Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 24

سورة الدخان

وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾

And leave the sea in stillness. Indeed, they are an army to be drowned."

تُو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا بلاشبہ یہ لشکر غرق کر دیا جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And leave the sea as it is (quiet and divided). Verily, they are a host to be drowned. When Musa and the Children of Israel has crossed the sea, Musa wanted to strike it with his staff so that it would go back as it had been, and it would form a barrier between then and Fir`awn and prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and that he should not fear either being overtaken by Fir`awn or drowning in the sea. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said: وَاتْرُكْ الْبَحْرَ رَهْوًا (And leave the sea as it is (quiet and divided). means, leave it as it is and keep moving. Mujahid said: رَهْوًا (as it is), means, a dry path, as it is. `Do not command it to go back; leave it until the last of them have entered it.' This was also the view of Ikrimah, Ar-Rabi` bin Anas, Ad-Dahhak, Qatadah, Ibn Zayd, Ka`b Al-Ahbar, Simak bin Harb and others. كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 رَھْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] سمندرکو کھڑے کا کھڑا چھوڑنے کی ہدایت اور فرعون کی غرقابی :۔ اس مقام پر جستہ جستہ واقعات کی طرف اشارے ہی کئے گئے ہیں۔ جب سیدناموسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سمندر سے پار اتر چکے تو انہوں نے دیکھا کہ فرعون اور اس کا عظیم لشکر ان کے تعاقب میں سمندر کے دوسرے ساحل پر پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ سمندر کے پانی پر پھر اپنا عصا ماریں تاکہ سمندر کا پانی پھر سے رواں ہوجائے۔ اور فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے دوسرے ساحل پر ہی کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور سمندر میں بنے ہوئے خشک راستے سے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا تعاقب نہ کرسکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی کہ ایسا مت کرو۔ قوم اور اس کے لشکر کو دریا میں داخل ہونے دو ۔ اسی سمندر میں ہی تو ہم نے ان لوگوں کو غرق کرنا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

واترک البحر رھواً …:” رھاء یرھو، رھواً “ (ن)” البحر “ سمندر کا ساکن ہونا۔” رھا الرجل رھوا “ جب آدمی دونوں ٹانگیں کھول لے اور انھیں الگ الگ کرلے۔ یہاں اس قصے کا وہ حصہ حذف کردیا ہے۔ جس میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے تو پیچھے سے فرعون بھی پہنچ گیا، بنی اسرائیل سخت خوف زدہ ہوگئے کہ اب دوبارہ پکڑے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار۔ انہوں نے ایسا کیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک بڑے پہاڑ کی شکل میں کھڑا ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل خیریت سے گزر گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا :(واثرک البحر رھواً )” اور سمندمر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے۔ “ دیکھیے سورة شعراء (٥٢ تا ٦٨) سمندر سے پار ہونے پر موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ سمندر کو اسی حلات میں ٹھہرا ہوا چھوڑ دیں کہ اس میں الگ الگ راستے کھلے ہوں، تعاقب کی فکر مت کریں، اس لشکر کو اسی سمندر میں غرق کیا جانا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَاتْرُ‌كِ الْبَحْرَ‌ رَ‌هْوًا |"And leave the sea in the state of stillness; (44:24) |" The word rahwan means &to be still/calm/motionless&. When Prophet Musa (علیہ السلام) and his companions crossed the sea, Musa ill naturally desired for the sea to go back to its original state. So he wanted to strike it with his staff so that it would form a barrier between them and Fir&aun to prevent him from reaching them. But Allah commanded him to leave it as it was, quiet and divided, and gave him the glad tidings that they were a host to be drowned, and he should not fear either being overtaken by Fir&aun or drowning in the sea. When Fir&aun, with his host, will reach the middle of the dry path, Allah will cause the water to flow and they will drown. (Ibn Kathir).

