Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 178

سورة الصافات

وَ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۸﴾ۙ

And leave them for a time.

آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ : تاکید کے لیے بات دوبارہ دہرائی، تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ہو اور شاید کفار عبرت حاصل کرلیں۔ یہاں صرف ” اَبْصِرْ “ فرمایا، ” أَبْصِرْھُمْ “ نہیں فرمایا، اس لیے کہ پہلے ان کا ذکر ہوچکا ہے، یا اس لیے کہ پہلے صرف کفار مکہ کو دیکھنے کا حکم ہے، اب عموم کے لیے ” ھُمْ “ کو حذف کردیا کہ صرف کفار قریش ہی کو نہیں بلکہ سب جھٹلانے والوں کو اور ان کے ہر حال کو دیکھتے جاؤ، بہت جلد وہ بھی انجام دیکھ لیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰى حِيْنٍ۝ ١٧٨ۙ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٨{ وَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رخ پھیر لیجیے ان کی طرف سے ایک وقت تک کے لیے۔ “ یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوبارہ ان سے اعراض کرنے کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نہ تو ان کے کفر اور انکار سے رنجیدہ ہوں اور نہ ہی ان کے انجام کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن میں اس حوالے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا گیا : { وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ } کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے معاملے میں بالکل رنجیدہ نہ ہوں اور سورة الشعراء میں تو بہت ہی ُ پرزور انداز میں فرمایا گیا : { لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو ‘ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:178) ملاحظہ ہو 37:174 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(178) اور اے پیغمبر آپ ان منکرین کو تھوڑی مدت تک منہ نہ لگائیے اور ان سے منہ پھر لیجئے۔ یعنی کوئی تعارض نہ کیجئے اور ان کی ایذا رسانی اور ان کی مخالفت کا خیال نہ کیجئے۔