Surat Ha meem Assajdah

Surah: 41

Verse: 32

سورة حم السجدہ

نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ ﴿۳۲﴾٪  18

As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful."

غفور و رحیم ( معبود ) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

An entertainment from the Oft-Forgiving, Most Merciful. means, `a welcoming gift and a blessing from the One Who has forgiven your sins and Who is Merciful and Kind towards you, Who has forgiven you, concealed your faults and been Kind and Merciful.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

نزلاً من غفور رحیم : اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة سجدہ کی آیت (١٩) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ۝ ٣٢ۧ نزل ( ضيافت) النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. والنُّزُلُ : ما يُعَدُّ للنَّازل من الزَّاد، قال : فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا [ السجدة/ 19] وأَنْزَلْتُ فلانا : أَضَفْتُهُ. ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں النزل ( طعام مہمانی ) وہ کھان جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا[ السجدة/ 19] ان کے رہنے کے لئے باغ میں یہ مہمانی ۔ انزلت فلانا کے معنی کسی کی مہمانی کرنے کے ہیں غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٢ { نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ } ” یہ ابتدائی مہمان نوازی ہوگی اس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔ “ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا ہے ان کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی (نُزُل) سے ہے۔ جہاں تک ان کی اصل ضیافت کا تعلق ہے اس کی کیفیت ہمارے احاطہ شعور میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ ‘ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ ‘ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ …) (١) ” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گمان ہی گزرا…“ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة السجدۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئًمبِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ” پس کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے ‘ وہ بدلہ ہوگا ان کے اعمال کا۔ “ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جو اپنے مضمون کے اعتبار سے اس سورت کا عمود ہے اور جس کو قبل ازیں ان سات آیات کے ہار کے درمیان ایک جگمگاتے ہیرے سے تشبیہہ دی گئی تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(41:32) نزلا۔ اسم۔ مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ النزول کے اصل معنی ہیں بلند جگہ سے نیچے اترنا۔ چناچہ محاورہ ہے نزل عن دابتہ وہ سواری سے اتر پڑا۔ انزل باب افعال کسی کو بطور مہمان اتارنا۔ یا بطور مہمان ٹھہرانا۔ مہمانی کرنا۔ منزل اترنے کی جگہ مہمان خانہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فنزل من حمیم (56:93) (تو اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے۔ کتاب کا منجانب اللہ نازل کیا جانا۔ وحی کا نازل ہونا۔ عذاب یا مصیبت کا نازل ہونا سب اسے مادہ (نزل) سے ہیں۔ نزلا حال ہے ما تدعون سے بدیں وجہ منصوب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی یہ نعمتیں اکرام کے ساتھ ملیں گی، جس طرح مہمان کو ملتی ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

غفور رحیم کی طرف سے مہمانی آخر میں فرمایا (نُزُلًا مِنْ غَفُوْرٍ رَحِیْمٍ ) وہاں جو کچھ عطا کیا جائے گا غفور رحیم کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا دیکھو سب سے بڑی ذات کے مہمان بن رہے ہو جس نے تمہارے سب گناہ اور خطائیں معاف فرما دی ہیں اور مہربانی فرما کر تمہیں یہاں داخلہ دے دیا ہے جس ذات عالی کے مہمان ہو اس کی مہمانی اسی کے شان کے لائق ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ مہمان کی جو خواہش ہو پوری کی جائے اور جو کچھ طلب کرے وہ اسے دیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(32) یہ سب کچھ اس کی طرف سے بطور مہمانی کے ہوگا جو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی دنیا میں بھی نیک بندوں کو ان کی رفاقت میسر ہوتی ہے چناچہ نیکیوں کا الہام اور شدائد و حوادث میں صبر وسکینہ اور غیبی مدد ان ملائکہ ہی کا فیضان ہے ان کی رفاقت اور ہمراہی اور بشارت یہ سب باتیں آخرت میں ہونگی۔ اور جنت کی تعریف بیان کریں گے کہ تم وہاں جو چاہو گے وہ موجود ہوگا اور جو طلب کرو گے وہ ملے گا یعنی جس طرح یہاں دنیا میں ہرچیز کا تصور بلاتکلف کرسکتے ہو لیکن موجود نہیں کرسکتے وہاں یہ طاقت بڑھادی جائے گی جس چیز کا تصور کرو گے وہ تصورکرو گے وہ تصور کرتے ہی موجود ہوجائے گی اور یہ سب چیزیں بطور اکرام اور اعزاز ہوں گی اور مہمانی کے طور پر ہوں گے۔ حدیث میں بھی آتا ہے امنت لاللہ ثم استقم یعنی میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہ شارحین حدیث نے اس کی شرح میں فرمایا کہ نیک اعمال کی پابندی کرے اور نواہی سے بچے یہی مطلب آیات کا ہے۔ شیخین سے جو تفسیر م نے نقل کی ہے یہ محض موجود حالات کی رعایت سے اختیار کرلی ہے ورنہ استقامت کے لئے نیک اعمال ضروری ہیں اور نواہی سے احتراز لازم ہے۔ شیخین کی تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ ایمان خالص ہو اور اس میں شرک و نفاس کی آمیزش نہ ہو یہ کم سے کم درجہ استقامت کا ہے حضرت حسن بصری (رض) نے فرمایا مستقیم رہے اللہ تعالیٰ کے امر پر اور اس کی طاقت کرتا رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے۔