Surat ul Maeeda

Surah: 5

Verse: 120

سورة المائدة

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا فِیۡہِنَّ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۲۰﴾٪  6

To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is within them. And He is over all things competent.

اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth and all that is therein, and He is able to do all things. means, He created everything, owns everything, controls the affairs of everything and is able to do all things. Therefore, everything and everyone are in His domain and under His power and will. There is none like Him, nor is there rival, ancestor, son, or wife for Him, nor a lord or god besides Him. Ibn Wahb said that he heard Huyay bin Abdullah saying that Abu Abdur-Rahman Al-Habli said that Abdullah bin `Amr said, "The last revealed Surah was Surah Al-Ma'idah." This is the end of the Tafsir of Surah Al-Ma'idah. To Allah be praise and blessings. Top

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧١] اس آیت میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدہ مریم دونوں کی الوہیت کی تردید کی دلیل ہے کیونکہ جو چیز کسی کی ملکیت ہو وہ اس کی مملوک یا غلام تو ہوسکتی ہے اس کی شریک نہیں ہوسکتی۔ نہ اسے اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک سمجھا جاسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سورت کے آخر میں نصاریٰ کی تردید کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت مناسب ہے، یعنی اکیلا وہی زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا (جن میں انسان بھی ہیں) بادشاہ ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے، عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ان کی والدہ یا روح القدس، سب اس کے بندے ہیں، جو کسی طرح معبود ہونے میں اس کے شریک قرار نہیں دیے جاسکتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لِلہِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْہِنَّ۝ ٠ۭ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ ١٢٠ۧ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ قَدِيرُ : هو الفاعل لما يشاء علی قَدْرِ ما تقتضي الحکمة، لا زائدا عليه ولا ناقصا عنه، ولذلک لا يصحّ أن يوصف به إلا اللہ تعالی، قال : إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [ البقرة/ 20] . والمُقْتَدِرُ يقاربه نحو : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ، لکن قد يوصف به البشر، وإذا استعمل في اللہ تعالیٰ فمعناه القَدِيرُ ، وإذا استعمل في البشر فمعناه : المتکلّف والمکتسب للقدرة، يقال : قَدَرْتُ علی كذا قُدْرَةً. قال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] . القدیر اسے کہتے ہیں جو اقتضائے حکمت کے مطابق جو چاہے کرسکے اور اس میں کمی بیشی نہ ہونے دے ۔ لہذا اللہ کے سوا کسی کو قدیر نہیں کہہ سکتے ۔ قرآن میں ہے : اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر ۔۔۔۔ قادر ہے ۔ اور یہی معنی تقریبا مقتقدر کے ہیں جیسے فرمایا : عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بار گاہ میں ۔ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ [ الزخرف/ 42] ہم ان پر قابو رکھتے ہیں ۔ لیکن مقتدر کے ساتھ کبھی انسان بھی متصف ہوجاتا ہے ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق مقتدر کا لفظ استعمال ہو تو یہ قدیر کے ہم معنی ہوتا ہے اور جب انسان کا وصف واقع ہو تو اس کے معنی تکلیف سے قدرت حاصل کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قدرت علی کذا قدرۃ کہ میں نے فلاں چیز پر قدرت حاصل کرلی ۔ قرآن میں ہے : ( اسی طرح ) یہ ریا کار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ نہیں لے سکیں گے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٠) آسمان و زمین کے تمام خزانے مثلا بارش اور ہر قسم کے پھل اور تمام مخلوقات اور عجائب اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں داخل ہیں اور رب ذوالجلال کو آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ثواب و عذاب دینے پر پوری قدرت حاصل ہے، لہٰذا اسی ذات کی تعریف بیان کرو جو کہ آسمان و زمین کا خالق ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٠ (لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِیْہِنَّ ط) (وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ) یہاں پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے سورة المائدۃ کے اختتام کے ساتھ ہی مکی اور مدنی سورتوں کے گروپس (groups) میں سے پہلا گروپ ختم ہوگیا ہے ‘ جس میں ایک مکیّ سورة یعنی سورة الفاتحہ اور چارمدنی سورتیں ہیں۔ سورة الفاتحہ اگرچہ حجم میں بہت چھوٹی ہے لیکن یہ اپنی معنوی عظمت کے لحاظ سے پورے قرآن کے ہم وزن ہے۔ سورة الحجر کی آیت : (وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ) مفسرین کی رائے کے مطابق سورة الفاتحہ ہی کے بارے میں ہے۔ اس گروپ کی چار مدنی سورتیں البقرۃ ‘ آل عمران ‘ النساء اور المائدۃ دو دو کے جوڑوں کی شکل میں ہیں۔ ان تمام سورتوں کے مضامین کا عمود ایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کرلیں۔ مکمل شریعت آسمانی ‘ اہل کتاب سے خطاب اور ردّوقدح ‘ ان پر الزامات کا تذکرہ ‘ ان کے غلط عقائد کی نفی ‘ انہیں ایمان کی دعوت ‘ ان کی تاریخ کے اہم واقعات کی تفصیلات ‘ ان کا امت مسلمہ کے منصب سے معزول کیا جانا ‘ جس پر وہ دو ہزار برس سے فائز تھے اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس منصب پر فائز کیا جانا۔ یہ موضوعات آخری درجے میں اس گروپ کی سورتوں میں مکمل ہوگئے ہیں۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 آخر سورت میں انصاری کی تردیدی کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت منا سب ہے یعنی و ہی اکیلا تمام انسانوں کا خدا ہے اور خدا ہونے کا حق رکھتا ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ان کی والدہ اور روح القدس سب اسی کے بندے ہیں جو کسی طرح اس کی خدائی میں شریک قرار نہیں دیئے جاسکتے (کبیر، ابن کثیر) اصل میں اس سورة کو ابتدا احکام شریعت کے بیان سے ہوئی اس کے بعد یہود و نصاری ٰ سے منا ظرہ کا ذکر آیا اب آخر میں یہ آیت لاکر اشارہ فرمادیا کہ اس سورت میں چو کچھ بیان ہوا ہے اوہ سارے کا سارہ قطعی اور حجت ہے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی ابتدا میں عہد کی پاسداری کا حکم دیا تھا عہد میں سب سے بڑا عہد بندے کا اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا ہے اب سورة کا اختتام شرک کی نفی اور توحید کے اثبات اور اقرار پر ہو رہا ہے۔ سورۃ کے اختتام میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اسے اپنی ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے ذرّے ذرّے اور چپے چپے پر قادر ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اے لوگو اگر تم اللہ کی توحید سے منحرف ہو کر اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد توڑ دو اس کی نافرمانی اور شرک جیسے عظیم گناہ میں ملوث ہوجاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ کی ملکیت، اس کے اقتدار اور اختیار میں ذرّہ برابر کمی واقع نہیں ہوتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ خدا کے نافرمان اور باغیوں کو ایک چیلنج ہے جس کی رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تفصیل یوں بیان فرمائی ہے : مسائل ١۔ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ ٢۔ کائنات کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے : ١۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٢۔ بیشک زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ (التوبۃ : ١١٦) ٣۔ کیا آپ نہیں جانتے ؟ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : ١٠٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ١٢٠۔ یہ ایک ایسا اختتامی تبصرہ ہے جو اس عظیم مسئلے کی بحث کے خاتمے کے لئے موزوں اور مناسب ہے ۔ نیز اس عظیم منظر سے جو تاثر ملتا ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ یہاں اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔ اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْھِنَّ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے اندر ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت میں پوری سورة کے مضامین کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے چونکہ ساری مخلوق اللہ ہی کی ہے اور سارا ملک اسی کا ہے اس لئے اس کو اختیار ہے جس کو چاہے جو حکم دے۔ جس کو چیز کو چاہے حلال قرار دے جس چیز کو چاہے حرام قراردے اور مجرموں کیلئے دنیا و آخرت میں جو سزا چاہے تجویز فرمائے جس کو چاہے بخش دے جس کو چاہے سزا دے اس کو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں (وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) تم تفسیر سورة المائدہ الحمد للہ اولاً واٰخرا وظاھراً و باطنا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

