Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 66

سورة ص

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾

Lord of the heavens and the earth and whatever is between them, the Exalted in Might, the Perpetual Forgiver."

جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، وہ زبردست اور بڑا بخشنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ... The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, means, He is the Sovereign of all that and is in control of it. ... الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ the Almighty, the Oft-Forgiving. means, He is Oft-Forgiving as well as being Almighty and All-Powerful. قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٦] اس سے پہلی آیت میں اپنی صفت قہاری کا ذکر فرمایا۔ جبکہ مخاطب کافر تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دبا کر رکھنے والا ہے۔ کافر اس کی گرفت سے کسی وقت بھی بچ نہیں سکتے۔ اور اس آیت میں اپنی صفت غفاری کا ذکر فرمایا یعنی جو بندے ایمان لے آئیں اور اس کے بندے بن کر رہیں ان کے گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، پھر کسی اور کی عبادت کیوں، جو نہ واحد ہے نہ قہر اور دبدبے کا مالک، نہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کا رب ہے، نہ ہی اس کے ہاتھ میں قوت و اقتدار ہے اور نہ ہی گناہوں کو بخشنے کا اختیار ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا الْعَزِيْزُ الْغَفَّارُ۝ ٦٦ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ ) غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوق کا خالق ہے جو ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اس کی بڑی مغفرت فرمانے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٦ { رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ } ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے ‘ اور وہ بہت زبردست ‘ بہت بخشنے والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:66) اب السموت والارض ۔۔ الواحد ۔ القھار ۔ رب (السموت والارض وما بینھما) العزیز ۔ الغفار۔ سب اللہ کے صفاتی اسماء حسنی ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو اچھے اور برے انجام سے آگاہ کرنے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول کی بعثت کا بنیادی اور مرکزی مقصد توحید کی دعوت دینا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دعوت کا آغاز فرمایا تو اہل مکہ نے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس پر قوم کے سرداروں نے ایک دوسرے کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کے عقیدہ پر قائم رکھیں۔ اس پر اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں پہلے اہل مکہ کو ڈرایا اور پھر سمجھایا کہ تم قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود اور اصحاب الایکہ سے بڑھ کر نہیں ہو۔ راہ راست پر آجاؤ ورنہ ان کے انجام کا انتظار کرو۔ اس کے بعد چند انبیائے کرام (علیہ السلام) کی مختلف قسم کی آزمائشوں کا ذکر فرما کر نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کے راستے میں مشکلات ضرور آیا کرتی ہیں۔ آپ ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں کفار اور مشرکین سے کھلے انداز میں کہہ دیں کہ میرا کام تمہیں برے فکر وعمل کے برے انجام سے انتباہ کرنا ہے۔ جسے میں کھلے الفاظ میں سر انجام دے رہا ہوں۔ کان کھول کر سن لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق اور مسائل حل کرنے والا نہیں۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے اکیلا اور قہار ہے۔ جب وہ اپنی قہاریت کا مظاہرہ کرنے پر آئے گا تو کوئی زندہ اور مردہ اس کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔ وہ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے۔ وہ ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔ میں نے تمہیں اللہ کی توحید، اس کے تقاضوں اور قیامت کی ہولناکیوں سے آگاہ کردیا ہے۔ قیامت آنے ہی والی ہے مگر تم اس سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ مجھے خبر نہیں کہ ملاء الاعلیٰ کس بات پر جھگڑا کررہے تھے۔ میں آسمان کے بارے میں وہی باتیں جانتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتیں ہیں۔ جن تمہیں کھلے الفاظ میں آگاہ کررہا ہوں۔ (عَنْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَطْوِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَوَاتِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ یَأْخُذُہُنَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ ثُمَّ یَطْوِی الأَرَضِینَ بِشِمَالِہِ ثُمَّ یَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَیْنَ الْجَبَّارُوْنَ أَیْنَ الْمُتَکَبِّرُوْنَ )[ رواہ مسلم : باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کو قیامت کے دن لپیٹ لے گا پھر اس کو دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں جابر لوگ ؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ پھر زمین کو بائیں ہاتھ میں لپیٹ کر اعلان کرے میں بادشاہ ہوں کہاں ہیں جابر لوگ ؟ اور کہاں ہیں تکبر کرنے والے ؟ “ (عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَل (رض) قَالَ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ حَتَّی کِدْنَا نَتَرَاءَی عَیْنَ الشَّمْسِ فَخَرَجَ سَرِیعًا فَثُوِّبَ بالصَّلاَۃِ فَصَلَّی رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَتَجَوَّزَ فِی صَلاَتِہِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِہِ قَالَ لَنَا عَلَی مَصَافِّکُمْ کَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَیْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّی سَأُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِی عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ إِنِّی قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِی فَنَعَسْتُ فِی صَلاَتِی حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِی أَحْسَنِ صُورَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبّ قَال فیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَی قُلْتُ لاَ أَدْرِی قَالَہَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِہِ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلَّی لِی کُلُّ شَیْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّد قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَال فیمَ یَخْتَصِمُ الْمَلأُ الأَعْلَی قُلْتُ فِی الْکَفَّارَاتِ قَالَ مَا ہُنَّ قُلْتُ مَشْیُ الأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِی الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِی الْمَکْرُوہَات قال فیمَ قُلْتُ إِطْعَام الطَّعَامِ وَلِینُ الْکَلاَمِ وَالصَّلاَۃُ باللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ قَالَ سَلْ قُلْتُ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِینِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلَی حُبِّکَ قَالَ رَسُول اللَّہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا ثُمَّ تَعَلَّمُوہَا)[ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ ص ] ” حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معمول کے مطابق تشریف نہ لائے۔ قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجائے۔ پھر آپ (علیہ السلام) تیزی سے تشریف لائے تکبیر ہوئی اور نماز پڑھائی۔ سلام کے بعد ارشاد فرمایا اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں دیر سے آنے کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے آج رات یاد الٰہی میں قیام کیا جتنا مقدور تھا۔ نماز پڑھی پھر مجھے نماز میں ہی اونگھ آگئی۔ یہاں تک کہ مجھے گرانی محسوس ہونے لگی۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا رب بڑی پیاری صورت میں تشریف فرما ہے اور ارشاد فرمایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے عرض کی۔ اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھایہ آسمان کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی۔ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں محسوس کیا۔ اس کی برکت سے میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے اس کو پہچان لیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں تھا میں نے اسے جان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے عرض کی یا رب حاضر ہوں۔ پوچھا آسمان کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی درجات اور کفارات کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا درجات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی کھانا کھلانا، سلام کو عام کرنا اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں اٹھ کر نماز پڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ نے سچ کہا ہے۔ اب بتاؤ ! کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کی کہ تکلیف کی حالت میں مکمل وضو کرنا، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور جماعت میں شریک ہونے کے لیے چل کر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی تو نے سچ کہا۔ اب مانگو جو مانگنا چاہتے ہو۔ میں نے عرض کی۔ الٰہی ! میں تجھ سے نیک کام کرنے کی تو فیق اور برے کاموں کو چھوڑنے کی طاقت اور مسکینوں سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں۔ میں التجا کرتا ہوں کہ تو مجھے بخش دے۔ مجھ پر رحم فرما اور جب اپنے بندوں کو کسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنہ سے بچا کر اپنی طرف بلا لے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت، اور جو تجھ سے محبت کرتا ہے اس کی محبت اور اس عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھ کو تیری محبت کے قریب کردے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو فرمایا۔ اس دعا کے الفاظ تم بھی سیکھ لو ! کیونکہ یہ بہت ہی بہتر ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر اعتبار سے غالب ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا خالق اور مالک ہے ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود اپنے بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔ ٤۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلے الفاظ میں لوگوں کو اللہ کی توحید اور قیامت کی ہولناکیوں سے آگاہ فرمایا۔ ٥۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہی کچھ جانتے تھے جس کے بارے میں آپ کو وحی کی جاتی تھی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اکیلا اور غالب ہے : ١۔ ” اللہ “ ہی رب ہے۔ ( لانعام : ١٠٢) ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ ( الرعد : ١٦) ٣۔ اللہ کی ذات ہی ازلی اور ابدی ہے۔ (الحدید : ٣) ٤۔ اللہ ہی مشرق ومغرب کا مالک ہے۔ (البقرۃ : ١٤٢) ٥۔ ” اللہ “ غنی ہے تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : ٣٥) ٦۔ زمین و آسمان پر اللہ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٧۔ قیامت کو بھی ” اللہ “ ہی کی حکومت ہوگی۔ (الفرقان : ٢٦) ٨۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٩۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : ١٠٧) ١٠۔ ” اللہ “ سخت عذاب دینے والا۔ ( البقرۃ : ١٦٥) ١١۔ ” اللہ “ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ( النساء : ١٦) ١٢۔ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والا۔ ( الحج : ٥٤) ١٣۔ ” اللہ “ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے۔ ( الحشر : ٢٢) ١٤۔ اللہ تعالیٰ ہی زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے۔ ( البقرۃ : ٢٥٥) ١٥۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر شفقت اور نرمی کرنے والا ہے۔ ( آل عمران : ٣٠) ١٦۔ اللہ ایک ہے اور زبردست طاقت والا ہے۔ ( ص ٦٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(66) وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور ان چیزوں کا جو ان کے مابین ہیں سب کا پروردگار اور کمال قوت کا مالک اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔ یعنی سب کا مالک ہے زبردست ہے اور بہت بخشش کرنے والا ہے۔