Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 67

سورة الصافات

ثُمَّ اِنَّ لَہُمۡ عَلَیۡہَا لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۚ۶۷﴾

Then indeed, they will have after it a mixture of scalding water.

پھر اس پر گرم جلتے جلتے پانی کی ملونی ہوگی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then on the top of that they will be boiling Hamim. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "This means they will be given boiling Hamim to drink after they have eaten from Zaqqum." According to another report, he said that this means a mixture made from boiling water. Someone else said that it means boiling water will be mixed with pus and offensive discharges that leak from their private parts and eyes. Ibn Abi Hatim recorded that Sa`id bin Jubayr said, "When the people of Hell get hungry, they will ask for food from the tree of Zaqqum. They will eat from it, then the skin of their faces will fall off, If someone were to pass by, he would recognize them from their faces. Then thirst will be sent upon them, so they will ask to be given something to drink, and they will be given water like boiling oil that has been heated to the ultimate degree. When it is brought near to their mouths, the flesh of their faces from which the skin has fallen off will be baked by its heat, and whatever is in their stomachs will melt. They will walk with their guts falling out and with their skin falling off, then they will be beaten with hooked rods of iron. Then every part of their bodies will burst into loud lamentations. ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لاَِلَى الْجَحِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 یعنی کھانے کے بعد انہیں پانی کی طلب ہوگی تو کھولتا ہوا پانی انہیں دیا جائے گا، جس کے پینے سے ان کی انتڑیاں کٹ جائیں گی (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۭ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :15)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] یہ تو تھی دوزخیوں کی خوراک اور مشروبات کا یہ حال ہوگا کہ زخموں کا دھو ون جس میں پیپ اور لہو سب کچھ شامل ہوتا ہے وہ پینے کو ملے گا اور اس میں گرم کھولتا ہوا پانی بھی شامل کرلیا جائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ : ” شَابَ یَشُوْبُ شَوْبًا “ (ن) ملانا۔ ” حَمِيْمٍ “ انتہائی گرم پانی، یعنی زقوم کھانے کے بعد انھیں ایسی ہولناک پیاس لگے گی جس کی وجہ سے وہ مجبوراً انتہائی گرم پانی پییں گے، جو ایسا سخت گرم ہوگا کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، فرمایا : (وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) [ محمد : ١٥ ] ” اور انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ “ یہی مضمون سورة واقعہ (٥١ تا ٥٥) میں بھی بیان ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اِنَّ لَہُمْ عَلَيْہَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ۝ ٦٧ۚ شوب الشَّوْبُ : الخلط . قال اللہ تعالی: لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، وسمّي العسل شَوْباً ، إمّا لکونه مزاجا للأشربة، وإمّا لما يختلط به من الشّمع . وقیل : ما عنده شَوْبٌ ولا روب ، أي : عسل ولبن . ( ش و ب ) الشوب ( ن ) کے معنی ہیں خلط ملط کر نا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] گرم پانی ملا کر ۔ اور عسل یعنی شہد کو شوب یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ تمام مشروبات میں ملایا جاتا ہے اور یا اس لئے کہ اس کے ساتھ موم ملا ہوا ہوتا ہے مثل مشہور ہے ( مثل ) ماعندہ شوب ولا روب ۔ نہ اس کے پاس شہد اور نہ دودھ بالکل قلاش ہے ۔ حم الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ، إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] ، وقال تعالی: وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] ، وقال عزّ وجل : يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19] ، ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] ، هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] ، وقیل للماء الحارّ في خروجه من منبعه : حَمَّة، وروي : «العالم کالحمّة يأتيها البعداء ويزهد فيها القرباء» «6» ، وسمي العَرَق حمیما علی التشبيه، واستحمّ الفرس : عرق، وسمي الحمّام حمّاما، إمّا لأنه يعرّق، وإمّا لما فيه من الماء الحارّ ، واستحمّ فلان : دخل الحمّام، وقوله عزّ وجل : فَما لَنا مِنْ شافِعِينَ وَلا صَدِيقٍ حَمِيمٍ [ الشعراء/ 100- 101] ، وقوله تعالی: وَلا يَسْئَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً [ المعارج/ 10] ، فهو القریب المشفق، فكأنّه الذي يحتدّ حماية لذويه، وقیل لخاصة الرّجل : حامّته، فقیل : الحامّة والعامّة، وذلک لما قلنا، ويدلّ علی ذلك أنه قيل للمشفقین من أقارب الإنسان حزانته أي : الذین يحزنون له، واحتمّ فلان لفلان : احتدّ وذلک أبلغ من اهتمّ لما فيه من معنی الاحتمام، وأحمّ الشّحم : أذابه، وصار کالحمیم، وقوله عزّ وجل : وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ [ الواقعة/ 43] ، للحمیم، فهو يفعول من ذلك، وقیل : أصله الدخان الشدید السّواد ، وتسمیته إمّا لما فيه من فرط الحرارة، كما فسّره في قوله : لا بارِدٍ وَلا كَرِيمٍ [ الواقعة/ 44] ، أو لما تصوّر فيه من لفظ الحممة فقد قيل للأسود يحموم، وهو من لفظ الحممة، وإليه أشير بقوله : لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ [ الزمر/ 16] ، وعبّر عن الموت بالحمام، کقولهم : حُمَّ كذا، أي : قدّر، والحُمَّى سمّيت بذلک إمّا لما فيها من الحرارة المفرطة، وعلی ذلک قوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الحمّى من فيح جهنّم» «4» ، وإمّا لما يعرض فيها من الحمیم، أي : العرق، وإمّا لکونها من أمارات الحِمَام، لقولهم : «الحمّى برید الموت» «5» ، وقیل : «باب الموت» ، وسمّي حمّى البعیر حُمَاماً «6» بضمة الحاء، فجعل لفظه من لفظ الحمام لما قيل : إنه قلّما يبرأ البعیر من الحمّى. وقیل : حَمَّمَ الفرخ «7» : إذا اسودّ جلده من الریش، وحمّم ( ح م م ) الحمیم کے معنی سخت گرم پانی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا ۔ إِلَّا حَمِيماً وَغَسَّاقاً [ عمّ/ 25] مگر گرم پانی اور یہی پیپ ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [ الأنعام/ 70] اور جو کافر ہیں ان کے پینے کو نہایت گرم پانی ۔ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُسِهِمُ الْحَمِيمُ [ الحج/ 19]( اور ) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی دالا جائیگا ۔ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْها لَشَوْباً مِنْ حَمِيمٍ [ الصافات/ 67] پھر اس ( کھانے ) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کردیا جائے گا ۔ هذا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ [ ص/ 57] یہ گرم کھولتا ہوا پانی اور پیپ ( ہے ) اب اس کے مزے چکھیں ۔ اور گرم پانی کے چشمہ کو حمتہ کہا جاتا ہے ایک روایت میں ہے ۔ کہ عالم کی مثال گرم پانی کے چشمہ کی سی ہے جس ( میں نہانے ) کے لئے دور دور سے لوگ آتے ہیں ( اور شفایاب ہوکر لوٹتے ہیں ) اور قرب و جوار کے لوگ اس سے بےرغبتی کرتے ہیں ( اس لئے اس کے فیض سے محروم رہتے ہیں ) اور تشبیہ کے طور پر پسینہ کو بھی حمیم کہا جاتا ہے اسی سے استحم الفرس کا محاورہ ہے جس کے معنی گھوڑے کے پسینہ پسینہ ہونے کے ہیں اور حمام کو حمام یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ پسینہ آور ہوتا ہے اور یا اس لئے کہ اس میں گرم پانی موجود رہتا ہے ۔ استحم فلان ۔ حمام میں داخل ہونا ۔ پھر مجازا قریبی رشتہ دار کو بھی حمیم کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ انسان اپنے رشتہ داروں کی حمایت میں بھٹرک اٹھتا ہے اور کسی شخص کے اپنے خاص لوگوں کو حامتہ خاص وعام کا محاورہ ہے ۔ قرآن میں ہے : فَما لَنا مِنْ شافِعِينَ وَلا صَدِيقٍ حَمِيمٍ [ الشعراء/ 100- 101] تو ( آج ) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے اور نہ گرم جوش دوست نیز فرمایا ۔ وَلا يَسْئَلُ حَمِيمٌ حَمِيماً [ المعارج/ 10] اور کوئی دوست کسیز دوست کا پر سان نہ ہوگا ۔ اور اس کی دلیل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انسان کے قریبی مہر بانوں کو حزانتہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے غم میں شریک رہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ احتم فلان لفلان فلاں اس کے لئے غمگین ہوا یا اس کی حمایت کے لئے جوش میں آگیا ۔ اس میں باعتبار معنی اھم سے زیادہ زور پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں غم زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ جوش اور گرمی کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ۔ احم الشحم چربی پگھلا ۔ یہاں تک کہ وہ گرم پانی کی طرح ہوجائے اور آیت کریمہ : وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ [ الواقعة/ 43] اور سیاہ دھوئیں کے سایے میں ۔ میں یحموم حمیم سے یفعول کے وزن پر ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے اصل معنی سخت سیاہ دھوآں کے ہیں اور اسے یحموم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں شیت حرارت پائی جاتی ہے جیسا کہ بعد میں سے اس کی تفسیر کی ہے اور یا اس میں حممتہ یعنی کوئلے کی سی سیاہی کا تصور موجود ہے ۔ چناچہ سیاہ کو یحموم کہا جاتا ہے اور یہ حممتہ ( کوئلہ ) کے لفظ سے مشتق ہے چناچہ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : لَهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ [ الزمر/ 16] ان کے اوپر تو اگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے ( ان ) کے فرش پونگے اور حمام بمعنی موت بھی آجاتا ہے جیسا کہ کسی امر کے مقدر ہونے پر حم کذا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اور بخار کو الحمی کہنا یا تو اس لئے ہے کہ اس میں حرارت تیز ہوجاتی ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا : کہ بخار جہنم کی شدت ست ہے اور یا بخار کو حمی اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں پسینہ اترتا ہے اور یا اس لئے کہ یہ موت کی علامات میں سے ایک علامت ہے ۔ جیسا کہ عرب لوگ کہتے ہیں الحمی بریدالموت ( کہ بخار موت کا پیغام پر ہے ) اور بعض اسے باب الموت یعنی موت کا دروازہ بھی کہتے ہیں اور اونٹوں کے بخار کو حمام کہا جاتا ہے یہ بھی حمام ( موت ) سے مشتق ہے کیونکہ اونٹ کو بخار ہوجائے تو وہ شازو نادر ہی شفایاب ہوتا ہے ۔ حمم الفرخ پرندے کے بچہ نے بال وپر نکال لئے کیونکہ اس سے اس کی جلد سیاہ ہوجاتی ہے ۔ حمم وجھہ اس کے چہرہ پر سبزہ نکل آیا یہ دونوں محاورے حممتہ سے موخوز ہیں ۔ اور حمحمت الفرس جس کے معنی گھوڑے کے ہنہنانے کے ہیں یہ اس باب سے نہیں ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧{ ثُمَّ اِنَّ لَہُمْ عَلَیْہَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ } ” پھر اس کے اوپر ان کے لیے گرم پانی کا آمیزہ ہوگا۔ “ زقوم کے برگ و بار کھانے کے بعد جب پیاس بھڑکے گی تو پیپ ملا کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یعنی کھولتے ہوئے پانی میں زقوم کا بدمزہ ذائقہ اور پیپ وغیرہ ملی ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:67) ثم۔ پھر۔ حرف عطف ہے۔ ما قبل سے ما بعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا بلحاظ زمانہ ہو (التراخی الزمانی) خواہ باعتبار مرتبہ کے ہو (التراخی الریتی) ۔ یہاں ہر دو معنی ممکن ہوسکتے ہیں :۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا۔ کہ زقوم پیٹ بھر کر کھا لینے کے بعد (جب ان کو پیاس ستائے گی) تو ان کو کھولتا ہوا پانی ملا کردیا جائے گا۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے ! کہ ان کو بدصورت ، بدمزہ، زہریلا زقوم کھانا ہوگا۔ اور جب ان کو پیاس لگے گی تو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا یعنی کھانا تو مکروہ ہوگا ہی مگر پینا اس سے زیادہ مکروہ اور ناگوار ہوگا۔ علیھا۔ ای علی الشجرۃ التی ملؤا منھا بطونہم۔ اس (زقوم کے) درخت کے بعد جس سے انہوں نے اپنے پیٹ بھر لئے ہوں گے۔ یا مزید برآں اس درخت زقوم کی کراہت قباحت سے بھی بڑھ کر۔ شوبا۔ شوب، ملاٹ، آمیزش، شاب یشوب (نصر) کا مصدر ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو کسی چیز میں ملا دینا۔ خلط ملط کردینا۔ حمیم۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ سخت گرم پانی۔ اس کی جمع حمائم ہے۔ قریبی جگری دوست کو بھی حمیم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ ولا یسئل حمیم حمیما (70:10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرساں حال نہ ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 جس سے اس کی آنتیں کٹ کر باہر نکل پڑیں گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ثم ان لھم۔۔۔۔ حمیم (37: 67) “۔ اور اس کے بعد یہ لوگ اس دسترخواں سے اٹھیں گے اور اپنے اصل مقر جہنم کی طرف جائیں گے۔ کیا ہی برا مقام اور جائے فرار ہے۔ اللہ کی پناہ

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(67) پھر اس زقوم کے اوپر سے ان کو سخت کھولتا ہوا پانی ملا کر دیاجائے گا۔ یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پیپ اور کچلہو ملا کر پلایا جائے گا۔