Surat Yaseen

Surah: 36

Verse: 28

سورة يس

وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا کُنَّا مُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۸﴾

And We did not send down upon his people after him any soldiers from the heaven, nor would We have done so.

اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اُتارا ، اور نہ اس طرح ہم اُتارا کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We sent not against his people after him an army from the heaven, nor was it needful for Us to send. Allah tells us that He took revenge on his people after they had killed him because He, may He be blessed and exalted, was angry with them, for they had disbelieved in His Messengers and killed His close friend. Allah tells us that He did not send an army of angels, nor did He need to send them, to destroy these people; the matter was simpler than that. This was the view of Ibn Mas`ud. According to the reports of Ibn Ishaq from some of his companions concerning the Ayah, وَمَا أَنزَلْنَا عَلَى قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِنْ جُندٍ مِّنَ السَّمَاء وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ (And We sent not against his people after him an army from the heaven, nor was it needful for Us to send). He said: "`We did not seek to outnumber them, for the matter was simpler than that." إِن كَانَتْ إِلاَّ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 یعنی حبیب نجار کے قتل کے بعد ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا۔ یہ اس قوم کی حقیر شان کی طرف اشارہ ہے۔ 28۔ 2 یعنی جس قوم کی ہلاکت کسی دوسرے طریقے سے لکھی جاتی ہے وہاں ہم فرشتے نازل بھی نہیں کرتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ : اس قوم کے بالکل حقیر اور بےوقعت ہونے کے اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی جب ہم کسی قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں تو فرشتوں کی فوج بھیجتے ہیں، کیونکہ اس کام کے لیے اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک فرشتے کی ایک چیخ ہی کافی ہوتی ہے۔ ہاں، اپنے مومن بندوں کی مدد کے لیے ہم ہزاروں فرشتے نازل کردیتے ہیں جو ان کے دل کو مضبوط رکھتے ہیں، اور اس وقت کفار کو عذاب آسمان کے فرشتوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ ایمان والوں کے ہاتھوں سے دیا جاتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verses 28 and 29, it was said: وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ |" (And We did not send down to his people any army from the heavens after him, nor were We (in need ) to send down. It was no more than a single Cry, and in no time they were extinguished.) Mentioned here is the Divine punishment that descended upon the people who had rejected the messengers and had beaten up Habib Najjar until he died a martyr. And regarding the sending of punishment, it was said that Allah did not have to send an army of angels to seize these people - nor was it the way of Allah to send such an army, because just a single angel of Allah is enough to destroy the greatest, mightiest and the bravest of nations. Why would he need to send an army of angels? After that, given there was a crisp description of the punishment coming upon them - it was just a single shrill Cry of the angel, and there they were, all extinguished under its sonic sweep. It appears in Hadith narrations that the archangel, Jibra&il al-&amin (علیہ السلام) ، holding the two sides of the city gate, came up with a hard and horrendous Cry, the shock from which proved unbearable for any living soul, and they all succumbed to sudden death. The state of their dying has been expressed through the word: خَامِدُونَ khamidun) by the Qur&an. The words: خَامِدا (khamada) and خُمُود (khumud) are used to mean the extinguishing or dying of fire. The life of the living depends on energy. When this energy is not there, what remains is death. So, &khamidun& means extinguished, gone extinct, put off.

