Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 10

سورة الصافات

اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾

Except one who snatches [some words] by theft, but they are pursued by a burning flame, piercing [in brightness].

مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لےبھاگے تو ( فورا ہی ) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ ... Except such as snatch away something by stealing, means, except for the one among the Shayatin who manages to get something, which is a word he has heard from the heaven. Then he throws it down to the one who is beneath him, who in turn throws it down to the one who is beneath him. Perhaps the flaming fire will strike him before he is able to throw it down, or perhaps he will throw it -- by the decree of Allah -- before the flaming fire strikes him and burns him. So the other devil takes it to the soothsayer, as we have seen previously in the Hadith. Allah says: إِلاَّ مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Except such as snatch away something by stealing, and they are pursued by a flaming fire of piercing brightness. meaning, shining brightly. Ibn Jarir recorded that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "The Shayatin had places where they sat in the heavens listening to what was being revealed by Allah. The stars did not move and the Shayatin were not struck. When they heard the revelation, they would come down to earth and to every word they would add nine of their own. When the Messenger of Allah was sent, if a Shaytan wanted to take his seat in the heavens, the flaming fire would come and would not miss him; it would burn him every time. They complained about this to Iblis, may Allah curse him, and he said, `Something must have happened.' He sent his troops out and they found the Messenger of Allah standing in prayer between the two mountains of Nakhlah." -- Waki` said, "This means in the valley of Nakhlah." -- "They went back to Iblis and told him about that, and he said, `This is what has happened."'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] شہاب ثاقب :۔ اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ : && ایک دفعہ آپ صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعتا ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی ہوگئی۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا : && دور جاہلیت میں جب ایسا واقعہ ہوتا تو تم کیا کہتے تھے ؟ && صحابہ کہنے لگے : && ہم تو یہی کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مرگیا یا پیدا ہوا ہے && آپ نے فرمایا : && یہ کسی کی زندگی یا موت کے سبب سے نہیں ٹوٹتا بلکہ ہمارا پروردگار کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو حاملان عرش تسبیح کرتے ہیں پھر آسمان والے فرشتے جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان سے قریب والے تسبیح کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ سبحان اللہ کی آواز ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا۔ وہ انہیں خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر دنیا کے آسمان تک پہنچتی ہے اور شیطان اچک کر سننا چاہتے ہیں تو ان کو مار پڑتی ہے اور وہ کچھ بات لاکر اپنے یاروں (کاہنوں وغیرہ) پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ خبر تو سچ ہوتی ہے مگر وہ اسے بدلتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) نیز اس سلسلہ میں سورة حجر کی آیت نمبر ١٨ کا حاشیہ نمبر ٩ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ : یعنی شیاطین ملأ اعلیٰ کی کسی بات پر کان نہیں لگا سکتے، سوائے اس بات کے جسے کوئی شیطان دفعتاً اچک کرلے جائے، تو ایسی صورت میں ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ چناچہ کبھی تو وہ شعلہ نیچے کے شیطان کو وہ بات پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد، پھر وہ بات کئی شیاطین سے منتقل ہوتی ہوئی کسی کاہن تک پہنچ جاتی ہے، جو اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ استاذ محمد عبدہٗ (رح) لکھتے ہیں : ” یہ بحث حکماء اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہاب ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں، یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارا بن جاتا ہے۔ “ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ” انھی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے، جیسے سورج سے اور آتشی شیشے سے۔ “ (موضح) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر (١٦ تا ١٨) ، شعراء (٢١٠ تا ٢١٢ اور ٢٢٢، ٢٢٣) اور سورة جن (٨، ٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَۃَ فَاَتْــبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ۝ ١٠ خطف الخَطْفُ والاختطاف : الاختلاس بالسّرعة، يقال : خَطِفَ يَخْطَفُ ، وخَطَفَ يَخْطِفُ «3» وقرئ بهما جمیعا قال : إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ وذلک وصف للشّياطین المسترقة للسّمع، قال تعالی: فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] ، يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] ، وقال : وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] ، أي : يقتلون ويسلبون، والخُطَّاف : للطائر الذي كأنه يخطف شيئا في طيرانه، ولما يخرج به الدّلو، كأنه يختطفه . وجمعه خَطَاطِيف، وللحدیدة التي تدور عليها البکرة، وباز مُخْطِف : يختطف ما يصيده، ( خ ط ف ) خطف یخطف خطفا واختطف اختطافا کے معنی کسی چیز کو سرعت سے اچک لینا کے ہیں ۔ یہ باب ( س ض ) دونوں سے آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ«4» ہاں جو کوئی ( فرشتوں کی ) بات کو ) چوری سے جھپث لینا چاہتا ہے ۔ طا پر فتحہ اور کسرہ دونوں منقول ہیں اور اس سے مراد وہ شیاطین ہیں جو چوری چھپے ملا اعلیٰ کی گفتگو سنا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا :۔ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ [ الحج/ 31] پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اڑا کر پھینک دے ۔ يَكادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصارَهُمْ [ البقرة/ 20] قریب ہے کہ بجلی ( کی چمک ) ان کی آنکھوں ( کی بصارت ) کو اچک لے جائے ۔ وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ [ العنکبوت/ 67] اور لوگ ان کے گرد نواح سے اچک لئے جاتے ہیں ۔ یعنی ان کے گرد ونواح میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے ۔ الخاف ۔ ( 1) ابابیل کی قسم کا ایک پرندہ جو پرواز کرنے میں کسی چیز کو جپٹ لیتا ہے ۔ ( 2) آہن کج جس کے ذریعے کنوئیں سے ڈول نکالا جاتا ہے گویا وہ ڈول کو اچک کر باہر لے آتا ہے ۔ ( 3) وہ لوہا جس پر کنوئیں کی چرغی گھومتی ہے ۔ ج خطاطیف باز مخطف ۔ باز جو اپنے شکار پر جھٹپتا ہے ۔ الخطیف ۔ تیز رفتاری ۔ الخطف الحشاو مختطفتہ ۔ مرد باریک شکم جس کے وبلاپن کی وجہ سے ایسا معلوم ہو کہ اس کی انتٹریاں اچک لی گئی ہیں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو ایسے کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں ۔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا ۔ اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] جو ( کتاب ) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ۔ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ کرتے ہیں ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا ۔۔۔ کے مذہب پر چلتا ہوں ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے رستے پر ( قائم ) کردیا ہے تو اسیی ( راستے ) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَاتَّبَعُوا ما تَتْلُوا الشَّياطِينُ [ البقرة/ 102] اور ان ( ہزلیات ) کے پیچھے لگ گئے جو ۔۔۔ شیاطین پڑھا کرتے تھے ۔ شهب الشِّهَابُ : الشّعلة السّاطعة من النار الموقدة، ومن العارض في الجوّ ، نحو : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] ، شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] ، شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] . والشُّهْبَةُ : البیاض المختلط بالسّواد تشبيها بالشّهاب المختلط بالدّخان، ومنه قيل : كتيبة شَهْبَاءُ : اعتبارا بسواد القوم وبیاض الحدید . ( ش ھ ب ) الشھاب کے معنی بکند شعلہ کے ہیں خوارہ وہ جلتی ہوئی آگ کا ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] تو جلتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لگتا ہے ۔ شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] روشنی کرنیوالا انگارہ ۔ شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] انگارہ تیار ۔ الشھبتہ سفیدی جس میں کچھ سیاہی ملی ہوئی ہو ۔ جیسا کہ انگارہ کی روشنی کے ساتھ دھواں ملا ہوتا ہے اسی سے کتیبتہ شھباء کاز محاورہ ہے جس کے معنی مسلح لشکر کے ہیں کیونکہ اس میں ہتھیاروں کی چمک سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاہی اور سفیدی ملی ہوئی ہیں ۔ ثقب الثَّاقِب : المضیء الذي يثقب بنوره وإضاء ته ما يقع عليه . قال اللہ تعالی: فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] ، وقال تعالی: وَما أَدْراكَ مَا الطَّارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِبُ [ الطارق/ 2- 3] ، وأصله من الثُّقْبَة، والمَثْقَب : الطریق في الجبل، كأنه قد ثقب، وقال أبو عمرو : والصحیح : المِثْقَب وقالوا : ثَقَبْتُ النار، أي : ذكيتها . ( ث ق ب ) الثاقب اتنا روشن کہ جس چیز پر اس کی کرنیں پڑیں اس میں چھید کرتی پار گزر جائیں : قرآن میں ہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے ۔ وَما أَدْراكَ مَا الطَّارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِبُ [ الطارق/ 2- 3] اسمان اور رات کے وقت آنے والے کی قسم اور تم کو کیا معلوم کہ رات کے وقت آنے والا کیا ہے ؟ وہ تارا چمکنے والا ۔ الثاقب اصل میں ثقبۃ سے ہے جس کے معنی سواخ کے ہیں ۔ المثقب پہاڑ میں سخت اور دشوار گزار راستہ گویا وہ سوراخ کی مثل ہے ۔ ابو عمر و کا قول ہے کہ صحیح لغت مثقب ( بفتح ) المیم ) ہے محاورہ ہے ثقبت النار میں نے آگ بھڑکائی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ} ” سوائے اس کے کہ جو کوئی اُچک لے کوئی چیز تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک چمکتا ہوا انگارہ۔ “ یعنی ان میں سے جو کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہوا پایا جاتا ہے وہ اس میزائل کا شکار ہوجاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 To understand this one should keep in view the fact that in the time of the Holy Prophet, soothsa ving was in great vogue in Arabia. The soothsayers used to make predictions, give news of the unseen, tell the whereabouts of the lost properties and articles, and the people used to visit them to know the events of their past and future lives. These soothsayers claimed that they had some jinns and satans under their control, who brought them all sorts of news. In this environment when the Holy Prophet was appointed to Prophethood, and he began to recite the verses of the Qur'an, which described the past history and contained news of the future, and also stated that an angel brought him these verses, his opponents immediately branded him a soothsayer and started telling others that, like the other soothsayers, he too was associated with a satan, who brought him news from the heavens, which he presented as revelations from Allah. To refute this accusation, Allah says: "The satans have no access to heaven. They have no power to hear the conversations of the angels and bring its news for others; if by chance a little of it enters the ear of a satan, and he tries to bring it down, he is followed by a flashing flame." In other words, it means: "The grand system of the universe, which is functioning under the agency of the angels has been firmly guarded and secured against every interference of the satans. Not to speak of interfering in it, they do not even have the power to obtain any kind of information about it. " (For further explanation, see AI-Hijr: 17-18 and the E.N's thereof).

