Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 13

سورة يس

وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا اَصۡحٰبَ الۡقَرۡیَۃِ ۘ اِذۡ جَآءَہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾

And present to them an example: the people of the city, when the messengers came to it -

اور آپ ان کے سامنے ایک مثال ( یعنی ایک ) بستی والوں کی مثال ( اس وقت کا ) بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں ( کئی ) رسول آئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of the Dwellers of the Town and Their Messengers, a Lesson that Those Who belied Their Messengers were destroyed Allah says, وَاضْرِبْ لَهُم ... And put forward to them, Allah says, `O Muhammad, tell your people who disbelieve in you,' ... مَّثَلً أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءهَا الْمُرْسَلُونَ a similitude; the Dwellers of the Town, when there came Messengers to them. In the reports that he transmitted from Ibn Abbas, Ka`b Al-Ahbar and Wahb bin Munabbih - Ibn Ishaq reported that it was the city of Antioch, in which there was a king called Antiochus the son of Antiochus the son of Antiochus, who used to worship idols. Allah sent to him three Messengers, whose names were Sadiq, Saduq and Shalum, and he disbelieved in them. It was also narrated from Buraydah bin Al-Husayb, Ikrimah, Qatadah and Az-Zuhri that it was Antioch. Some of the Imams were not sure that it was Antioch, as we shall see below after telling the rest of the story, if Allah wills.

ایک قصہ پارینہ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ اپنی قوم کے ساتھ ان سابقہ لوگوں کا قصہ بیان فرمایئے جنہوں نے ان سے پہلے اپنے رسولوں کو ان کی طرح جھٹلایا تھا ۔ یہ واقعہ شہر انطاکیہ کا ہے ۔ وہاں کے بادشاہ کا نام انطیخش تھا اس کے باپ اور دادا کا نام بھی یہی تھا یہ سب راجہ پرجابت پرست تھے ۔ ان کے پاس اللہ کے تین رسول آئے ۔ صادق ، صدوق اور شلوم ۔ اللہ کے درود و سلام ان پر نازل ہوں ۔ لیکن ان بدنصیبوں نے سب کو جھٹلایا ۔ عنقریب یہ بیان بھی آ رہا ہے کہ بعض بزرگوں نے اسے نہیں مانا کہ یہ واقعہ انطاکیہ کا ہو ، پہلے تو اس کے پاس دو رسول آئے انہوں نے انہیں نہیں مانا ان دو کی تائید میں پھر تیسرے نبی آئے ، پہلے دو رسولوں کا نام شمعون اور یوحنا تھا اور تیسرے رسول کا نام بولص تھا ۔ ان سب نے کہا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔ جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اس نے ہماری معرفت تمہیں حکم بھیجا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو ۔ حضرت قتادہ بن و عامہ کا خیال ہے کہ یہ تینوں بزرگ جناب مسیح علیہ السلام کے بھیجے ہوئے تھے ، بستی کے ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو پھر کیا وجہ؟ کہ تمہاری طرف اللہ کی وحی آئے اور ہماری طرف نہ آئے؟ ہاں اگر تم رسول ہوتے تو چاہئے تھا کہ تم فرشتے ہوتے ۔ اکثر کفار نے یہی شبہ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کے سامنے پیش کیا تھا ۔ جیسے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ( ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا ۡ فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ Č۝ ) 64- التغابن:6 ) یعنی لوگوں کے پاس رسول آئے اور انہوں نے جواب دیا کہ کیا انسان ہمارے ہادی بن کر آ گئے؟ اور آیت میں ہے الخ ، یعنی تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو تم صرف یہ چاہتے ہو کہ ہمیں اپنے باپ دادوں کے معبودوں سے روک دو ۔ جاؤ کوئی کھلا غلبہ لے کر آؤ ۔ اور جگہ قرآن پاک میں ہے یعنی کافروں نے کہا کہ اگر تم نے اپنے جیسے انسانوں کی تابعداری کی تو یقیناً تم بڑے ہی گھاٹے میں پڑ گئے ۔ اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ آیت ( وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا 94؀ ) 17- الإسراء:94 ) میں اس کا بیان ہے ۔ یہی ان لوگوں نے بھی ان تینوں نبیوں سے کہا کہ تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو اور حقیقت میں اللہ نے تو کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تم یونہی غلط ملط کہہ رہے ہو ، پیغمبروں نے جواب دیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ ہم اس کے سچے رسول ہیں ۔ اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ پر جھوٹ باندھنے کی سزا ہمیں اللہ تعالیٰ دے دیتا لیکن تم دیکھو گے کہ وہ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں عزت عطا فرمائے گا ۔ اس وقت تمہیں خود روشن ہو جائے گا کہ کون شخص بہ اعتبار انجام کے اچھا رہا ؟ جیسے اور جگہ ارشاد ہے ( قُلْ كَفٰي بِاللّٰهِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَهِيْدًا ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 52؀ ) 29- العنكبوت:52 ) ، میرے تمہارے درمیان اللہ کی شہادت کافی ہے ۔ وہ تو آسمان و زمین کے غیب جانتا ہے ۔ باطل پر ایمان رکھنے والے اور اللہ سے کفر کرنے والے ہی نقصان یافتہ ہیں ، سنو ہمارے ذمے تو صرف تبلیغ ہے مانو گے تمہارا بھلا ہے نہ مانو گے تو پچھتاؤ گے ہمارا کچھ نہیں بگاڑو گے کل اپنے کئے کا خمیازہ بھگتو گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 تاکہ اہل مکہ یہ سمجھ لیں کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں، بلکہ رسالت و نبوت کا یہ سلسلہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ١٥] اصحاب القریہ اور مرد حق گو :۔ یہ بستی کون سی تھی ؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد روم میں واقع انطاکیہ شہر ہے۔ پھر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ یہ رسول بلاواسطہ رسول تھے یا بالواسطہ رسول یا مبلغ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مبلغ سیدنا عیسیٰ نے ہی بھیجے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ سیدنا عیسیٰ کے حواریوں میں سے تھے۔ قرآن کے بیان سے سرسری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلاواسطہ اللہ کے رسول تھے۔ اور اگر یہی بات ہو تو ان کا زمانہ سیدنا عیسیٰ سے پہلے کا زمانہ ہونا چاہئے کیونکہ سیدنا عیسیٰ کے بعد رسول اللہ کی بعثت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوا۔ اور بستی کے نام کی تعیین یارسول کے بلاواسطہ یا بالواسطہ ہونے کی تعیین کوئی مقصود بالذات چیز بھی نہیں کہ اس کی تحقیق ضروری ہو۔ مقصود بالذات چیز تو کفار مکہ کو سمجھانا ہے کیونکہ کفار مکہ اور ان بستی والوں کے حالات میں بہت سی باتوں میں مماثلت پائی جاتی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ : یعنی جن لوگوں کو ڈرانے کے لیے آپ کو یہ قرآن حکیم دے کر مبعوث کیا گیا ہے اور جن کے اکثر لوگ کفر پر اصرار کی وجہ سے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں، انھیں اس بستی کے لوگوں کا حال بطور مثال سنائیں، جن کی طرف ہمارے بھیجے ہوئے رسول آئے۔ انھوں نے بھی اپنے رسولوں کو انھی کی طرح جھٹلایا تھا، سو ان کا انجام یہ لو گ بھی پیش نظر رکھیں۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی بھی ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں جسے اس کی قوم نے جھٹلایا ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The expression: ضرب مثل (cite an example) in verse 13: وَاضْرِ‌بْ لَهُم مَّثَلًا أَصْحَابَ الْقَرْ‌يَةِ (And cite to them the example of the People of the Town) is generally used to prove something by giving the example of a similar thing. The following event has been narrated by the Holy Qur&an to alert people against disbelievers who rejected the very notion of there being a prophet or messenger. The town in which this event took place The Qur&an does not tell us the name of this town. In historical narrations, Muhammad Ibn Ishaq has reported from Sayyidna Ibn ` Abbas, Ka&b Ahbar and Wahb Ibn Munabbih (رض) that it was the town of Antakiyah (Antioch) and majority of commentators have opted for it. Abu Hayyan and Ibn Kathir have said that no statement counter to it has been reported from any of the commentators. According to details given in Mu` jim-ul-Buldan, Antakiyah is a wellknown town of Syria, famous, for its verdant growth and stability. Its fort and its protective wall around the town are considered ideal. The town has many churches with inlay work in gold and silver. This is a coastal town. During the Islamic period, it was conquered by the famous Sahabi Sayyidna Abu ` Ubaidah Ibn Jarrah (رض) . Yaqut al-Hamawi, the author of Mu` jim-ul-Buldan has also written that the grave of Habib Najjar (whose story appears a little later in this verse) is a known site in Antakiyah. People from far and near come to visit it. From this clear statement from him also, it seems likely that the town mentioned in this verse is this very town of Antakiyah. Ibn Kathir has written that Antakiyah is one of the four major towns which have been deemed to be the centers of the Christian faith, that is, al-Quds, (Jerusalem), Rumiyyah (Rome), Iskandariyyah (Alexandria) and Antakiyah (Antioch). And he also said that Antakiyah is the first city that embraced the faith brought by Sayyidna ` Isa al-Masih (علیہ السلام) . It is on this very ground that Ibn Kathir is reluctant in accepting that the town mentioned in this verse could be the famous town of Antakiyah - because, according to the explicit statement of the Qur&an, this was a town of disbelievers who refused to accept any prophet or messenger. And according to historical accounts, they were idolaters and polytheists. If so, how can Antakiyah, that was foremost in welcoming and embracing the faith of Sayyidna ` Isa al-Masih (علیہ السلام) ، be the town referred to here? In addition to that, it is also proved from the cited verses of the Qur&an that this whole town was hit by a punishment that left no one alive. No such event about the town of Antakiyah - that all its inhabitants had simultaneously died at some time - has been reported in history. Therefore, according to Ibn Kathir, either the town mentioned in this verse is some town other than Antakiyah, or that it is some other town bearing the same name of Antakiyah which is not the famous town of Antakiyah. Though, the author of Fath-ul-Mannan has also given answers to the doubts expressed by Ibn Kathir, however, the easiest way out has been offered by Maulana Ashraf Thanavi (رح) in Tafsir Bayan-ul-Qur&an. To understand the subject of these verses of the Qur&an, he says, it is not necessary to determine the location of this town, and since the noble Qur&an has kept it ambiguous, there is just no need to exert so much effort to determine it. The famous saying of the early forbears of Islam that: اَبھِمُوا مَا اَبھَمَہُ اللہُ (Leave ambiguous that which Allah has left ambiguous) also requires nothing but this.

