Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 54

سورة الزمر

وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۵۴﴾

And return [in repentance] to your Lord and submit to Him before the punishment comes upon you; then you will not be helped.

تم ( سب ) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ ... And turn in repentance (and in obedience with true faith) to your Lord and submit to Him, meaning, turn back to Allah and submit yourselves to Him. ... مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ before the torment comes upon you, (and) then you will not be helped. means, hasten to repent and do righteous deeds before His wrath comes upon you.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٢] یعنی اللہ کی معافی کی دو شرطیں ہیں۔ ایک تو اس کی طرف رجوع کرو یعنی اسلام لے آؤ اور دوسری اس کے احکام بجا لاؤ۔ یعنی آئندہ ایسے گناہوں سے پرہیز کرو گے تو پھر تمہارے سابقہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کا اعلان عام ہے۔ لہذا جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ اور یہ خطاب صرف مشرکین مکہ سے ہی نہیں بلکہ اس کا حکم عام ہے اور ہر غیر مسلم کے لئے ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ ۔ : ” أَنَابَ یُنِیْبُ إِنَابَۃً “ رجوع کرنا، پلٹ آنا۔ ” تَابَ یَتُوْبُ “ کا معنی بھی یہی ہے۔ چونکہ یہ آیات ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو حالت کفر میں اپنے کیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے اسلام لانے سے ہچکچا رہے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ مگر ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ اس کے لیے تمہیں موت سے پہلے پہلے کفر سے توبہ کرنا ہوگی، کیونکہ اس کے بعد توبہ کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی پھر کوئی تمہاری مدد کرے گا۔ ہاں ! تم کفر سے توبہ کرلو تو تمہارے پہلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔ عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں : ( فَلَمَّا جَعَلَ اللّٰہُ الْإِسْلَامَ فِيْ قَلْبِيْ أَتَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِیْنَکَ فَلِأُبَایِعْکَ فَبَسَطَ یَمِیْنَہُ قَالَ فَقَبَضْتُ یَدِيْ قَالَ مَا لَکَ یَا عَمْرُو ! ؟ قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ، قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا ؟ قُلْتُ أَنْ یُغْفَرَ لِيْ ، قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ تَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہَا وَ أَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ؟ ) [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ۔۔ : ١٢١ ] ” جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام ڈالا، تو میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : ” اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے، تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تو میں نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟ “ میں نے کہا : ” میں نے ارادہ کیا ہے کہ شرط کرلوں۔ “ آپ نے فرمایا : ” تم کیا شرط کرو گے ؟ “ میں نے کہا : ” یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا تمہیں معلوم نہیں ہوا کہ اسلام ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور ہجرت ان چیزوں کو گرا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں اور حج ان چیزوں کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہوئی ہوں ؟ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنِيْبُوْٓا اِلٰى رَبِّكُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۝ ٥٤ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طر ف رجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر : 5- أتيت المروءة من بابها «7» فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقوله : لا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسالی [ التوبة/ 54] ، أي : لا يتعاطون، وقوله : يَأْتِينَ الْفاحِشَةَ [ النساء/ 15] ، وفي قراءة عبد اللہ : ( تأتي الفاحشة) «1» فاستعمال الإتيان منها کاستعمال المجیء في قوله : لَقَدْ جِئْتِ شَيْئاً فَرِيًّا [ مریم/ 27] . يقال : أتيته وأتوته الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی |" آنا |" ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم پہنچے یا اس کا نظم ونسق وہاں جاری ہو یہ لفظ خیرو شر اور اعیان و اعراض سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : {إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ } [ الأنعام : 40] اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو { أَتَى أَمْرُ اللَّهِ } [ النحل : 1] خد اکا حکم ( یعنی عذاب گویا ) آہی پہنچا۔ اور آیت کریمہ { فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ } [ النحل : 26] میں اللہ کے آنے سے اس کے حکم کا عملا نفوذ مراد ہے جس طرح کہ آیت { وَجَاءَ رَبُّكَ } [ الفجر : 22] میں ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ (5) |" اتیت المروءۃ من بابھا تو جو انمروی میں اس کے دروازہ سے داخل ہوا اور آیت کریمہ ۔ { وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى } [ التوبة : 54] میں یاتون بمعنی یتعاطون ہے یعنی مشغول ہونا اور آیت کریمہ ۔ { يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ } [ النساء : 15] میں الفاحشہ ( بدکاری ) کے متعلق اتیان کا لفظ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جس طرح کہ آیت کریمہ ۔ { لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا } [ مریم : 27] فری کے متعلق مجئی کا لفظ استعمال ہوا ہے ( یعنی دونوں جگہ ارتکاب کے معنی ہیں ) اور آیت ( مذکورہ ) میں ایک قرات تاتی الفاحشۃ دونوں طرح آتا ہے ۔ چناچہ ( دودھ کے ، مشکیزہ کو بلونے سے جو اس پر مکھن آجاتا ہے اسے اتوۃ کہا جاتا ہے لیکن اصل میں اتوۃ اس آنے والی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے حاصل ہوکر آئے لہذا یہ مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور کفر سے توبہ کر کے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب نازل ہونے لگے کیونکہ عذاب الہی تم سے نہیں روکا جائے گا۔ یہ آیت مبارکہ قاتل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٤ { وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗ } ” اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو ‘ اور اس کے فرمانبردار بن جائو “ { مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ } ” اس سے پہلے کہ تم پر عذاب ّمسلط ہوجائے ‘ پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:54) وانیبوا۔ میں واؤ عاطفہ ہے جملہ ہذا کا عطف جملہ ماقبل لاتقنطوا پر ہے۔ انیبوا فعل امر، جمع مذکر حاضر انایۃ (افعال) مصدر سے۔ تم رجوع ہوجاؤ اس کا مادہ نوب ہے۔ النوب کی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ شہد کی مکھی کو توب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی قرار گاہ کی طرف لوٹ لوٹ کر جاتی ہے الانابۃ الی اللّٰہ توبہ اور اخلاص عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا۔ اسلموالہ : اسلموا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اسلام (افعال) مصدر تم اس کے تابع فرماں رہو۔ تم اس کے فرمانبردار رہو۔ ان یاتیکم میں ان مصدریہ ہے یاتی مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر من قبل ان یاتیکم العذاب پیشتر اس کے کہ تم پر عذاب آجائے یا تم پر عذاب آنے سے پیشتر۔ لا تنصرون مضارع نہی مجہول ، جمع مذکر حاضر۔ تمہاری مدد نہیں کی جائیگی۔ تم مدد نہیں دئیے جاؤ گے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی معانی کی شرط طریق کفر سے تو بہ کرنا اور اسلام لانا ہے۔ 3۔ یعنی جیسا اسلام لانے کی صورت میں اب کفر و شرک معاف ہوجاوے گا اسی طرح اسلام نہ لانے کی صورت میں اس کفر و شرک پر عذاب ہوگا جس کا کوئی دفعیہ نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔ گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا میں لوٹ جانے کی کوئی صورت بن جائے اور میں نیکی کرنے والوں میں شامل ہوجاؤں۔ ان آیات میں اس کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کے عذاب یا موت کے وقت کافر، مشرک اور مجرموں پر وارد ہوتی ہے۔ ایسے لوگ حسرت پر حسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت انہیں اپنی حسرتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی بات کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے۔ ” جو ہم نے تم کو دیا ہے اس میں کچھ خرچ کرو اس سے پہلے کہ تمہیں موت آجائے اس وقت کہنے لگو کہ اے ہمارے رب ! اگر تو ہمیں تھوڑی سی اور مہلت دیتا تو ہم صدقہ کرتے اور نیک بندوں میں شریک ہوجاتے۔ جب کسی کو موت کا وقت آن پہنچے تو اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت نہیں دیتا اور اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ “ (المنافقون : ١١، ١٢) (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ الْعَبْدَ الْکَافِرَ إِذَا کَانَ فِی انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ نَزَلَ إِلَیْہِ مِنَ السَّمَآءِ مَلَآءِکَۃٌ سُوْدُ الْوُجُوْہِ مَعَہُمُ الْمُسُوْحُ فَیَجْلِسُوْنَ مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَجِیْٓءُ مَلَکُ الْمَوْتِ حَتّٰی یَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِہٖ فَیَقُولُ أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْخَبِیْثَۃُ اخْرُجِیْٓ إِلَی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَنْتَزِعُہَا کَمَا یُنْتَزَعُ السَّفُّوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ) [ رواہ أحمد : مسند براء بن عازب ] ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کافر کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے کالے چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ ان کے پاس ٹاٹ کا لباس ہوتا ہے۔ فرشتے فوت ہونے والے کافر سے حد نگاہ تک دور بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک الموت اس کے سرہانے آکر کہتا ہے۔ اے خبیث جان۔ اللہ کی ناراضگی اور غضب کا سامنا کر پھر روح اس کے جسم سے الگ ہوتی۔ فرشتے اسے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گرم سلاخ کو روئی سے کھینچا جاتا ہے۔ “ اس لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس کے عذاب سے بچنا اور اس کی رحمت کے حقدار بننا چاہتے ہو تو رجوع الی اللہ کے لیے یکسو ہوجاؤ تمہارے رب کی رحمت بےکنار ہے اس کی بخشش کا دروازہ ہر ایک کے لیے اس کے نزع کے وقت تک کھلا ہے جو قیامت تک کھلا رہے گا۔ مگر ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب کی طرف اخلاص کے ساتھ رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لیے ارشاد ہے کہ اے میرے بندو ! اِدھر ادھر کی بجائے اور میرے عذاب سے پہلے پہلے صرف میری طرف رجوع کرو۔ جب میرا عذاب نازل ہوگا تو اس وقت اس کو کوئی دور کرنے والا نہ ہوگا۔ لہٰذا اس کی پیروی کرو جو بہترین چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس کی رحمت اور بخشش کے حقدار ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ 1 اِدھر ادھر کی بجائے صرف اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ 2 اس طریقہ کے مطابق جس کی وضاحت قرآن مجید میں کی گئی ہے۔ جس کے لیے ” اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ مسائل ١۔ انسان کو ” اللہ “ کی گرفت سے پہلے توبہ کرنی چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آیا کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب یا موت کے بعد نیکی کی حسرت کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ٤۔ نیکی اور توبہ کا موقعہ عذاب اور موت سے پہلے ہوتا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر اپنے رب کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن توبہ و استغفار کی اہمیت و فضیلت : ١۔ وہ لوگ جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں اور اس کے بعد توبہ اور اپنی اصلاح کرتے ہیں اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ (النحل : ١١٩) ٢۔ جو شخص جرم کرنے کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرے بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (المائدۃ : ٣٩) ٣۔ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔ (التوبۃ : ٧٤) ٤۔ اے ایمان والو ! خالص توبہ کرو۔ (التحریم : ٨) ٥۔ یقیناً میں اسے معاف کردوں گا جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ (طٰہٰ : ٨٢) ٦۔ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو میں اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دوں گا۔ (الفرقان : ٧٠) ٧۔ اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے تو اللہ تمہارے چھوٹے گناہ معاف کر دے گا۔ (النساء : ٣١) ٨۔ توبہ کرنا مومن کا شیوہ ہے۔ (التوبۃ : ١١٢) ٩۔ توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ : ٢٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 54 تا 55 انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔ اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور نرم ونازک فضا موجود ہے۔ اور یہ سب چیزیں ایک ایسے دروازے کے اندر ہیں جس کے لیے کوئی دربان نہیں ہے اور اس دروازے سے داخل ہونے کے لیے کوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ لوٹ آؤ، لوٹ آؤ، قبل اس کے آواز آجائے کہ فلاں نماند ! من قبل۔۔۔۔ تبصرون (39: 54) ” قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مددنہ مل سکے “۔ وہاں تو کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اس لیے آؤ، وقت کے ختم ہونے میں دیر نہیں ہے۔ کسی بھی وقت آخری گھڑی کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور دروازہ بند ہوسکتا ہے۔ رات اور دن کے کسی وقت میں مہلت کی گھڑیاں ختم ہوسکتی ہیں۔ واتبعوآ۔۔۔۔ ربکم (39: 55) ” اور پیروی اختیار کرو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی “۔ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ من قبل۔۔۔۔ تشعرون (39: 55) ” قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو “۔ لہٰذا باز آجاؤ قبل اس کے کہ فرصت ختم ہوجائے ، مہلت جاتی رہے اور تم نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی ہو اور پھر تم پچھتاؤ کہ کیوں ہم اللہ کے وعدے کا مذاق اڑاتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَاَنِیبُوْا اِِلٰی رَبِّکُمْ ) (اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آئے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے) اس آیت میں اللہ کی طرف رجوع ہونے اور اس کا فرمانبردار بننے کا حکم دیا اور فرمایا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس کے فرمانبردار بن جاؤ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت مدد نہ کی جائے گی۔ لفظ ” وَاَنِیبُوْا “ اِنَابَۃٌ سے مشتق ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ انابۃ اور توبہ میں یہ فرق ہے کہ توبہ کرنے والا عذاب کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے اور انابت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے کرم اور فضل سے متاثر ہو کر شرما جاتا ہے اور یہ حیاء اسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے پر آمادہ کرتی ہے پھر (وَاَسْلِمُوْا لَہٗ ) کا مطلب بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی اطاعت میں اخلاص کے ساتھ لگا رہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(54) اور تم توبہ کرنے کی غرض سے اپنے پروردگار کی جانب رجوع ہو اور اس کے فرمانبردار اور اطاعت گزار بن جائو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب واقع ہو پھر تم کہیں سے مدد بھی نہ کئے جاسکو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اسلام غالب کیا جو کافر دشمنی میں لگے تھے سمجھے کہ برحق اس طرح اللہ ہے اور پچھتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہوگی دشمنی کی لڑائی لڑے جانیں ماریں تب اللہ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ نہیں جس کی توبہ اللہ قبول نہ کرے ناامید مت ہو توبہ کرو اور رجوع ہوئو بخشے جائو گے مگر جب سر پر عذاب آیا یا موت نظر آنے لگی تب کی توبہ قبول نہیں۔ خلاصہ : یہ کہ قبل نزول عذاب اور قبل نزول موت توبہ کرلو اور توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو جائو اور اسلام کے اطاعت گزار اور فرمانبردار بن جائو ورنہ عذابآجانے کے وقت نہ توبہ قبول نہ کہیں سے مدد کی امید ۔