Surat ul Ehkaaf

Surah: 46

Verse: 31

سورة الأحقاف

یٰقَوۡمَنَاۤ اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ وَ اٰمِنُوۡا بِہٖ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِکُمۡ وَ یُجِرۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۳۱﴾

O our people, respond to the Messenger of Allah and believe in him; Allah will forgive for you your sins and protect you from a painful punishment.

اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو ، اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے تمام گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ ... O our people! Respond to Allah's Caller, This is proof that Muhammad has been sent to both the human beings and the Jinns. Thus, Allah says, ... أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَامِنُوا بِهِ ... Respond to Allah's Caller and believe in him. Then Allah says, ... يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ ... He will then forgive you some of your sins, Some scholars say that "some" here is auxiliary, but this is questionable since it is rarely used to strengthen an affirmative meaning. Others say that it means partial forgiveness. ... وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ and protect you from a painful torment. meaning, He will protect you from His painful punishment. Then Allah informs that they said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31۔ 1 یہ جنوں نے اپنی قوم کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی اس سے قبل قرآن کریم کے متعلق بتلایا کہ یہ تورات کے بعد ایک اور آسمانی کتاب ہے جو سچے دین اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ 31۔ 2 یہ ایمان لانے کے وہ فائدے بتلائے جو آخرت میں انہیں حاصل ہوں گے من ذنوبکم میں من تبعیض کے لیے ہے یعنی بعض گناہ معاف فرما دے گا اور یہ وہ گناہ ہوں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوگا کیونکہ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ثواب و عقاب اور اوامر ونواہی میں جنات کے لیے بھی وہی حکم ہے جو انسانوں کے لیے ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) یقومنآ…:” یقومنآ “ کے ساتھ دوبارہ مخاطب کرنے کا مقصد اس بات کے اہم ہونے کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے ۔ جس طرح خطیب کسی اہم بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اثنائے کلام میں ” ایھا الناس کہتا ہے۔۔ (ابن عاشور) (٢) اجینوا داعی اللہ :”’ اعی اللہ “ سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اپنی ذات یا کسی بھی مخلوق کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کی اطاعت کی طرف تھی، جیسا کہ فرمایا :(قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ و علی بصیرۃ اناومن اثبعنی وسبحن اللہ وما انا من المشرکین) (یوسف :108)” کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر ، میں اور وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔ “ یہاں ایک سوال ہے کہ جنوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صبح کی نماز کے دوران قرآن مجید کی جو تلاوت سنی آپ نے اس میں کون سی آیات پڑھیں، جن میں وہ باتیں موجود تھیں جن کی تلقین جنوں نے اپنی قوم کو کی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگر ہمیں اور کوئی آیات معلوم نہ ہو سکیں تو سورة فاتحہ کی قرأت تو یقینی ہے جو قرآن مجید کے تمام مضامین کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ (٣) یغفرلکم من ذنوبکم “ میں ” من “ لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کے لئے دیکھیے سورة نوح (٤) کی تفسیر۔ (٥) اللہ کے داعی کی دعوت قبول کرنے اور سا پر ایمان لانے پر دو بشارتیں دیں، ایک اس فائدے کے حصول کی بشارت جو تمہیں ایمان لانے سے حاصل ہوگا کہ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور دوسری ناقابل تلافی نقصان سے بچنے کی بشارت کہ وہ تمہیں عذاب الیم سے پناہ دے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

یغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ (will forgive your sins for you,) The word &min& used in the text gives the sense of &some&. If it is taken in this sense here, it would mean that &some sins& will be forgiven by embracing Islam. It will indicate that only sins relating to the rights of Allah would be forgiven but not the rights of people. But some exegetes have taken &min& in this verse as an extra word that has no additional meaning in Arabic idioms. Given this interpretation, no explanation is required.

