Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 2

سورة الزمر

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾

Indeed, We have sent down to you the Book, [O Muhammad], in truth. So worship Allah , [being] sincere to Him in religion.

یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں ، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, We have sent down the Book to you in truth. So, worship Allah by doing religious deeds sincerely for Him only. means, so worship Allah Alone with no partner or associate, and call mankind to that, and teach them that it is not right to worship anyone or anything except Him Alone, and He has no partner, equal or rival. Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی اس میں توحید و رسالت، معاد اور احکام و فرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔ 2۔ 2 دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کردی گئی ہے کہ اِنَّمَا الاَعْمَال بالنِّیَّاتِ ' عملوں کا دارو مدار نیتوں پر ہے ' یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] یعنی یہ کتاب اس لئے نازل نہیں کی گئی کہ اس کی آیات کا مذاق اڑایا جائے بلکہ اس لئے اتاری ہے کہ اس سے مثبت اور تعمیری نتائج حاصل ہوں جنہیں سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس میں مذکور ہے وہ ٹھوس حقائق پر مبنی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : ” حق “ وہ ہے جو واقعہ کے عین مطابق ہو۔ اس آیت میں قرآن مجید کی مزید خوبیاں بیان فرمائیں، ایک یہ کہ پچھلی آیت میں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ بیان فرمایا، اب یہی بات اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کر کے فرمائی، جس سے مقصود اپنی اور اپنے کلام کی عظمت کا اظہار ہے۔ دوسری یہ کہ ہم نے اس کتاب کو تیری طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے، اس کی ہر بات درست ہے، کوئی بات واقعہ کے خلاف نہیں، اس لیے اس پر عمل لازم ہے۔ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ : دین کا معنی عبادت اور اطاعت بھی ہے اور ایمان، اسلام اور احسان بھی، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا ارادہ اور نیت رکھے۔ شوکانی نے فرمایا، یہ آیت نیت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے اور اس بات کی بھی کہ وہ ہر قسم کے شرک اور ریا کی ملاوٹ سے خالص ہونی چاہیے، کیونکہ اخلاص کا تعلق دل سے ہے اور صحیح حدیث میں ہے کہ تمام اقوال و افعال کا دارومدار نیت پر ہے، جیسا کہ فرمایا : ( إِنَّمَا الْأَعْمَال بالنِّیَّاتِ ) [ بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي۔۔ : ١ ] ” تمام اعمال نیتوں ہی کے ساتھ معتبر ہیں۔ “ دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کی عبادت (بندگی) کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے، بلکہ صرف اسی کی پرستش کرے، اسی کی ہدایت کی پیروی کرے اور اسی کے احکام پر عمل کرے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In verse 2, it was said: فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ - (so worship Allah in submission to Him exclusively. Remember, Allah alone deserves the exclusive submission.). The word: دِین (deen) at this place means worship, submission, devotion or obedience which is inclusive of adhering to all religious injunctions. In the first statement earlier to this, the address was to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) where he was commanded to make the worship of and obedience to Allah sincere and exclusive for Him, so as there remains no trace of shirk or of any hypocrisy or false pretension. The second statement is to emphasize the first statement in that sincerity in worship is the exclusive right of Allah and no one else, other than Him deserves it. It has been reported from Sayyidna Abu Hurairah (رض) that someone submitted before the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، &Ya rasulallah, there are occasions when I give in charity or do a favor to somebody, but my intention gets mixed up - I do look forward to seek the pleasure of Allah thereby, but I also hope that people will praise me for it.& The noble prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, |"By the One in whose hands lies the life of Muhammad, Allah Ta’ ala does not like anything in which someone or something else has been associated as a partner or sharer with Him. Then he recited the verse quoted here as the proof: أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ (Remember, Allah alone deserves the exclusive submission.) |". (Qurtubi) Acceptance of deeds with Allah depends on unalloyed measure of sincerity Several verses of the Qur&an bear out that the deeds are not measured with Allah by numbers, instead, they are measured by weight, for example: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ (and We shall place scales to do justice on the Day of Judgment - Al-Anbiya&, 21:47). This verse read in juxtaposition with the verses cited above tell us that the value and weight of deeds is judged by the amount of sincerity with which they are performed, and it goes without saying that perfect sincerity cannot be achieved without perfect faith, because perfect sincerity means that one should not take someone as having intrinsic power to benefit or harm someone other than Allah, nor take someone other than Allah as disposer of one&s acts, nor allow the thought of someone other than Allah enter into any act of worship or obedience of his volition. As for non-voluntary scruples, Allah Ta’ ala forgives them. The noble Sahabah are the front line of Muslims. Their practice of prayers and good deeds may not appear to be very prominent numerically. But, despite all this, the reason why the single insignificant most of their deeds was superior to the highest of the high deeds of the rest of the Ummah was no other but their very perfection of &iman (faith) and perfection of ikhlas (sincerity).

