Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 1

سورة ق

قٓ ۟ ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ﴿۱﴾ۚ

Qaf. By the honored Qur'an...

ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah swears: ق وَالْقُرْانِ الْمَجِيدِ Qaf, By the Glorious Qur'an. Qaf, which is one of the letters of the alphabet that are mentioned in the beginning of some Surahs, such as, ص (Sad) (38:1), ن (Nun) (68:1), الم (Alif Lam Mim) (2:1), حم (Ha Mim) (40:1), and طس (Ta Sin) (28:1) and etc., Mujahid and several others said this. We also discussed this in the beginning of the explanation of Surah Al-Baqarah, and therefore, it is not necessary to repeat it here. The Disbelievers wonder at the Message and Resurrection Allah said, Allah swears: ... وَالْقُرْانِ الْمَجِيدِ By the Glorious Qur'an. means by the Honorable and Great Qur'an, which, لااَّ يَأْتِيهِ الْبَـطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلااَ مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ Falsehood cannot come to it from before it or behind it: (it is) sent down by the All-Wise, Worthy of all praise. (41:42) The subject of the oath contained in this Ayah is specified afterwards, even though it does not appear by word, emphasizing Prophethood, resurrection and affirming that they are true. There are similar kinds of oaths in the Qur'an, whose subject is included in the meaning but not by word, such as, ص وَالْقُرْءَانِ ذِى الذِّكْرِ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ Sad. By the Qur'an full of reminding. Nay, those who disbelieve are in false pride and opposition. (38:1-2) Allah said here, ق وَالْقُرْانِ الْمَجِيدِ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءهُمْ مُنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ق حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے ص ، ن ، الم ، حم ، طس ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورہ بقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے ۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے ، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرا ئیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا ۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بد دینوں نے گھڑ لی ہوں گی تا کہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں ، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجودیکہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں ۔ پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں جو حفظ سے عاری تھے جن میں نقادان فن موجود نہ تھے جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے ان کا کیا ٹھیک ہے ؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں ، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے ۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے واللہ اعلم ۔ افسوس کہ بہت سلف وخلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں ، فالحمد اللہ ، یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمن بن ابو حاتم رازی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بہ روایت حضرت ابن عباس وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں ، اس میں ہے کہ اللہ تبارک وتعالی نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے ، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے ، پھر اس کے پچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے پھر اس کے پچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں ، سات سمندر ، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے پھر یہ آیت پڑھی ، آیت ( وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 27؀ ) 31- لقمان:27 ) اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے علی بن ابو طلحہ جو روایت حضرت ابن عباس سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ ( ق ) اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں ( ق ) بھی مثل ( ص ، ن ، طس ، الم ) وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے پس ان روایات سے بھی حضرت ابن عباس کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور ( ق ) کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر جیسے شاعر کہتا ہے ۔ قلت لھا قفی فقالت ق لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں ۔ اس لئے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہئے اور یہاں کونسا کلام ہے ؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے ۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پچھے سے باطل نہیں آسکتا جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس قسم کا جواب کیا ہے ؟ اس میں بھی کئی قول ہیں ۔ امام ابن جریر نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب آیت ( قد علمنا ) پوری آیت تک ہے لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دو بارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو لفظوں سے قسم اس کا جواب نہیں بتاتی ہو لیکن قرآن میں جواب میں اکثر دو قسمیں موجود ہیں جیسے کہ سورہ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے ، اسی طرح یہاں بھی ہے پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ Ą۝ ) 10- یونس:2 ) ، یعنی کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے ، یعنی دراصل یہ کو تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لئے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں ؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت چمڑے ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے ہمارے علم میں ہے ۔ پھر پروردگار عالم انکے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آجانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے مریج کے معنی ہیں مختلف مضطرب ، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ Ď۝ۙ ) 51- الذاريات:8 ) یعنی یقینا تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو ۔ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

