Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 37

سورة ص

وَ الشَّیٰطِیۡنَ کُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍ ﴿ۙ۳۷﴾

And [also] the devils [of jinn] - every builder and diver

اور ( طاقتور ) جنات کو بھی ( ان کے ماتحت کر دیا ) ہر عمارت بنانے والے کو اور غوط خور کو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And also the Shayatin, from every kind of builder and diver, means, among them were some whom he used to build high rooms, images, basins as large as reservoirs, and cauldrons fixed (in their places), and other difficult tasks which humans were unable to do. And there was another group, who dived into the sea recovering pearls, jewels and other precious things which cannot be found anywhere else. وَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الاْاَصْفَادِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٣] جن آپ کے حکم کے تحت بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ دریاؤں میں غوطہ لگا کر ان سے ہیرے جواہرات موتی وغیرہ نکالتے تھے۔ دوسرے کام جو عام انسانوں کی طاقت سے زیادہ ہوتے تھے وہ آپ جنوں سے لیا کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لئے سورة انبیاء آیت نمبر ٨٢ اور سورة سبا آیت نمبر ١٢ کے حواشی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ : ” بَنَّاۗءٍ “ اور ” وَّغَوَّاصٍ “ مبالغہ کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا ترجمہ ماہر معمار اور ماہر غوطہ خور کیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ۝ ٣٧ۙ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 12] . والبِنَاء : اسم لما يبنی بناء، قال تعالی: لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ، والبَنِيَّة يعبر بها عن بيت اللہ تعالیٰ «2» . قال تعالی: وَالسَّماءَ بَنَيْناها بِأَيْدٍ [ الذاریات/ 47] ، وَالسَّماءِ وَما بَناها [ الشمس/ 5] ، والبُنيان واحد لا جمع، لقوله تعالی: لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ التوبة/ 110] ، وقال : كَأَنَّهُمْ بُنْيانٌ مَرْصُوصٌ [ الصف/ 4] ، قالُوا : ابْنُوا لَهُ بُنْياناً [ الصافات/ 97] ، وقال بعضهم : بُنْيَان جمع بُنْيَانَة، فهو مثل : شعیر وشعیرة، وتمر وتمرة، ونخل ونخلة، وهذا النحو من الجمع يصح تذكيره وتأنيثه . و ( ب ن ی ) بنیت ابنی بناء وبنیتہ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ { وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا } ( سورة النبأ 12) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے { وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ } ( سورة الذاریات 47) اور آسمانوں کو ہم ہی نے ہاتھوں سے بنایا ۔ { وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا } ( سورة الشمس 5) اور آسمان اور اس ذات کی ( قسم ) جس نے اسے بنایا ۔ البنیان یہ واحد ہے جمع نہیں ہے جیسا کہ آیات ۔ { لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ } ( سورة التوبة 110) یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں ( موجب ) خلجان رہے گی ۔ { كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ } ( سورة الصف 4) کہ گویا سیساپلائی ہوئی دیوار ہیں :{ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ } ( سورة الصافات 97) وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ بنیانۃ کی جمع ہے اور یہ : شعیر شعیر وتمر وتمر ونخل ونخلتہ کی طرح ہے یعنی جمع اور مفرد میں تا کے ساتھ فرق کرتے ہیں اور جمع کی اس قسم میں تذکر وتانیث دونوں جائز ہوتے ہیں لَهُمْ غُرَفٌ مِنْ فَوْقِها غُرَفٌ مَبْنِيَّةٌ [ الزمر/ 20] ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں ۔ بناء ( مصدر بمعنی مفعول ) عمارت جمع ابنیتہ البنیتہ سے بیت اللہ مراد لیا جاتا ہے غوص الغَوْصُ : الدّخول تحت الماء، وإخراج شيء منه، ويقال لكلّ من انهجم علی غامض فأخرجه له : غَائِصٌ ، عينا کان أو علما . والغَوَّاصُ : الذي يكثر منه ذلك، قال تعالی: وَالشَّياطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ [ ص/ 37] ، وَمِنَ الشَّياطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ [ الأنبیاء/ 82] ، أي : يستخرجون له الأعمال الغریبة والأفعال البدیعة، ولیس يعني استنباط الدّرّ من الماء فقط . ( غ و ص ) الغوص کے معنی پانی میں غوطہ لگا کر کوئی چیز نکال لانے کے ہیں اور جو شخص کسی پیچیدہ مسئلہ کی تہ تک پہنچ جائے یا نیچے کی تہ سے کوئی چیز نکال لائے اسے غائص کہاجاتا ہے اسی سے عواص صیغہ مبالغہ ہے جس کے معنی غوطہ خور کے ہیں ۔ وَالشَّياطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ [ ص/ 37] اور شیطان کو بھی ( ان کی زیر فرمان کیا ) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے۔ وَمِنَ الشَّياطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ [ الأنبیاء/ 82] اور شیاطین ( کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان ) میں سے بعض انکے لئے غوطے مارتے تھی ۔ میں پانی کے اندر سے موتی نکالنے والے غوطہ خوری مراد نہیں ہیں بلکہ نادر کام کرنے والے اور عجیب و غریب صنعتیں ایجاد کرنے والے بھی ان میں داخل ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٧۔ ٣٨) اور دوسرے جنات کو بھی جو لوہے کی زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے یہ سرکش اور فسادی جنات تھے کہ جو کام بھی ان کے سپرد ہوتا تھا اس سے بھاگ جاتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٧ { وَالشَّیٰطِیْنَ کُلَّ بَنَّآئٍ وَّغَوَّاصٍ } ” اور سرکش ِجنات ّکو بھی (ہم نے مسخر کردیا تھا) سب کے سب عمارتیں بنانے والوں اور غوطہ خوروں کو۔ “ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے یہ جنات بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور سمندر کی تہہ سے موتی اور دیگر اشیاء نکالتے تھے ۔ - ۔ - ۔ - ۔ - بَنَّـائ کے معنی معمار کے ہیں۔ حسن البناء شہید بھی اسی وجہ سے ” البناء “ کہلاتے تھے کہ ان کا تعلق ایک معمار خاندان سے تھا۔ عرب معاشرے میں کسی بھی پیشے کو حقیر یا باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔ بقول غالب ع ” پیشے کو عیب نہیں ‘ رکھیے نہ فرہاد کو نام ! “ چناچہ عربوں کے ہاں اگر کسی شخص کے آباء و اَجداد حرم میں لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے تو وہ آج بھی ” سقّاء “ کہلاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا تعلق نانبائیوں کے خاندان سے ہے تو وہ ” خباز “ کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:37) والشیطین۔ واؤ عاطفہ ہے الشیطین معطوف اس کا عطف الریح پر ہے۔ ای وسخرنا لہ الشیطین۔ اور ہم نے شیاطین (جنات) کو بھی ان کا تابع بنادیا۔ کل بناء وغواص۔ یہ جملہ بدل ہے شیاطین کا۔ کل بناء مضاف مضاف الیہ ہے۔ بناء عمارت بنانے والا۔ معمار۔ بناء (بمعنی چھت یا عمارت) سے مشتق ہے۔ فعال اگر چہ مبالغہ کا وزن ہے مگر یہاں بمعنی اسم فاعل ہے ۔ یعنی سب معماروں کو۔ غواص۔ ای کل غواص : غوص مصدر سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یہاں مراد نہ صرف پانی کے اندر سے موتی نکالنے والے عوظ خور ہی مراد نہیں بلکہ نادر کام کرنے والے اور عجیب و غریب صنعتیں ایجاد کرنے والے بھی ان میں شامل ہیں۔ غوص کے معنی پانی میں غوطہ لگا کر کوئی چیز نکال لانے کے ہیں۔ جو شخص کسی پیچیدہ مسئلہ کی تہ تک پہنچ جائے یا نیچے کی تہہ سے کوئی چیز نکال کر لائے اسے غائص کہتے ہیں اسی سے غواص مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور (ہم نے اس کے تابع بنادیا) جنات کو بھی جو سب معمار اور غوطہ خور تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(37) اور اسی طرح جنات کو بھی جو عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے تھے اس کے تابع فرمان کردیا۔