Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 180

سورة الصافات

سُبۡحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الۡعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۱۸۰﴾ۚ

Exalted is your Lord, the Lord of might, above what they describe.

پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے ( جو مشرک ) بیان کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah glorified Himself and states that He is far above what the lying wrongdoers say about Him; glorified and sanctified and exalted be He far above what they say Allah says: سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ ... Glorified be your Lord, the Lord of Al-`Izzah! meaning, the Owner of might and power Whom none can resist. ... عَمَّا يَصِفُونَ (He is free) from what they attribute unto Him! means, from what these lying fabricators say. وَسَلَمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ

اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے ۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے ۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں ۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد و ثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے ۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے ۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے ، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے ۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا ۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہو جائے ۔ ایسے ہی قران کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں ( ابن ابی حاتم ) یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے ۔ ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کرسلام کرتے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے اور سند سے یہ روایت حضرت علی سے موقوفاً مروی ہے ۔ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا ۔ مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے ۔ سبحانک اللہھم وبحمدک لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک ۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

180۔ 1 اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لئے بیان کرتے ہیں، مثلًا اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کو تاہیاں بندوں کے اندر ہیں اور اولاد یا شریکوں کے ضرورت مند بھی وہی ہیں، اللہ ان سب باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔ کیونکہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے کہ اسے اولاد کی یا کسی شریک کی ضرورت پیش آئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٨] یہ اس سورة کا تتمہ ہے۔ مشرکوں کے شرکیہ عقائد کی مدلل تردید کے بعد نتیجہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں اور جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کچھ عیوب اور نقص لازم آتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ رسولوں پر سلامتی ہو کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے دکھ سہہ سہہ کر بھی خالص توحید کی دعوت مسلسل پیش کرتے رہے۔ انہوں نے صرف اللہ کی عیوب سے پاکیزگی کا سبق ہی نہیں دیا بلکہ یہ تعلیم بھی دی کہ ہر طرح اچھی صفات، خوبیاں اور تعریف کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ کیونکہ وہی تمام کائنات کا پروردگار ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ : چونکہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے متعلق کفار کے برے اقوال، مثلاً اس کی اولاد یا اس کے شرکاء بنانے کا ذکر ہے، اس لیے آخر میں ان کی ایسی تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کے پاک ہونے کا ذکر فرمایا۔ گویا یہ ان کے شرکیہ عقائد و اقوال کی تردید اور انبیاء اور ان کی اقوام کے احوال کے ذکر کے بعد پوری سورت کا خلاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق ان لوگوں نے جو باتیں گھڑ رکھی ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب یا نقص لازم آتا ہے، اللہ کی ذات ایسے تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے، کیونکہ وہ ساری عزت کا مالک ہے اور رسولوں پر سلام ہے کہ وہ اپنی اپنی قوموں سے تکالیف برداشت کرکے بھی مسلسل اللہ کی توحید پیش کرتے رہے۔ اور ہر بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ جو خوبی اور جو تعریف بھی ہے وہ اللہ کی ہے، کیونکہ وہی تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔ کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو بھی اسی کی ہے، کیونکہ وہ اسی کی عطا کردہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Surah As-Saffat has been concluded on these verses, and the truth of the matter is that it would take volumes to explain this beautiful finale. In sum, Allah Ta’ ala has compressed all subjects of this Surah in these three verses. The Surah began with a description of tauhid, the theme of the Oneness of Allah, the essence of which was that Allah Ta’ ala is free from everything the Mushriks attribute to Him. Accordingly, the first verse serves as an indicator of this very detailed subject. After that, described in the Surah there were events relating to the noble prophets. Accordingly, a hint towards these has been made in the second verse. After that, it was very openly and explicitly that the beliefs, doubts and objections of disbelievers were refuted, both in terms of report and reason and, along with that, it was also declared that supremacy will ultimately be the lot of the people of truth - and whoever listens to these statements with good sense and insight is bound to end up praising Allah Ta’ ala. Accordingly, it is on this note of praise for Allah that the Surah has been concluded. In addition to that, in these verses, the basic beliefs of Islam - tauhid (Oneness of Allah) and risalah (prophethood) - were mentioned clearly, while the mention of the Hereafter also came up as a corollary, things the confirmation of which was the real purpose of the Surah. Along with it, given there was the teaching that it is naturally expected of a true Muslim that he or she would conclude every article, every address and every sitting by admitting and stating the greatness of Allah Ta’ ala, and by saying words of praise for Him. Accordingly, at this place, ` Allamah al-Qurtubi has, on his authority, reported this saying of Sayyidna Abu Said al-Khudri (رض) : |"I have heard it many times from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he, after the Salah was over, used to recite these verses: سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ |"Pure is your Lord, Lord of great might and honor, from what they describe and salam be on the messengers and all praise belongs to Allah, Lord of the worlds – 180 - Qurtubi. In addition to that, there are several commentaries in which the following saying of saying of Sayyidna Ali has been reported with reference to Imam al-Baghawi: |"Whoever wishes to have the best of return filled to the brim on the Day of Judgment should recite this at the end of every sitting attended: سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ Ibn Abi Hatim (رح) has also reported this very saying from a narration of Sha&bi that ascends to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - Tafsir Ibn Kathir. سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ By the grace of Allah Ta ala The commentary on Surah As-Saffat Ends here.

