Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 36

سورة ص

فَسَخَّرۡنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖ رُخَآءً حَیۡثُ اَصَابَ ﴿ۙ۳۶﴾

So We subjected to him the wind blowing by his command, gently, wherever he directed,

پس ہم نے ہوا کو ان کے ماتحت کر دیا وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So, We subjected to him the wind; it blew gently by his order wherever he willed. Al-Hasan Al-Basri, may Allah have mercy on him, said, "When Suleiman, peace be upon him, slaughtered the horses out of anger for the sake of Allah, Allah compensated him with something better and swifter, the wind whose morning was a month's (journey), and its afternoon was a month's (journey)." حَيْثُ أَصَابَ (wherever he willed). means, wherever in the world he wanted. وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاء وَغَوَّاصٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی، جہاں ہوا کو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے، جب کہ دوسرے مقام پر اسے تند و تیز کہا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے۔ لیکن سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اسے نرم کردیا گیا یا حسب ضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم، جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) چاہتے (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٢] اس کی تفسیر کے لئے دیکھئے سورة انبیاء کی آیت ٨١ کا حاشیہ نمبر ٦٩

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ : یعنی ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا ان کے تابع کردی، وہ جہاں کا ارادہ کرتے ادھر نرم ہو کر چل پڑتی۔ سورة انبیاء (٨١) میں اسے ” عاصفۃ “ (تند) بیان کیا ہے۔ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کہ ہوا نہایت تند و تیز ہو، مگر ایسی ہموار کہ جسے اٹھایا ہے اسے کوئی جھٹکا تک محسوس نہ ہو، جیسا کہ آج کل ہوائی جہازوں کا حال ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِہٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ۝ ٣٦ۙ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ الرِّيحُ معروف، وهي فيما قيل الهواء المتحرّك . وعامّة المواضع الّتي ذکر اللہ تعالیٰ فيها إرسال الرّيح بلفظ الواحد فعبارة عن العذاب، وكلّ موضع ذکر فيه بلفظ الجمع فعبارة عن الرّحمة، فمن الرِّيحِ : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ، فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] ، مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] ، اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] . وقال في الجمع : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] ، أَنْ يُرْسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّراتٍ [ الروم/ 46] ، يُرْسِلُ الرِّياحَ بُشْراً [ الأعراف/ 57] . وأمّا قوله : يرسل الرّيح فتثیر سحابا «3» فالأظهر فيه الرّحمة، وقرئ بلفظ الجمع «4» ، وهو أصحّ. وقد يستعار الرّيح للغلبة في قوله : وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] ، وقیل : أَرْوَحَ الماءُ : تغيّرت ريحه، واختصّ ذلک بالنّتن . ورِيحَ الغدیرُ يَرَاحُ : أصابته الرِّيحُ ، وأَرَاحُوا : دخلوا في الرَّوَاحِ ، ودهن مُرَوَّحٌ: مطيّب الرّيح . وروي :«لم يَرَحْ رَائِحَةَ الجنّة» «5» أي : لم يجد ريحها، والمَرْوَحَةُ : مهبّ الرّيح، والمِرْوَحَةُ : الآلة التي بها تستجلب الرّيح، والرَّائِحَةُ : تَرَوُّحُ هواء . ورَاحَ فلان إلى أهله إمّا أنه أتاهم في السّرعة کالرّيح، أو أنّه استفاد برجوعه إليهم روحا من المسرّة . والرَّاحةُ من الرَّوْح، ويقال : افعل ذلک في سراح ورَوَاحٍ ، أي : سهولة . والمُرَاوَحَةُ في العمل : أن يعمل هذا مرّة، وذلک مرّة، واستعیر الرَّوَاحُ للوقت الذي يراح الإنسان فيه من نصف النّهار، ومنه قيل : أَرَحْنَا إبلَنا، وأَرَحْتُ إليه حقّه مستعار من : أرحت الإبل، والْمُرَاحُ : حيث تُرَاحُ الإبل، وتَرَوَّحَ الشجر ورَاحَ يَراحُ : تفطّر . وتصوّر من الرّوح السّعة، فقیل : قصعة رَوْحَاءُ ، وقوله : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] ، أي : من فرجه ورحمته، وذلک بعض الرّوح . الریح کے معنی معروف ہیں ۔ یعنی ہوا متحرک کو کہتے ہیں عام طور پر جن مواضع میں ( رسال الریح صیغہ مفرد کے ساتھ مذکور ہے وہاں عذاب مراد ہے اور جہاں کہیں لفظ جمع کے ساتھ مذکور ہے وہاں رحمت مراد ہے ۔ چناچہ ریح کے متعلق فرمایا : إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً [ القمر/ 19] ہم نے ان پر ایک زنانے کی اندھی چلائی ۔ فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً [ الأحزاب/ 9] تو ہم نے ان پر آندھی چلائی ۔ مَثَلِ رِيحٍ فِيها صِرٌّ [ آل عمران/ 117] مثال اس ہوا کی ہے ۔ جس میں بڑی ٹھر بھی ہوا۔ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ [إبراهيم/ 18] اس کو سخت ہوا لے اڑی ۔ اور ریاح ( جمع کا لفظ ) کے متعلق فرمایا : وَأَرْسَلْنَا الرِّياحَ لَواقِحَ [ الحجر/ 22] اور ہم ہی ہوا کو چلاتے ہیں جو بادلوں کو پانی بار وار کرتی ہے ۔ أَنْ يُرْسِلَ الرِّياحَ مُبَشِّراتٍ [ الروم/ 46] کہ وہ ہواؤں کو اس غرض سے بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بارش کی خوشخبری پہنچائیں ۔ يُرْسِلُ الرِّياحَ بُشْراً [ الأعراف/ 57] باران رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ لوگوں کو مینہ کی آمد کی خوشخبری پہنچادیں ۔ اور آیت ير سل الرّيح فتثیر سحابا «3»اور وہ قادرمطلق ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ ہوائیں بادلوں کو ان کی جگہ سے ابھارتی ہے ۔ میں بھی چونکہ معنی رحمت اغلب ہے اس لئے یہاں لفظ جمع کی قرات زیادہ صحیح ہے ۔ کبھی مجازا ریح بمعنی غلبہ بھی آجاتا ہے چناچہ فرمایا : وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ [ الأنفال/ 46] اور تمہاری وہوا اکھڑ جائے گی ۔ محاورہ : اروح الماء پانی متغیر ہوگیا خاص کر بدبو دار ہونے کے وقت بولتے ہیں ۔ ریح الغد یرییراح جوہڑ پر ہوا کا چلنا ۔ اور اراحوا کے معنی رواح یعنی شام کے وقت میں داخل ہونے کے ہیں اور خشبودار تیل کو دھن مروح کہا جاتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے ۔ ( 163) لم یرح راحئتہ الجنتہ کہ وہ جنت کی کو شبوتک نہیں پائے گا ۔ المروحبتہ ہوا چلنے کی سمت المروحتہ ( آلہ ) پنکھا ۔ الرئحتہ مہکنے والی خوشبو ۔ محاورہ ہے ۔ راح فلان الیٰ اھلہ ( 1) فلاں اپنئ اہل کیطرف ہوا کی طرح تیزی کے ساتھ گیا ۔ ۔ ( 2) اس نے اپنے اہل و عیال میں پہنچ کر راحت حاصل کی ۔ الرحتہ آرام ۔ یہ بھی روح سے موخوذ ہے ۔ مشہور محاورہ ہے ۔ افعل ذالک فی مراح وراح کہ آرام سے یہ کام کرو ۔ المراوحتہ کے معنی ہیں دو کاموں کو باری باری کرنا ۔ اور استعارہ کے طور پر رواح سے دوپہر کو آرام کا وقت مراد لیا جاتا ہے اور اسی سے کہا جاتا ہے ۔ ارحنا ابلنا کہ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا ( یعنی بازہ میں لے آئے ) اور پھر ارحت الابل سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ کہ میں نے اس کا حق واپس لوٹا دیا اور مراح باڑے کو کہا جاتا ہے اور تروح الشجرہ وراح یراح کے معنی درخت کے شکوفہ دار ہونے اور نئے پتے نکالنے کے ہیں اور کبھی روح سے وسعت اور فراخی کے معنی بھی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ کہا جاتا ہے ۔ قصعتہ روحاء فراخ پیالہ اور آیت کریمہ : لا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ [يوسف/ 87] اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ ۔ میں بھی وسعت رحمت مراد ہے جو لفظ روح سے مفہوم ہوتی ہے ۔ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے رخا الرُّخَاءُ : اللّيّنة . من قولهم : شيء رِخْوٌ ، وقد رَخِيَ يَرْخَى قال تعالی: فَسَخَّرْنا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخاءً حَيْثُ أَصابَ [ ص/ 36] ، ومنه : أَرْخَيْتُ السّتر، وعن إِرْخَاءِ السّتر استعیر : إِرْخَاءُ سِرْحَان وقول أبي ذؤيب : وهي رخو تمزع أي : رخو السّير كريح الرّخاء، وقیل : فرس مِرْخَاءٌ ، أي : واسع الجري بعید الخطو، من خيل مِرَاخٍ ، وقد أَرْخَيْتُهُ : خلّيته رخوا . ( ر خ و ) الرخاء ۔ لینت یعنی نرمی کو کہتے ہیں اور یہ شیئ رخو سے ماخوذ ہے جس کے معنی نرم چیز کے ہیں اور باب رخی یرخی بروزن علم ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ فَسَخَّرْنا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخاءً حَيْثُ أَصابَ [ ص/ 36] تو ہم نے ہوا کو ان کا تابع کردیا کہ جہاں پہنچنا چاہتے ان کے حکم کے مطابق اسی طرف وہ نرمی سے چلتی ۔ اور اسی سے ارخیت الستر کا محاورہ لیا گیا ہے ۔ جس کے معنی پردہ لٹکانے کے ہیں پھر ارخاء الستر سے بطور استعارہ ارخاء سرحان بولا جاتا ہے ۔ جس کے معنی بھیڑیئے کی تیز روی کے ہیں ۔ ابو ذؤیب نے کہا ہے ۔ ( الکامل ) (178) ، ، فھی رخو تمزع ، ، اور وہ ہوا کی طرح تیز اور نرم رفتار ہے ۔ فرس مرخاء ۔ تیز رو گھوڑی ۔ خیل مراخ ۔ تیز رو گھوڑے ۔ ارخیتہ میں نے اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی کہ تیز رفتاری سے چلے ۔ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. قال تعالی:إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] ، وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] ، فَإِذا أَصابَ بِهِ مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] ، قال : الإِصَابَةُ في الخیر اعتبارا بالصَّوْبِ ، أي : بالمطر، وفي الشّرّ اعتبارا بِإِصَابَةِ السّهمِ ، وکلاهما يرجعان إلى أصل . مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ [ التوبة/ 50] اے پیغمبر اگر تم کو اصائش حاصل ہوتی ہے تو ان کی بری لگتی ہے اور اگر مشکل پڑتی ہے ۔ وَلَئِنْ أَصابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ [ النساء/ 73] ، اور اگر خدا تم پر فضل کرے فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشاءُ [ النور/ 43] تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔ فَإِذا أَصابَ بِهِمَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ [ الروم/ 48] پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ جباصاب کا لفظ خیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ صوب بمعنی بارش سے مشتق ہوتا ہے اور جب برے معنی میں آتا ہے تو یہ معنی اصاب السمھم کے محاورہ سے ماخوز ہوتے ہیں مگر ان دونوں معانی کی اصل ایک ہی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو اس کے بعد ہم نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم یا حضرت سلیمان کے حکم سے جہاں وہ جانا چاہتے نرمی سے چلتی اور جنات کو بھی ان کا تابع کردیا یعنی تعمیر کرنے والوں کو بھی اور سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے والوں کو بھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ { فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ رُخَآئً حَیْثُ اَصَابَ } ” تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو بھی مسخر کردیا ‘ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی بہت نرمی سے ‘ جہاں کہیں کا وہ قصد کرتا ۔ “ ہوا کے چلنے کا رخ متعین کرنا بھی آپ ( علیہ السلام) کے اختیار میں تھا۔ چناچہ ہوا آپ ( علیہ السلام) کی مرضی سے آپ ( علیہ السلام) کو اور آپ ( علیہ السلام) کے سفیروں کو خشکی اور سمندر کی مسافتیں طے کراتی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

