Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 14

سورة الدخان

ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴﴾

Then they turned away from him and said, "[He was] taught [and is] a madman."

پھر بھی انہوں نے ان سے منہ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤلا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them. Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!" meaning, `what further admonition do they need when We have sent them a Messenger with a clear Message and warning? Yet despite that, they turned away from him, opposed him and rejected him, and they said: (He is) one taught (by a human being), a madman.' This is like the Ayah: يَوْمَيِذٍ يَتَذَكَّرُ الاِنسَـنُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى On that Day will man remember, but how will that remembrance (then) avail him? (89:23) وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُواْ فَلَ فَوْتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ وَقَالُواْ ءَامَنَّا بِهِ وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِ بَعِيدٍ And if you could but see, when they will be terrified with no escape, and they will be seized from a near place. And they will say (in the Hereafter): "We do believe (now);" but how could they receive (faith and its acceptance by Allah) from a place so far off... (34:51-52) إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلً إِنَّكُمْ عَايِدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۝ ١٤ ۘ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛ وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ہمیں خدا کی طرف ست جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] اور اس نے ادم کو سب چیزوں کے نام سکھائے ۔ میں آدم (علیہ السلام) کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعدادرکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک نام وضع کرلیا یعنی اس کے دل میں القا کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو ان کے کام سکھا دیئے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیٰ جُنون : حائل بين النفس والعقل، وجُنَّ فلان قيل : أصابه الجن، وبني فعله کبناء الأدواء نحو : زکم ولقي «1» وحمّ ، وقیل : أصيب جنانه، وقیل : حيل بين نفسه وعقله، فجن عقله بذلک وقوله تعالی: مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] ، أي : ضامّة من يعلمه من الجن، وکذلک قوله تعالی: أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] جنون ( ایضا ) جنوں ۔ دیونگی ۔ قرآن میں سے : ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] کہ ان کے رفیق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی طرح کا بھی ) جنون ۔۔ نہیں ہے ۔ اور دیوانگی کو جنون اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کے دل اور عقل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ۔ جن فلان ۔ اسے جن لگ گیا ۔ امراض کے معانی میں دوسرے افعال کی طرح یہ بھی فعل مجہول ہی استعمال ہوتا ہے جیسے زکم ( اسے زکام ہوگیا ) لقی ( اے لقوہ ہوگیا ) حم ( اے بخار ہوگیا ) وغیرہ ۔ بعض نے کہا ہے جن فلان کے معنی ہیں ۔ اس کے قلب کو عارضہ ہوگیا اور بعض نے کہا کہ دیوانگی نے اس کی عقل کو چھپالیا اور آیت کریمہ :۔ مُعَلَّمٌ مَجْنُونٌ [ الدخان/ 14] کے معنی ہیں کہ اسے وہ جن چمٹا ہوا ہے جو اسے تعلیم دیتا ہے اور یہی معنی آیت :۔ أَإِنَّا لَتارِكُوا آلِهَتِنا لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] کو بھلاک ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ۔ میں شاعر مجنون کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تب بھی یہ لوگ ان پر ایمان نہیں لاتے اور یہی کہتے ہیں کہ معاذ اللہ جبر و یسار کا سکھایا ہوا دیوانہ ہے ہم اس بھوک کے عذاب کو غزوہ بدر تک کے لیے ان سے ہٹادیں گے مگر اے مکہ والو تم پھر اپنی نافرمنی کی اصلی حالت پر آجاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّـمٌ مَّجْنُوْنٌ} ” پھر انہوں نے منہ پھیرلیا اس کی طرف سے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا ہوا مجنون ہے۔ “ معاذ اللہ ! نقل کفر کفر نباشد ! وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ان کو یہ باتیں کسی اور نے سکھائی ہیں اور کبھی کہتے کہ ان پر آسیب اور ِجنات ّوغیرہ کا اثر ہوگیا ہے اور ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ معاذ اللہ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 What they meant was: "This was a simple man, some others have incited and deceived him: they secretly forge and teach him verses of the Qur'an, and he comes and recites them before the people: they sit back in peace and leave him alone to receive the abuses and be pelted with stones." They would make a mockery of aII the arguments, the admonitions and the serious teachings which the Holy Prophet had been presenting since several years and was growing weary. Neither they paid any attention to the rational things being expressed in the Qur'an .nor recognized the extraordinary character of the man who was presenting them, nor took any trouble to think what nonsense they were uttering when they imputed such things to the Holy prophet. Obviously, if there had been another person who gave .secret instruction to the Holy Prophet, he could not have remained hidden from Hadrat Khadijah and Abu Bakr, 'Ali and Zaid bin Harithah and other early Muslims, who were the closest and constant Companions of the Holy Prophet. Then, how it is that these very people only became his most devoted and dedicated followers, whereas if the business of prophethood had depended on the secret instruction of sonic other person, these very people would have been in the forefront to oppose him (For further explanation, see An-Nahl: 103, AI-Furqan: 4-6 and the corresponding E.N.'s).