(آیت) يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ حرف من اصل میں تبعیض یعنی جزئیت کے معنی کے لئے آتا ہے اگر یہی معنی یہاں لئے جائیں تو حرف من کے بڑھانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلام قبول کرلینے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس لئے یہ فرمانا مناسب ہوا کہ بعض گناہ یعنی حقوق اللہ معاف ہوجاتے ہیں اور بعض حضرات نے اس حرف من کو زائد قرار دیا ہے تو اس توجیہ کی ضرورت نہیں رہتی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللہِ وَاٰمِنُوْا بِہٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَيُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ ٣١ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جوب والجواب يقال في مقابلة السؤال، والسؤال علی ضربین : طلب مقال، وجوابه المقال . وطلب نوال، وجوابه النّوال . فعلی الأول : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] ، وعلی الثاني قوله : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، أي : أعطیتما ما سألتما . ( ج و ب ) الجوب جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سوال دو قسم پر ہے ( 1) گفتگو کا طلب کرنا اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے (2) طلب عطا یعنی خیرات طلب کرنا اس کا جواب یہ ہے کہ اسے خیرات دے دی جائے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا : أَجِيبُوا داعِيَ اللَّهِ [ الأحقاف/ 31] خدا کی طرف سے بلانے والے کی باٹ قبول کرو ۔ اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی باٹ قبول نہ کرے ۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے فرمایا : : قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُما فَاسْتَقِيما [يونس/ 89] ، کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو ہم ثابت قدم رہنا دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ جور وباعتبار القرب قيل : جار عن الطریق، ثم جعل ذلک أصلا في العدول عن کلّ حق، فبني منه الجور، قال تعالی: وَمِنْها جائِرٌ [ النحل/ 9] ، أي : عادل عن المحجّة، وقال بعضهم : الجائر من الناس : هو الذي يمنع من التزام ما يأمر به الشرع . جور کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی صلہ عن کی وجہ سے راستہ سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں پھر مطلقا حق سے عدول کرنے کے لئے اس کو اصل قرار دے کر اس سے الجور بمعنی ظلم بنایا گیا ہے قران میں ہے : ۔ وَمِنْها جائِرٌ [ النحل/ 9] اور بعض راستے سیدھی راہ سے ایک جانب مائل ہو رہے ہیں ( جو باری تعالیٰ تک نہیں پہنچے : بعض نے کہا ہے کہ الجائر ( جور سے صیغہ فاعل ) انسانوں میں سے ہر اس شخص کو کہتے ہیں جو احکام شریعت کے التزام سے رک جائے ( اور اسی کا نام ظلم ہے ) ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اے بھائیو تم رسول اکرم کی بات پر لبیک کہو جو توحید کی طرف بلا رہے ہیں اور ان پر ایمان لاؤ اور اللہ تعالیٰ زمانہ جاہلیت کے تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣١ { یٰـقَوْمَنَآ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰہِ } ” اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر لبیک کہو “ { وَاٰمِنُوْا بِہٖ یَغْفِرْ لَـکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ } ” اور اس پر ایمان لے آئو تاکہ وہ (اللہ) تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہیں ایک درد ناک عذاب سے بچا لے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35 Authentic traditions show that after this several deputations of the jinns visited the Holy Prophet, one after the other, and met him face to face. When all the traditions related in the collections of Hadith on this subject are read together, it appears that at least six deputations had visited him in Makkah before the Hijrah. About one of these deputations Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud relates: 'One day the Holy Prophet remained missing from Makkah for the whole night. We could not know his whereabouts and feared he might have been attacked by somebody. Early in the morning we saw him coming from the direction of Hira'. On enquiring he said that a jinn had come to invite him and he had accompanied him and recited the Qur'an to a gathering of them there." (Muslim, Musnad Ahmad, Tirmidhi, Abu Da'ud). Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud has related another tradition, saying: "Once the Holy Prophet asked his Companions in Makkah as to which of them would accompany him that night to meet the jinns. I became ready to go with him. At a place in the upper quarters of Makkah the Holy Prophet drew a line and told me not to cross it. Then he went forward and stood and began to recite the Qur'an. I saw that a number of the people had gathered around him and they stood between me and him."' (Ibn Jarir, Baihaqi: Dala`il an-Nubuwwat, Abu Nu`aim Isfahani: Dale Il an-Nubuwuat). On another occasion also during the night Hadrat `Abdullah bin Mas'ud was with the Holy Prophet and he decided a case of the jinns at Hajun in Makkah. Many years later Ibn Mas'ud saw a group of the villagers at Kufa and said that the group of the jinns he had seen at Hajun closely resembled those people. (Ibn Jarir).