186 لِلّٰہِ خبر مقدم ہے اور تقدیم خبر افادہ حصر کے لیے ہے یعنی زمین و آسمان کی بادشاہی اور تمام اختیارات اللہ ہی کے لیے ہیں لا لعیسی وامہ نہ کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہما السلام) کے لیے اس میں سورت کے خلاصہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں بالذات نفی شرک فی التصرف کا ذکر ہے اور ضمنًا نفی شرک فعلی بھی اس میں آگئی یعنی جب زمین و آسمان کی بادشاہی اور تمام اختیارات و تصرفات اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہیں اور کسی کے لیے نہیں تو نذر و نیاز کا مستحق بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں نہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہما السلام) اور نہ ان کے سوا کوئی اور۔ 187 بقرینہ ماقبل یہاں بھی حصر ہے یعنی صرف وہی ہر چیز پر قادر ہے لا عیسیٰ و امہ نہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ علیہما السلام۔ فائدہ : رکوع 3 میں نفی شرک فی التصرف پر یہ دلیل پیش کی گئی تھی۔ وَ لِلّٰہِ مُلْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَہُمَا یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ وَاللہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ پھر سورت کے آخر میں ذرا اختصار سے اسی دلیل کا اعادہ کر کے اس طرف اشارہ کیا گیا کہ سورة مائدہ کا محور اور مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جب سب کچھ اللہ کے قبضے اور تصرف میں ہے تو وہی کارساز ہے۔ حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہما السلام) کے قبضہ اور اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے وہ کارساز بھی نہیں اور نذر و نیاز کے مستحق بھی نہیں۔ خصوصیات سورة مائدہ : 1 ۔ اس سورت میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں نفی شرک فعلی اور نفی شرک فی التصرف۔ نفی شرک فعلی کے سلسلے میں چار مسائل بیان ہوئے۔ تحریمات غیر اللہ تین عنوانوں سے، اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ (ع 1) ۔ لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَا اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ ۔ اور مَا جَعَلَ اللہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ الخ۔ تحریمات اللہ۔ اس کے دو عنوان ہیں۔ غَیْرَ مُحَلِّیْ الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرْمٌ۔ اور لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ الخ۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز، اس کے بھی دو عنوان ہیں۔ مَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بہ۔ اور مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ۔ اللہ کی نذریں اس کے بھی دو عنوان ہیں۔ لَا تُحِلُّوْا شَعَائِرَ اللہِ وَ لَا الشَّھْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْھَدْی الخ۔ اور جَعَلَ اللہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا للنَّاسِ الخ۔ 2 ۔ شرک فی التصرف میں زیادہ زور حضرت مسیح اور حضرت مریم (علیہما السلام) سے غیب دان اور کارساز ہونے کی نفی پر دیا گیا ہے۔ اور دلائل کی بجائے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ ان کے غیب دان اور کارساز سمجھنے والے کافر ہیں۔ سورة مائدہ میں آیات توحید :۔ 1 ۔ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَـيْـــًٔـا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭوَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 2 ۔ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 3 ۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِد 4 ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۭوَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 5 ۔ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْهِنَّ ۭ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

120 اللہ ہی کے لئے بادشاہت ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی یعنی آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس کی سب کی بادشاہت بھی اسی کے لئے ہے اور کائنات و ارضی و سماوی کا راج اسی کیلئے ہے اور وہ ہر شئی پر پوری طرح قادر ہے۔