The Command to reflect upon the Qur'an
Commanding the people to reflect and ponder upon the Qur'an, and prohibiting them from turning away from it, Allah says,
أَفَلَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
Will they not then reflect upon the Qur'an, or are there locks upon their hearts?
means, there indeed are locks upon some hearts, firmly closing them so that none of its meanings can reach them.
Ibn Jarir recorded from Hisham bin Urwah, from his father, may Allah be pleased with him, that;
Allah's Messenger once recited this Ayah,
أَفَلَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
(Will they not then reflect upon the Qur'an, or are there locks upon their hearts), and a young man from Yemen said,
"Indeed, there are locks upon them -- until Allah opens them totally or slightly."
After that Umar, may Allah be pleased with him, always liked that young man, and kept that to himself until he became in charge, upon which he utilized him (as a consultant).
Condemning Apostasy
Allah then says,
اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے ۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا ، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا ۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کاربد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھا دیا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ دراصل ان کا یہ کفر سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے ۔ کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لئے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور پر تمہارا ساتھ دیں گے لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی انتہا نہ ہو ۔ پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا ؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا ، قہرا ، ڈانٹ ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے ۔ جیسے ارشاد باری ہے آیت ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 50 ) 8- الانفال:50 ) ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں ۔ اور آیت میں ہے ( ولو تری اذ الظلمون ) الخ ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لئے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لئے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے ۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے ۔ پس ان کے اعمال اکارت ہوگئے ۔