibn Kathir have said that no statement counter to it has been reported from any of the commentators. According to details given in Mu` jim-ul-Buldan, Antakiyah is a wellknown town of Syria, famous, for its verdant growth and stability. Its fort and its protective wall around the town are considered ideal. The town has many churches with inlay work in gold and silver. This is a coastal town. During the Islamic period, it was conquered by the famous Sahabi Sayyidna Abu ` Ubaidah Ibn Jarrah (رض) . Yaqut al-Hamawi, the author of Mu` jim-ul-Buldan has also written that the grave of Habib Najjar (whose story appears a little later in this verse) is a known site in Antakiyah. People from far and near come to visit it. From this clear statement from him also, it seems likely that the town mentioned in this verse is this very town of Antakiyah. Ibn Kathir has written that Antakiyah is one of the four major towns which have been deemed to be the centers of the Christian faith, that is, al-Quds, (Jerusalem), Rumiyyah (Rome), Iskandariyyah (Alexandria) and Antakiyah (Antioch). And he also said that Antakiyah is the first city that embraced the faith brought by Sayyidna ` Isa al-Masih (علیہ السلام) . It is on this very ground that Ibn Kathir is reluctant in accepting that the town mentioned in this verse could be the famous town of Antakiyah - because, according to the explicit statement of the Qur&an, this was a town of disbelievers who refused to accept any prophet or messenger. And according to historical accounts, they were idolaters and polytheists. If so, how can Antakiyah, that was foremost in welcoming and embracing the faith of Sayyidna ` Isa al-Masih (علیہ السلام) ، be the town referred to here? In addition to that, it is also proved from the cited verses of the Qur&an that this whole town was hit by a punishment that left no one alive. No such event about the town of Antakiyah - that all its inhabitants had simultaneously died at some time - has been reported in history. Therefore, according to Ibn Kathir, either the town mentioned in this verse is some town other than Antakiyah, or that it is some other town bearing the same name of Antakiyah which is not the famous town of Antakiyah. Though, the author of Fath-ul-Mannan has also given answers to the doubts expressed by Ibn Kathir, however, the easiest way out has been offered by Maulana Ashraf Thanavi (رح) in Tafsir Bayan-ul-Qur&an. To understand the subject of these verses of the Qur&an, he says, it is not necessary to determine the location of this town, and since the noble Qur&an has kept it ambiguous, there is just no need to exert so much effort to determine it. The famous saying of the early forbears of Islam that: اَبھِمُوا مَا اَبھَمَہُ اللہُ (Leave ambiguous that which Allah has left ambiguous) also requires nothing but this.