معارف ومسائل (آیت) فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۔ لفظ دین کے معنی اس جگہ عبادت کے ہیں یا اطاعت کے، جو تمام احکام دینیہ کی پابندی کو عام اور شامل ہے۔ اس کے پہلے جملہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت و اطاعت کو خالص اسی کے لئے کریں جس میں کسی غیر اللہ کے شرک یا ریاء و نمود کا شائبہ نہ ہو۔ دوسرا جملہ اسی کی تاکید کے لئے ہے کہ خلاص دین صرف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق نہیں۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں بعض اوقات کوئی صدقہ و خیرات کرتا ہوں یا کسی پر احسان کرتا ہوں جس میں میری نیت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی بھی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف وثناء کریں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے، جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو۔ پھر آپ نے آیت مذکورہ بطور استدلال کے تلاوت فرمائی۔ اَلَا لِلّٰهِ الدِّيْنُ الْخَالِصُ ۔ (قرطبی) اعمال کی مقبولیت عند اللہ بمقدار اخلاص ہے : متعدد آیات قرآنی اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حساب گنتی سے نہیں بلکہ وزن سے ہوتا ہے۔ (آیت) ونضع الموازین القسط لیوم القیامة، اور آیات مذکورہ نے بتلا دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک اعمال کی قدر اور وزن بقدر اخلاص ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کمال اخلاص بدون کمال ایمان حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ اخلاص کامل یہ ہے کہ اللہ کے سوا نہ کسی کو نفع و ضرر کا مالک سمجھے نہ اپنے کاموں میں کسی غیر اللہ کو متصرف خیال کرے، نہ کسی اطاعت و عبادت میں غیر اللہ کا اپنے تصور سے دھیان آنے دے۔ غیر اختیاری وساوس کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ صحابہ کرام جو مسلمانوں کی صف اول ہیں ان کے اعمال و ریاضت کی تعداد کچھ زیادہ نظر نہ آئے گی مگر اس کے باوجود ان کا ایک ادنیٰ عمل باقی امت کے بڑے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال ایمان اور کمال اخلاص ہی تو ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّيْنَ۝ ٢ۭ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢ { اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ “ { فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ } ” پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ “ اس حکم کے برعکس آج عملی طور پر ہماری زندگیوں کا نقشہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ طاغوت کو بھی پوجا جا رہا ہے۔ ایک طرف نمازیں پڑھی جا رہی ہیں ‘ حج اور عمرے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حرام خوری بھی جاری ہے اور سودی کاروبار بھی چل رہا ہے۔ اللہ کو ایسی آلودہ (polluted) بندگی کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے خالص بندگی کا تقاضا کرتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 That is, it contains nothing but the truth, and there is no element of falsehood in it. 3 This is a very important verse, which stasis the real objective of the message of Islam. Therefore, one should not pass over it superficially, but should try to understand its meaning and intention well. It has two basic points without grasping which one cannot understand the verse: (1) That the demand is to worship Allah; and (2) that the demand is of such worship as may be performed by making religion exclusively Allah's. Ibadat is derived from 'abd, and this word is used as an antonym of freeman" for the "slave" and `bondsman" in Arabic. Accordingly, 'ibadat contains two meanings: (I) Worship and devotion; and (2) humble and willing obedience, as is borne out by the well-known and authoritative Arabic Lexicon. Lisan al-'Arab. Thus, according to the authentic lexical explanation, the demand is not only of Allah's worship but also of willing and sincere obedience to His Commands and His Law. The Arabic word din contains several meanings: (1) Domination and sovereignty, rulership and political power and authority to enforce one's decisions on others. (2) Obedience, compliance with commands and servitude. (3) The practice and the way that a man follows. In view of these three meanings, din in this verse means: "The way of life and attitude which a man adopts after acknowledging the supremacy and accepting the obedience of another; " and `to worship Allah making one's religion exclusively His" means that one should refrain from combining another's worship with the worship of Allah, but should worship Allah alone, should follow His Guidance alone, and should comply with His Commands and injunctions only.

