Surat Muahammad

Surah: 47

Verse: 24

سورة محمد

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾

Then do they not reflect upon the Qur'an, or are there locks upon [their] hearts?

کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to reflect upon the Qur'an Commanding the people to reflect and ponder upon the Qur'an, and prohibiting them from turning away from it, Allah says, أَفَلَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا Will they not then reflect upon the Qur'an, or are there locks upon their hearts? means, there indeed are locks upon some hearts, firmly closing them so that none of its meanings can reach them. Ibn Jarir recorded from Hisham bin Urwah, from his father, may Allah be pleased with him, that; Allah's Messenger once recited this Ayah, أَفَلَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (Will they not then reflect upon the Qur'an, or are there locks upon their hearts), and a young man from Yemen said, "Indeed, there are locks upon them -- until Allah opens them totally or slightly." After that Umar, may Allah be pleased with him, always liked that young man, and kept that to himself until he became in charge, upon which he utilized him (as a consultant). Condemning Apostasy Allah then says,

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے ۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا ، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا ۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے ایک نوجوان یمنی نے کہا بلکہ ان پر ان کے قفل ہیں جب تک اللہ نہ کھولے اور الگ نہ کرے پس حضرت عمر کے دل میں یہ بات رہی یہاں تک کہ اپنی خلافت کے زمانے میں اس سے مدد لیتے رہے ۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ ہدایت ظاہر ہو چکنے کے بعد ایمان سے الگ ہوگئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے دراصل شیطان نے اس کاربد کو ان کی نگاہوں میں اچھا دکھا دیا ہے اور انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ دراصل ان کا یہ کفر سزا ہے ان کے اس نفاق کی جو ان کے دل میں تھا جس کی وجہ سے وہ ظاہر کے خلاف اپنا باطن رکھتے تھے ۔ کافروں سے مل جل کر انہیں اپنا کرنے کے لئے ان سے باطن میں باطل پر موافقت کر کے کہتے تھے گھبراؤ نہیں ابھی ابھی ہم بھی بعض امور پر تمہارا ساتھ دیں گے لیکن یہ باتیں اس اللہ سے تو چھپ نہیں سکتیں جو اندرونی اور بیرونی حالات سے یکسر اور یکساں واقف ہو جو راتوں کے وقت کی پوشیدہ اور راز کی باتیں بھی سنتا ہو جس کے علم کی انتہا نہ ہو ۔ پھر فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو گا ؟ جبکہ فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کو آئیں گے اور ان کی روحیں جسموں میں چھپتی پھریں گی اور ملائکہ جبرا ، قہرا ، ڈانٹ ، جھڑک اور مار پیٹ سے انہیں باہر نکالیں گے ۔ جیسے ارشاد باری ہے آیت ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ 50؀ ) 8- الانفال:50 ) ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ ان کافروں کی روحیں فرشتے قبض کرتے ہوئے ان کے منہ پر طمانچے اور ان کی پیٹھ پر مکے مارتے ہیں ۔ اور آیت میں ہے ( ولو تری اذ الظلمون ) الخ ، یعنی کاش کہ تو دیکھتا جبکہ یہ ظالم سکرات موت میں ہوتے ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف مارنے کے لئے پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کے عذاب کئے جائیں گے اس لئے کہ تم اللہ کے ذمے ناحق کہا کرتے تھے اور اس کی آیتوں میں تکبر کرتے تھے ۔ یہاں ان کا گناہ بیان کیا گیا کہ ان کاموں اور باتوں کے پیچھے لگے ہوئے تھے جن سے اللہ ناخوش ہو اور اللہ کی رضا سے کراہت کرتے تھے ۔ پس ان کے اعمال اکارت ہوگئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 جس وجہ سے قرآن کے معانی و مفاہیم ان کے دلوں کے اندر نہیں جاتے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٨] یعنی قرآن کے احکام اور ان احکام کی مصلحتوں میں غور کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے یا اگر غور کریں بھی تو ایسے بدھو اور عقل کے کورے واقع ہوئے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ جہاد کا حکم انہیں کن کن مصلحتوں کے تحت دیا جارہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

