Surat ul Fatah

Surah: 48

Verse: 4

سورة الفتح

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لِیَزۡدَادُوۡۤا اِیۡمَانًا مَّعَ اِیۡمَانِہِمۡ ؕ وَ لِلّٰہِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ۙ﴿۴﴾

It is He who sent down tranquillity into the hearts of the believers that they would increase in faith along with their [present] faith. And to Allah belong the soldiers of the heavens and the earth, and ever is Allah Knowing and Wise.

وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون ( اور اطمینان ) ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں اور آسمانوں اور زمین کے ( کل ) لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالٰی دانا با حکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah sent down the Sakinah into the Hearts of the Believers Allah the Exalted said, هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُوْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ... He it is Who sent down As-Sakinah into the hearts of the believers, that they may grow more in faith along with their faith. meaning, tranquility. Qatadah commented, "Grace into the hearts of the believers", that is, the Companions, may Allah be pleased with them, on the Day of Al-Hudaybiyyah. The companions were they, who accepted the call of Allah and His Messenger and obeyed the decisions of Allah and His Messenger. When their hearts felt content with acceptance and were at peace, Allah increased their faith, joining it to the faith they already had. Al-Bukhari, and other Imams, relied on this Ayah as proof that faith increases and decreases in the hearts. Allah the Exalted said next that had He willed, He would have inflicted defeat on the disbelievers, Allah says; ... وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... And to Allah belong the armies of the heavens and the earth, and had He willed to send only one angel to them, that angel would have brought destruction to all what they had. However, Allah the Exalted willed Jihad and fighting to be established for, and by, the believers for great wisdom, clear reasons and unequivocal evidences that He had in all this. This is why Allah the Great said next, ... وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا and Allah is Ever All-Knower, All-Wise. Allah the Exalted and Most Honored said,

اطمینان و رحمت سکینہ کے معنی ہیں اطمینان رحمت اور وقار کے ۔ فرمان ہے کہ حدیبیہ والے دن جن باایمان صحابہ نے اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لی اللہ نے ان کے دلوں کو مطمئن کر دیا اور ان کے ایمان اور بڑھ گئے اس سے حضرت امام بخاری وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ دلوں میں ایمان بڑھتا ہے اور اسی طرح گھٹتا بھی ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے لشکروں کی کمی نہیں وہ اگر چاہتا تو خود ہی کفار کو ہلاک کر دیتا ۔ ایک فرشتے کو بھیج دیتا تو وہ ان سب کو برباد اور بےنشان کر دینے کے لئے بس تھا لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ سے ایمانداروں کو جہاد کا حکم دیا جس میں اس کی حجت بھی پوری ہو جائے اور دلیل بھی سامنے آجائے اس کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ ایمانداروں کو اپنی بہترین نعمتیں اس بہانے عطا فرمائے ۔ پہلے یہ روایت گذر چکی ہے کہ صحابہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی اور پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کیا ہے؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری کہ مومن مرد و عورت جنتوں میں جائیں گے جہاں چپے چپے پر نہریں جاری ہیں اور جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے اور اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ اور ان کی برائیاں دور اور دفع کر دے انہیں ان کی برائیوں کی سزا نہ دے بلکہ معاف فرما دے درگذر کر دے بخش دے پردہ ڈال دے رحم کرے اور ان کی قدر دانی کرے دراصل یہی اصل کامیابی ہے جیسے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت ( فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ١٨٥؁ ) 3-آل عمران:185 ) ، یعنی جو جہنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا ۔ پھر ایک اور وجہ اور غایت بیان کی جاتی ہے کہ اس لئے بھی کہ نفاق اور شرک کرنے والے مرد و عورت جو اللہ تعالیٰ کے احکام میں بدظنی کرتے ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول کے ساتھ برے خیال رکھتے ہیں یہ ہیں ہی کتنے؟ آج نہیں تو کل ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا اس جنگ میں بچ گئے تو اور کسی لڑائی میں تباہ ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل اس برائی کا دائرہ انہی پر ہے ان پر اللہ کا غضب ہے یہ رحمت الہی سے دور ہیں ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے دوبارہ اپنی قوت ، قدرت اپنے اور اپنے بندوں کے دشمنوں سے انتقام لینے کی طاقت کو ظاہر فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزیز و حکیم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی اس اضطراب کے بعد جو مسلمانوں کو شرائط صلح کی وجہ سے لاحق ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت نازل فرما دی جس سے ان کے دلوں کو اطمینان سکون اور ایمان مزید حاصل ہوا یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ 4۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے کسی لشکر (مثلًا فرشتوں) سے کفار کو ہلاک کروا دے، لیکن اس نے اپنی حکمت بالغہ کے تحت ایسا نہیں کیا اور اس کے بجائے مومنوں کو قتال و جہاد کا حکم دیا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کے جذبات کی دو انتہائیں :۔ حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہوئیں اور دونوں ہی اپنی انتہا کو پہنچیں اور دونوں ہی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا نتیجہ تھیں۔ پہلے خون پر بیعت لی گئی جس سے مسلمانوں میں جنگ کے لئے اس قدر اشتعال پیدا ہوگیا کہ وہ کافروں کے مقابلہ میں سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس کے بعد مسلمان دراصل صلح کے حق میں ہی نہ تھے چہ جائیکہ نہایت توہین آمیز شرائط پر صلح کے لئے آمادہ ہوں۔ ان باتوں پر سیدنا ابو جندل کا واقعہ مزید اشتعال دلانے والا تھا جس سے سب مسلمانوں کے دل بھر آئے تھے اور اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ تو یہ چاہتے تھے کہ اسی وقت کافروں کی تکا بوٹی کردیں۔ اور اس وقت انہیں یہ قدرت بھی حاصل تھی۔ مگر جب انہیں اللہ اور اس کے رسول نے ٹھنڈا کیا۔ تو یکدم ان کے جذبات ٹھنڈے ہوگئے۔ ہر مسلمان جب دوسرے سے یہ پوچھتا کہ آج ایسی توہین آمیز شرائط پر صلح کیوں کی جارہی ہے تو ہر ایک یہی جواب دے دیتا اللہ و رسولہ اعلم سیدنا عمر کی طبیعت کفار کے حق میں سب سے زیادہ جوشیلی تھی۔ انہوں نے کچھ اضطراب کا مظاہرہ ضرور کیا جیسا کہ مذکور دو احادیث سے واضح ہے۔ مگر وہ بھی نافرمانی کی حد کو نہ پہنچا اور سیدنا عمر کو اس بات کا عمر بھر افسوس بھی رہا۔ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سکون نازل کیا گیا وہ اللہ کی طرف سے تھا۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ حالات کچھ اور رخ اختیار کر جاتے۔ اگر کافروں کو کچلنا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے پاس مدد کے اور بھی کئی طریقے اور اسباب موجود تھے۔ البتہ ان دونوں انتہاؤں میں مسلمانوں کی آزمائش ہوگئی کہ وہ کس حد تک اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع رہتے ہیں۔ پھر جب وہ اس آزمائش میں پورے اترے تو یہی بات ان کے ایمان میں مزید اضافہ کا سبب بن گئی اور اللہ نے اپنے رسول پر بھی احسان فرمایا اور مسلمانوں پر بھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ھو الذی انزل الکسینۃ فی قلوب المومنین :” الکسینۃ “ سے مراد وہ سکون و اطمینان اور ثبات قلب ہے جس کا اتارنا اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے نکلنے سے لے کر اس فتح مبین کے حصول تک مومنوں کے دلوں پر مسلسل جاری رکھا اور جو اس فتح کا اہم سبب بنا، ورنہ اگر مسلمان مدینہ سے عمرہ کے لئے نکلتے وقت منافقین کی طرح سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحاً موت کے منہ میں جانا ہے، یا راستے میں جب اطلاع ملی کہ قریش لڑنے مرنے پر تلے ہوئے ہیں تو ہمت ہار جاتے، یا حدیبیہ میں پہنچنے پر جس طرح کفار نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور چھاپے اور شب خون مار مار کر انہیں اشتعال دلانے کی کوشش کی ، پھر جب عثمان (رض) کی شہادت کی خبر پھیلی، ان میں سے کسی موقع پر اگر مسلمان اپنے آپ پر قابو نہ رکھتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت پر قائم نہ رہتے تو یہ فتح مبین کبھی حال نہ ہوتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت ہی تھی جس نے ہر موقع پر انہیں اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرئاط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان اطاعت پر ثابت قدم رکھا۔ پھر جب صلح کی وہ شرائط ان کے سامنے آئیں جو مسلمانوں کو سخت ناپسند اور ان کے خیال میں ان کی ذلت کا باعث تھیں، خصوصاً ابوجندل (رض) مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے مجمع عام میں آکھڑے ہوئے، اس موقع پر اس سکینت ہی کی برکت تھی کہ سب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے پر سر تسلیم خم کردیا۔ (٢) لیزدادوآ ایمانا مع ایمانھم : یعنی ایمان انہیں پہلے بھی حاصل تھا مگر ان تمام آزماشوں میں ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور جب اس ثابت قدمی کے خوش گوار نتائج سامنے آئے تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا۔ یہ آیت بھی ان بہت سی آیات و احادیث میں سے ایک ہے جو ایمان میں زیادتی اور کمی کی دلیل ہیں۔ امام بخاری نے متعدد آیات و احادیث کے ساتھ اس مسئلے کو مدلل ذکر فرمایا ہے۔ روح المعانی میں ہے :” بخاری نے فرمایا، میں بہت سے شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء سے ملا، میں نے ان میں سے ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو اس بات سے اختلاف کرتا ہوا کہ ایمان قول اور عمل ہے اور اس میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور انہوں نے اس کی عقلی اور نقلی دلیلیں بیان کی ہیں۔ عقلی دلیلیں تو یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت میں تفاوت نہ ہو تو امت کے عام آدمیوں کا ایمان، جو فسق و فجور میں منہمک رہتے ہیں، انبیاء کے ایمان کے برابر ہوگا اور یہ لازم باطل ہے ، سو ملزوم بھی ایسا ہی ہے اور نقلی دلیل یہ کہ اس مفہوم کی آیات و احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے ایک یہ آیت ہے جو زیر تفسیر ہے۔ “ (ملحضاً ) یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان میں زیادتی کا مطلب اعمال کے لحاظ سے زیادتی ہی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور اس کے یقین میں بھی زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ کبھی یقین کا یہ حال ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جان، مال اور ہر چیز اللہ کی راہ میں لٹانے پر تیار ہوجاتا ہے اور بھی اس یقین میں ایسی کمی ہوتی ہے کہ اسلام قبول کرتے وقت ایمان کا جو سرمایہ اسے حاصل ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑجاتا ہے۔ تعجب اور افسوس ہے ان بڑے بڑے شیوخ الحدیث پر جو اتنی صریح آیات و احادیث کے باوجود یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے، ان کے علمک ا کمال یہی ہے کہ وہ تاویل کے ذریعے سے ثابت کردیتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا ایمان برابر ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے دھڑے کے کسی بزرگ نے کہہ دیا ہے کہ ایمان میں نہ زیاتدی ہوتی ہے نہ کمی۔ (٣) وللہ جنود السموت ولارض : یعنی آپ کو ظاہر اسباب کی کمی کے باوجود یہ فتح مبین آپ کی جدوجہد یا ذاتی کمال کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی بدولت حاصل ہوئی، کیونکہ وہی آسمانوں کے اور زمین کے بیشمار لشکروں کا مالک ہے۔ جس کی چاہتا ہے جس لشکر کے ساتھ چاہتا ہے مدد کردیتا ہے۔ آسمانوں کے لشکروں کی مثال بدر میں نازل ہونے والے فرشتے، احزاب میں آنے والی آندھی اور بدر میں اترنے والی بارش ہیں اور زمین کے لشکروں کی مثال فتح مکہ کے موقع پر آنے والے دس ہزار مجاہدین کا عظیم الشان لشکر ہے۔” للہ “ کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہوا، جس کا مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ مانتا ہی نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے علاوہ بھی کسی کے پاس کوئی لشکر ہے، کیونکہ اس کیس امنے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ (٤) وکان اللہ علیماً حکیماً : یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے لشکروں کا اکیلا مالک ہے اور لشکر بھی ایسے کہ ان میں سے کسی لشکر کا ایک فرد اگر اللہ کا حکم ہو تو تمام کافر کو نیست و نابود کر دے، مگر اس نے یہ فتح مبین اور نصر عزیز صلح کی صورت میں عطا فرمائی کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ اس کے علم میں یہ بات تھی اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ اب کفار کو تلوار کی مار کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کی دعوت سننے کا موقع دیا جائے، تاکہ کافر مسلمان ہوجائیں اور دشمن دوست بن ذجائیں۔ واضح رہے، یہاں ” علیماً حکیماً “ فرمایا ہے : جبکہ آگے جہاں کفار و منافقین کیلئے عذاب اور لعنت کا ذکر فرمایا ہے وہاں ” عزیز اً حکیماً “ فرمایا ہے، کیونکہ عذاب کے ذکر کے مناسب صفت علم کے بجائے صفت عزیز ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Bounties of Allah upon the Participants of Hudaibiyah In the first three verses of this Surah, reference was made to Allah&s particular bounties bestowed upon the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the wake of the manifest victory. Some of the participants of Hudaibiyah congratulating the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، asked him that the favours are conferred exclusively upon him, but what is there in it for them? In response to this query, verses 4-7 were revealed. They distinctly refer to the good graces of Allah upon the participants of Hudaibiyah and the Pledge of Ridwan. These favours were generously bestowed upon them because of faith in, and obedience to, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . All believers whose faith and obedience are complete and perfect will receive similar good graces of Allah.

خلاصہ تفسیر وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا (جس کے دو اثر ہیں ایک بیعت جہاد کے وقت اس کی طرف مسابقت اور عزم و ہمت جیسا کہ بیعت رضوان کے واقعہ میں اوپر ذکر آ چکا ہے اور دوسرا اثر کفار کی بےجا ضد کے وقت اپنے جوش اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنا جس کا ذکر اس واقعہ کے جزو دہم میں تفصیل کے ساتھ آ چکا ہے اور آگے بھی (آیت) فانزل اللہ سکینتہ علیٰ رسولہ میں آئے گا) تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو (کیونکہ دراصل اطاعت رسول ذریعہ ہے نور ایمان میں زیادتی کا اور اس واقعہ میں ہر پہلو سے مکمل اطاعت رسول کا امتحان ہوگیا کہ جب رسول نے دعوت جہاد کے لئے بلایا اور بیعت لی تو بڑی خوش دلی اور مسابقت کے ساتھ سب نے بیعت کی اور جہاد کے لئے تیار ہوگئے اور جب حکمت و مصلحت کے پیش نظر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتال سے روکا اور سب صحابہ جوش جہاد میں قتال کے لئے بےقرار تھے مگر اطاعت رسول میں سر تسلیم خم کردیا اور قتال سے باز رہے) اور آسمان و زمین کے سب لشکر ( جیسے ملائکہ اور سب مخلوقات) اللہ ہی کے (لشکر) ہیں (اس لئے کفار کی شکست اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ تعالیٰ تمہارے قتال و جہاد کا محتاج نہیں وہ اگر چاہیں تو اپنے فرشتوں کے لشکر بھیج دیں جیسا کہ بدر، احزاب، حنین کے غزوات میں اس کا مشاہدہ ہوچکا اور یہ لشکر بھیجنا بھی مسلمانوں کی ہمت بڑھانے کے لئے ہے ورنہ ایک فرشتہ بھی سب کیلئے کافی ہے اس لئے تم لوگوں کو نہ تو کفار کی کثرت دیکھ کر جہاد و قتال میں کوئی تردد ہونا چاہئے اور نہ جس وقت اللہ و رسول کا حکم ترک قتال کا ہو اس وقت ترک قتال میں بھی کوئی تردد ہونا چاہئے کہ افسوس صلح ہوگئی اور کفار بچ گئے ان کو سزا نہ ہوئی اور قتال یا ترک قتال کے