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :2 یعنی اس میں جو کچھ ہے حق اور سچائی ہے ، باطل کی کوئی آمیزش اس میں نہیں ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :3 یہ ایک نہایت اہم آیت ہے جس میں دعوت اسلام کے اصل مقصود کو بیان کیا گیا ہے ، اس لیے اس پر سے سرسری طور پر نہ گزر جانا چاہیے ، بلکہ اس کے مفہوم و مدعا کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اس کے بنیادی نکات دو ہیں جنہیں سمجھے بغیر آیت کا مطلب نہیں سمجھا جاسکتا ۔ ایک یہ کہ مطالبہ اللہ کی عبادت کرنے کا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایسی عبادت کا مطالبہ ہے جو دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے کی جائے ۔ عبادت کا مادہ عبد ہے ۔ اور یہ لفظ آزاد کے مقابلے میں غلام اور مملوک کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہوتا ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے عبادت میں دو مفہوم پیدا ہوئے ہیں ۔ ایک پوجا اور پرستش ، جیسا کہ عربی زبان کی مشہور و مستند لغت لسان العرب میں ہے ، عَبَدَا للہ ، تَألَّہ لَہٗ ۔ وَ التَّعَبُّدُ ، التَّنَسُّکُ ۔ دوسرے ، عاجزانہ اطاعت اور برضا و رغبت فرمانبرداری ، جیسا کہ لسان العرب میں ہے ، العبادۃ ، الطاعۃ ۔ و معنی العبادۃ فی اللغۃ الطاعۃ مع الخضوع ۔ وَکل من دان لملک فھر عابدٌ لَہٗ ( وَقَوْمُھُمَا لَنَا عَابِدُوْنَ ) ۔ والعابد ، الخاضع لربہ المستسلم المنقاد لامرہ ۔ عبد الطاغوت ، اطاعَہ یعنی الشیطان فیما سَوَّل لہ واغواہ ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ ، ای نطیع الطاعۃ التی یخضع معھا ۔ اُعْبُدُوْا رَبَّکُمْ ، اطیعوا ربَّکم ۔ پس لغت کی ان مستند تشریحات کے مطابق مطالبہ صرف اللہ تعالیٰ کی پوجا اور پرستش ہی کا نہیں ہے بلکہ اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت ، اور اس کے قانون شرعی کی برضا و رغبت پیروی ، اور اس کے امر و نہی کی دل و جان سے فرمانبرداری کا بھی ہے ۔ دین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کا حامل ہے : ایک مفہوم ہے غلبہ و اقتدار ، مالکانہ اور حاکمانہ تصرُف ، سیاست و فرمانروائی اور دوسروں پر فیصلہ نافذ کرنا ۔ چنانچہ لسان العرب میں ہے دَانَ النَّاسَ ، ای قھرھم علی الطاعۃ ۔ دِنْتُھم ، ای قَھرتُھم ۔ دِنتُہ سُسْتُہ سملکتُہٗ ۔ وفی الحدیث الکَیِّس من دان نفسہٗ ، ای اذلَّھا و استعبدھا ۔ الدَّیَّان ، القاضی ، الحَکَم ، القھّار ۔ ولا انت دیَانی ، ای لستَ بقاھرلی فَتَسُوس امری ۔ مَا کَانَ لِیَأخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِینِ الْمَلِکِ ، ای فی قضاء الملک ۔ دوسرا مفہوم ہے اطاعت ، فرمانبرداری اور غلامی ۔ لسان العرب میں ہے الدین ، الطاعۃ ۔ دِنْتُہ و دِنْتُ لَہ ای اطعتُہٗ ۔ والدین للہ ، انما ھو طاعتہ والتعبد لہٗ ۔ فی الحدیث اُریدُ من قریشٍ کلمۃ تَدِین لھمْ بھَا العرب ، ای تطیعھم و تخضع لھم ۔ ثم دانت بعد الرباب ، ای ذلّت لہ و اطاعَتْہُ ۔ یمرقون من الدین ، ای انھم یخرجون من طاعۃ الامام المفترض الطاعۃ ۔ المدین ، العبد ۔ فَلَوْلَا اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ، ای غیر مملوکین ۔ تیسرا مفہوم ہے وہ عادت اور طریقہ جس کی انسان پیروی کرے ۔ لسان العرب میں ہے الدین ، العادۃ و الشأن ۔ یقال مازال ذٰلک دینی و دیدَنی ، ای عادتی ۔ ان تینوں مفہومات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین کے معنی اس آیت میں اس طرز عمل اور اس رویے کے ہیں جو کسی کی بالاتری تسلیم اور کسی کی اطاعت قبول کر کے انسان اختیار کرے ۔ اور دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے ، بلکہ اسی کی پرستش ، اسی کی ہدایت کا اتباع اور اسی کے احکام و اوامر کی اطاعت کرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:2) بالحق۔ حق کے ساتھ ، یعنی حامل حق کتاب یا ب سببیہ ہے۔ یعنی حق کو ثابت کرنے۔ ظاہر کرنے اور تفصیل سے بیان کرنے کے لئے یہ کتاب ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے۔ بظاہر جملہ انا انزلنا الیک الکتاب بالحق۔ مفہوم کے لحاظ سے پہلے جملہ کی تکرار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ تکرار نہیں ہے اول جملہ میں تنزیل الکتاب تو عنوان کے طور پر فرمایا تھا اور اس جملہ میں انا انزلنا الیک الکتاب اس مضمون کو بیان کرنے کے لئے فرمایا :۔ ھذا لیس بتکرار لان الاول کالعنوان لکتاب والثانی لبیان ما فی الکتاب۔ فاعبد اللّٰہ مخلصا لہ الدین ۔ الفاء للترتیب۔ اعبد فعل امر واحد مذکر حاضر عبادۃ مصدر (باب نصر) سے مخلصا اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصب اخلاص (افعال) مصدر سے۔ اخلاص کے لغوی معنی ہیں۔ کسی چیز کو ملاوٹ سے ہر ممکن پاک و صاف کردینا۔ یہ خلوص کا متعدی ہے جس کے معنی آمیزش سے صاف اور خالی ہونا ہے۔ اصطلاح شرع میں یہ ہیں کہ محض خداوند تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیا جاوے اور اس کے علاوہ کسی اور جذبہ کی آمیزش نہ ہو۔ اخلاص جان عبادت ہے اخلاص کے بغیر عبادت میں عبادت کا مفہوم ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الدین۔ اطاعت و عبادت۔ الدین ای الطاعۃ وقیل العبادۃ (قرطبی) دین اصل لغت کے اعتبار سے اطاعت اور جزاء کے معنی میں ہے پھر بطور استعارہ شریعت کے لئے استعمال ہوا۔ کیونکہ شریعت کی روح اطاعت خداوندی ہی ہے۔ قرآن میں مختلف مواقع پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً (1) ان الدین عند اللّٰہ الاسلام (3:19) در حقیقت دین جو اللہ کے نزدیک مقبول ہے اسلام ہے۔ یہاں دین سے مراد شریعت (2) واخلصوا دینھم للّٰہ۔ (4:146) اور انہوں نے اپنی اطاعت اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کردیا۔ یہاں دین سے اطاعت مراد ہے۔ (3) ملک یوم الدین۔ (1:3) مالک ہے روزجزاء کا یہاں دین بمعنی جزاء آیا ہے۔ جزاء ۔ اطاعت۔ عبادت۔ شریعت کوئی بھی معنی دین کے لئے جاویں شریعت کی پابندی کو ان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور شریعت زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے خواہ وہ اخلاقی ہو، معاشرتی ہو، معاشی ہو، روحانی ہو۔ گویا زندگی کو شریعت کے جملہ احکام کے مطابق مطیع کردینا دین پر چلنا ہے۔ لہ میں لام استحقاق کے لئے ہے ہ ضمیر کا مرجع اللہ ہے الذین کا نصب مخلصا سے ہے۔ مخلصا لہ الدین یہ جملہ ضمیر اعبد سے حال ہے۔ تو اللہ کی عبادت کر درآں حالیکہ تیری اطاعت و عبادت خالصۃ اسی کے لئے ہو (اس میں کسی قسم کے شرک، ریا یا شک وشبہ کا دخل نہ ہو)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اس میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ( سچ) ہے اس میں باطل کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔10 لفظی ترجمہ یہ ہے ” تو عبادت کرتا رہ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین ( یعنی اطاعت و بندگی) کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی صورت میں قابل قبول ہے جب وہ خالص توحید کے ساتھ ہو اور اس سے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انآ انزلنآ الیک الکتٰب بالحق (39: 2) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے “۔ اور جس سچائی پر نازل کی گئی ہے۔ وہ ہمہ جہت وحدانیت ہے ، جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اس سورت کی پانچویں آیت میں ہے : خلق السٰمٰوت والارض بالحق (39: 5) ” آسمانوں اور زمین کو اس نے برحق پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا جس حق اور سچائی پر سماوات کا قیام ہے ، وہی سچائی اس کتاب کا موضوع ہے۔ اس کتاب کا تصور توحید اور اس کائنات کی تخلیق کی وحدت ایک ہی ہیں۔ جس طرح یہ کائنات اللہ واحد کی تخلیق اور مصنوع ہے اور جس طرح یہ انسان اللہ کی تخلیق اور اس کے امر پر قائم ہے ، اسی طرح یہ کتاب بھی اللہ کے امر پر قائم ہے۔ لہٰذا منطقی نتیجہ یہ ہے : فاعبداللہ مخلصاله الدین (39: 2) ” لہذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو ، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے “۔ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے جن کی طرف یہ کتاب برحق نازل کی گئی۔ اور یہ کتاب رسول کا پیش کردہ منہاج حیات ہے جس کی طرف آپ تمام انسانوں کو دعوت دیتے ہیں۔ جو اس عقیدے پر قائم ہے کہ اللہ ایک ہے ، اسی کی بندگی کرنی ہے ۔ نظام زندگی صرف اسی سے اخذ کرنا ہے اور پوری زندگی کو اس عقیدۂ توحید پر قائم کرنا ہے۔ اللہ کو ایک الٰہ سمجھنا اور دین اس کے لیے خالص کرنا محض چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیئے جائیں۔ یہ دراصل زندگی کا پورا نظام ہے جو انسان کے دل و دماغ سے عقیدۂ توحید کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ایک اسلامی سوسائٹی میں مکمل نظام زندگی کے قیام پر ختم ہوتا ہے۔ وہ دل جو اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتا ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ، وہ اپنا سر کسی کے آگے نہیں جھکاتا۔ وہ نہ تو غیر اللہ سے کوئی چیز طلب کرتا ہے ، نہ غیر اللہ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایسے شخص کے نزدیک صرف اللہ ہی قوی ہے اور صرف اللہ اس پوری کائنات پر غالب ہے۔ سب پر غالب ہے۔ سب کے سب ضعیف اور کمزور ہیں اور وہ کسی کے لیے کوئی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ لہٰذا کسی انسان کو کسی انسان کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔ کیونکہ یہ انسان سب کے سب اسی کی طرح ہیں اور خود اپنے نفع ونقصان کے مختار بھی بنیں ۔ اللہ وحدہ ہی دینے والا اور روکنے والا ہے۔ لہٰذا اللہ کو اس سلسلے میں کسی وسیلے اور واسطے کی ضرورت نہیں۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے اور وہ غنی ہے۔ پھر جو دل عقیدۂ توحید سے لبریز ہے وہ اس بات پر بھی ایمان لاتا ہے کہ اس کائنات کے ایک ہی قانون قدرت اور ناموس فطرت کنڑول کرتا ہے۔ لہذا اس کا یہ ایمان ہوتا ہے کہ جو نظام زندگی اللہ نے انسانوں کے لیے تجویز کیا ہے ، یہ بھی انہی قوانین قدرت کا حصہ ہے۔ جو اس کائنات کے لیے وضع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ انسان اس دنیا کے ساتھ ہم آہنگی کی زندگی نہیں بسر کرسکتا الایہ کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو اپنالے۔ لہٰذا وہ وہی احکام و انتظام اختیار کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے یعنی وہ اللہ ہی کی شریعت کی اطاعت کرتا ہے جو اس نظام کائنات اور انسان کے وجود کے نظام کے ساتھ موافق ہے۔ پھر جو دل کو وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ، وہ اپنے اور اس اللہ کی پیدا کردہ تمام کائنات کے درمیان ایک قربت اور تعلق محسوس کرتا ہے۔ اس کائنات کی زندہ چیزیں ہوں یا مردہ ۔ لہٰذا اس کی زندگی ایک ایسے ماحول کے اندر بسر ہوتی ہے جو اس کا دوست ، ہمد ومعاون اور اس کے ساتھ ہمقدم اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ اپنے ماحول میں اللہ کے دست قدرت کی کارستانیاں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس ماحول میں اللہ اور اس کی مخلوقات کے ساتھ مانوس ہوکر رہتا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ کی مخلوق ہوتی ہے۔ اس کی آنکھیں اللہ کی پیدا کردہ عجائبات پر ہوتی ہیں۔ وہ یہاں اس کائنات کی کسی چیز کو ایذا نہیں دیتا۔ وہ اس کائنات کی کسی چیز کو تلف نہیں کرتا امرالہٰی سے۔ کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ وہی زندگی دینے والا ہے۔ وہ سب کا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی تصورات اور میلانات میں بھی توحید ظاہر ہوتی ہے۔ انسانی طرزعمل اور اس کی چال ڈھال میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی اور سوسائٹی کے لیے منہاج اور طریق زندگی میں بھی توحید کا اثر ہوتا ہے۔ اور عقیدۂ توحید محض ایک کلمہ نہیں رہتا جسے زبان سے کہہ دیا جائے ۔ وہ ایک مکمل نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن میں عقیدۂتوحید کو بہت ہی بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ہر جگہ اس پر اصرار و تکرار کیا گیا ہے۔ لہٰذا توحید پر ان زاویوں سے غور کیا جانا چاہئے ۔ اس زاویہ سے توحید ایک فکر ، ایک نظام اجتماعی اور نظام حکومت بن جاتی ہے۔ اور اس پر ہر وقت تدبر کی ضرورت ہے۔ ہر زمانے میں ، ہر خاندان اور سوسائٹی میں اور اسی مفہوم میں اس پر تدبر کی ضرورت ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” انا انزلنا الخ “۔ یہ پہلی دلیل وحی ہے۔ یہ کتاب جو سراپا حق ہے اور عقائد اور احکام حقہ پر مشتمل ہے، ہم نے نازل فرمائی ہے۔ آپ جو کچھ بیان فرماتے ہیں ہمارے حکم سے بیان فرماتے ہیں اپنے پاس سے کچھ نہیں کہتے۔ ” فاعبد اللہ مخلصًا لہ الدین “ یہ دعوائے سورت کا پہلی بار ذکر ہے۔ سورت کا یہ دعوی پہلی سورتوں پر عمومًا اور سورة فاطر پر خصوصاً متفرع ہے۔ سورة سبا، یسین، صافات اور ص میں ثابت کیا گیا کہ اللہ کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔ اور سورة فاطر میں بیان کیا گیا، لہذا اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب اور کارساز ہیں جب ثابت ہوگیا کہ اس کے سوا کوئی کارساز اور عالم الغیب نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے، تو خالصۃً صرف اسی کی عبادت کرو۔ اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ اور لوگوں کو بھی اسی خالص توحید کی دعوت دو ۔ ای فاعبد اللہ وحدہ لا شریک لہ وادع الخلق الی ذلک واعلمہم انہ لا تصلح العبادۃ الاہ وحدہ وانہ لیس لہ شریک ولا عدیل ولا ندید (ابن کثیر ج 4 ص 45) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اے پیغمبر ہم نے حق کے ساتھ اس کتاب کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے اس کتاب کو جو حقائق واقعیہ پر مشتمل ہے آپ کی جانب ہم نے اتارا ہے سو آپ خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کرتے رہیے۔ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس کلام معجز نظام کو ہم نے ہی آپ کی جانب اتارا ہے تو آپ اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کیجئے اور یہ بندگی بھی خالص کرکے کیجئے۔ خالصا للہ بندگی اور عبادت کا یہ مطلب ہے کہ وہ عبادت شرک اور ریا سے پاک ہو۔