إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ
...
To Him is referred the knowledge of the Hour.
meaning, no one knows about that apart from Him.
Muhammad, the leader of mankind, said to Jibril, who is one of the leading angels, when he asked him about the Hour:
مَا الْمَسْوُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّايِل
The one who is asked about it does not know more than the one who is asking."
And Allah says:
إِلَى رَبِّكَ مُنتَهَـهَأ
To your Lord belongs the term thereof. (79:44)
لااَ يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَأ إِلااَّ هُوَ
None can reveal its time but He. (7:187)
...
وَمَا تَخْرُجُ مِن ثَمَرَاتٍ مِّنْ أَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَى وَلاَ تَضَعُ إِلاَّ بِعِلْمِهِ
...
No fruit comes out of its sheath, nor does a female conceive nor brings forth (young), except by His knowledge.
means, all of that is known to Him, and nothing is hidden from your Lord the weight of a speck of dust on the earth or in the heaven.
Allah says:
وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا
not a leaf falls, but He knows it. (6:59)
يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَى وَمَا تَغِيضُ الاٌّرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَىْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ
Allah knows what every female bears, and by how much the wombs fall short or exceed. Everything with Him is in (due) proportion. (13:8)
وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلاَ يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
And no aged man is granted a length of life nor is a part cut off from his life, but is in a Book. Surely, that is easy for Allah. (35:11)
...
وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَايِي
...
And on the Day when He will call unto them (saying): "Where are My (so-called) partners?"
means, on the Day of Resurrection, Allah will call out to the idolators before all of creation and say, "Where are My partners whom you worshipped besides Me?"
...
قَالُوا اذَنَّاكَ
...
They will say: "We inform You..."
means, `we tell You,'
...
مَا مِنَّا مِن شَهِيدٍ
that none of us bears witness to it.
means, `not one of us will bear witness today that You have any partner.'
علم الٰہی کی وسعتیں
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اس کے سوا اور کسی کو نہیں تمام انسانوں کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب فرشتوں کے سرداروں میں سے ایک سردار یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے قیامت کے آنے کا وقت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جاتا ہے وہ بھی پوچھنے والے سے زیادہ جاننے والا نہیں ۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے ( اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا 44ۭ ) 79- النازعات:44 ) یعنی قیامت کب ہو گی ؟ اس کے علم کا مدار تیرے رب کی طرف ہی ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اور جگہ فرمایا آیت ( لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَآ اِلَّا هُوَ ۂ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۭ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ١٨٧ ) 7- الاعراف:187 ) مطلب یہی ہے کہ قیامت کے وقت کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہر چیز کو اس اللہ کا علم گھیرے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو پھل شگوفہ سے کھل کر نکلے جس عورت کو حمل رہے جو بچہ اسے ہو یہ سب اس کے علم میں ہے ۔ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس کے وسیع علم سے باہر نہیں ۔ جیسے فرمایا آیت ( لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْـقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ Ǽڎڎ ) 34- سبأ:3 ) ایک اور آیت میں ہے ( وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59 ) 6- الانعام:59 ) یعنی جو پتہ جھڑتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے ۔ ہر مادہ کو جو حمل رہتا ہے اور رحم جو کچھ گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں اللہ خوب جانتا ہے اس کے پاس ہر چیز کا اندازہ ہے ۔ جس قدر عمریں گھٹتی بڑھتی ہیں وہ بھی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں ایسا کوئی کام نہیں جو اللہ پر مشکل ہو ۔ قیامت والے دن مشرکوں سے تمام مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ جنہیں تم میرے ساتھ پرستش میں شریک کرتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو ہمارے بارے میں علم رکھتا ہے ۔ آج تو ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہ کرے گا کہ تیرا کوئی شریک بھی ہے ، قیامت والے ان کے معبودان باطل سب گم ہو جائیں گے کوئی نظر نہ آئے گا جو انہیں نفع پہنچا سکے ۔ اور یہ خود جان لیں گے کہ آج اللہ کے عزاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں یہاں ظن یقین کے معنی میں ہے ۔ قرآن کریم کی اور آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے آیت ( وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53ۧ ) 18- الكهف:53 ) یعنی گنہگار لوگ جہنم دیکھ لیں گے ۔ اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