Surat us Shooraa

Surah: 42

Verse: 24

سورة الشورى

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَ یَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۴﴾

Or do they say, "He has invented about Allah a lie"? But if Allah willed, He could seal over your heart. And Allah eliminates falsehood and establishes the truth by His words. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

کیا یہ کہتے ہیں کہ ( پیغمبر نے ) اللہ پر جھوٹ باندھا ہے ، اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ تعالٰی اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹا دیتا ہے اور سچ کو ثابت رکھتا ہے ۔ وہ سینے کی باتوں کو جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَإِن يَشَأِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ ... Or say they: "He has invented a lie against Allah!" If Allah willed, He could have sealed up your heart. means, `if you had invented any lies against Him, as these ignorant people claim,' يَخْتِمْ عَلَى قَلْبِكَ (He could have sealed up your heart). means, `and thus caused you to forget what had already come to you of the Qur'an.' This is like the Ayah: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاٌّقَاوِيلِ لاأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَـجِزِينَ And if he had forged a false saying concerning Us (Allah), We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his life artery, And none of you could have withheld Us from (punishing) him. (69:44-47) which means, `We would have wrought the utmost vengeance upon him, and no one among mankind would have been able to protect him.' And Allah said: ... وَيَمْحُ اللَّهُ الْبَاطِلَ ... And Allah wipes out falsehood, ... وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ... and establishes the truth by His Word. means, He establishes it and strengthens it and makes it clear by His Words, i.e., by His evidence and signs. ... إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ Verily, He knows well what are in the breasts. means, all that is hidden in the hearts of men.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 یعنی اس الزام میں اگر صداقت ہوتی تو ہم آپ کے دل پر مہر لگا دیتے، جس سے وہی محو ہوجاتا جس کے گھڑنے کا انتساب آپ کی طرف کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کو اس کی سخت ترین سزا دیتے۔ 24۔ 2 یہ قرآن بھی اگر باطل ہوتا (جیسا کہ مکذبین کا دعویٰ ہے) تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کو بھی مٹا ڈالتا، جیسا کہ اس کی عادت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٦] ایک عام آدمی پر بھی ایسا الزام لگانا شدید جرم ہے مگر یہ لوگ اس قدر بےباک ہوگئے ہیں کہ آپ پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ یہ بدبخت آپ کو بھی اپنے ہی جیسا سمجھتے ہیں اور اللہ ایسے ہی بدبختوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتا ہے۔ اور اگر ان کا الزام درست ہوتا تو اللہ آپ کے دل پر بھی مہر لگا دیتا۔ آپ کے دل پر مہر نہ لگنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہی بدبخت جھوٹے اور الزام تراش ہیں۔ [٣٧] یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو کبھی پائیداری نصیب نہیں کرتا اور وہ سرنگوں ہو کے رہتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق از خود ثابت اور برقرار ہوجاتا ہے۔ لہذا آپ ان کے اس الزام کی مطلق پروا نہ کریں عنقریب ان کا یہ الزام اور جھوٹ واضح ہوجائے گا اور حق نتھر کر سامنے آجائے گا۔ اللہ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے۔ [٣٨] یعنی آپ کو جھٹلانے اور آپ پر اس طرح کے گھناؤنے الزام لگانے کی تہ میں جو ان کے ذاتی مفادات مضمر ہیں اور جن کی وجہ سے یہ ایسے کام کرتے ہیں اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ام یقولون افتری علی اللہ کذباً :” ام “ کے لفظ سے پہلے ایک جملہ ظاہر یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ تمہیں دین کی دعوت دینے سے مقصود سراسر تمہارا فائدہ اور تمہاری نجات ہے، اس میں تم سے میری کوئی ذاتی غرض نہیں، نہ ہی میں اس پر تم سے کسی مزدوری کا سوال کرتا ہوں۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کم از کم رشتہ داری کی وجہ سے میرا دوستی کا حق تو ادا کرو۔ اس سے آگے اس مفہوم کی عبارت مقدر مانی جائے گی کہ آیا وہ یہ دعوت قبول کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتے ہیں ” ام یقولون افتری “ یا ضد اور عناد پر قائم رہ کر یہی بات کہے جاتے ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے۔ (٢) فان یشاء اللہ یختم علی قلیک : مفسرین نے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے، زیادہ واضح دو تفسیریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ابن کثیر رحمتہ اللہ نے فرمایا :” اگر تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو، جیسا کہ یہ جاہل کہہ رہے ہیں تو اگر وہ چاہے تو ” یختم علی قلیک “ وہ تیرے دل پر مہر لگا دے اور جتنا قرآن تجھے عطا کیا ہے وہ تجھ سے سلب کرلے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے :(ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین فما منکم من احد عنہ حجرین ) (الحاقہ :33 تا 38)” اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ “ یعنی ہم اس سے شدید ترین انتقام لیں اور کوئی شخص اسے بچا نہ سکے۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل سورة حاقہ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ مفسر قاسمی نے فرمایا :” یہ قرآنی آیات کی تفسیر قرآن کی آیات کے ساتھ ہے، جہاں ممکن ہو یہ تفسیر سب سے بہتر ہتوی ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق آیت کا مآل جیسا کہ ابو السعود نے وضاحت فرمائی کفار کی بات کی تردید ہے، یعنی اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے تو اللہ آپ کو ہر حال میں اس سے روک دیتا اور آپ کے دل پر ایسی مہر لگاتا کہ نہ آپ کی زبان پر وحی کا کوئی لفظ آتا اور نہ آپ کے دل میں اس کا کوئی مفہوم آتا، جب ایسا نہیں ہوا بلکہ وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو ثابت ہوگیا کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ “ دوسری تفسیر مفسر شہاب کے الفاظ میں یہ ہے :” اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر لگا دے ، جیسے اس نے ان (بہتان لگانے والے کافروں) کے لدوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دلائی ہے اور آپ پر اپنا احسان و اکرام یاد دلایا ہے (کہ اس نے آپ کے دل پر مہر نہیں لگائی) تاکہ آپ اس کی وجہ سے شکر ادا کریں اور ان لوگوں کے حال پر ترس کھائیں جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور وہ اپنے رب کے غضب کے حق دار بن گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا وہ کبھی یہ جرأت نہ کرتے کہ آپ پر یہ بہتان باندھیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ان پر گمراہی کی مہر نہ لگ گئی ہوتی تو وہ یہ محال بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔ “ (منقول از قاسمی) (٣) ویمح اللہ الباطل …:” یمح “ اصل میں ” یمحو “ ہے۔ اس کا عطف ” یختم “ پر نہیں اور نہ ہی حالت جزم میں ہونے کی وجہ سے اس کی ” واؤ “ گری ہے، بلکہ یہ نیا جملہ ہے اور رفعی حا لات میں ہونے کی وجہ سے ” واؤ “ اپنی جگہ قائم ہے۔ صحابہ کرام (رض) کے رسم الخط میں یہاں ” واؤ “ نہیں لکھی گئی، کیونکہ بعض مقامات پر پڑھنے میں جو حروف نہیں آتے تھے انہوں نے وہ لکھنے میں بھی حذف کردیئے ہیں، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت (١١): (ویدع الانسان بالشر دعآء ہ بالخیر) اور سورة علق کی آیت (18) (سندع الربانیۃ) میں ” واؤ “ نہیں لکھی گیئ۔ مسلمانوں نے بعد میں قرآن مجید کے لئے اسی رسم الخط کو محفوظ رکھا۔ بعض اہل علم نے ” یمح “ کی واؤ حذف کرنے میں یہ نکتہ نکالا ہے کہ باطل کو مٹانے اور محو کرنے میں مبالغے کے اظہار کے لئے ” یمحو “ کی ” واؤ “ کو بھی محو کردیا ہے۔ (٤) یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ثابت کردیتا ہے، تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ گھڑیں اور اللہ تعالیٰ اسے نہ مٹائے، بلکہ آپ کو ہر قدم پر اپنی فتح و نصتر کے ساتھ نوازتا جائے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ حق لے کر آئے ہیں اور وہ شخص بدترین بہتان باز ہے جو کہتا ہے کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ (٥) انہ علیم بذات الصدور : یعنی اسے سینوں میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کا خوب علم ہے، وہ اپنی رسالت کے ساتھ کبھی بھی بدطینت و جھوٹ گھڑنے والوں کو نہیں نوازتا، جیسا کہ فرمایا :(اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ) (الانعام : 123)” اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ “ اس نے اپنے کامل علم ہی کی بنا پر آپ کو اس منصب کے لئے منتخب فرمایا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

1. It means that the miraculous Qur&an recited by the unlettered Prophet is in itself a clear proof of its being revealed by Allah Ta’ ala. Allah&s practice is such that if a person falsely claims to be a prophet, He does not let him show any miracle. Therefore, had there been, God forbid, something forged by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the Qur&an, Allah would have put a seal on his heart, and he would have never been able to come up with such a miraculous discourse. Commentary The first verse conveys Allah Almighty&s reply to those who held the prophethood and messenger-ship of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to be false, the Qur&an to be wrong and forged. The reply is based on a divine rule that miracles or events occurring against normal course which cannot be performed by ordinary human beings are created and shown through prophets, by Allah Almighty&s Grace, to prove their prophethood, without any discretion of the prophets themselves. Although some magicians also do perform such magical tricks, but obviously neither the prophets nor the magicians can perform any of these things without Allah Almighty&s intent and scheme. He allows the magicians to perform their tricks as a measure of test and trial. However, to differentiate between magic and miracle and between a magician and a prophet, the rule devised by Him is that no false claimant of prophethood can perform any magical trick successfully; magical tricks can be performed successfully by one until he claims prophethood, but the magic vanishes as soon as one lays a false claim of prophethood. When Allah Ta’ ala bestows prophethood and messenger-ship on anyone, He also favours him with miracles and makes those miracles highly visible. Thus He provides physical and decreed proof of his prophethood. And He also confirms him in His Divine Book. In view of this rule, it should be understood that the Noble Qur&an is such a miracle that all the humans and all the jins of this world are unable to produce even one verse comparable to the verse of the Qur&an. Their inability to do so was proved in the days of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and continues till today. Such an open and obvious miracle cannot be accomplished by a false claimant of prophethood. The Holy Prophet&s claim to ` wahy& and messenger-ship is, therefore, correct and true, and those who hold it to be incorrect and forged are misguided calumniators.

خلاصہ تفسیر کیا یہ لوگ (آپ کی نسبت نعوذ باللہ) یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے (کہ نبوت اور وحی کا خلاف واقع دعویٰ کیا ہے) سو (ان کا یہ قول خود افترا ہے، اس لئے کہ آپ کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا یہ معجز کلام جاری ہو رہا ہے جو سچے نبی کے سوا کسی کی زبان پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اگر معاذ اللہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچے نہ ہوتے تو اللہ یہ کلام آپ پر جاری نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ) خدا (کو یہ قدرت حاصل ہے کہ) اگر (وہ) چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے (اور یہ کلام آپ کے قلب پر نہ القا ہو، نہ باقی رہے، بلکہ سلب ہوجائے، اور آپ بالکل بھول جائیں، اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ زبان سے اس کا صدور ہو ہی نہیں سکتا) اور اللہ تعالیٰ (کی یہ عادت ہے کہ وہ نبوت کے) باطل (دعوے) کو مٹایا کرتا ہے (چلنے نہیں دیتا، یعنی ایسے جھوٹے مدعی کے ہاتھ پر معجزات ظاہر نہیں ہوتے) اور (نبوت کے) حق (دعوائے) کو اپنے احکام سے ثابت (اور غالب) کیا کرتا ہے (پس آپ صادق اور وہ کاذب ہیں اور چونکہ) وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) دلوں (تک) کی باتیں جانتا ہے (چہ جائیکہ زبان کے اقوال اور جوارح کے افعال، پس اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے عقائد، اقوال اور اعمال سب کی خبر ہے، ان سب پر خوب سزا دے گا، ہاں جو لوگ اپنے کفر اور بداعمالیوں سے توبہ کرلیں انہیں معاف کر دے گا، کیونکہ یہ اس کا قانون ہے) اور وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ (بشرائطہا) قبول کرتا ہے اور وہ (اس توبہ کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس (سب) کو جانتا ہے (پس اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص) اور (جب کوئی شخص کفر سے توبہ کر کے مسلمان ہوگیا تو اس کی جو عبادتیں پہلے قبول نہ ہوتی تھیں، اب قبول ہونے لگیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کی عبادت (بشرطیکہ ریاء کے لئے نہ ہو) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (وہ عبادتیں یہی نیک عمل ہیں اور ان کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب دیتا ہے) اور (علاوہ اس ثواب کے جو فی نفسہ اس عمل کا مقتضا ہے) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے (یہ تو ایمان والوں کے لئے ہوا) اور جو لوگ کفر (پر اصرار) کر رہے ہیں (اور ایمان نہیں لائے) ان کے لئے سخت عذاب (مقرر) ہے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت اور قرآن کو غلط اور خدائے تعالیٰ پر افتراء کہنے والوں کو اپنا ایک عام ضابطہ بتلا کر جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے کام جو عادتاً انسان نہیں کرسکتے، جن کو خرق عادت یا معجزہ کہا جاتا ہے، اگرچہ بعض ساحر جادوگر بھی اپنے سحر سے ایسے کام کردکھاتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی بغیر اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کے کچھ نہیں کرسکتا۔ حق تعالیٰ ہی اپنے فضل سے انبیاء کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو معجزات عطا فرماتے ہیں۔ جن میں پیغمبر کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح جادوگروں کا جادو بھی اپنی حکمت امتحان و آزمائش کی بنا پر چلنے دیتے ہیں۔ مگر سحر اور معجزہ میں فرق اور نبی اور ساحر میں امتیاز کے لئے اس نے یہ ضابطہ جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ جھوٹا کرے، اس کے ہاتھ سے کوئی سحر یا جادو کامیاب نہیں ہوتا۔ جب تک کہ وہ مدعی نبوت نہ ہو سحر چلتا ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد اس کا سحر اللہ تعالیٰ نہیں چلنے دیتے۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت عطا فرماتے ہیں۔ ان کو معجزات بھی عطا فرماتے ہیں۔ اور ان کے معجزات کا صدور روشن کرتے ہیں۔ اس طرح تکوینی اور تقدیری طور پر ان کی نبوت کو ثابت کردیتے ہیں۔ دوسرے اپنے کلام کی آیات میں ان کی تصدیق نازل فرما دیتے ہیں۔ جب یہ ضابطہ معلوم ہوگیا تو اب یہ سمجھو کہ قرآن کریم ایک معجزہ ہے کہ تمام دنیا کے جن و بشر اس کی ایک آیت کی مثال بنانے سے عاجز ہیں جن کا عجز زمانہ نبوت میں ثابت ہوچکا اور آج تک ثابت ہے۔ ایسا کھلا ہوا معجزہ کسی جھوٹے مدعی نبوت سے حسب ضابطہ مذکورہ صادر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ کا دعویٰ وحی رسالت صحیح اور حق ہے، اس کو غلط اور افترا کہنے والے گمراہ مفتری ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللہِ كَذِبًا۝ ٠ ۚ فَاِنْ يَّشَاِ اللہُ يَخْتِمْ عَلٰي قَلْبِكَ۝ ٠ ۭ وَيَمْحُ اللہُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِہٖ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝ ٢٤ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، ( ف ری ) القری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں ہوتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جھوٹ شرک اور ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ ختم الخَتْمُ والطّبع يقال علی وجهين : مصدر خَتَمْتُ وطبعت، وهو تأثير الشیء کنقش الخاتم انتهيت إلى آخره، فقوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46] ، إشارة إلى ما أجری اللہ به العادة أنّ الإنسان إذا تناهى في اعتقاد باطل، أو ارتکاب محظور۔ ولا يكون منه تلفّت بوجه إلى الحقّ- يورثه ذلك هيئة تمرّنه علی استحسان المعاصي، وكأنما يختم بذلک علی قلبه، وعلی ذلك : أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصارِهِمْ [ النحل/ 108] ، وعلی هذا النّحو استعارة الإغفال في قوله عزّ وجلّ : وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنا [ الكهف/ 28] ، واستعارة الكنّ في قوله تعالی: وَجَعَلْنا عَلى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ [ الأنعام/ 25] ، واستعارة القساوة في قوله تعالی: وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] ، قال الجبّائيّ «1» : يجعل اللہ ختما علی قلوب الکفّار، ليكون دلالة للملائكة علی كفرهم فلا يدعون لهم «2» ، ولیس ذلک بشیء فإنّ هذه الکتابة إن کانت محسوسة فمن حقّها أن يدركها أصحاب التّشریح، وإن کانت معقولة غير محسوسة فالملائكة باطّلاعهم علی اعتقاداتهم مستغنية عن الاستدلال . وقال بعضهم : ختمه شهادته تعالیٰ عليه أنه لا يؤمن، وقوله تعالی: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ [يس/ 65] ، أي : نمنعهم من الکلام، وَخاتَمَ النَّبِيِّينَ [ الأحزاب/ 40] ، لأنه خَتَمَ النّبوّة، أي : تمّمها بمجيئه . وقوله عزّ وجلّ : خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] ، قيل : ما يختم به، أي : يطبع، وإنما معناه : منقطعه وخاتمة شربه، أي : سؤره في الطيّب مسك، وقول من قال يختم بالمسک «3» أي : يطبع، فلیس بشیء، لأنّ الشّراب يجب أن يطيّب في نفسه، فأمّا ختمه بالطّيب فلیس ممّا يفيده، ولا ينفعه طيب خاتمه ما لم يطب في نفسه . ( خ ت م ) الختم والطبع ۔ کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں کبھی تو ختمت اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہری کی طرح نشان لگانا کے ہیں اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جا تا ہے ۔ مجازا کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وتوق حاصل کرلینا اور اس کا محفوظ کرنا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے ۔ کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ وَخَتَمَ عَلى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ [ الجاثية/ 23] اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی ۔ اور کبھی کسی چیز کا اثر حاصل کرلینے سے کنایہ ہوتا ہے جیسا کہ مہر نقش ہوجاتا ہے اور اسی سے ختمت القرآن کا محاورہ ہے ۔ یعنی قرآن ختم کرایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور آیت : ۔ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46]( ان کافروں سے ) کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان یا دو آنکھیں چجین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے ۔ میں عادت الہیہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان اعتقاد باطل بامحرمات کے ارتکاب میں حد کو پہنچ جاتا ہے اور کسی طرح حق کی طرف ( التفات نہیں کرنا تو اس کی ہیئت نفسانی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ گناہوں کو اچھا سمجھنا اس کی خوبن جاتی ہے ۔ گویا اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے ۔ چناچہ اس ی معنی میں فرمایا : ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصارِهِمْ [ النحل/ 108] یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اسی طرح آیات کریمہ : ۔ وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنا [ الكهف/ 28] اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے ۔۔۔ اس کا کہا نہ ماننا۔ وَجَعَلْنا عَلى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ [ الأنعام/ 25] اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں ۔ وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] اور ان کے دلوں سخت کردیا ۔ میں اعفال کن اور قساوۃ سے بھی علی الترتیب یہی معنی مراد ہیں ۔ جبائی کہتے ہیں کہ اللہ کے کفار کے دلوں پر مہر لگانے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انکے دلوں پر ایسی علامت قائم کردیتے ہیں کہ فرشتے انکے کفر سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور ان کے حق میں دعائے خیر نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بےمعنی سی بات ہے ۔ کیونکہ اگر یہ کتابت محسوس ہو تو اصحاب التشریح ( ) کو بھی اس کا ادراک ہونا ضروری ہے اور اگر سراسر عقلی اور غیر محسوس ہے تو ملائکہ ان کے عقائد باطلہ سے مطلع ہونے کے بعد اس قسم کی علامات سے بےنیاز ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مہر لگانے کے معنی ان کے ایمان نہ لانے کی شہادت دینے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ [يس/ 65] آج ہم ان کے موہوں پر مہر لگادیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ کلام نہیں کرسکیں گے اور آیت میں آنحضرت کو خاتم النبین فرمانے کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت نے اپنی آمد سے سلسلہ نبوت کی مکمل کردیا ۔ ہے ( اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ) اور آیت کریمہ :۔ خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] جسکی مہر مسک کی ہوگی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ ختام کے معنی مایختم بہ کے ہیں یعنی وہ چیز جس سے مہر لگائی جائے مگر آیت کے معنی یہ ہیں کہ اس کا آخری لطف اور برین میں باقی ماندہ جھوٹ مسک کی طرح مہ کے گا اور بعض نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ اس پر کستوری کی مہر لگی ہوئی ہوگی مگر یہ بےمعنی سی بات ہے ۔ کیونکہ شراب کو بذات خود لذت ہونا چاہیے اگر وہ بذات خود لذت لذیذ نہ ہو تو اس پر مسک کی مہر لگانا چنداں مفید نہیں ہوسکتا ، اور نہ ہی اس کی لذت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ محو المَحْو : إزالة الأثر، ومنه قيل للشّمال : مَحْوَةٌ ، لأنها تَمْحُو السّحاب والأثر . قال تعالی: يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] . ( م ح و ) المحو ( ن ) کے معنی کسی چیز کے اثر اور نشان کو زائل کرنا اور مٹا دینا کے ہیں ۔ اسی سے بادشاہ کو محوۃ کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بادل کے آثار اور نشانات کے مٹادیتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] خدا جس کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے ۔ اور ( جس کو چاہتا ہے ) قائم رکھتا ہے ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ كلم الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها، ( ک ل م ) الکلم ۔ یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ صدر الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ، ومنه قيل : رجل مَصْدُورٌ: يشكو صَدْرَهُ ، وإذا عدّي صَدَرَ ب ( عن) اقتضی الانصراف، تقول : صَدَرَتِ الإبل عن الماء صَدَراً ، وقیل : الصَّدْرُ ، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، والْمَصْدَرُ في الحقیقة : صَدَرٌ عن الماء، ولموضع المصدر، ولزمانه، وقد يقال في تعارف النّحويّين للّفظ الذي روعي فيه صدور الفعل الماضي والمستقبل عنه . ( ص در ) الصدر سینہ کو کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] میرے پروردگار اس کا م کے لئے میرا سینہ کھول دے ۔ اس کی جمع صدور آتی ہے جیسے فرمایا : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] اور جو بھید دلوں میں وہ ظاہر کردیئے جائیں گے ۔ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ ( اگلے ) حصہ کو صدر کہنے لگے ہیں جیسے صدرالقناۃ ( نیزے کا بھالا ) صدر المجلس ( رئیس مجلس ) صدر الکتاب اور صدرالکلام وغیرہ صدرہ کے معنی کسی کے سینہ پر مارنے یا اس کا قصد کرنے کے ہیں جیسا کہ ظھرہ وکتفہ کے معنی کسی کی پیٹھ یا کندھے پر مارنا کے آتے ہیں ۔ اور اسی سے رجل مصدور کا محاورہ ہے ۔ یعنی وہ شخص جو سینہ کی بیماری میں مبتلا ہو پھر جب صدر کا لفظ عن کے ذریعہ متعدی ہو تو معنی انصرف کو متضمن ہوتا ہے جیسے صدرن الابل عن الماء صدرا وصدرا اونٹ پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹ آئے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہو کر آئیں گے ۔ اور مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہوکر واپس لوٹنا کے ہیں ۔ یہ ظرف مکان اور زمان کے لئے بھی آتا ہے اور علمائے نحو کی اصطلاح میں مصدر اس لفظ کو کہتے ہیں جس سے فعل ماضی اور مستقبل کا اشتقاق فرض کیا گیا ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور یہ تو یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد نے اللہ پر بہتان لگایا ہے ان کفار کی یہ بات سن کر رسول اکرم غمگین ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے یا یہ کہ آپ کے قلب مبارک کو محفوظ رکھے۔ اور اللہ تعالیٰ تو شرک اور اس کے ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے دین اسلام کو اپنی تائید سے غلبہ دیا کرتا ہے اور وہ دلوں میں بھی جو نیکی اور برائی ہے سب کو جانتا ہے اور وہ تو ایسا ہے جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔ شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا (الخ) امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ انصار کہنے لگے کاش ہم رسول اکرم کے لیے مال جمع کردیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قل ما اسئلکم علیہ من اجر (الخ) یعنی آپ یوں کہیے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا سوائے اس رشتہ داری کی محبت کے تو اس پر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ اس واسطے فرمایا تاکہ آپ کے گھر والوں کی طرف سے لڑا جائے اور ان کی مدد کی جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ { اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ کے اوپر جھوٹ گھڑلیا ہے ؟ “ یعنی یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ { فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ } ” تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔ “ یہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے لیکن اصل میں مخالفین کو سنانا مقصود ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ یہ خالص ایک وہبی صلاحیت ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں ہرگز کوئی اختیار نہیں ہے۔ کجا یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اس کو گھڑیں یا تصنیف کریں۔ چناچہ اگر اللہ چاہے تو یہ صلاحیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واپس لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر مہر کر دے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی آنا بند ہوجائے۔ سورة بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : { وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً ۔ } ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس (قرآن) کو جو ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف ‘ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے اس پر ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔ “ { وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ وَیُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ } ” اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کا حق ہونا ثابت کردیتا ہے اپنے کلمات سے۔ “ یہ اللہ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے ‘ لیکن اس کے ظہور میں اللہ کی مشیت کے مطابق وقت لگتا ہے۔ جیسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے حوالے سے اللہ کی اس سنت کا ظہور پہلی دفعہ غزوئہ بدر کے میدان میں اس وقت عمل میں آیا جبکہ دعوت کو شروع ہوئے چودہ برس گزر چکے تھے۔ چناچہ غزوئہ بدر کے ذریعے حق و باطل کے مابین فرق کو واضح اور مبرہن کر کے نہ صرف یوم بدرکو یوم الفرقان ( الانفال : ٤١ ) قرار دیا گیا بلکہ اس غزوہ کا بنیادی مقصد بھی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہی بتایا گیا : { لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ } (الانفال) ” تاکہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو ‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ “ { اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ } ” یقینا وہ واقف ہے اس سے بھی جو کچھ سینوں کے اندر پوشیدہ ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

