Surat ud Dukhaan

Surah: 44

Verse: 34

سورة الدخان

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

Indeed, these [disbelievers] are saying,

یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Refutation of Those Who deny the Resurrection Allah says, إِنَّ هَوُلاَء لَيَقُولُونَ إِنْ هِيَ إِلاَّ مَوْتَتُنَا الاُْولَى وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ

شہنشاہ تبع کی کہانی یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں ۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے ؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بےہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہوگا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے ۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر انکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آجائیں اور ان کی طرح بےنام و نشان کر دئیے جاؤ ۔ ان کے واقعات سورہ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بیشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو انکی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آگیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہوگئے تھے جو حضرت موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے ۔ پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ حضرت ابراہیم ہیں ۔ اور اس نبی آخر الزمان کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی ۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا ۔ خود حضرت موسیٰ کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک حضرت مسیح کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لئے یہی سچا دین تھا ۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق میں موجود ہیں ۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں ۔ ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا حضرت عزیر پیغمبر تھے یا نہیں ؟ ( ابن ابی حاتم ) دار قطنی فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضرت عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں ؟ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے انشاء اللہ ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوگئے یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا ۔ بعثت مسیح سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو حضرت ابی بن کعب ، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے ۔ اور اصل قصہ کا دارومدار حضرت کعب احبار اور حضرت عبداللہ بن سلام پر ہے ۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے حافظ ابن عساکر نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کیطرف لوٹ گئی ۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی ۔ جیسے کہ سورہ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمد للہ ۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے ۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان حضرت احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید عضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول اجلال بھی یہیں ہوا تھا اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں ( شھدت علی احمد انہ رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ وفرجت عن صدرہ کل غم ) یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ حضرت احمد مجتبیٰ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ کا ساتھی اور آپ کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا ۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں ۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں ۔ سورہ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں ۔ حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا ؟ اور روایت میں اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں ؟ فاللہ اعلم ۔ یہی روایت حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے حضرت عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

