Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 113

سورة الصافات

وَ بٰرَکۡنَا عَلَیۡہِ وَ عَلٰۤی اِسۡحٰقَ ؕ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحۡسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِہٖ مُبِیۡنٌ ﴿۱۱۳﴾٪  7

And We blessed him and Isaac. But among their descendants is the doer of good and the clearly unjust to himself.

اور ہم نے ابراہیم و اسحاق ( علیہما السلام ) پر برکتیں نازل فرمائیں اور ان دونوں کی اولاد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

We blessed him and Ishaq. And of their progeny are (some) that do right, and some that plainly wrong themselves. This is like the Ayah: قِيلَ ينُوحُ اهْبِطْ بِسَلَـمٍ مِّنَّا وَبَركَـتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ It was said: "O Nuh! Come down (from the ship) with peace from Us and blessings on you and on the people who are with you, but people to whom We shall grant their pleasures (for a time), but in the end a painful torment will reach them from Us." (11:48)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

113۔ 1 یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے یعقوب (علیہ السلام) ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے 12 قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیاء ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوئے۔ 113۔ 2 شرک اور معصیت، ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کردیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے، یہود و نصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ اس طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک و معصیت پر مبنی ہیں۔ اس لئے یہ اونچی نسبتیں ان کے لئے عمل کا بدل نہیں ہوسکتیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٧] ذُرِّیَّتِھِمَا میں تثنیہ کی ضمیر سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اور سیدنا اسماعیل اور سیدنا اسحاق کی طرف بھی۔ جن سے دو بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔ ایک بنی اسماعیل اور دوسرے بنی اسرائیل۔ بنو اسماعیل میں صرف نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے جبکہ بنی اسرائیل میں بیشمار انبیاء پیدا ہوئے۔ اور اچھے اور برے لوگ ان دونوں قوموں میں موجود رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ : ” عَلَيْهِ “ سے مراد ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انھیں بہت اولاد عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ رکھا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ” دونوں “ کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی، اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوئے۔ “ (موضح) وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ : یعنی ان کی اولاد میں سے نیک بھی ہوں گے، بد بھی، عدل کرنے والے بھی ہوں گے اور اپنی جان پر صاف ظلم کرنے والے بھی۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا : ” شاید یہ کہنے کا مقصد یہ وہم دور کرنا ہو جو بعض لوگوں کو ” وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ “ سے پیدا ہوسکتا تھا کہ اس کا تقاضا ہے کہ ان کی اولاد میں بھی وہ برکت جاری رہے اور برکت مکمل تب ہوتی جب ساری اولاد نیک ہو، تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اولاد میں سے نیک و بد ہر قسم کے لوگ ہوں گے۔ “ یعنی محض خاندان اور باپ دادا کے ساتھ نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی مثال امت مسلمہ میں بعض لوگوں کا اہل بیت کے متعلق یہ خیال ہے کہ سید بادشاہ جو کچھ بھی کرتے رہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حسن و حسین (رض) کی اولاد ہونے کی وجہ سے بخشے بخشائے ہیں، جب کہ یہ خیال باطل ہے۔ کیونکہ اگر نبی کی اولاد ہونا ہی بخشش کے لیے کافی ہو تو سارے انسان ہی آدم و نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی اولاد ہیں، اس لیے سب ہی بخشے ہوئے ہونے چاہییں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last verse, it was said: وَمِن ذُرِّ‌يَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ (and among the progeny of both of them, some are good and some are utterly unjust to their own selves.- 37:113). Refuted through this verse is the false pride of the Jews that being among the progeny of these noble prophets (علیہم السلام) is in itself sufficient to bless one with merit and salvation. This verse openly declares that having lineal connection with a man of virtue is not a sufficient guarantee of one&s salvation, in fact, this thing depends on one&s own beliefs and deeds.

وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِيْنٌ (ان دونوں کی نسل میں بعض اچھے بھی ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو صریح اپنا نقصان کر رہے ہیں، اس آیت کے ذریعہ یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید کردی گئی ہے کہ ان حضرات انبیا (علیہم السلام) کی اولاد میں سے ہونا ہی انسان کی فضیلت اور نجات کے لئے کافی ہے۔ اس آیت نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ کسی نیک انسان سے نسبی تعلق نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کا اصل مدار انسان کے اپنے عقائد اور اعمال پر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَبٰرَكْنَا عَلَيْہِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ۝ ٠ ۭ وَمِنْ ذُرِّيَّـتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِيْنٌ۝ ١١٣ۧ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ ذر الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] ( ذ ر ر) الذریۃ ۔ نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے مبینبَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور ان دونوں کی نسل میں بعض موحد بھی ہیں اور بعض کھلے کفر میں مبتلا ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٣{ وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ } ” اور ہم نے برکت نازل کی اس پر بھی اور اسحاق ( علیہ السلام) پر بھی۔ “ { وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ} ” اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی تھے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔ “ ” ان دونوں “ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ واقعہ قصص النبیین کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ قصص النبییّن اور انباء الرسل کی اصطلاحات قرآن کے اس مطالعہ کے دوران قبل ازیں متعدد بار زیر بحث آچکی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

67 Here, the question arises: Who was the son whom the Prophet Abraham had got ready to offer as a sacrifice, and who had willingly offered himself to be slaughtered as a sacrifice? The first answer to this question is given by the Bible; and it is this: "And it came to pass after these things, that God did tempt Abraham, and said unto him, Abraham: . . . Take now thy son thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of." (Gen. 22: 1-2). In this statement, on the one hand, it is being said that Allah had asked for the offering of the Prophet Isaac, and on the other, that he was Abraham's only son, whereas the Bible itself, at other places, conclusively states that the Prophet Isaac was. not the only son of the Prophet Abraham.Consider the following statements of the Bible: "Now Sarai, Abram's wife bore him no children: and she had an handmaid, an Egyptian, whose name was Hagar. And Sarai said unto Abraham, Behold now, the Lord hath restrained me from bearing: I pray thee, go in unto my maid; it may be that I may obtain children by her. And Abraham hearkened to the voice of Sarai. And Sarai Abraham's wife took Hagar her maid the Egyptian, after Abraham had dwelt ten years in the land of Canaan, and gave her husband Abram to be his wife. And he went in unto Hagar, and she conceived." (Gen .16: 1-4) "And the angel of the Lord said unto her, Behold thou art with child, and shalt bear a son, and shalt call his name Ishmael." (16: 11) "And Abraham was fourscore and six years old, when Hagar bore Ishmael to Abraham." (16: 16). "And God said unto Abraham, `As for Sarai thy wife, ..... I will bless her and give thee a son also of her: . . . . . and thou shalt call his name Isaac . . .. . . which Sarah shall bear unto thee at this set time in the next year And Abraham took Ishmael his son and ......every male among the men of Abraham's house; and . .. . . circumcised the flesh of their foreskin in the selfsame day, as God had said unto him. And Abraham was ninety years old and nine, when he was circumcised in the flesh of his foreskin. And Ishmael his son was thirteen years old, when he was circumcised in the flesh of his foreskin. " (Gen. 17: 15-25). "And Abraham was an hundred years old, when his son Isaac was born unto him. " (Gen. 21: 5). This brings out the contradictions of the Bible. It is evident that for 14 years the Prophet Ishmael was the only son of the Prophet Abraham. Now if the offering had been asked of the only son, it was not of Isaac but of Ishmael, for he alone was the only son; and if the offering of Isaac had been asked, it would be wrong to say that the offering of the only son had been asked. Now let us consider the Islamic traditions, and they contain great differences. According to traditions cited by the commentators from the Companions and their immediate followers, one group of them is of the opinion that the son was the Prophet Isaac, and this group contains the following names: Hadrat `Umar, `Hadrat `Ali, `Hadrat `Abdullah bin Mas'ud, Hadrat `Abbas bin `Abdul Muttalib, Hadrat `Abdullah bin `Abbas, Hadrat Abu Hurairah, Qatadah, `Ikrimah, Hasan Basri, Said bin Jubair, Mujahid, Sha`bi, Masruq, Makhul, Zuhri, `Ata, Muqatil, Suddi, Ka'b Ahbar, Zaid bin Aslam, and others. The other group says that it was the Prophet Ishmael, and this group contains the names of the following authorities: Hadrat Abu Bakr, Hadrat 'Ali, Hadrat `Abdullah bin `Umar, Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas, Hadrat Abu Hurairah, Hadrat Mu'awiyah, `Ikrimah, Mujahid, Yusuf bin Mahran, Hasan Basri, Muhammad bin Ka`b al-Qurzi, Sha`bi, Said bin