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (کفار) کے سامنے (اس غرض سے کہ رسالت کی تائید اور ان کو انکار توحید و رسالت پر تہدید ہو) ایک قصہ یعنی ایک بستی والوں کا قصہ اس وقت کا بیان کیجئے جبکہ اس بستی میں کئی رسول آئے یعنی جبکہ ہم نے ان کے پاس (اول) دو کو بھیجا سو ان لوگوں نے اول دونوں کو جھوٹا بتلایا پھر تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی (یعنی تائید کے لئے پھر تیسرے کو وہاں جانے کا حکم دیا) سو ان تینوں نے (ان بستی والوں سے) کہا کہ ہم تمہارے پاس (خدا کی طرف سے) بھیجے گئے ہیں (تا کہ تم کو ہدایت کریں کہ توحید اختیار کرو بت پرستی چھوڑو کیونکہ وہ لوگ بت پرست تھے، کما یدل علیہ قولہ تعالیٰ (آیت) ومالی لا اعبد الذی فطرنی وقولہ اتخذ من دونہ الہة الخ) ان لوگوں نے (یعنی بستی والوں نے) کہا کہ تم تو ہماری طرح (محض) معمولی آدمی ہو (تم کو رسول ہونے کا امتیاز حاصل نہیں) اور (تمہاری کیا تخصیص ہے، مسئلہ رسالت ہی خود بےاصل ہے اور) خدائے رحمٰن نے (تو) کوئی چیز (کتاب و احکام کی قسم سے کبھی) نازل (ہی) نہیں کی، تم نرا جھوٹ بولتے ہو ان رسولوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار علیم ہے کہ بیشک ہم تمہارے پاس (بطور رسول کے) بھیجے گئے ہیں اور (اس قسم سے یہ مقصود نہیں کہ اسی سے اثبات رسالت کرتے ہیں بلکہ بعد اقامت دلائل کے بھی جب انہوں نے نہ مانا تب آخری جواب کے طور پر مجبور ہو کر قسم کھائی جیسا آگے خود ان کے ارشاد سے معلوم ہوتا ہے) کہ ہمارے ذمہ تو صرف واضح طور پر (حکم کا) پہنچا دینا تھا (چونکہ واضح ہونا اس پر موقوف ہے کہ دلائل واضحہ سے دعوے کو ثابت کردیا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ اول دلائل قائم کرچکے تھے، آخر میں قسم کھائی۔ غرض یہ کہ ہم اپنا کام کرچکے تم نہ مانو تو ہم مجبور ہیں) وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں (یا تو اس لئے کہا کہ ان پر قحط پڑا تھا (کما فی العالم) اور یا اس لئے کہا کہ جب کوئی نئی بات سنی جاتی ہے، گو لوگ اس کو قبول نہ کریں مگر اس کا چرچا ضرور ہوتا ہے، اور اکثر عام لوگوں میں اس کی وجہ سے گفتگو اور اس گفتگو میں اختلاف اور کبھی نزاع ونااتفاقی کی نوبت پہنچ ہی جاتی ہے۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگوں میں ایک فتنہ جھگڑا ڈال دیا جس سے مضرتیں پہنچ رہی ہیں، یہ نحوست ہے۔ اور اس نحوست کے سبب تم ہو) اور اگر تم (اس دعوت اور دعوے) سے باز نہ آئے تو (یاد رکھو) ہم پتھروں سے تمہارا کام تمام کر دینگے اور (سنگساری سے پہلے بھی) تم کو ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی (یعنی اور طرح طرح سے ستاویں گے) نہیں مانو گے تو اخیر میں سنگسار کردیں گے) ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے (یعنی جس کو تم مضرت و مصیبت کہتے ہو اس کا سبب تو حق کا قبول نہ کرنا ہے، اگر حق قبول کرنے پر متفق ہوجاتے نہ یہ جھگڑے اور فتنے ہوتے، نہ قح کے عذاب میں مبتلا ہوتے۔ رہا پہلا اتفاق بت پرستی پر تو ایسا اتفاق جو باطل پر ہو خود فساد و وبال ہے جس کو چھوڑنا لازم ہے اور اس زمانے میں قحط نہ ہونا وہ بطور استدراج کے اللہ کی طرف سے ڈھیل دی ہوئی تھی یا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت تک ان لوگوں پر حق واضح نہیں ہوا تھا۔ اور اللہ کا قانون ہے کہ حق کو واضح کرنے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے، جیسا کہ ارشاد ہے کہ (آیت) حتی یبین لہم ما یتقون، اور یہ ڈھیل یا حق کا نہ ہونا بھی تمہاری ہی غفلت، جہالت اور شامت اعمال تھی، اس سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں اس نحوست کا سبب خود تمہارا فعل تھا) کیا تم اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جاوے (جو بنیاد سعادت ہے یہ تو واقع میں نحوست نہیں) بلکہ تم (خود) حد (عقل و شرع) سے نکل جانے والے لوگ ہو (پس مخالفت شرع سے تم پر یہ نحوست آئی اور مخالفت عقل سے تم نے اس کا سبب غلط سمجھا) اور (اس گفتگو کی خبر جو شائع ہوئی تو) ایک شخص (جو مسلمان تھا) اس شہر کے کسی دور مقام سے (جو یہاں سے دور تھا یہ خبر سن کر اپنی قوم کی خیر خواہی کے لئے کہ ان رسولوں کا وجود قوم کی فلاح تھا، یا رسولوں کی خیر خواہی کے لئے کہ کہیں یہ لوگ ان کو قتل نہ کردیں) دوڑتا ہوا (یہاں) آیا (اور ان لوگوں سے) کہنے لگا کہ اے میری قوم ان رسولوں کی راہ پر چلو (ضرور) ایسے لوگوں کی راہ پر چلو جو تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، اور وہ خود راہ راست پر بھی ہیں (یعنی خود غرضی جو مانع اتباع ہے وہ بھی نہیں اور راہ راست پر ہونا جو مقتضی اتباع ہے وہ موجود ہے پھر اتباع کیوں نہ کیا جاوے) اور میرے پاس کون سا عذر ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت نہ کروں جس نے مجھ کو پیدا کیا (جو کہ منجملہ دلائل استحقاق عبادت کے ہے) اور (اپنے اوپر رکھ کر اس لئے کہا کہ مخاطب کو اشتعال نہ ہو جو کہ مانع تدبر ہوجاتا ہے اور اصل مطلب یہی ہے کہ تم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے میں کون سا عذر ہے) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے (اس لئے دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے رسولوں کا اتباع کرو۔ یہاں تک تو معبود حق کے استحقاق عبادت کا بیان کیا، آگے معبودات باطلہ کے عدم استحقاق عبادت کا مضمون ہے یعنی) کیا میں خدا کو چھوڑ کر اور ایسے ایسے معبود قرار دے لوں (جن کی کیفیت بےبسی کی یہ ہے) کہ اگر خدائے رحمن مجھ کو تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان معبودوں کی سفارش میرے کام آوے گی اور نہ وہ مجھ کو (خود اپنی قدرو زور کے ذریعہ اس تکلیف سے) چھڑا سکیں (یعنی نہ وہ خود قادر ہیں نہ قادر تک واسطہ سفارش بن سکتے ہیں، کیونکہ اول تو جمادات میں شفاعت کی اہلییت ہی نہیں، دوسرے شفاعت وہی کرسکتے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو اور) اگر میں ایسا کروں تو صریح گمراہی میں جا پڑا (یہ بھی اپنے اوپر رکھ کر ان لوگوں کو سنانا ہے) میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا سو تم (بھی) میری بات سن لو (اور ایمان لے آؤ، مگر ان لوگوں پر کچھ اثر نہ ہوا بلکہ اس کو پتھروں سے یا آگ میں ڈال کر یا گلا گھونٹ کر (کما فی الدر المنشور) شہید کر ڈالا، شہید ہوتے ہی اس کو خدا کی طرف سے) ارشاد ہوا کہ جا جنت میں داخل ہوجا (اس وقت بھی اس کو اپنی قوم کی فکر ہوئی) کہنے لگا کہ کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ میرے پروردگار نے (ایمان اور اتباع رسل کی برکت سے) مجھ کو بخش دیا اور مجھ کو عزت داروں میں شامل کردیا (تو اس حال کو معلوم کر کے وہ بھی ایمان لے آتے اور اسی طرح وہ بھی مغفور اور مکرم ہوجاتے) اور (جب ان بستی والوں نے رسل اور متبع رسل کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور انتقام لینے کے لئے) ہم نے اس (شخص شہید) کی قوم پر اس (کی شہادت) کے بعد کوئی لشکر (فرشتوں کا) آسمان سے نہیں اتارا اور نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت تھی، (کیونکہ ان کا ہلاک کرنا اس پر موقوف نہ تھا کہ اس کے لئے کوئی بڑی جمعیت لائی جاتی (کذا فسرہ، ابن مسعود فیما نقل ابن کثیر عن ابن اسحاق حیث قال ما کا ثرنا ہم بالجموع فان الامر کان ایسر علینا من ذلک بلکہ) وہ سزا ایک آواز سخت تھی (جو جبرئیل (علیہ السلام) نے کردی، کذا فی المعالم یا اور کسی فرشتہ نے کردی ہو۔ یا صیحہ سے مطلق عذاب مراد ہو جس کی تعیین نہیں کی گئی، جیسا کہ سورة مومنون کی آیت فاخذثہم الصیحة کی تفسیر میں گزر چکا ہے) اور وہ سب اسی دم (اس سے) بجھ کر (یعنی مر کر) رہ گئے (آگے قصہ کا انجام بتلانے کے لئے مکذبین کی مذمت فرماتے ہیں کہ) افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر کہ کبھی ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جس کی انہوں نے ہنسی نہ اڑائی ہو کیا ان لوگوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی امتیں (اسی تکذیب و استہزاء کے سبب) غارت کرچکے کہ وہ (پھر) ان کی طرف (دنیا میں) لوٹ کر نہیں آتے، (اگر اس میں غور کرتے تو تکذیب و استہزا سے باز آجاتے اور یہ سزا تو مکذبین کو دنیا میں دی گئی) اور (پھر آخرت میں) ان سب میں کوئی ایسا نہیں جو مجتمع طور پر ہمارے رو برو حاضر نہ کیا جاوے (وہاں پھر سزا ہوگی اور وہ سزا دائمی ہوگی) ۔ معارف ومسائل (آیت) واضرب لہم مثلاً اصحب القریة، ضرب مثل کسی معاملے کو ثابت کرنے کے لئے اسی جیسے واقعہ کی مثال بیان کرنے کو کہتے ہیں۔ اوپر جن منکرین نبوت و رسالت کفار کا ذکر آیا ہے، اس کو متنبہ کرنے کے لئے قرآن کریم بطور مثال کے پہلے زمانے کا ایک قصہ بیان کرتا ہے جو ایک بستی میں پیش آیا تھا۔ وہ کونسی بستی ہے جس کا ذکر اس قصہ میں آیا ہے ؟ قرآن کریم نے اس بستی کا نام نہیں بتلایا، تاریخی روایات میں محمد بن اسحاق نے حضرت ابن عباس اور کعب احبار، وہب بن منبہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بستی انطاکیہ تھی۔ اور جمہور مفسرین نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابوحیان اور ابن کثیر نے فرمایا کہ مفسرین میں اس کے خلاف کوئی قول منقول نہیں۔ معجم البلدان کی تصریح کے مطابق انطاکیہ ملک شام کا مشہور عظیم الشان شہر ہے، جو اپنی شادابی اور استحکام میں معروف ہے، اس کا قلعہ اور شہر پناہ کی دیوار ایک مثالی چیز سمجھی جاتی ہے۔ اس شہر میں نصاری کے عبادت خانے کینسا بیشمار اور بڑے شاندار سونے چاندی کے کام سے مزین ہیں، ساحلی شہر ہے، زمانہ اسلام میں اس کو فاتح شام حضرت امین الامة ابو عبیدہ بن جراح نے فتح کیا ہے۔ معجم البلدان میں یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب بخار (جس کا قصہ اس آیت میں آگے آ رہا ہے) اس کی قبر بھی انطاکیہ میں معروف ہے، دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لئے آتے ہیں۔ ان کی تصریح سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں آیا ہے وہ یہی شہر انطاکیہ ہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ انتظاکیہ ان چار مشہور شہروں میں سے ہے جو دین عیسوی اور نصرانیت کے مرکز سمجھے گئے ہیں، یعنی قدس، رومیہ، اسکندریہ اور انطاکیہ۔ اور فرمایا کہ انطاکیہ سب سے پہلا شہر ہے، جس نے دین مسیح (علیہ السلام) کو قبول کیا۔ اسی بنا پر ابن کثیر کو اس میں تردد ہے کہ جس قریہ کا ذکر اس آیت میں ہے وہ مشہور شہر انطاکیہ ہو، کیونکہ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق یہ قریہ منکرین رسالت و نبوت کی بستی تھی، اور تاریخی روایات کے مطابق وہ بت پرست مشرکین تھے تو انطاکیہ جو دین مسیح اور نصرانیت کے قبول کرنے میں سب سے اولیت رکھتا ہے، وہ کیسے اس کا مصداق ہوسکتا ہے۔ نیز قرآن کریم کی مذکورہ آیات ہی سے یہ بھی ثابت ہے کہ اس واقعہ میں اس پوری بستی پر ایسا عذاب آیا کہ ان میں کوئی زندہ نہیں بچا۔ شہر انطاکیہ کے متعلق تاریخ میں اس کا ایسا کوئی واقعہ منقول نہیں کہ کسی وقت اس کے سارے باشندے بیک وقت مر گئے ہوں۔ اس لئے ابن کثیر کی رائے میں یا تو اس آیت میں جس قریہ کا ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے یا پھر انطاکیہ نام ہی کی کوئی دوسری بستی ہے جو مشہور شہر انطاکیہ نہیں ہے۔ صاحب فتح المنان نے ابن کثیر کے ان اشکالات کے جوابات بھی دیئے ہیں، مگر سہل اور بےغبار بات وہی ہے جس کو سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اختیار فرمایا ہے۔ کہ آیات قرآن کا مضمون سمجھنے کے لئے اس بستی کی تعیین ضروری نہیں، اور قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھا ہے، تو ضرورت ہی کیا ہے کہ اس کی تعیین پر اتنا زور خرچ کیا جائے۔ سلف صالحین کا یہ ارشاد کہ ابھموا ما ابھمہ اللہ، یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا ہے تم بھی اسے مبہم ہی رہنے دو ، اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَۃِ۝ ٠ ۘ اِذْ جَاۗءَہَا الْمُرْسَلُوْنَ۝ ١٣ۚ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣۔ ١٤) اور آپ ان مکہ والوں سے انطاکیہ والوں کا ایک واقعہ بیان کردیجیئے کہ ہم نے ان کو کس طرح ہلاک کیا جبکہ ان کے پاس حضرت عیسیٰ کے بھیجے ہوئے رسول شمعون الصفار آئے ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان پر ایمان نہیں لائے اور اس سے پہلے ہم نے ان کے پاس دو رسولوں یعنی سمعان اور ثومان کو بھیجا تو اس بستی والوں نے ان دونوں جو جھٹلایا تو پھر ہم نے ان کے پاس شمعون کو بھیجا کہ انہوں نے پہلے دونوں رسولوں کی تبلیغ رسالت کی تصدیق کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣ { وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ ٧ اِذْ جَآئَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ } ” ان کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے ‘ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 The early commentators, generally, have expressed the opinion that the "habitation" implies the Syrian city of Antioch, and the messengers mentioned here were the ones sent by the Prophet Jesus for the preaching of his message there. Another thing that has been mentioned in this connection is that Antiochus was the king of this land at that time. But historically this story which Ibn 'Abbas, Qatadah, 'Ikrimah, Ka'b Ahbar and Wahb bin Munabbih, and others have related on the basis of unauthentic Christian traditions is baseless. There have been 13 kings of the Seleucid dynasty named Antiochus who reigned in Antioch, and the rule of the last king of this name, rather the rule of this dynasty itself, carne to an end in 65 B.C. At the time of the Prophet Jesus, the whole land of Syria and Palestine, including Antioch, was under the Romans. Then, no proof is forthcoming from any authentic tradition of the Christians that the Prophet Jesus might himself have sent any of his disciples to Antioch for preaching his message. On the contrary, the Acts of the Apostles (N.T.) shows that the Christian preachers had reached Antioch for the first time a few years after the event of the crucifixion. Now, evidently, the people who were neither appointed messengers by Allah nor sent by His Messenger cannot be regarded as messengers of Allah by any interpretation even if they might have travelled for the purpose of preaching of their own accord. Moreover, according to the Bible; Antioch was the first city where the non-Israelites embraced Christianity in large numbers and where the Christian faith met with great success; whereas the habitation mentioned by the Qur'an was some such habitation which rejected the invitation of the messengers, and was consequently punished with a Divine torment. History also dces not bear any evidence that Antioch was ever afflicted with a destruction, which might be regarded, as the result of denying the Prophethood. On account of these reasons it cannot be accepted that the `habitation" implies Antioch. The habitation has neither been clearly determined in the Qur'an nor in any authentic Hadith; the identity of the messengers also is not known through any authentic means nor the time when they were appointed. To understand the purpose for which the Qur'an is narrating this story here, it is not necessary to know the names of the habitation and the messengers. The object is to warn the Quraish, as if to say: `You arc following the same path of stubbornness, prejudice and denial of the truth as had been followed by the people of that habitation, and are preparing yourselves to meet the same doom as was met by them. "

سورة یٰسٓ حاشیہ نمبر :10 قدیم مفسرین بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ذکر یہاں کیا گیا ہے انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تبلیغ کے لیے بھیجا تھا ۔ اس سلسلے میں قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں انطیخش اس علاقے کا بادشاہ تھا لیکن یہ سارا قصہ ابن عباس ، قتادہ ، عِکرِمہ ، کَعب اَحْبار اور وہب بن مُنَبِہ وغیرہ بزرگوں نے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بے بنیاد ہے ۔ انطاکیہ میں سلوتی خاندان ( Saleucid dynasty ) کے 13 بادشاہ انتیوکس ( Antiochus ) کے نام سے گزرے ہیں اور اس نام کے آخری فرمانروا کی حکومت ، بلکہ خود اس خاندان کی حکومت بھی 65 قبل مسیح میں ختم ہو گئی تھی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انطاکیہ سمیت شام فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر نگیں تھا ۔ پھر عیسائیوں کی کسی مستند روایت سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں میں سے کسی کو تبلیغ کے لیے انطاکیہ بھیجا ہو ۔ اس کے برعکس بائیبل کی کتاب اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ صلیب کے چند سال بعد عیسائی مبلغین پہلی مرتبہ وہاں پہنچے تھے ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہو ، نہ اللہ کے رسول نے معمور کیا ہو ، وہ اگر بطور خود تبلیغ کے لیے نکلے ہوں تو کسی تاویل کی رو سے بھی وہ اللہ کے رسول قرار نہیں پا سکتے ۔ علاوہ بریں بائیبل کے بیان کی رو سے انطاکیہ پہلا شہر ہے جہاں کثرت سے غیر اسرائیلیوں نے دین مسیح کو قبول کیا اور مسیحی کلیسا کو غیر معمولی کامیابی نصیب ہوئی ۔ حالانکہ قرآن جس بستی کا ذکر یہاں کر رہا ہے وہ کوئی ایسی بستی تھی جس نے رسولوں کی دعوت کو رد کر دیا اور بالآخر عذاب الہٰی کی شکار ہوئی ۔ تاریخ میں اس امر کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انطاکیہ پر ایسی کوئی تباہی نازل ہوئی جسے انکار رسالت کی بنا پر عذاب قرار دیا جا سکتا ہو ۔ ان وجوہ سے یہ بات ناقابل قبول ہے کہ اس بستی سے مراد انطاکیہ ہے ۔ بستی کا تعین نہ قرآن میں کیا گیا ہے ، نہ کسی صحیح حدیث میں ، بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانے میں بھیجے گئے تھے ۔ قرآن مجید جس غرض کے لیے یہ قصہ یہاں بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی ، تعصُّب اور انکار حق کی اسی روش پر چل رہے ہو جس پر اس بستی کے لوگ چلے تھے ، اور اسی انجام سے دوچار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دوچار ہوئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: قرآن کریم نے نہ اس بستی کا نام ذکر فرمایا ہے، اور نہ ان رسولوں کا جو اس بستی میں بھیجے گئے تھے، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ بستی شام کا مشہور شہر انطاکیہ تھی ؛ لیکن نہ تو یہ روایتیں مضبوط ہیں اور نہ تاریخی قرائن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، دوسری طرف رسول کا لفظ عربی زبان میں ہراس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی کا پیغام لے کر دوسرے کے پاس جائے ؛ لیکن قرآن کریم میں زیادہ تر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لئے استعمال ہوا ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ حضرات انبیا کرام تھے، اور بعض روایات میں ان کے نام بھی صادق، صدوق اور شلوم یا شمعون بتائے گئے ہیں ؛ لیکن یہ روایات بھی زیادہ مضبوط نہیں ہیں، اور بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ یہ حضرات انبیا نہیں تھے ؛ بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد تھے جنہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس بستی میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا، اور مرسلون کا لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے ؛ لیکن چونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں بھیجنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے، اس لئے ظاہر یہی ہے کہ یہ انبیاء کرام تھے، شروع میں دو نبی بھیجے گئے تھے، پھر ایک تیسرے پیغمبر بھی بھیجے گئے، بہر حال ! عبرت کا جو سبق قرآن کریم دینا چاہتا ہے وہ نہ بستی کے تعین پر موقوف ہے اور نہ پیغام لے جانے والوں کی شناخت پر، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے نام نہیں بتائے، لہذا ہمیں بھی اس کی کھوج میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣۔ تا ١٩۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔ اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ جس اللہ نے ہم کو رسول بنا کر بھیجا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ ہم اس کے رسول ہیں کیوں کہ اگر ہم اس کا پیغام پہنچانے میں جھوٹ بولتے تو اللہ تعالیٰ ہم کو جھوٹ کی سزا میں پکڑ لیتا تفسیر مقاتل میں ہے کہ جب بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اس کو سزا کے طور پر اس بستی میں قحط پڑا اسی واسطے بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں سے کہا کہ اسی بستی میں تمہارا آنا منحوس ہوا جس سے یہ قحط پڑا اب بھی تم اگر ہمارے ٹھاکروں کی مذمت سے باز نہ آؤگے تو ہم تم کو طرح طرح سے صدمہ پہنچائیں گے اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ یہ قحط تمہاری ناشکری اور بداعمالی کے سبب سے پڑا ہے جس اللہ نے تم کو تمہاری ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہم تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کے شکریہ میں تم خالص اس کی تعظیم کرو اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہراؤایسی سیدھی باتوں پر تم جو ہم کو منحوس بتاتے ہو یہ تمہاری حد سے زیادہ گمراہی ہے تمہارے بتوں میں اگر کچھ قدرت ہے تو ان کی مدد سے اللہ کے بھیجے ہوئے قحط کو ٹال دو ورنہ یہ خوب سمجھ لو کہ اللہ کے خلاف مرضی کاموں کے سبب سے ہمیشہ تم پر ایسی آفتیں آتی رہیں گی ‘ اللہ کے رسولوں کی یہ پیشین گوئی سچی ہوئی کہ آخر کو یہ بستی ایک سخت چنگھاڑ کے عذاب سے ہلاک ہوگئی چناچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے اس بستی کے لوگوں نے یہ جو کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش تک سب گمراہ قوموں نے یہی بات اللہ کے رسولوں سے کہی ہے اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے وہ سورة الانعام میں گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے انتظام الٰہی یہی قرار پایا ہے کہ نبی آدم کی ہدایت کے لیے جو رسول اللہ کی طرف سے آوے گا وہ ضرور انسان ہوگا ‘ صحیح بخاری مسلم ١ ؎ میں جبرئیل (علیہ السلام) کا دحیہ کلبی صحابی کی صورت میں وحی لے کر آنے کا جو قصہ ہے اس میں حضرت ام سلمہ (رض) قسم کھا کر فرماتی ہیں (١ ؎ الاصابہ ص ٤٧٢ جلد اول) کہ میں جبرئیل (علیہ السلام) کو دحیہ کلبی سمجھا کرتی تھی ‘ یہ وحیہ کلبی نہایت خوبصورت شخص تھے یہ وہی صحبی وحیہ بن خلیفہ کلبی ہیں جن کے ہاتھ اللہ کے رسول نے ہرقل بادشاہ روم کے پاس خط بھجا تھا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ تمام بنی آدم تو درکنار اللہ کے رسول کے دیکھنے والے اعلیٰ مرتبہ کہ نبی آدم بھی جبرئیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے تھے اس واسطے جبرئیل (علیہ السلام) وحیہ کلبی صحابی کی صورت بن کر وحی لایا کرتے تھے اس بستی کا کیا نام تھا اور تینوں رسول کس زمانہ میں تھے اس کا ذکر آگے آوے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:13) اضرب، فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ضرب سے۔ جس کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنے کے ہیں۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) ہاتھ، لاٹھی یا تلوار سے مارنا۔ مثلاً اضرب بعصاک الحجر۔ (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ (2) ضرب الارض بالمطر۔ بمعنی بارش برسنا۔ (3) ضرب الدراہم درہم کو ڈھالنا۔ (4) ضرب فی الارض۔ سفر کرنا۔ (5) فاضرب لہم طریقا فی البحر یبسا (20:77) تو ان کے لئے سمندر میں خشک راستہ بنا دے۔ (6) ضرب الفحل الناقۃ۔ نر کا مادہ سے جفتی کرنا۔ (7) ضرب الخیمۃ۔ خیمہ لگانا۔ کیونکہ خیمہ لگانے کے لئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ضربت علیہم الذلۃ (2:61) ذلت ان سے چمٹا دی گئی یعنی ذلت نے ان کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کسی شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے اسی طرح یہی معنی اس آیت میں ہیں : ضربت علیہم المسکنۃ (3:112) ناداری ان سے لپٹ رہی ہے۔ (8) فضربنا علی اذانہم فی الکھف سنین عددا۔ (18:11) تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے رکھا۔ (یعنی ان کو سلائے رکھا) ۔ (9) فضرب بینہم بسور (57:13) پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ (10) کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو اسے ضرب المثل کہتے ہیں مثلاً ضرب اللہ مثلا (39: 29) اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اضرب تو مثال بیان کر۔ مثلا۔ تشبیہی قصہ۔ اضرب کا مفعول اول۔ اصحب القریۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر دونوں مفعول ثانی اضرب کا۔ ایک بستی کے مکین۔ بستی کے رہنے والے۔ واضرب لہم مثلا اصحب القریۃ۔ ان کے سمجھانے کے لئے ایک مثال بیان کریں۔ بستی والوں کا قصہ۔ یعنی بستی والوں کا قصہ مثال کے طور پر بیان کر کے (ان کو سمجھائیں) ۔ اذ۔ ظرف زمان۔ بمعنی جب۔ جس وقت۔ جبکہ۔ جاء ھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع القریۃ ہے۔ المرسلون اسم مفعول جمع مذکر۔ فرستادہ۔ بھیجے گئے۔ بھیجے ہوئے۔ فائدہ :۔ یہ المرسلون کون تھے اور القریۃ سے مراد کون سی بستی ہے اس کے متعلق مختلف آرا ہیں ۔ بغوی ، رازی، سیوطی، محلی، بیضاوی، علامہ آلوسی بغدادی، ابو السعود وغیرہ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد تھے۔ جو انطاکیہ میں تبلیغ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دو حواریوں کو بھیجا ۔ لیکن اہل انطاکیہ نے ان کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تو پھر ان کی تائید کے لئے تیسرا قاصد بھیجا گیا۔ لیکن ان لوگوں نے پھر بھی ماننے سے انکار کردیا۔ بادشاہ وقت الطیخس اور اس کے لوگوں نے قاصدوں کے قتل کا مشورہ کیا اس کی خبر پا کر ایک مومن شخص جس کا نام حبیب نجار تھا اور وہ مضافات شہر میں آباد تھا۔ آیا اور اپنی قوم کو رسولوں کے اتباع کے لئے کہا لیکن قوم نے اس کی ایک نہ سنی اور ان تینوں کو شہید کردیا۔ بہت اجلہ علما ومحققین اس طرف گئے ہیں کہ یہ سارا قصہ بےبنیاد ہے اور یہ کہ حضرت ابن عباس ، حضرت عکرمہ، حضرت کعب احبار اور وہب بن منبہ وغیرہ نے اسے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے۔ اور ان فرستادگان کے ناموں میں بھی اختلاف ہے بعض کے نزدیک پہلے دو کے نام صادق ومصدوق تھے اور تیسرے کا نام شلوم تھا۔ بعض نے پہلے دو کے نام یوحنا اور شمعون بتائے ہیں اور تیسرے کا نام بولص۔ بعض نے لکھا ہے کہ پہلے دو کے نام یحییٰ اور یونس تھے۔ اور تیسرا شمعون نامی تھا۔ اس قصہ کی تردید کے لئے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ سلوقی خاندان (جس سے انطیخش کا تعلق تھا) کی حکومت 65 قبل مسیح ہی ختم ہوچکی تھی اور حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں انطابیہ سمیت شام و فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر تسلط تھا۔ بستی کا تعین نہ تو قرآن میں کیا گیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں۔ بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانہ میں بھیجے گئے تھے۔ اور قرآن مجید جس غرض کے لئے یہ قصہ بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لئے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔ قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی ، تعصب اور انکار حق کی اسی روش پر چل رہے ہو۔ جس پر اس بستی کے لوگ چلے تھے اور اسی انجام سے دو چار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دو چار ہوئے “ (تفہیم القرآن) اذ ارسلنا۔ اذ (جاء ھا) کا بدل ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے اور وہ پیغمبر کون تھے جو اس بستی کی طرف بھیجے گئے تھے ؟ اس کی قرآن یا کسی صحیح حدیث میں تصریح نہیں ہے۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق گر قدیم مفسرین (رح) بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہرانطاکیہ ہے اور جن پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہے حضرت عیسیٰ کے حواری تھے جنہیں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے تبلیغ کے لئے وہاں بھیجا تھا۔ شاہ صاحب (رح) نے بھی اپنی توضیح میں یہی لکھا ہے مگر یہ توضیح بچندوجوہ صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اول یہ ہے کہ قرآن نے ان پیغمبروں کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کی تصریح کی ہے اور پھر اگر وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو بستی والے ان پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم ہماری طرح کے بشر ہو اور اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نہیں اتاری بلکہ ان کے مابین سوال و جواب کا طریقہ کوئی اور ہوتا جس سے پتہ چلتا کہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف سے بھیجے ہوئے حواری تھے۔ دوسرے یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ انطاکیہ اور اسکندریہ ان شہروں میں ہیں جن کے تمام باشندے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر سب سے پہلے ایمان لائے اس لئے انطاکیہ عیسائیوں کے چار بڑے مراکز میں سے ایک مرکز رہا ہے۔ تیسرے جیسا کہ آگے آرہا ہے قرآن کی تصریح کے مطابق یہ بستی تباہ کردی گئی حالانکہ انطاکیہ والوں کے ساتھ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواریوں کا قصہ توراۃ کے نازل ہونے کے بعد پیش آیا اور حضرت ابو سعید خدری (رض) اور دیگر صحابہ کہتے ہیں کہ توراۃ نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی بستی کو عام عذاب بھیج کر تباہ نہیں کیا۔ مستدرک حاکم کی ایک مرفوع روایت سے بھی ثابت ہے جسے حاکم نے صحیح کہا ہے ( دیکھئے سورة قصص 43) اور یہ جو آیا ہے کہ حضرت علی (رض) کا اس امت میں وہی مرتبہ ہے جو حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی امت میں اس شخص کا ہے جس کا ذکر سورة یٰسین میں ہے تو یہ روایت ضعیف ہے اور اس کی سند میں حسین بن حسن الاشقرراوی ہے جو غالی شیعہ ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن نے جس بستی کا ذکر کیا ہے اس سے مراد انطاکیہ نہیں بلکہ اور کوئی بستی ہے جو تباہ کردی گئی اور یہ واقعہ نزول توراۃ سے قبل کا ہے ممکن ہے اس نام کی اس سے پہلے بھی کوئی بستی ہو۔ ( احسن الفوائد بن کثیر وغیرہ)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات قرآن : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ القریۃ ( بستی ، آبادی) اثنین ( دو ) عززنا (ہم نے قوت دی) البلغ ( پہنچا دینا) تطیرنا ( ہم منحوس سمجھتے تھے) نرجمن ( ہم پتھر مار کر ہلاک کریں گے) یمسن (ضرور پہنچے گا) مسرفون (حد سے بڑھنے والے) اقصا (دور) مالی ( مجھے کیا ہوا ؟ ) فطر (اس نے پیدا کیا) لا تغن (فائدہ نہ دے گا) لا ینقذون (وہ چھڑا نہ سکیں گے) یلیت ( اے کاش) المکرمین (عزت دینے والے لوگ) جند ( لشکر) صحیۃ (چنگھاڑ ، زور دار آواز ، دھماکہ) خامدون ( بجھ کر رہ جانے والے) القرون ( قرن) قومیں ، بستیاں) محضرون ( حاضر کئے گئے) تشریح : آیت نمبر 13 تا 32 :۔ ان آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین کو بطور مثال ایک ایسی بستی کا واقعہ سنا دیجئے کہ جب اللہ نے ان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے متعدد پیغمبر بھیجے پہلے دو پیغمبروں کو بھیجنے کے بعد ایک اور پیغمبر کو مزید قوت اور تائید کے لئے بھیجا گیا انہوں نے اس بستی کے لوگوں کو اللہ کی ذات اور برے اعمال کے بدترین انجام سے ڈرایا اور کہا کہ اللہ نے ہمیں تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے۔ تم اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور ان بےحقیقت جھوٹے معبودوں کی عبادت و بندگی سے باز آ جائو تا کہ تم قیامت کے دن ہر طرح کی رسوائیوں سے بچ سکو ۔ ہم نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے اب ماننا یا نہ ماننا یہ تمہارے اختیار میں ہے۔ سب کچھ سننے کے بعد کہنے لگے کہ تم اللہ کے پیغمبر کیسے ہو سکتے ہو کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ” بشر “ ہو ۔ یہ وہ جواب ہے جو قوم نوح ، قوم عاد اور قوم ثمود نے بھی اپنے پیغمبروں کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان آخر وہ کون سا فرق ہے جس کی وجہ سے ہم یہ بات مان لیں کہ واقعی تم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو ۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ نے کوئی ایسی چیزنازل نہیں کی جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو ۔ اس طرح انہوں نے ان پیغمبروں کو جھٹلاتے ہوئے ان کے پیغام کو ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اللہ کے ان پیغمبروں نے نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری طرف بھیجا ہے۔ ہم نے اللہ کا پیغام تک تک پہنچا دیا اب تم مانتے ہو تو دنیا و آخرت کی ہر کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔ کہنے لگے کہ کامیابیاں تو ہمارے قدم کہاں چو میں گی تمہاری ان باتوں کی وجہ سے اور ہمارے بتوں کی برائیاں بیان کرنے سے ہمارے معبود ہم سے ناراض ہوگئے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے اوپر طرح طرح کی مصیبتیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ بارش نے برسنا چھوڑ دیا ، ہمارے کھیت خشک ہوگئے جس سے قحط پڑنا شروع ہوگیا ۔ ہم سب عیش و عشرت سے زندگی گزار رہے تھے ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا مگر تمہارے قدموں کی نحوست سے ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ باتیں جو تم کر رہے ہو ان کو بند کرو ورنہ ہم برداشت نہیں کریں گے اور تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے اور تمہیں ایسی ایسی اذیتیں دیں گے جن سے تم عاجزو بےبس ہو کر رہ جائو گے ۔ اللہ کے پیغمبروں نے ان کی جاہلانہ باتوں کا نہایت سنجیدگی اور وقار سے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب کچھ جو آفتیں آرہی ہیں وہ تمہارے اعمال کی شامت کی وجہ سے آرہی ہیں ۔ اگر تم ہماری بات پر غور کرتے اور اللہ کا حکم مان لیتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں تم سب کی بھلائی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے لیکن تم تو زندگی کے ہر معاملے میں حد سے گزر جانے والے ہو اسی لئے یہ ساری نحوستیں تم پر نازل ہو رہی ہیں ۔ ان پیغمبروں کی پوری قوم نے جب اپنے ارادے کی تکمیل کے لئے کمر کس لی تو اس بستی کے آخری کنارے پر ایک نیک اور متقی شخص رہتا تھا جو رزق حلال کماتا تھا اور اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہتا تھا جب اسے اپنی قوم کے برے ارادوں اور بےراہ روی کی اطلاع ملی تو وہ بھاگا ہوا دوڑتا چلا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تا کہ وہ برے ارادے سے باز آجائیں اور اللہ کے عذاب سے بچ جائیں اس شخص نے کہا کہ اللہ کے بندوٖ ! یہ پیغمبر اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جو بھی پیغام لے کر آئے ہیں اس کی اتباع اور پیروی کرو ان کی نصیحتوں پر عمل کرو ۔ وہ یہ سب کچھ تمہاری بھلائی کے لئے کہہ رہے ہیں اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض اور لالچ نہیں ہے وہ تم سے یہ سب کچھ کرنے پر کوئی صلہ یا بدلہ تو نہیں مانگ رہے ہیں ۔ وہ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے پر چلو ۔ اس شخص نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں آخر اس ذات کی عبادت و بندگی کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب کو اسی ایک پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ کیا میں ایسے معبود کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنا لوں حالانکہ اگر وہ رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان بتوں کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور وہ سب مل کر مجھے اس سے چھڑا نہیں سکتے ۔ اگر میں ایسا کروں گا تو کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا ۔ میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لے آیا ۔ تم بھی اسی طرح ایمان قبول کرلو ۔ اس شخص کا آنا اس پوری قوم کو سخت نا گوار گزرا اور انہوں نے اس کو لاتوں اور گھونسوں سے مار مار کر شہید کردیا ۔ اللہ نے اس شخص کے لئے جنت کا فیصلہ کر کے فرمایا کہ تو جنت کی راحتوں میں داخل ہوجا ۔ جب اس نے جنت کی راحتوں کو دیکھا تو اس نے کہا کہ کاش میری قوم یہ دیکھتی کہ اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ثابت قدمی کی وجہ سے اللہ نے نہ صرف اس کی مغفرت کردی ہے بلکہ اس کو اعلیٰ ترین مقام عطاء فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس قوم کی نا فرمانیوں کی سزا دینے کے لئے کوئی لشکر نہیں اتارا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہ تھی بس یکا یک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب بجھ کر رہ گئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی سمجھانے والا آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور شدید مخالفت کی ، حالانکہ اگر غور و فکر سے کام لیتے تو انہیں اللہ کا یہ دستور معلوم ہوجاتا کہ جب اللہ نے کسی قوم کو برباد کیا ہے تو وہ پھر کبھی اپنے گھروں کی طرف پلٹ کر نہیں آئے ۔ فرمایا کہ وہ اللہ سے کتنے بھی بھاگ کر دور چلے جائیں آخر کار ان کو ایک دن اس کے سامنے ہی حاضر ہونا ہے۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں۔ (1) اس پر بحث کرنا کہ یہ کون سی بستی تھی ؟ ان پیغمبروں کے نام کیا تھے ؟ یہ کب آئے تھے ؟ اس موقع پر اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک عام واقعہ ہے جس کا مقصد ان قریش مکہ کو بتانا ہے کہ اگر انہوں نے بھی تعصب ، ہٹ دھرمی اور ضد کو نہ چھوڑا تو ان کا انجام بھی اس بستی والوں سے مختلف نہ ہوگا ۔ (2 ) ۔ بشریت انبیاء پر کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ہر دور میں کفار نے انبیاء کی بشریت کا انکار کیا ہے وہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی ہم جیسا جیتا جاگتا ، چلنے پھرنے والا انسان ہو ۔ اس کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ جو بشریت اور اس کے تقاضوں سے بلند تر ہو ۔ حالانکہ تمام انبیاء کرام کا ایک ہی جواب تھا کہ ” واقعی ہم تمہاری طرح بشر ہونے کے سوا کچھ نہیں ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے عنایت کرتا ہے ( سورة ابراہیم : 10۔ 11) اگر قوم نوح (علیہ السلام) ، قوم عاد (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے حالات زندگی پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہی وہ بات تھی جس نے ان کو ہدایت سے دور رکھا اور اسی بنیاد پر تباہی آئی ۔ (3) ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ” لا طیرۃ فی الاسلام “ دین اسلام میں کسی چیز کے لئے بد شگونی اور نحوست کوئی چیز نہیں ہے کسی انسان کا قدم منحوس نہیں ہوتا بلکہ جو مصیبتیں آتی ہیں وہ انسان کے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں مگر تمام وہ لوگ جو اپنی کمزوریوں پر غور کرنے کے بجائے دوسروں پر یہ کہہ کر ڈال دیتے ہیں کہ یہ سب کام جو خراب ہوتے جا رہے ہیں اس کی وجہ یہ شخص ہے اس کی نحوست سے سارے کام بگڑ رہے ہیں ۔ لیکن یاد رکھئے اسلام نے ہمیں ان باتوں سے روکا ہے۔ ایک مسلمان کی زبان سے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وہ دوسروں کو منحوس قدم کہے یا سمجھے۔ (4) ۔ اصل میں تمام وہ لوگ جو دین اسلام کی سر بلندیوں کے لئے جدوجہد یا کوشش کر رہے ہیں ان کو یہ اصول ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ حق و صداقت کی بات اثر ضرور کرتی ہے اس میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے شاید کوئی ایک شخص حق و صداقت کی بات سن کر اس کو قبول کرلے اور جب وہ اپنا سب کچھ قربان کر دے تو اس کی قربانیوں کے نیچے میں حق و صداقت پر چلنے والوں کی نجات ہوجائے۔ (5) ۔ جب قوموں کی نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے غرور وتکبر انتہاء کو پہنچ جاتا ہے تب اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے وہ دنیا والوں کی طرح اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ لشکر بھیج کر کسی قوم پر فتح حاصل کی جائے۔ بلکہ اس کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی ذات اور قوت پر اعتماد کر کے یقین کرلینا چاہیے کہ وہ رب اس قدر طاقت ور ہے کہ اس کے سامنے ساری دنیا کی طاقتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ اوپر مسئلہ رسالت مع تسلیہ مذکور تھا، آگے رسالت کی تائید اور مکذبین کی تہدید کے لئے ایک قصہ مذکور ہے جو مکذبین رسالت کی تشنیع و تقریع پر ختم کیا گیا ہے جس سے مضمون مترتب سزا کی بھی تائید ہوگئی، جو اوپر مذکور تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ ہم موت وحیات پر اختیار رکھنے والے اور ہر بات کو اپنے ہاں لکھنے والے ہیں۔ اب موت وحیات کے حوالے سے ایک قریہ کی مثال بیان کی جاتی ہے۔ اے محبوب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سامعین کے سامنے اس بستی کی تاریخ اور مثال پیش فرمائیں جس کے پاس آپ کے رب نے یکے بعد دیگرے تین رسول مبعوث فرمائے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کے لیے دو رسول بھیجے جنہوں نے بڑے خلوص اور جانفشانی کے ساتھ اہل قریہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن قریہ والوں نے انہیں یکسر طور پر مسترد کردیا۔ ان کی تائید کے لیے ہم نے تیسرا رسول بھیجا اس نے پہلے دو انبیاء کی تائید کی اور ان کے ساتھ مل کر لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کرنے کی طرف دعوت دی لیکن بد بخت قوم نے تینوں رسولوں کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا کہ تم ہمارے جیسے انسان ہو اور تم جھوٹ بولتے ہو۔ رب رحمن نے تمہاری طرف کوئی پیغام نازل نہیں کیا اور نہ ہی تم اس کے رسول ہو۔ قوم کے الزام کے جواب میں انبیائے کرام (علیہ السلام) نے فقط اتنا ہی ارشاد فرمایا کہ اے قوم ! اگر تم ہمیں ماننے کے لیے تیار نہیں تو ہمارا کام اپنے رب کا پیغام پہنچانا تھا جسے ہم نے پوری طرح پہنچا دیا۔ اب تمہارا معاملہ ” اللہ “ کے حوالے ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو نیست و نابود کردیا۔ یہ کون سی بستی تھی اس کے بارے میں بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شام کا ایک مشہور شہر انطاکیہ ہے لیکن قدیم مفسرین میں سے علامہ ابن کثیر اور عصر حاضر کے مفسرین نے تاریخی حوالوں کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد انطاکیہ نہیں کیونکہ انطاکیہ ہمیشہ سے عسائیت کا گڑھ رہا ہے اور انطاکیہ کی بربادی کا تاریخ میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ جہاں تک رسولوں کی ذات کا معاملہ ہے ان سے مراد عیسیٰ ( علیہ السلام) کے حواری اور ان کے بھیجے ہوئے نمائندے نہیں بلکہ یہ شخصیات براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شہر کی طرف مبعوث کی گئی تھیں جنہیں اس شہر کے لوگوں نے ماننے سے انکار کیا اور وہ برے انجام سے دوچار ہوئے۔ جہاں تک اہل قریہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اے رسولو ! تم ہمارے جیسے انسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول مبعوث فرمائے ہیں وہ بشر ہی تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کہ میں بشر ہوں : (عَنْ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِیُّ اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمَدِینَۃَ وَہُمْ یَأْبُرُون النَّخْلَ یَقُولُونَ یُلَقِّحُون النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا کُنَّا نَصْنَعُہُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا کانَ خَیْرًافَتَرَکُوہُ فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ دینِکُمْ فَخُذُوا بِہِ وَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ رَأْیٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ )[ رواہ مسلم : باب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَہُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَکَرَہ مِنْ مَعَایِشِ الدُّنْیَا عَلَی سَبِیل الرَّأْیِ ] ” سیدنا رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور کی پیوندکاری کرتے تھے آپ نے فرمایا : یہ کیا کرتے ہو ؟ صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا ہمارا یہی طریقہ ہے آپ نے فرمایا : اگر تم یہ کام نہ کرو تو ہوسکتا ہے اس میں بہتری ہو۔ صحابہ (رض) نے پیوند کرنا چھوڑ دیا۔ تو کھجوریں پھل کم لائیں۔ صحابہ (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی۔ آپ نے فرمایا : میں بھی ایک بشر ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو۔ جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو آخر میں بھی آدمی ہوں۔ “ مسائل ١۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے۔ ٢۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) انسان تھے۔ ٣۔ انبیاء کی ذمہ داری حق پہنچانا تھا منوانا نہیں تھا۔ تفسیر بالقرآن انبیائے کرام (علیہ السلام) کا اقرار کہ ہم انسان ہیں : ١۔ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔ (حم السجدۃ : ٦) ٢۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : ١١٠) ٣۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم میں انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : ٤) ٤۔ انبیاء (علیہ السلام) اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : ١١) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : ١٠٩) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : ٤٣) ٧۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : ٢٩، ٣٠) ٨۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تو ہماری طرح بشر ہے اور ہم تجھے جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (الشعراء : ١٨٦) ٩۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤) ١٠۔ نہیں ہے تو مگر ہمارے جیسا بشر کوئی نشانی لے کر آ اگر تو سچا ہے۔ (الشعراء : ١٥٤) ١١۔ نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر جیسا تم کھاتے ہو، ویسا وہ کھاتا ہے۔ (المومنون : ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وحی و رسالت کے مسئلے کے اس تاکیدی بیان اور قضیہ حساب و کتاب کے اس اٹل اعلان کے بعد ، اب اسی مضمون کو قصے کی صورت میں لایا جاتا ہے۔ اس قصے میں ایمان اور کفر کے جو دو باہم متقابل موقف سامنے آتے ہیں وہ نفس انسانی پر نہایت گہرے اثرات چھوڑتے ہیں اور دونوں مواقف کا انجام بھی آنکھوں کے سامنے منقش نظر آتا ہے۔ واضرب لھم مثلا ۔۔۔۔۔۔۔ بل انتم قوم مسرفون (13 – 19) ” “۔ رسولوں نے کہا ” ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے “۔ بستی والے کہنے لگے ” ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کرسکیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے “۔ رسولوں نے جواب دیا ” تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو “۔ قرآن کریم نے اصحاب قریہ کا نام نہیں لیا ، نہ اس گاؤں کا ۔۔۔ ہے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات کے پیچھے پڑنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ نہ ان پر بحث کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا اس شہر کا نام نہ لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ قصہ کے جو مقاصد ہیں ان میں اس گاؤں کا نام لینے سے کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس شہر اور اس کے محل وقوع کا نام نہیں لیا۔ اور قصے اور اس سے حاصل ہونے والے سبق ہی پر اکتفاء کیا۔ بہرحال یہ ایک گاؤں تھا جس کی طرف دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہما السلام) دونوں کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس گاؤں والوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ نے ان دونوں رسولوں کی تائید میں ایک تیسرا رسول بھی بھیج دیا اور اس تیسرے نے لوگوں کو بتایا کہ یہ دونوں برحق رسول ہیں ، چناچہ ان تینوں نے ازسرنو اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ فقالوا انا الیکم مرسلون (36: 14) ” ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں “۔ اب اس گاؤں والوں نے ان پر وہی گھسے پٹے اعتراضات کیے جو ہمیشہ رسولوں پر ہوتے ہیں۔ قالوا ما انتم۔۔۔۔۔ الا تکذبون (36: 15) ” بستی والوں نے کہا ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے ، تم محض جھوٹ بولتے ہو “۔ یہ اعتراضات جو تمام رسولوں پر ہوتے رہے ہیں ، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بہت ہی سادہ لوح تھے اور ان کی سوچ ناپختہ تھی۔ یہ لوگ رسول اور رسالت کے بارے میں عجیب تصورات رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں رسول کی شخصیت ایک پر اسرار شخصیت ہونا چاہئے اور اس کی شخصیت کے ساتھ بہت سے اوہام اور قصے منسوب ہونے چائیں۔ اس لیے کہ رسول آسمان کی طرف سے زمین والوں کی طرف آتا ہے لہٰذا اس کی شخصیت کے ساتھ اوہام و اساطیر وابستہ ہونا ضروری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک رسول کھلا اور سادہ انسان ہو۔ ہماری طرح اس کی زندگی میں کوئی راز نہ ہو اور نہ کوئی عجوبہ ہو۔ ہم جیسا ایک عام اور معمولی انسان رسول کس طرح ہو سکتا ہے جو بازاروں میں پھرتا ہو اور ہمارے جیسے گھروں میں رہتا ہو۔ یہ تھی ان کے فکر اور ان کی سوچ کی سادگی۔ اس لیے کہ نبوت کے ساتھ پر اسراریت لازم نہیں ہے۔ لیکن مقام نبوت اس قدر سادہ بھی نہیں ہے جس طرح یہ لوگ سمجھے ہیں۔ منصب رسالت اور منصب نبوت میں ایک عظیم اور گہرا راز بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک عام اور سادہ انسان کے اندر ایسی استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ ایک عام انسان ہونے کے باوجود باری تعالیٰ سے وحی وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بات اس سے زیادہ تعجب خیز ہے کہ ایک رسول فرشتہ ہو جیسا کہ ان لوگوں کی تجویز تھی کہ رسول کو تو فرشتہ ہونا چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ رسالت کا مقصد لوگوں کو اسلامی نظام زندگی سے روشناس کرنا ہوتا ہے اور رسول کی زندگی اس نطام کا عملی نمونہ ہوا کرتی ہے اور رسول کی دعوت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس عملی نظام کے اتباع کی طرف بلاتا ہے۔ لوگ چونکہ انسان ہیں ، اس لیے ان کا مقتدا بھی انسان ہونا چاہئے تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے عملی نمونہ پیش کرسکے۔ اور وہ اس کی تقلید کر سکیں یہی وجہ ہے کہ ہر رسول کی زندگی لوگوں کے لیے ایک کھلی کتاب ہوا کرتی ہے۔ قرآن جو اللہ کی محکم کتاب ہے ، اس نے اس تفصیلی زندگی کے ایک معمولی اور اصولی حصے کو قلم بند کیا ، تفصیلات کے بجائے اصول لکھ دئیے ۔ باقی تفصیلی نظام زندگی رسول وقت کی عملی زندگی سے امت اخذ کرتی ہے اور وہ عملی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر تمام امت کے سامنے ہوتی ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ ان تفصیلات میں رسول کی خاندانی اور گھویلو زندگی کے خدوخال اور اجتماعی زندگی کے نمونے سب موجود ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قرآن نے تو رسول کی نفسیاتی کیفیات کو بھی قلم بند کیا ہے تاکہ آنے والی امتیں بھی دیکھیں کہ نبی امین کی قلبی کیفیت کیا تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایک بستی میں پیامبروں کا پہنچنا اور بستی والوں کا معاندانہ طریقہ پر گفتگو کرنا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ ایک بستی (جس کا نام مفسرین نے انطاکیہ بتایا ہے) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو فرستادہ گئے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں نبی نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے آدمی تھے جو انہوں نے اپنے حوارین میں سے بھیجے تھے، چونکہ اللہ تعالیٰ کے ایک رسول نے انہیں بھیجا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت فرمائی اور (اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمُ ) فرمایا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ حضرات مستقل نبی تھے، پہلے دو حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے بستی والوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں ہماری بات سنو، دین اسلام قبول کرو اور توحید پر آؤ، یہ بات سن کر بستی والوں نے انہیں جھٹلا دیا اور کہا کہ نہیں تم لوگ اللہ کے رسول نہیں ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک تیسرے آدمی کو بھیجا جس کے ذریعہ پہلے دو آدمیوں کی تائید کرنا مقصود تھا، اب ان تینوں نے مل کر وہی بات کہی کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تم ایمان لاؤ توحید کو قبول کرو، بستی والوں نے کہا کہ تم کو کیسے اللہ کا فرستادہ مانیں تم تو ہمارے ہی جیسے ہو تم میں ایسی کونسی فضیلت کی بات ہے جس کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے پیغمبر بنائے گئے۔ تمہارا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی ہے ہم اسے نہیں مانتے، ہمارے نزدیک تو رحمن نے تم پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا، تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں یہ جھوٹ ہے۔ ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم مانو یا نہ مانو ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور ضرور تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں تمہارے ماننے نہ ماننے سے ہمارے کام پر کچھ اثر نہیں پڑتا، ہم نتیجہ کے مکلف نہیں ہیں ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ خوب اچھی طرح واضح طور پر بیان کریں ماننا نہ ماننا یہ تمہارا کام ہے، بستی والے کہنے لگے کہ تمہارا آنا تو ہمارے لیے منحوس ہوگیا، ایک تو تمہارے آنے سے ہمارے اندر دو فرقے ہوگئے کوئی تمہارا مخالف اور منکر ہے اور کوئی تمہارا موافق ہے (اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان لوگوں کے انکار کی وجہ سے بطور عذاب بعض چیزوں کا وقوع ہوگیا تھا اس کو انہوں نے نحوست بتایا) گاؤں والوں نے مزید کہا کہ تم اپنی باتیں بس کرو اگر باز نہ آئے تو تمہاری خیر نہیں اگر تم نے اپنی باتیں نہ چھوڑیں تو ہم پتھروں سے مار مار کر ختم کردیں گے اور اس کے علاوہ بھی ہم تمہیں سخت تکلیف پہنچائیں گے۔ ان تینوں حضرات نے کہا کہ تم نحوست کو ہماری طرف منسوب کر رہے ہو، تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے نہ تم کفر پر جمے رہتے نہ پھوٹ پڑتی نہ کوئی اور تکلیف آتی کرتوت تمہارے ہیں اور ان کا نتیجہ ہمارے ذمہ لگا رہے ہو، ہم نے تو اتنا ہی کیا ہے کہ تمہیں توحید کی دعوت دی ہے اور ایمان قبول کرنے کو کہا ہے اس میں کون سی ایسی بات ہے جسے نحوست کا سبب بنالیا جائے۔ (قال صاحب الروح ائن ذکرتم ووعظتم مافیہ سعادتکم تطیرون اوتتوعدون او نحو ذلک ویقدر مضارع وان شئت قدرت ماضیًا کتطیرتم) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کیا اس لیے کہ تمہیں اس چیز کی وعظ و نصیحت کی گئی ہے جس میں تمہاری کامیابی ہے تم نحوست کی فال لیتے ہو یا یہ کہ تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہو یا اسی جیسی کوئی اور عبارت محذوف ہوسکتی ہے۔ اور فعل محذوف مضارع بھی مانا جاسکتا ہے اور اگر چاہو تو ماضی مان لو جیسے تطیرون کی جگہ تطیرتم) ان تینوں حضرات نے آخر میں فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ) بلکہ بات یہ ہے کہ تم حد سے آگے بڑھ جانے والے ہو تمہارا حد سے آگے بڑھنا یعنی کفر پر جمے رہنا ان چیزوں کا سبب ہے جنہیں ہماری آمد کی نحوست بتا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام میں نحوست کوئی چیز نہیں ہے، تینوں حضرات نے جو یہ فرمایا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے، یہ ان کے جواب میں (علیٰ سبیل المشاکلہ) فرمایا، کفر کی وجہ سے جو ان لوگوں کی کچھ گرفت ہوئی تھی اسے انہوں نے نحوست بتادیا، تینوں حضرات نے ان کے الفاظ ان پر لوٹا دئیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (الطیرۃ شرک) یعنی بد شگونی شرک ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٢٩)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ واضرب لہم الخ : یہ تخویف دنیوی ہے اصحاب القریۃ (بستی والوں) کا قصہ بیان کر کے اہل مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے ہمارے رسول کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ لیکن ان کے مزعومہ سفارشیوں میں سے کسی نے بھی ان کو اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا۔ اذ جاءھا المرسلون، حصن حصین میں ہے کہ یہ اجابت دعا کا مقام ہے۔ القریۃ سے اکثر مفسرین کے نزدیک شہر انطاکیہ مراد ہے اور المرسلون سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبلغ مراد ہیں۔ یعنی یحیی، یونس اور شمعون (کما فی التفاسیر) ۔ لیکن بعض ائمہ تفسیر کو اس پر اشکال ہے کہ قریہ سے انطاکیہ اور مرسلین سے رسل عیسیٰ (علیہ السلام) مراد ہوں چناچہ مفسر ابن کثیر نے اس پر نہایت محققانہ گفتگو کی ہے۔ وقد استشکل بعض الائمہ کو نہا انطاکیۃ بما سنذکرہ بعد تمام القصۃ انشاء اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ج 2 ص 567) ۔ ابن کثیر نے آگے چل کر اس پر چار اشکال وارد کیے ہیں۔ اول نظم قرآن کے الفاظ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تینوں رسول اللہ کے رسول تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ نہ تھے۔ اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے حواری ہوتے تو نظم قرآن میں ان کے رسل عیسیٰ ہونے کی طرف کچھ اشارہ ہوتا۔ ان ظاہر القصۃ یدل علی ان ھؤلاء کانوا رسل اللہ عز وجل لا من جھۃ المسیح (علیہ السلام) کما قال تعالیٰ (اذ ارسلنا الیہم اثنین فکذبوہما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون) الی ان قالوا (ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون، وما علینا الا البلاغ المبین) ولو کانوا ھؤلاء من احواریین، لقالوا عبارۃ تناسب انہم من عند المسیح (علیہ السلام) (ابن کثیر ج 3 ص 569) ۔ دوم : اگر وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے ہوتے تو مشرکین ان پر یہ اعتراض نہ کرتے کہ تم ہماری طرح بشر ہو۔ کیونکہ بشریت کو وہ رسالت اور نبوت کے منافی سمجھتے تھے۔ ثم لو کانوا رسل المسیح لما قالوا اللہم (ان انتم الا بشر مثلنا (ایضا) ۔ سوم، اہل انطاکیہ جن کے پاس حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے وہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے لیکن جن اہل قریہ کا یہاں ذکر ہے انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی اور عذاب خداوندی سے ہلاک ہوئے اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور رسل مسیح (علیہ السلام) سے متعلق نہیں۔ فاذا تقرران انطاکیہ اول مدینۃ آمنت فاہل ھذہ القریۃ ذکر اللہ تعالیٰ انہم کذبوا رسلہ وانہ اھلکہم بصیحۃ واحدۃ اخمدتہم واللہ اعلم (ایضا) ۔ چہارم، اہل انطاکیہ اور رسل عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ لا محالہ نزول تورات کے بعد پیش آیا اور نزول تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی پوری کی پوری قوم کو ہلاک نہیں فرمایا بلکہ مومنین کو مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ اس سے بھی واضح ہوگیا کہ یہ قصہ اہل انطاکیہ اور حواریین سے متعلق نہیں۔ ان قصۃ انطاکیہ من الحواریین اصحاب المسیح بعد نزول التوراۃ و قد ذکر ابو سعید الکدری (رض) وگیر واحد من السلف ان اللہ تبارک و تعالیٰ بعد انزالہ التوراۃ لم یہلک امۃ من الامم الی اخرہم بعذاب یبثہ علیہم بل امر المومنین بعد ذلک بقتال المشرکین (ایضا) ۔ ان وجوہات سے ثابت ہوا کہ جس قریہ (بستی) کا ان آیتوں میں ذکر ہے وہ انطاکیہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہے اور مرسلین سے رسل اللہ مراد ہیں نہ کہ رسل مسیح علیہ السلام، فعلی ھذا یتعین ان ھذہ القریۃ المذکورۃ فی القران قریۃ اخری غیر انطاکیۃ کما حقوق ذلک غیر واحد من السلف ایضا (ابن کثیر ج 3 ص 570) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ کی تحقیق بھی بعینہ یہی ہے اور ان رسولوں کے اسما گرامی یہ ہیں۔ صادق، صدوق اور شلوم (علیہم السلام) جیسا کہ حضرت ابن عباس، کعب الاحبار اور وہب بن منب سے منقول ہے امام طبری نے بھی یہی نام لکھے ہیں۔ (قرطبی جلد 15 ص 14) ، اگر مفسرین سلف کی عبارتوں میں کہیں اس قریہ کا نام انطاکیہ وارد ہوا ہے تو بشرط صحت روایت ہوسکتا ہے اس قریہ کا نام بھی انطاکیہ ہی ہو۔ لیکن لامحالہ یہ وہ انطاکیہ نہیں جس میں مسیح (علیہ السلام) نے اپنے حواری بھیجے تھے کیونکہ اس انطاکیہ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب کبھی نہیں آیا، نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں نہ ان سے پہلے، او تکون انطاکیۃ، ان کان لفظہا محفوظا فی ھذہ القصۃ مدینۃ اخری غیر ھذہ المشہورۃ المعروفۃ فان ھذہ لم یعرف انہا اھلکت لا فی الملۃ النصرانیۃ ولا قبل ذلک واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (ابن کثیر جلد 3 ص 570) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اور اے پیغمبر آپ ان کی عبرت کے لئے ان کے سامنے گائوں والوں کا قصہ عجیبہ اس وقت کا بیان کیجئے جب اس گائوں میں کئی رسول آگے پیچھے آئے۔ یعنی پہلے دو صاحب تشریف لائے پھر ان کے بعد ان دو کی تقویت اور تعزز کیلئے ایک صاحب اور بھیجے گئے۔ چونکہ اس قصے سے رسالت کا اثبات بھی ہے اور منکرین رسالت کی تہدید بھی ہے اس لئے اس واقعہ میں عبرت بھی ہے کیونکہ یہ لوگ رسولوں کی مخالفت کے باعث تباہ و ہلاک ہوئے آگے قصہ کی تفصیل مذکور ہے۔ اذجاء ھا اصحاب قریہ سے بدل اشتمال ہے۔