افلا یتدبرون القرآن …: اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھ اجائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاں میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (or do they have locks on their hearts? - 47:24) The meaning of this phrase is synonymous with similar phrases in other verses of the Qur&an where words like khatm or tab& |"[ Allah ] has set a seal [ on their hearts ] have been used to describe how the disbelievers refuse to employ their hearts for the comprehension of truth, as a natural consequence their capacities to distinguish right from wrong have become atrophied. Carelessly, committing sins all the time is the main cause of this. Allah forbid!

(آیت) اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا، دل پر قفل لگ جانے کے وہی معنی ہیں جس کو دوسری آیتوں میں تخم اور طبع یعنی مہر لگ جانے سے تعبیر کیا گیا اور مراد اس سے دل کا سخت اور ایسا بےحس ہوجانا ہے کہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگے۔ بےپروائی کے ساتھ مسلسل گناہوں میں لگے رہنا عموماً اس کا سبب ہوتا ہے نعوذ باللہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۝ ٢٤ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) دبر والتدبیرُ : التفکّر في دبر الأمور، قال تعالی: فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، يعني : ملائكة موكّلة بتدبیر أمور، ( د ب ر ) دبر ۔ التدبیر ( تفعیل ) کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا قرآن میں ہے :۔ فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے ) کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ یعنی وہ فرشتے جو امور دینوی کے انتظام کیلئے مقرر ہیں ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ قفل الْقُفْلُ جمعه : أَقْفَالٌ. يقال : أَقْفَلْتُ الباب، وقد جعل ذلک مثلا لكلّ مانع للإنسان من تعاطي فعل، فيقال : فلان مُقْفَلٌ عن کذا . قال تعالی: أَمْ عَلى قُلُوبٍ أَقْفالُها[ محمد/ 24] وقیل للبخیل : مُقْفَلُ الیدین، كما يقال : مغلول الیدین، والقُفُولُ : الرّجوع من السّفر، والْقَافِلَةُ : الرّاجعة من السّفر، والْقَفِيلُ : الیابس من الشیء، إمّا لکون بعضه راجعا إلى بعض في الیبوسة، وإمّا لکونه کالمقفل لصلابته، يقال : قَفَلَ النّباتُ وقَفَلَ الفحل وذلک إذا اشتدّ هياجه فيبس من ذلک وهزل . ( ق ف ل ) القفل : تالا جمع ۔ اقفال محاورہ ہے : ۔ اقفلت الباب میں نے در وازے کو قفل لگا دیا اور تمثیل کے طور پر اس چیز کو قفل کہا جاتا ہے جو کسی کام سے مانع اور رھاوٹ بنے چناچہ محاورہ ہے ۔ فلان مقفل عن کذا فلاں کو اس کام سے روک دیا گیا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ عَلى قُلُوبٍ أَقْفالُها[ محمد/ 24] اور انکے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ۔ اور کنجوس آدمی کو جس طرح مغلول الیدین کہا جاتا ہے اسی طرح مقفول الید ین بھی کہہ دیتے ہیں ۔ القفول سفر سے واپس لوٹنا اور سفر سے واپس آنے والی جماعت کو قافلہ کہا جاتا ہے ۔ القفیل خشک چیز کو کہتے ہیں اس لئے کہ خشک ہونے کی وجہ سے اس کے اجزاء یاک دوسرے کی طرف لوٹ آتے ہیں اور یا اس لئے کہ صلابت کی وجہ سے گویا اس پر قفل لگ جاتا ہے ۔ محاورہ ہے : ۔ قفل النبات نباتات خشک ہوگئی ۔ قفل الفحل مستی سے سانڈھ کا دبلا ہوجانا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