al-Musayyab, Dahhak, Muhammad bin 'Ali bin Husain (Muhammad alBaqir), Rabi`bin Anas, Ahmed bin Hanbal, and others. When compared, the two lists will be seen to contain several common names: this is due to the reason that from the same person two different views have been reported. For example, from Hadrat 'Abdullah bin `Abbas, `Ikrimiah has related the saying that the son was the Prophet Isaac, but from him again `Ata' bin Abi Rabah relates: "The Jews claim that it was Isaac, but the Jews tell a tie. " Likewise. from Hadrat Hasan Basri, one tradition is to the effect that the Prophet Isaac was the son meant to be made the offering, but `Umar bin `Ubaid says that Hasan Basri had no doubt regarding that the son whom the Prophet Abraham had been commanded to offer as a sacrifice was the Prophet Ishmael (peace be upon him). This diversity of tradition has resulted in the diversity of opinion among the scholars of Islam. Some of them e.g. Ibn Jarir and Qadi `Iyad, have expressed the firm opinion that the son was the Prophet Isaac. Others, like Ibn Kathir have given the verdict that it were the Prophet Ishmael. There ware others who are un-certain and wavering, e.g. Jalaluddin Suyuti. However, a deep inquiry into the question establishes the fact that the son intended to be offered as a sacrifice was the Prophet Ishmael. The following are the arguments: (1) As stated by the Qur'an above, at the time of his emigration from the country, the Prophet Abraham had prayed for a righteous son and in answer to it, Allah had given him the good news of a clement boy. The context shows that this prayer was made at a time when he was childless, and the boy whose good news was given was his first-born child. Then, this also becomes obvious froth the Qur'anic story that when the child grew up to boyhood, he was inspired to offer him as an offering. Now, it is established beyond any doubt that the Prophet Abraham's first-born son was the Prophet Ishmael and not the Prophet Isaac. The Qur'an itself has stated the order between the two sons, thus: "All praise be to Allah Who has given me sons like Ishmael and Isaac in my old age." (Ibrahim: 39). (2) The words used in the Qur'an with regard to the Prophet Isaac while giving the good news of his birth are: "And they gave him the good news of the birth of a son, possessing knowledge, ('alim). " (AdhDhariyat: 28 "Do not be afraid: we give you the good news of a son, possessing knowledge." (AI-Hijr: 53). But the son, the good news of whose birth has been given here; has been called a clement (halim) son. This shows that the two sons had distinctive qualities, and the offering had been asked of the clement son and not of the son possessing knowledge. (3) Along with giving the good news of the birth of the Prophet Isaac in the Qur'an, the good news of the birth of a grandson like Jacob was also given: 'Then We gave her the good news of Isaac, and after Isaac of Jacob." (Hud: 71). Now obviously, if about the son along with the news of whose birth the news of a worthy son to be born to him had also been given, the Prophet Abraham was shown a vision that he was sacrificing him, he would never have understood that he was being inspired to offer that very son as an offering. 'Allama Ibn Jarir contends that the Prophet Abraham might have been shown this vision at a time when Jacob had already been born to the Prophet Isaac. But this is, in. fact, a very weak reply to the argument. The Qur'an says: 'When the boy became able to work with his father," then he was shown the vision Anyone who reads these words with an unbiased mind will have the image of an 8 to 10 years lad beforc him. No one can imagine that these words had been used about a young man having children. (4) Allah, at the end of the story, says: "We gave him the good news of Isaac, a Prophet among the righteous." This clearly shows that it was not the same son, whom he had been inspired to offer as a sacrifice; but before this the good news of some other son had been given; then when he grew up and became able to work with his father, it was commanded to sacrifice him. Afterwards, when the Prophet Abraham came through this test successfully, he was given the good news of the birth of another son, the Prophet Isaac (may peace be upon him). This order of the events conclusively proves that the son whom the Prophet Abraham had been commanded to sacrifice was not Isaac but another son who had been born several years beforc him, 'Allama Ibn Jarir rejects this express argument, saying that in the beginning only the good news of the birth of the Prophet Isaac had been given. Then, when he became ready to be scarificed for the sake of Allah's approval and pleasure, it was rewarded in the form of the good news of his Prophethood. But this reply to the argument is weaker still. If it had really been so, AIlah would not have said: °We gavc him the good news of Isaac, a Prophet among the righteous," but "We gave him the good news that this same son of yours would be a Prophet among the righteous." (5) Authentic traditions confirm that the horns of the ram which was slaughtered as a ransom for the Prophet Ishmael remained preserved in the Holy Ka'bah till the time of Hadrat 'Abdullah bin Zubair. Afterwards when Hajjaj bin Yusuf besieged Ibn Zubair in the Ka'bah and demolished the Kab'bah, the