وما انزلنا علیٰ قومہ من بعدہ من جند من السماء وما کنا منزلین، ان کانت الا صیحة واحدة فاذا ھم خامدون، یہ اس قوم پر آسمانی عذاب کا ذکر ہے جس نے رسولوں کی تکذیب کی اور حبیب نجار کو مار مار کر شہید کردیا تھا۔ اور عذاب کی تمہید میں یہ فرمایا کہ اس قوم کو عذاب میں پکڑنے کے لئے ہمیں آسمان سے کوئی فرشتوں کا لشکر بھیجنا نہیں پڑا اور نہ ایسا لشکر بھیجنا ہمارا دستور ہے۔ کیونکہ اللہ کا تو ایک ہی فرشتہ بڑی بڑی قوی بہادر قوموں کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، اس کو فرشتوں کا لشکر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ان پر آنے والے عذاب کو بیان فرمایا کہ بس اتنا ہوا کہ فرشتے نے ایک زور کی آواز لگائی جس سے یہ سب کے سب ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔ روایات میں ہے کہ جبرئیل امین نے شہر کے دروازے کے دونوں بازو پکڑ کر ایک سخت ہیبت ناک آواز لگائی جس کے صدمہ کو کسی کی روح برداشت نہ کرسکی سب کے سب مرے رہ گئے۔ ان کے مر جانے کو قرآن نے خامدون کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ خمود آگ بجھ جانے کے معنی میں آتا ہے، جاندار کی حیات حرارت غریزی پر موقوف ہے، جب یہ حرارت ختم ہوجائے تو اسی کا نام موت ہے۔ خامدون یعنی بجھنے والے ٹھنڈے ہوجانے والے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِہٖ مِنْۢ بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَمَا كُنَّا مُنْزِلِيْنَ۝ ٢٨ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جب ہم نے اس بستی والوں کو ہلاک کیا تو ہم نے اس شخص کی قوم پر ان کی شہادت کے بعد آسمان سے ان کی ہلاکت کے لیے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اتارنے کی ضرورت تھی یا یہ کہ ان کی شہادت کے بعد پھر ہم نے ان کے پاس اور کوئی رسول نہیں بھیجا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ { وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ } ” اور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم (لشکر) نازل کرنے والے تھے۔ “ اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: یعنی اس ظالم اور نافرمان قوم کو ہلاک کرنے کے لیے ہمیں فرشتوں کا کوئی لشکر آسمان سے اتارنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بس ایک ہی فرشتے نے ایک زور دار آواز نکالی تو اسی سے ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور پوری قوم ہلاک ہو کر ایسی ہوگئی جیسے آگ بجھ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔ والعیاذ باللہ العلی العظیم۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(36:28) وما انزلنا میں ما نافیہ ہے۔ اور ہم نے نہیں اتارا۔ علی قومہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع مرد مومن (حبیب نجار) ہے۔ من بعدہ۔ میں بھی ہ ضمیر کا مرجع حبیب نجار ہی ہے۔ اس کے بعد یعنی اس کے شہید کئے جانے کے بعد۔ وما کنا منزلین۔ اور نہ ہم اتارنے والے تھے ہی ۔ یعنی نہ ہم کو اتارنے کی ضرورت ہی تھی۔ منزلین اسم فاعل ۔ جمع مذکر منصوب (بوجہ خبر کنا) اتارنے والے۔ اس جملہ کی تفسیر میں علامہ ثنا اللہ پانی پتی (رح) صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں ! وما کنا منزلین۔ یعنی ہماری یہ عادت ہی نہیں اور دستور ہی نہیں ہے کہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے فرشتوں کی فوجیں بھیجیں اللہ کو اس کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ باقی یہ بات کہ خندق اور بدر کے دن فرشتوں کو جو بھیجا گیا تھا وہ محض بشارت دینے اور رسول کی عظمت کا اظہار کرنے اور مسلمانوں کے دلوں کو تسکین دینے کے لئے تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :۔ ” وما جعلہ اللہ الا بشری لکم ولتطمئن قلوبکم وما النصر الا من عند اللہ “ (8:10) اور اللہ نے یہ بس اس لئے کیا کہ (تمہیں) بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان ہوجائے درآنحالیکہ نصرت تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ بعض کے نزدیک ما کنا میں ما موصولہ ہے اور جند سے مراد ہے آسمان سے سنگ باری یا طوفان یا شدید بارش۔ یعنی جس طرح گذشتہ قوموں پر ہم نے عذاب کی فوج بھیجی ایسی عذابی فوج حبیب نجار کی قوم پر نازل نہیں کی۔ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کی طرف اشارہ ہے اور حبیب نجار کی قوم کی تحقیر مقصود ہے کہ وہاں فرشتوں کی فوج اتارنے کی ضرورت تو کجا رہی وہاں تو پہلی قوموں کی طرح طوفان بادوباراں وغیرہ کی بھی ضرورت نہ تھی۔ محض ایک فرشتہ کی ایک چیخ ہی کافی تھی کہ سب ایک دم بجھ کر رہ گئے (یعنی مرگئے) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 چناچہ ان کے کفر و ظلم اور تکذیب انبیاء ( علیہ السلام) کی پاداش میں جب ہم نے انہیں ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ اہتمام نہیں کیا اور نہ اس اہتمام کی ضرورت تھی کہ آسمان سے فرشتوں کی فوج اتارتے جو انہیں ہلاک کرتی۔ جنگ بدر میں فرشتوں کی فوج کا نزول صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تھا ورنہ کفار قریش کو ہلاک کرنے کیلئے تو فرشتے کے ایک بازو کی حرکت ہی کافی تھی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن کا ذکر ہورہا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرتبہ کے نہ تھے کہ ان کی تعظیم کیلئے فرشتوں کی فوج اتارنے کی ضرورت پیش آتی۔ ( کبیر، شوکانی) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عظیم مبلّغ کے عظیم اور بہترین انجام کے مقابلے میں قوم کا بد ترین انجام۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کے رہنے والوں کو ایک چٹخار کے ذریعے اس طرح نیست و نابود کیا کہ دیکھنے والے کو اس کا نشان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ جونہی شہر والوں نے اس عظیم مبلّغ کو قتل کیا رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم نے اس کی موت کے بعد اس شہر کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اسے تباہ کرنے کے لیے ہم نے کوئی لشکر جرار نہیں بھیجا تھا کیونکہ ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے ملائکہ بھیجنے یا ان پر لشکر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ انہیں تباہ کرنے کے لیے ایک خوفناک چیخ ہی کافی ہے۔ لہٰذا انہیں ایک دھماکہ خیز چٹخار نے خاکستر بنا دیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کو معلوم ہوجائے کہ انہیں تباہ کرنے کے لیے چٹخار ہی کافی ہے۔ مسائل ١۔ کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے غضب کی ایک چٹخار نے اس بستی کو بےنام و نشان کردیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور (وَمَا کُنَّا مُنزِلِیْنَ ) کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بستی کے ہلاک کرنے کے لیے ہم فرشتوں کو اتارنے والے نہیں تھے کیونکہ ہمیشہ تعذیب اور ہلاکت کے لیے فرشتے نہیں آتے، اللہ تعالیٰ کبھی فرشتوں کو اتار دیتے ہیں جیسا کہ غزوۂ بدر میں فرشتے نازل کیے گئے اور کبھی نہیں اتارتے، مختلف طریقوں سے ہلاک کیا گیا۔ (قال صاحب روح (ج ٣٣: ص ٢) والظاھر انّ المراد بھذا الجند جند الملئکۃ ای ما انزلنا لاھلاکھم ملآء کَۃً مِّنَ السَّمَآءٍ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ وما صح فی حکمتنا ان ننزّل الجند لاھلاکھم لما انا قدرنا لکل شیءٍ سبباً حیث اھلکنا بعض من اھلکنا من الامم بالحاصب وبعضھم بالصیحۃ وبعضھم بالخسف بعضھم بالاغراق وجعلنا انزال الجند من خصائصک فی الانتصار لک من قومک وکفینا امر ھؤلاء بصیحۃ ملک صاح بھم فھلکوا۔ یعنی ان ذلک الرجل خوطب بذلک) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں ظاہر یہ ہے کہ اس لشکر سے مراد فرشتوں کا لشکر ہے یعنی ہم نے ان کے ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتارتے اور نہ ہی ہم فرشتے اتارنے والے تھے کہ ہماری حکمت میں ان کی ہلاکت کے لیے فرشتوں کا اتارنا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ہم نے ہر چیز کے لیے سبب مقرر کیا ہے جیسا کہ بعض قوموں کو ہم نے پتھر برسا کر ہلاک کیا بعض کو چیخ سے بعض کو زمین میں دھنسا کر بعض کو پانی میں غرق کرکے ہلاک کیا فرشتے نہیں اتارے، لیکن اب یہ تیری قوم میں تیری مدد کے لیے فرشتوں کا اترنا تیری خصوصیات میں سے ہے۔ اور ہم نے ان کے لیے ایک فرشتہ کی چیخ کو کافی کردیا فرشتے نے چیخ ماری اور یہ سب ہلاک ہوگئے۔ یعنی اس آدمی سے خطاب کرکے یہ کہا گیا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ وما انزلنا الخ، یہ حبیب نجار کی قوم کے انجام بد کا بیان ہے کہ ہم نے اس کی شہادت کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہی تھی کیونکہ ان کو ہلاک کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نکام نہ تھا ان کانت الا صیحۃ واحدۃ الخ، ان پر ہم نے جو عذاب نازل کیا وہ تو بس ایک خوفناک چیخ تھی جس سے ساری کی ساری قوم یکبارگی ہلاک ہو کر رہ گئی روی ان اللہ تعالیی بعث علیہم جبریل (علیہ السلام) حتی اخذ بعضا واتی، باب المدینۃ فصاح بہم صیحۃ واحدۃ فماتوا جمیعا (روح ج 23 ص 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(28) اور اس شہید کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا اور نہ ہم کو لشکر بھیجنا ہی تھا۔ یعنی اس کی قوم کو تباہ کرنے کی غرض سے کسی لشکر کے بھیجنے کی ضرورت نہ تھی اور ہماری حکمت کا مقتضی یہ نہ تھا کہ ہم کسی لشکر کو بھیجتے یعنی ان کی ہلاکت کوئی ایسا دشوار امر نہ تھا کہ جس کے لئے کوئی جماعت فرشتوں کی مقرر کی جاتی، بلکہ ان کی ہلاکت کا کام بہت آسان تھا۔