Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 31

سورة حم السجدہ

نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾

We [angels] were your allies in worldly life and [are so] in the Hereafter. And you will have therein whatever your souls desire, and you will have therein whatever you request [or wish]

تمہاری دنیاوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لئے ( جنت میں موجود ) ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

نَحْنُ أَوْلِيَاوُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الاْخِرَةِ ... We have been your friends in the life of this world and are (so) in the Hereafter. means, the angels will say to the believers when death approaches: "We have been your friends, i.e., your close companions, in this world, protecting you and helping you by the command of Allah, and we will be with you in the Hereafter, keeping you from feeling lonely in your graves and when the Trumpet is blown; we will reassure you on the Day of Resurrection and will take you across the Sirat and bring you to the Gardens of delight." ... وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ ... Therein you shall have (all) that your souls desire, means, `in Paradise you will have all that you wish for and that will delight you.' ... وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ and therein you shall have (all) for which you ask. means, `whatever you ask for, it will appear before you as you wish it to be.' نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یہ مزید خوشخبری ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فرشتوں کا قول ہے، دونوں صورتوں میں مومن کے لئے یہ عظیم خوشخبری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] اس آیت میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی ان فرشتوں کا ہی کلام ہو جو ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ فرشتوں کی دنیا میں ولایت کا ذکر کرچکا، آخرت میں یوں ہوگی کہ وہ ہر ہر مقام پر ان کا استقبال کریں گے۔ انہیں سلامتی کی دعائیں اور جنت کی بشارت دیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) نحن اولیوکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ : دنیا میں دسوتی یہ کہ ہم تمہارے لئے داعئیں کرتے ہیں (دیکھیے مومن : ٧) تمہیں نیکی کا الہام کرتے ہیں اور دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرتے ہیں اور آخرت میں یہ کہ جب متقی لوگوں کے سوا سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے تو ہماری دوستی تمہارے ساتھ قائم رہے گی، ہم آنے والے ہر مرحلے میں تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گی اور تمہیں حفاظت سے جنت میں پہنچائیں گے۔ فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ (٢) ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون : ” ماتدعون “ ”’ عا یدعو “ سے باب افتعال ہے، جو تم طلب کرو گے، مانگو گے۔ جنت کی نعمتوں کے لئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (١٧) کی تفسیر۔” ماتشھی انفسکم “ (جو تمہارے دل چاہیں گے) سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ان کی ذاتی خواہش ہوں گی اور ” ماتدعون “ (جو تم مانگو گے) کا لفظ عام ہے، اس میں ذاتی خواہش کی اشیا بھی شامل ہیں اور وہ بھی جو ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ مثال کے طور پر کسی اور کی خاطر طلب کریں گے۔ (ابو السعود)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ‌ رَّ‌حِيمٍ (And for you here is whatever your souls desire, and for you here is whatever you call for. - 41:31-32) In other words, ` all your desires& would be fulfilled whether you request or you don&t.& The word used after that is ` nuzulan&1 meaning hospitality indicates that many the delights provided to you there will be such that even desire had not entered your heart, as happens to a guest, specially of a great personage, that many such things also are presented to him that the guest had not even imagined. (Mazhari) 1. This which originally means ` a thing prepared by a host to be offered to him soon after his arrival&. That is why it is translated by us above as a ` welcome-gift&. But for the sake of brevity and in general usage, it is generally translated as ` hospitality&. Muhammad Taqi Usmani It is stated in a Hadith that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that in Paradise, if the desire comes into your heart to eat the flesh of a flying bird you are looking at it, it would immediately fall in front of you completely cooked, ready to eat. Some narrations have it that the bird would not have been touched either by fire or smoke, but would come down already cooked. (Al-Bazzar, Al-Baihaqi - narrated by Ibn Masud - Mazhari) In another Hadith, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said that if a Mu&min in Paradise wishes to have a child born in his house, the conception, delivery, weaning, growing into being an adult - all this would take place in a moment. (Tirmidhi, Baihaqi, etc. - Mazhari)

وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ ۔ فرشتے مومنین و مخلصین کو بتلائیں گے کہ تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے اور ہر وہ چیز جو تم مانگو۔ اس کا حاصل تو یہ ہے کہ تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی، خواہ تم مانگو یا نہ مانگو۔ آگے نزلاً بمعنی مہمانی فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی تمنا بھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوئی۔ جیسا کہ مہمان کے سامنے بہت سی وہ چیزیں بھی آتی ہیں جن کا پہلے سے کوئی تصور نہیں ہوتا خصوصاً کسی بڑے کا مہمان ہو۔ (مظہری) حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنت میں کسی پرندے کو اڑتا ہوا دیکھ کر تمہارے دل میں اس کا گوشت کھانے کی خواہش پیدا ہوگی تو وہ اسی وقت بھنا بھنایا تمہارے سامنے آ گرے گا۔ بعض روایات میں ہے کہ وہ نہ آگ سے مس ہوگا نہ دھوئیں سے، خود بخود پک کر سامنے آ جاوے گا (رواہ البزار والبیہقی عن ابن مسعود۔ مظہری) اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومن کو جنت میں اگر اپنے گھر میں بچہ پیدا ہونے کی خواہش ہوگی تو اس کا حمل اور وضع حمل پھر اس کا دودھ چھڑانا پھر جوان ہونا سب ایک ساعت میں ہوجائے گا۔ (ترمذی و بیہقی وغیرہ۔ مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۚ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَشْتَہِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْہَا مَا تَدَّعُوْنَ۝ ٣١ۭ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، أي : هم متلذّذون، لما روي في الأخبار الکثيرة في أرواح الشّهداء والخامسة : الحیاة الأخرويّة الأبديّة، وذلک يتوصّل إليه بالحیاة التي هي العقل والعلم، قال اللہ تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] والسادسة : الحیاة التي يوصف بها الباري، فإنه إذا قيل فيه تعالی: هو حيّ ، فمعناه : لا يصحّ عليه الموت، ولیس ذلک إلّا لله عزّ وجلّ. ( ح ی ی ) الحیاۃ ) زندگی ، جینا یہ اصل میں حیی ( س ) یحییٰ کا مصدر ہے ) کا استعمال مختلف وجوہ پر ہوتا ہے ۔ ( 1) قوت نامیہ جو حیوانات اور نباتات دونوں میں پائی جاتی ہے ۔ اسی معنی کے لحاظ سے نوبت کو حیہ یعنی زندہ کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ ۔ ( 2 ) دوم حیاۃ کے معنی قوت احساس کے آتے ہیں اور اسی قوت کی بناء پر حیوان کو حیوان کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] اور زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں ۔ ( 3 ) قوت عاملہ کا عطا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ ( 4 ) غم کا دور ہونا مراد ہوتا ہے ۔ اس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( خفیف ) جو شخص مرکر راحت کی نیند سوگیا وہ درحقیقت مردہ نہیں ہے حقیقتا مردے بنے ہوئے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں ۔ میں شہداء کو اسی معنی میں احیاء یعنی زندے کہا ہے کیونکہ وہ لذت و راحت میں ہیں جیسا کہ ارواح شہداء کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں ۔ ( 5 ) حیات سے آخرت کی دائمی زندگی مراد ہوتی ہے ۔ جو کہ علم کی زندگی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے : قرآن میں ہے : ۔ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ لِما يُحْيِيكُمْ [ الأنفال/ 24] خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی ( جادواں ) بخشتا ہے۔ ( 6 ) وہ حیات جس سے صرف ذات باری تعالیٰ متصف ہوتی ہے ۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کی صفت میں حی کہا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ ذات اقدس ہوئی ہے جس کے متعلق موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا ۔ پھر دنیا اور آخرت کے لحاظ بھی زندگی دو قسم پر ہے یعنی حیات دنیا اور حیات آخرت چناچہ فرمایا : ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغى وَآثَرَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ النازعات/ 38] تو جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھنا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ من دونه، وقد يسمّى الْمُشْتَهَى شهوة، وقد يقال للقوّة التي تَشْتَهِي الشیء : شهوة، وقوله تعالی: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] ، يحتمل الشّهوتین، وقوله : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] ، فهذا من الشّهوات الکاذبة، ومن الْمُشْتَهِيَاتِ المستغنی عنها، وقوله في صفة الجنّة : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] ، وقوله : فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] ، وقیل : رجل شَهْوَانٌ ، وشَهَوَانِيٌّ ، وشیء شَهِيٌّ. ( ش ھ و ) الشھوہ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچ جاتا جسے وہ چاہتا ہے و خواہشات دنیوی دوقسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہا اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ۔ پھر شھوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولاجاتا ہے ۔ جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور کبھی خود اس قوت شہویہ پر اور آیت کریمہ ؛زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں ( بڑی ) زینت دار معلوم وہوتی ہیں۔ میں شہو ات سے دونوں قسم کی خواہشات مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے ۔ میں جھوٹی خواہشات مراد ہیں یعنی ان چیزوں کی خواہش جن سے استغناء ہوسکتا ہو ۔ اور جنت کے متعلق فرمایا : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] اور وہاں جس ( نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گا ۔ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] اور جو کچھ ان جی چاہے گا اس میں ۔۔۔ رجل شھوان وشھوانی خواہش کا بندہ شمئ لذیز چیز ۔ مرغوب شے ۔ نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ المِلْك، ويعني بنفسه نُفُوسَنا الأَمَّارَةَ بالسُّوء، وأضاف إليه علی سبیل المِلْك . ( ن ف س ) النفس کے معنی روح کے آتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] کہ نکال لو اپنی جانیں ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] اور جان رکھو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے ۔ اور ذیل کی دونوں آیتوں ۔ تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] اور جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے میں اسے نہیں جنتا ہوں ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے اور یہاں نفسہ کی اضافت اگر چہ لفظی لحاظ سے مضاف اور مضاف الیہ میں مغایرۃ کو چاہتی ہے لیکن من حیث المعنی دونوں سے ایک ہی ذات مراد ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ ہر قسم کی دوائی سے پاک ہے بعض کا قول ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی طرف نفس کی اضافت اضافت ملک ہے اور اس سے ہمارے نفوس امارہ مراد ہیں جو ہر وقت برائی پر ابھارتے رہتے ہیں ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣١۔ ٣٢) اور ہم تمہارے ساتھی تھے دنیوزی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے یہ حفظہ فرشتے ہوں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز اس میں تمہارے لیے جو مانگو گے موجود ہے۔ یہ تمہارے لیے ثواب اور کھانا و پینا بطور مہمانی کے ہوگا اس ذات کی طرف سے جو تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت میں مرنے والے پر رحیم ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِج } ” ہم ہیں تمہارے رفیق دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ “ ان الفاظ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہو رہا ہے کہ فرشتے حیات دنیوی کے دوران بھی ان خوش قسمت لوگوں کی ہمت بندھاتے ہیں اور انہیں یہ پیغامِ جانفرا پہنچاتے ہیں۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ” اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ سب کچھ ہوگا جو تمہارے جی چاہیں گے “ تمہارے جی وہاں جو کچھ چاہیں گے وہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے ‘ کیونکہ تمہارے نفسوں کے تقاضوں اور تمہاری خواہشات کو بھی ہم نے خود ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ہم تمہاری خواہشات کی تسکین کا مکمل سامان وہاں فراہم کریں گے۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ } ” اور تمہارے لیے اس میں وہ سب کچھ بھی ہوگا جو تم مانگو گے۔ “ تمہارے نفسوں کے تقاضوں کے مطابق تو سب کچھ وہاں پہلے سے ہی مہیا ہوچکا ہوگا۔ البتہ مانگنے اور طلب کرنے کے حوالے سے ہر شخص کا اپنی ذہنی سطح کے مطابق ایک معیار اور مخصوص ذوق ہوتا ہے۔ بچہ اپنی پسند کی کوئی چیز مانگے گا ‘ ایک سادہ لوح دیہاتی اپنے معیار کی کوئی چیز طلب کرے گا ‘ جبکہ ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کے مطابق سوال کرے گا۔ غرض جو کوئی جو کچھ مانگے گا وہ سب کچھ اس کے سامنے حاضر کردیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:31) فیہا : ای فی الجنۃ۔ جنت میں۔ ما تشتھی : ما موصولہ ہے تشتہی مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اشتھاء (افتعال) مصدر۔ یہاں واحد مؤنث کا صیغہ انفسکم (تمہاری جانیں، تمہارے دل۔ تمہارے جی) کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی جسے تمہارے جی پسند کریں گے۔ یا۔ چاہیں گے ما تدعون : ما موصولہ۔ تدعون جمع مذکر حاضر مضارع معروف۔ ادعاء (افتعال) مصدر۔ جس کے معنی دعوی کرنے یا آرزو کرنے کے ہیں۔ یعنی تمہارے لئے وہاں ہر وہ چیز ہوگی جو تم مانگو گے یا جس کی تم آرزو کرو گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 دنیا میں نگہبانی یہ کہ تمہیں نیکی کا الہام کرتے رہے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی اور مددگار رہیں گے اور تمہیں حفاظت سے جنت تک پہنچائیں گے فرشتے ہر مومن کو اس کی موت کے وقت یہ بشارت دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ چناچہ دنیا میں نیکیوں کا الہام، حوادث میں صبر وسکینہ ملائکہ ہی کا فیض ہے۔ 7۔ یعنی طلب اضطراری ہو یا اختیاری دونوں علی السوء پوری ہوں گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

