Surat ul Hujraat

Surah: 49

Verse: 17

سورة الحجرات

یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾

They consider it a favor to you that they have accepted Islam. Say, "Do not consider your Islam a favor to me. Rather, Allah has conferred favor upon you that He has guided you to the faith, if you should be truthful."

اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو ، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لاَّ تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَمَكُم ... They regard as a favor to you that they have embraced Islam. Say: "Do not count your Islam as a favor to me..." meaning the Bedouins who considered embracing Islam, following and supporting the Messenger as a favor to him. Allah the Exalted refuted their false statement, قُل لاَّ تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَمَكُم (Say: "Do not count your Islam as a favor to me...") `for the benefit of your Islam will only be yours, and this is a favor from Allah to you,' ... بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلِْيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ Nay, but Allah has conferred a favor upon you that He has guided you to the Faith if you indeed are true. (`in your claim that you are believers.') The Prophet said to the Ansar on the day of the battle of Hunayn, يَا مَعْشَرَ الاْاَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّلاًا فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي وَكُنْتُمْ عَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ بِي O Ansar! Have I not found you astray and Allah guided you through me? Were you not divided and Allah united you around me? Were you not poor and Allah gave you riches through me? Whenever the Prophet asked them any of these questions, they would reply, "Allah and His Messenger have most favored us." Al-Hafiz Abu Bakr Al-Bazzar recorded that Ibn Abbas said, "Banu Asad came to the Messenger of Allah and said, `O Allah's Messenger! We embraced Islam, and before that, the Arabs fought against you, yet we did not fight against you.' The Messenger of Allah said, إِنَّ فِقْهَهُمْ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْطِقُ عَلَى أَلْسِنَتِهِم Verily, they understand but little and the Shaytan speaks through their words. This Ayah was later revealed, يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لاَّ تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَمَكُم بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلِْيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ They regard as a favor to you that they have embraced Islam. Say: "Do not count your Islam as a favor to me." Nay, but Allah has conferred a favor upon you that He has guided you to the Faith if you indeed are true."' Then Allah reminds that He has complete knowledge of all creations and that He sees them all; إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یہی اعراب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے کہ دیکھو ہم مسلمان ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کی، جبکہ دوسرے عرب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برسر پیکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرماتے ہوئے فرمایا، تم اللہ پر اسلام لانے کا احسان مت جتلاؤ اس لئے کہ اگر تم اخلاص سے مسلمان ہوئے ہو تو اس کا فائدہ تمہیں ہوگا، نہ کہ اللہ کو۔ اس لئے یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی نہ کہ تمہارا احسان اللہ پر ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

٢٧] بدوی قبائل کن اغراض کے تحت اسلام لائے تھے ؟ ایسے بدو دراصل صل اسلام لا کر احسان یہ جتلاتے تھے کہ ہم از خود ہی مطیع بن کر اور اسلام لاکر آپ کے پاس حاضر ہوگئے ہیں اور آپ کو ہمارے خلاف لشکر کشی نہیں کرنا پڑی۔ اور اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اب ہماری طرف توجہ فرمائیے اور اموال غنائم میں سے ہمیں بھی کچھ مال دیجئے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا کہ انہیں کہہ دیجئے۔ کہ اگر اسلام لائے ہو تو اپنی ہی ذاتی اغراض کے لئے لائے ہو، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوتا جو دوسرے کافروں کا ہو رہا ہے۔ اس اسلام لانے کا مجھ پر کیا احسان دھرتے ہو ؟ بلکہ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے تمہارے جان و مال محفوظ ہوگئے اور پٹائی نہیں ہوئی۔ یہ تم کیا الٹی گنگا بہا رہے ہو ؟ اور دیکھو اگر تم فی الواقع سچے ایماندار ہوتے تو تمہیں یہ بات کہتے بھی شرم آنی چاہئے تھی۔ جیسے ایک بادشاہ اگر کسی کو ملازم رکھ لے تو یہ بادشاہ کا ملازم پر احسان تو ضرور ہوتا ہے مگر ملازم اسے کسی صورت یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہاری خدمت کرکے تم پر احسان کر رہا ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) یمنون علیک ان اسلموا : اعراب یہ کہتے ہیں کہ ” امنا “ (ہم ایمان لے آئے) دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلا رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان تھا جس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیال رکھنا چاہیے تھا اور اس کے بدلے میں ان کے تقاضے اور فرمائشیں پوری کرنی چاہیے تھیں، جیسے چودھری اور سردار کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر اس پر احسان رکھتے ہیں اور پارٹی کے سربراہ سے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ (٢) قل لا تمنوا علی اسلامک : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت رکھو، کیونکہ کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے، اگر نہیں ہوتا تو اس کا نقصان بھی اسی کو ہے، جیسا کہ فرمایا :(من عمل صالحاً فلنفسہ ومن آساء فعلیھا) (حم السجدہ : ٣٦)” جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اس کے لئے ہے اور جس نے برائی کی تو وہ اسی پر ہے۔ “ تمہارے اسلام لا نے یا نہ لانے سے میرا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ (٢) بل اللہ یمن علیکم ان ھدیکم : یہاں بظاہر یہ کہ کہنا چاہیے تھا کہ تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت رکھو، بلکہ میرا تم پر احسان ہے کہ میری وجہ سے تم اسلام لائے، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کی تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتلاتا اور یاد کرواتا ہے ہ اس نے تمہیں ایمان لانے کی ہدایت دی، یعنی اس کی توفیق بخشی، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اگرچہ ہدایت دیتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا :(وانک لتھدی الی فراط مستقیم) (الشوری : ٥٢)” اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائیک رتا ہے۔ “ مگر آپ صرف صراط مستقیم کی راہنمائی کرسکتے ہیں، وہ ہدایت جو صراط مستقیم پر چلنے کا نام ہے اس کی توفیق صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لئے فرمایا :(انک لاتھدی من احبیت ولکن اللہ یھدی من یشآئ) (القصص : ٥٦)” بیشک تو ہدیات نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ “ اور اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کی توفیق دی تو اس میں سر اسر تمہارا فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کو تم کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تم ہی کیا، اگر ساری مخلوق بھی جمع ہوجائے تو نہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اس پر یا اس کے رسول پر احسان رکھنے کا کیا مطلب ؟ (٤) ان کنتم صدقین : یعنی اللہ تعالیٰ کا ایمان کی ہدایت دینے کا احسان بھی تم پر اسی صورت میں ہے اگر تم اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہو، ورنہ ابھی تک تمہارے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا۝ ٠ ۭ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ۝ ٠ ۚ بَلِ اللہُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ ہَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ ١٧ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] والثاني : أن يكون ذلک بالقول، وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم بالفعل، وهو هدایته إيّاهم كما ذكر، ( م ن ن ) المن المن کے معنی بھاری احسان کے ہیں اور یہ دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ایک منت بالفعل جیسے من فلان علیٰ فلان یعنی فلاں نے اس پر گرا انبار احسان کیا ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] خدا نے مومنوں پر بڑا احسان گیا ہے ۔ اور دوسرے معنی منۃ بالقول یعنی احسان جتلانا گو انسانی معاشرہ میں معیوب سمجھا جاتا ہے مگر جب کفران نعمت ہو رہا ہو تو اس کے اظہار میں کچھ قباحت نہیں ہے اور چونکہ ( بلاوجہ اس کا اظہار معیوب ہے اس لئے مشہور ہے ، المنۃ تھدم الصنیعۃ منت یعنی احسان رکھنا احسان کو بر باد کردیتا ہے اور کفران نعمت کے وقت چونکہ اس کا تذکرہ مستحن ہوتا ہے اس لئے کسی نے کہا ہے : جب نعمت کی ناشکری ہو تو احسان رکھنا ہیں مستحن ہے اور آیت کریمہ : ۔ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] یہ لوگ تم احسان رکھتے ہیں ۔ کہ مسلمان ہوگئے ہیں ، کہدو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو ۔ بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا ۔ میں ان کی طرف سے منت بالقوم یعنی احسان جتلانا مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منت بالفعل یعنی انہیں ایمان کی نعمت سے نواز نامراد ہے۔ سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں جس کا اظہار بایں الفاظ کرتے ہیں کہ ہمیں کھانے کو دیجیے اور ہمارا احترام کیجیئے کہ ہم اسلام لے آئے۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں تصدیق ایمان کی طرف بلایا بشرطیکہ تم اپنے اس دعوے ایمان میں سچے ہو۔ شان نزول : يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا (الخ) امام طبرانی نے سند حسن کے ساتھ عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کیا ہے کہ عرب کے کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا بنی فلاں نے آپ سے قتال کیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں۔ اور بزار نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے حسن سے اسی طرح روایت نقل کی ہے باقی یہ کہ یہ چیز فتح مکہ کے وقت پیش آئی۔ اور ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ ٩ ہجری میں بنی اسد کے دس آدمی رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور ان میں طلحہ بن خویلا بھی تھے اور آپ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے ان لوگوں نے آکر سلام کیا ان کے متکل نے کہا یا رسول اللہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہم خود یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں آگئے اور آپ نے ہماری طرف کوئی وفد نہیں بھیجا اور ہم اور جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں سب فرمانبردار ہیں۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ دیہاتیوں یعنی بنی اسد میں سے ایک جماعت رسول اکرم کی خدمت میں آئی اور آکر کہنے لگی کہ ہم خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ { یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) یہ لوگ آپ پر احسان دھر رہے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے ہیں ! “ { قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمْ } ” ان سے کہیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو۔ “ { بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ” بلکہ اللہ تم پر احسان دھرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے راستے پر ڈال دیا ہے ‘ اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی کہ تم اسلام لے آئے۔ ابھی تم لوگ ایمان کے راستے پر آئے ہو۔ اگر تم اپنے اسلام کے دعوے میں سچے ہو گے ‘ نماز کی پابندی کرو گے ‘ رمضان کے روزے رکھو گے ‘ زکوٰۃ ادا کرو گے اور اعمالِ صالحہ کا اہتمام کرو گے تو ان اعمال کی نورانیت سے تمہارے دلوں کے اندر ایمان بھی پیدا ہوجائے گا۔ اس آیت میں اسلام اور ایمان کا فرق بہت واضح ہوگیا ہے۔ متعلقہ لوگوں کے دعوے کے حوالے سے یہاں دو دفعہ اسلام کا لفظ آیا ہے۔ لیکن بعد میں جب اللہ کی توفیق کے حوالے سے بات ہوئی ہے تو ایمان کا ذکر کیا گیا ہے : { بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدٰٹکُمْ لِلْاِیْمَانِ } یعنی یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اسلام لانے کی توفیق دی اور یوں اس نے تمہیں ایمان کی شاہراہ پر ڈال دیا۔ اگر تم صدق دل سے اسلام لائے ہو تو یہ شاہراہ ضرور تمہیں ایمان کی منزل تک لے جائے گی۔ لیکن اگر تم منافق ہو یا صرف جان بچانے کے لیے اسلام کی پناہ میں آئے ہو تو قانونی طور پر بیشک تمہارا شمار مسلمانوں میں ہوجائے گا لیکن اللہ کے ہاں نہ تمہارا اسلام قبول ہوگا اور نہ ایمان۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘ اس ضمن میں قانون یہی ہے کہ جو کوئی بھی زبان سے توحید و رسالت کی گواہی دے کر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے گا اسے مسلمان تسلیم کرلیا جائے گا۔ اسی قانون کے تحت غزوہ تبوک تک تمام منافقین کو بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رئیس المنافقین عبدا للہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی پڑھائی۔ البتہ غزوئہ تبوک کے بعد ان کی منافقت کا پردہ چاک کیا گیا اور ان کی بنائی ہوئی مسجد (مسجد ضرار) بھی گرا دی گئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٧۔ ١٨۔ ایۃ قالت الاعراب امنا۔ کی شان نزول میں قبیلہ بنی اسد کا ذکر جو گزرا یہ لوگ قحط کے زمانہ میں اپنے گاؤں سے گھبرا کر مدینہ آگئے اور اس لالچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے کہ غنیمت کے مال میں صدقہ خیرات کی چیزوں میں سے مدد ملتی رہے گی جس سے قحط کا زمانہ اچھی طرح کٹ جائے گا۔ اب اسلام لانے کے بعد یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان کسی پر نہ رکھیں ان کے اسلام سے اور کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا یہی لوگ اگر سچے دل سے اسلام پر قائم رہیں گے تو ان کا عقبیٰ کا بھلا ہوجائے گا اس لئے ان لوگوں کو اللہ کا احسان ماننا چاہئے کہ اس نے ان کو نیک راستہ سے لگا دیا پھر فرمایا اگر اسی طرح دوسروں پر احسان رکھنے کے لئے یہ لوگ مسلمان رہے تو اسی طرح کا اوپرے دل کا نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے اور دلی ارادہ اور اوپرے دل کے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں اس واسطے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اوپر کے دل کے کسی نیک عمل کو دلی ارادہ کا عمل بتا دے۔ طبرانی ١ ؎ کے حوالہ سے انس (رض) بن مالک کی صحیح روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن جب سر بمہر اعمال نامے پیش ہوں گے تو بہت سے نیک عملوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں کے اعمال ناموں میں سے نکال ڈالنے کا حکم دے گا فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ظاہر تو ان عملوں میں کوئی خرابی نہیں معلوم ہوتی اللہ تعالیٰ فرمائے گا انسان کے دل کا حال تم کو معلوم نہیں مجھ کو خوب معلوم ہے یہ عمل نیک نیتی اور خالص عقبیٰ کے اجر کی غرض سے نہیں کئے گئے اس واسطے نامقبول ہیں۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو بھی اعمال کا جو حال معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے وہ حال بھی چھپ نہیں سکتا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس علم غیب کے موافق سزا و جزا کا فیصلہ فرمائے گا۔ (٢ ؎ صحیح بخاری باب اذالم یکن الاسلام علی الحقیقتۃ الخ ص ٨ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(49:17) یمنون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان جتلاتے ہیں ۔ وہ احسان رکھتے ہیں۔ ان اسلموا : ان مصدریہ ہے اسلموا ماضی جمع مذکر غائب کہ وہ الام لائے۔ کہ وہ مسلمان ہوئے۔ لاتمنوا۔ فعل نہی جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان مت جتلاؤ ۔ تم احسان مت رکھو۔ لاتمنوا علی اسلامکم : ای لاتمنوا علی باسلامکم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت جتلاؤ۔ بل۔ حرف اضراب ہے۔ یعنی تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی دولت بخشی، ہدایت بخشی۔ ان ھدکم للایمان : ان مصدریہ ہے ھدی ماضی واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی کی۔ ان کنتم صدقین۔ جملہ شرط ہے ۔ جواب شرط محذوف ہے ای فللّٰہ المنۃ علیکم۔ اگر تم سچی بات کرتے ہو تو اللہ کا تم پر احسان ہے (کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت بخشی) ۔ شکر خدا کن کہ موفق شدی بخیر ز انعام و فضل او، معطل نہ گذاشتت منت منہ کہ خدمت سلطاں میکنی منت شناس ازوکہ بخدمت بداشتت ترجمہ : خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے نیکی کی توفیق دی ہے۔ اور اس نے تجھے اپنے انعام و احسان سے محروم نہیں رکھا۔ یہ احسان مت جتلا کہ تو بادشاہ کی خدمت کر رہا ہے۔ بلکہ اس کا احسان سمجھ کہ اس نے تجھے اپنی خدمت کا موقع دیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی سچے مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلائے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہاں لفظ ایمان فرمانے سے شبہ نہ کیا جائے کہ اس کا ایمان ہونا تسلیم کرلیا گیا، بات یہ ہے کہ یہاں بطور فرض کے گفتگو ہے جس میں ان کی طرف سے حکایت کی گئی ہے جیسا ان کنتم صدقین میں قرینہ ہے، یعنی اگر بالفرض تمہارے دعوے کے موافق اس کو ایمان مان لیا جائے تو بھی خدا ہی کا احسان ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (٤٩ : ١٧) “ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ، ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر واقعی تم سچے ہو ”۔ انہوں نے یہ احسان جتلایا تھا کہ وہ اسلام لائے ہیں اور ان کا زعم یہ تھا کہ وہ مومن ہیں ، جواب یہ آیا کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلاؤ ۔ اگر تم دعوائے اسلام و ایمان میں سچے ہو تو احسان اللہ کی جانب سے ہے۔ یہ جو اللہ نے ان کی تردید میں آیت نازل کی ہے یہ ایک عظیم حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ جس سے بڑے بڑے لوگ غافل ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس پر قدرے غور کریں۔ بعض اہل ایمان بھی اس سے غافل ہوتے ہیں۔ اہل زمین پر اللہ نے بڑے احسانات کئے ہیں ان میں سے ایمان سب سے بڑا احسان ہے۔ سب سے بڑا احسان تو خود انسان کا وجود اور اس ۔۔۔ ۔ سمجھا جاسکتا ہے۔ نیز انسان کی زندگی کے لوازمات اور مقدمات اور ضروریات کو سمجھا جاسکتا ہے مثلاً صحت ، سازوسامان اور زندگی لیکن ایمان ان میں سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ وہ احسان ہے جو انسان کی پوری زندگی کو بامقصد ، بامعنی اور ممتاز بنا دیتا ہے اور ایمان کی وجہ سے انسان کا کردار اس زمین میں بہت ہی حقیقی اور ممتاز ہوجاتا ہے۔ ایمان کی وجہ سے انسان کے اندر پہلی تبدیلی یہ واقع ہوتی ہے ، بشرطیکہ ایمان کی حقیقت انسان کے ذہن میں بیٹھ جائے کہ ایک مومن انسان کا تصور کائنات بہت ہی وسیع ہوجاتا ہے کیونکہ اس تصور کی وجہ سے انسان اس کائنات کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور اس کے اندر انسان کا ایک کردار متعین ہوجاتا ہے اور اس کے ماحول میں جو بھی چیزیں ہیں ، انسان اشخاص واقعات ان سب کی قدریں اس کے ہاں متعین ہوجاتی ہیں اور وہ اس سیارۂ زمین پر اپنے اس مختصر سے سفر کو نہایت ہی اطمینان سے طے کرتا ہے اور اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات سے مایوس ہوتا ہے اور اپنے خالق کے ساتھ مانوس ہوتا ہے ، جو اس کا بھی خالق ہے اور اس کائنات کا بھی خالق ہے ، اسے اپنی اہمیت اور عظمت کا بھی شعور ہوتا ہے اور یہ کہ وہ اپنے کردار اس طرح ادا کرسکتا ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو ، اور وہ اس کائنات کی مخلوقات اور انسانوں کے لئے باعث خیروبرکت بن سکتا ہے۔ انسان کے تصور میں ایک دوسرے پہلو سے بھی وسعت آتی ہے کہ وہ زمان و مکان کے حدود سے باہر نکل جاتا ہے۔ اپنی چھوٹی سی ذات کے حدود سے بھی باہر آجاتا ہے اور اس کائنات کی وسعتوں میں چلا جاتا ہے۔ جس کے اندر اللہ نے بےپناہ قوتیں رکھی ہوئی ہیں۔ اور بےحد اسرار چھپے ہوئے ہیں اور انسان اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ وہ بھی ایک طرح لا محدود ہوجاتا ہے۔ چونکہ انسان اپنی جنس کے اعتبار سے انسانیت کا ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ایک ہی اصل کی طرف لوٹتا ہے اس لیے انسان نے ابتداء میں اپنی انسانیت اللہ کی روح سے لی ہے اور یہ اسے خدا نے اپنی روح ایک مٹی کے ڈھانچے میں پھونک کر عطا کی ہے اور اسی نفخ روح کی وجہ سے یہ انسان عالم بالا کے نور کے ساتھ جڑ جاتا ہے اور یہ نور زمین و آسمان کے حدود کے اندر محدود نہیں ہے۔ یہ ان سے بھی وراء ہے جس کی نہ انتہا ہے اور نہ ابتدا ہے اور مکان و زمان کے حدود میں مقید نہیں ہے۔ یہی نور اور روح ہے جس کی وجہ سے انسان ، انسان ہے۔ جب ایک انسان کے نفس کے اندر یہ بات بیٹھ جاتی ہے تو سب سے پہلے کوئی انسان خود اپنی ہی نظر میں بلند ہوجاتا ہے۔ یہ تصور انسان کو خود اس کے اپنے احساسات کے اندر مکرم بناتا ہے اور اسے نہایت ہی روشنی اور آفاقیت کا شعور دیتا ہے۔ اس کے قدم تو زمین پر چلتے ہیں لیکن اس کی روح ، اس کے سرچشمے سے جا ملنے کے لئے پھڑ پھڑاتی ہے جس نے اسے ابتدا میں روح اور نور سے نوازا اور جس نے اسے یہ عجیب رنگ حیات دیا۔ اور یہ شخص اپنی امت اور گروہ کے اعتبار سے امت مسلمہ کا ایک فرد ہوتا ہے۔ یہی وہ واحد امت ہے جو تاریخ کے نشیب و فراز میں زمانوں سے ایک معزز قافلے کی صورت میں جادو پیما ہے۔ اس کی قیادت کبھی نوح ، کبھی ابراہیم ، کبھی موسیٰ ، کبھی عیسیٰ اور کبھی محمد (علیہم السلام) کے ہاتھ میں رہی۔ انسان کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ وہ اس پاک شجر کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں دور دور تک چلی گئی ہیں اور جس کی شاخیں آسمانوں کے اندر بہت دور تک جا چکی ہیں۔ یہی تصور ہی انسان کو ایک بلند ذوق حیات عطا کرنے کے لئے کافی ہے ، جسے یہ مل جائے وہ زندگی کے نئے احساسات لے لیتا ہے اور اس کی اس زندگی کے اندر ایک دوسری زندگی پیدا ہوجاتی ہے ، اور اس کو یہ زندگی اس کے اس نظریاتی نسب نامہ سے ملتی ہے۔ نہیں ، ابھی انسانی تصور رک نہیں گیا ، یہ اپنی ذات ، اپنی امت ، اپنی انسانیت سے بھی آگے بڑھ کر اپنی روح کے اندر اس پوری کائنات کو بھی سمیٹ لیتا ہے کہ یہ تو اس ذات نے تخلیق کی ہے جس نے انسان کو بنایا ہے ، جس نے اسے روح بخشی ہے۔ اور جس کی وجہ سے وہ کائنات کا دولہا بن گیا ہے۔ پھر اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ یہ کائنات بھی ایک زندہ وجود رکھتی ہے۔ یہ زندہ ایٹم سے پیدا شدہ ہے ۔ اس کی ہر چیز میں ایک روح ہے۔ اس پوری کائنات کی بھی روح ہے۔ اور انسانوں کی ارواح اور اس کائنات کی عظیم روح دراصل دونوں باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ سب کی سب اللہ کو پکارتی ہیں۔ اس کی تسبیح کرتی ہیں ، اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہیں اور پوری طرح اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ، یوں انسان اس عظیم کائنات کے کل کا ایک جز وبن جاتا ہے۔ یہ نہ اس سے جدا ہے اور نہ اس سے الگ ہے۔ یہ اللہ سے صادر ہے اور اپنی روح سے اس کی طرف متوجہ ہے۔ اور آخرت میں بھی اس نے اسی کی طرف جانا ہے۔ لہٰذا یہ انسان اپنی محدود ذات سے بڑا ہے۔ وہ اس قدر بڑا ہے جس قدر وہ اس کائنات کی بڑائی کا تصور ذہن میں جما سکتا ہے ۔ وہ اپنے ماحول کی تمام ارواح سے مانوس ہے۔ اور پھر وہ اس روح سے مانوس ہے جو اللہ نے اس کے اندر پھونکی ہے اس نکتے پر آکر وہ سوچتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات سے متحد ہو سکتا ہے خواہ وہ کائنات کس قدر طویل و عریض کیوں نہ ہو اور اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس میں کارہائے نمایاں سر انجام دے۔ اور بڑے بڑے واقعات کا سبب بنے اور ہر چیز کو متاثر کرے اور اس سے متاثر ہو۔ پھر اس کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ اس قوت سے استفادہ کرے جس نے اس کی تخلیق کی ، اور اس کے پورے ماحول میں پھیلی ہوئی کائنات کی تخلیق کی۔ وہ عظیم قوت جو نہ کمزور ہوتی ہے ، نہ کم ہوتی ہے اور نہ غائب ہوتی ہے۔ یعنی اللہ الکبیر المتعال ۔ اسی وسیع تصور کے پیمانے میں ، پھر یہ انسان تمام اشیاء ، تمام واقعات ، تمام اشخاص ، تمام اقدار ، تمام اہتمامات ، تمام مقاصد ، اور تمام منازل کو ایک بالکل جدید پیمانے کے ساتھ تولتا ہے ، اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں اس کا حقیقی کردار کیا ہے۔ اس کائنات میں اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ اور اس کائنات میں وہ اللہ کی اقدار میں سے ایک قدر ہے۔ اس لیے اللہ جس طرف چاہے اسے موڑ دے جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ یوں وہ پھر اسی سفر زندگی کو ، اس سیارے پر طے کرتا ہے ، ثابت قدمی کے ساتھ ، واضح بصیرت کے ساتھ اور مانوس ضمیر کے ساتھ۔ جب انسان اس زاویہ سے اپنے ماحول میں پائے جانے والی اس کائنات کی حقیقت کو پالیتا ہے ۔ پھر وہ یہ بات متعین کرلیتا ہے کہ اس دنیا میں اس کا کردار کیا ہے ؟ اور اس کردار کو ادا کرنے کے لئے اسے یہاں کیا کیا قوتیں دی گئی ہیں تو اس علم و معرفت سے اسے اطمینان ، سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ کہ اس کے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اور اسے جو کچھ پیش کر رہا ہے ، اس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اس کا محرک کون ہے یا خود وہ کہاں سے آرہا ہے ؟ اور کیوں آیا ہے ؟ کہاں جا رہا ہے ؟ اور وہاں اسے کیا ملنے والا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا مقصد زندگی کیا ہے ، اور اسے جو کچھ پیش آ رہا ہے وہ اس کا مقصدر ہے۔ اور ہو کر رہنا ہے۔ اور یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اور یہ کہ چھوٹے بڑے کاموں پر اسے جزا ملے گی ۔ وہ عبث نہیں پیدا کیا گیا۔ نہ وہ شتر بےمہار ہے ، نہ وہ اکیلا جائے گا۔ اس تصور اور شعور سے انسانی زندگی قلق ، بےچینی ، حیرت ، استعجاب اور لا علمی (بابت آغاز و انجام ) کی پریشانی سے نجات پا لیتی ہے۔ نہ اسے راستے کی بےچینی ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے آنے اور جانے سے پریشان ہوتا ہے۔ ذرا عمر خیام کو سنئے وہ پریشان ہے : “ مجھے جامہ حیات ، میرے پوچھے بغیر پہنا دیا گیا ، اس حیات کے دوران میں مختلف باتیں سوچتا رہا ، عنقریب جامہ حیات مجھ سے اتار لیا جائے گا اور مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں کیوں آیا اور مجھے جانا کہاں ہے ؟” پس ایک مومن نہایت ہی قلبی اطمینان سے یہ یقین رکھتا ہے اور بڑی خوشی دلی سے یہ اطمینان رکھتا ہے اور ایک ہشاش و بشاش چہرے کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ اسے عمر کا جامہ دست قدرت نے پہنایا ہے ۔ وہ دست قدرت علیم و قدیر کے طور پر اس کائنات میں متصرف ہے۔ اور وہ ہاتھ جس نے اسے جامہ حیات پہنایا ہے وہ زیادہ محکم اور رحیم و کریم ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ کسی مشورے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ انسان وہ سوچ پیش نہیں کرسکتا جس قدر علیم قدیر سوچ سکتا ہے اور انسان کو علیم و قدیر نے جامہ حیات اس مقصد کے لئے پہنایا ہے کہ اس نے اس کائنات میں ایک کردار ادا کرنا ہے۔ یہ اس کائنات کے اندر موجود چیزوں سے متاثر ہوگا اور ان کو متاثر کرے گا اور اس نے جو کر دار ادا کرنا ہے وہ اس کردار سے ہم آہنگ ہے جو اس دنیا میں تمام اشیاء ادا کر رہی ہیں۔ زندہ ہوں یا غیر زندہ ، ابتداء سے انتہا تک۔ پس ایک مومن جانتا ہے کہ وہ کیوں آیا ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس نے جانا کہاں ہے ؟ اور وہ کسی فکری انتشار میں گرفتار نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ اپنا یہ سفر اور اپنا یہ کردار نہایت اطمینان سے ادا کرتا ہے۔ نہایت یقین کے ساتھ ، نہایت وثوق کے ساتھ ۔ کبھی تو یہ مومن درجہ ایمان میں اس قدر ترقی کرجاتا ہے کہ وہ اپنے یہ کردار اس قدر خوشی اور انبساط کے ساتھ ادا کرتا ہے کہ اس تحفہ حیات کی خوبصورتی کا شعور رکھتا ہے ، اور اسے ایک عظیم عطیہ سمجھتا ہے۔ اور اس عمر اور جامہ عمر کو خلعت شاہی سمجھتا ہے۔ وہ بادشاہ جو لطیف وخبیر اور جو جمیل اور ودودورحیم ہے اور جو کردار یہاں ادا کرنا ہے ، چاہے جس قدر مشقت کا باعث بن جائے وہ اسے ادا کر کے رب ذوالجلال کے ہاں پہنچ سکتا ہے۔ اور اس قسم کے پریشان کن شعور صرف ایمان کی وجہ سے غائب ہوجاتا ہے ، اس قسم کے شعور کے اندر میں بھی ایک عرصے تک گرفتار رہا ہوں۔ نہایت ہی کربناک پریشانیوں میں ، اس زمانے میں جب مجھے قرآن کے سایہ عاطفت میں آنے کی توفیق نہ ملی تھی۔ اور اس زمانے میں کہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر ابھی اپنے سایہ عاطفت کے اندر مجھے داخل نہ کردیا تھا۔ یہ شعور میری روح میں موجود تھا اور میں نے “ آزردہ دل ، آزردہ کند ۔۔۔۔۔ را ” کے بموجب یہ شعور پوری کائنات کو اڑھا دیا تھا۔ وقف الکون حائرا ابن یمضی ولماذا وکیف لو شائ یمضی عبث ضائع وجھد غبین ومصیر مقنع لیس یرضی ( یہ پوری کائنات انگشت بدنداں ہے کہ یہ کہاں جا رہی ہے ، کیوں جار ہی ہے اور کس طرح جا رہی ہے ، اگر وہ جانا چاہے تو عبث جدو جہد ہے اور فانی دنیا ہے اور جب موت کا نقارہ بج جائے تو چاہے نہ چاہے ، جانا ہے) ۔ آج میں جانتا ہوں ، اور اللہ کے فضل وکرم سے جانتا ہوں کہ کوئی جدو جہد ضائع نہیں ہے ، یہ کیے کی جزاء وسزا ہے۔ کوئی جدو جہد اکارت نہیں جاتی ہے۔ اور انجام مرضی کے مطابق ہے اور عادل اللہ اور شفیق و رحیم رب کے پاس جانا ہے۔ اور یہ کہ یہ کائنات یہاں رکی نہیں رہے گی۔ اس کائنات کی روح رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہے اور اس کی حمد وثناء کر رہی ہے اور یہ اس کی مرضی کے مطابق چل رہی ہے۔ اور اس کے اس قانون کے مطابق چل رہی ہے جو اس کے لئے اس نے تیار کیا ہے اور نہایت ہی تسلیم و رضا ہے اور اطاعت امر کے ساتھ جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں فکر و شعور کی دنیا میں بھی انسان کے لئے یہ بہت بڑی دولت ہے اور جسمانی اور اعصابی لحاظ سے بھی اور حسن کارکردگی ، جدو جہد اور تاثیر اور تاثر اس کے علاوہ ہیں۔ ایمان جس طرح انسانی جسم و روھ کے لئے ایک قوت مجسمہ ہے ، اسی طرح وہ ایک اقدامی قوت بھی ہے۔ جو نہی کسی دل میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے وہ عملی جدو جہد کی شکل میں پھر جسم سے باہر آتا ہے ایمان کی جو صورت ذہن میں ہوتی ہے ۔ وہ ایمان کی اس صورت کے ساتھ ہمقدم ہوتی ہے جو خارج میں عملی دنیا میں ہوتی ہے اور انسان کی قوائے متحرکہ پر ایمان قابض ہوجاتا ہے اور اسے ایمان راستے کی طرف بڑھاتا ہے۔ “ یہ ہے وہ راز جس کی وجہ سے نفس کے اندر عقیدے کی قوت مضمر ہے اسی طرح ایک مومن ہونے کی وجہ سے نفسیاتی قوتوں میں اضافے کا راز بھی یہی ہے ۔ نظریہ کی وجہ سے دنیا میں جو عجائبات و معجزات صادر ہوتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں ان کا راز یہی ہے ان معجزات کی وجہ آئے دن زندگی کا چہرہ بدل جاتا ہے۔ یہ ایمان اور نظریہ ہی ہے جس کے لئے لوگ یہ فانی زندگی بھی قربان کردیتے ہیں اور اس زندگی میں قدم رکھتے ہیں جو کبھی فانی نہیں ہوتی اور ایک نہایت ہی ضعیف اور چھوٹا شخص بھی ایک بادشاہ ، ایک ڈکٹیٹر کے سامنے سر اٹھا کر چلتا ہے اور آگ اور لوہے کی قوتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ ایمان کے سامنے بارود شکست کھاجاتی ہے۔ یہ صرف ایک انسان نہیں ہوتا جو ان عظیم قوتوں کو شکست دے دیتا ہے بلکہ وہ ایک عقیدہ ہوتا ہے جو ان قوتوں کو پاش پاش کردیتا ہے بلکہ یہ وہ عظیم ایمان قوت کا سرچشمہ ہے جس سے انسانی روح قوت حاصل کرتی ہے۔ یہ سرچشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا ، کبھی اس میں کمی نہیں آتی ، یہ کبھی کمزور نہیں ہوتا ”۔ “ یہ معجزانہ تغیرات جو ایک نظریہ ، ایک فرد اور ایک سوسائٹی کے اندر رونما کرتا ہے ، کوئی ایسا نظریہ نہیں کرسکتا جو خرافات اور افسانوں پر قائم ہوتا ہے ، جو ناقابل فہم ہو یا محض خوف اور حیرانگی اور تخیلاتی ہو بلکہ وہ عقیدہ کرسکتا ہے جو قابل فہم اور مضبوط اصولوں پر مبنی ہو۔ حقیقی دینی عقیدہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو اس کائنات کی ظاہری اور باطنی قوتوں کے ساتھ یکجا کر دے اور انسان کی روح کے اندر اعتماد اور اطمینان پیدا کر دے۔ اور اس کے اندر ایک ایسی قوت پیدا کر دے جس کے ساتھ وہ تمام ناپائیدار اور زائل ہونے والی باطل قوتوں کا مقابلہ کرے اور اسے یقین ہو کہ آخر کار وہ فتح یاب ہوگا۔ یہ اعتماد اسے اللہ کی ذات سے حاصل ہو۔ اور یہ عقیدہ ایسا ہو جو انسان کو یہ بتاتا ہو کہ وہ اپنے ماحول کے واقعات سے ، ماحول کی تمام چیزوں اور تمام لوگوں کے ساتھ متعلق ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو اس کی منزل بھی دکھائے اور اس کا انجام بھی بتائے۔ اس کی پوری قوتوں کو مجتمع کرے اور ایک رخ پر ڈال دے۔ یہ ہے عقیدے کی قوت کا راز۔ کہ وہ تمام قوتوں کو مجتمع کر کے ایک محور کے گرد گھما دیتا ہے۔ ان کو ایک سمت عطا کرتا ہے۔ انسانوں کو ان کا ہدف معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنے اس نصب العین کی طرف نہایت قوت ، یقین اور اعتماد سے بڑھتے ہیں۔ غرض عقیدے اور نظریات کی قوت میں یوں بھی اضافہ ہوجاتا ہے کہ یہ اس طرف جاتے ہیں جس طرف یہ پوری کائنات جاتی ہے۔ پوری کائناتی قوتیں جاتی ہیں ، ظاہری یا باطنی ہوں ۔ کیونکہ کائنات کے اندر جتنی بھی قوتیں ہیں وہ ایمان کے راستے پر چل رہی ہیں۔ یوں ایک مومن کے لئے یہ کائناتی قوتیں رفیق سفر ہوتی ہیں اور اس طرح یہ ایمانی قوت اور کائناتی قوتیں مل کر باطل پر حملہ آور ہوتی ہیں ، اگرچہ باطل بظاہر بڑی قوت نظر آئے اور آنکھوں کی چکا چوند کردینے والی ہو لیکن ایمانی قوت سے وہ پاش پاش ہو کر رہے گی۔ اللہ نے ہم سے کہا : یمنون علیک ان ۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (٤٩ : ١٧) “ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان سے کہو ، اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی ، اگر تم واقعی سچے ہو ”۔ یہ ہے وہ عظیم دولت جس کا مالک بھی اللہ ہے اور جس کا بخشنے والا بھی اللہ ہے۔ اور اللہ دولت ایمان اسی کے حوالے کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہوتا ہے کہ یہ اس فضل عظیم کا مستحق ہے۔ اللہ نے سچ کہا ، جو شخص ان حقائق و علوم کے ساتھ دوستی کرلے اور یہ معانی اور یہ شعور اسے حاصل ہوجائے اور ان کے اندر وہ زندہ ہو اور وہ اس کے اندر اس چھوٹے سے سیارے پر معمولی حالات میں مختصر زندگی گزار رہا ہو اس نے گویا کچھ بھی نہیں کھویا اور جو شخص اس دولت سے محروم ہوگیا ، وہ اگر ناز ونعم کی زندگی بھی بسر کرے ، اس طرح زیادہ کھائے پئے جس طرح مویشی بہت سا کھاتے اور پیتے ہیں ، تو وہ جان لے کہ اس سے یہ مویشی اچھے ہیں جو اپنی فطرت کے اعتبار سے خالق کریم کے مطیع فرمان ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معالم التنزیل اور روح المعانی میں لکھا ہے کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو وہ دیہاتی لوگ جنہوں نے اٰمَنَّا کہا تھا خدمت عالی میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ واقعی ہم سچے دل سے اسلام لائے ہیں اس پر آیت کریمہ ﴿يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ﴾ (الآیۃ) نازل ہوئی یعنی وہ آپ پر اس بات کا احسان دھرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ﴿قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ ﴾ آپ فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت جتاؤ ﴿ بَلِ اللّٰهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِيْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ٠٠١٧﴾ (بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دے دی اگر تم واقعی ایمان میں سچے ہو) جس کا اب دوبارہ دعویٰ کر رہے ہو تو تمہیں اللہ کا احسان ماننا لازم ہے اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور باطن سب کا پتہ ہے تمہارے دین کا بھی علم ہے۔ اللہ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارا دین اسلام ہے اگر سچے مسلمان ہو گے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں مسلمان شمار ہوجاؤ گے پھر وہ اس کی جزا دیدے گا تمہیں اپنے دلوں کی تلاشی لینا چاہیے کہ واقعی مومن ہیں یا نہیں ؟ اس آیت میں جو ﴿ يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا ﴾ فرمایا ہے اس کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے کہ انہوں نے تو اٰمنَّا کہا تھا ان کی بات کو لفظ اَسْلَمُوْا سے تعبیر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کے بارے میں ایک بات تو یہ سمجھ میں آئی کہ انہوں نے جو اٰمنا کہا تھا ان کا پہلی بار بھی دعوائے ایمان صحیح نہ تھا اور دوبارہ جو انہوں نے یوں کہا کہ ہم واقعی سچے دل سے اسلام لائے ہیں یہ بھی اوپر ہی کے دل سے تھا لفظ اَسْلَمُوْا نے اس بات کو ظاہر کردیا اور ایک بات اور سمجھ میں آئی وہ یہ کہ اس میں احسان دھرنے والوں کو تنبیہ ہے کہ جب سچے دل سے ایمان لانے والوں کے لیے اسلام قبول کرنے پر احسان دھرنا صحیح نہیں تو اوپر کے دل سے اسلام کا دعویٰ قبول کرنے والوں کو اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان دھرنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ اس میں رہتی دنیا تک آنے والوں اور دین اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو تنبیہ کردی گئی کہ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے اگر سچے دل سے قبول کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام کا ماننے والا فرد تسلیم کیا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی بتادی کہ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے وہ اپنے بھلے کے لیے قبول کرتا ہے وہ مسلمانوں پر احسان نہ دھرے کہ میں مسلمان ہوگیا لہٰذا تم لوگ میرے لیے چندہ کرو اور روٹی رزق کا انتظام کرو، مسلمانوں کو چاہیے تو سہی کہ وہ اس کی مدد کریں لیکن اسے چاہے کہ مسلمانوں پر احسان نہ دھرے اور نہ ان سے کچھ طلب کرے خود کمائے كھائے آخر زمانہ کفر میں بھی تو کسب کرتا تھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

16:۔ ” یمنون علیک۔ الایۃ “ یہ بھی زجر ہے۔ یہ اعرابی اپنے اسلام لانے سے آپ کو اپنا ممنون احسان بنانا چاہتے ہیں۔ آپ فرما دیں اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ رکھو، بلکہ اگر واقعی تم ادعائے ایمان میں سچے ہو، تو پھر تو اللہ تعالیٰ کا تم پر احسان ہے جس نے تمہیں ایمان لانے کی توفیق دی، اس لیے تم مجھ پر احسان رکھنے کے بجائے تمہیں اللہ کا شکر بجا لانا چاہئے جو تمہیں کفر سے نکال کر اسلام میں لے آیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اے پیغمبر یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں آپ فرمادیجئے تم مجھ پر اپنے اسلام لانے اور مسلمان ہونے کا حسان نہ رکھو بلکہ اللہ تعالیٰ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے ایمان کی جانب تمہاری رہنمائی فرمائی بشرطیکہ تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو نیکی اپنے ہاتھ سے ہوا اپنی تعریف نہیں رب کی تعریف ہے جس نے کروائی۔ یعنی اگر تمہارا یہ دعویٰ ایمان سچا بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ کا احسان مانو کہ اس نے تم کو ہدایت ایمان کی توفیق دی اور تمہاری رہنمائی فرمائی تم الٹا اپنا احسان جتاتے ہو۔ اور یہاں تو بات ہی دوسری ہے کہ دعوئے اسلام میں ہی سچے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم تمہارے ایمان کے خلاف ہے۔ یہ تمام آیتیں اعراب مذکورہ سے ہی تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ صاحب مدراک کا خیال ہے اسی لئے ہم نے سب آیتوں کا سلسلہ قالت الاعراب سے ہی رکھا ہے۔ اب خلاصہ یہ ہوا کہ یہ اعراب کذب خدع یعنی دھوکہ اور تمنن یعنی احسان جتانا تینوں افعال قبیحہ کے مرتکب ہوئے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کئی مرتبہ کی گفتگو کا خلاصہ ہو جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بنی اسد پہلے چلے گئے جب انہوں نے یہ آیتیں سنیں تو پھر آئے اور قسمیں کھا کر یقین دلانے لگے اس پر آگے کی آیتیں نازل ہوئیں۔ ایمان اور اسلام امام ابوحنیفہ کے نزدیک اور امام احمد (رح) کی ایک روایت کی بنا پر دونوں چیزیں ایک ہی ہیں یہاں ایمان اور اسلام کی جو بحث ہے وہ لغوی ہے شرعی نہیں۔