(آیت) وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا (اور دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا) ” رھو “ کے معنی ہیں ” ساکن ‘ دراصل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رفقاء کے پار ہوجانے کے بعد ان کی خواہش طبعی طور پر یہ ہونی چاہئے تھی کہ دریا دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آجائے تاکہ فرعون کا لشکر پار نہ ہو سکے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرما دی کہ خود پار ہونے کے بعد سمندر کو اس کی ہئیت پر ساکن ہی چھوڑ دینا اور دوبارہ پانی کے جاری ہونے کی فکر مت کرنا، تاکہ فرعون خشک راستہ بنا ہوا دیکھ کر دریا کے بیچوں بیچ پہنچ جائے، اس وقت ہم دریا کو جاری کردیں گے اور یہ لشکر ڈوب جائے گا۔ (ابن کثیر)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَہْوًا۝ ٠ ۭ اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ۝ ٢٤ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ رهو وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، أي : ساکنا، وقیل : سعة من الطّريق، وهو الصحیح، ومنه : الرَّهَاءُ للمفازة المستوية، ويقال لكلّ جوبة مستوية يجتمع فيها الماء رهو، ومنه قيل : «لا شفعة في رَهْوٍ»ونظر أعرابيّ إلى بعیر فالج فقال : رَهْوٌ بين سنامین ( ر ھ و ) الرھو ساکن ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا کو ساکن چھوڑ دے میں رھو کے معنی ساکن کے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس سے راستہ کی کشادگی مراد ہے اور یہی معنی صحیح ہیں اور اسی سے رھان ہے جس کے معنی ہمورا جنگل کے ہیں اور ہر وہ ہموار قطعہ زمین جہاں پانی جمع ہوتا ہو اسے رھم کہا جاتا ہے اسی سے ایک حدیث ہے «لا شفعة في رَهْوٍ»کہ پانی کی گذر گاہ کے مشترک ہونے سے حق شفع ثابت نہیں ہوتا ۔ ایک اعرابی نے ٹانگیں پھیلا کر کھڑے ہوئے اونٹ دیکھ کر کہا : ۔ کہ یہ دونوں بلندیوں کے درمیان رھوا یعنی کشادگی ہے ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تم اس دریا کو چوڑا رستہ بنا ہوا اسی حالت پر چھوڑ دینا کیونکہ فرعون اور اس کا لشکر اس دریا میں ڈبو دیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ { وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا } ” اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن ! “ ہم سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیں گے ‘ اس راستے سے گزر جانے کے بعد اسے اسی طرح ساکن چھوڑ دینا۔ { اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ } ” یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے۔ “ فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا اور اسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا ‘ لیکن ہم اس کو غرق کردیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 This command was given when the Prophet Moses had crossed the sea along with his caravan and wanted that he should restore the sea to its former state by smiting it with the staff so that Pharaoh and his hosts should not pursue them on the dry path created by the miracle. At that times it was said: "Leave the sea divided as it is, so that Pharaoh and his armies should descend into it; then the sea will be restored and they will be drowned all together."

سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :23 یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے قافلہ کو لے کر سمندر پار کر چکے تھے اور چاہتے تھے کہ سمندر پر عصا مار کر اسے پھر ویسا ہی کر دیں جیسا وہ پھٹنے سے پہلے تھا ، تاکہ فرعون اور اس کا لشکر اس راستے سے گذر کر نہ آ جائے جو معجزہ سے بنا تھا ۔ اس وقت فرمایا گیا کہ ایسا نہ کرو ۔ اس کو اسی طرح پھٹا کا پھٹا رہنے دو تاکہ فرعون اپنے لشکر سمیت اس راستے میں اتر آئے ، پھر سمندر کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ پوری فوج غرق کر دی جائے گی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے راستے میں سمندر آجائے گا تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سمندر کو ٹھہرا کر راستہ بنا دیں گے۔ جب تم اس سے پار ہوجاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرنا کہ سمندر میں جو راستہ بنا ہوا ہے۔ وہ فرعون کے لشکر کے بھی کام آئے گا، اور وہ سمندر پار کر کے ہمارا تعاقب جار رکھیں گے، بلکہ سمندر کو ویسا ہی ٹھہرا ہوا چھوڑ دینا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کو ڈبونے کے لیے سمندر کو پھر پہلی حالت میں واپس کردیں گے۔ اس واقعے کی تفصیل سورۃ یونس : 90 تا 92 اور سورۃ شعراء : 56 تا 67 میں گذر چکی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٤۔ ٢٩۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر قلزم دریا کے کنارہ پر پہنچے تو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے لئے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ دریا میں اپنا عصا ماریں اب اس آیت کی تفسیر حضرت عبد (رض) اللہ بن عباس نے یہ فرمائی ٣ ؎ ہے کہ دریا سے پار ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا تھا کہ اس قصد سے دریا میں پھر عصا ماریں کہ پہلی دفعہ دریا میں عصا مارنے سے دریا میں جو راستہ پیدا ہوگیا ہے وہ راستہ دوسری دفعہ عصا کے مارنے سے جاتا رہے تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا کو اسی طرح بیچ میں سے خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جائیں تو پانی کا پاٹ ملا دیا جائے اور ان سب کو غرق کردیا جائے اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں کھیتیاں اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم کے کنارہ پر آئے اور اللہ کی قدرت سے دریا میں بارہ راستے جو ہوگئے تھے ان کے ذریعہ سے دریا سے پار ہونا چاہا لیکن جب یہ سب بیچ دریا میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے دریا کا پاٹ مل گیا اور سب ڈوب گئے آسمان و زمان کے رونے کے باب میں جس حدیث کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں دیا ہے یہ حدیث ترمذی مسند ابی یعلی موصلی تفسیرابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر سفیان ثوری وغیرہ میں حضرت انس (رض) حضرت علی (رض) اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی ١ ؎ روایت سے ہے بعض مفسروں نے اس حدیث کے مخالف آسمان اور زمین کے رونے کی طرح طرح کی تاویل جو کی ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ آسمان اور زمین کا رونا ایسا ہی ہے جس طرح کہ ممبر کے بن جانے کے بعد وہ کھجور کی لکڑی کا رونا اور صحابہ کا اس رونے کی آواز کا سننا مشہور ہے۔ جس قصہ کی روایت صحیح بخاری ٢ ؎ میں حضرت جابر سے ہے پھر وہاں جب رونے کی تاویل نہیں کی جاتی تو یہاں تاویل کی کیا ضرورت ہے جو خدا کھجور کی ایک سوکھی لکڑی کو رونے کے حو اس دینے پر قادر ہے کیا آسمان و زمین کو رونے کے حواس دینے پر قادر نہیں ہے ‘ ترمذی نے انس بن مالک کی حدیث کو روایت کرکے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان دو راوی ضعیف ہیں لیکن موسیٰ بن عبیدہ کو ابن سعد صاحب مغازی اور یعقوب بن شیبہ صاحب مسند کبیر نے معتبر کہا ہے ‘ راویوں کے باب میں ابن سعد اور یعقوب بن شیبہ دونوں کا قول محدثین کے نزدیک اعتبار کے قابل ہے یزید بن ابان کو ابن عدی صاحب الکامل نے معتبر کہا ہے راویوں کے باب میں ابن عدی کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو بالکل بےاصل نہیں کہا جاسکتا۔ علاوہ اس کے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد (رض) اللہ بن عباس کی ٣ ؎ روایت کا حاصل یہ ہے کہ آسمان کے جس دروازے سے ایماندار شخص کے نیک عمل آسمان پر جاتے ہیں اور زمین کے جس ٹکڑے پر یہ ایماندار شخص عمل کرتا ہے اس ایماندار شخص کے مرجانے کے بعد یہ بات باقی نہیں رہتی اس واسطے ایماندار شخص کی موت پر آسمان و زمین کو رونا نہیں آیا۔ وما کانو امنظرین اسکا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر جب عذاب الٰہی آگیا تو وہ لوگ اس سے کسی طرح گھڑی بھر کے لئے بھی بچ نہ سکے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ سورة الشعرا میں گزر چکا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد ملک مصر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا۔ (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ١٤١ ج ٤۔ ) (١ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٢٤۔ ١٢٥ جز ٢٥۔ ) (٢ ؎ صحیح بخاری باب علامات النبوۃ فی الاسلام ص ٥٠٦ ج ١۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١٢٤۔ ١٢٥ جز ٢٥۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:24) واترک البحر رھوا واؤ عاطفہ۔ اترک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ترک (باب نصر) مصدر ۔ تو چھوڑ۔ البحر دریا۔ دریائے قلزم مراد ہے جسے حضرت موسیٰ اور اس کی قوم نے پار کیا تھا۔ رھوا یہ رھایرھوا (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی دریا کے تھمنے کے آتے ہیں۔ یعنی پار ہو کر دریا کو اسی ہیئت میں ساکن رہنے دیجئے۔ دریا پھٹ کر کھلے کشادہ رستے بن گئے تھے اور راستوں کے دونوں طرف دریا کے آرپار پانی پہاڑ کی طرح تھم کر کھڑا ہوگیا تھا۔ خدا کا حکم ہوا کہ اسے اسی طرح راستوں میں بٹا ہوا اور ساکن رہنے دیجئے اپنے عصا سے یا کسی اور طریقے سے یہ پاٹ پر کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اس ڈر سے کہ مبادا فرعون اور اس کی قوم تمہیں آنہ لے۔ بلکہ راستے کھلے رہنے دیں تاکہ فرعون اور اس کی قوم تمہارے تعاقب میں ان راستوں پر دریا میں داخل ہوجائے اور جب وہ سارے دریا کی رد میں آجائیں تو خدا تعالیٰ پانی کو چالو کردے۔ رستے ختم ہوجائیں اور فرعون و جنودہ اس میں غرق ہوجائیں۔ انھم جند مغرقون : جند لشکر، فوج۔ جنود جمع ۔ مغرقون اسم مفعول جمع مذکر۔ اغراق (افعال) مصدر۔ غرق کئے ہوئے تحقیق وہ لوگ ایک ایسی فوج ہیں جو غرق کی جانے والی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سمندر عبور کرنے کے بعد چاہا کہ سمندر پر عصا ماردیں تاکہ وہ مل جائے اور فرعون کا لشکر اس میں داخل نہ ہو سکے۔ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو بلکہ سمندر کو اپنے موجودہ حال چھوڑ کر آگے بڑھ جائو تاکہ فرعون کا لشکر اس میں داخل ہوجائے۔ 6 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ فرعون نے جب سمندرکو پھٹاپایا تو لشکر سمیت اس میں داخل ہوگیا اور سب غرق ہوگئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” واترک البحر رھوا “۔ رھوا ساکنا (بحر، روح، قرطبی) ۔ اس سے پہلے اندماج ہے ینی القضہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر دریا کے کنارے پہنچا تو اللہ کے حکم سے اس پر اپنی لاٹھی ماری جس سے اس میں بارہ خشک راستے بن گئے، جب وہ ان راستوں سے گذر کر پار ہوگئے اس وقت فرعون بھی لاؤ لشکر کے ساتھ دریا پر پہنچ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا تاکہ وہ دریا پر دوبارہ لاٹھی ماریں تاکہ وہ جاری ہوجائے اور فرعون آگے نہ بڑھ سکے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دریا کو ابھی ساکن ہی رہنے دو ، کیونکہ ہم فرعون کے لشکر کو انہی راستوں میں گھیر کر غرق کرنا چاہتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) اور دریا کو سکون اور ٹھہری ہوئی حالت پر چھوڑ جا کیونکہ ان فرعونیوں کا پورا لشکر غرق ہونے والا اور ڈوبنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ تو راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جا۔ تمہارا تعاقب ہوگا تم کو دریا ساکن ملے گا اور راستے بنے ہوئے ملیں گے تم گزر جانا اور دریاکو اپنی حالت پر چھوڑ جانا یعنی کوئی تشویش اور فکر نہ کرنا کیونکہ فرعونیوں کے تمام لشکر کا ڈبویا جاتا مقصود ہے آگے مختصر سی تفصیل ہے۔