Commentary اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ (Allah is kind to His slaves - 42:19). The word, latif used in the text has more than one lexical meanings. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) has translated it here as kind, and Sayyidna ` Ikrimah (رض) has translated it as benefactor. Muqatil (رح) has said that Allah Almighty is kind to all His servants, so much so that even the infidels and sinners keep on being showered with His worldly blessings. There are many types and kinds of the divine bounties, graces and favours showered upon His servants. That is why many meanings of the word latif have been stated in the Tafsir of Qurtubi, all of which are covered by the words ` kind& and ` benefactor&. Although Allah Ta’ ala provides sustenance to all His creatures without any exception - even to those animals on land and in waters whom nobody knows, yet the present verse states that He provides sustenance ` to whom He wills&. This is better understood from the explanation given in Tafsir Mazhari which says that there are countless& types and kinds of sustenance provided by Allah Ta’ ala; sustenance as necessary is provided to all and sundry, whereas some special kinds of sustenance are distributed by Him in degrees and quantities determined by His perfect wisdom. Somebody is given more of wealth and goods, somebody is given more of health and strength, somebody is given more of learning and knowledge and somebody is given more of other types and kinds; in this way everybody is dependent on another person and it is this dependence which persuades people to co-operate with and help each other and which is the foundation of human civilization. Ja&far Ibn Muhammad (رح) has said that Allah Ta’ ala&s kindness to His servants in the matter of sustenance is in two ways. Firstly, He provides food and other necessities to every living being as per his needs, and secondly, He does not provide sustenance for anyone for the whole of his life all at once, rather gives him gradually according to his need, otherwise its preservation would not have been feasible. (Mazhari, Qurtubi) Note Shah ` Abdul Ghani Phulpuri رحمۃ اللہ علیہ relates from Haji Imdadullah (رح) that anyone who recites the above verse i.e. اللَّـهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ seventy times every morning regularly, would be preserved from shortage of sustenance and said that experience has shown it to be very effective.
خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ جو دنیا کی ناز و نعمت پر مغرور ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ اگر ہمارا عمل اللہ کی رضا کے خلاف ہوتا تو ہم کو یہ عیش و عشرت کیوں دیتا خوب سمجھ لو کہ یہ ان کی بھول ہے، یہ دنیا کی دولت و نعمت دلیل رضا نہیں بلکہ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اپنے بندوں پر (عام طور سے) مہربان ہے (اسی رحمت عامہ کے سبب سب کو روزی دیتا ہے صحت و تندرستی دیتا ہے جس میں مصالح و حکمت کی بنا پر کمی و بیشی بھی ہوتی ہے کہ) جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے (مگر نفس روزی سب میں مشترک ہے) اور (دنیا میں اس لطف و مہربانی سے یہ سمجھ لینا کہ ان کا طریقہ حق ہے اور آخرت میں بھی لطف و مہربانی جاری رہے گی سراسر دھوکہ ہے۔ وہاں تو ان کے اعمال بد پر عذاب ہوگا جو کوئی مستبعد نہیں کیونکہ) وہ قوت والا زبردست ہے (غرض ان کی ساری خرابیوں کی جڑ دنیا پر مغرور ہونا ہے۔ ان کو چاہئے کہ اس سے باز آجائیں اور آخرت کی فکر کریں کیونکہ) جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو۔ ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (اعمال صالحہ کھیتی اور اس پر ملنے والا ثواب اس کا پھل ہے اور اس کی ترقی یہ ہے کہ ثواب مضاعف ملے گا، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا) اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو (یعنی سارے عمل و سعی کا مقصد دنیا کی متاع ہو، آخرت کے لئے کچھ کوشش نہ کرے) تو ہم اس کو کچھ دینا (اگر چاہیں) دے دیں گے اور آخرت میں اس کو کچھ حصہ نہیں (کیونکہ اس کی شرط ایمان ہے وہ ان میں ہے نہیں) ۔ معارف و مسائل اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ ۔ لفظ لطیف لغت کے اعتبار سے چند معانی میں استعمال ہوتا ہے یہاں حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ حفی بمعنی مہربان سے اور حضرت عکرمہ نے بار یعنی محسن سے کیا ہے۔ حضرت مقاتل نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے سبھی بندوں پر مہربان ہے۔ یہاں تک کہ کافر فاجر پر بھی دنیا میں اس کی نعمتیں برستی ہیں حق تعالیٰ کی عنایات اور لطف و کرم اپنے بندوں پر بیشمار انواع و اقسام کے ہیں۔ اس لئے تفسیر قرطبی نے لفظ لطیف کے معنی بھی بہت سے بیان فرمائے ہیں۔ اور حاصل سب کا لفظ حفی اور بار میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رزق تو ساری مخلوقات کے لئے عام اور شامل ہے۔ دریا اور خشکی میں رہنے والے وہ جانور جن کو کوئی نہیں جانتا اس کا رزق ان کو بھی پہنچتا ہے۔ اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اس کا حاصل زیادہ واضح وہ ہے جس کو تفسیر مظہری نے اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رزق کی بیشمار اقسام و انواع ہیں۔ بقدر ضرورت معاش رزق تو سب کے لئے عام ہے۔ پھر خاص خاص اقسام رزق کی تقسیم میں اپنی حکمت بالغہ سے مختلف درجات اور پیمانے رکھے ہیں۔ کسی کو مال و دولت کا رزق زیادہ دے دینا۔ کسی کو صحت وقوت کا، کسی کو علم و معرفت کا کسی کو دوسری انواع و اقسام کا اس طرح ہر انسان دوسرے کا محتاج بھی رہتا ہے اور یہی احتیاج ان کو باہمی تعاون و تناصر پر آمادہ کرتی ہے جس پر تمدن انسانی کی بنیاد ہے۔ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا کہ رزق کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی بندوں پر دو طرح کی ہے اول تو یہ کہ ہر ایک ذی روح کو اس کے مناسب حال غذاء اور ضروریات عطا فرماتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی کو اس کا پورا رزق عمر بھر کا بیک وقت نہیں دے دیتا، ورنہ اول تو اس کی حفاظت کرنا مشکل ہوجاتا اور کتنی بھی حفاظت کرتا وہ پھر بھی سڑنے اور خراب ہونے سے بچتا۔ (مظہری و مثلہ فی القرطبی) ایک مجرب عمل : مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔ اور فرمایا کہ بہت مجرب عمل ہے۔ آیت یہی ہے جو اوپر مذکور ہوئی۔ (آیت) اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