سورة الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :35 معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد جنوں کے پے درپے وفود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے لگے اور آپ سے ان کی رو در رو ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ اس بارے میں جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں کم از کم چھ وفد آئے تھے ۔ ان میں سے ایک وفد کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رات بھر غائب رہے ۔ ہم لوگ سخت پریشان تھے کہ کہیں آپ پر کوئی حملہ نہ کر دیا گیا ہو ۔ صبح سویرے ہم نے آپ کو حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا ۔ پوچھنے پر آپ نے بتایا کہ ایک جن مجھے بلانے آیا تھا ۔ میں نے اس کے ساتھ آ کر یہاں جنوں کے ایک گروہ کو قرآن سنایا ۔ ( مسلم ۔ مسند احمد ۔ ترمذی ۔ ابوداؤد ) حضرت عبداللہ بن مسعود ہی کی ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ مکہ میں حضور نے صحابہ سے فرمایا کہ آج رات تم میں سے کون میرے ساتھ جنوں کی ملاقات کے لیے چلتا ہے؟ میں آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔ مکہ کے بالائی حصہ میں ایک جگہ حضور نے لکیر کھینچ کر مجھ سے فرمایا کہ اس سے آگے نہ بڑھنا ۔ پھر آپ آگے تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کیا ۔ میں نے دیکھا کہ بہت سے اشخاص ہیں جنہوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے اور وہ میرے اور آپ کے درمیان حائل ہیں ۔ ) ابن جریر ۔ بیہقی ۔ دلائل النبوۃ ۔ ابونعیم اصفہانی ، دلائل النبوہ ) ایک اور موقع پر بھی رات کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور مکہ معظمہ میں حجون کے مقام پر جنوں کے ایک مقدمہ کا آپ نے فیصلہ فرمایا ۔ اس کے سالہا سال بعد ابن مسعود نے کوفہ میں جاٹوں کے ایک گروہ کو دیکھ کر کہا حجون کے مقام پر جنوں کے جس گروہ کو میں نے دیکھا تھا وہ ان لوگوں سے بہت مشابہ تھا ۔ ( ابن جریر )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(46:31) اجیبوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اجابۃ (افعال) مصدر تم قبول کرو۔ تم مان لو۔ داعی اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی طرف بلانے والا۔ داعی اسم فاعل واحد مذکر دعاء باب نصر مصدر۔ بلانے والا، پکارنے والا۔ منصوب بوجہ اجیبوا کا مفعول ہونے کے۔ وامنوا بہ۔ وائو عاطفہ امنوا امر جمع مذکر حاضر، ایمان (افعال) مصدر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع داعی ہے اور اس پر ایمان لے آئو۔ یغفر لکم۔ یغفر مضارع (مجزوم بوجہ جواب امر) واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ خدا تمہارے گناہ بخش دے گا۔ من ذنوبکم۔ میں من تبعیضیہ ہے ذنوبکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے گناہ ذنوبجمع ہے ذنب کی۔ تمہارے گناہوں میں سے بعض (گناہ بخش دے گا) ۔ مطلب یہ کہ اللہ تمہارے وہ گناہ بخش دے گا جن کا تعلق حق اللہ سے ہوگا۔ اور حقوق العباد ایمان لانے سے معاف نہیں ہوتے۔ ویجرکم۔ وائو عاطفہ۔ یجر مضارع مجزوم بوجہ جواب امر، واحد مذکر غائب اجارۃ (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، تم کو بچائے گا۔ ج و ر : مادہ کے حروف ہیں۔ الجار (پڑوسی، ہمسایہ) ہر وہ شخص جس کی سکونت کاد دوسرے کے قرب میں ہو وہ اس کا جار کہلاتا ہے۔ ہمسائے کا حق عقلاً وشرعاً بہت بڑا سمجھا گیا ہے اسی لئے ہر وہ شخص جس کا حق بڑا ہو یا وہ کسی دوسرے کے حق کو بڑا سمجھتا ہو اسے اس کا جار کہہ دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ (9:6) اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو ۔ اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے وھو یجیر ولا یجار علیہ (23:88) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ عذاب الیم ۔ موصوف وصفت۔ درد ناک عذاب، الیم بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے ، دکھ دینے والا۔ درد ناک۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 چناچہ ان کی قوم سے ستر آدمی آپ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے آحضرت سے بطحا میں ملاقات کی آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور اوامرو نواہی کی تلقین کی۔ 8 ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کی رسالت عام تھی اور آپ جن و انس کی طرف مبعوث تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ ” وبعثت الی الخلق کافۃ کہ میں تمام مخلوق (جن و انس) کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ نیز اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جن بھی انسانوں کی طرف مکلف ہیں اور آخرت میں ثواب و عقاب کے مستحق ٹھہرینگے۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت 130 میں گزر چکا ہے۔ البتہ پیغمبر صرف انسانوں میں سے ہوئے ہیں (یوسف :109) مزیدت فصیل سورة الرحمٰن میں آرہی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ جن جنات کے ایمان لانے کا ان آیتوں میں ذکر ہے ان کا واقعہ حدیثوں میں اس طرح آیا ہے کہ جب بعثت نبویہ کے وقت جنات کو آسمانی خبریں سننے سے بذریعہ شہب روک دیا گیا تو جنات میں تذکرہ ہوا کہ اس کا سبب تحقیق کرنا چاہئے کہ کون سا نیا واقعہ دنیا میں ہوا ہے جس کے سبب یہ امر ہوگیا۔ جنات مختلف اقطار میں تحقیق کے واسطے روانہ ہوئے بعض جنات حجاز کی طرف بھی چلے، اس روز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مع اپنے چند اصحاب کے بطن نخلہ میں ایک مقام کا نام ہے تشریف رکھتے تھے، اور سوق عکاظ کو تشریف لے جانے کا قصد تھا، غرض آپ صبح کی نماز پڑہا رہے تھے، جب وہ جنات یہاں پہنچے قرآن سن کر کہنے لگے کہ بس وہ نئی بات جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی یہ ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ جنات جب یہاں آئے تو باہم کہنے لگے کہ خاموش رہ کر قرآن سنو، جب آپ نماز صبح سے فارغ ہوئے تو وہ معتقد اور مومن ہو کر اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور ان کو خبر سنا کر ایمان کی ترغیب دی، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے آنے جانے کی خبر نہیں ہوئی، یہاں تک کہ سورة جن کے نزول سے آپ کو خبر دی گئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یقومنا اجیبوا داعی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (٤٦ : ٣١) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ” ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ جن و انس دونوں کے لئے دعوت ہے اور اسے پوری زمین کے لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ اور اس کتاب کو سنتے ہی انہوں نے اس بات کو پالیا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داعی الی اللہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں بخشش نصیب ہوتی ہے اور اللہ کے عذاب سے بچا جاسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے جو کچھ سمجھا اس کی تعلیم دے دی۔ ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ اس پر جنوں کی بات ختم ہوگئی ہے لیکن سیاق کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی دو آیات بھی جنوں کے کلام کا حصہ ہیں۔ خصوصاً یہ آیت :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) اے برادران قوم تم اللہ کی طرف بلانے والے یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات مانوں اور بات کا ماننا یہی کہ اس پر ایمان لے آئو اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا اور محفوظ رکھے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے داعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت مان لو اور ان پر ایمان لے آئو تو تمہارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ بعض حضرات نے من تبعیضیہ مراد لے کر بعض گناہ ترجمہ کیا ہے یعنی حقوق العباد کے علاوہ گناہ معاف ہوجائیں گے بعض نے ن بیانیہ مراد لیا ہے بعض نے من کو زائدہ کہا ہے بہرحال بعض حضرات نے کل ذنوب ترجمہ کیا ہے حاصل یہ ہے کہ اسلام لانے سے سب ہی گناہ معاف ہوجاتے ہیں حقوق العباد کی بحث میں تھوڑی سی تفیصل ہے اگر حقوق العباد ذنوب کی قسم ہیں یعنی قتل تو اسلام لانے سے بالاتفاق معاف وجاتا ہے رہا قرض تو وہ ذنوبکم میں داخل نہیں اور حدیث میں آتا ہے کہ اہل حقوق کو خاص نعمتیں دکھائی جائیں گی وہ عرض کریں گے یا اللہ یہ نعمتیں کس کے لئے ہیں۔ ارشاد ہوگا جو اپنے حقوق معاف کردے گا یہ نعمتیں اس کو ملیں گے چناچہ لوگ اپنے اپنے حقوق معاف کردیں گے۔ اسی احتیاط کی بنا پر ہم نے ترجمے میں اور تیسیر میں بعض اور کل کا لفظ چھوڑ دیا ہے اور اس تقریر کے بعد جو ہم نے کی ہے بعض کا لفظ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس آیت سے اتنا بھی معلوم ہوا کہ کفرومعاصی پر جنات کو عذاب ہے لیکن مسلمان اور نیک ہونے پر جنت ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک اس باب میں توقف ہے البتہ ضحاک ، مالک، ابن اب لیلی اور امام محمد اور امام ابویوسف دونوں باتوں کے قائل ہیں یعنی جنت نیک جنوں کے لئے اور دوزخ گمراہ جنات کے لئے بہرحال امام صاحب کا مسلک توقف غایت احتیاط پر مبنی ہے جب تک ان جنات میں جانے کے متعلق کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو۔