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :7 اس مضمون کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس وقت عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا ۔ جگہ جگہ کاہن بیٹھے پیشن گوئیاں کر رہے تھا ، غیب کی خبریں دے رہے تھے ، گم شدہ چیزوں کے پتے بتا رہے تھے ، اور لوگ اپنے اگلے پچھلے حال دریافت کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے ۔ ان کاہنوں کا دعویٰ یہ تھا کہ جن اور شیاطین ان کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کی خبریں لا لا کر دیتے ہیں ۔ اس ماحول میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر سرفراز ہوئے اور آپ نے قرآن مجید کی آیات سنانی شروع کیں جن میں پچھلی تاریخ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کی خبریں دی گئی تھیں ، اور ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی بتایا کہ ایک فرشتہ یہ آیات میرے پاس لاتا ہے ، تو آپ کے مخالفین نے فوراً آپ کے اوپر کاہن کی پھبتی کس دی اور لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ ان کا تعلق بھی دوسرے کاہنوں کی طرح کسی شیطان سے ہے جو عالم بالا سے کچھ سن گن لے کر ان کے پاس آ جاتا ہے اور یہ اسے وحی الہٰی بنا کر پیش کر دیتے ہیں ۔ اس الزام کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت ارشاد فرما رہا ہے کہ شیاطین کی تو رسائی ہی عالم بالا تک نہیں ہو سکتی ۔ وہ اس پر قادر نہیں ہیں کہ ملاء اعلیٰ ( یعنی گروہ ملائکہ ) کی باتیں سن سکیں اور لا کر کسی کو خبریں دے سکیں ۔ اور اگر اتفاقاً کوئی ذرا سی بھنک کسی شیطان کے کان میں پڑ جاتی ہے تو قبل اس کے کہ وہ اسے لے کر نیچے آئے ، ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے کائنات کا جو عظیم الشان نظام چل رہا ہے وہ شیاطین کی دراندازی سے پوری طرح محفوظ ہے ۔ اس میں دخل دینا تو درکنار ، اس کی معلومات حاصل کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم ، صفحہ 500 تا 502 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

5: اس حقیقت کی پوری تفصیل سورۂ حجر : 16، 17 کے حاشیے میں گذر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:10) الا من۔ الا۔ لا یسمعون کی وائو سے استثناء متصل ہے اور من اس سے بدل ہے ای لا یسمع الشلطین الا الشیطن الذی خطف الخطفۃ یعنی شیاطین (عالم بالا کی باتوں کو) کان لگا کر نہیں سن سکتے۔ الا مگر وہ شیطن (جو ان میں سے کچھ) لے ہی اڑے خطف (باب سمع) خطفۃ وخطف مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے اچک لیا۔ الخطفۃ جھپٹنا۔ عضو۔ جس کو درندہ جھپٹا مار کر جسم سے اتار لے جائے۔ یا انسان کسی زندہ جانور سے کاٹ لے۔ الخطفۃ۔ خطف یخطف کا مصدر ہے نصب بوجہ مصدر کے ہے یا کہ بوجہ مفعول بہ ہونے کے۔ فاتبعہ۔ میں ف تعقیب کا ہے اتبع اتباع (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب من موصولہ کی طرف راجع ہے تو اس کے پیچھے لگ گیا۔ شھاب ثاقب۔ موصوف وصفت، شھاب کے معنی بلند شعلہ کے ہیں۔ خواہ وہ جکتی ہوئی آگ کا ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے۔ اس کی جمع اشھب شھب شھبان ہے۔ ثاقب۔ صیغہ اسم فاعل واحد مذکر۔ ثقوب مصدر۔ الثاقب اتنا روشن کہ جس چیز پر اس کی کرنیں پڑیں اس میں چھید کرتی پار گذر جائیں۔ الثاقب اصل میں ثقبۃ سے ہے جس کے معنی سوراخ کے ہیں۔ شھاب ثاقب ایک تیز روشن شعلہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 چناچہ کبھی تو وہ انگارہ نیچے کے شیطان تک اس بات کو پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد پھر جب کلمہ کاہن تک پہنچ جاتا ہے تو کاہن اس میں سو طرح کے جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ ( کما ورد فی الحدیث) یہ بحث حکما اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہاب ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارہ بن جاتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” انہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج اور آتشی شیشے سے ( حجر : 16، 18)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پس سمع خبر کے بعد بھی اسماع و ایصال خبر سے ناکام رہتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اِِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ) (مگر ان میں سے جس نے کوئی بات اچک لی) یعنی فرشتے جو آپس میں باتیں کرتے ہیں مار پڑنے سے پہلے ان میں سے کوئی بات کسی نے اچک لی اور وہاں سے لے کر چل دیا تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ یہ روشن شعلہ اس پر پڑتا ہے تو اسے جلا دیتا ہے یا اس کے بعض اعضاء کٹ جاتے ہیں یا وہ دیوانہ ہوجاتا ہے۔ آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ستاروں کے ذریعے سرکش شیاطین سے آسمان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہے۔ سورة ملک میں واضح طور پر فرمایا : (وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ ) (اور ہم نے ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا) اور سورة الحجر اور سورة الصافات میں مزید فرمایا کہ شیطان اوپر بات سننے جاتے ہیں تو انہیں شعلہ مار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ اشکال کیا ہے کہ ستارے تو اپنی جگہ چھوڑ کر شیاطین کے پیچھے دوڑتے ہوئے نظر نہیں آتے پھر ستاروں کے مارنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ جو ستارے اس کام پر لگے ہوئے ہیں وہ ہمیں نظر آتے ہوں، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعلہ جسے سورة الحجر میں (شِہَابٌ مُّبِیْنٌ) اور سورة صافات میں (شِہَابٌ ثَاقِبٌ) فرمایا ہے یہ شہاب بعض ستاروں کی سخونت (یعنی گرمی) سے پیدا ہوتے ہوں اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ شہاب ثاقب دن کو بھی شیاطین کا پیچھا کرتا ہے لیکن سورج کی روشنی کی وجہ سے نظر نہیں آتا لہٰذا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ شیاطین رات ہی کو بات سننے کے لیے کیوں اوپر جاتے ہیں ؟ اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ آسمان پر جو انگارہ نظر آئے وہ شیاطین ہی کے مارنے کے لیے ہو اس کے وجود کے ١ ؂ اور ظاہراً سیاق آیت لا یسمعون سے معلوم ہوتا ہے کہ اول استماع کی نفی کی باعتبار اکثر کے پھر بعد استماع شاذو نادر کے یقذفون میں سمع کی نفی کی پھر بعد سمع اتفاقی کے اتبعہ سے سماع کی نفی کی اور من کل جانب کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شیطان کو ہر طرف سے رجم کرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرف کوئی شیطان جائے ادھر ہی مرجوم ہوتا ہے۔ دوسرے اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) مگر ہاں جو شیطان کوئی خبر اچک کرلے بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے ہولیتا ہے۔ یعنی اگر کلمات ملائکہ میں سے کوئی کلمہ سن کر بھاگ نکلے تو اس کے پیچھے ایک دہکتا ہوا شعلہ لگ لیتا ہے یہ شیاطین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے قبل ایسا کرتے تھے کہ آسمانوں کی خبریں اڑا لاتے تھے پھر اس میں کچھ باتیں اپنی طرف سے ملا دیا کرتے تھے اور کاہنوں کو بتادیا کرتے تھے۔ وہ کاہن اپنے معتقدوں اپنے فہم کا قصور سمجھتے تھے۔ بہرحال یہ سلسلہ جاری تھا انشاء اللہ تفصیل بشرط زندگی سورة جن میں آجائے گی یہ شعلہ اس شیطان کو بالکل خاکستر کردیتا ہے یا صرف مجروع کردیتا ہے اس میں دو قول ہیں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول یہی ہے کہ یہ شعلہ ہلاک نہیں کرتا بلکہ شیطان کو شدید مجروح کردیتا ہے (واللہ اعلم) اب آگے قیامت اور بعثت کا ذکر فرمایا :