خلاصہ تفسیر آپ کا رب جو بڑی عظمت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ (کافر) بیان کرتے ہیں (پس خدا کو ان باتوں سے پاک ہی قرار دو ) اور (پیغمبروں کو واجب الاتباع سمجھو، کیونکہ ہم ان کی شان میں یہ کہتے ہیں کہ) سلام ہو پیغمبروں پر اور (خدا کو شرک وغیرہ سے پاک سمجھنے کے ساتھ ساتھ تمام کمالات کا جامع بھی سمجھو، کیونکہ) تمام تر خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام عالم کا پروردگار (اور مالک) ہے۔ معارف ومسائل ان آیتوں پر سورة صافات کو ختم کیا گیا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس حسین خاتمے کی تشریح کے لئے دفتر چاہئیں۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان تین مختصر آیتوں میں سورت کے جملہ مضامین کو سمیٹ دیا ہے۔ سورت کی ابتداء توحید کے بیان سے ہوئی تھی، جس کا حاصل یہ تھا کہ مشرکین جو جو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں، باری تعالیٰ ان سب سے پاک ہے۔ چناچہ پہلی آیت میں اسی طویل مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد سورت میں انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات بیان کئے گئے تھے، چناچہ دوسری آیت میں ان کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد کھول کھول کر کفار کے عقائد اور شبہات و اعتراضات کی عقلی ونقلی تردید کر کے یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ غلبہ بالآخر اہل حق کو حاصل ہوگا، ان باتوں کو جو شخص بھی عقل و بصیرت کی نگاہ سے پڑھے گا وہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء پر مجبور ہوگا، چناچہ اسی حمد وثناء پر سورت کو ختم کیا گیا ہے۔ نیز ان آیتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید اور رسالت کا صراحةً اور آخرت کا ضمناً ذکر بھی آ گیا ہے جن کا اثبات سورت کا اصل مقصد تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دے دی گئی ہے کہ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مضمون، ہر خطبے اور ہر مجلس کا اختتام باری تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور اس کی حمد وثناء پر کرے۔ چناچہ علامہ قرطبی نے یہاں اپنی سند سے حضرت ابو سعید خدری (رض) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کئی بار سنا کہ آپ نماز ختم ہونے کے بعد یہ آیات تلاوت فرماتے تھے : (آیت) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ الخ (قرطبی) نیز متعدد تفاسیر میں امام بغوی کے حوالہ سے حضرت علی کا یہ قول منقول ہے کہ : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ قیامت کے دن اسے بھرپور پیمانے سے اجر ملے، اسے چاہئے کہ وہ اپنی ہر مجلس کے آخر میں یہ پڑھا کرے سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ الیٰ آخر السورة، یہی قول ابن ابی حاتم نے حضرت شعبی کی روایت سے مرفوعاً بھی نقل کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بحمد اللہ تعالیٰ آج بتاریخ 17 محرم الحرام 1392 ھ شب یکشنبہ بوقت عشاء، سورة صافات کی تفسیر مکمل ہوئی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۝ ١٨٠ۚ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔ وصف الوَصْفُ : ذكرُ الشیءِ بحلیته ونعته، والصِّفَةُ : الحالة التي عليها الشیء من حلیته ونعته، کالزِّنَةِ التي هي قدر الشیء، والوَصْفُ قد يكون حقّا وباطلا . قال تعالی: وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] ( و ص ف ) الوصف کے معنی کسی چیز کا حلیہ اور نعت بیان کرنے کسے ہیں اور کسی چیز کی وہ حالت جو حلیہ اور نعمت کے لحاظ سے ہوتی ہے اسے صفۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ زنۃ ہر چیز کی مقدار پر بولا جاتا ہے ۔ اور وصف چونکہ غلط اور صحیح دونوں طرح ہوسکتا ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلا تَقُولُوا لِما تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ [ النحل/ 116] اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آئے مت کہہ دیا کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨٠۔ ١٨١) آپ کا رب جو بڑی عظمت وقدرت والا ہے وہ ان شرکیہ باتوں سے پاک ہے جو یہ کہہ رہے ہیں اور ہماری طرف سے انبیاء کرام پر سلم ہو کہ انہوں نے تبلیغ رسالت کی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨٠{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ” پاک ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ “ یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ” صفت “ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } (الحشر : ٢٤) ‘ لیکن لفظ ” صفت “ (یا وصف کے مادہ سے مشتق کسی لفظ) کے استعمال سے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ اس مادہ سے قرآن میں جو بھی الفاظ (یصفون وغیرہ) استعمال ہوئے ہیں وہ لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے جو اوصاف بیان کر رہے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلندو برتر ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨٠۔ ١٨٢۔ طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ٣ ؎ سے بیان کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز سے فراغت کا حاصل کرنا صحابہ کو اس سے معلوم ہوجاتا تھا کہ نماز کے بعد آپ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور حضرت زید (رض) زرقی سے طبرانی میں روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرضوں کے بعد تین دفعہ اس آیت کو پڑھنا ثواب ہے۔ طبرانی میں عبد اللہ بن ارقم ٤ ؎ کی بہی اس مضمون کی ایک حدیث ہے ان روایتوں میں ایک روایت کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سورة میں مشرکوں کو اس بےہودہ گوئی کا ذکر تھا جو مشرک لوگ اللہ کی شان میں کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو اس پاکی کی آیت پر ختم فرمایا ہے۔ (٣ ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص ٢٩٥ ج ٥) (٤ ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص ٢٩٥ ج ٥)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:180) سبحان۔ پاک ہے۔ یہ مصدر ہے بمعنی تسبیح (یعنی پاکی بیاں کرنے کے) آتا ہے اس کا نصب لازم ہے نیز اس کی مفرد کی طرف اضافت ضروری ہے مفرد خواہ اس میں ظاہر ہو جیسے سبحان اللّٰہ یا اسم ضمیر ہو جیسے سبحنک لاعلم لنا (2:32) اس سے فعل کا کوئی صیغہ نہیں آتا۔ ربک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا رب۔ بمعنی پروردگار۔ مالک، صاحب، یہاں بمعنی پروردگار ہے۔ ربک موصوف اس کی صفت آگے آتی ہے۔ رب العزۃ۔ رب العزۃ۔ مضاف مضاف الیہ صفت (ربک موصوف) یہاں رب بمعنی مالک، صاحب۔ آیا ہے۔ العزۃ بمعنی غلبہ۔ عزت، قوت۔ رب کی اضافت عزت کی طرف بتارہی ہے کہ عزت اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ عما ۔ عن اور ما سے مرکب ہے ما موصولہ ہے اور یصفون اس کا صلہ ہے ۔ یصفون جمع مذکر غائب مضارع۔ وصف مصدر (باب ضرب) وہ بیان کرتے ہیں۔ عما یصفون۔ (اللہ پاک ہے مشرکوں کی ان ناروا باتوں سے) جو وہ بیان کرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں مشرکین کو چیلنج کیا گیا ہے کہ بہت جلد تمہیں اپنے انجام اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامیابی کا علم ہوجائے گا اور یہ ہو کر رہے گا۔ کیونکہ ہر قسم کی عزت اور عظمت رب العالمین کے لیے ہے اس کی طرف سے مرسلین پر سلام ہو۔ سورۃ کا خاتمہ ان الفاظ پر ہو رہا ہے کہ اے کفار اور مشرکین ! کان کھول کر سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ نا صرف تمہارے غلیظ نظریات، شرکیہ عقائد اور تمہاری ہرزہ سرائی سے پاک ہے بلکہ وہ ہر قسم کی کمزوری سے بھی مبرّا ہے۔ وہ بڑی عزت و عظمت والا ہے۔ اس کی عزت و عظمت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ جسے عزت اور عظمت دینا چاہے تو اسے کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اس نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کامیاب کرے گا۔ کیونکہ اس کی رحمتیں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مرسلین ( علیہ السلام) پر برستی ہیں جنہوں نے اس کی توحید اور دین کی سربلندی کے لیے تن من دھن قربان کیے۔ اے کفار اور مشرکین ! تم ایک بار نہیں ہزار بار ” اللہ “ کی ذات اور صفات کا انکار کرو۔ حقیقت یہ ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس لیے زمین کا ذرہ ذرہ، آسمانوں کا چپہ چپہ اور کائنات کا ایک ایک حصہ ماضی، حال میں اس کی حمد و ستائش میں لگا ہوا ہے اور مستقبل میں لگا رہے گا۔ کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔ ” ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بڑے محبوب ہیں اور زبان سے نہایت آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتے ہیں اور ترازو میں بہت وزنی ہیں (سُبْحَان اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ ، سُبْحَان اللَّہِ الْعَظِیمِ ) “ [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ )] (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَدَّثَہُمْ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَاد اللَّہِ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَلِعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَعَضَّلَتْ بالْمَلَکَیْنِ فَلَمْ یَدْرِیَا کَیْفَ یَکْتُبَانِہَا فَصَعِدَا إِلَی السَّمَاءِ وَقَالاَ یَا رَبَّنَا إِنَّ عَبْدَکَ قَدْ قَالَ مَقَالَۃً لاَ نَدْرِی کَیْفَ نَکْتُبُہَا قَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُہُ مَاذَا قَالَ عَبْدِی قَالاَ یَا رَبِّ إِنَّہُ قَالَ یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ فَقَال اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُمَا اکْتُبَاہَا کَمَا قَالَ عَبْدِی حَتَّی یَلْقَانِی فَأَجْزِیَہُ بِہَا)[ رواہ ابن ماجۃ : باب فَضْلِ الْحَامِدِینَ ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلایا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یہ کلمات کہے اے میرے پروردگار تیرے لیے ہر قسم کی تعریف ہے ایسی تعریف جیسی تیرے پرجلال چہرے کے لیے زیبا اور تیری عظیم سلطنت کے لائق ہے۔ دو فرشتوں نے ان کلمات کا اجر لکھنے میں دقت محسوس کی کہ وہ کیا لکھیں ؟ دونوں آسماں کی طرف گئے اور اللہ کے سامنے عرض کی اے ہمارے پروردگار تیرے بندے نے ایسے کلمات کہے ہیں کہ جس کے اجر کے بارے میں ہمیں علم نہیں اللہ عزوجل نے ان سے پوچھا میرے بندے نے کیا کہا حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے یہ کلمات کہے ہیں (یَا رَبِّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا یَنْبَغِی لِجَلاَلِ وَجْہِکَ وَعَظِیمِ سُلْطَانِکَ ) اللہ عزوجل نے فرمایا تم یہی کلمات لکھ دو جو کلمات میرے بندے نے ادا کیے ہیں یہاں تک کہ وہ مجھے آملے تو پھر میں اسے ان کلمات کا صلہ عطا کروں گا۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ بڑی عزت و عظمت والا ہے ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک اور ہر کمزوری سے مبرا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہر وقت انبیائے کرام (علیہ السلام) پر برستی ہیں۔ ٤۔ تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں۔ ٥۔ کائنات کا ہر جز اور فرد اپنے رب کی حمد و ستائش بیان کرنے میں لگا ہوا ہے۔ تفسیر بالقرآن ساری کائنات اللہ رب العالمین کی حمد و ستائش اور پاکی بیان کر رہی ہے : ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : ١) ٢۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) ٣۔ رعد اس کی حمد و تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرّعد : ١٣) ٤۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : ٥) ٥۔ مومن اللہ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔ سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ” یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔  

