Surat ul Fatah

Surah: 48

Verse: 21

سورة الفتح

وَّ اُخۡرٰی لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَیۡہَا قَدۡ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿۲۱﴾

And [He promises] other [victories] that you were [so far] unable to [realize] which Allah has already encompassed. And ever is Allah , over all things, competent.

اور تمہیں اور ( غنیمتیں ) بھی دے جن پر اب تک تم نے قابو نہیں پایا ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں اپنے قابو رکھا ہے اور اللہ تعالٰی ہرچیز پر قادر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And other (victories) which are not yet within your power; indeed Allah encompasses them. And Allah is Ever Able to do all things. Meaning, there are other war spoils and victories to come which are not within your grasp now. However, Allah will make them within your reach and indeed He compasses all these victories for your benefit. Surely, Allah the Exalted provides provisions and sustenance for His servants who have Taqwa, from resources they could never imagine. Scholars of Tafsir differ over the reference to other war spoils mentioned here. Al-`Awfi reported that Ibn Abbas said that it refers to the conquest of Khyber. This meaning is sound according to the Ayah, فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ (and He has hastened for you this), which refers to the treaty of Al-Hudaybiyyah. This is view of Ad-Dahhak, Muhammad bin Ishaq and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam. Qatadah said that this part of the Ayah refers to the conquest of Makkah, and this opinion was preferred by Ibn Jarir. Ibn Abi Layla and Al-Hasan Al-Basri said that it refers to victories over the Persians and the Romans, while Mujahid said that it refers to every victory and all spoils of war, until the Day of Resurrection. Abu Dawud At-Tayalisi recorded that Ibn Abbas commented on the Ayah, وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا (And other (victories) which are not yet within your power; indeed Allah compasses them), "They are the victories that are continuing until this day." Had Makkah's Disbelievers fought at Al-Hudaybiyyah, They would have retreated in Defeat Allah said, وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الاَْدْبَارَ ثُمَّ لاَ يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 یہ بعد میں ہونے والی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والی غنیمت کی طرف اشارہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] صلح حدیبیہ کیسے فتح مکہ کا پیش خیمہ بنی ؟ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ جس کا پیش خیمہ یہ صلح حدیبیہ ہی بن گئی تھی۔ اور اللہ کو ٹھیک معلوم تھا کہ یہ صلح کس طرح فتح مکہ کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ صلح نامہ کی دوسری شرط کی رو سے بنو خزاعہ مسلمانوں کے اور بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے تھے۔ صلح کے ڈیڑھ سال بعد بنوخزاعہ اور بنوبکر کی آپس میں لڑائی ہوگئی جس میں قریش نے کھلم کھلا بنوبکر کی مدد کی اور جب بنوخزاعہ نے حرم میں پناہ لی تو انہیں وہاں بھی نہ چھوڑا۔ بعد ازاں بنو خزاعہ کے چالیس شتر سوار فریاد کے لئے مدینہ پہنچے۔ آپ کو قریش کی اس بدعہدی پر سخت صدمہ ہوا۔ لہذا آپ نے قریش کے لئے تین شرطیں پیش کیں کہ ان میں سے کوئی ایک تسلیم کرلی جائے۔ (١) بنوخزاعہ کے مقتولین کا خون بہا دیا جائے۔ (٢) قریش بنوبکر کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ (٣) اعلان کیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ختم ہوگیا۔ قاصد نے جب یہ شرائط قریش کے سامنے پیش کیں تو ان کا نوجوان طبقہ بھڑک اٹھا۔ ان میں سے ایک شخص فرط بن عمر نے قریش کی طرف سے اعلان کردیا کہ صرف تیسری شرط منظور ہے۔ قاصد واپس چلا گیا تو ان لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو کر ہوش و حواس درست ہوئے اور انہیں سخت فکر دامن گیر ہوئی۔ چناچہ ابو سفیان کو تجدید معاہدہ کے لئے بھیجا گیا۔ اس نے مدینہ پہنچ کر رسول اللہ سے تجدید معاہدہ کی درخواست کی۔ لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے علی الترتیب سیدنا ابو بکرصدیق (رض) سیدنا عمر (رض) حتیٰ کہ سیدہ فاطمہ (رض) تک سے سفارش کی درخواست کی۔ لیکن جب سب نے جواب دے دیا تو اس نے خود ہی مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر یکطرفہ اعلان کردیا کہ میں نے معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کردی۔ قریش کی یہ بدعہدی، پھر اس کے بعد صرف تیسری شرط منظور کرنے کا جواب دراصل اعلان جنگ کے مترادف تھا۔ چناچہ آپ نے فتح مکہ کی مہم کا آغاز کردیا اور جب ابو سفیان وہاں پہنچا تو اس وقت تجدید معاہدہ کا وقت گزر چکا تھا۔ لہذا آپ اسے کسی قسم کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہ تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واخری لم تقدروا علیھا…:” اخری “ ” مغانم “ کی صفت ہے جو یہاں محذوف ہے اور اس کا عطف ” مغانم کثیرۃ “ پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان غنیمتوں کے علاوہ جن کا اوپر ذکر ہوا، کئی اور غنیمتوں کا بھی وعدہ فرمایا ہے جن پر تم قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے مراد سب سے پہلے فتح مکہ ہے جو فتح الفتوح تھی۔ مسلمان حدیبیہ والے سال اور اس سے اگلے سال اسے حاصل نہیں کرسکے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا فیصلہ ہوچکا تھا، چناچہ صلح حدیبیہ ہی اس کا پیش خیمہ بنی۔ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے قریش مکہ کا حلیف بن جائے اور کوئی کسی کے خلاف یا اس کے حلیف کے خلاف جنگ نہ کرے۔ اس موقع پر بنو خزاعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلفی اور بنو بکر قریش مکہ کے حلفی بن گئے۔ مشرکین صلح کے بعد صرف دو سال تک معاہدہ پر قائم رہے، پھر ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کردیا، جس میں قریش نے اسلحے اور آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی اور کعبہ میں پناہ لینے کے باوجود انہیں قتل کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے معاہدہ توڑنے کی اطلاع ملی تو آپ نے نہایت اخفا کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح فرما دیا۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سیف تح مکہ کے علاوہ وہ تمام فتوحات ” واخری لم تقدروا علیھا “ میں داخل ہیں جو اس کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، جن میں ثقیف و ہوازن کی فتح اور تبوک وغیرہ کی فتح بھی شامل ہیں۔ روم و فارس، مصر و شام ، ہندو سندھ اور زمین کے مشرق و مغرب کے وہ تمام ممالک بھی جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آنے والے تھے۔ (٢) قد احاط اللہ بھا، وکان اللہ علی کل شیء قدیراً : یہ اس سوال کا جواب ہے جو یہاں پیدا ہوسکتا تھا کہ مدینہ کی بستی کے یہ چودہ پندرہ سو آدمی، جن کے پاس اسلحہ اور دوسری ضروری ات حتیٰ کہ سامان خوردو نوش کی بھی کمی ہے، اتنی کثیر فتوحات اور غنیمتیں کیسے حاصل کرسکتے ہیں، جب کہ پورا عرب ان کے خلاف ہے، جن کے پاس آدمیوں، اسلحے اور ساز و سامان کی فراوانی ہے ؟ فرمایا یہ لوگ واقعی وہ فتوحات اور غنیمتیں حاصل نہیں کرسکتے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کا گھیرا کرلیا ہو اور انہیں مسلمانوں کو عطا فرمانا چاہتا ہو تو پھر کون ہے جو اسے روک سکے ؟ اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَ‌ةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰ وَأُخْرَ‌ىٰ لَمْ تَقْدِرُ‌وا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّـهُ بِهَا (And (there are) other (victories) that have not come within your power as yet, (but) Allah has encompassed them....|" (48:21). This verse embodies a prophecy that Muslims will achieve many more great victories after the victory of Khaibar. But Allah says that they were unable to achieve them at that time; they would happen in future. Among these victories, Makkah was the first one to be achieved. Therefore, some scholars refer this to the victory of Makkah. However, the wordings are general and refer to all the victories that will be achieved till the end of the world (Mazhari).