horns also were destroyed. Both Ibn 'Abbas and 'Amir Sha'bi; testify that they had seen the horns in the Ka'bah. (Ibn Kathir). This is a proof of the fact that the event of the sacrifice had taken place in Makkah and not in Syria, and concerned the Prophet Ishmael. That is why a relic of it had been preserved in the Holy Ka'bah built by the Prophets Abraham and Ishmael. (6) The Arab traditions confirmed that this event of the sacrifice had taken place in Mina (near Makkah), and it was not only a tradition but practically also it had been a part of the Hajj rites for centuries. Even until the time of the Holy Prophet people used to offer the animal sacrifice in Mina at the place where the Prophet Abraham had offered the sacrifice. Afterwards when the Holy Prophet was raised as a Prophet, he also maintained and continued the same tradition; so that even till today sacrifices are offcrcd in Mina on the 10th of Dhil-Hajj. This continual practice of 4,500 years or so is an undeniable proof of the fact that the heirs to the tradition of sacrifice made by the Prophet Abraham have been the descendents of the Prophet Ishmael and not of the Prophet Isaac. There has never been any such tradition among the descendents of the Prophet Isaac according to which the whole community might have offered the sacrifice at one and the same time and regarded it as a continuation of the sacrifice made by the Prophet Abraham. In the face of such arguments it appears strange how the idea of the Prophet Isaac's being the son offered as the sacrifice spread among the Muslim community itself. If the Jews might have tried to attribute the honour to their ancestor, the Prophet Isaac, by depriving the Prophet Ishmael of it, it would be understandable. But the question is: How did a large number of the Muslims come to accept this wrong notion? A very satisfactory answer to this question has been given by 'Allama Ibn Kathir in his commentary. He says: "The reality is known to Allah alone but it appears that all the sayings (in which the Prophet Isaac has been mentioned as the son offered as a sacrifice) are related from Ka`b Ahbar. This man, when he became a Muslim in the time of Hadrat 'Umar, used to relate before him the contents of the ancient Jewish and Christian scriptures, and Hadrat 'Umar would hear them. On this basis, the other people also began to listen to him, andstarted relating every mixture of the truth and falsehood that they heard from him, whereas this Ummah did not stand in need of anything whatever from the store of his knowledge and information.' This thing is further explained by a tradition from Muhammad bin Ka'b al-Kurzi He says that once during his presence the question whether the son offered as a sacrifice was the Prophet Isaac or the Prophet Ishmael arose before Hadrat 'Umar bin 'Abdul `Aziz. Among them at that time was a person who had been a Jewish scholar but had become a sincere Muslim afterwards. He said, "O Commander of the Faithful! By God it was Ishmael, and the Jews know it, but claim on account of their jealousy of the Arabs that it was the Prophet Isaac." (Ibn Jarir). When the two things are put side by side, it becomes evident that actuaul it was the Jewish propaganda that spread among the Muslims who have always been unbiased in scholastic literary matters, a large number of them accepted the statements of the Jews as a historic truth, which they presented as historical traditions with reference to the ancient scriptures, and did not realize that these were based on prejudice instead of knowledge. 68 This sentence throws light on the real object for which this event of the Prophet Abraham's sacrifice has been related here. From the race of his two sons arose two great nations in the world. First, the children of Israel, from whose house two major religions (Judaism and Christianity) emerged, which dominated and won over large human populations. Second, the children of Ishmael, who were the religious leaders and guides of All the Arabs at the time of the revelation of the Qur'an, and the tribe of Quraish of Makkah at that time held the most important position among them. Whatever eminence these two branches of the offspring of the Prophet Abraham attained became possible only on account of their connection and relation with the Prophet Abraham and his two illustrious sons; otherwise, God alone knows how many such families have arisen in the world and been assigned to oblivion. Now, Allah relates the most glorious event of the history of this family and makes both its branches realize that whatever honour and eminence they have attained in the world, has been due actually to the great traditions of God-worship and sincerity and obedience, which were set by their ancestors, the Prophets Abraham and Ishmael and Isaac (may peace be upon them all). He tells them: `The great blessings which We bestowed on them, were not bestowed arbitrarily and haphazardly: We did not just pick out a person and his two sons blindly and blessed them, but they gave definite proofs of their loyalty and faithfulness to their real Master and then became deserving of His favours. Now, you cannot become entitled to those favours merely on the basis of your pride of descent, for We shall see who among you is righteous and who is wicked and then deal with him accordingly."