نتائج کو اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جانتا ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ (مصلحتوں کا) بڑا جاننے والا حکمت والا ہے (جب قتال میں حکمت ہوتی ہے اس کا حکم دیتا ہے اور جب ترک قتال میں مصلحت ہوتی ہے اس کا حکم فرماتا ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں اپنے جذبات کو امر رسول کے تابع رکھیں جو سبب ہے زیادت ایمان کا آگے زیادتی ایمان کے ثمرہ کا بیان ہے یعنی) تاکہ اللہ تعالیٰ ( اس اطاعت کی بدولت) مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ (اس اطاعت کی بدولت) ان کے گناہ دور کر دے (کیونکہ اطاعت رسول میں گناہوں سے توبہ اور اعمال صالحہ سب داخل ہیں جو تمام سئیات اور گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں) اور یہ (جو کچھ مذکور ہوا) اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے ( اس آیت میں اول قلوب مومنین پر سکینت اور تحمل نازل کرنے کا انعام ذکر فرمایا پھر یہ انعام ایمان کی زیادتی کا بذریعہ اطاعت رسول سبب بنا اور اطاعت رسول دخول جنت کا سبب بنی اس لئے یہ سب امور مومنین کے قلوب میں نزول سکینت پر مرتب ہوئے، آگے اسی سکینت پر مرتب کر کے منافقین کی اس سے محرومی) اور (اس محرومی کے سبب سے گرفتار عذاب ہونا بیان فرماتے ہیں یعنی یہ سکینت مسلمانوں کے قلوب پر نازل فرمائی اور کفار کے قلوب پر نہیں فرمائی) تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (بوجہ ان کے کفر کے) عذاب دے جو کہ اللہ کے ساتھ برے برے گمان رکھتے ہیں (اس برے گمان سے مراد باعتبار سیاق کلام کے ان لوگوں کا گمان ہے جن کو عمرہ کے لئے حدیبیہ کے سفر کی دعوت دی گئی اور انہوں نے انکار کردیا اور باہم یہ کہا کہ یہ لوگ اہل مکہ سے ہمیں لڑانا چاہتے ہیں ان کو جانے دو یہ ان کے ہاتھ سے بچ کر نہیں آویں گے ایسا کہنے والے لوگ منافقین ہی ہو سکتے ہیں اور اپنے مفہوم عام کے اعتبار سے سارے عقائد کفریہ شرکیہ اسی گمان بد میں داخل ہیں ان سب کے لئے وعید ہے کہ دنیا میں) ان پر برا وقت پڑنے والا ہے (چنانچہ چند ہی روز کے بعد مقتول اور محبوس ہوئے اور منافقین کی تمام عمر حسرت و پریشانی میں کٹی کہ اسلام بڑھتا تھا اور وہ گھٹتے جاتے تھے یہ تو دنیا میں ہوا) اور (آخرت میں) اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوگا اور ان کو رحمت سے دور کر دے گا اور ان کے لئے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور (آگے اس و عید کی تاکید ہے کہ) آسمان اور زمین کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ زبردست (یعنی پوری قدرت والا ہے اگر چاہتا اپنے کسی بھی لشکر سے ان سب کی ایک دم صفائی کردیتا کہ یہ اس کے مستحق ہیں لیکن چونکہ وہ) حکمت والا ہے (اس لئے بمصلحت سزا میں مہلت دیتا ہے) معارف و مسائل شروع سورت کی تین آیتوں میں ان خاص انعامات کا ذکر ہے جو اس فتح مبین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مبذول ہوئے۔ بعض صحابہ جو سفر حدیبیہ میں ساتھ تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ انعامات تو آپ کے لئے ہیں اللہ آپ کو مبارک فرمائے ہمارے لئے کیا ہے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ان میں اصالتہ حاضرین حدیبیہ اور بیعت رضوان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے اور چونکہ وہ انعامات ایمان اور اطاعت رسول کے سبب ملے اس حیثیت سے سب مومنین کو بھی شامل ہے کہ جو بھی ایمان اور اطاعت میں کامل ہوگا وہ ان انعامات کا مستحق ہوگا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ السَّكِيْنَۃَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْٓا اِيْمَانًا مَّعَ اِيْمَانِہِمْ۝ ٠ ۭ وَلِلہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۝ ٤ ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا سَّكِينَةَ والسَّكْنُ : سُكَّانُ الدّار، نحو سفر في جمع سافر، وقیل في جمع ساکن : سُكَّانٌ ، وسكّان السّفينة : ما يسكّن به، والسِّكِّينُ سمّي لإزالته حركة المذبوح، وقوله تعالی: أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ، فقد قيل : هو ملك يُسَكِّنُ قلب المؤمن ويؤمّنه كما روي أنّ أمير المؤمنین عليه السلام قال : (إنّ السَّكِينَةَ لتنطق علی لسان عمر) وقیل : هو العقل، وقیل له سكينة إذا سكّن عن المیل إلى الشّهوات، وعلی ذلک دلّ قوله تعالی: وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] . وقیل : السَّكِينَةُ والسَّكَنُ واحد، وهو زوال الرّعب، وعلی هذا قوله تعالی: أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] ، وما ذکر أنّه شيء رأسه كرأس الهرّ فما أراه قولا يصحّ والْمِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . السکین ( چھری ) کو سکیں اس لئے کہا جاتا ہے ( وہ مذبوح کی حرکت کو زائل کردیتی ہے ) تو یہ سکون سے فعیل کے وزن پر اسم مشتق ہے ) اور آیت : أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 4] ( وہی تو ہے ) جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مومن کے دل کو تسکین دیتے ہیں ۔ جیسا کہ امیر المومنین ( حضرت علی (رض) ) سے راویت ہے (إن السکينة لتنطق علی لسان عمر) حضرت عمر (رض) کی زبا ن پر سکینۃ گویا ہے اور بعض نے اس سے عقل انسانی مراد لی ہے اور عقل کو بھی جب کہ وہ شہوات کی طرف مائل ہونے سے روک دے سکینۃ کہا جاتا ہے اور آیت : ۔ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ [ الرعد/ 28] اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں ۔ بھی اس معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ سکینۃ اور سکن کے ایک ہی معنی ہیں یعنی رعب اور خوف کا زائل ہونا اور آیت : ۔ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ البقرة/ 248] کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئیگا اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی ہوگی ۔ میں بھی یہی معنی مراد ہیں اور بعض مفسرین نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ وہ چیز تھی جس کا سر بلی کے سر کے مشابہ تھا وغیرہ تو ہمارے نزدیک یہ قول صحیح نہیں ہے ۔ المسکین بعض نے اس کی تفسیر الذي لا شيء له ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقیر کے زیادہ نادار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں کی تھی ۔ میں باوجود کشتی کا مالک ہونے کے انہیں مسکین قرار دینا ما یؤول کے لحاظ سے ہے یعنی کشتی کے چلے جانے کے بعد کی حالت کے لحاظ سے انہیں مسکین کہا گیا ہے ۔ یا اس لئے کہ ان کی احتیاج اور مسکنت کے مقابلہ میں کشتی کی کچھ بھی حیثیت نہ تھی ۔ اور آیت : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور آخر کار ذلت و رسوائی اور محتاجی ( و بےنوائی ) ان سے چمٹا دی گئی ۔ میں اصح قول کے لحاظ سے مسکنۃ کی میم زائد ہے ( اور یہ سکون سے ہے ۔ ) قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حكيم والحِكْمَةُ : إصابة الحق بالعلم والعقل، فالحکمة من اللہ تعالی: معرفة الأشياء وإيجادها علی غاية الإحكام، ومن الإنسان : معرفة الموجودات وفعل الخیرات . وهذا هو الذي وصف به لقمان في قوله عزّ وجلّ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] ، ونبّه علی جملتها بما وصفه بها، فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم «2» ، فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ( ح ک م ) الحکمتہ کے معنی علم وعقل کے ذریعہ حق بات دریافت کرلینے کے ہیں ۔ لہذا حکمت الہی کے معنی اشیاء کی معرفت اور پھر نہایت احکام کے ساتھ انکو موجود کرتا ہیں اور انسانی حکمت موجودات کی معرفت اور اچھے کو موں کو سرانجام دینے کا نام ہے چناچہ آیت کریمہ : وَلَقَدْ آتَيْنا لُقْمانَ الْحِكْمَةَ [ لقمان/ 12] اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی ۔ میں حکمت کے یہی معنی مراد ہیں جو کہ حضرت لقمان کو عطا کی گئی تھی ۔ لهذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ اللہ ایسا ہے جس نے حدیبیہ کے دن سچے مومنوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا تاکہ ان کے سابقہ ایمان باللہ و بالرسول کے ساتھ ان کی تصدیق یقین اور علم میں زیادتی پیدا ہو فرشتے اور مومن سب اللہ ہی کے لشکر ہیں اور وہ اپنے دشمنوں میں سے جس پر چاہے ان کو مسلط کردے اور حق تعالیٰ فتح و مغفرت ہدایت و نصرت اور انزال سکینہ وغیرہ کو خوب جاننے والا اور ان تمام امور میں حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤ { ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِہِمْ } ” وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل کردی تاکہ وہ اضافہ کرلیں اپنے ایمان میں مزید ایمان کا۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سکینت اور طمانیت ہی تھی جس کے باعث صحابہ کرام (رض) اپنی جانیں قربان کردینے کے فیصلے پر پورے سکون قلب کے ساتھ جازم رہے۔ پھر اسی سکینت کے سہارے صحابہ کرام (رض) اس کڑے امتحان سے بھی سر خرو ہو کر نکلے جو اس خاص موقع پر انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے حوالے سے درپیش تھا۔ اس موقع پر اصل صورت حال یہ تھی کہ صحابہ (رض) میں سے کوئی ایک فرد بھی صلح کے حق میں نہیں تھا ‘ لیکن اس کے باوجود اس دوران ان کے نظم و ضبط کا یہ عالم رہا کہ بغیر کسی ایک استثناء کے پوری جماعت نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر سر تسلیم خم کردیا۔ بادی النظر میں یہ کہنا ذرا عجیب لگتا ہے کہ ” صحابہ (رض) میں سے کوئی بھی صلح کے حق میں نہیں تھا “ لیکن تاریخی حقائق بہر حال ایسی ہی صورت حال کی گواہی دیتے ہیں۔ چناچہ سیرت کی کتابوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح نامہ پر دستخط ہوجانے کے بعد جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمانو ! اب اٹھو ‘ احرام کھول دو اور یہیں پر قربانیاں کر دو ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر کوئی ایک مسلمان بھی نہ اٹھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا یہ حکم پھر دہرایا تو پھر بھی کوئی نہ اٹھا۔ حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری مرتبہ فرمایا کہ لوگو اٹھو ! احرام کھول دو اور قربانی کے جانور ذبح کر دو ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تیسری مرتبہ فرمانے پر بھی کوئی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔ بلاشبہ صحابہ (رض) کا یہ ” توقف “ اضطراری کیفیت کے باعث تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے لیے امتحان کی کوئی صورت ہے ‘ اس کے بعد شاید کوئی نیا حکم آجائے گا اور صورت حال بدل جائے گی۔ دراصل یہ صورت حال صحابہ (رض) کی سمجھ سے باہر تھی کہ جو احرام انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتدا میں عمرے کے لیے باندھے ہیں وہ عمرہ ادا کیے بغیر میدانِ حدیبیہ میں ہی کھول دیے جائیں۔ بہر حال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تیسری مرتبہ حکم دینے پر بھی جب کوئی احرام کھولنے کے لیے نہ اٹھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دل گرفتہ ہو کر اپنے خیمے میں تشریف لے گئے۔ اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صورت حال انہیں بتائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی زبان مبارک سے کچھ نہ فرمائیں ‘ بس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا احرام کھول دیں اور قربانی کا جانور ذبح کردیں۔ چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احرام کھولنے اور جانور ذبح کرنے پر سب مسلمانوں نے احرام کھول دیے اور اپنے اپنے جانور ذبح کردیے۔ صحابہ (رض) کے مذکورہ رد عمل سے یہ حقیقت بہرحال عیاں ہوتی ہے کہ اس موقع پر وہ سب کے سب ” صلح “ کو خوش آمدید کہنے کے بجائے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے زیادہ ُ پر عزم تھے ۔ { وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا } ” اور آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر تو اللہ ہی کے ہیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

6 "Sakinat" in Arabic is calmness and tranquillity and peace of mind. Here AIIah calls its being sent into the hearts of the believers an important factor in the victory that Islam and the Muslims achieved at Hudaibiyah. From a study of the conditions of the tuns one comes to know what kind of a Sakinat it was that was sent down into the hearts of the Muslims during that period and how it became a source of victory. If at the time when the Holy Prophet expressed his intention to go for 'Umrah to Makkah, the Muslims had become terror-stricken and started behaving like the hypocrites as if they were going into the very jaws of death, or if at the time when they heard the news on the way that the disbelieving Quraish were coming out in great strength to fight them, they had been alarmed as to how they would face the enemy un-armed, and thus become panic-stricken, obviously no benefits would have resulted from Hudaibiyah at all. Then, if at the time when at Hudaibiyah the disbelievers had stopped the Muslims from going any further, and when they had tried to provoke them by launching against them repeated sudden attacks, and when the rumor of Hadrat 'Uthman's martyrdom had spread, and when Abu Jandal had appeared on the scene as the very image of oppression and persecution, the Muslims had actually become provoked and broken the discipline that the Holy Prophet had instilled in them, the result would have been disastrous. Above all, if at the time when the Holy Prophet was going to conclude the treaty on the conditions which were un-acceptable to the entire party of the Muslims, the Muslims had happened to disobey him, the great victory of Hudaibiyah would have turned into a humiliating defeat. Thus, it was alI because of Allah's bounty that on all these critical moments the Muslims were blessed with full peace of mind with regard to the leadership and guidance of the Holy Prophet, the truth of Islam and the truthfulness of their mission. This is why they decided with a cool mind that they would face and accept whatever hardships they would encounter in the way of Allah; that is why they remained safe from fear, confusion, provocation and despair; that is why perfect discipline continues to prevail in the camp; and that is why, in spite of being deeply grieved at the conditions of peace, they submitted to the decision taken by the Holy Prophet. This was the sakinat that AIIah had sent down into the hearts of the Muslims, and it was aII because of this that the dangerous step of undertaking a journey for performing 'Umrah became the prelude to a unique victory. 7 That is, "One Faith they already had before they set out on this expedition; they attained the additional Faith when they remained steadfast on the way of sincerity, piety and obedience in every trial that they faced in connection with the expedition. " This verse is one of those verses which show that Faith is not a static state which is incapable of growth, but it develops as well as decays and deteriorates. After embracing Islam till death the believer at every step in his life continues to be confronted with such tests and trials in which he has to take a decision whether in following the Divine Religion he is prepared to sacrifice his life, his wealth, his sentiments, desires, time, comforts and interests or not. If at the time of every such trial he adopts the way of sacrifice, his Faith progresses and develops, and if he turns away his Faith decays and deteriorates till a time may also come when the initial state of the Faith with which he had entered Islam is even endangered to be lost and destroyed. (For further explanation. see E.N. 2 of Surah AI-Anfal and E.N. 38 of AI-Ahzab). 8 It means this: AIIah has such hosts by which He can destroy and exterminate the disbelievers completely whenever He wills, but He has deliberately and by wisdom only placed this responsibility on the believers that they should enter a conflict with the disbelievers and struggle to make the Religion of AIIah prevail and prosper in the world. In this way alone does a door to the enhancement of their ranks and successes in the Hereafter open as is being indicated in the following verse'.

سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :6 سکینت عربی زبان میں سکون و اطمینان اور ثبات قلب کو کہتے ہیں ، اور یہاں اللہ تعالی مومنوں کے دل میں اس کے نازل کیے جانے کو اس فتح کا ایک اہم سبب قرار دے رہا ہے جو حدیبیہ کے مقام پر اسلام اور مسلمانوں کو نصیب ہوئی ۔ اس وقت کے حالات پر تھوڑا سا غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ وہ کس قسم کی سکینت تھی جو اس پورے زمانے میں مسلمانوں کے دلوں میں اتاری گئی اور کیسے وہ اس فتح کا سبب بنی ۔ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرے کے لیے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ ظاہر فرمایا ، اگر مسلمان اس وقت خوف زدگی میں مبتلا ہو جاتے اور منافقین کی طرح یہ سوچنے لگتے کہ یہ تو صریحا موت کے منہ میں جانا ہے ، یا جب راستے میں یہ اطلاع ملی کہ کفار قریش لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ، اس وقت اگر مسلمان اس گھبراہٹ میں مبتلا ہو جاتے کہ ہم کسی جنگی ساز و سامان کے بغیر دشمن کا مقابلہ کیسے کر سکیں گے ، اور اس بنا پر ان کے اندر بھگدڑ مچ جاتی ، تو ظاہر ہے کہ وہ نتائج کبھی رو نما نہ ہوتے جو حدیبیہ میں رو نما ہوئے ۔ پھر جب حدیبیہ کے مقام پر کفار نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا ، اور جب انہوں نے چھاپے اور شبخون مار مار کر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ، اور جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی ، اور جب ابو جندل رضی اللہ عنہ مظلومیت کی تصویر بنے ہوئے مجمع عام میں آ کھڑے ہوئے ، ان میں سےہر موقع ایسا تھا کہ اگر مسلمان اشتعال میں آ کر اس نظم ضبط کو توڑ ڈالتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قائم کیا تھا تو سارا کام خراب ہو جاتا ۔ سب سے زیادہ یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان شرائط پر صلح نامہ طے کرنے لگے جو مسلمانوں کی پوری جماعت کو سخت ناگوار تھیں ، اس وقت اگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے پر اتر آتے تو حدیبیہ کی فتح عظیم شکست عظیم میں تبدیل ہو جاتی ۔ اب یہ سراسر اللہ ہی کا فضل تھا کہ ان نازک گھڑیوں میں مسلمانوں کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی پر ، دین حق کی صداقت پر اور اپنے مشن کے برحق ہونے پر کامل اطمینان نصیب ہوا ۔ اسی کی بنا پر انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ فیصلہ کیا کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی پیش آئے سب گوارا ہے ۔ اسی کی بنا پر وہ خوف ، گھبراہٹ ، اشتعال ، مایوسی ، ہر چیز سے محفوظ رہے ۔ اسی کی بدولت ان کے کیمپ میں پورا نظم و ضبط بر قرار رہا ۔ اور اسی کی وجہ سے انہوں نے شرائط صلح پر سخت کبیدہ خاطر ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلہ پر سر تسلم خم کر دیا ۔ یہی وہ سکینت تھی جو اللہ نے مومنوں کے دلوں میں اتاری تھی ، اور اسی کی یہ برکت تھی کہ عمرے کے لیے نکلنے کا خطرناک ترین اقدام بہترین کامیابی کا موجب بن گیا ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :7 یعنی ایک ایمان تو وہ تھا جو اس مہم سے پہلے ان کو حاصل تھا ، اور اس پر مزید ایمان انہیں اس وجہ سے حاصل ہوا کہ اس مہم کے سلسلے میں جتنی شدید آزمائشیں پیش آتی چلی گئیں ان میں سے ہر ایک میں وہ اخلاص ، تقوی اور اطاعت کی روش پر ثابت قدم رہے ۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک جامد و ساکن حالت نہیں ہے ، بلکہ اس میں ترقی بھی ہوتی ہے اور تنزل بھی ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سے مرتے دم تک مومن کو زندگی میں قدم قدم پر ایسی آزمائشوں سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے جن میں اس کے لیے یہ سوال فیصلہ طلب ہوتا ہے کہ آیا وہ اللہ کے دین کی پیروی میں اپنی جان ، مال ، جذبات ، خواہشات ، اوقات ، آسائشوں اور مفادات کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں ۔ ایسی ہر آزمائش کے موقع پر اگر وہ قربانی کی راہ اختیار کر لے تو اس کے ایمان کو ترقی اور بالیدگی نصیب ہوتی ہے ، اور اگر منہ موڑ جائے تو اس کا ایمان ٹھٹھر کر رہ جاتا ہے ، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے جب وہ ابتدائی سرمایہ ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے جسے لیے ہوئے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا تھا ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، تفسیر سورہ انفال ، حاشیہ 2 ، جلد چہارم ، الاحزاب ، حاشیہ 38 ) ۔ سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :8 مطلب یہ ہے کہ اللہ کے پاس تو ایسے لشکر ہیں جن سے وہ کفار کو جب چاہے تہس نہس کر دے ، مگر اس نے کچھ جان کر اور حکمت ہی کی بنا پر یہ ذمہ داری اہل ایمان پر ڈالی ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں جد و جہد اور کشمکش کر کے اللہ کے دین کا بول بالا کریں ۔ اسی سے ان کے لیے درجات کی ترقی اور آخرت کی کامیابیوں کا دروازہ کھلتا ہے جیسا کہ آگے کی آیت بتا رہی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، صحابہ کرام (رض) کفار کے خلاف بہت غم و غصے اور جوش کی حالت میں تھے، اور انہیں صلح کی شرائط ماننا بھی بہت بھاری معلوم ہورہا تھا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت یہی منظور تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کردیا جس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے آگے سر جھکا دیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(48:4) ھو ای اللّٰہ۔ السکینۃ۔ تسکین، تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزون فعلیہ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے جو عزم یعزم کا مصدر ہے اور بطور اسم بمعنی ارادہ کی پختگی۔ مستقل مزاجی ہے۔ سید محمد مرتضی زبیدی لکھتے ہیں :۔ سکینہ وہ اطمینان اور سکون ، چین، قرار ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے۔ یہ اس کے لئے زیادتی ایمان ، یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کردیتا ہے ، اسی وجہ سے حق سبحانہ نے ” یوم الغار “ اور ” یوم حنین “۔ جیسے قلق و اضطراب کے مواقع پر اپنے رسول اور مؤمنین پر اس کے نازل ہونے کی خبر دی ہے۔ یوم الغار کے موقع پر فرمایا :۔ فانزل اللّٰہ سکینۃ علیہ (9:40) اور یوم حنین کے موقع پر فرمایا :۔ فانزل اللّٰہ سکینۃ علی رسولہ وعلی المؤمنین (9:26) ۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ :۔ سکینہ سے مراد ہے اللہ کے حکم کی تعمیل پر ثنات اور اطمینان۔ یعنی مسلمانوں کے دلوں کو اس مقام پر ثبات و اطمینان فرمایا جہاں دلوں میں تردد پیدا ہوجاتا اور قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ لیزدادوا : لام تعلیل کا ہے یزدادوا مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) جمع مذکر غائب ” ازدیار (افعال) مصدر۔ تاکہ بڑھ جائیں۔ قوی ہوجائیں۔ ایمانا۔ تمیز ۔ ازروئے ایمان۔ تاکہ اپنے پہلے ایمان کے ساتھ ان کے عقیدہ کا جماؤ اور دل کا اطمینان اور بڑھ جائے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سکینہ عطا فرمانے کے بعد اپنے پہلے ایمان میں پختگی اور ثابت قدم ہیں اور بڑھ جائیں۔ اسی مضمون کی اور آیات بھی قرآن مجید میں موجود ہیں مثلا (1) واذا تلیث علیہم بایتہ زادتھم ایمانا (8:2) اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ وغیرہ۔ فائدہ : تفسیر حقانی میں لیزدادوا کے تحت مندرج ہے۔ علماء کی ایک جماعت اس آیت سے استدلال کرکے یہ کہتی ہے کہ ایمان کم و زیادہ ہوتا ہے۔ مگر محققین جن میں امام اعظم ابوحنیفہ بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے وہ کیفیت زیادہ یا کم نہیں ہوتی پھر آیات و احادیث میں جو زیادہ ہونا آیا ہے اس سے علم الیقین و عین الیقین مراد ہے یا بااعتبار اس کے کہ جس پر ایمان لایا یعنی پہلے وہ باتوں پر ایمان لایا تھا پھر تیسری نازل ہوئی اس پر بھی ہوا۔ چناچہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس بارے میں بعض آثار بھی نقل کئے ہیں۔ تفسیر ماجدی کے حاشیہ میں مندرج ہے :۔ لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم : یعنی خاص اس سکینت قلب کے پیدا ہوجانے سے اہل ایمان کے قلب میں اور زیادہ انشراح اور ان کے نور باطنی میں اور زیادہ نور انیت پیدا ہوگئی اور ایمان استدلالی و برہانی کے ساتھ ساتھ ایمان عیانی بھی نصیب ہوگیا۔ فیحصل لہم الایمان العیانی والایمان الاستدلالی البرھانی (روح المعانی) طاعت میں یہ خاصہ بھی ہے کہ ہر نئے امر اطاعت سے نور ایمان میں ترقی ہوتی رہتی ہے اور یہ جو ہمارے امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ الایمان لایزدادوا لاینقص۔ (ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی) سو اس سے ان کی مراد ذات ایمان یا نفس ایمان سے ہے جو قابل تجزی نہیں ہے۔ باقی اس کے اوصاف و آثار میں کمی بیشی تو روزمرہ کا مشاہدہ ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ صاحب تفسیر اضواء البیان رقمطراز ہیں :۔ والحق الذی لاشک فیہ ان الایمان یزید وینقص کما علیہ اہل السنۃ والنجماعۃ (اور حق بات یہ ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ ایمان پڑھتا ہے اور کم ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ ہر دو گروہ نے آیت کا ترجمہ اپنے اپنے طور پر کیا ہے۔ وللّٰہ جنود السموت والارض واؤ عاطفہ اور للّٰہ میں لام تملیک کے لئے ہے یعنی آسمان اور زمین کے تمام لشکر اسی کے زیر فرمان ہیں۔ اسی کے تسلط میں ہیں۔ ان آسمانوں اور زمین کے لشکر کے متعلق فرمایا :۔ وایدہ بجنود لم تروھا (9:40) اور اس کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے۔ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وما یعلم جنود ربک الا ھو (74:31) اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگرچہ بجنود لم تروھا سے مراد سب نے فرشتے لئے ہیں مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لشکروں میں صرف فرشتے ہی ہوں فرشتوں کے علاوہ اور بیشمار لشکر زمین و آسمان موجود ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے اور نہ ہی ہم ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی نوعیت اور ان کا شمار ہمارے حد حساب سے باہر ہے اور ان کو صرف وہی اللہ ہی جانتا ہے۔ مطلب یہ کہ صلح حدیبیہ اس وجہ سے نہیں کی گئی تھی کہ مسلمانوں کی نفری تعداد میں کم تھی۔ یا سازوسامان میں مسلمان کافروں سے کم تھے کیونکہ اگر یہ وجہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ جس کے تسلط میں ارض و سماء کے بیشمار لشکر ہیں جو ہمارے علم و نظر سے بالاتر ہیں ان کو بروئے عمل لاکر وہ کفار کو تباہ و برباد کرسکتا تھا۔ لیکن یہ اس کے علم و حکمت کا تقاضا تھا کہ ایسے ہو۔ اس کی حکمت بھی اسی کو معلوم ہے منجملہ اس کے ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس سے اپنے نیک بندوں کا امتحان لینا بھی مقصود ہو کہ کیسے ثابت قدم رہتے ہیں۔ علیما حکیما دونوں کان کی خبر ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد عام مسلمان بہت رنجیدہ و غمگین تھے لیکن جب اللہ و رسول کی رضا اسی صلح میں پائی تو خوش ہوگئے اور بعد کے حالات سے ان پر صلح حدیبیہ کا فتح مبین ہونا عیاں ہوتا چلا گیا حتی کہ ان کے دل بالکل مطمئن ہوگئے۔ 11 یعنی جوں جوں اللہ و رسول کی بتائی باتیں حقیقت بن کر ان کے سامنے آتی گئیں، اللہ و رسول پر ان کا ایمان بڑھتا گیا۔ ایمان میں یہ اضافہ کو مصدق بہ کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ اور رسول کی کسی بات میں شک نہ تھا مگر اصل بات یہ ہے کہ نفس ایمان میں اضافہ تسلیم کیا جائے کہ دلائل کی کثرت سے ایمان میں مزید پختگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان میں کمی و بیشی قرآن کی دوسری آیات اور احادیث سے بھی ثابت ہے صحیح بخاری کتاب الایمان میں امام بخاری نے اس مسئلہ کو مدلل طور پر ثابت کیا ہے۔ 12 جیسے فرشتوں جنوں اور انسانوں کی فوجیں۔ ابن عباس نے اس کی یہی تفسیر بیان کی ہے (قرطبی) 13 ۔ یعنی وہ جیسے چاہتا ہے ہے ان کا انتظام فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے دوسری پر غالب کرت ا ہے۔ مطل یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو فتح و کامیابی نصیب ہوئی ہے یا ہو رہی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اس میں خود مسلمانوں کا کمال نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 7 : فوزا عظیما (بڑی کامیابی) الظانین ( گمان کرنے والے) ‘ ظن السوئ ( برا گمان) دآ ئرۃ السوئ ( مصیبت کا دائرہ۔ چکر) ‘ اعد ( اس نے تیار کیا ہے) سآئت (بری۔ بدترین) مصیر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 7 : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ عمرہ اداکر رہے ہیں تو آپ نے یہ ارادہ کیا کہ زیارت بیت اللہ کے لئے تشریف لے جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ذکر صحابہ کرام (رض) سے کیا تو صحابہ کرام (رض) کی ایک بہت بڑی تعداد نے آپ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام (رض) کو لے کر آپ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ نے مکہ سے قریب حدیبیہ کے مقام پر پڑائو ڈالا۔ اس موقع پر کفار مکہ نے اہل ایمان میں اشتعال پھیلانے اور اس غلط فہمی کو عام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمان عمرہ ادا کرنے نہیں بلکہ عمرہ کے بہانے مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے آئے ہیں۔ کفار قریش مختلف کاروائیاں کرنے کے باوجو جب اپنی بات ثابت نہ کرسکے تو انہوں نے صلح کرنے کی بات کی اور بعض شرائط کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) سے یہا کہ کہ اس سال تو آپ واپس چلے جائیں آئندہ سال آکر عمرہ اداکریں۔ کفار نے شرائط بھی ایسی رکھیں جو بظاہر مسلمانوں کے لئے توہین آمیز تھیں لیکن جب صحابہ کرام (رض) نے یہ محسوس کیا کہ آپ ہر حال میں صلح کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے فیصلے کے سامنے سب خاموش رہے اور کسی طرح کا اعتراض نہیں کیا اور آپ کی مکمل اطاعت و فرماں برداری کرتے ہوئے سر تسلیم خم کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانور قربان کردیئے ‘ احرام کھول دیئے اور مدینہ منورہ واپسی کا حکم دیا جس کی صحابہ کرام (رض) نے پوری طرح تعمیل لیکن تمام صحابہ اپنے دلوں میں شدید رنجش اور ذلت محسوس کررہے تھے۔ ابھی مکہ سے واپسی پر چند میل ہی گئے ہوں گے کہ سوئہ فتح کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا کی ہے اور آپ سے جو بھی کوتاہیاں ہوگئی ہیں یا آئندہ ہوں گی وہ سب معاف کردی گئیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ آپ کے اوپر اپنی نعمت کو مکمل فرمادے۔ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائے اور آپ کی زبردست مدد فرمائے۔ بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ واقعی ” صلح حدیبیہ “ فتح مبین تھی کیونکہ اس صلح کی وجہ سے کفارنے جن طاقتوں سے معاہدے کر رکھے تھے ان میں پھوٹ پڑگئی اور کفار بری طرح کمزور پڑگئے۔ خیبر فتح ہوا۔ ساری دنیا کے بادشاہوں اور حکمرانوں تک دین اسلام کا پیغام پہنچایا گیا اور گروہ کے گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ جب سورة فتح کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو بعض صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو اللہ کا وہ کرم ہے جو اس نے آپ پر کیا ہے ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں جن میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے اہل ایمان کے دلوں میں ” سکینہ “ نازل کیا یعنی کفار اور منافقین کی شدید اشتعال انگزیوں اور مخالفتوں کے باوجود صحابہ کرام (رض) مشتعل نہ ہوئے اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرماں برداری ‘ اعلیٰ ترین کردار ‘ تحمل ‘ برداشت ‘ سنجیدگی اور وقار کا بےمثال مظاہرہ کیا حالانکہ کفارو منافقین صرف اشتعال ہی نہیں دلا رہے تھے بلکہ طرح طرح کی غلط فہمیاں بھی پیدا کررہے تھے مثلاً مدینہ میں منافقین یہ کہہ رہے تھے کہ خواہ مخواہ موت کے مہ میں کود پڑنے سے کیا فائدہ۔ دوسری طرف کفار قریش اس بات کا بڑی شدت سے پروپیگنڈا کررہے تھے کہ مسلمان عمرہ کرنے نہیں بلکہ مکہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کیلئے آئے ہیں لہٰذا ان کو ہر حال میں مکہ میں داخل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ (1) اس وقت اہل ایمان نے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرماں برداری کی اس کی مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسی کو اللہ نے ” سکینہ “ فرمایا ہے۔ (2) دوسری نعمت یہ عطا فرمائی کہ اہل اسلام کے ایمان و یقین میں اور ترقی عطا فرمائی اور وہ اللہ و رسول کے احکامات کے سامنے اپنے آپ کو جکا دینے سے نصیب ہوئی۔ (3) تیسری نعمت یہ ہے کہ وہ اللہ جس کے پاس آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر موجود ہیں اس نے ان کے ذریعہ کفار قر یش کے دلوں میں رعب اور ہیبت کو ڈال دیا اور ان کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا اور یہ سب کچھ اس اللہ کی طرف سے ہوا جو ہر بات کو جانتا ہے اور وہی اس کی حکمت سے واقف ہے۔ (4) چوتھی نعمت یہ ہے کہ ان اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ ہر طرف خوش حالی ‘ خوشیاں اور سر سبزی و شادابیاں ہوں گی جن میں اہل ایمان ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (5) پانچویں نعمت یہ ہے کہ اللہ ان کی تمام خطاؤں ‘ لغزشوں اور بھول چوک کو معاف فرمادے گا اور یہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی ہے۔ فرمایا کہ اہل امیان تو جنت کی ابدی راحتوں میں ہوں گے لیکن منافق مرد اور عورتیں ‘ مشرک مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ و رسول کے خلاف طرح طرح کی بدگمانیاں پھیلا رکھی تھیں وہ اپنے جال میں اور حالات کے بھنور میں اسی طرح پھنسے رہیں گے کہ ان پر اللہ کا غضب اور لعنت برستی رہے گی اور اللہ نے ان کے لئے بدترین ٹھکانا جہنم تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ کے ہیں اور وہ اللہ ہر چیز کی حکمت اور راز کو پوری طرح جانتا ہے۔ وہی اہل ایمان کو پوری طرح نجات اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال کرے گا اور کفار کو ایسی جہنم میں جھونک دیا جائے گا جو ایک بدترین ٹھکانا ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس سے بڑھ کر اہل ایمان کی کامیابی کیا ہوگی کہ اللہ ان کو دنیا میں بھی سرخ رو فرمائے گا اور آخرت میں ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : صحابہ کرام (رض) کو فتح مکہ کی خوشخبری سنانے کے ساتھ جنت کی خوشخبری بھی دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حدیبیہ کے مقام پر بر وقت اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کی راہنمائی فرمائی اور مومنوں پر اطمینان اور سکون نازل فرمایا تاکہ مومنوں کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمانوں کے لشکر اور قوتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” یَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا “ کے الفاظ فرما کر صحابہ کرام (رض) کو بتلایا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی اور توفیق شامل حال تھی اس لیے یہ معاہدہ ہر اعتبار سے صحیح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں صحابہ کرام (رض) کو کامیابیاں عطا فرمائیں اور آخرت میں مومن اور مومنات کو جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور جنتی اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی پہلی پانچ آیات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کو پانچ، پانچ خوشخبریاں سنائیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ (رض) عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِی الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ طُوْلُھَا سِتُّوْنَ مِیْلًا لِلْمُؤْمِنِ فِیْھَا أَھْلُوْنَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمُ الْمُؤْمِنُ فَلَا یَرٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا) (رواہ مسلم : باب فی صفۃ خیام الجنۃ ....) ” حضرت عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ کا فرمان ہے کہ جنت میں مومن کے لیے موتی کا ایک ایسا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی وہاں مومن کے گھر والے ہوں گے جن کے ہاں وہی جائے گا دوسرا انہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ “ عربی لغت ” المنجد “ کے مطابق ” اَلسَّکِیْنَۃُ “ کا معنٰی سکون، اطمینان، سنجیدگی اور وقار ہے۔ مسائل اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس موقعہ پر پانچ اور صحابہ (رض) کو چار خوشخبریاں دیں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عظیم فتح عطا فرمائی اور اسلام کی کامیابی کے لیے راستہ کھول دیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے گنا ہوں کو معاف فرمادیا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمت پوری کرنے کا وعدہ فرمایا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے مقابلے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبردست مدد فرمائی۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی گارنٹی دی۔ ١۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کو دنیا اور آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ ٢۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کے گناہ معاف کرنے کی خوشخبری سنائی۔ ٣۔ صحابہ (رض) کے ایمان میں مزید اضافہ فرمایا۔ ٤۔ صحابہ اور صحابیات (رض) کو ہمیشہ کے لیے جنت میں داخلے کی خوشخبری سنائی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے سرفراز کیا : ١۔ بدر میں مشرکین پسپا ہوئے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ (آل عمران : ١٢٣ تا ١٢٧) ٢۔ احد میں پہلے مسلمان غالب رہے۔ (آل عمران : ١٥٢) ٣۔ ٨ ہجری کو اہل مکہ مغلوب ہوئے اور مسلمان کامیاب ہوئے۔ (الفتح : ١) ٤۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست کھا گئے اور مسلمان کامیاب رہے۔ (التوبہ : ٢٦) ٥۔ جنگ خندق میں اہل مکہ اور دیگر قبائل کو شکست ہوئی۔ (الاحزاب : ٢٥ تا ٢٧) ٦۔ صحابہ (رض) دنیا و آخرت میں کامیاب ہوئے۔ (المجادلہ : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شرط کو قبول کرلیا۔ حالانکہ انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور ہدی کے جانوروں کے گلے میں شعار باندھ لیا تھا۔ اور یہ امور ایسے تھے جو بعض جذباتی لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر (رض) ، حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور وہ اس وقت سخت جوش میں تھے کہ آیا ہمیں یہ نہ بتایا گیا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے۔ ابوبکر (رض) جن کا دل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دھڑکتا تھا ، نے فرمایا کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال تم عمرہ کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا اس سال کا تو نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ” پس تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ چناچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کو چھوڑا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ” کیا آپ نے نہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” درست ، لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال عمرہ کرو گے ؟ “ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا ” نہیں “۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” بیشک تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ یہ باتیں تھیں جو دلوں میں لاوے کی طرح ابل رہی تھیں۔ پھر مومنین قریش کی شرائط پر بھی سخت برہم تھے۔ یہ کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آجاتا ہے تو اسے واپس کردیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان ، مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مکہ چلا جاتا ہے تو اسے واپس نہ کیا جائے گا۔ پھر انہوں نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نام کٹوا کر بسمک اللھم کردیا۔ پھر انہوں نے ، آپ کے نام سے رسول اللہ کا لفظ کٹوا دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی (رض) نے سہیل کے کہنے کے مطابق (رسول اللہ) کا لفظ کاٹنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ نے نے اسے خود محو کردیا اور کہا ” اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں رسول ہوں “۔ مسلمانوں کی بہادری ، دینی حمیت اور جذبہ جہاد اور مشرکین کے ساتھ لڑنے کا جذبہ تو اس اجتماعی بیعت سے ظاہر ہے جو انہوں نے کی۔ لیکن معاملہ چونکہ اچانک صلح ، امن اور واپسی پر منتج ہوگیا اس لیے مسلمان اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرسکتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف سے جذبات کا اظہار ہوا۔ اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے باوجود انہوں نے قربانیاں نہ کیں ، سر نہ منڈوائے ، باوجود اس کے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ احکام صادر فرمائے۔ حالانکہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر مر مٹنے والے تھے۔ عروہ ابن مسعود ثقفی نے قریش کو جو رپورٹ دی اس سے مسلمانوں کی حالت ظاہر تھی اور اب حالت یہ ہے کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی ذبح کردی اور سر منڈوا لیا تب جا کر انہوں نے جانور ذبح کئے اور سر منڈوائے۔ غرض ان کو اس واقعہ نے سخت ہلا مارا تھا۔ اب جب کہ وہ اطاعت کی طرف آگئے تو پھر بھی دہشت زدہ تھے۔ یہ لوگ مدینہ سے عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ جنگ لڑنے کا تو ارادہ ہی نہ تھے۔ نہ نفسیاتی لحاظ سے اور نہ مادی لحاظ سے وہ جنگ کے لئے تیار تھے۔ لیکن جب قریش نے سخت موقف اختیار کیا ، پھر یہ خبر آئی کہ حضرت عثمان (رض) قتل کر دئیے گئے ہیں ۔ پھر قریش نے کچھ لوگ بھیجے جنہوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیر اور پتھر پھینکے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ پر بیعت چاہی تو وہ تہہ دل سے تیار ہوگئے۔ لیکن اس بیعت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کے اندر جنگی حالت اچانک نہ آئی تھی۔ یہ جنگی حالت بالکل اچانک تھی یہ لوگ جنگ کے لئے نکلے نہ تھے۔ اس وجہ سے بھی مسلمانوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔ یہ چودہ سو تھے۔ اور قریش اپنے گھروں میں تھے اور ان کے ساتھ اطراف مکہ کے مشرکین بھی معاون و مدد گار تھے۔ جب انسان ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر اس آیت پر غور کرتا ہے۔ ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (٤٨ : ٤) ” وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر سکینت نازل کی “ تو انسان لفظ اور مفہوم دونوں کی خوبصورتی اور مٹھاس کو محسوس کرتا ہے اور اس وقت جو صورت حالات تھی وہ بھی پوری طرح ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور اچھی طرح محسوس ہوتی ہے کہ اس کی سکینت کی ٹھنڈک نے کس طرح جلنے والے دلوں کو فوراً سکون بخشا ہوگا اور کس طرح ان کو بحال کردیا ہوگا۔ چونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کی حالت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ جو جوش ہے وہ جوش ایمان ہے ، جو محبت اور غیرت ہے وہ حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی ہے۔ کسی مفاد یا جاہلیت کے لئے نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ سکینت نازل کی۔ لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم (٤٨ : ٤) ” تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ طمانیت وہ درجہ ہے جو ایمان کے جوش و خروش کے بعد آتا ہے۔ اس میں بھر پور اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی بےچینی نہیں ہوتی ، ایسی رضا مندی ہوتی ہے جو اعتماد و یقین پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو نمایاں کیا جاتا ہے کہ نصرت اور غلبہ نہ تو ناممکن ہے۔ اور نہ ہی مشکل ہے۔ اگر اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوتا تو یہ اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے ، یہی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اللہ کی افواج لاتعداد ہیں ، ان پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔ لیکن اللہ نے غلبے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ علیما حکیما (٤٨ : ٤) ” زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ اللہ کی حکمت ہے اور اس کا علم ہے جو معاملات کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ اور اس علم اور حکمت ہی کا تقاضا تھا کہ۔ انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (٤٨ : ٤) لیزدادو ایمانا مع ایمانھم (٤٨ : ٤) ” جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کی تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ تا کہ ان کے لئے اللہ نے جو بڑی کامیابی مقدر رکھی ہے ، وہ پوری ہوجائے۔ لیدخل المومنین ۔۔۔۔۔ فوزا عظیما (٤٨ : ٥) ” تا کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جنتوں میں داخل فرنائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے “۔ اگر اس بات کو اللہ فوز عظیم قرار دیتا ہے تو یہ فی الواقع فوز عظیم ہے۔ اپنی حقیقت میں فوز عظیم ہے۔ یہ ایک عظیم کامیابی ہے ، ان لوگوں کے خیال میں جن کو وہ ملی ہے ، اللہ کی تقدیر کے مطابق اور اللہ کے پیمانوں کے مطابق۔ اس وقت مسلمان بہت خوش تھے ان فتوحات پر جو اللہ نے ان کے لئے لکھ دی تھیں۔ جب انہوں نے اس سورت کا یہ آغاز سنا تو وہ ان فتوحات کی امید کرتے تھے۔ ان کے انتظار میں تھے اور ان کو علم ہوگیا تھا کہ اللہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا کیا مہربانیاں کرنے والا ہے۔ اور اس میں ان کو جو حصہ ہے اس کے لئے وہ انتظار میں تھے۔ اور آپ سے پوچھتے رہتے تھے اور جب انہوں نے سنا اور جانا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” ھو الذی “ یہ دوسری بشارت ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ہی نے اس صلح کے ذریعے تمہارے دلوں کو سکون و اطمینان کی نعمت عطا کی اور تمہیں ثابت قدم رکھا یعنی انتہائی جوش و خروش اور مشرکین کے خلاف فرط غیظ کے باوجود تمہارے دلوں کو مضبوط کردیا اور تمہیں جنگ کرنے سے باز رکھا۔ جس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ اس کی وجہ سے مشرکین کے دلوں پر تمہاری جرات و شجاعت کا رعب بیٹھ جائیگا۔ تائید : ” سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب “ (انفال رکوع 2) ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانہم یہ دوسری بشارت کا ثمرہ ہے۔ ہم نے ایمان والوں کے دل میں سکون و اطمینان اس لیے ڈال دیا تاکہ ان کے یقین و ایمان میں مزید قوت و شدت پیدا ہوجائے اور وہ دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکیں۔ یقینا مع یقینہم برسوخ العقیدۃ و اطمینان النفس علیہا (بیضاوی) ۔ 5:۔ ” وللہ جنود السموات “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ یہ ترغیب الی الجہاد اور بشارت فتح کی طرف اشارہ ہے یعنی زمین و آسمان کی تمام فوجیں اللہ کے قبضے میں اور اس کے حکم کے تابع ہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ وہ مومنوں کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل فرما سکتا اور ان کو فتح دے سکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) وہی تو ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل اور ضبط و اطمینان نازل فرمایا تاکہ وہ اس ایمان کے جو ان کو پہلے سے حاصل تھا ایمان میں اور بڑھ جائیں اور ٓسمان و زمین کے تمام لشکر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کمال علم و حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی چین سے رسول کے حکم پر رہے ضدیوں کے ساتھ ضد نہ کرنے لگے اس میں ان کو ایمان کا درجہ بڑھا۔ سکینہ کی بحث سورة انفال اور سو رہ براۃ میں گزر چکی ہے کہ یہ ایک حالت ہے جو اہل ایمان کے قلوب میں ڈال دی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کو پریشانی کے وقت اطمینان اور چین حاصل ہوجاتا ہے۔ اس سورت میں نزول سکینہ کا دو جگہ ذکر آیا ہے ایک اس موقعہ پر جب کہ حضرت عثمان (رض) کی شہادت کی خبر لشکر اسلام میں پھیلی اور آپ نے ایک کیکر کے درخت کے نیچے قتال پر بیعت لی اور لوگوں نے جواں مردی سے جہاد پر آمادہ ہوکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی اور خوش دلی سے لڑنے پر تیار ہوگئے۔ دوسری شاید کفار کی ضد کے موقعہ پر جب آپ نے لڑائی سے منع فرمایا اس وقت بھی مسلمانوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اور حمیتہ جاہلیۃ سے متائر نہ ہوئے اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور فرماں برداری کے لئے آمادہ ہوگئے پیغمبر کی اطاعت اور فرماں برداری سے ایمان کے کمال اور ایمان کے نور میں ترقی ہوتی ہی اور ایمان کی ترقی جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے اسی لئے دخول جنت کا آگے ذکر فرمایا۔ فرشتوں کے اور دیگر مخلوقات کے سب لشکر اسی کے ہیں وہ چاہے تو ان کفار کو ہلاک کردے لیکن وہ بڑے علم اور حکمت کا مالک ہے جنگ کی مصلحت ہو تو جنگ اور لڑائی کا حکم دیتا ہے اور صلح کی مصلحت اور حکمت کا مقتضی ہو تو صلح کا حکم دیتا ہے۔