Surat ul Hujraat

Surah: 49

Verse: 18

سورة الحجرات

اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾٪  14

Indeed, Allah knows the unseen [aspects] of the heavens and the earth. And Allah is Seeing of what you do.

یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں اللہ خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, Allah knows the Unseen of the heavens and the earth. And Allah is the All-Seer of what you do. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Hujurat. Verily, all praise is due to Allah, all the favors are from Him, and from Him comes the success and protection from error.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(ان اللہ یعلم غیب السموت والارض…: اس سے پہلے یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ آسمان و زمین کی انھی اشیاء کو جانتا ہے جو ظاہر ہیں، بلکہ وہ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو نگاہوں سے غائب ہیں، خواہ پہلے گزر چکی ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گی اور تم جو کچھ کر رہے ہو یا آئندہ کرو گے اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ نظم الدرر میں ہے، قشیری نے کہا :” جو شخص یہاں ٹھہر کر تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اس کا عیش مکدر ہوجائے گا، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کے غیب میں کیا لکھا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور ایمان کی نعمت اس کے پاس موت تک رہے گی یا نہیں۔ پھر دعویٰ کس بات کا اور احسان کیسا ؟ یہی معنی اس شعر میں ادا ہوا ہے۔ ابکی و ھل تدرین ما یبکینی ابکی حذراً ان تفارقینی و تقطعی حبلی و تھجرینی ” میں روتا ہوں اور کیا تو جانتی ہے کہ مجھے کیا چیز رلاتی ہے ؟ میں اس ڈر سے روتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا نہ ہوجائے ۔ مجھ سے قطع تعلق نہ کرلے اور مجھجے چھوڑ نہ دے۔ “ ابن کثیر (رح) نے فرمایا :’ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑے مجمعوں کے مواقع پر عموماً اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، مثلاً عید اور جمعہ۔ اس کے علاوہ فجر کی نماز میں بھی اس کی قرأت فرمایا کرتے تھے، کیونکہ یہ ابتدائے خلق، بعث، نشور، معاد، قیام، حساب، جنت، جہنم، ثواب، عقاب اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔ “ (ابن کثیر) عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ابو واقد لیثی (رض) سے پوچھا :” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا پ ڑھا کرتے تھے ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں نمازوں میں ” ق والقرآن المجید “ اور ” اقتربت الساعۃ “ پڑھا کرتے تھے۔ “ (مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ : ٨٨٣) جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں :(ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کان یقرا فی الفجرب (ق والقرآن المجید) وکان صلاتہ بعد تخفیفا) (مسلم، الصلاۃ ، باب القراء ۃ فی الصبح : ٣٥٨)” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں سورة ق پڑھا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز ہلکی ہوتی تھی۔ “ بعض علماء نے ” وکان صلاتہ بعد تخفیفا “ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اس کے بعد کی باقی نمازیں ہلکی ہوتی تھیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۝ ١٨ ۧ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به «2» ، وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

مگر تم جھوٹے ہو سچے نہیں اور اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی سب پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ اور اے جماعت منافقین تمہارے نفاق سے بھی اور اگر تم توبہ نہ کرو تو تمہاری سزا سے بھی واقف ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨{ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ } ” یقینا اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے بھی دیکھ رہا ہے۔ “ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ، ونفعنی وایّاکم بالات والذّکر الحکیم

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(49:18) بصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ فائدہ : آیات 14 تا 18 میں ان بدوی قبائل کا ذکر ہے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ رہیں گے۔ اور اسلامی فتوحات کے فوائد سے بھی متمتع ہوں گے یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محض زبانی اقرار ایمان کرکے محض مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کر الیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت افشا ہوجاتا جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے۔ اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کرکے آپ پر بڑا احسان کیا ہے روایات میں متعدد قبائلی گروہوں کے اس رویہ کا ذکر آیا ہے ۔ مثلاً مزنیہ۔ جہنیہ ۔ اسلم۔ اشیحع۔ غفار وغیر ہ وغیرہ۔ خاص طور پر بنی اسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ ایک دفعہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں۔ ہم نے اس طرح جنگ نہیں کی جس طرح فلاں فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے۔ اس سے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ کے رسول سے جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کرلینا ان کے ایک احسان ہے جس کا معاوضہ انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان سے ملنا چاہیے۔ اطراف مدینہ کے بدوی گروہوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جس پر ان آیات میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس تبصرہ کے ساتھ سورة توبہ کی آیات 90 تا 110، اور سورة الفتح آیات 1117 کو ملا کر پڑھا جائے تو بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ تمہارا ایمان کتنے پانی میں ہے اور تم کہاں تک دل سے اسلام کی پیروی کررہے ہو لہٰذا کسی پر احسان جتلانے کی ضرورت نہیں جو مانگتا ہے سیدھی طرح مانگو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان اللہ یعلم ۔۔۔۔۔ بما تعملون (٤٩ : ١٨) “ اللہ زمین و آسمان کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، وہ اس کی نگاہ میں ہے ”۔ جو اللہ زمین و آسمانوں کے غیب سے واقف ہے ، جو ضمیروں کی بات جانتا ہے ، جو انسانی شعور سے بھی واقف ہے ، جو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کرتے کیا ہیں۔ وہ صرف وہ باتیں ہی نہیں جانتا جو لوگوں کی زبان سے نکلتی ہیں بلکہ ان شعوری جذبات سے بھی واقف ہے جو دلوں میں جوش مارتے ہیں ، ان اعمال سے بھی واقف ہے جو ان دلی جذبات کے نیتجے میں عمل میں آتے ہیں۔ یہ ہے گیارہ آیات پر مشتمل یہ عظیم سورت ، یہ مومنین کے لئے نہایت ہی اہم نشانات راہ تجویز کرتی ہے اور نہایت ہی اعلیٰ اور پاکیزہ نشانات نیز انسانی شعور و ضمیر کی گہرائیوں میں نہایت ہی عظیم اصول اور حقائق کی نشاندہی کرتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ١ؕ﴾ (اور بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے غیب کو) یعنی چھپی ہوئی باتوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو وہ خوب جانتا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (رح) ٠٠١٨﴾ (اور تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے) وھذا آخر تفسیر سورة الحجرات، والحمد للّٰہ الذی بعزتہ ونعمتہ تتم الصالحات وقد فرغت منہ فی الیلة السابعة من شھر شعبان فی ١٤١٨ ھ والحمد للّٰہ اولًا واٰخرًا باطنًا وظاھرًا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” ان اللہ۔ الایۃ “ ٓآخر میں مسئلہ توحید کا علی وجہ الترقی بیان ہے۔ سورة محمد میں فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے بعد سورة فتح میں فرمایا ” تسبحوہ “ یعنی معبود وہی ہے کس کو اس کا شریک نہ بناؤ اور یہاں سورة حجرات میں فرمایا ” ان اللہ یعلم۔ الایۃ “ یعنی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا معبود اور کارساز بھی وہی ہے۔ کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ بناؤ اور حاجات و مشکلات میں اس کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔ سورة حجرات میں آیت توحید، +1 ۔ ” ان اللہ یعلم غیب السموات والارض، واللہ بصیر بما تعملون “ نفی شرک اعتقادی۔ سورة حجرات ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) بلا شبہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی تمام مخفی اور پوشیدہ باتیں جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سب کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ صاحب مدارک نے فرمایا یہ ان اعراب کی غیر صادق ہونے کا بیان ہے یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو آسمان و زمین کو جانتا ہے اور تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور دیکھنے والا ہے تو اس سے یہ وہ بات کیوں کر پوشیدہ ہوسکتی ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ تم تفسیر سورة الحجرات