1. It means that the miraculous Qur&an recited by the unlettered Prophet is in itself a clear proof of its being revealed by Allah Ta’ ala. Allah&s practice is such that if a person falsely claims to be a prophet, He does not let him show any miracle. Therefore, had there been, God forbid, something forged by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the Qur&an, Allah would have put a seal on his heart, and he would have never been able to come up with such a miraculous discourse. Commentary The first verse conveys Allah Almighty&s reply to those who held the prophethood and messenger-ship of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to be false, the Qur&an to be wrong and forged. The reply is based on a divine rule that miracles or events occurring against normal course which cannot be performed by ordinary human beings are created and shown through prophets, by Allah Almighty&s Grace, to prove their prophethood, without any discretion of the prophets themselves. Although some magicians also do perform such magical tricks, but obviously neither the prophets nor the magicians can perform any of these things without Allah Almighty&s intent and scheme. He allows the magicians to perform their tricks as a measure of test and trial. However, to differentiate between magic and miracle and between a magician and a prophet, the rule devised by Him is that no false claimant of prophethood can perform any magical trick successfully; magical tricks can be performed successfully by one until he claims prophethood, but the magic vanishes as soon as one lays a false claim of prophethood. When Allah Ta’ ala bestows prophethood and messenger-ship on anyone, He also favours him with miracles and makes those miracles highly visible. Thus He provides physical and decreed proof of his prophethood. And He also confirms him in His Divine Book. In view of this rule, it should be understood that the Noble Qur&an is such a miracle that all the humans and all the jins of this world are unable to produce even one verse comparable to the verse of the Qur&an. Their inability to do so was proved in the days of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and continues till today. Such an open and obvious miracle cannot be accomplished by a false claimant of prophethood. The Holy Prophet&s claim to ` wahy& and messenger-ship is, therefore, correct and true, and those who hold it to be incorrect and forged are misguided calumniators.
خلاصہ تفسیر کیا یہ لوگ (آپ کی نسبت نعوذ باللہ) یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے (کہ نبوت اور وحی کا خلاف واقع دعویٰ کیا ہے) سو (ان کا یہ قول خود افترا ہے، اس لئے کہ آپ کی زبان حق ترجمان سے اللہ کا یہ معجز کلام جاری ہو رہا ہے جو سچے نبی کے سوا کسی کی زبان پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اگر معاذ اللہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں سچے نہ ہوتے تو اللہ یہ کلام آپ پر جاری نہیں کرسکتا تھا، چنانچہ) خدا (کو یہ قدرت حاصل ہے کہ) اگر (وہ) چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے (اور یہ کلام آپ کے قلب پر نہ القا ہو، نہ باقی رہے، بلکہ سلب ہوجائے، اور آپ بالکل بھول جائیں، اور اس صورت میں ظاہر ہے کہ زبان سے اس کا صدور ہو ہی نہیں سکتا) اور اللہ تعالیٰ (کی یہ عادت ہے کہ وہ نبوت کے) باطل (دعوے) کو مٹایا کرتا ہے (چلنے نہیں دیتا، یعنی ایسے جھوٹے مدعی کے ہاتھ پر معجزات ظاہر نہیں ہوتے) اور (نبوت کے) حق (دعوائے) کو اپنے احکام سے ثابت (اور غالب) کیا کرتا ہے (پس آپ صادق اور وہ کاذب ہیں اور چونکہ) وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) دلوں (تک) کی باتیں جانتا ہے (چہ جائیکہ زبان کے اقوال اور جوارح کے افعال، پس اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے عقائد، اقوال اور اعمال سب کی خبر ہے، ان سب پر خوب سزا دے گا، ہاں جو لوگ اپنے کفر اور بداعمالیوں سے توبہ کرلیں انہیں معاف کر دے گا، کیونکہ یہ اس کا قانون ہے) اور وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ (بشرائطہا) قبول کرتا ہے اور وہ (اس توبہ کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس (سب) کو جانتا ہے (پس اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص) اور (جب کوئی شخص کفر سے توبہ کر کے مسلمان ہوگیا تو اس کی جو عبادتیں پہلے قبول نہ ہوتی تھیں، اب قبول ہونے لگیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کی عبادت (بشرطیکہ ریاء کے لئے نہ ہو) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے (وہ عبادتیں یہی نیک عمل ہیں اور ان کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب دیتا ہے) اور (علاوہ اس ثواب کے جو فی نفسہ اس عمل کا مقتضا ہے) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے (یہ تو ایمان والوں کے لئے ہوا) اور جو لوگ کفر (پر اصرار) کر رہے ہیں (اور ایمان نہیں لائے) ان کے لئے سخت عذاب (مقرر) ہے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت اور قرآن کو غلط اور خدائے تعالیٰ پر افتراء کہنے والوں کو اپنا ایک عام ضابطہ بتلا کر جواب دیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے کام جو عادتاً انسان نہیں کرسکتے، جن کو خرق عادت یا معجزہ کہا جاتا ہے، اگرچہ بعض ساحر جادوگر بھی اپنے سحر سے ایسے کام کردکھاتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی بغیر اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت کے کچھ نہیں کرسکتا۔ حق تعالیٰ ہی اپنے فضل سے انبیاء کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ان کو معجزات عطا فرماتے ہیں۔ جن میں پیغمبر کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اسی طرح جادوگروں کا جادو بھی اپنی حکمت امتحان و آزمائش کی بنا پر چلنے دیتے ہیں۔ مگر سحر اور معجزہ میں فرق اور نبی اور ساحر میں امتیاز کے لئے اس نے یہ ضابطہ جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ جھوٹا کرے، اس کے ہاتھ سے کوئی سحر یا جادو کامیاب نہیں ہوتا۔ جب تک کہ وہ مدعی نبوت نہ ہو سحر چلتا ہے۔ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد اس کا سحر اللہ تعالیٰ نہیں چلنے دیتے۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت عطا فرماتے ہیں۔ ان کو معجزات بھی عطا فرماتے ہیں۔ اور ان کے معجزات کا صدور روشن کرتے ہیں۔ اس طرح تکوینی اور تقدیری طور پر ان کی نبوت کو ثابت کردیتے ہیں۔ دوسرے اپنے کلام کی آیات میں ان کی تصدیق نازل فرما دیتے ہیں۔ جب یہ ضابطہ معلوم ہوگیا تو اب یہ سمجھو کہ قرآن کریم ایک معجزہ ہے کہ تمام دنیا کے جن و بشر اس کی ایک آیت کی مثال بنانے سے عاجز ہیں جن کا عجز زمانہ نبوت میں ثابت ہوچکا اور آج تک ثابت ہے۔ ایسا کھلا ہوا معجزہ کسی جھوٹے مدعی نبوت سے حسب ضابطہ مذکورہ صادر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ کا دعویٰ وحی رسالت صحیح اور حق ہے، اس کو غلط اور افترا کہنے والے گمراہ مفتری ہیں۔