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :12 ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ بے چارہ تو سیدھا آدمی تھا ، کچھ دوسرے لوگوں نے اسے بَھروں پر چڑھا لیا ، وہ در پر وہ قرآن کی آیتیں گھڑ گھڑ کر اسے پڑھا دیتے ہیں ، یہ آ کر عام لوگوں کے سامنے انہیں پیش کر دیتا ہے ، وہ مزے سے بیٹھے رہتے ہیں ، اور یہ گالیاں اور پتھر کھاتا ہے ۔ اس طرح ایک چلتا ہوا فقرہ کہہ کر وہ ان ساری دلیلوں اور نصیحتوں اور سنجیدہ تعلیمات کو اڑا دیتے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برسوں سے ان کے سامنے پیش کر کر کے تھکے جا رہے تھے ۔ وہ نہ ان معقول باتوں پر کوئی توجہ کرتے تھے جو قرآن مجید میں بیان کی جا رہی تھیں ۔ نہ یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص یہ باتیں پیش کر رہا ہے وہ کس پائے کا آدمی ہے ۔ اور نہ یہ الزام رکھتے وقت ہی وہ کچھ سوچنے کی زحمت گوارا کرتے تھے کہ ہم یہ کیا بکواس کر رہے ہیں ۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص در پردہ بیٹھ کر سکھانے پڑھانے والا ہوتا تو وہ حضرت خدیجہ اور ابوبکر اور علی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم اور دوسرے ابتدائی مسلمانوں سے آخر کیسے چھپ جاتا جن سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور ہر وقت کا ساتھی کوئی نہ تھا ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہی لوگ سب سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرویدہ اور عقیدت مند تھے ، حالانکہ درپردہ کسی دوسرے شخص کے سکھانے پڑھانے سے نبوت کا کاروبار چلایا گیا ہوتا تو یہی لوگ آپ کی مخالفت میں سب سے پیش پیش ہوتے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حاشیہ ۱۰۷ ، جلد سوم ، الفرقان ، حاشیہ ۱۲ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:14) ثم تولوا عنہ : ثم تراضی وقت کے لئے ہے (پھر) اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر جاء ہم پر ہے۔ تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ انہوں نے پشت پھیری۔ انہوں نے منہ موڑا۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے کسی کام کا اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ مثلا ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے اور والذی تولی کبرہ منہم لہ عذاب عظیم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔ اور فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) (اے منافقواً تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو۔ اور جب عن کے ساتھ متعدی ہوتا ہے تو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیر نے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ آیت زیر نظر میں ہے۔ وقالوا معکم مجنون : اس کے مندرجہ ذیل دو معنی ہوسکتے ہیں :۔ (1) وقالوا تارۃ معکم وتارۃ مجنون : کبھی معلم کہتے ہیں کہ اس کو رومی غلام تعلیم دیتا ہے یا بتاتا ہے اور کبھی مجنون کہتے ہیں۔ معلم اسم مفعول واحد مذکر تعلیم (تفعیل) مصدر سکھایا ہوا۔ (2) وقالوا بعضھم معلم وبعضھم مجنون : بعض اسے معلم کہتے ہیں کہ اسے کوئی دوسرا بتاتا ہے اور بعض اسے مجنون کہتے ہیں

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) پھر انہوں نے اس رسول سے روگردانی کی اور سرتابی کرتے رہے اور کہنے لگے یہ کسی بشر کا سکھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے۔ یعنی ایسے واضح الشان رسول سے سرتابی کرتے رہے اور اس وہ الزام لگائے ایک تو یہ کسی بشر نے اس کو سکھا دیا ہے اور دوسرا الزام یہ کہ یہ دیوانہ اور پاگل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دھوئیں کا مذکور ہے کہ اس وقت سمجھنا کام نہیں آتا قیامت میں دھواں گھیرلے گا نیک آدمیوں کو زکام سا ہوگا اور بد کو سر میں چڑھے گا بےہوش ہوکر گرپڑے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا مبنی غالباً حضرت علی کرم الہ وجہہ کا قول ہے۔