34۔ 1 یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لئے کہ سلسلہ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان ھولاء لیقولون : یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ختم ہوا جو جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آگیا تھا اور دوبارہ سلسلہ کلام کفار قریش کے ساتھ جوڑ دیا یا، جوپ ہلے سے چلا آرہا تھا اور کفار سے فرمایا تھا :(لا الہ الا ھو یحی ویمیت ربکم و رب ابائکم الاولین بل ھم فی شک یلعبون) (الدخان :9, 8)” اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔ “ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کفار شک میں ہی پڑے ہوئے ہیں۔ فرعون کی سرکشی اور غرقابی کے ذکر کے بعد کفار قریش کا ذکر ” ھولآئ “ (یہ لوگ) کہہ کر حقارت کے ساتھ فرمایا کہ فرعون جیسے قوت و شوکت اور رعب و دبدبے والے منکروں کا انجام سن چکے ، اب ان لوگوں کی بات سنو جو اس کے مقابلے میں کچھ قوت نہیں رکھتے، یہ بھی ہمارے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کو ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ کہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر یہ لوگ (قیامت کی وعیدیں سن کر قیامت کا انکار کرتے ہیں اور) کہتے ہیں کہ اخیر حالت بس یہی ہمارا دنیا کا مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے (مطلب یہ کہ اخیر حالت وہ اخروی زندگی نہیں بلکہ یہ دنیوی موت ہی اخیر حالت ہے جس کے عبد کچھ ہونا نہیں ہے) سو (اے مسلمانو ! ) اگر تم (آخرت کے دعوے میں) سچے ہو تو (انتظار کون کرے، ابھی) ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرا کے) لا موجود کرو (آگے ان کے کفریات پر تہدید ہے کہ ان کو ذرا سوچنا چاہئے کہ) یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تبع (بادشاہ یمن) کی قوم اور جو قومیں ان سے پہلے ہو گزر رہی ہیں (مثلاً عاد وثمود وغیرہ یعنی یہ قومیں زیادہ بڑھی ہوئی تھیں مگر) ہم نے ان کو (بھی) ہلاک کر ڈالا ( محض اس لئے کہ) وہ نافرمان تھے (سو یہ لوگ اگر نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو یہ کیونکر اپنے کو بچالیں گے) اور (آگے قیامت کی صحت اور حکمت کا بیان ہے کہ) ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں (بلکہ) ہم نے ان دونوں کو (ان کی دوسری مخلوقات سمیت) کسی حکمت ہی سے بنایا ہے (مثلاً ان سے ایک تو اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت ہوتی ہے، دوسرے جزا و سزا کا ثبوت ملتا ہے) لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے (کہ جو ذات ایسے عظیم اجسام کو ابتداء پیدا کرنے پر قادر ہو وہ ان کی دوبارہ تخلیق پر بھی قادر ہے) بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا دن) ان سب (کے دوبارہ زندہ ہونے اور جزاء و سزا ملنے) کا وقت مقرر ہے (جس کا وقوع اپنے موقع پر ضرور ہوگا، آگے قیامت کے کچھ واقعات ہیں۔ یعنی) جس دن کوئی علاقہ والا کسی علاقہ والے کے ذرا کام نہ آوے گا اور نہ اور ہی کسی کی طرف سے، مثلاً ان کے مزعومہ خداؤں کی طرف سے) ان کی کچھ حمایت کی جاوے گی، ہاں مگر جس پر اللہ رحم فرما دے (کہ رحمت سے اس کے حق میں باری تعالیٰ کی اجازت سے کی گئی سفارش کام آوے گی اور اللہ اس کا ناصر ہوگا) وہ (اللہ) زبردست ہے (کافروں سے انتقام لے گا) مہربان ہے (مسلمانوں پر رحمت فرما دے گا۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ لَيَقُوْلُوْنَ۝ ٣٤ ۙ «أَلَا»«إِلَّا»هؤلاء «أَلَا» للاستفتاح، و «إِلَّا» للاستثناء، وأُولَاءِ في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] وقوله : أولئك : اسم مبهم موضوع للإشارة إلى جمع المذکر والمؤنث، ولا واحد له من لفظه، وقد يقصر نحو قول الأعشی: هؤلا ثم هؤلا کلّا أع طيت نوالا محذوّة بمثال الا) الا یہ حرف استفتاح ہے ( یعنی کلام کے ابتداء میں تنبیہ کے لئے آتا ہے ) ( الا) الا یہ حرف استثناء ہے اولاء ( اولا) یہ اسم مبہم ہے جو جمع مذکر و مؤنث کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس کا مفرد من لفظہ نہیں آتا ( کبھی اس کے شروع ۔ میں ھا تنبیہ بھی آجاتا ہے ) قرآن میں ہے :۔ { هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ } ( سورة آل عمران 119) دیکھو ! تم ایسے لوگ ہو کچھ ان سے دوستی رکھتے ہواولائک علیٰ ھدی (2 ۔ 