فرشتوں کا اہل ایمان سے خطاب (نَحْنُ اَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ ) فرشتے اہل استقامت مومنین سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم دنیا اور آخرت میں تمہارے ولی ہیں یعنی ہم تمہارے مددگار ہیں تمہارے دلوں میں حق کی بات ڈالتے ہیں اور تمہیں خیر و صلاح کا مشورہ دیتے رہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ موت سے پہلے بھی ملائکہ کا نزول ہوتا رہتا ہے جو اہل ایمان کو تسلی دیتے ہیں اور خیر و صلاح کی باتیں بتاتے ہیں اور شرور سے بچاتے ہیں دنیا میں ان کی یہ دوستی ہے اور آخرت میں بھی دوستی کا ظہور ہوگا، شفاعت بھی کریں گے اور اکرام کے ساتھ پیش آئیں گے اور ان کے پاس پہنچیں گے اور (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ) کہہ کر سلامتی کی دعا بھی دیں گے اور مبارکباد بھی۔ فرشتے جو جنت کے داخلے کی پیشگی بشارت دیں گے اس بشارت کے ساتھ اجمالی طور پر نعمتوں کا تذکرہ بھی فرمایا وہ کہیں گے کہ آخرت میں تمہیں جو جنت کا داخلہ ملے گا وہ داخلہ بہت بڑی نعمت ہے وہ ہر قسم کی خواہش پوری ہونے کی جگہ ہے جنت میں تمہاری جو بھی خواہش ہوگی وہ سب پوری کردی جائے گی اور وہاں جو بھی کچھ مانگو اور طلب کرو گے سب کچھ موجود ہوگا ایسا نہ ہوگا کہ کوئی خواہش رد کی رہ جائے اور کوئی مطلوبہ شے عطا نہ کی جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست تھے اور آخرت میں بھی ہم تمہارے رفیق اور دوست رہیں گے اور جنت میں تم کو ہر وہ چیز حاصل اور میسر ہوگی جس کے لئے تمہارے دل خواہش کریں اور وہاں تم جو طلب کرو گے وہ تم کو ملے گا۔