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :67 یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کر دیا تھا ، وہ کون تھے ۔ اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ: خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا ۔ ( پیدائش ، 22:1 ۔ 2 ) اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی قربانی مانگی تھی ، اور دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اکلوتے تھے ۔ حالانکہ خود بائیبل ہی کے دوسرے بیانات سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسحاق اکلوتے نہ تھے ۔ اس کے لیے ذرا بائیبل ہی کی حسب ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں : اور ابرام کی بیوی سارَی کے کوئی اولاد نہ ہوئی ۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا ۔ اور ساری نے ابرام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا ، شائد اس سے میرا گھر آباد ہو ۔ اور ابرام نے ساری کی بات مانی ۔ اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی ۔ ( پیدائش ، 16:1 ۔ 3 ) خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا پیدا ہو گا ۔ اس کا نام اسمٰعیل رکھنا ( 16:11 ) جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا ( 16:16 ) اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے ــــــ اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا ـــــــ تو اس کا نام اضحاق رکھنا ــــــ جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہو گا ۔ ــــــــــ تب ابرہام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اور ـــــــ گھر کے سب مردوں کو لیا اور اسی روز خدا کے حکم کے مطابق ان کا ختنہ کیا ۔ ابرہام ننانوے برس کا تھا جب اس کا ختنہ ہوا اور جب اسماعیل کا ختنہ ہو ا تو وہ تیرہ برس کا تھا ( پیدائش 17:15 ۔ 25 ) اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا ( پیدائش ، 21:5 ) اس سے بائیبل کی تضاد بیانی صاف کھل جاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ 14 برس تک تنہا حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے ۔ اب اگر قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی تو وہ حضرت اسحاق کی نہیں بلکہ حضرت اسمٰعیل کی تھی ۔ کیونکہ وہی اکلوتے تھے ۔ اور اگر حضرت اسحاق کی قربانی مانگی گئی تھی تو پھر یہ کہنا غلط ہے کہ اکلوتے بیٹے کی قربانی مانگی گئی تھی ۔ اس کے بعد ہم اسلامی روایات کو دیکھتے ہیں اور ان میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مفسرین نے صحابہ و تابعین کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں ایک گروہ کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے ، اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام ملتے ہیں : حضرت عمر ۔ حضرت علی ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۔ حضرت ابو ہریرہ ۔ قتادہ ۔ عکرمہ ۔ حسن بصری ۔ سعید بن جُبیر ۔ مجاہد ۔ شعبی ۔ مسروق ۔ مکحول ۔ زُہری ۔ عطاء ۔ مُقاتل ۔ سدی ۔ کعب اَحبار ۔ زید بن اسلم ( رضی اللہ عنہم ) وغیرہم ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ حضرت اسماعیل تھا ۔ اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام نظر آتے ہیں : حضرت ابوبکر ۔ حضرت علی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۔ حضرت ابو ہریرہ ۔ حضرت معاویہ ۔ عکرمہ ۔ مجاہد ۔ یوسف بن مہران ۔ حسن بصری ۔ محمد بن کعب القرظی ۔ شعبی ۔ سعید بن المسیّب ۔ ضحاک ۔ محمد بن علی بن حسین ( محمد الباقر ) ۔ ربیع بن انس ۔ احمد بن حنبل ( رضی اللہ عنہم ) وغیرہم ۔ ان دونوں فہرستوں کا تقابل کیا جائے تو متعدد نام ان میں مشترک نظر آئیں گے ۔ یعنی ایک ہی بزرگ سے دو مختلف قول منقول ہوئے ہیں ۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس سے عکرمہ یہ قول نقل کرتے ہیں کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے ۔ مگر انہی سے عطاء بن ابی رباح یہ بات نقل کرتے ہیں کہ زعمت الیھود انہ اسحٰق وکذبت الیھود ( یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسحٰق تھے ، مگر یہودی جھوٹ کہتے ہیں ) ۔ اسی طرح حضرت حسن بصری سے روایت یہ ہے کہ وہ حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کے قائل تھے ۔ مگر عمرو بن عبید کہتے ہیں کہ حسن بصری کو اس امر میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس بیٹے کو ذبیح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ اس اختلاف روایات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ علماء اسلام میں سے بعض پورے جزم و وثوق کے ساتھ حضرت اسحٰق کے حق میں رائے دیتے ہیں ، مثلاً ابن جریر اور قاضی عیاض ۔ اور بعض قطعی طور پر حکم لگاتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے ، مثلاً ابن کثیر ۔ اور بعض مذبذب ہیں ، مثلاً جلال الدین سیوطی ۔ لیکن اگر تحقیق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ امر ہر شک و شبہ سے بالا تر نظر آتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی ذبیح تھے ۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں : 1 ) ۔ اوپر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم نے ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی ۔ فحوائے کلام صاف بتا رہا ہے کہ یہ دعا اس وقت کی گئی تھی جب آپ بے اولاد تھے ۔ اور بشارت جس لڑکے کی دی گئی وہ آپ کا پہلونٹا بچہ تھا ۔ پھر یہ بھی قرآن ہی کے سلسلہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہی بچہ جب باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا اشارہ فرمایا گیا ۔ اب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلوٹے صاحبزادے حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحٰق ۔ خود قرآن مجید میں صاحبزادوں کی ترتیب اس طرح بیان ہوئی ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ ( ابراہیم ۔ آیت 39 ) 2 ) ۔ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحٰق کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لیے غلام علیم ( علم والے لڑکے ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ فَبَشَّرُوْہُ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ ( الذاریات ۔ 28 ) ۔ لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ ( الحجر ۔ 53 ) ۔ مگر یہاں جس لڑکے کی بشارت دی گئی ہے اس کے لیے غلام حَلیم ( برد بار لڑکے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں ۔ اور ذبح کا حکم غلام علیم کے لیے نہیں بلکہ غلام حلیم کے لیے تھا ۔ 3 ) ۔ قرآن مجید میں حضرت اسحٰق کی پیدائش کی خوش خبری دیتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری بھی دے دی گئی تھی کہ ان کے ہاں یعقوب علیہ السلام جیسا بیٹا پیدا ہو گا ۔ فَبَشَّرْنَاھَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ( ہود ۔ 71 ) اب ظاہر ہے کہ جس بیٹے کی پیدائش کی خبر دینے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دی جاچکی ہو کہ اس کے ہاں ایک لائق لڑکا پیدا ہو گا ، اس کے متعلق اگر حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا جاتا کہ آپ اسے ذبح کر رہے ہیں ، تو حضرت ابراہیم اس سے کبھی یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ اس بیٹے کو قربان کر دینے کا اشارہ فرمایا جا رہا ہے ۔ علامہ ابن جریر اس دلیل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ خواب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس وقت دکھایا گیا ہو جب حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب علی السلام پیدا ہو چکے ہوں ۔ لیکن درحقیقت یہ اس دلیل کا نہایت ہی بودا جواب ہے ۔ قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ جب وہ لڑکا باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہو گیا تب یہ خواب دکھایا گیا تھا ۔ ان الفاظ کو جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر پڑھے گا اس کے سامنے آٹھ دس برس کے بچے کی تصویر آئے گی ۔ کوئی شخص بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ جوان صاحب اولاد بیٹے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہوں گے ۔ 4 ) ۔ اللہ تعالیٰ سارا قصہ بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی ، ایک نبی صالحین میں سے ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی بیٹا نہیں ہے جسے ذبح کرنے کا اشارہ کیا گیا تھا ۔ بلکہ پہلے کسی اور بیٹے کی بشارت دی گئی ۔ پھر جب وہ باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا ۔ پھر جب حضرت ابراہیم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تب ان کو ایک اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی ۔ یہ ترتیب واقعات قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت اسحاق نہ تھے ، بلکہ وہ ان سے کئی برس پہلے پیدا ہو چکے تھے ۔ علامہ ابن جریر اس صریح دلیل کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ پہلے صرف حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی ۔ پھر جب وہ خدا کی خوشنودی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئے تو اس کا انعام اس شکل میں دیا گیا کہ ان کے نبی ہونے کی خوشخبری دی گئی ۔ لیکن یہ ان کے پہلے جواب سے بھی زیادہ کمزور جواب ہے ۔ اگر فی الواقع بات یہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں نہ فرماتا کہ ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی ، ایک نبی صالحین میں سے ۔ بلکہ یوں فرماتا کہ ہم نے اس کو یہ بشارت دی کہ تمہارا یہی لڑکا ایک نبی ہو گا صالحین میں سے ۔ 5 ) ۔ معتبر روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں جو مینڈھا ذبح کیا گیا تھا اس کے سینگ خانہ کعبہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے تک محفوظ تھے ۔ بعد میں جب حجاج بن یوسف نے حرم میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا اور خانہ کعبہ کو مسمار کر دیا تو وہ سینگ بھی ضائع ہو گئے ۔ ابن عباس اور عامر شعبی دونوں اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہیں نے خود خانہ کعبہ میں یہ سینگ دیکھے ہیں ( ابن کثیر ) ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ شام میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا ، اور حضرت اسماعیل کے ساتھ پیش آیا تھا ، اسی لیے تو حضرت ابراہیم و اسمٰعیل کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ میں اس کی یاد گار محفوظ رکھی گئی تھی ۔ 6 ) ۔ یہ بات صدیوں سے عرب کی روایات میں محفوظ تھی کہ قربانی کا یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا ۔ اور یہ صرف روایت ہی نہ تھی بلکہ اس وقت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک مناسک حج میں یہ کام بھی برابر شامل چلا آ رہا تھا کہ اسی مقام منیٰ میں جا کر لوگ اسی جگہ پر جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کی تھی ، جانور قربان کیا کرتے تھے ۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ نے بھی اس طریقے کو جاری رکھا ، حتیٰ کہ آج تک حج کے موقع پر دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں ۔ ساڑھے چار ہزار برس کا یہ متواتر عمل اس امر کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے وارث بنی اسماعیل ہوئے ہیں نہ کہ بنی اسحٰق ۔ حضرت اسحٰق کی نسل میں ایسی کوئی رسم کبھی جاری نہیں رہی ہے جس میں ساری قوم بیک وقت قربانی کرتی ہو اور اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یادگار کہتی ہو ۔ یہ ایسے دلائل ہیں جن کو دیکھنے کے بعد یہ بات قابل تعجب نظر آتی ہے کہ خود امت مسلمہ میں حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کا خیال آخر پھیل کیسے گیا ۔ یہودیوں نے اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس شرف سے محروم کر کے اپنے دادا حضرت اسحٰق کی طرف اسے منسوب کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے ۔ لیکن آخر مسلمانوں کے ایک گروہ کثیر نے ان کی اس دھاندلی کو کیسے قبول کر لیا ؟ اس سوال کا بہت شافی جواب علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ، مگر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ سارے اقوال ( جو حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کے حق میں ہیں ) کعب احبار سے منقول ہیں ۔ یہ صاحب جب حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ہوئے تو کبھی کبھی یہ یہود و نصاریٰ کی قدیم کتابوں کے مندرجات ان کو سنایا کرتے تھے اور حضرت عمر انہیں سن لیا کرتے تھے ۔ اس بنا پر دوسرے لوگ بھی ان کی باتیں سننے لگے اور سب رطب و یابس جو وہ بیان کرتے تھے انہیں روایت کرنے لگے ۔ حالانکہ اس امت کو ان کے اس ذخیرۂ معلومات میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی ۔ اس سوال پر مزید روشنی محمد بن کعب قرظی کی ایک روایت سے پڑتی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاں یہ سوال چھڑا کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے یا حضرت اسماعیل ۔ اس وقت ایک ایسے صاحب بھی مجلس میں موجود تھے جو پہلے یہودی علماء میں سے تھے اور بعد میں سچے دل سے مسلمان ہو چکے تھے ۔ انہوں نے کہا ، امیرالمومنین ، خدا کی قسم وہ اسمٰعیل ہی تھے ، اور یہودی اس بات کو جانتے ہیں ، مگر وہ عربوں سے حسد کی بنا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحٰق تھے ( ابن جریر ) ۔ ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دراصل یہ یہودی پروپیگنڈا کا اثر تھا جو مسلمانوں میں پھیل گیا ، اور مسلمان چونکہ علمی معاملات میں ہمیشہ غیر متعصب رہے ہیں ، اس لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہودیوں کے ان بیانات کو ، جو وہ قدیم صحیفوں کے حوالہ سے تاریخی روایات کے بھیس میں پیش کرتے تھے ، محض ایک علمی حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا اور یہ محسوس نہ کیا کہ اس میں علم کے بجائے تعصب کار فرما ہے ۔ سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :68 یہ فقرہ اس پورے مقصد پر روشنی ڈالتا ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا یہ قصہ یہاں بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی نسل سے دو بہت بڑی قومیں پیدا ہوئیں ۔ ایک بنی اسرائیل ، جن کے گھر سے دنیا کے دو بڑے مذہب ( یہودیت اور نصرانیت ) نکلے اور انہوں نے روئے زمین کے بہت بڑے حصے کو حلقہ بگوش بنایا ۔ دوسرے بنی اسمٰعیل جو نزول قرآن کے وقت تمام اہل عرب کے مقتدا و پیشوا تھے ، اور اس وقت مکہ معظمہ کے قبیلہ قریش کو ان میں سب سے زیادہ اہم مقام حاصل تھا ۔ نسل ابراہیمی کی ان دونوں شاخوں کو جو کچھ بھی عروج نصیب ہوا وہ حضرت ابراہیم اور ان کے ان دو عظیم المرتبت صاحبزادوں کے ساتھ انتساب کی بدولت ہوا ، ورنہ دنیا میں نہ معلوم ایسے ایسے کتنے خاندان پیدا ہوئے ہیں اور گوشۂ گمنامی میں جا پڑے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس خاندان کی تاریخ کا سب سے زیادہ زرین کارنامہ سنانے کے بعد ان دونوں گروہوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہیں دنیا میں یہ جو کچھ شرف نصیب ہوا ہے وہ خدا پرستی اور اخلاص و فدویت کی ان شاندار روایات کی وجہ سے ہوا ہے جو تمہارے باپ دادا ابراہیم و اسمٰعیل اور اسحاق علیہم السلام نے قائم کی تھیں ۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ ہم نے ان کو جو برکت عطا فرمائی اور ان پر اپنے فضل و کرم کی جو بارشیں برسائیں ، یہ کوئی اندھی بانٹ نہ تھی کہ بس یونہی ایک شخص اور اس کے دو لڑکوں کو چھانٹ کر نواز دیا گیا ہو ، بلکہ انہوں نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ اپنی وفاداری کے کچھ ثبوت دیے تھے اور ان کی بنا پر وہ ان عنایات کے مستحق بنے تھے ۔ اب تم لوگ محض اس فخر کی بنا پر کہ تم ان کی اولاد ہو ، ان عنایات کے مستحق نہیں ہو سکتے ۔ ہم تو یہ دیکھیں گے کہ تم میں سے محسن کون ہے اور ظالم کون ۔ پھر جو جیسا ہو گا ، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کریں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:113) برکنا علیہ۔ ہم نے اس پر برکتیں نازل فرمائیں یعنی دنیاوی برکتیں کہ ان کی نسل کی کثرت اور دینی برکتیں کہ ان کی اولاد سے بکثرت انبیاء پیدا کئے گئے۔ وعلی اسحاق یہاں علی کو مکرر تخصیص کے لئے لایا گیا ہے : اور خصوصیت کے ساتھ اسحاق (علیہ السلام) کو بھی برکتین عطا کیں۔ کہ آپ کی نسل سے ایک ہزار نبی پیدا ہوئے۔ سب سے پہلے حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سب سے آخر میں (آپ کی نسل سے ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ ذریتھما۔ مضاف مضاف الیہ ان دونوں کی ذریت (اولاد) ضمیر تثنیہ مذکر غائب حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) کی طرف راجع ہے۔ محسن۔ اسم فاعل واحد مذکر احسان (افعال) مصدر سے۔ موحد فریضہ سے زیادہ ادا کرنے والا۔ ہر قسم کی خوبی پیدا کرنے والا ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان (16:90) خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے۔ کیونکہ دوسرے کا پورا پورا حق ادا کر دیانا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے۔ لہٰذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے۔ انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے۔ (جس کی طرف کسی کو متوجہ کیا جائے یا اکسایا جائے) ۔ اسی بناء پر فرمایا :۔ ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ وھو محسن (4:125) اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے خدا کے حکم کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے۔ احسان یہ بھی ہے کہ اپنے اعمال میں خوبی پیدا کرنا۔ یعنی فرض سے آگے بڑھ کر مستحبات کو بھی ادا کرنا۔ جو چیز واجب نہ ہو اور اس میں کچھ نہ کچھ شرعی خوبی ہو اس کو بھی ادا کرنا۔ ظالم لنفسہ مبین۔ ظالم مبین موصوف وصفت صریح ظالم۔ لنفسہ اپنے نفس کے لئے۔ یعنی اپنے مذموم افعال و کردار سے اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا۔ مطلب یہ کہ ان دونوں کی اولاد سے نیکوکار بھی ہوں گے اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والے بھی۔ اس آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ ہدایت و گمراہی پر نسب اثر انداز نہیں ہوتا اور اولاد ونسل کے ظالم ہونے سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہم السلام) کا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انہیں کثیر اولاد بنایا اور ان کی اولاد میں سلسلہ نبوت رکھا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دونوں کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق ( علیہ السلام) کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل ( علیہ السلام) کی اولاد میں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوئے۔ ( اضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اس میں اظہار ہوگیا اس بات کا کہ اصول کا نیک ہونا ذریات کے کام نہیں آسکتا جبکہ وہ کود ایمان سے محروم ہوں اس میں علمائے یہود کے تفاخر کا قلع کردیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن ذریتھما ۔۔۔۔ لنفسہ مبین (37: 113) ” اب ان دونوں کی ذریت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے “۔ اور انہی کی اولاد سے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(113) اور ہم نے ابراہیم پر اور اسحاق پر اپنی برکتیں نازل فرمائیں اور ان دونوں کی نسل میں سے کچھ نیکوکار ہیں اور کچھ اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی ہیں۔ دین ودنیا کی برکتوں سے نوازا اور ان کی نسل دنیا میں خوب پھیلی عام طور سے مفسرین نے دونوں سے ابراہیم اور اسحق مراد لئے ہیں لیکن شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ دونوں کہا دونوں بیٹوں کو دونوں سے بہت اولاد پھیلی اسحق کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل کی اولاد میں عرب جس میں ہمارا پیغمبر ہوئے۔