5) یہی لوگ ہدایت پر ہیں اور کبھی اس میں تصرف ( یعنی بحذف ہمزہ آخر ) بھی کرلیا جاتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع (22) ھؤلا ثم ھؤلاء کلا اعطیتہ ت نوالا محذوۃ بمشال ( ان سب لوگوں کو میں نے بڑے بڑے گرانقدر عطیئے دیئے ہیں قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٤۔ ٣٥) مگر محمد آپ کی قوم یہی کہتی ہے کہ ہماری زندگی بس دنیوی زندگی ہے اور یہیں کا مرنا ہے اور ہم مرنے کے بعد پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے اور محمد اگر تم اپنے دعوے بعثت میں سچے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٤ { اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ } ” یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔ “ ہٰٓؤُلَآئِ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔ چونکہ یہ مکی سورت ہے اس لیے بنی اسرائیل کا ذکر کرنے کے بعد اب مشرکین مکہ کے اقوال و عقائد پر تبصرہ ہونے جا رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(44:34) ان ھولائ : ان حرف مشبہ بفعل ہے بمعنی تحقیق ۔ بےشک۔ یقینا : ھولاء اسم اشارہ جمع مذکر مؤنث، یہ لوگ، مراد مشرکین مکہ ہیں۔ گفتگو ان کی ہو رہی تھی ۔ ان کو کفر سے باز آنے کی تلقین کے جا رہی تھی۔ بیچ میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر صیحۃ آگیا کہ وہ بھی دنیاوی جاہ و جلال اور دنیاوی نعمتوں میں مستغرق ہوکر بکمال تعصب وہٹ دھرمی قبول حو سے انکاری کرتے رہے۔ پھر ان کا کیا انجام ہوا۔ مشرکین مکہ کو اس انجام بد سے باخبر کرکے سبق سیکھنے کے لئے اس کا ذکر ہوا۔ اس ضمنی بحث کے بعد پھر ان سے خطاب ہے ان ھؤلاء لیقولون بیشک یہ لوگ (کفار مک) یہ کہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 42 : منشرین (دوبارہ اٹھنے والے) میقات ( مقررہ وقت) لا یغنی (کام نہ آئے گا) مولی ( ساتھی ، دوست) تشریح : آیت نمبر 34 تا 42 : جس طرح نمرود ، فرعون ، قیصر و کسریٰ مختلف ملکوں کے بادشاہوں کے لقب تھے اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہ کا لقب تبع تھا۔ تبع نام کے بہت سے بادشاہ گزرے ہیں ، چونکہ حجاز سے قریب تر علاقے ملک یمن اور سباپر قوم تبع کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے دو ڈھائی سو سال پہلے اور نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش سے تقریباً سات سو سال پہلے حکمرانی کا موقع ملا تھا اس لئے عرب میں قوم تبع کا کا فی چرچا تھا اور جزریۃ العرب کے لوگ تبع اور قوم تبع سے اچھی طرح واقف تھے۔ قرآن کریم میں جس قوم تبع کا ذکر کیا جا رہا ہے اس کے بادشاہ کا نام اسعد یا سعد ابن ملکا کرب اور کنیت ابو کرب تھی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بادشاہ ( تبع) توریت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مومن تھا لیکن اس کی قوم شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوگئی تھی ۔ اس تبع بادشاہ کے لئے مفسرین نے دو واقعے لکھے ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے میں بہت سے علاقے فتح کرتا ہوا سمر قند تک پہنچ گیا تھا۔ محمد ابن اسحاق کی تحقیق یہ ہے کہ وہ ان فتوحات کے دوران جب مدینہ منورہ کی بستی سے گزرا تو اس نے اس سر سبز و شاداب بستی پر چڑھائی کا ارادہ کیا ۔ اہل مدینہ نے اس کا زبردست مقابلہ کیا اور یہ عجیب طریقہ اختیار کیا کہ دن بھر تو وہ قوم تبع سے جنگ کرتے اور رات کو ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اس بات سے تبع اور اس کی قوم کو شرم آئی اور اس نے مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ ملتوی کردیا ۔ اسی عرصے میں دو یہودی عالموں نے اس کو بتایا کہ اس شہر پر چڑھائی سے اسے کامیابی نصیب نہ ہوگی کیونکہ یہ آخری نبی کا مقام ہجرت ہے۔ یہ سن کر وہ ان دونوں یہودی عالموں کو اپنے ساتھ لے آیا اور اس نے ان یہودی عالموں کی تعلیم و تربیت سے متاثرہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دین قبول کرلیا جو اس وقت دین بر حق تھا ۔ پھر اس کی قوم بھی ایمان لے آئی مگر زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ قوم تبع نے پھر سے شرک و بت پرستی شروع کردی اور نا فرمانیوں کی انتہاء کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید ترین عذاب آیا جس کا ذکر سورة سبا میں کیا گیا ہے ( ابن کثیر) دوسراروایت یہ ہے کہ تبع بادشاہ نے جب توریت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل پڑھے تو وہ غائبانہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آیا اور اس نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام ایک خط بھی لکھا ۔ اس نے وصیت کی کہ جب وہ آخری نبی تشریف لائیں تو ان کی خدمت میں میرا یہ خط پہنچا دیا جائے چناچہ اس کی یہ وصیت اس کی اولاد میں چلتی رہی۔ تبع کی اکیسویں پشت کے وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اعلان نبوت فرمایا تو تبع خاندان کے ایک فرد شامول نے حضرت ابو ایوب انصاری کی معرفت تبع کا خط حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں پیش کیا ۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا ” مرحبابالاخ الصالخ “ دوسری روایت یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” لا تسبوا تبعا فانہ قد کان اسلم “ یعنی تبع کو برا بھلا مت کہو کیونکہ وہ اسلام لے آیا تھا ( طبرانی ، ابن حاتم ، امام احمد) خلاصہ یہ ہے کہ یہ تبع اور اس کی قوم بہت ترقی یافتہ قوم تھی ۔ اس نے اپنے زمانہ میں زبردست عروج حاصل کیا تھا ۔ مال و دولت ، شان و شوکت ، حکومت و سلطنت ، قوت و طاقت اور تجارت و زراعت میں دنیا کی قوموں سے بہت آگے تھی مگر جب ان کے اخلاق اور کردار پر زوال آیا اور انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا معبود بنا لیا اور نا فرمانیوں اور انبیاء کرام کے جھٹلانے میں حد سے گزر گئی تب وہ قوم اپنے بد ترین انجام سے دو چار ہوئی اور تباہ و برباد کر کے رکھ دی گئی ۔ لیکن تبع بادشاہ نے دین اسلام کو قبول کر کے اپنے لئے آخرت کی ابدی راحتوں اور کامیابیوں میں نام پیدا کرلیا تھا۔ قرآن کریم کے اولین مخاطب مکہ مکرمہ کے کفار و مشرکین تھے ان سے کہا جا رہا ہے کہ بنو قریش اور اہل مکہ اپنی شان و شوکت اور مال و دولت میں بڑھے ہوئے ہیں یا قوم تبع جو دنیا کی انتہائی طاقت و قوم تھی ۔ اگر اتنی زبردست اور طاقت و قوم اللہ کی نا فرمانیوں کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹا دی گئی تو کفار مکہ اور بنو قریش کی ان کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے۔ اس آیت اور حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ تبع بادشاہ اکیس پشت پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر محض فضائل سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آیا تھا لیکن ( اے قریش مکہ) تم کتنے بد نصیب لوگ ہو کہ تمہارے اندر خود اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور اعلیٰ ترین کردار تمہارے سامنے ہے۔ مگر تم ان کی قدر کرنے کی بجائے ان کی ناقدری کر رہے ہو۔ فرمایا کہ جس طرح قوم تبع اللہ کی نا فرمانیوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے نہ بچ سکی اگر تم بھی ان ہی کے طریقوں پر چلے تو تم اس انجام سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ ہر انسان کو آخرت کے دن کی فکر ہونی چاہیے جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا ۔ تاریخ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ جس قوم ، گروہ یا افراد نے آخرت کا انکار کیا اور دنیا کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دی وہ برے انجام سے نہ بچ سکی۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور جب ہم مرنے کے بعد مٹی میں رل مل جائیں گے ، ہماری ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ہمارے وجود کے ذرے کائنات میں بکھر جائیں گے تو ہم دوبارہ پیدا نہ کئے جائیں گے۔ فرمایا کہ اللہ نے یہ نظام قائم کیا ہے کہ اس زندگی کے بعد آخرت کی زندگی ہے جس میں سب کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قوم سبا ، قوم فرعون اور قوم تبع وغیرہ جو دنیا کی عظیم ترین اور طاقت و قومیں تھیں جب انہوں نے اس جاہلانہ عقیدے کو قائم کیا کہ اس دنیا کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے تو ان کی ترقیات ، تجارت و زراعت حکومت و سلطنت اور رشتے داریاں ان کو ان کے برے انجام سے نہ بچا سکیں ۔ کفار کا یہ کہنا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آئو تو فرمایا کہ وہ سب کے سب قیامت کے دن دوبارہ پیدا کئے جائیں گے اور قیامت انسان سے دور نہیں ہے۔ لہٰذا اس دن اگر ان کے باپ دادا نیکیوں پر اٹھیں گے تو ان کی نجات ہے ورنہ وہ آخرت کی ابدی راحتوں سے محروم رہیں گے اور کوئی شخص یا کوئی چیز ان کے کام نہ آسکے گی وہاں تو اللہ کے فرماں برداروں پر ہی اللہ کا رحم و کرم ہوگا ۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم بھی گھمنڈ میں آکر کہتے ہو کہ دنیا کی موت ہی ہمارا آخری انجام ہے کیا انہیں معلوم نہیں کہ قیامت کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا جن میں قوم آل فرعون کے ساتھ تبع بھی شامل ہے۔ قرآن مجید نے منکرین قیامت کو سمجھانے کے لیے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ لیکن قیامت کا انکار کرنے والے بلادلیل اپنی بات اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں قرآن مجید کے دلائل کے ساتھ بار بار سمجھایا کہ قیامت ہر صورت برپا ہوکر رہے گی۔ کوئی ڈوب کے مرے یا آگ میں جل کر خاکستر ہوجائے۔ ہر صورت اللہ تعالیٰ اسے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا اور اس سے پورا، پورا حساب لیا جائے گا۔ اتنے واضح اور ٹھوس دلائل ہونے کے باوجود مکہ کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات پر مصرّ تھے کہ بس آدمی جب مرجاتا ہے تو پھر اس نے دوبارہ زندہ نہیں ہونا۔ وہ یہ دلیل پیش کرتے کہ اگر واقعی قیامت آنی ہے تو ہمارے باپ دادا کو اٹھالائیں۔ ہم ان سے پوچھیں گے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں قرآن مجید نے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے خاص طور پر حضرت ابر ہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عزیر، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں زندہ ہونے والے افراد کا قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا اور فرمایا۔ (وَقَالُوا أَءِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا۔ قُلْ کُونُوا حِجَارَۃً أَوْ حَدِیدًا۔ أَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلِ الَّذِی فَطَرَکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃ) [ بنی اسرائیل : ٤٩ تا ٥١] ” اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔ فرما دیں کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جو تمہارے دلوں میں بڑی ہے لیکن عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں لوٹائے گا ؟ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا۔ “ مسائل ١۔ قیامت کا انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہونا۔ ٢۔ قیامت کا انکار کرنے والے سب سے بڑی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کو ہمارے سامنے لایا جائے تب ہم ایمان لائیں گے کہ واقعی قیامت قائم ہوگی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا : ١۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٢۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : ٥٥) ٣۔ اللہ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : ٤) ٤۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : ٢٧) ٥۔ اللہ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : ١١) ٦۔ کیا اللہ کو اس بات پر قدرت نہیں ؟ کہ وہ مردوں کو زندہ فرمائے۔ (القیامۃ : ٤٠) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے سامنے چار پرندوں کو زندہ کیا۔ (البقرہ : ٢٦٠ ) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے سامنے ان کی قوم کے ستر سرداروں کو موت دے کر دوبارہ زندہ کیا۔ (الاعراف : ١٥٥ ) ٩۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کو موت دے کر دنیا میں دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرۃ : ٢٤٣ ) ١٠۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سامنے ایک مقتول کو زندہ کیا۔ ( البقرۃ : ٧٣) ١١۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کے ہاتھوں مردوں کو زندہ فرمایا۔ (المائدۃ : ١١٠) ١٢۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سو نو سال سلاکر بیدار فرمایا۔ (الکہف : ٢٥) ١٣۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کو سو سال مارنے کے بعد زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٥٩ ) ١٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر کے گدھے کو ان کے سامنے دوبارہ زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٥٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر ٣٤ تا ٤٢ مشرکین عرب یہ کہتے تھے ، بس ہماری یہی موت ہے ، جس سے ہم دو چار ہوں گے۔ اس کے بعد نہ زندگی ہے اور نہ حشرونشر ہے اور اس کو وہ ” پہلی “ اس معنی میں کہتے تھے کہ حشر ونشر کا جو ڈر اوا ہمیں سنایا جارہا ہے اس سے یہ پہلی ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ یہی موت ہے اور اس پر سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ ان کے آباء و اجداد بس ایک ہی بار مر گئے۔ اور ان میں سے کوئی بھی اس جہاں میں واپس نہیں آیا۔ نہ کبھی کوئی اٹھایا گیا اور ان کا مطالبہ ہی یہ ہوتا تھا کہ اگر نشو رحق ہے تو لاؤ ہمارے آباء کو۔ لیکن اس مسئلے پر وہ حشر و نشر کی حکمت پر غور نہ کرتے تھے اور یہ بھی محسوس نہ کرتے تھے کہ حشر اور نشر انسانی نشوونما کا ایک مرحلہ ہے۔ اس کی ایک خاص حکمت ہے اور ایک متبعین مقصد ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کے پہلے مرحلے میں کس نے کیا کیا۔ جو اچھے لوگ ہیں اور جنہوں نے دنیا کی زندگی کے اس مرحلے میں اچھا رویہ اختیار کیا ان کو اچھا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے یہاں برا رویہ اختیار کیا ان کو اس کا بدلہ دیا جائے اور نہایت ہی ناپاک اور غلیظ زندگی دی جائے ، اگر اچھوں کو جزائے خیر نہ دی جائے اور بروں کو مناسب سزا نہ دی جائے تو یہ حق بات نہ ہوگی۔ اس حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس پوری زمین پر موجودہ مرحلہ حیات ختم ہونے کے بعد حشر ونشر ہو اور حساب و کتاب ہو۔ اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ کائنات کی اس پوری سکیم کو ختم کر کے ، محض چند لوگوں کے مطالبے پر چند افراد یا ایک گروہ کے حشر و نشر کا ڈراما کیا جائے اور ان کے مطالبے کو پورا کیا جائے جبکہ ان کو موت کے بعد اٹھائے جانے پر یقین بھی نہیں ہے جس کی اطلاع ان کو تمام رسولوں نے بالاتفاق دی ہے۔ اور اس زندگی پر اچھی طرح غوروفکر کرنے سے بھی عقل اس کا تقاضا کرتی ہے اس طرح اللہ کے نظام تخلیق میں بھی اگر غور کیا جائے تو انسان قیام قیامت پر یقین کرسکتا ہے۔ قبل اس کے کہ ان کو اس پوری کائنات کے اساسی نقشے پر غوروفکر کی دعوت دی جائے ۔ ان کے دل و دماغ کو ایک ایسے تاریخی واقعہ کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ، جس کے وقوع سے وہ اچھی طرح باخبر تھے ، یعنی قوم تبع اور ملوک حمیر کے واقعات ۔ یہ تاریخ اس وقت کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم تھی اس لیے اس کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ ذرا ان کے دلوں کے اندر خدا کی پکڑ کا ڈرتا زہ ہوجائے۔ اھم خیر ام ۔۔۔۔۔ کانوا مجرمین (٤٤ : ٣٧) ” یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے ان کو اسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے “۔ اس یاد دہانی کی فضا میں اور کانپتے ہوئے دلوں اور اللہ کی پکڑ کے تصور کی اس فضا میں ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات کی تخلیق کا نقشہ کیا ہے۔ اس کائنات کے اندر بالا رادہ نہایت ہی گہری سچائی رکھی گئی ہے اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ حشر و نشر لابدی ہے۔ وما خلقنا ۔۔۔۔۔ لعبین (٤٤ : ٣٨) ما خلقنھما ۔۔۔۔۔۔ یعلمون (٤٤ : ٣٩) ان یوم ۔۔۔۔۔۔ اجمعین (٤٤ : ٤٠) یوم لا یغنی ۔۔۔۔۔ ینصرون (٤٤ : ٤١) الا من ۔۔۔۔۔ الرحیم (٤٤ : ٤٢) ” یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ان سب کے اٹھائے جانے کے لئے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے ، وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی ، سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اشارہ ہے کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو مخلوقات پیدا کی گئی ہیں ، اس کے اور مسئلہ حشر ونشر کے درمیان ایک لطیف ربط ہے اور انسانی فطرت اس کا ادراک اس وقت کرسکتی ہے جب وہ اس کائنات کی تخلیق پر گہرا غورو فکر کرے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کا جو نقشہ اور اسکیم ہے۔ وہ نہایت پیچیدہ اور گہری ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کے اندر تمام باریکیاں ایک مقصد اور ارادے کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔ یہ تخلیق بڑی مربوط ہے ۔ اور اس کے اندر ہر چیز ایک مقدار مطلب کے مطابق ہے ، نہ اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہر چیز اپنے ماحول کے اندر پوری طرح فٹ ہے۔ جس چیزکو جس شکل و صورت میں پیدا کیا گیا ہے ، اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح ضروری ہے اور یہ بات بعید از امکان ہے کہ اس قدر پیچیدہ ٹیکنالوجی محض بخت و اتفاق سے پیدا ہوگئی ہو اور اس پوری کائنات میں جو ہولناک حد تک عظیم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام باتوں پر اچھی طرح غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا بھی کوئی بڑا مقصد ہے اور وہ صرف اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے اور کہ حشر ونشر کو تسلیم کیا جائے۔ یہ کائنات حق پر قائم ہے ، اس میں کوئی چیز باطل نہیں ہے ، اس کا انجام ہے جو ابھی واقع نہیں ہوا۔ یہ انجام اور مقصد صرف موت سے پورا نہیں ہوتا کیونکہ موت تو اس دنیا کا انجام ہے۔ اس دنیا کے مختصر سفر کا اختتام ہے۔ اور حشر ونشر تو محض منطقی حوالے سے بھی ضروری ہے کیونکہ جب تخلیق سچائی پر ہے تو نیکی اور بدی کا فیصلہ بھی سچائی پر ہونا چاہئے۔ انسان کے اندر آغاز حیات سے صلاح و فساد کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اور وہ یہاں با صلاح اختیار کرتا ہے یا فساد لہٰذا اسے صلاح کا انعام اور فساد کی سزا ملنی چاہئے۔ یہ کہ انسان کو نیکی اور بدی کی صلاحیت دی گئی ہے اور یہ کہ اللہ نے انسان کو اس طرح عبث نہیں پیدا کیا ہے ، لہٰذا نیک اور بد کا انجام ضروری ہے اور یہ انجام اس دنیا کی مختصر زندگی کے بعد ہونا چاہئے ۔ لہٰذا حشر و نشر اس کائنات کی تخلیق کے نقشے کے اندر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ کائنات کو عبث نہیں پیدا کیا گیا ، قیامت کا ذکر آتا ہے۔ ان یوم ۔۔۔۔۔۔ اجمعین (٤٤ : ٤٠) یوم لا یغنی ۔۔۔۔۔ ینصرون (٤٤ : ٤١) الا من ۔۔۔۔۔ الرحیم (٤٤ : ٤٢) ” ان سب لوگوں کے اٹھائے جانے کے لئے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے ، وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی ، سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ قیامت کی یہ بات اپنی ماقبل کی باتوں اور آیات سے نہایت مربوط طور پر یہاں لائی گئی ہے ۔ حکمت اور حق کا تقاضا یہ ہے کہ ایک یوم الفصل ہو ، جس میں لوگوں کے باہم فیصلے بھی چکائے جائیں اور ضلالت و ہدایت کے فیصلے بھی کئے جائیں ، نیکی کو عزت بخشی جائے اور برائی اور شر کو سزا دی جائے ، اور لوگ تمام ارضی سہاروں سے بےنیاز ہوں ، عزیز و اقارب کا وہاں کوئی آسرا نہ ہو۔ وہ اکیلے اکیلے وہاں جائیں جس طرح خالق نے انہیں پیدا کیا ہے۔ خالق وہاں ان کو اس کی جزاء دے جو انہوں نے کمایا۔ کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو ، کوئی ان پر رحم کرنے والا نہ ہو ، بس صرف اللہ ، قادر مطلق عزیز و رحیم ہی کا بھروسہ اور فضل ہو ۔ کیونکہ اسی نے ان کو اس زمین پر لا کر کام میں لگایا اور وہی ہے جو ان کو سزا دے گا۔ اور یہاں ان کے بسائے جانے اور اٹھائے جانے کے درمیان جو مختصر زندگی ہے ، یہ ابتلا اور آزمائش کی زندگی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں اور زمین و آسمان کی ساخت کے انداز میں سچائی ودیعت کردہ ہے اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق کا ایک مقصد ہے۔ ٭٭٭٭ ان باتوں کے بعد اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر ، سرکشوں کی سزا اور اطاعت کیشوں کے لئے انعام ، یہ ایک نہایت ہی خوفناک اور شدید منظر ہے اور اس پوری سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ اہل مکہ کی طرف التفات اور شکوی ہے۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ بس اس پہلی زندگی کے ختم ہوجانے سے قصہ تمام ہوجائیگا اور اس کے بعد پھر کوئی زندگی نہیں ہوگی اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائیگا۔ یعنی یہ جو پہلے آنے والی موت ہے اس کو تو ہم مانتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو دوسری زندگی بتائی جاتی ہے اسے ہم نہیں مانتے۔ اب یہ اعتراض نہ رہا کہ کفار موت کو تو مانتے تھے اور انکار دوسری حیاتی کا کرتے تھے اس لیے ” انھی الا حیاتنا الاولی “ کہنا چاہئے تھا۔ ” فاتوا بابائنا الخ “ خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنین سے ہے یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(34) یہ کفار قریش کہتے ہیں۔