تو کیا یہ لوگ قرآن حکیم پر غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کیا حکم نازل کیا ہے یا ان منافقین کے دلوں پر تالے لگ رہے ہیں جس کی بنا پر ان احکامات کو نہیں سمجھتے جو ان کے بارے میں نازل ہوئے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤ { اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا } ” کیا یہ لوگ قرآن پر تدبر ّنہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑچکے ہیں ! “ اگر یہ لوگ قرآن کے احکام پر غور و فکر کرتے اور اس کے بین السطور ّپیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ غلبہ دین کی جدوجہد میں جن جن مراحل سے ان کو سابقہ پڑ رہا ہے ان تمام مراحل کے بارے میں تو انہیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا۔ ذرا دیکھیں سورة العنکبوت کی ان آیات میں راہ حق کی آزمائشوں سے متعلق کیسے دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے : { اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ } ” کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا ! “ { وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ } ” اور ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے ‘ چناچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جنہوں نے سچ بولا اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں “۔ { وَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ } (العنکبوت) ” اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو ‘ اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

35 That is, 'Either these people do not ponder over the Qur'an at all, or if they try to ponder over it, its teachings and meaning do not enter their hearts, because they have put locks on them." As for this that "there are their locks upon the hearts," it means this: "There are such locks on them as are specially meant for the hearts which are not susceptible to the truth."

