Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 31

سورة ص

اِذۡ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالۡعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الۡجِیَادُ ﴿ۙ۳۱﴾

[Mention] when there were exhibited before him in the afternoon the poised [standing] racehorses.

جب ان کے سامنے شام کے وقت تیز رو خاصے گھوڑے پیش کئے گئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

When there were displayed before him, in the afternoon, well trained horses of the highest breed. means, these well trained horses were shown to Suleiman, peace be upon him, in his capacity as king and ruler. Mujahid said, "They were the kind of horses which stand on three legs and raise the fourth, and they were swift horses." This was also the view of several others among the Salaf. Abu Dawud recorded that A'ishah, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah came back from the campaign of Tabuk or Khyber, and there was a curtain covering her room. The wind came and lifted the curtain, revealing some toys belonging to A'ishah, may Allah be pleased with her. The Prophet said: What is this, O `A'ishah? She, may Allah be pleased with her, said, "My toys." Among them he saw a horse with two wings made of cloth. He said: مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ What is this that I see in the midst of them? She, may Allah be pleased with her, said, "A horse." The Messenger of Allah said, مَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ And what is this on it? She, may Allah be pleased with her, said, "Wings." The Messenger of Allah said, فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ A horse with two wings? She, may Allah be pleased with her, said, "Did you not hear that Suleiman, peace be upon him, had a horse that had wings" She, may Allah be pleased with her, said, "The Messenger of Allah smiled so broadly that I could see his molars." And Allah tells further that, فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بغرض جہاد جو گھوڑے پالے ہوئے تھے، وہ عمدہ نسل تیز رو گھوڑے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر معائنے کے لئے پیش کئے گئے، ظہر یا عصر سے لے کر آخر دن تک کے وقت کو کہتے ہیں، جسے شام سے تعبیر کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] صافنات کا لغوی معنی :۔ صافنات، صافن کی جمع ہے اور صَفَنَ (الفرس) بمعنی گھوڑے کا تین ٹانگوں پر اس طرح کھڑا ہونا کہ چوتھے کھر کا صرف سرا زمین پر ٹکا رہے اور اس سے چاک و چوبند گھوڑا مراد لیا جاتا ہے۔ اور جیاد، جَیِّد کی جمع ہے۔ اور جاد الفرس یعنی گھوڑے کا سبک اور تیز رفتار ہونا ہے۔ یہ ان گھوڑوں کی صفات ہیں جو سیدنا سلیمان نے جہاد کی خاطر رکھے ہوئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ : ” اَلْعَشِيُّ “ ظہر سے لے کر شام تک کا وقت، بعض ساری رات بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ ” الصّٰفِنٰتُ “ ” صَافِنٌ“ کی جمع ہے، وہ گھوڑا جو کھڑا ہو تو تین پاؤں کو پوری طرح زمین پر رکھے اور چوتھے سم کا سرا زمین کے ساتھ لگا رہے۔ یہ صفت عموماً اعلیٰ نسل کے گھوڑوں میں پائی جاتی ہے۔ ” الْجِيَادُ “ ” جَوَادٌ“ کی جمع ہے، تیز رفتار۔ یہ دونوں الفاظ مذکر و مؤنث دونوں گھوڑوں پر بولے جاتے ہیں۔ دو صفتیں اس لیے بیان فرمائیں کہ کھڑے ہونے کی حالت میں وہ گھوڑے ” صافنات “ تھے اور چلنے میں ” جواد “ (تیز رفتار) تھے۔ یعنی پچھلے پہر اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے ان کے سامنے معائنے کے لیے پیش کیے گئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ عُرِضَ عَلَيْہِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُ ۝ ٣١ۙ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ عشا العَشِيُّ من زوال الشمس إلى الصّباح . قال تعالی: إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها[ النازعات/ 46] ، والعِشَاءُ : من صلاة المغرب إلى العتمة، والعِشَاءَانِ : المغرب والعتمة «1» ، والعَشَا : ظلمةٌ تعترض في العین، ( ع ش ی ) العشی زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت قرآن میں ہے : ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْضُحاها[ النازعات 46] گویا ( دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے ۔ العشاء ( ممدود ) مغرب سے عشا کے وقت تک اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو العشاء ن کہا جاتا ہے اور العشا ( توندی تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعثی جسے رتوندی کی بیمار ی ہو اس کی مؤنث عشراء آتی ہے ۔ صفن الصَّفْنُ : الجمعُ بين الشّيئين ضامّا بعضهما إلى بعض . يقال : صَفَنَ الفرسُ قوائمَهُ ، قال تعالی: الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31] ، وقرئ : ( فاذکروا اسم اللہ عليها صَوَافِنَ ) والصَّافِنُ : عِرْقٌ في باطن الصّلب يجمع نياط القلب . والصَّفْنُ : وعاءٌ يجمع الخصية، والصُّفْنُ : دلوٌ مجموع بحلقة . ( ص ف ن ) الصفن ۔ دو چیزوں کو اس طرح اکٹھا کردینا کہ ان کے کچھ حصے دوسروں کے ساتھ مل جائیں چناچہ محاورہ ہے ۔ صفن الفرس قوائمہ گھوڑے کا تین پاؤں پر کھڑے ہو کر چوتھے پاؤں کا سم اس طرح اٹھایا کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر لگا رہے ۔ قرآن میں ہے : الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31] خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے ۔ اور آیت کریمہ : فاذکروا اسم اللہ عليها تو قربانی کرنے کے وقت صف بستہ کھڑے اونٹوں پر خدا کا نام لو ۔ میں ایک قرات صوافن بھی ہے اور باطن صلب کی رگ کو جا نیا ط قلب کو جمع کرتی ہے بھی صافن کہا جاتا ہے اور صفن کے معنی خصیتیں کی تھیلی کے ہیں ۔ صفن وہ ڈول جس کے ساتھ حلقہ بندھا ہوا ہو ۔ جود قال تعالی: وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] ، قيل : هو اسم جبل بين الموصل والجزیرة، وهو في الأصل منسوب إلى الجود، والجود : بذل المقتنیات مالا کان أو علما، ويقال : رجل جَوَاد، وفرس جواد، يجود بمدّخر عدوه، والجمع : الجِيَاد، قال تعالی: بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31{ ( ج و د ) الجودی ۔ اس پہاڑی کا نام ہے جو موصل اور جزیرہ کے درمیان واقع ہے : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِ [هود/ 44] اور کشتی کوہ جودی پر جاٹہری ۔ یہ دراصل الجود کے معنی مقتنیات ( بیضائر ) کو صرف اور خرچ کرنے کے ہیں عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم ہو یا ذخیرہ مال کا ہو ۔ رجل جواد ۔ سخی آدمی فرس جواد ( تیز رفتار عمدہ گھوڑا ) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کردے اس کی جمع الجباد آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بِالْعَشِيِّ الصَّافِناتُ الْجِيادُ [ ص/ 31]( جب ان کے سامنے ) شام کو خاصے کے گھوڑے ( پیش کئے گئے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (اذ عرض علیہ بالعشی الصافنات الجیاد۔ وہ واقعہ بھی قابل غور ہے۔ جب شام کے وقت ان کے روبرو واصیل عمدہ گھوڑے پیش کیے گئے) تا قول باری (فطفق مسد بالسوق والاعناق پھر انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا) ۔ مجاہد کا قول ہے کہ گھوڑے کا تین ٹانگوں اور چوتھی کے کھر پر کھڑا ہونے کو صفون کہتے ہیں جس سے لفظ صافنات نکلا ہے۔ گھوڑوں کی یہ عام عادت ہوتی ہے ۔ جیاد تیز رفتار گھوڑوں کو کہتے ہیں جب گھوڑا ایڑ لگنے پر دوڑ پڑے تو کہا جاتا ہے ” ھذا فرس جواد “ یہ تیز رفتار گھوڑا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١۔ ٣٤) جبکہ طہر کے بعد ان کے سامنے اصیل عربی بہت ہی عمدہ تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے اور صافنات ان گھوڑوں کو بھی کہاجتا ہے جو تین پیروں پر کھڑے ہوں اور ایک پیر کو اوپر اٹھائیں تو وہ کہنے لگے افسوس میں مال کے انتخاب کرنے میں اپنے رب کی عبادت سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ سورج کوہ قاف میں چھپ گیا۔ ان گھوڑوں کو ذرا پھر میرے سامنے لاؤ، لائے گئے تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو کاٹنا شروع کردیا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور عصر کی نماز فوت ہوگئی اس وجہ سے ان گھوڑوں کے ساتھ جو کچھ ان کو کرنا تھا سو کیا۔ اور ہم نے سلیمان کی چالیس دن کے لیے بادشاہت ختم کر کے ان کی آزمائش کی اور شیطان کو ان کے تخت پر اس زمانہ میں قابض کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { اِذْ عُرِضَ عَلَیْہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ } ” جب اس کے سامنے پیش کیے گئے شام کے وقت عمدہ نسل کے اصیل گھوڑے۔ “ اس سے پہلے ہم سورة النمل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عظیم الشان لشکروں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہ ِجن اور پرندے بھی تھے اور ان سب کو الگ الگ رجمنٹس (regiments) اور دستوں میں منظم کیا گیا تھا۔ اسی طرح سوار فوج (cavalry) کی اہمیت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے آپ ( علیہ السلام) نے اپنے لشکر میں اعلیٰ نسل کے اصیل اور تیز رو گھوڑوں کے دستوں کا اہتمام بھی کر رکھا تھا اور اس زمانے میں اصل فوجی طاقت یہی گھوڑے ہوا کرتے تھے۔ سورة النمل کی متعلقہ آیات کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنی افواج کے مختلف دستوں کے باقاعدہ معائنے (inspection parade) کا اہتمام بھی فرمایا کرتے تھے : { وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ } ” اور جمع کیے گئے سلیمان (علیہ السلام) کے (معائنہ کے) لیے اس کے لشکر جنوں ‘ انسانوں اور پرندوں میں سے ‘ اس طرح کہ انہیں جماعتوں میں منظم کیا گیا تھا “ ۔ چناچہ ایسے ہی کسی معائنہ کے لیے ایک سہ پہر آپ ( علیہ السلام) کے سامنے گھوڑوں کے دستے پیش کیے گئے۔ اس مصروفیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایسے مشغول ہوئے کہ سورج غروب ہوگیا اور آپ ( علیہ السلام) کی نماز عصر قضا ہوگئی ‘ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی نماز عصر قضا ہوگئی تھی۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کافروں پر بایں الفاظ بددعا فرمائی تھی : (مَلاَ َٔاللّٰہُ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا ) (١) ” اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے “۔ بہر حال گھوڑوں کی مشغولیت کی وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نماز عصر قضا ہوگئی جس کا آپ ( علیہ السلام) کو بیحد افسوس ہوا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33 The words as-sefinat-ul- jiyad in the original imply the horses, which are very calm and quiet when they stand, and very fast-moving when they run.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :33 اصل الفاظ ہیں الصَّافِنَاتُ الْجِیَادُ ۔ اس سے مراد ایسے گھوڑے ہیں جو کھڑے ہوں تو نہایت سکون کے ساتھ کھڑے رہیں ، کوئی اچھل کود نہ کریں ، اور جب دوڑیں تو نہایت تیز دوڑیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:31) اذ۔ جب۔ جس وقت ظرف زمان ہے اواب کا۔ اس سے قبل عبارت مقدرہ ہے ای اذکر ما صدر عنہ اذ عرض علیہ۔ یاد کرو اس نے نتیجہ کیا کیا جس وقت ان کے سامنے پیش کئے گئے۔ بالعشی۔ عشاء کے وقت۔ زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت۔ ملاحظہ ہو (38:18) یہاں مراد غروب آفتاب سے قبل کا وقت ہے۔ الصفنت الجیاد موصوف و صفت۔ عرض علیہ کا مالم یسلم فاعلہ ہے۔ الصفنت صافنۃ کی جمع ہے وہ گھوڑے جو تین پاؤں پر کھڑے ہوں اور چوتھے پاؤں کے سم کو موڑ کر اس پر ٹیک لگائے ہوں (جو گھوڑا اس طرح کھڑا ہوتا ہے وہ نہایت فربہ اور توانا ہوتا ہے الجیاد جواد کی جمع ہے (تیز رفتار، عمدہ گھوڑا) جو دوڑنے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دے۔ الجود کے معنی ذخائر کو صرف کرنا عام اس سے کہ وہ ذخیرہ علم کا ہو یا ذخیرہ مال ہو۔ رجل جواد۔ سخی آدمی۔ الصفنت الجیاد۔ خاصے کے گھوڑے (تیز فرتار، عمدہ گھوڑے)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 سلف (رح) اور اکثر مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات افسوس کے انداز میں اس وقت فرمائی جب وہ گھوڑوں کو دیکھنے میں مصروف رہے اور نسیان و غفلت کے سبب عصر کی نماز ( یا وظیفہ) کا وقت ختم ہوگیا جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی غزوہ خندق کے موقع پر کفار کی طرف سے شدید حملہ کے باعث عصر کی نماز رہ گئی تھی ( ابن کثیر) آیت کا یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” احببت “ کا ترجمہ آثرت (ترجیح دی) کیا جائے اور تورات ( چھپ گیا) کا فاعل محذوف مانا جائے یعنی الشمس ( سورج) ۔ بعض مفسرین نے ” عن “ کا ترجمہ کی وجہ سے کیا ہے یعنی ” میں نے مال گھوڑوں سے محبت اپنے رب کے ذکر کی وجہ سے کی یہاں تک کہ وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے۔ گویا اس آیت عن ذکر ربی میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے گھوڑوں سے محبت کی وجہ بیان کی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30:۔ اذ عرض الخ : ایک دفعہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد کی ضرورت پیش آئ تو پچھلے پہر کے وقت اصطبل سے گھوڑے پیش کرنے کا حکم دیا جن کی تعداد کم و بیش ایک ہزار تھی چناچہ گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ چونکہ وہ گھوڑوں کے اوصاف سے بخوبی واقف تھے جب انہوں نے دیکھا کہ تمام گھوڑے عمدہ نسل کے، اصیل اور سبک رفتار ہیں تو بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے۔ یہ مال (گھوڑوں) کی محبت بھی یاد الٰہی کی وجہ سے ہے یہ دنیوی محبت نہیں۔ اسی دوران میں گھوڑے آنکھوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ اس لیے دوبارہ حکم دیا کہ ان کو دوبارہ واپس لاؤ جب وہ واپس لائے گئے تو ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے تھپکی دینے لگے (ابن جریر، کبیر، خازن) ۔ الصافات، صافن کی جمع ہے۔ صافن اس گھورے کو کہتے ہیں جو ایک پاؤں کو اوپر اٹھا کر اس کے کھر پر کھڑا ہو۔ یہ گھوڑوں کی عمدہ صفات میں شمار ہوتی ہے۔ الجیاد، جواد کی جمع ہے جواد تیز اور سبک رفتار کو کہتے ہیں۔ الخیر سے مال مراد ہے۔ عن ذکر ربی میں عن بمعنی من ہے، عن ذکر ربی من ذکر ربی (صحیح بخاری ج 1 ص 486) ۔ توارت کی ضمیر الصافنات الجیاد کی طرف راجع ہے آیت کا مذکورہ بالا مفہوم امام ابن جریرطبری، امام رازی، خطیب شربینی اور خازن نے ذکر کیا ہے اور یہ مفہوم حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے بسند متصل امام طبری نے روایت کیا ہے، رازی اور طبری نے اسی مفہوم کو ترجیح دی ہے امام رازی نے اس کو امام زہری اور ابن کیسان کی طرف مبھی منسوب کیا ہے۔ والذی ذھبنا الیہ قول الزھری وابن کیسان (السراج المنیر للخطیب الشربینی ج 3 ص 390) ۔ لیکن حضرت علی (رض) اور دیگر مفسرین کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ پڑتال میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نماز عصر جاتی رہی جو ان پر فرض تھی۔ نماز عصر قضا ہونے کا سبب گھوڑے تھے اس لیے گھوڑوں کو واپس منگا کر ذبح کردیا (بحر، روح، معالم، مدارک، ابن جریر، ابن کثیر) ۔ اس صورت میں توارت کی ضمیر الشمس (سور ج) کی طرف راجع ہوگی جو العشی سے مفہوم ہے اور عن اپنے اصل معنی پر ہی ہوگا۔ لیکن امام رازی نے اس پر کئی اعتراضات وارد کیے ہیں۔ اول یہ کہ الصافنات کا ذکر آیت میں صریح اور الشمس کا کوئی ذکر نہیں اس لیے الصافنات کی طرف ضمیر لوٹانا بہتر ہے۔ دوم مسح بالسوق کو ذبح پر محمول کرنا صحیح نہیں ورنہ فامسحو برؤوسکم کے معنی بھی قطع کرنے کے ہوتے البتہ مسح بالسیف قطع کے معنوں میں آتا ہے۔ لوکان مسح السوق والاعناق قطعہا لکان معنی قولہ وامسحوا برؤوسکم وارجلکم قطعہا وھذا مما لا یقولہ عاقل بل لوقیل مسح راستہ بالسیف فربما فھم منہ ضرب العنق (کبیر ج 7 ص 200) ۔ سوم سینکڑوں گھوڑوں کو بےمقصد ذبح کردینا جبکہ وہ ہوں بھی بےقصور ایک پیغمبر کی شان سے بعید ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) سلیمان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ اسکے روبرو شام کے وقت ایسے اصیل گھوڑے پیش کئے گئے جو بہت تیزرفتار تھے کہتے ہیں کہ یہ گھوڑے دریائی گھوڑوں کے سیل سے حاصل کئے گئے تھے یہ تیز اور سبک رفتار ہوتے تھے اور ان پر سوارایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پانی میں تیر رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ان کی گردنیں لانبی ہوتی ہوں۔ بعض نے کہا یہ وہ گھوڑے تھے جو دائود (علیہ السلام) نے جب جالوت کو شکست دی تو قوم عمالقہ سے ہاتھ لگے۔ بہرحال ان کو دیکھنے میں ایسے مشغول ہوئے کہ ان کی عبادت کا وقت جو وہ عصر کے بعد کیا کرتی تھے وہ وقت فوت ہوگیا اگرچہ گھوڑے جہاد کے لئے تھے پھر بھی مقررہ عبادت کے فوت ہوجانے سے بہت افسوس ہوا۔