(آیت) وَّاُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا، یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے اور بہت سی فتوحات کا وعدہ کیا ہے جس پر ابھی ان کو قدرت نہیں۔ ان فتوحات میں چونکہ سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی فتح ہے اس لئے بعض حضرات نے اس سے فتح مکہ مراد لیا ہے مگر الفاظ عام ہیں قیامت تک ہونے والی فتوحات اس میں شامل ہیں (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہَا قَدْ اَحَاطَ اللہُ بِہَا۝ ٠ ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا۝ ٢١ قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان کوئی کام کرسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے قادرہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عاجز نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی معنوی طور پر قدرت کا ملہ کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتی اگرچہ لفظی طور پر ان کیطرف نسبت ہوسکتی ہے اس لئے انسان کو مطلقا ھو قادر کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ تقیید کے ساتھ ھوقادر علی کذا کہاجائیگا لہذا اللہ کے سوا ہر چیز قدرت اور عجز دونوں کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو ہر لحاظ سے عجز سے پاک ہے ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یعنی وہ ہر جانب سے ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ (2) دوم احاطہ بالعلم ہے جیسے فرمایا :۔ أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ایک دوسری غنیمت اور بھی آنے والی ہے جو اس وقت تک تمہارے قبضہ میں نہیں آئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو اپنے احاطہ قدرت میں لیے ہوئے ہے جب چاہے گا ہوجائے گا وہ فتح فارس ہے اور اللہ تعالیٰ فتح و نصرت، اور غنیمت پر چیز پر قادر ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا } ” اور کچھ (فتوحات) اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی ‘ اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔ “ یعنی اس کے فوراً بعد تمہیں خیبر کی فتح حاصل ہوگی اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ سرزمین عرب سے باہر بھی بہت سی فتوحات اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گھیر رکھی ہیں۔ ان فتوحات کے بارے میں دوسرے رکوع (آیت ١٦) میں بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تیسرے رکوع کی یہ آیات دوسرے رکوع کی آیات سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ” اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 Most probably this is a reference to the Conquest of Makkah. The same is the opinion of Qatadah and Ibn Jarir. It seems to mean this: "Though Makkah has not yet fallen to you, Allah has encircled it, and as a result of this victory at Hudaibiyah, it will also fall to you. "

سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :40 اغلب یہ ہے کہ یہ اشارہ فتح مکہ کی طرف ہے ۔ یہی رائے قتادہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے ۔ ارشاد الہی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تو مکہ تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے مگر اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور حدیبیہ کی اس فتح کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آ جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: اس سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگرچہ ابھی مسلمان مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کی حالت میں نہیں ہیں، لیکن وہ وقت آنے والا ہے جب قریش مکہ خود حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اسے توڑ دیں گے، اور اس کے بعد مسلمانوں کے لیے فتح مکہ کا راستہ کھل جائے گا، اور اس کے بعد حنین وغیرہ کی فتوحات حاصل ہوں گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(48:21) واخری لم تقدروا علیہا : واخری کا عطف فعجل لکم ھذہ میں ھذہ پر ہے ای فعجل لکم ھذہ المغانم ومغانم اخری یعنی اس نے تم کو فوری طور پر اموال غنیمت عطا کئے اور (ان کے علاوہ) اور اموال غنیمت بھی ہیں۔ لم تقدروا : مضارع منفی ھضد بلم۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ قدر (باب ضرب) مصدر۔ قابو پانا۔ قبضہ قدرت میں رکھنا۔ قادر ہونا۔ علیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع (مغانم) اخری ہے اور دوسری غنیمتیں جو ابھی تمہارے قبضہ قدرت میں نہیں آئیں۔ ان مغانم اخری سے کونسی فتوحات و اموال غنیمت مراد ہیں اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اس سے مراد ملک فارس و روم کے فتوحات اور اموال غنیمت ہیں (ابن عباس (رض) حسن۔ مقاتل۔ (2) اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ (قتادہ) (3) اس سے مراد فتح حنین ہے۔ (عکرمہ) (4) آئندہ حاصل ہونے والی ہر فتح مراد ہے۔ (مجاہد) قد احاط اللّٰہ بھا : احاط ماضی واحد مذکر غائب۔ احاطۃ (افعال) مصدر۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطہ کرنے کے معنی ہیں کسی شے پر اس طرح چھا جانا کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ قد ۔۔ بھا۔ ای حفظھا لکم حتی تفتحوھا ومنعھا من غیرکم حتی تاخذوھا (الخازن) اللہ نے ان کو اپنی حفاظت میں لے رکھا ہے یہاں تک کہ تم ان کو فتح کرلو اور ان کو غیروں سے بچا رکھا ہے یہاں تک کہ تم ان کو پالو۔ یا احاطہ سے مراد علمی احاطہ ہے یعنی اللہ کا علم ان کو محیط ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو تم سے فتح کرنا چاہتا ہے۔ مولانا مودوی لکھتے ہیں :۔ اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے اور یہی رائے قتادہ کی ہے اور اسی کو ابن جریر نے ترجیح دی ہے ارشاد الٰہی کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ :۔ ابھی تو مکہ تمہارے قابو میں نہیں آیا مگر اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور حدیبیہ کی اس فتح کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضہ میں آجائے گا۔ وکان اللّٰہ علی کل شیء قدیرا۔ (اور اس کے لئے یہ مشکل نہیں کیونکہ) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ مراد اس سے فتح مکہ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واخری لم تقدروا ۔۔۔۔ کل شیء قدیرا (٤٨ : ٢١) “ اس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کے “ علاوہ ” کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے ؟ یا فتح خیبر ہے ؟ یا قیصرو کسریٰ کی مملکتوں کی فتوحات ہیں ؟ یا اس سے وہ تمام فتوحات مراد ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوتی رہیں ؟ زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس فتح کے اسباب صلح حدیبیہ ہی نے فراہم کئے۔ یہ صلح صرف دو سال تک جاری رہ سکی۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس طرح اللہ نے اس فتح کی راہ ہموار کردی اور مکہ مکرمہ بغیر جنگ کے فتح ہوگیا۔ یہ مکہ ہی تھا جو مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کیا کرتا تھا اور مسلمانوں کے گھر کے اندر آکر لڑتا تھا اور حدیبیہ کے وقت بھی اسی نے مسلمانوں کو بغیر عمرہ واپس کردیا۔ اللہ نے اسے گھیر لیا اور بغیر جنگ کے یہ قبضے میں آگیا۔ وکاین اللہ علی کل شیء قدیرا (٤٨ : ٢١) “ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ یہ بھی دراصل ایک در پردہ خوشخبری تھی ۔ اس وقت اللہ نے اسے ظاہر نہیں کیا تھا اور ان غیبی امور میں سے تھا جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہاں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا تا کہ لوگ مطمئن اور پر امید ہوں اور خوش ہوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

