Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 21

سورة الدخان

وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾

But if you do not believe me, then leave me alone."

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

But if you believe me not, then keep away from me and leave me alone. means, `then let us leave one another alone and live in peace until Allah judges between us.' After Musa, may Allah be pleased with him, had stayed among them for a long time, and the proof of Allah had been established against them, and that only increased them in disbelief and stubbornness, he prayed to his Lord against them, a prayer which was answered. Allah says: وَقَالَ مُوسَى رَبَّنَأ إِنَّكَ ءاتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلّهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَلِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَ يُوْمِنُواْ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا ... And Musa said: "Our Lord! You have indeed bestowed on Fir`awn and his chiefs splendor and wealth in the life of this world, our Lord! That they may lead men astray from Your path. Our Lord! Destroy their wealth, and harden their hearts, so that they will not believe until they see the painful torment." Allah said: "Verily, the invocation of you both is accepted. So you both keep to the straight way."... (10:88-89) And Allah says here: فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَوُلاَء قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] یعنی اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور مجھے ایذا نہ پہنچاؤ۔ ورنہ تم کبھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ۔ مگر میری راہ نہ روکو اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے دو ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وان لم تومنوا لی فاعترلون : یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ۝ ٢١ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عزل الاعْتِزَالُ : تجنّب الشیء عمالة کانت أو براءة، أو غيرهما، بالبدن کان ذلک أو بالقلب، يقال : عَزَلْتُهُ ، واعْتَزَلْتُهُ ، وتَعَزَّلْتُهُ فَاعْتَزَلَ. قال تعالی: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] ( ع ز ل ) الا عتزال کے معنی ہیں کسی چیز سے کنارہ کش ہوجانا عام اس سے کہ وہ چیز کوئی پیشہ ہو یا کوئی بات وغیرہ ہو جس سے بری ہونے کا اعلان کیا جائے نیز وہ علیحدہ گی بذریعہ بدن کے ہو یا بذریعہ دل کے دنوں قسم کی علیحگی پر بولا جاتا ہے عزلتہ واعتزلتہ وتعزلتہ میں نے اس کو علیحہ فاعتزل چناچہ وہ علیحہ ہ ہوگیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ الكهف/ 16] اور جب تم نے ان مشرکوں سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ } ” اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو ! “ تمہاری سازشوں کے خلاف چونکہ میں نے اپنے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے اس لیے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو بھی میرے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے سے باز رہنا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

19 This was said at the time when, as against alI the Signs presented by the Prophet Moses, Pharaoh was still showing stubbornness, but was feeling upset and confounded at the realization that all classes of the Egyptian society were rapidly being influenced by those Signs. In that period first of all he made the speech before his full packed court as mentioned in vv. 51-53 of Surah Zukhruf above (see E,N.'s 45 to 49). Then, when he felt the ground slipping from under his feet, he made up his mind to kill Allah's Messenger. At that time the Prophet said the words as mentioned in Surah AI-Mu'min: 27 ; to the effect: "I have taken refuge in my Lord and your Lord against every arrogant person who does not believe in the Day of Reckoning." Here, the Prophet Moses is referring to that same thing and telling Pharaoh and his chiefs: "Look, I have sought Allah's refuge against aII sorts of violence from you : now you cannot harm me: but if you wish yourselves well, do not harm me. If you do not want to believe what I say, you may not, but you should never lay your hands on me, otherwise you will meet with catastrophic consequences" .

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :19 یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت موسٰی کی پیش کردہ ساری نشانیوں کے مقابلے میں فرعون اپنی ہٹ پر اڑا ہوا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ان نشانیوں سے مصر کے عوام اور خواص روز بروز متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ، اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے ۔ اس زمانے میں پہلے تو اس نے بھرے دربار میں وہ تقریر کی جو سورہ زخرف ، آیات 51 ۔ 53 میں گزر چکی ہے ( ملاحظہ ہو حواشی سورہ زخرف 45 تا 49 ) پھر زمین پاؤں تلے سے نکلتی دیکھ کر آخر کار وہ اللہ کے رسول کو قتل کردینے پر آمادہ ہو گیا ۔ اس وقت آنجناب نے وہ بات کہی جو سورہ مومن ، آیت27 میں گزر چکی ہے کہ اِنّی عذتُ بِربّی ورَبکُم مِن کُل مُتکبرٍ لّا یؤمنُ بیوم الحساب ۔ میں نے پناہ لی اپنے رب کی ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا ۔ یہاں حضرت موسیٰ اپنی اسی بات کا حوالہ دے کر فرعون اور اس کے اعیان سلطان سے فرما رہے ہیں کہ دیکھو ، میں تمہارے سارے حملوں کے مقابلہ میں اللہ رب العالمین سے پناہ مانگ چکا ہوں ۔ اب تم میرا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن اگر تم خود اپنی خیر چاہتے ہو تو مجھ پر حملہ آور ہونے سے باز رہو ، میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو ۔ مجھ پر ہاتھ ہرگز نہ ڈالنا ، ورنہ اس کا بہت برا انجام دیکھو گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: یعنی اگر میری دعوت پر ایمان نہ لاؤ تو کم سے کم مجھے چھوڑ دو کہ میں حق کا پیغام ان لوگوں کو پیش کروں جو ماننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور مجھے تکلیف پہنچانے اور میرے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:21) ان لم تؤمنوا الی : ان شرطیہ۔ لم یؤمنوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو۔ جملہ شرط فاعتزلون۔ جملہ جواب شرط ف جواب شرط کے لئے۔ اعتزلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اعتزال (افتعال) مصدر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف تم مجھ سے الگ ہوجاؤ۔ یعنی اگر تمہارا مجھ پر ایمان نہیں ہے تو تم دور ہٹ جاؤ۔ میرا راہ نہ روکو۔ تاکہ میں اپنی قوم کو لے جاؤں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ورنہ تبا ہوجائو گے کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تم مجھ سے الگ ہی ہوجائو۔ یعنی مجھے ایذانہ پہنچائو اور میرا راستہ نہ روکو اور میرے کام میں دخل نہ دو ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کو لے جائوں تم راہ نہ روکو۔ باوجود اس کہنے کہ فرعون کی قوم اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئی تب حضرت موسیٰ نے جناب باری میں عرض کیا۔