Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 22

سورة حم السجدہ

وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

And you were not covering yourselves, lest your hearing testify against you or your sight or your skins, but you assumed that Allah does not know much of what you do.

اور تم ( اپنی بد اعمالیاں ) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بے خبر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ ... And you have not been hiding yourselves (in the world), lest your ears and your eyes and your skins should testify against you; means, their organs and skins will say to them, when they blame them for testifying against them, `you did not hide from us what you used to do, on the contrary, you openly committed disbelief and sin, and you claimed that you did not care, because you did not believe that Allah knew about all your deeds.' Allah says: ... وَلَكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّهَ لاَ يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے تو چھپنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اس بات کا کوئی خوف تمہیں نہیں تھا کہ تمہارے خلاف خود تمہارے اپنے اعضا بھی گواہی دیں گے جن سے چھپنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ اس کی وجہ ان کا بعث و نشور سے انکار اور اس پر عدم یقین تھا۔ 22۔ 1 اس لیے تم اللہ کی حدیں توڑنے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بےباک تھے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] یعنی یہ بات تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والے ہمارے اپنے اعضاء بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان سے بھی بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر تم یہ سوچ لیتے تو تم سے گناہ کا سرزد ہونا ہی ناممکن تھا۔ کیونکہ نہ تم خود اپنے اعضاء سے چھپ سکتے تھے اور نہ ان سے گناہ کو چھپا سکتے تھے۔ نہ ان کے بغیر گناہ کا کام کرسکتے تھے۔ [٢٧] اللہ کی صفات سمیع وبصیر ہونے میں شک کا نتیجہ۔ بداعمالیاں :۔ بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یہ علم نہ تھا کہ ہمارے اعضاء ہمارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں۔ بلکہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے اگر تمہیں یہ یقین ہوتا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے یا ہماری باتیں سن رہا ہے یا ہمارے حالات سے پوری طرح باخبر رہتا ہے تو بھی تم سے گناہ سرزد ہونے کا امکان نہ تھا۔ تمہارا اللہ کے متعلق بھی ایسا یقین انتہائی کمزور تھا کہ وہ تمہارے تمام حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ چناچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حرم کعبہ میں تین آدمی بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان تینوں میں سے دو تو قریشی تھے اور ایک ان کا برادر نسبتی تھا۔ جو ثقفی تھا۔ یہ تینوں خوب موٹے تازے تھے توندیں نکلی ہوئی تھیں مگر عقل کے سب ہی پورے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ ہماری باتیں سن سکتا ہے ؟ دوسرا بولا : ہاں ! اونچی آواز سے بات کریں تب تو سن لیتا ہے۔ اور اگر آہستہ آہستہ آواز سے چپکے چپکے بات کریں تو پھر نہیں سنتا && تیسرا کہنے لگا : اگر وہ اونچی آواز کو سن لیتا ہے تو آہستہ آواز والی بات بھی سن سکتا ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة حٰم السجدۃ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وما کنتم تستترون ان یشھدعلیکم …: یہ ان کی ملامت کا جواب ہے کہ تم گناہ کا کام کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے اور پردہ کرنے کا تو پورا اہتمام کرتے تھے، مگر تمہیں اس بات کا خوف نہ تھا کہ تمہارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہی تمہارے خلاف تمہارے اعمال بد کی شہادت دیں گے۔ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہوتا تو تم برے اعمال کر ہی نہیں سکتے تھے، کیونکہ انھی اعضا کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی نافرمانی کرنا تھی۔ (٢) ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم…: یعنی بات صرف اتنی نہ تھی کہ تمہیں یقین نہ تھا کہ قیامت قائم ہوسکتی ہے اور تمہارے اعضا تمہارے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، بلکہ اصل بات یہ تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی منکر تھے ، تم نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بہت سے اعمال کو جانتا ہی نہیں۔ ورنہ اگر تمہیں یقین ہوتا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، تمہاری ہر بات سن رہا ہے اور تمہارے ہر حال کا علم رکھتا ہے تو تم گناہ پر اتنے دلیر نہ ہوتے۔ مشرکین قریش کی اس نادانی کا ذکر عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا ہے : وہ فرماتے ہیں :(اجتمع عند البیت قرشیان وثقفی ، اوتقصیان و قرشی کثیرۃ شحم بطونھم قلیلۃ فقہ قلوبھم فقال احدھم اترون ان اللہ یسمع مانقول ؟ قال الاخر یسمع ان جھرنا ولا یسمع ان اخفینا ، وقال الاخر ان کان یسمع اذا جھرنا فانہ یسمع اذا اخفینا، فانزل اللہ عزوجل :(وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم شبعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم کثیراً مما تعملون) (بخاری، التفسیر، سورة حم، السجدۃ، باب : (وذلکم ظنکم الذی…):3818)” بیت اللہ کے پاس دو قریشی اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی جمع ہوئے، جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی، (مگر) دلوں کی سمجھ بہت کم تھی۔ تو ان میں سے ایک نے کہا :” کیا تمہارا خیال ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ سن رہا ہے ؟ “ دوسرے نے کہا :” اگر ہم اونچی آواز سے کہیں تو وہ سنتا ہے اور اگر آہستہ کہیں تو نہیں سنتا۔ “ ایک اور بولا : ” اگر وہ اس وقت سننا ہے جب ہم اونچی آواز سے بات کریں تو یقیناً وہ اس وقت بھی سنتا ہے جب ہم آہستہ بات کریں۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی :” اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بیشک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔ “ یاد رہے کہ اس بات کا مطلب کہ یہ آیت فلاں موقع پر اتری، یہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی انھی دنوں میں ہوا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں موقع پر یہ آیت پڑھی، یا یہ کہ وہ آیت اس واقعہ پر بھی منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ اصول تفسیر میں واضح کیا گیا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آیات کا سیاق تو قیامت کے دن کے متعلق ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُ‌ونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ (And you had not been hiding your selves [ when committing sins ] because of [ the apprehension ] that your ears and your eyes and your skins would bear witness against you,….41:22) This verse means that if anyone wants to commit a sin or a crime, he may hide it from others, but how can he hide it from his own limbs and organs? When it is known that our ears, eyes, hands, feet, skin and hair are not ours, rather they are witnesses of the state against us, and when they would be questioned about our deeds, they would give true evidence, then there is no way to hide the commitment of a crime or a sin. The only way to avoid the disgrace is to keep away from sin. Although it is not expected from the deniers of Oneness of Allah and of prophethood, that it would enter their minds that their organs and limbs would speak up before Allah Almighty and give evidence against themselves, yet any intelligent person could have understood that it is totally impossible that the One who has created him from a lowly matter, given him ability to hear and see, brought him up and made him young, will not fully know his deeds and state of affairs. But you had thought, against this evident matter, that Allah Almighty had no knowledge of many of your deeds. This false assumption encouraged you to commit ` shirk& and ` kufr&. This is the meaning of Verse 23 where it is said, & وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَ‌بِّكُمْ أَرْ‌دَاكُمْ |"And this thought of yours that you conceived about your Lord brought you to ruin...