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ رب العزت ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں یہاں سورة الصّٰفّٰت ختم ہو رہی ہے، جو تین آیات اوپر ذکر کی گئی ہیں ان میں پوری سورة کا خلاصہ آگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت اور اس کا رب العزت ہونا بیان فرمایا اور جو بھی لوگ اس کی ذات متعالیہ کے بارے میں غلط باتیں کہتے ہیں یا دل میں اعتقاد رکھتے ہیں ان کی تردید فرمائی اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو سلام کی نعمت سے نواز دیا جو اللہ کے بندوں کے درمیان خیر پہنچانے کا ذریعہ تھے۔ آخری رکوع سے پہلے دو رکوع میں متعدد انبیائے کرام (علیہ السلام) کے لیے سلام کا تذکرہ فرمایا تھا یہاں ختم سورة پر (وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ) فرما کر تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کو سلام کی دولت سے نواز دیا۔ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور آخر میں (وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) فرما دیا کہ ہر طرح کی سب تعریفیں رب العلمین جل مجدہ ہی کے لیے ہیں، اس کے سارے افعال محمود ہیں اور وہ ہمیشہ ہر حال میں حمد وثناء کا مستحق ہے۔ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ حضرت زید بن ارقم (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد (مذکورہ بالا) تینوں آیتوں کو پڑھ لے تو اس نے پیمانہ بھر کر ثواب لے لیا۔ اور بعض روایات میں ان آیات کو مجلس کے ختم پر پڑھنے کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے۔ (روح المعانی ج ٢٣: ص ١٥٩) ولقد تم تفسیر سورة الصفت، والحمد للّٰہ رب الصافات والتالیات، والسلام علیٰ رسلہ اصحاب الباقیات الصالحات وَعَلٰی مَنْ تَبِعَھُمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتٍ

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(180) اے پیغمبر آپ کا پروردگار جو کمال عزت وقوت کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی نسبت گھڑا کرتے ہیں۔