37 For explanation, see Surah Al-Anbiya`: 81 and E.N. 74 thereof. However, there is one thing which requires further explanation here. In Surah Al Anbiya`where mention has been made of subjecting the wind for the Prophet Solomon, it has been described as `the strongly blowing wind, but here "which blew gently at his bidding" . This means that the wind in itself was strong and violent as is needed for moving the sailing-ships but it had been made gentle for the Prophet Solomon in the sense that it blew whither-so-ever he wanted it to blow for his commercial fleets.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :37 اس کی تشریح سورہ انبیاء کی تفسیر میں گزر چکی ہے ( تفہیم القرآن جلد سوم ، ص 176 ۔ 177 ) ۔ البتہ یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے ۔ سورہ انبیاء میں جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں الریح عَاصفتۃً ( باد تند ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اور یہاں اسی ہوا کے متعلق فرمایا گیا ہے تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَآءً ( وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا بجائے خود تو باد تند تھی ، جیسی کہ بادبانی جہازوں کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے ، مگر حضرت سلیمان علی السلام کے لیے وہ اس معنی میں نرم بنا دی گئی تھی کہ جدھر ان تجارتی بیڑوں کو سفر کرنے کی ضرورت ہوتی تھی اسی طرف وہ چلتی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

18: اس کی تفصیل سورۂ انبیاء : 18 میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:36) فسخرنا۔ فا سببیہ ہے (حضرت سلیمان نے دعا کی اور ہم نے وہ دعا قبول کرلی۔ اور بوجہ اس قبولیت کے) ہم نے (ہوا پر اس کو) مسخر کردیا۔ یا ہوا کو اس کے تابع کردیا۔ سخرنا فعل ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تسخیر (تفعیل) مصدر سے ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔ الریح۔ ہوا۔ ریح اصل میں روح تھا۔ ماقبل کے مکسور ہونے کی بناء پر واؤ کو یاء سیبدل دیا۔ اصل میں اعتبار سے اس کی جمع ارواح اور کسرہ ماقبل کے اعتبار سے ریاح آتی ہے۔ تجعی بامرہ۔ تجری مضارع واحد مؤنث غائب جری وجریان (باب ضرب) سے وہ چلتی ہے وہ جاری ہے۔ بامرہ اس کے حکم سے۔ اس کے حکم کے مطابق۔ رخاء اسم ہے نرم رفتار والی ہوا۔ جو تند نہ ہو۔ رخاوۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی نرم ہونے کے ہیں۔ اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) سے مصدر۔ وہ پہنچا۔ وہ آپڑا اس نے پالیا۔ یہاں مراد اراد۔ قصد۔ یعنی جہاں کا وہ ارادہ کریں ادھر کو ہی چلنے لگے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسے اختیارات دیئے جو کسی حکمران کو حاصل نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا وہ ملک کے جس حصے کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔ ہوا انہیں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی وہ دو ماہ کا سفر صبح و شام طے کرلیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے دیو ہیکل جِنّات کو ان کے تابع کردیا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جِنّوں کو مختلف کاموں پر مامور کر رکھا تھا۔ ایک جماعت کو تعمیرات کے کام پر لگایا اور دوسری جماعت کو سمندر پر مامور کیا جو غوطہ زنی کرتے ہوئے سمندر سے ہیرے جواہرات نکالا کرتے تھے۔ ان میں سے کوئی سرکشی کرتا تو انہیں بڑی بھاری بھرکم زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا اور سخت سزا دی جاتی تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان کو اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو انہیں معاف کردیں اگر چاہیں تو انہیں سزا دیں۔ اس پر آپ پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے ایک طرف انہیں عظیم ترقی یافتہ مملکت کا فرما نروا بنایا اور دوسری طرف اپنے ہاں قرب حضوری بخشا اور اعلیٰ مقام سے سرفراز کیا۔ ١۔ اللہ تعالیٰ نے جنات اور ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا۔ ٢۔ اللہ کے ہاں سلیمان (علیہ السلام) بڑے مرتبہ کے حامل تھے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فسخرناله۔۔۔ الصفاد (38: 36 تا 38) ” تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی ، جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کردیا ۔ ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے “۔ ہوا کو اللہ کے حکم سے اس کے بندوں میں سے کسی کے لیے مسخر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ کے ارادے سے باہر آگئی ۔ انسانوں کی تسخیر کے باوجود ہوا بدستور ارادہ الہٰی کے تحت چلتی ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کے نوا میں فطرت کے مطابق ہی چلتی ہے۔ جب اللہ اپنے کسی بندے کے لیے یہ بات سہل بنادے کہ اس کا فعل ارادۂ الہٰی کی تعبیر ہو اور بندے کا حکم الہٰی کے موافق ہوجائے تو ایسے میں کائناتی قوتیں اللہ کے امر کے ساتھ ساتھ بندے کے امر کے ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ پھر یہ ہوائیں نہایت ہی نرمی کے ساتھ جہاں وہ بندہ چاہتا ہے ادھر چلتی ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کا صدور اللہ سے مستبد نہیں ہوتا ہے۔ یہ فعل کی صورتوں میں سرزد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے فرماتا ہے۔ لئن لم۔۔۔ الاقلیلا (33: 60) ” اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلاتے ہیں ایسی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے “۔ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ اپنا ارادہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادے کی صورت میں حرکت میں لائے گا اور آپ کو ان کے خلاف اٹھا کر یوں ان کو مدینہ سے نکال دے گا۔ اللہ کے ارادے کے نتیجے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے خلاف قتال شروع کردیں گے۔ یوں اللہ کے ارادے اور نبی کے ارادے میں توافق پیدا ہوجائے گا۔ دونوں کے ارادے باہم مل جائیں گے اور اللہ کا ارادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقدامات کی شکل میں نظر آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو اسی معنی میں مسخر کردیا تھا جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ اسی طرح اللہ ہواؤں کو مسخر فرما دیتا ۔ یا جس طرح اللہ چاہتا اسی طرف حضرت سلیمان کا ارادہ ہوجاتا۔ اسی طرح آپ کیلیے شاطین کو بھی مسخر کردیا گیا اور آپ ان سے تعمیرات کا کام لیتے تھے۔ سمندر میں اور خشکی میں یہ لوگ آپ کیلیے غوطہ لگاتے تھے اور جو اشیاء حضرت سلیمان چاہتے تھے وہ نکال لاتے تھے اور مخالفین اور مفسدین کو سزا دینے کی پوری پوری قدرت اللہ نے آپ کیلیے ودیعت کردی تھی۔ مجرموں کو گرفتار کرنے ، قید کرنے اور پکڑنے کی پوری قدرت آپ کو دے دی تھی ۔ آپ کی حکومت میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ یعنی مجرم اکیلے اور اجتماعی شکل میں گرفتار ہوکر پایہ زنجیر کردیئے جاتے۔ زمین میں دولت کی تقسیم کے پورے اختیارات آپ کو دے دیئے تھے۔ جسے چاہتے جسے چاہتے نہ دیتے۔ یا جسے جس قدر چاہتے دے دیتے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ ” فسخرنا الخ “۔ چنانہ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی دعا قبول کرلی اور ہوا کو اور جنات کو ان کے تابع کردیا۔ ” اصاب “ ای اراد (روح) ۔ حضرت سلیم (علیہ السلام) جہاں چاہتے ہوا سبک رفتاری سے ان کا تخت اٹھا کرلے جاتی اور جنات کو بھی ان کا مطیع بنا دیا ان میں سے کچھ تو تعمیرات کے کام پر لگا دئیے اور کچھ غوطہ زن تھے جو سمندر کی تہ سے جواہر اور دیگر قیمتی اشیاء نکال کردیتے۔ اور جو شیاطین میں زیادہ سرکش اور طاگی تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید میں ڈال رکھا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) پس ہم نے ہوا کو سلیمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع کردیا کہ وہ ہوا اس کے حکم سے جہاں وہ جانا چاہتا نرم اور خوشگوار رفتار سے چلتی۔