|" The Evidence of Man&s Limbs and organs after Resurrection According to a narration reported in Sahih of Muslim Sayyidna Anas (رض) says, |"One day we were with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when he started laughing. Then he asked us whether we knew why he was laughing. We said that Allah and His Rasul (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) knew best. Then he said |"What made me laugh was the dialogue a slave will have with his Lord on the Day of Resurrection. The slave will say, |"0 my Lord! Did you not give me protection from injustice?|" Allah Almighty will say, ` No doubt, I did.& Then this slave will say, ` Since this is so, I would not be satisfied with any evidence in the matter of my accountability, except that some part of my own being stands up as witness.& Allah Almighty will say, كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ` Your own being is enough today to take your account. (17:14) & Then his mouth will be sealed, and his limbs and organs will be asked to tell about his deeds. Every organ would speak up and give true evidence. After that his mouth will be unsealed, and then he will say to his own organs in displeasure, بُعداًلَّکُم وسُحقاً فَعَنکُنَّ اُنَاضِلُ ` May you be ruined. May you be destroyed; whatever I had done in the world was only to make you comfortable&, (whereas you have stated to furnish evidence against me.) And according to another narration by Sayyidna Abu Hurairah (رض) ، this person&s mouth will be sealed, and his thigh will be called to speak and tell about his deeds. Then his thigh, its flesh and bone will all give evidence of his deeds. (Muslim, Mazhari) Sayyidna Ma&qil Ibn Yasar (رض) has narrated that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said that every new day calls the humans saying, ` I am a new day, and I shall be a witness to whatever you do today. So you should do some good deed before I come to an end, in order that I may give evidence, because once I am gone, you will never find me again. Similarly, every night gives the same call.& (Al-Qurtubi, with reference to Abu Nu&aim)

(آیت) وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ الآیة۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ انسان اگر چھپ کر کئی جرم و گناہ کرنا چاہے تو دوسرے لوگوں سے تو چھپا سکتا ہے، خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیسے چھپائے۔ جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں اور بدن کی کھال اور بال سب ہمارے نہیں بلکہ سرکاری گواہ ہیں اور جب ان سے ہمارے اعمال کو پوچھا جاوے گا تو سچی گواہی دے دیں گے تو پھر چھپا کر کوئی جرم و گناہ کرنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا، اس رسوائی سے بچنے کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ گناہ کو ہی چھوڑا جائے۔ مگر تم لوگ یعنی منکرین توحید و رسالت کا ذہن ادھر تو کیا جاتا کہ ہمارے اعضاء وجوارح بھی بولنے لگیں گے اور ہمارے خلاف اللہ کے سامنے گواہی دیں گے، مگر اتنی بات تو ہر ذی عقل کی سمجھ میں آسکتی تھی کہ جس ذات نے ہمیں ایک حقیر چیز سے پیدا کر کے سمیع وبصیر انسان بنایا، پالا اور جوان کیا، کیا اس کا علم ہمارے اعمال و احوال پر محیط نہیں ہوگا ؟ مگر تم نے اس بدیہی چیز کے خلاف یہ گمان کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے بہت سے اعمال کی کچھ خبر نہیں۔ اس لئے تمہیں شرک و کفر کرنے پر جرأت ہوئی۔ (آیت) وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِيْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ یعنی تمہارے اسی گمان بد نے تمہیں برباد کیا۔ انسان کے اعضاء وجوارح کی محشر میں گواہی : صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، آپ کو ہنسی آگئی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں۔ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ہنسی اس کلام پر آئی جو میدان حشر اور موقف حساب میں بندہ اپنے رب سے کرے گا۔ یہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ بیشک دی ہے۔ اس پر بندہ کہے گا کہ اگر یہ بات ہے تو میں اپنے حساب و کتاب کے معاملہ میں اور کسی کی گواہی پر مطمئن نہیں ہوں گا، بجز اس کے کہ میرے وجود ہی میں سے کوئی گواہ کھڑا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیباً یعنی اچھا ہے لو تم خود ہی اپنا حساب کرلو۔ اس کے بعد اس کے منہ پر مہر کردی جاوے گی اور اس کے اعضاء وجوارح سے کہا جائے گا کہ تم اس کے اعمال بتلاؤ، ہر عضو بول اٹھے گا اور سچی گواہی پیش کر دے گا۔ اس کے بعد اس کی زبان کھول دی جاوے گی تو یہ خود اپنے اعضاء پر ناراض ہو کر کہے گا بعدا لکن وسحقا فعنکن اناضل۔ یعنی تم غارت و برباد ہو میں نے تو دنیا میں جو کچھ کیا تمہارے ہی آرام پہنچانے کیلئے کیا تھا (اب) ہی میرے خلاف گواہی دینے لگے۔ اور حضرت ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران کو کہا جائے گا کہ تو بول اور اس کے اعمال بیان کر، تو انسان کی ران اور گوشت اور ہڈی سب اس کے اعمال کی گواہی دے دیں گے۔ (رواہ مسلم۔ مظہری) اور حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آنے والا دن انسان کو یہ ندا دیتا ہے کہ میں نیا دن ہوں اور جو کچھ تو میرے اندر عمل کرے گا قیامت میں، میں اس پر گواہی دوں گا۔ اس لئے تجھے چاہئے کہ میرے ختم ہونے سے پہلے پہلے کوئی نیکی کرے کہ میں اس کی گواہی دوں گا اور اگر میں چلا گیا تو پھر تو مجھے کبھی نہ پائے گا۔ اسی طرح ہر رات انسان کو یہ ندا دیتی ہے۔ (ذکرہ ابو نعیم۔ کذا فی القرطبی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ اَنْ يَّشْہَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللہَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ ٢٢ ستر السَّتْرُ : تغطية الشّيء، والسِّتْرُ والسُّتْرَةُ : ما يستتر به، قال : لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِها سِتْراً [ الكهف/ 90] ، حِجاباً مَسْتُوراً [ الإسراء/ 45] ، والِاسْتِتَارُ : الاختفاء، قال : وَما كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ [ فصلت/ 22] . ( س ت ر ) استر ( مصدر ن ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو چھپا دینے کے ہیں اور ستر وستر ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے قرآن میں ہے : ۔ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِها سِتْراً [ الكهف/ 90] جن کے لئے ہم نے اس ( سورج ) سے بچنے کیلئے کوئی اوٹ نہیں بنائی ۔ حِجاباً مَسْتُوراً [ الإسراء/ 45] ایک گاڑھا پڑدہ ( حائل کردیتے ہیں ) الاستبار اس کے معنی چھپا جانے کے ہیں قرآن میں ہے وما كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ [ فصلت/ 22] اور اس لئے نہ چھپتے تھے ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تم اپنے اعضاء کو اس بات سے روکنے پر قادر نہ تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دیں یا یہ کہ تم دنیا میں اپنے اعضاء سے کسی طرح بھی ان کے اعمال کو چھپا نہیں سکتے تھے تاکہ تمہارے خلاف گواہی نہ دیں یا یہ کہ تم اس چیز پر تو بالکل یقین ہی نہ کرسکتے تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں۔ شان نزول : وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ (الخ) امام بخاری و مسلم اور ترمذی اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ بیت اللہ کے قریب تین افراد نے آپس میں بحث کی جن میں دو قریشی اور ایک ثقفی یا یہ کہ ایک قریشی اور دو ثقفی تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا تمہاری کیا رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کو سنتا ہے، دوسرا کہنے لگا اگر زور سے باتیں کریں تو سنتا ہے اور اگر آہستہ گفتگو کریں تب نہیں سنتا، تیسرا کہنے لگا اگر وہ زور سے کی ہوئی باتوں کو سنتا ہے تو آہستہ کی ہوئی باتوں کو بھی سنتا ہے، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی اور تم اس بار تو خود کو چھپا ہی نہیں سکتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ { وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ } ” اور تم (اس خیال سے) پردہ داری نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف گواہی دیں گے تمہارے اپنے کان ‘ تمہاری اپنی آنکھیں اور تمہاری اپنی کھالیں “ انسان دنیا میں جرائم کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے ‘ مگر خود اپنے ہی اعضاء وجوارح سے کیونکرچھپ سکتا ہے ؟ { وَلٰکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ } ” بلکہ تمہیں تو یہ گمان ہوگیا تھا کہ بہت سی باتیں تو اللہ کے علم میں ہی نہیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔ “ گویا ایسے جہلاء بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کرتوتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو کچھ معلوم نہیں۔ قبل ازیں اس حوالے سے مشائین (ارسطو اور اس کے پیروکاروں) کا ذکر بھی گزر چکا ہے جن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ عالم کلیات ہے ‘ وہ جزئیات کا عالم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات اور اس کی اشیاء کے متعلق قوانین بنا دیے ہیں اور وہ انہی قوانین کو جانتا ہے ‘ جبکہ ان قوانین کے تحت رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی جزئیات سے اسے کوئی سروکار نہیں ۔ - ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٢۔ صحیحین ترمذی ٢ ؎ اور مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے (٢ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة حم السجدۃ باب قولہ و ماکنتم تسترون الایۃ ص ٧١٢ ج ٢) ان آیتوں کے شان نزول کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ قریش کے ثقیف قبیلہ کے حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا نہیں تو نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں صحیح ١ ؎ مسلم (١ ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ۔ ) اور نسائی میں حضرت انس سے جو روایت ہے اس میں اس بات کی تفسیر ہے کہ کس وقت یہ مشرکوں اور گناہ گاروں کے ہاتھ اور پیر اور اعضاء گواہی دیں گے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ ایک روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسی آئی اور اپنے صحابہ سے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ خدا سے جھگڑیں گے۔ اس پر مجھ کو ہنسی آئی ہے بعضے گناہ گار خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ یا اللہ ہم اپنے بھروسے کے گواہ چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے اعضاء سے گواہی دلوا دے گا۔ جب وہ لوگ اپنے اعضاء پر خفا ہوں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہاری پرورش کرتے تھے تم نے ہمارے مخالف گواہی کیوں دی اس کا جواب اعضاء یہ دیں گے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے۔ حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان اور انسان کے اعضاء سب کو پیدا کیا ہے اس نے ہم سے یہ گواہی دلوائی ہے۔ اگر گناہوں میں آدمی کے ہاتھ اور پیروں کا دخل ضرور ہوتا ہے۔ اسی واسطے مسند امام ٢ ؎ احمد نسائی (٢ ؎ تفسیر الدر المنثورص ٦٢ ج ٥) مستدرک حاکم بیہقی تفسیر عبد الرزاق و تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کے ہاتھ کی ہتھیلی اور پیر کی ران سب سے پہلے گواہی دے گی اگرچہ بعضے علماء نے لکھا ہے کہ اعضاء کی گواہی دینا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضا میں ایک حالت اس طرح کی ضیدا کر دے گا جس سے گناہوں کا حاصل ظاہر ہوجائے گا لیکن صحیح قول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضاء میں گویائی پیدا کرے گا کیونکہ زبان کے گوشت اور اعضاء گوشت میں کچھ فرق نہیں ہے تو جس اللہ نے زبان کے گوشت میں گویائی دی ہے اس کو اور اعضاء کے گوشت میں بھی گویائی پیدا کرنے کی قدرت پر ہر مسلمان کو ایمان لانا چاہئے پھر صریح آیت کی تاویل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے گناہ کرتے وقت تم لوگ ہاتھ پیروں کی گواہی کا خوف نہیں کرتے تھے کیونکہ حشر اور ہاتھ اور پیروں کی گواہی کے تم پورے منکر تھے گناہوں کے وقت تمہارا پردہ تو اس اعتقاد سے تھا کہ پردے کی باتیں اللہ کے علم سے باہر ہیں۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص ٦٦ ج ٢) (٢ ؎ صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ فلمارا وہ عارضا الایت ص ٧١٥ ج ٢) (٣ ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ والی ثمود اخاھم صالحا۔ ص ٤٧٨ ج ١) (١ ؎ صحیح مسلم فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ۔ ص ٤٠٩ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی دوسروں سے چھپتے تھے لیکن چونکہ انہیں یہ اندیشہ نہ تھا کہ خود ہمارے کان، آنکھیں اور چمڑے ہمارے خلاف گواہی دیں گے اس لئے ان سے چھپنے کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔6” اس لئے خوب بےباکی سے گناہ کرتے رہتے تھے “۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں غلاف کعبہ کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہ ایک قریشی اور دو ثقفی یا ایک ثقفی اور دو قریشی آئے اور آپس میں گفتگو کرنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا۔ پھر ایک کہنے لگا ” کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ گفتگو سن رہا ہے ؟ دوسرا بولا ” اگر ہم بلند آواز سے گفتگو کریں تب تو وہ سنتا ہے، لیکن اگر ہماری آواز دھیمی ہو تو وہ نہیں سنتا۔ اس پر دوسروں نے کہا : ” اگر وہ یہ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے۔ میں نے ان کی اس گفتگو کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( وما کنتم تسترون) سے ( من الخاسرین) تک یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ( شوکانی) ۔ حضرت معاویہ (رض) بن حیدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم اس حال میں اپنے رب کے حضور پیش کئے جائو گے کہ تمہارے منہ پر ڈاٹ لگی ہوگ اور تمہارے خلاف سشب سے پہلے تمہاری رانیں اور تمہاری ہتھیلیاں گواہی دیں گی “۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ کیونکہ حق تعالیٰ کی قدرت علی الاطلاق اور علم بالاعمال واقع میں ثابت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے اعضاء کی مزید گواہی۔ جب جہنمیوں کے اعضاء اور ان کے وجود گواہی دے رہے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ کیا تم اپنا گھناؤنا کردار اس لیے چھپایا کرتے تھے کہ شاید تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری چمڑیاں گواہی نہ دیں گی اور تم یہ بھی گمان رکھتے تھے کہ تمہارے بہت سے اعمال کا تمہارے رب کو علم نہیں ہوگا۔ اپنے رب کے بارے میں جو تم گمان رکھتے تھے۔ اسی نے تمہیں ہلاک کردیا اور تم نقصان پانے والوں میں شامل ہوگئے۔ اب صبر کرو یا واویلا کرو دونوں صورتوں میں تمہارا ٹھکانہ آگ ہے اور تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ سوچ اور عقیدہ دیا ہے کہ اسے ہر کوئی کام کرنے سے پہلے دو باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تعالیٰ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن اعضاء کے ساتھ انسان حرکات و سکنات کرتا ہے یہ اعضاء اور انسان کا وجود اس کے حق یا اس کے خلاف گواہی دے گا۔ ” وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے اور جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو سرعام پھرنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے نگران لگے ہوئے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود بدلے جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت کا ارادہ کرلے تو اسے کوئی ہٹانے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں۔ “ (الرعد : ٩ تا ١١) ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے کم اور نہ ہی زیادہ۔ مگر ” اللہ “ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں۔ قیامت کے دن وہ انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔ “ (المجادلۃ : ٧) مسائل ١۔ انسان اپنے رب سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا۔ ٢۔ قیامت کے دن انسان کے اعضاء اس کے حق یا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ ٣۔ جہنمی آہ وزاریاں کریں گے لیکن ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ تفسیر بالقرآن جہنم میں کفار اور مشرکین کی آہ زاریاں : ١۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : ٤٤) ٢۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ : ١٢) ٣۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال لے ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (فاطر : ٣٧) ٤۔ اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال لے اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : ١٠٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما کنتم تستترون ۔۔۔۔۔۔ ولا جلودکم (٤١ : ٢٢) ” تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان ، تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی “۔ تمہارے تو تصور میں بھی نہ تھا کہ یہ اعضاء تمہارے خلاف بغاوت کردیں گے ۔ اور تمہاری طاقت میں بھی یہ بات نہ تھی کہ تم کسی بھی طرح اللہ سے چھپا سکو اگر چاہو بھی۔ ولکن ظننتم ان اللہ لا یعلم کثیرا مما تعملون (٤١ : ٢٢) ” بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے “۔ ناسمجھی نے تمہیں دھوکہ دے دیا۔ یہ نہایت ہی جاہلانہ اور بدکارانہ روش تھی جس نے تمہیں جہنم کے دھانے پر پہنچا دیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) (الآیۃ) یہ بھی کافروں سے خطاب ہے وہاں ان سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں جو کام کرتے تھے اس کا تمہیں ذرا بھی احتمال نہ تھا کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور آنکھیں چمڑے تمہارے خلاف گواہی دیدیں گے لہٰذا تم ان سے نہ چھپتے تھے نہ چھپ سکتے تھے جس کی وجہ سے تم دلیری کے ساتھ گناہ کرتے تھے تم سمجھتے تھے کہ ہمارے خلاف گواہی دینے والا کوئی نہ ہوگا مخلوق کے بارے میں تو تمہارا خیال تھا ہی تم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہی خیال کر رکھا تھا کہ وہ تمہارے بہت سے اعمال کو نہیں جانتا۔ قال القرطبی و معنی ” تَسْتَتِرُوْنَ “ تستخفون فی قول اکثر العلماء أی ما کنتم تستخفون من أنفسکم حذرًا من شھادۃ الجوارح علیکم، لأن الانسان لایمکنہ أن یخفی من نفسہ علمہ، فیکون الاستخفاء بمعنی ترک المعصیۃ وقیل : الاستتار بمعنیٰ الاتقاء أی ما کنتم تتقون فی الدنیا أن تشھد علیکم جوار حکم فی الاخرۃ فتترکوا المعاصی خوفا من ھذہ الشھادۃ (علامہ قرطبی نے کہا اکثر علماء کے قول کے مطابق ” تَسْتَتِرُوْنَ “ کا معنی ہے ” تم چھپتے تھے “ یعنی تم جو اپنے آپ سے چھپتے تھے اعضاء کی اپنے خلاف گواہی کے خوف سے، چونکہ انسان کے لیے اپنے عمل کو اپنے آپ سے چھپانا ممکن نہیں ہے اس لیے یہاں استخفاء معصیت کے ترک کے معنی میں ہوگا، اور بعض نے کہا الاستتار بمعنی اتقاء ہے یعنی تم جو دنیا میں بچتے تھے اس سے کہ آخرت میں تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں لہٰذا اس گواہی کے خوف سے تم نے گناہ چھوڑ دئیے۔ ) صحیح بخاری میں ہے کہ عبد اللہ بن مسعود (رض) نے بیان فرمایا کہ میں کعبہ شریف کے پردوں میں چھپا ہوا تھا تین آدمی آئے ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قریشی تھے ان کے پیٹ بھاری تھے اور کم سمجھ تھے انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جنہیں میں (ٹھیک سے) نہ سن سکا ان میں سے ایک نے کہا کہ بتاؤ اللہ ہماری باتوں کو سنتا ہے دوسرے نے کہا بلند آواز ہو تو سنتا ہے اور بلند نہ ہو تو نہیں سنتا تیسرے نے کہا کہ اگر وہ سنتا ہے تو سب کچھ سنتا ہے میں نے یہ قصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے (وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ ) سے (مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ) تک آیت کریمہ نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا ہے اور اس کے سننے اور جاننے کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ تمہارے اعضاء بھی تمہارے خلاف گواہی دے دیں گے لہٰذا ایمان اور اعمال صالحہ سے متصف ہونا ضروری ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

23:۔ ” وما کنتم تستترون “ تا ” فاصبحتم من الخسرین “۔ یہ اعضاء کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ” ان یشہد “ سے پہلے ” من “ مقدر ہے۔ تم گناہ کرتے وقت انسانوں سے تو چھپ سکتے تھے، لیکن اپنے ہی اعضاء سے تم نہیں چھپ سکتے تھے کہ مبادا وہ تمہارے خلاف گواہی دے دیں۔ بلکہ گناہوں کا ارتکاب تم نے ان ہی اعضاء سے کیا۔ اس لیے ان سے چھپنا ناممکن تھا۔ بلکہ تمہارے اعمال سے تمہارے آخرت سے اعراض اور لذات عیش میں انہماک سے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تم یہ سمجھتے تھے کہ خدا خود بھی تمہارے اکثر اعمال سے باخبر نہیں۔ یعنی پوشیدہ اعمال کو نہیں جانتا۔ ممکن ہے بعض کفار کا فی الحقیقۃ یہی اعتقاد ہو جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ کان الکفار یقولون ان اللہ لا یعلم ما فی انفسنا ولکنہ یعلم مایظھر (خازن ج 6 ص 109) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) اور تم اپنی بداعمالیوں اور فواحش کو کچھ اس خوف سے نہیں چھپایا کرتے تھے کہ تم پر تمہارے کان گواہی دیں گے نہ اس ڈر سے کہ تمہاری آنکھیں تم پر گواہی دیں گی اور نہ اس خوف سے کہ تمہارے چمڑے تم پر گواہی دیں گے وہ لیکن تم یہ خیال کرتے تھے کہ تم جو کچھ کرتے ہو ان میں سے بہت سی باتوں کو اللہ تعالیٰ کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غیر سے چھپ کر گناہ کرتے تھے یہ خبر نہ تھی کہ ہاتھ پائوں بتادیں گے اس کی خبر نہ تھی۔ خلاصہ : یہ کہ بعض منکروں کا یہ خیال تھا کہ جو بات پکار کر کہو جو بات علانیہ کرو وہ تو خدا کو معلوم ہوجاتی ہے اور جو خفیہ کردیا چپکے سے کہو خدا کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے دو قریشی اور ایک ثفقی یا دو ثفقی اور ایک قریشی کی ایسی ہی باتیں سنی تھیں آپ کعبہ کے پردے میں چھپے ہوئے تھے آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حدیث میں آتا ہے قیامت میں جب منکر حاضر ہوں گے تو مونہوں پر مہریں لگیہوں گیا عضاء میں سب سے پہلے انسان کی ران بولے گی غرض ! تم جو کچھ چھپ چھپا کر کرتے ہو وہ اس ڈر سے نہیں کہ تمہارے اعضاء تم پر شہادت دیں گے اس کا تو تم کو یقین ہی نہ تھا تم تو قیامت ہی کے منکر تھے وہ چھپا کر اس لئے کرتے تھے کہ تم نے سمجھ رکھا تھا کہ جو کام چھپا کر کیا جائے اس کو اللہ تعالیٰ نہیں جانتا آگے اس کا جواب فرمایا۔