خلاصہ تفسیر اور آپ ان (کفار) کے سامنے (اس غرض سے کہ رسالت کی تائید اور ان کو انکار توحید و رسالت پر تہدید ہو) ایک قصہ یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے یعنی جبکہ ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے اول دونوں کو جھوٹا بتلایا پھر تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی (یعنی تائید کے لئے پھر تیسرے کو وہاں جانے کا حکم دیا) سو ان تینوں نے (ان بستی والوں سے) کہا کہ ہم تمہارے پاس (خدا کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں (تا کہ تم کو ہدایت کریں کہ توحید اختیار کرو بت پرستی چھوڑو کیونکہ وہ لوگ بت پرست تھے، کما یدل علیہ قولہ تعالیٰ (آیت) ومالی لا اعبد الذی فطرنی وقولہ اتخذ من دونہ الہة الخ) ان لوگوں نے (یعنی بستی والوں نے) کہا کہ تم تو ہماری طرح (محض) معمولی آدمی ہو (تم کو رسول ہونے کا امتیاز حاصل نہیں) اور (تمہاری کیا تخصیص ہے، مسئلہ رسالت ہی خود بےاصل ہے اور) خدائے رحمٰن نے (تو) کوئی چیز (کتاب و احکام کی قسم سے کبھی) نازل (ہی) نہیں کی، تم نرا جھوٹ بولتے ہو ان رسولوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار علیم ہے کہ بیشک ہم تمہارے پاس (بطور رسول کے) بھیجے گئے ہیں اور (اس قسم سے یہ مقصود نہیں کہ اسی سے اثبات رسالت کرتے ہیں بلکہ بعد اقامت دلائل کے بھی جب انہوں نے نہ مانا تب آخری جواب کے طور پر مجبور ہو کر قسم کھائی جیسا آگے خود ان کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے) کہ ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر (حکم کا) پہنچا دینا تھا (چونکہ واضح ہونا اس پر موقوف ہے کہ دلائل واضحہ سے دعوے کو ثابت کردیا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ اول دلائل قائم کرچکے تھے، آخر میں قسم کھائی۔ غرض یہ کہ ہم اپنا کام کرچکے تم نہ مانو تو ہم مجبور ہیں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں (یا تو اس لئے کہا کہ ان پر قحط پڑا تھا (کما فی العالم) اور یا اس لئے کہا کہ جب کوئی نئی بات سنی جاتی ہے، گو لوگ اس کو قبول نہ کریں مگر اس کا چرچا ضرور ہوتا ہے، اور اکثر عام لوگوں میں اس کی وجہ سے گفتگو اور اس گفتگو میں اختلاف اور کبھی نزاع ونااتفاقی کی نوبت پہنچ ہی جاتی ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگوں میں ایک فتنہ جھگڑا ڈال دیا جس سے مضرتیں پہنچ رہی ہیں، یہ نحوست ہے۔ اور اس نحوست کے سبب تم ہو) اور اگر تم (اس دعوت اور دعوے) سے باز نہ آئے تو (یاد رکھو) ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کر دینگے اور (سنگساری سے پہلے بھی) تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی (یعنی اور طرح طرح سے ستاویں گے) نہیں مانو گے تو اخیر میں سنگسار کردیں گے) ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے (یعنی جس کو تم مضرت و مصیبت کہتے ہو اس کا سبب تو حق کا قبول نہ کرنا ہے، اگر حق قبول کرنے پر متفق ہوجاتے نہ یہ جھگڑے اور فتنے ہوتے، نہ قح کے عذاب میں مبتلا ہوتے۔ رہا پہلا اتفاق بت پرستی پر تو ایسا اتفاق جو باطل پر ہو خود فساد و وبال ہے جس کو چھوڑنا لازم ہے اور اس زمانے میں قحط نہ ہونا وہ بطور استدراج کے اللہ کی طرف سے ڈھیل دی ہوئی تھی یا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت تک ان لوگوں پر حق واضح نہیں ہوا تھا۔ اور اللہ کا قانون ہے کہ حق کو واضح کرنے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ (آیت) حتی یبین لہم ما یتقون، اور یہ ڈھیل یا حق کا نہ ہونا بھی تمہاری ہی غفلت، جہالت اور شامت اعمال تھی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں اس نحوست کا سبب خود تمہارا فعل تھا) کیا تم اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاوے (جو بنیاد سعادت ہے یہ تو واقع میں نحوست نہیں) بلکہ تم (خود) حد (عقل و شرع) سے نکل جانے والے لوگ ہو (پس مخالفت شرع سے تم پر یہ نحوست آئی اور مخالفت عقل سے تم نے اس کا سبب غلط سمجھا) اور (اس گفتگو کی خبر جو شائع ہوئی تو) ایک شخص (جو مسلمان تھا) اس شہر کے کسی دور مقام سے (جو یہاں سے دور تھا یہ خبر سن کر اپنی قوم کی خیر