سورة مُحَمَّد حاشیہ نمبر :35 یعنی یا تو یہ لوگ قرآن مجید پر غور نہیں کرتے ، یا غور کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر اس کی تعلیمات اور اس کے معانی و مطالب ان کے دلوں میں اترتے نہیں ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں جو ایسے حق ناشناس دلوں کے لیے مخصوص ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(47:24) افلا یتدبرون القران : ا ہمزہ استفہامیہ ف کا عطف جملہ محذوف پر ہے لا یتدبرون مضارع منفی صیغہ جمع مذکر غائب تدبر تفعل مصدر القران اسم مفعول واحد مذکر۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ (یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، قرآن کے اندر جو نصیحتیں ہیں اور تنبیہات ہیں ان کو تلاش نہیں کرتے۔ اگر تفحص اور تلاش سے کام لیتے تو حق ان پر واضح ہوجاتا۔ یہ استفہام انکاری توبیخی ہے۔ (تفسیر المظہری) ۔ ام علی قلوب اقفالھا ۔ ام حرف عطف بمعنی یا ہے یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا کرتے ہیں مگر ان کے دلوں پر قفل لگنے سے کچھ سمجھ نہیں پاتے۔ یا ام بمعنی بل ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے نہ صرف یہ بلکہ مزید برآں ان کے دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔ ام علی قلوب اقفالھا : کی تشریح میں صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ یہ استعارہ بالکنایہ ہے قلب کو خزانے سے تشبیہ دی اور ہر خزانہ کا مقفل ہونا لازم نہیں تو مناسب ضرور ہے مشبہ بہ کی مناسبات کو مشبہ کے لئے ثابت کیا ہے پھر اقفال کی قلوب کی طرف اضافت کی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ دلوں پر جو قفل پڑے ہیں وہ یہ مستعمل قفل نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی تالے ہیں جو قلوب کے مناسب ہیں (یعنی غفلت کے تالے ہیں لوہے پیتل وغیرہ کے نہیں) ۔ گویا بصورت کنایہ بات بتائی کہ ان کے اندر استعداد ہی نہیں ہے ان کے دل نصیحت پذیری کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔ اگر بالفرض قرآن میں یہ غور بھی کریں تب بھی سمجھ نہیں پائیں گے “۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اوپر لی آیت کے سیاق کو محلوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے اولاً تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو کفر و نفاق کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتے۔ ہاں اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لینے کیو وجہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قرآن نہایت ہی سرزنش کے انداز میں پوچھتا ہے۔ افلا یتدبرون القران (٤٨ : ٢٤) “ کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے ”۔ یوں کہ ان کی آنکھوں کے پردے زائل ہوجائیں کان سننے لگیں اور ان تک قرآن کے نور کی رسائی ہو ، ان کے پردۂ شعور پر ارتعاش ہو ، ان کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہو ، ۔۔۔ ۔ کا ضمیر مخلص ہوجائے اور ان کے اندر ایک ایسی زندگی آجائے جو قرآن کے نور سے منور ہو ، اور وہ اس سے ہدایت اخذ کریں۔ ام علی قلوب اقفالھا (٤٧ : ٢٤) “ یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ”۔ یہ قفل ان کے دلوں تک قرآن کے نور کو جانے نہیں دیتے۔ ان کے دل اس طرح بند ہیں جس طرح دروازے بند ہونے کی صورت میں انسان ، ہوا یا کوئی چیز اندر نہیں جاسکتی اور نہ روشنی جاسکتی ہے۔ منافقین کے حالات ابھی جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان کے منہ موڑنے کے اسباب کیا ہیں ؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ یہودی سازش میں شریک ہوگئے ہیں اور انہوں نے ان کو ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہ جو سازش تیار کریں گے یہ ان کی اطاعت کریں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تدبر قرآن کی اہمیت اور ضرورت ﴿اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ﴾ (کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے) ﴿ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا ٠٠٢٤﴾ یا ان کے دلوں پر قفل ہیں اس میں تو بیخ ہے اور منافقوں کے حال کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ انہیں قرآن میں تدبر کرنا چاہیے تھا قرآن کے اعجاز اور معانی اور دعوت حق کے بارے غور کرتے تو نہ منافق ہوتے اور نہ وہ حرکتیں کرتے جو ان سے صادر ہوتی رہی ہیں ان کے تدبر نہ کرنے کا انداز یہ ہے کہ جیسے ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ قال صاحب الروح : واضافة الاقفال الیھا للدلالة علی انھا اقفال مخصوصة بھا مناسبة لھا غیر مجانسة لسائر الاقفال المعھودة (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اقفال کی ان کی طرف اضافت اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ مخصوص تالے ہیں جو انہیں کے مناسب ہیں مشہور معروف تالوں کی طرح نہیں ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” افلا یتدبرون “ یہ منافقین پر زجر ہے کیا یہ لوگ قرا ان کی آیات بینات میں غور و تدبر ہی نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہیں اور وہ ایسے بےشعور ہیں کہ ان میں تدبر و تفکیر کی صلاحیت ہی نہیں۔ اگر یہ لوگ حکم جہاد میں ذرا غور سے کام لیتے تو جہاد کے دینی اور دنیوی فوائد ان پر واضح ہوجاتے۔ ” ان الذین ارتدوا۔ الایۃ “ منافقین اسلام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد میں شرکت نہیں کرتے اور اپنے قول واقرار سے پھرے جاتے ہیں شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ جہاد میں جاؤ گے تو قتل ہوجاؤ گے اور ان کی امیدوں میں یہ کہہ کر اضافہ کیا کہ گھر میں رہو گے تو زیادہ عرصہ تک زندہ رہو گے اس لیے چھوڑو جہاد کو۔ المعنی وعدھم بالبقاء الطویل (روح ج 26 ص 75) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور اور دھیان نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی حکومت کے غرور میں ظلم کرنے لگے پھر کسی کا سمجھایا نہ سمجھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا اس کا تعلق اسی معنی سے ہے جو انہوں نے اختیار کئے ورنہ دوسرے لوگوں نے ان آیتوں سے منافق مراد لئے ہیں اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ جب کفر ونفاق اور عناد طبیعت میں پرورش پاتے رہتے ہیں تو ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ وہ شخص رحمت سے دور کردیاجاتا ہے آنکھیں اور کان حق کو سمجھنے اور دیکھنے سے بےکار ہوجاتے ہیں قرآن کو سمجھنے کا شعور سلب ہوجاتا ہے اور دلوں پر تالے ڈال دیئے جاتے ہیں اور بھلی بات دل میں اثر نہیں کرتی اور دل میں گھس ہی نہیں سکتی اور اس پھٹکار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کھلم کھلا کفر کی طرف عود کرجاتا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