43 In this interrogative sentence the style is of severe reproach. It means: "O Prophet: Have these people become so bold and fearless that they do not feel any shame in accusing you of inventing a lie, and that too of a heinous sin of alit against Allah? They calumniate you that you are forging the Qur'an yourself and then falsely attributing to Allah. " 44 That is, "Such big lies are only uttered by those whose hearts havc been sealed up. If Allah wills, He may include you also among them, but it is His mercy that He has kept you away from them. This answer contains a seven satire against the people who were so accusing the Holy Prophet. It means this: "O Prophet, they think that you are a man like them. Just as they are in the habit of uttering any big lie only for the sake of a selfish motive, so they thought you also must have forged a lie for selfish ends. But it is Allah's mercy that He has not sealed up your heart as He has sealed up theirs." 45 That is, "It is Allah's way that He dces not grant stability to falsehood, and in the long run proves the truth to be true. Therefore, O Prophet, you should go on doing your mission, without paying any attention to their false accusations. A time will come when this whole falsehood will vanish like dust, and the truth of that which you are presenting will become visible and manifest." 46 That is, "He knows why you are being thus falsely accused and what are the actual motives that are working behind all this struggle that is being made to frustrate and defeat you. "

سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :43 اس سوالیہ فقرے میں سخت ملامت کا انداز پایا جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ، کیا یہ لوگ اس قدر جری اور بے باک ہیں کہ تم جیسے شخص پر افترا ، اور وہ بھی افتراء علی اللہ جیسے گھناؤنے فعل کا الزام رکھتے ہوئے انہیں ذرا شرم نہیں آتی؟ یہ تم پر تہمت لگا تے ہیں کہ تم اس قرآن کو خود تصنیف کر کے جھوٹ موٹ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو؟ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :44 یعنی اتنے بڑے جھوٹ صرف وہی لوگ بولا کرتے ہیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے ۔ اگر اللہ چاہے تو تمہیں بھی ان میں شامل کر دے ۔ مگر اس کا یہ فضل ہے کہ اس نے تمہیں اس گروہ سے الگ رکھا ہے ۔ اس جواب میں ان لوگوں پر شدید طنز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام رکھ رہے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے نبی ، ان لوگوں نے تمہیں بھی اپنی قماش کا آدمی سمجھ لیا ہے ۔ جس طرح یہ خود اپنی اغراض کے لیے ہر بڑے سے بڑا جھوٹ بول جاتے ہیں ، انہوں نے خیال کیا کہ تم بھی اسی طرح اپنی دکان چمکانے کے لیے ایک جھوٹ گھڑ لائے ہو ۔ لیکن یہ اللہ کی عنایت ہے کہ اس نے تمہارے دل پر وہ مہر نہیں لگائی ہے جو ان کے دلوں پر لگا رکھی ہے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :45 یعنی یہ اللہ کی عادت ہے کہ وہ باطل کو کبھی پائیداری نہیں بخشتا اور آخر کار حق کو حق ہی کر کے دکھا دیتا ہے ۔ اس لیے اے نبی ، تم ان جھوٹے الزامات کی ذرہ برابر پروا نہ کرو ، اور اپنا کام کیے جاؤ ۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ سارا جھوٹ غبار کی طرح اڑ جائے گا اور جس چیز کو تم پیش کر رہے ہو اس کا حق ہونا عیاں ہو جائے گا ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :46 یعنی اس کو معلوم ہے کہ یہ الزامات تم پر کیوں لگائے جا رہے ہیں اور یہ ساری تگ و دود جو تمہیں زک دینے کے لیے کی جا رہی ہے اس کے پیچھے در حقیقت کیا اغراض اور کیا نیتیں کام کر رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: یعنی اگر (معاذاللہ) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے گھڑ کر یہ قرآن بنارہے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل پر مہر لگادیتا، جس کی وجہ سے آپ کو ایسا کلام پیش کرنے پر قدرت ہی نہ ہوتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے تو اس کی بات کو چلنے نہیں دیتے، اور باطل کو مٹادیتے ہیں، اس کے برعکس سچے نبی کے دعوے کو اپنے کلمات کے ذریعے ثابت فرماتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٤۔ ٢٩۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور قرآن کی باتوں کو پھیلاتا ہے اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اگر یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو مخالفوں کی جو ٹی باتوں کو اللہ تعالیٰ نہ مٹاتا بلکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر مہر لگا کر ان کے دل کو اس طرح بند کردیتا کہ جو باتیں اب وہ قرآن کے نام سے لوگوں کو سناتے ہیں ان میں سے ایک بات بھی ان کے دل میں پیدا ہو کر ان کی زبان پر نہ آتی کس لئے کہ جو باتیں انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہیں زبان پر آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں پھر فرمایا کہ اگر اب بھی یہ لوگ اپنی باتوں سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرکے ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کردیتا ہے پھر فرمایا کہ اس کو اپنے بندوں کے سب کام معلوم ہیں توبہ کی صورت میں اپنے علم کے موافق اسے پچھلے سب گناہوں کو معاف کردینا کچھ مشکل نہیں ہے اور توبہ کے بعد جو لوگ فرمانبردار بن کر نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کی ہر ایک التجا وہ سنتا ہے اور ان کی التجا سے بڑھ کر اپنے فضل سے ان کو دیتا ہے ہاں جو لوگ دین کی باتوں کے منکر ہیں اگر وہ بغیر توبہ کے مرجائیں گے ان کو عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا اور ویرزق مزیشاء جو فرمایا تھا اس کی تفسیر کے طور پر آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کا انجام خوب معلوم ہے اس لئے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرمایا ہے امیر غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کاج سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسے سے امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔ سورة الزخرف میں اس مطلب کو ذرا تفصیل سے بیان فرمایا ہے وہی تفصیل آیت ولوبسط اللہ الرزق کی گویا تفسیر ہے اب آگے مینہ کے برسنے کا آسمان و زمین اور آسمان و زمین کی مخلوقات کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائم کیا کہ جس صاحب قدرت نے پہلی دفعہ یہ سب کچھ پیدا کیا دوبارہ پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکا وہ دوسری دفعہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں لوگ جو کام کرتے ہیں وہی کام ان کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے اور حشر کے انکار کی سزا میں جو لوگ مشرکین مکہ میں اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے تھے ان کو اگرچہ ان آیتوں کی نصیحت کی طرح بہت سی آیتوں میں نصیحت کی گئی لیکن ان کے حق میں وہ نصیحت ایسی رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اور آخر وہ لوگ جس حالت پر تھے مرتے دم تک اسی حالت پر رہے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی قرار پائے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب کان امر اللہ قدرا مقدورا ص ٩٧٧ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب فضل من علم و علم ص ١٨ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(42:24) ام : ام منقطعہ بمعنی بل : ام یقولون۔ ای بل یقول کفار مکۃ (الخازن) (کفار مکہ معاوضہ رسالت تو داد نہیں کرتے) بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ :۔ (افتری علی اللہ کذبا) ۔ افتری : ماضی واھد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ ف ر ی مادہ الفری (باب نصر) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں ۔ افراء (افعال) بمعنی خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ اور باب افتعال سے ادتراء کا لفظ اصلاح اور فساد ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد ہی کے معنوں میں آتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ، شرک، ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ انظر کیف یفترون علی اللّٰہ الکذب (40:50) دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں۔ کذبا : جھوٹ۔ فان یشا اللّٰہ یختم علی قلبک۔ جملہ اول شرط اور جملہ ثانی جواب شرط ہے ۔ ان شرطیہ ہے۔ یشا مضارع واحد مذکر غائب۔ اصل میں یشاء تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یشاء ہوگیا۔ مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ وہ چاہتا ہے۔ وہ چاہے۔ یختم : مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیہ) واحد مذکر غائب وہ مہر لگاتا ہے وہ مہر لگا دے۔ اگر خدا چاہتا تو تیرے دل پر مہر لگا دیتا مطلب یہ ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مہر لگا دیتا ۔ پھر تجھے کچھ یاد نہ رہتا جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولو تقول علینا بعض الاقاویل ۔ لاخذنا منہ بالیمین ۔ ثم لقطعنا منہ الوتلین ۔ (69:44:46) اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے تو ہم ان کو داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ان کی رگ گردن کی کاٹ ڈالتے (ابن کثیر) ویمح اللّٰہ الباطل۔ یہ جملہ مستانفہ ہے جملہ سابقہ کا معطوف نہیں ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے محو (باب نصر) سے مصدر۔ اخیر میں واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم الخط کی موافقت کی وجہ سے ہے۔ جیسے سندع الزبانیۃ (96:18) ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے۔ یا یدع الانسان بالشر (17:11) اور انسان برائی کی دعا بھی (اسی تقاضہ سے) کرتا ہے ۔ میں واؤ نہیں ہے۔ ویحق الحق بکلمتہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور بین کردیتا ہے اپنے کلمات سے، یعنی دلائل بیان فرما کر یا حجت پیش کرکے۔ ذات الصدور : مضاف مضاف الیہ۔ سینوں کی۔ ذات مؤنث ہے ذو کی بمعنی والی۔ صاحب ۔ صدور جمع ہے صدر کی سینہ۔ علیم : دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا اور قرآن خود تصنیف کر کے خدا کی طرف منسوب کردیا۔ 9 یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب کو مائوف کر دے اور اب تک اتارا ہوا سارا قرآن سلب کرلے، مطلب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام قطعی غلط ہے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا پر ادنیٰ سا بہتان بھی باندھتے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز پنپنے نہ دیتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوری طرح انتقام لیتا۔ ( نیز دیکھئے الحاقہ : 44، 47) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے۔ دل کو بند کر دے مضمون نہ آوے “۔ 10 یعنی اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ وہ باطل کو پائیداری نہیں بخشتا اور آخر کار اپنے کلام ہی کے ذریعہ ( یعنی قرآن اتار کر) حق ہی کو غالب کر کے چھوڑے گا، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کافروں کے جھوٹے الزامات کی ہرگز پروا نہ کریں اور اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اور چاہے تو کفر کو مٹا دے بن پیغام بھیجے۔ مگر وہ اپنی باتوں سے دین ثابت کرتا ہے اس اسطے نبی پر کلام بھیجتا ہے “ اس صورت میں ( ویمح اللہ الباطل) کا عطف یختم پر ہوگا اور پہلی صور میں (قلبک) پر کلام تمام ہوگا اور ( ویمح الباطل) جملہ مستانفہ ( کذافی القرطبی) 11 یعنی وہ جانتا ہے کہ جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام لگا رہے ہیں وہ کن فاسد ارادوں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ الزام لگا رہے ہیں ان کی سزا یقینا انہیں مل کر رہے گی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا) تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہوئے طرح طرح کے بےت کے اعتراضات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ قرآن آپ نے ( نعوذ باللہ) خود ہی گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام کہنا شروع کردیا ہے۔ کفار و مشرکین کے اس اعتراض کو قرآن کریم کے کئی مقامات پر نقل کر کے اللہ نے اس کا ایک ہی جواب دیا ہے کہ یہ کلام صرف اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس جگہ ان کی بےتکی باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی کا مقام اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اس سے اس بات کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کلام کو خود گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام قرار دیدے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ آپ ایسا کرتے تو اس وقت اللہ کی مشیت آپ کے دل پر ایک ایسی مہر لگا دیتی کہ آپ کی زبان پر وہ کلام جاری ہی نہ ہوتا کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کو مٹا کر رہتا ہے۔ اگر آپ نے اس کلام کو خود گھڑ لیا ہوتا تو اللہ اس کلام کو مٹا کر چھوڑتا کیونکہ وہ ہر بات کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔ وہ ہر شخص کی دلی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے اس سے کوئی بات اور کوئی دلی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ یہ کفار و مشرکین آپ پر چھوٹے اور بےبنیاد الزامات کیوں لگا رہے ہیں ۔ در حقیقت یہ مخالفانہ آواز ان کے دل کی آواز نہیں ہے بلکہ محض ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن کریم کے مخالف بن کر ایسی حرکتیں کر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ اس سے پہلے کا اللہ کا فیصلہ آجائے وہ تمام منکرین و مشرکین اللہ سے سچی توبہ کرلیں ۔ موت کے فرشتے سامنے آنے سے پہلے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اگر انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ نہ صرف ان کی توبہ کو قبول کرلے گا بلکہ ان کو دنیا اور آخرت میں وہ بہت کچھ دے گا جس کا وہ اس دنیا کی زندگی میں تصور بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس کائنات میں بھی ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے جس کو جتنا رزق دینا چاہتا ہے وہ دیتا ہے ۔ سخت مایوسی کے بعد جتنی بارش برسانا چاہتا ہے برساتا ہے وہ ہر شخص کو اس کے ظرف کے مطابق دیتا ہے۔ اگر وہ کم ظرفوں کو خوب رزق دیتا چلا جائے تو ظالم اور کم ظرف لوگ دنیا میں دوسروں کا جینا حرام کردیں گے اور ہر طرف فساد اور تباہی مچا کر رکھ دیں گے لہٰذا وہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو ایک اندازے کے مطابق عطاء کرتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ ہوس اور دولت کا لالچ تو لگا ہوا ہے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے چاروں طرف دولت کے ڈھیر اور راحت و آرام کے سارے وسائل جمع ہوجائیں لیکن اللہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو کم یا زیادہ عطاء کرتا ہے۔ حضرت خباب ابن الارت (رض) سے روایت ہے کہ جب ہم نے بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع کے مال و دولت کو دیکھا تو ہمارے دلوں میں بھی مال و دولت کی تمنا پیدا ہوئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( امام بغوی) حضرت عمرو ابن حریث (رض) فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ ( جو انتہائی فقر و فاقہ اور غربت کی زندگی گزار رہے تھے) انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی مال و دولت عطاء کر دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( روح المعانی) جس میں صحابہ کرام (رض) کے ذہنوں کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ہر شخص کو اللہ اپنے فضل و کرم سے جتنا دینا چاہتا ہے دیتا ہے ، مایوسی کے بعد وہ جتنا پانی برسانا چاہتا ہے برساتا ہے۔ اس نے اپنی لاکھوں مخلوقات کو کائنات میں پھیلا رکھا ہے جن کی ہر ضرورت کو وہ پورا کرتا ہے وہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن وہ جب بھی چاہے گا ان کو جمع کرلے گا یہ اس کی قدرت سے باہر نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان میں اس کے خالق میں فرق یہ ہے کہ ہر انسان اپنی معلومات اور ضروریات کے محدود دائرے میں رہ کر فیصلے کرتا ہے لیکن اللہ کے سامنے ساری مخلوقات کی مصلحتیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر آدمی کائنات کے انقلابات کی مصلحتوں تک کو نہیں سمجھتا لیکن اللہ ہر بات اور ہر چیز کی مصلحت سے واقف ہے اور فیصلے کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں ظالموں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر ہوا۔ اب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ باطل کو مٹائے گا اور حق کو حق ثابت کر دکھائے گا۔ وہ جانتا ہے کون حق کو قبول کرتا ہے اور کون اس کا انکار کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے سینے کے راز جانتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کفار اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت سے پہلے بھی نہ کسی کے ساتھ غلط بیانی کی اور نہ ہی کسی معاملے میں آپ سے کوئی خیانت سرزد ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبل از نبوت بھی ہر قسم کے عیب سے پاک رکھا۔ جس کا اہل مکہ برملا اعتراف کرتے تھے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے باوجود کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر الز ام لگاتے کہ آپ قرآن اور نبوت کے نام پر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ جس کی تردید کرتے ہوئے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کفار کے الزام کا یوں جواب دیتا ہے۔ کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ پر جھوٹ بولتے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر گمراہی کی مہر لگا دیتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا بہت بڑا ظلم ہے۔ جس کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست یہ الفاظ کہے گئے ہیں کہ اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے۔ اس ارشاد سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود ہی نہیں بلکہ دل بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا اور یہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ تمام انسانوں کے قلوب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس طرح چاہتا ہے لوگوں کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ اسی عقیدہ کی بنیاد پر آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو ہدایت پر قائم فرما ! یہاں یہ حقیقت بھی بتلائی ہے کہ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی قرآن مجید میں کمی بیشی کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی سزا دیتا۔ جس کے نتیجہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر مہر لگا دی جاتی۔ کسی کے دل پر گمراہی کی مہرلگنا سب سے بڑی سزا ہے۔ کیونکہ یہ رب ذوالجلال کی ناراضگی کی انتہا ہے۔ اسی لیے تو کفار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عظیم عذاب ہے۔ “ (البقرۃ : ٧) اس لیے ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ باطل کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ جب باطل اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے اور حق کو حق ثابت کردکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز تک جاننے والا ہے۔ (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لاََخَذْنَا مِنْہُ بالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ ) [ الحاقۃ : ٤٤ تا ٤٦] ” اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات بنا دیتے تو ہم ان کے دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔ “ مسائل ١۔ اگر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید میں ترمیم و اضافہ کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل پر مہر لگا دیتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ بالآخر باطل کو مٹا کر حق کو حق کردکھاتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جاننے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا کر حق کو حق ثابت کردیتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو غرقاب کرکے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو حق کر دکھایا۔ (ھود : ٤٨) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچا کر حق کو حق کر دکھایا۔ (الانبیاء : ٦٩، ٧٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو گروں کے مقابلے میں کامیاب فرما کر حق کو حق کردکھایا۔ (یونس : ٨٢) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے موقعہ پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بچا کر حق کو بلند کر فرمایا۔ ( التوبۃ : ٤٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٢٤ اب یہاں مشرکین کے آخری اعتراض کو لیا جاتا ہے۔ وحی کے بارے میں ان کا جو رویہ تھا اس پر یہ ان کی آخری دلیل تھی ، اس سے قبل وحی کے مصدر اور سرچشمہ ، وحی کے مزاج و ماہیت اور وحی کے اغراض و مقاصد کے مفصل بیان کے بعد اب یہ ان کا آخری سوال ہے۔ ام یقولون افتری علی اللہ کذباً (٤٢ : ٣٤) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے “۔ اور اصل وجہ یہ ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق نہیں کرتے ۔ کیونکہ ان کا زعم یہ ہے کہ یہ وحی نہیں ہے ، اللہ کی طرف سے کوئی بات نہیں آرہی۔ یہ سوال اس لیے پردرد ہے کہ اللہ کس طرح ایسے شخص کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اللہ کی مملکت میں اللہ کے نام پر یہ فریب کرتا پھرے۔ اور یہ کہے کہ اس پر وحی آرہی ہے حالانکہ اس پر وحی نہ آرہی ہو۔ اللہ تو اس بات پر قادر ہے کہ ایسے کسی شخص کے دل پر مہر لگادے اور وہ سرے سے کوئی بات ہی نہ کرسکے اور کسی اور ذریعہ سے اس باطل کا پول کھول دے۔ اور اس طرح اسے مٹا دے اور اصل بات کو واضح کر کے رکھ دے۔ فان یشا اللہ یختم ۔۔۔۔ الحق بکلمتہ (٤٢ : ٢٤) ” اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے۔ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے “۔ اللہ پر تو کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں آتی ہے۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ باتیں نہ ہوتیں تو اللہ مٹا دیتا۔ انہ علیم بذات الصدور (٤٢ : ٢٤) ” بیشک وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ لہٰذا یہ ایک ایسا شبہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو اللہ کے علم کے خلاف ہے۔ اللہ کی قدرت کو یہ چیلنچ ہے اور یہ اللہ کی سنت جاریہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ زمین میں حق کو ٹھہراتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ لہٰذا یہ وحی برحق ہے۔ حضرت محمد صادق و امین ہیں اور جو اعتراضات و الزامات لگائے جاتے ہیں وہ غلط اور باطل ہیں۔ یوں وحی پر یہاں وقتی طور پر بات ختم ہوتی ہے۔ اور ایک دوسرا سبق شروع ہوتا ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن کو افتراء علی اللہ بتانے والوں کی تردید چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا ﴿اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ١ۚ﴾ (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے) یہ استفہام تقریری ہے یعنی یہ لوگ ایسا کہتے ہیں، اس کے جواب میں فرمایا ﴿فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ ١ؕ﴾ (سو اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے) یعنی آپ کو قرآن بھلا دے۔ لیکن وہ آپ پر برابر قرآن نازل فرما رہا ہے جو رحمتیں ابتدائے نبوت سے جاری تھیں وہ اب بھی جاری ہیں لہٰذا ان لوگوں کے قول سے رنجیدہ نہ ہوں آپ پر برابر وحی آتی رہنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے۔ ﴿وَ يَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ ﴾ (اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا دیتا ہے) لہٰذا وہ ان کی باتوں کو مٹا دے گا ﴿وَ يُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ١ؕ﴾ اور وہ حق کو اپنے کلمات کے ذریعے غالب کردیتا ہے) لہٰذا وہ اپنے دین حق کو کلمات کے ذریعہ ثابت فرما دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ٠٠٢٤﴾ (بلاشبہ اللہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے) اگر کسی نے کوئی اچھی یا بری بات سینہ میں چھپا کر رکھی تو اللہ تعالیٰ اس کی جزا و سزا دیدے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے مشرکین ازراہ عناد و مکابرہ کا الزام لگاتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا پر افتراء کرتا ہے یعنی اس کا یہ کہنا کہ خدا نے مجھے اس بات کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو یہ خدا پر افتراء ہے۔ ” فان یشا اللہ الخ “ یہ جواب شکوی ہے اور آپ کے مفتری ہونے کا رد ہے۔ اللہ پر افتراء وہی کرسکتا ہے جس کے دل پر مہر ثبت ہو یعنی وہ نور بصیرت اور معرفت الٰہیہ سے بےبہرہ ہو اور آپ نے جو دعوت پیش کی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو مت پکارو، یہ سراسر عقل کے مطابق اور انبیاء سابقین کی تعلیمات کے عین موافق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتا اور آپ افتراء کرتے تو آپ کی زبان سے ایسی باتیں ہرگز نہ نکلتیں جو عقل و نقل کے عین مطابق ہوں اور جن سے توحید کے بارے میں مشرکین کے شبہات (کتب سابقہ سے غیر اللہ کی پکار جواز معلوم ہوتا ہے) زائل ہوتے ہوں۔ جملۃ معترضۃ ا ردت استبعادا للافتراء عن مثلہ بالشعار علی انہ لا یجتری علیہ الا من کان مختوما علی علی قلبہ جاھلا بربہ، فاما من کا ذا بصیرۃ ومعرفۃ بربہ فلا، وکانہ قال ان یشا اللہ خذ لانک یختمر علی قلبک لتجتری بالافتراء علیہ (مظہری ج ص 321) ۔ 25:۔ ” ویمح اللہ الباطل “۔ یہ استیناف ہے اور جزا پر معطوف نہیں، اصل میں یمحو تھا کتابت میں واؤ ساقط ہے جیسا کہ ” ویدع الانسان “ میں ساقط ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو دعوت پیش کی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارو۔ یہ افتراء نہیں، بلکہ سراپا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے سے شرک کو اور توحید پر کیے گئے شبہات کو (مثلاً یہ کہ ہمیں پہلے لوگوں کی تحریروں سے غیر اللہ کی پکار کا جواز ملتا ہے) مٹاتا اور توحید کو ثابت اور واضح کرتا ہے اور وہ دل کی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے، توحید کے بارے میں مشرکین کے وہ شبہات جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں، قرآن میں ان کا بھی ازالہ کردیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) یہ دین حق کے منکریوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا کیا ہے سو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگادے اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے احکام اور اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بلا شبہ وہ سینوں کی چھپی ہوئی باتوں کو جانتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے دل کو بند کردے مضمون نہ آنے دے جس کو باندھے اور یوں ہی چاہے تو کفر کو مٹادے بن پیغام بھیجے مگر وہ اپنی باتوں سے دین کو ثابت کرتا ہے اس واسطے نبی پر کلام بھیجتا ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کاذب کی مدد نہیں کیا کرتا اور جھوٹے مدعی نبوت کی بات کو چلنے نہیں دیتا اگر معاذ اللہ یہ نبی مفتری ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ آپ کے قلب پر مہر لگا کر آپ کے دل کو بیکار کردے اور جب دل ہی بند ہوگیا تو پھر آپ کی بات کیسے بڑھ سکتی ہے دماغ میں افترا پردازی کی صلاحیت ہی باقی نہ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا اور حق کو ثابت کرتا ہے اپنے کلمات یعنی احکامات اور اپنی باتوں سے بہر حال جب ایسا ہے تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کسی افتراء پرداز کو اتنا موقعہ دیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراپردازی کرتا رہے اور چونکہ یہ افتراپرداز نہیں ہے بلکہ ہم اس پر جو وحی نازل کرتے ہیں وہی یہ بیان کرتا ہے اس لئے اس کو موقعہ دیا جاتا ہے بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے اور چونکہ سینوں کے پوشیدہ احوال کو جانتے ہیں اس لئے جس غرض سے تم افتراپرداز کہتے ہو وہ بھی ہم جانتے ہیں اور اس کی صداقت اور سچائی کو بھی جانتے ہیں۔ ہم نے یمحو اور یحق کی تفسیر میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب (رح) اور مولانا شاہ رفیع الدین صاحب (رح) کے ترجمہ کی رعایت رکھ کر حال سے ترجمہ کیا ہے اگرچہ صاحب کشاف حال اور استقبال دونوں کے قائل ہیں اگر استقبال کے معنی لئے جائیں تو یہ کلام پیشین گوئی ہوگا جو پیشین گوئی پوری ہوئی باطل مٹا دیا گیا اور حق ثابت کردیا گیا۔ والحمد للہ علی ذلک۔