وَ يَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا ھو الثقۃ بفضل اللّٰہ تعالیٰ والتوکل علیہ فی کل ما تاتون و تذرون ﴿وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا ﴾ (اور ان کے علاوہ بھی فتوحات ہوں گی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ ) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے وہ فتوحات مراد ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوئیں مثلاً فارس اور روم فتح ہوئے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے علاقے اور ممالک ان کے قبضے میں آئے۔ حضرت حسن (رح) نے فرمایا کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے اور حضرت عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے فتح حنین مراد ہے اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ قیامت تک مسلمانوں کو جو بھی فتوحات نصیب ہوں گے وہ سب مراد ہیں یہ اقوال مفسر قرطبی (رح) نے لکھے ہیں۔ ﴿ لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهَا﴾ ظاہری معنی تو یہ ہے کہ اس وقت تو تم کو ان پر قدرت حاصل نہیں ہوئی اور بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ لن تکونو ترجونھا کہ تمہیں ان کے فتح ہونے کی امید نہ تھی بعض حضرات نے اسی کا اردو ترجمہ یوں کیا ہے کہ وہ فتوحات تمہارے خواب و خیال میں بھی نہ تھیں۔ ﴿ قَدْ اَحَاط اللّٰهُ بِهَا ﴾ (اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ تم انہیں فتح کرو گے اس نے مقدر فرما دیا ہے کہ ان پر تمہارا قبضہ ہوگا۔ ) ﴿ وَ كَان اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا ٠٠٢١﴾ (اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ جب چاہے جسے چاہے جو ملک اور مملکت نصیب فرمائے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور ایک اور فتح بھی موعود ہے جس پر سردست تم کو دسترس نہ ہوسکی اور تم اس پر قابو نہ پاسکے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت میں ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے جیسا کہ ہم تمہید کے نمبر 4 میں عرض کرچکے ہیں۔ یہ وہی بیعت ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دیکھ کر کہ جنگ ناگزیر ہے مسلمانوں کو جمع کرکے جہاد پر بیعت لی اور تقریباً چودہ سو آدمیوں نے بیعت کی۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور رضامندی کا اظہار فرمایا یہ بیعت ایک کیکر کے درخت کے نیچے کی گئی، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صدق و خلوص کا یہ کہہ کر اظہار فرمایا۔ تعلم ما فی قلوبھم۔ اس موقعہ پر سکینہ نازل فرمایا اور مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان پیدا کردیا اور جو فرمایا فتح قریب تو اس سے مراد خیبر کی فتح ہے اور مغانم کثیرۃ وہاں سے حاصل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے فتح بھی دی اور غنائم بھی بکثرت عطا فرمائے اللہ تعالیٰ کمال قوت و طاقت کا مالک ہے اور بڑی حکمت والا ہے جب کسی کو چاہتا ہے فتح دیتا ہے اور جب چاہتا ہے غنائم سے مالا مال کردیتا ہے اور ایک خیبر پر کیا موقوف ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے تم کو جلدی عطا کردی ہے اس نے ت تم سے اور بھی غنائم کا وعدہ کررکھا ہے شاید ان غنائم سے مراد فارس اور روم کے غنائم ہوں یا قیامت تک جو غنائم حاصل ہوتے ہیں۔ اس انعام کے بعد اور انعام فرمائے کہ تم پر حملہ کو روکا اور لوگوں کو تم پر ہاتھ نہیں اٹھانے دیا۔ ان لوگوں سے مراد خیبر اور ان کا حلفاء مراد ہیں۔ بنی اسد اور بنی غطفان ان کے حلفاء تھے وہ مدد کو خیبر والوں کی آئے تھے لیکن مرعوب ہوکر واپس ہوگئے ان انعامات میں اگرچہ بہت سی مصلحتیں تھیں اور بہت سے منافع مقصود تھے اور ان منافع اور مقاصد کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ مسلمانوں کے لئے یہ کافروں کے ہاتھوں کو روکنا ا کی نمونہ اور نشانی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور مددگار ہے اور مسلمان اللہ کے نزدیک ذی مرتبت ہیں اور وہ ان کا ضامن ہے یا ہاتھ روکنے سے مراد کفار مکہ کے ہاتھوں کو روکنا ہے کہ وہاں صلح ہوگئی اور تم سب سلامت واپس آئے۔ بہرحال جہاں تمہارے لئے یہ ایک نمونہ اور نشان تھا وہاں یہ بھی مقصود تھا کہ تم کو راہ مستقیم پر قائم رکھے تماری بصیرت اور تمہارا اعتماد اور توکل اللہ تعالیٰ کے فضل پر خوب پختہ ہو اور تم راہ مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہو دوسری فتح شاد مکہ کی فتح ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب صلح سوال کا جواب تھا حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا مکہ میں حضرت عثمان (رض) کو یہاں جھوٹی خبراڑای کہ ان کو مار ڈالا حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا اب مجھ کو لڑنا حلال ہوا کہ پہل انہوں نے کی اور وہ خبر جھوت تھی اور یہ بھی کہ اسی آدمی مکہ کے گرد آئے کہ اکیلے دو کیلے کو ماریں وہ سب جیتے پکڑلئے پس حضرت نے ارادہ کیا لڑنے کا تو ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھے اور کہا مجھ سے قول کرو کہ مرتے دم تک کوتاہی نہ کرو گے سب نے قول دیا۔ ایک منافق تھا جد بن قیس اس کے سوا کوئی نہیں رہا وہ بیعت اللہ کے ہاں قبول پڑی اللہ نے جانا جو ان کے دل میں ہے یعنی ظاہر کا اندیشہ اور دل کا توکل اور نعام میں دی یہ فتح خیبر اس سے مسلمان آسودہ ہوئے اور حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس بیعت والا کوئی نہ جاوے گا دوزخ میں۔ یہ بھی انعام میں داخل ہے کہ لوگوں کے ہاتھ یعنی لڑائی نہ ہونے دی۔ یعنی اس بیعت کے انعام میں فتح خیبر دی اور فتح مکہ جو اس وقت ہاتھ نہ لگی وہ بھی مل ہی چکی ہے۔ خلاصہ : یہ کہ ان آیات میں بیعت کے واقعہ کے ساتھ ساتھ جس کو بیعت رضوان کہتے ہیں حضرت حق تعالیٰ نے اپنے احسانات بتائے مثلاً مسلمانوں کے خلوص اور توکل کا اعلان، سکینہ کا نزول فتح خیبر اور اس کے غنائم میں تعجیل دیگر مغانم کثیرہ کا وعدہ لوگوں کے حملے سے بچانا اور دشمنوں کا مرعوب کردینا مسلمانوں کے لئے ان تمام امور کو ایک نشان قرار دینا، اور مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی بشارت دینا۔ دوسری ایک اور فتح کی یعنی مکہ معظمہ یا فارس وروم کی بشارت اور سب سے بڑی بات اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی کا اعلان۔ غرض ان آیات میں حضرت حق جل مجدہ نے ان احسانات کا اظہار فرمایا جو حدیبیہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک سفر تھے اور بیعت میں شریک تھے اور جنگ کے موقعہ پر جنگ کے لئے آمادہ ہوئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روکنے اور صلح کرنے کے بعد صلح کے لئے آمادہ ہوگئے آگے اور اسی صلح کے جوحقیقتاً پیغمبر کی فتح تھی احوال بیان فرمائے۔