Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 47

سورة ص

وَ اِنَّہُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَیۡنَ الۡاَخۡیَارِ ﴿ؕ۴۷﴾

And indeed they are, to Us, among the chosen and outstanding.

یہ سب ہمارے نزدیک برگزیدہ اور بہترین لوگ تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And they are with Us, verily, of the chosen and the best! means, they are among those who have been elected and chosen, and they are the best and the chosen ones. وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنْ الاْاَخْيَارِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ : ” الْمُصْطَفَيْنَ “ ” مُصْطَفٰی “ کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں ” مُصْتَفٰی “ ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ” چُنے ہوئے۔ “ ” الْاَخْيَارِ “ ” خَیْرٌ“ کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں ” أَخْیَرُ “ ہے، اس لیے اس کی جمع ” الْاَخْيَارِ “ آئی ہے ” سب سے بہتر لوگ۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ۝ ٤٧ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ اصْطِفَاءُ : تناولُ صَفْوِ الشیءِ ، كما أنّ الاختیار : تناول خيره، والاجتباء : تناول جبایته . واصْطِفَاءُ اللهِ بعضَ عباده قد يكون بإيجاده تعالیٰ إيّاه صَافِياً عن الشّوب الموجود في غيره، وقد يكون باختیاره وبحکمه وإن لم يتعرّ ذلک من الأوّل، قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75] ، إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَنُوحاً [ آل عمران/ 33] ، اصْطَفاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفاكِ [ آل عمران/ 42] ، اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ [ الأعراف/ 144] ، وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ [ ص/ 47] ، واصْطَفَيْتُ كذا علی كذا، أي : اخترت . أَصْطَفَى الْبَناتِ عَلَى الْبَنِينَ [ الصافات/ 153] ، وَسَلامٌ عَلى عِبادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى [ النمل/ 59] ، ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا[ فاطر/ 32] ، والصَّفِيُّ والصَّفِيَّةُ : ما يَصْطَفِيهِ الرّئيسُ لنفسه، قال الشاعر : لک المرباع منها والصَّفَايَا وقد يقالان للناقة الكثيرة اللّبن، والنّخلة الكثيرة الحمل، وأَصْفَتِ الدّجاجةُ : إذا انقطع بيضها كأنها صَفَتْ منه، وأَصْفَى الشاعرُ : إذا انقطع شعره تشبيها بذلک، من قولهم : أَصْفَى الحافرُ : إذا بلغ صَفًا، أي : صخرا منعه من الحفر، کقولهم : أكدى وأحجر «2» ، والصَّفْوَانُ کالصَّفَا، الواحدةُ : صَفْوَانَةٌ ، قال تعالی: كَمَثَلِ صَفْوانٍ عَلَيْهِ تُرابٌ [ البقرة/ 264] ، ويقال : يوم صَفْوَانٌ: صَافِي الشّمسِ ، شدید البرد . الاصطفا ء کے معنی صاف اور خالص چیز لے لینا کے ہیں جیسا کہ اختیار کے معنی بہتر چیز لے لینا آتے ہیں اور الا جتباء کے معنی جبایتہ یعنی عمدہ چیا منتخب کرلینا آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا کسی بندہ کو چن لینا کبھی بطور ایجاد کے ہوتا ہے یعنی اسے ان اندرونی کثافتوں سے پاک وصاف پیدا کرتا ہے جو دوسروں میں پائی جاتی ہیں اور کبھی بطریق اختیار اور حکم کے ہوتا ہے گو یہ قسم پہلے معنی کے بغیر نہیں پائی جاتی ۔ قرآن میں ہے : اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ [ الحج/ 75] خدا فرشتوں اور انسانوں میں رسول منتخب کرلیتا ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى آدَمَ وَنُوحاً [ آل عمران/ 33] خدا نے آدم اور نوح ۔۔۔۔۔۔ کو ( تمام جمان کے لوگوں میں ) منتخب فرمایا تھا ۔ اصْطَفاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفاكِ [ آل عمران/ 42] خدا نے تم کو برگزیدہ کیا اور پاک بنایا اور ۔۔۔۔۔ منتخب کیا ۔ اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ [ الأعراف/ 144] میں نے تم کو ۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں سے ممتاز کیا ۔ وَإِنَّهُمْ عِنْدَنا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيارِ [ ص/ 47] اور یہ لوگ ہمارے ہاں منتخب اور بہتر افراد تھے ۔ اصطفیت کذا علی کذا ایک چیز کو دوسری پر ترجیح دینا اور پسند کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ أَصْطَفَى الْبَناتِ عَلَى الْبَنِينَ [ الصافات/ 153] کیا اس نے بیتوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ۔ وَسَلامٌ عَلى عِبادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى [ النمل/ 59] اس کے بندوں پر سلام جن کو اس نے منتخب فرمایا : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا[ فاطر/ 32] پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا ۔ الصفی والصفیۃ مال غنیمت کی وہ چیز جسے امیر اپنے لئے منتخب کرنے ( جمع صفایا ) شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (274) لک المریاع منھا والصفایا تمہارے لئے اس سے ربع اور منتخب کی ہوئی چیزیں ہیں ۔ نیز صفی وصفیۃ (1) بہت دودھ دینے والی اونٹنی (2) بہت پھلدار کھجور ۔ اصفت الدجاجۃ مرغی انڈے دینے سے رک گئی گویا وہ انڈوں سے خالص ہوگئی اس معنی کی مناسبت سے جب شاعر شعر کہنے سے رک جاے تو اس کی متعلق اصفی الشاعر کہاجاتا ہے اور یہ اصفی الحافر کے محاورہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کنواں کھودنے والا صفا یعنی چٹان تک پہنچ گیا جس نے اسے آئندہ کھدائی سے روک دیا جیسا کہ اکدی واحجر کے محاورات اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اور الصفا کی طرح صفوان کے معنی بھی بڑا صاف اور چکنا پتھر کے ہیں اس کا واحد صفوانۃ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : كَمَثَلِ صَفْوانٍ عَلَيْهِ تُرابٌ [ البقرة/ 264] اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو ۔ یوم صفوان خنک دن میں سورج صاف ہو ( یعنی بادل اور غبارہ نہ ہو ) خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور وہ حضرات دنیا میں نبوت و اسلام کے ساتھ منتخب اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار میں بہت اچھے بندے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧ { وَاِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ } ” اور یقینا وہ ہمارے نزدیک ُ چنے ہوئے اور نیک لوگوں میں سے ہیں۔ “ گویا جو شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے اور اس کے دین کی دعوت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیتا ہے اور اس کا جینا مرنا اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے نزدیک مُصْطَفَیْن (چنیدہ اور برگزیدہ افراد) میں سے ہوجاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:47) المصطفین الاخیار۔ المصطفین اسم مفعول جمع مذکر المصطفی واحد۔ اصطفاء (افتعال) مصدر ص کے بعد کے تاء کو طاء سے بدل دیا گیا ہے۔ صفو مادہ۔ برگزریدہ۔ منتخب۔ الاخیار خیر کی جمع ۔ خیر صفت مسبہ کا صیغہ ہے۔ نیک لوگ : یونی (یہ ہمارے نزدیک) بہترین برگزیدہ (بندوں) میں سے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یعنی منتخب لوگوں میں سے بھی سب سے بڑھ کر۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا کرتا ہے اور ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لیے جو اجر اور انجام ہوتا ہے وہ بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں ، اللہ کی برکتوں کے مقابلے میں سازشیوں کی شازشوں اور مکاروں کی مکاریوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے بندوں کا ہر وقت نگہبان ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ان حضرات کی تیسری صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَاِِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ) (اور بلاشبہ یہ بندے ہمارے نزدیک منتخب کیے ہوئے تھے اچھے لوگوں میں سے تھے) کیا کہنے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنا برگزیدہ بنائے اور اچھے لوگوں میں شمار فرمائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(47) اور یقینا وہ یعنی ابراہیم اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) ہمارے ہاں چیدہ ، برگزیدہ اور بہتر لوگوں میں سے ہیں یعنی منتخب لوگوں میں سے ہیں اور منتخب میں بھی سب سے بڑھ کر۔