خواہی کے لئے کہ ان رسولوں کا وجود قوم کی فلاح تھا، یا رسولوں کی خیر خواہی کے لئے کہ کہیں یہ لوگ ان کو قتل نہ کردیں) دوڑتا ہوا (یہاں) آیا (اور ان لوگوں سے) کہنے لگا کہ اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو (ضرور) ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، اور وہ خود راہ راست پر بھی ہیں (یعنی خود غرضی جو مانع اتباع ہے وہ بھی نہیں اور راہ راست پر ہونا جو مقتضی اتباع ہے وہ موجود ہے پھر اتباع کیوں نہ کیا جاوے) اور میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھ کو پیدا کیا (جو کہ منجملہ دلائل استحقاق عبادت کے ہے) اور (اپنے اوپر رکھ کر اس لئے کہا کہ مخاطب کو اشتعال نہ ہو جو کہ مانع تدبر ہوجاتا ہے اور اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے میں کون سا عذر ہے) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے (اس لئے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے رسولوں کا اتباع کرو۔ یہاں تک تو معبود حق کے استحقاق عبادت کا بیان کیا، آگے معبودات باطلہ کے عدم استحقاق عبادت کا مضمون ہے یعنی) کیا میں خدا کو چھوڑ کر اور ایسے ایسے معبود قرار دے لوں (جن کی کیفیت بےبسی کی یہ ہے) کہ اگر خدائے رحمن مجھ کو تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان معبودوں کی سفارش میرے کام آوے گی اور نہ وہ مجھ کو (خود اپنی قدرو زور کے ذریعہ اس تکلیف سے) چھڑا سکیں (یعنی نہ وہ خود قادر ہیں نہ قادر تک واسطہ سفارش بن سکتے ہیں، کیونکہ اول تو جمادات میں شفاعت کی اہلییت ہی نہیں، دوسرے شفاعت وہی کرسکتے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو اور) اگر میں ایسا کروں تو صریح گمراہی میں جا پڑا (یہ بھی اپنے اوپر رکھ کر ان لوگوں کو سنانا ہے) میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا سو تم (بھی) میری بات سن لو (اور ایمان لے آؤ، مگر ان لوگوں پر کچھ اثر نہ ہوا بلکہ اس کو پتھروں سے یا آگ میں ڈال کر یا گلا گھونٹ کر (کما فی الدر المنشور) شہید کر ڈالا، شہید ہوتے ہی اس کو خدا کی طرف سے) ارشاد ہوا کہ جا جنت میں داخل ہوجا (اس وقت بھی اس کو اپنی قوم کی فکر ہوئی) کہنے لگا کہ کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ میرے پروردگار نے (ایمان اور اتباع رسل کی برکت سے) مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو عزت داروں میں شامل کردیا (تو اس حال کو معلوم کر کے وہ بھی ایمان لے آتے اور اسی طرح وہ بھی مغفور اور مکرم ہوجاتے) اور (جب ان بستی والوں نے رسل اور متبع رسل کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور انتقام لینے کے لئے) ہم نے اس (شخص شہید) کی قوم پر اس (کی شہادت) کے بعد کوئی لشکر (فرشتوں کا) آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت تھی، (کیونکہ ان کا ہلاک کرنا اس پر موقوف نہ تھا کہ اس کے لئے کوئی بڑی جمعیت لائی جاتی (کذا فسرہ، ابن مسعود فیما نقل ابن کثیر عن ابن اسحاق حیث قال ما کا ثرنا ہم بالجموع فان الامر کان ایسر علینا من ذلک بلکہ) وہ سزا ایک آواز سخت تھی (جو جبرئیل (علیہ السلام) نے کردی، کذا فی المعالم یا اور کسی فرشتہ نے کردی ہو۔ یا صیحہ سے مطلق عذاب مراد ہو جس کی تعیین نہیں کی گئی، جیسا کہ سورة مومنون کی آیت فاخذثہم الصیحة کی تفسیر میں گزر چکا ہے) اور وہ سب اسی دم (اس سے) بجھ کر (یعنی مر کر) رہ گئے (آگے قصہ کا انجام بتلانے کے لئے مکذبین کی مذمت فرماتے ہیں کہ) افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں (اسی تکذیب و استہزاء کے سبب) غارت کرچکے کہ وہ (پھر) ان کی طرف (دنیا میں) لوٹ کر نہیں آتے، (اگر اس میں غور کرتے تو تکذیب و استہزا سے باز آجاتے اور یہ سزا تو مکذبین کو دنیا میں دی گئی) اور (پھر آخرت میں) ان سب میں کوئی ایسا نہیں جو مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر نہ کیا جاوے (وہاں پھر سزا ہوگی اور وہ سزا دائمی ہوگی) ۔ معارف ومسائل (آیت) واضرب لہم مثلاً اصحب القریة، ضرب مثل کسی معاملے کو ثابت کرنے کے لئے اسی جیسے واقعہ کی مثال بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ اوپر جن منکرین نبوت و رسالت کفار کا ذکر آیا ہے، اس کو متنبہ کرنے کے لئے قرآن کریم بطور مثال کے پہلے زمانے کا ایک قصہ بیان کرتا ہے جو ایک بستی میں پیش آیا تھا۔ وہ کونسی بستی ہے جس کا ذکر اس قصہ میں آیا ہے ؟ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں بتلایا، تاریخی روایات میں محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباس اور کعب احبار، وہب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بستی انطاکیہ تھی۔ اور جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابوحیان اور ابن کثیر نے فرمایا کہ مفسرین میں اس کے خلاف کوئی قول منقول نہیں۔ معجم البلدان کی تصریح کے مطابق انطاکیہ ملک شام کا مشہور عظیم الشان شہر ہے، جو اپنی شادابی اور استحکام میں معروف ہے، اس کا قلعہ اور شہر پناہ کی دیوار ایک مثالی چیز سمجھی جاتی ہے۔ اس شہر میں نصاری کے عبادت خانے کینسا بیشمار اور بڑے شاندار سونے چاندی کے کام سے مزین ہیں، ساحلی شہر ہے، زمانہ اسلام میں اس کو فاتح شام حضرت امین الامة ابو عبیدہ بن جراح نے فتح کیا ہے۔ معجم البلدان میں یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب بخار (جس کا قصہ اس آیت میں آگے آ رہا ہے) اس کی قبر بھی انطاکیہ میں معروف ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ ان کی تصریح سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ یہی شہر انطاکیہ ہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ انتظاکیہ ان چار مشہور شہروں میں سے ہے جو دین عیسوی اور نصرانیت کے مرکز سمجھے گئے ہیں، یعنی قدس، رومیہ، اسکندریہ اور انطاکیہ۔ اور فرمایا کہ انطاکیہ سب سے پہلا شہر ہے، جس نے دین مسیح (علیہ السلام) کو قبول کیا۔ اسی بنا پر ابن کثیر کو اس میں تردد ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں ہے وہ مشہور شہر انطاکیہ ہو، کیونکہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق یہ قریہ منکرین رسالت و نبوت کی بستی تھی، اور تاریخی روایات کے مطابق وہ بت پرست مشرکین تھے تو انطاکیہ جو دین مسیح اور نصرانیت کے قبول کرنے میں سب سے اولیت رکھتا ہے، وہ کیسے اس کا مصداق ہوسکتا ہے۔ نیز قرآن کریم کی مذکورہ آیات ہی سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس واقعہ میں اس پوری بستی پر ایسا عذاب آیا کہ ان میں کوئی زندہ نہیں بچا۔ شہر انطاکیہ کے متعلق تاریخ میں اس کا ایسا کوئی واقعہ منقول نہیں کہ کسی وقت اس کے سارے باشندے بیک وقت مر گئے ہوں۔ اس لئے ابن کثیر کی رائے میں یا تو اس آیت میں جس قریہ کا ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے یا پھر انطاکیہ نام ہی کی کوئی دوسری بستی ہے جو مشہور شہر انطاکیہ نہیں ہے۔ صاحب فتح المنان نے ابن کثیر کے ان اشکالات کے جوابات بھی دیئے ہیں، مگر سہل اور بےغبار بات وہی ہے جس کو سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے۔ کہ آیات قرآن کا مضمون سمجھنے کے لئے اس بستی کی تعیین ضروری نہیں، اور قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھا ہے، تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کی تعیین پر اتنا زور خرچ کیا جائے۔ سلف صالحین کا یہ ارشاد کہ ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے تم بھی اسے مبہم ہی رہنے دو ، اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