1۔ 1 اس کا جواب قسم محذوف ہے لَتُبْعَثنَّ (تم ضرور قیامت والے دن اٹھائے جاؤ گے) بعض کہتے ہیں اس کا جواب ما بعد کا مضمون کلام ہے جس میں نبوت اور معاد کا اثبات ہے (فتح القدیر و ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] قرآن کی شان :۔ شان والا اس لحاظ سے ہے کہ دنیا میں کوئی کتاب اس کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جاسکتی، نہ مضامین کے لحاظ سے، نہ اسرار و رموز کے لحاظ سے اور نہ کثیر الاشاعت ہونے کے لحاظ سے۔ پھر اس کی شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جتنا بھی غور کیا جائے، نئے سے نئے اسرار کھلتے جاتے ہیں اور ہر انسان خواہ وہ علمی لحاظ سے کس درجہ کا آدمی ہو اس سے ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ نہ اس سے مبتدی بےنیاز ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی علامہ دہر۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) ق : مفسر ابن کثیر نے فرمایا : ” ق “ ان حروف تہجی میں سے ہے جو سورتوں کی ابتدا میں مذکور ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ص “ ، ” ن “ ، ” الم “ ، ” حم “ ، ” طس “ ، وغیرہ ۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ہم سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام کرچکے ہیں جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ (ہماری اس تفسیر میں بھی سورة بقرہ کے شروع میں اس پر کلام گزر چکا ہے) بعض سلف سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا ” ق “ ایک پہاڑ ہے جو ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اسے جبل قاف کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم) کہ یہ بنی اسرائیل کی خرافات سے ہے جو بعض لوگوں نے یہ سمجھ کرلے لی ہیں کہ بنی اسرائیل سے وہ روایات لینا جائز ہیں جنہیں ہم نہ سچا کہیں نہ جھوٹا۔ میرے نزدیک یہ اور اس جیسی دوسری باتیں بنی اسرائیل کے دشمن دین اور زندیق لوگوں کی گھڑی ہوئی ہیں، جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کے دلوں میں ان کے دین کے بارے میں شکوک پیدا کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ ہماری امت میں بڑے بڑے جلیل القدر علماء و حفاظ اور ائمہ کی موجودگی کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھوٹی روایات گھڑ کر بیان کی گئی ہیں، حالانکہ کوئی زیادہ مدت بھی نہیں گزری۔ تو اتنی لمبی مدت میں بنی اسرائیل کا کیا حال ہوگا جن میں تنقید کرنے والے حفاظ بہت کم تھے، شرابیں پی جاتی تھیں اور ان کے علماء اللہ کے کلام اور اس کی آیات میں لفظی اور معنوی تحریف اور تدبیلی کیا کرتے تھے۔ شارع نے یہ کہہ کر ” حدتوا عن بنی اسرائیل ولا حرج “ (بنی اسرائیل سے بیان کرو اور کوئی حرج نہیں) صرف ان روایات کی اجازت دی ہے جنہیں عقل ممکن قرار دیتی ہو، رہی ہو باتیں جو عقلاً محال اور واضح طور پر باطل ہیں، وہ اس فرمان میں شامل نہیں ہے۔ “ (ابن کثیر)” حدتوا عن بنی اسرائیل ولا حرج “ کی تفسیر جو ابن حبان (رح) نے فرمائی ہے، اس تفسیر کے مقدمہ میں اسرائیلیات پر کلام میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ایک روایت نقل فرما کر اس کی تردید کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر پیدا فرمایا ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کی پیچھے ایک پہاڑ پیدا فرمایا ہے جسے ” کوہ قاف “ کہا جاتا ہے، جس کے اوپر آسمان دنیا ہے۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں جن میں ہر ایک کیپ یچھے ایک سمندر اور ایک کوہ قاف ہے۔ غرض لمبی روایت ہے جو عقل و نقل اور مشاہدے کے صریح خلاف ہے۔ اگر واقعی قاف کسی پہاڑ کا نام بھی ہوتا تو اسے ” ق “ کے بجائے ” قاف “ لکھا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے مسلمانوں میں کوہ قاف اور اس کی پریوں کے افسانے ایسی ہی روایتوں سے رائج ہوئے ہیں اور کتب تفسیر میں نقل ہونے کی وجہ سے ملحد اور بےدین لوگوں کو اسلام اور قرآن و سنت پر اعتراض کا موقع مل گیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت دونوں ایسی فضول باتوں سے پاک ہیں۔ غیر محتاط اور مکھی پر مکھی مارنے والے مفسرین کی باتوں کو لے کر اسلام پر اعتراض صرف بد باطن اور بدنیت لوگ ہی کرتے ہیں، اہل تحقیق کا یہ شیوہ نہیں۔ (٢) والقرآن المجید : قسم کسی بات کی تاکید کے لئے اٹھائی جاتی ہے، وہ تاکید یا تو اس چیز کی عظمت کی بنا پر ہوتی ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے اسمائے حسنیٰ کی قسم ہے، یا قسم کے اس بات کی دلیل اور شاہد ہونے کی بنا پر ہوتی ہے جو قسم کے جواب میں آرہی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم اس کے عظیم مجدو شرف کی بنا پر اٹھائی ہے اور اس بنا پر بھی کہ قرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کی دلیل ۔ اس کا جواب قسم محذوف ہے جو اگلی آیت :(بل عجبوآ ان جآء ھم منذر منھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب) سے سمجھ میں آرہا ہے۔ اگلی آیت میں پہلی بات جس پر کفار کے تعجب کا ذکر ہے، یہ ہے کہ ان کی طرف خود ان میں سے ایک پیغمبر کیسے مبعوث ہوگیا ؟ وہ تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جواب قسم اس مفہوم کا جملہ ہوگا۔” انک رسول اللہ حقا و ما ردوا امرک بحجۃ ولا کذبوک ببرھان “ یعنی یہ عظیم الشان قرآن اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور کفار نے آپ کی نبوت کا انکار کسی دلیل یا جھت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور کفار نے آپ کی نبوت کا انکار کسی دلیل یا حجت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ محض اس تعجب کی بنا پر کیا ہے کہ ان کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا کیسے آگیا ؟ سورة یٰسین میں اس قسم کا جواب محذوف محض اس تعجب کی بنا پر کیا ہے کہا ن کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا کیسے آگیا ؟ سورة یٰسین میں اس قسم کا جواب محذوف نہیں بلکہ مذکور ہے، فرمایا :(یسیٰ ، والقرآن الحکیم، انک لمن المرسلین) (یٰسین : ١ تا ٣) ” یس۔ اس حکمت سے بھرے ہوئے قرآن کی قسم ! بلا شبہ تو یقینا بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر کفار کے اس تعجب اور شبہے کا ذکر فرما کر اس کا رد فرمایا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : ٩٤) سورة ص میں بھی ” والقرآن ذی الذکر “ کا جواب محذوف ہے جو اس سے اگلی آیت :(بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق) سے معلوم ہو رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Linkage with the preceding Surah This Surah mostly contains subjects relating to the Day of Judgment, Resurrection, the Reckoning, Paradise, the Fire, Allah&s reward and punishment etc. Thus this Surah is linked with Surah Al-Hujurat because the concluding part of the latter Surah dealt with these subjects. Characteristics and Virtues of Surah Qaf It is reported in Muslim, as cited in Qurtubi, that Umm Hisham Bint Harithah Ibn Nu` man (رض) ، said: |"For around two years, or a year and a part of another year, we shared one single oven with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I memorized Surah Qaf from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who used to recite it every Friday while standing on the pulpit delivering the Friday sermon to the people.|" Sayyidna ` Umar Ibn-ul-Khattab (رض) asked Abu Waqid Al-Laithi: |"What did the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recite during the ` Id prayers?|" He replied: |"Surah Qaf and Surah Qamar.|" Sayyidna Jabir (رض) reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to recite Surah Qaf often in the Morning Prayer. (Despite that this Surah is rather long,) the prayer was felt light (Qurtubi). It was the special trait of the recitation of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that praying behind him caused no stress, even when he recited the long Surahs. Is it Possible to Observe the Heaven? أَفَلَمْ يَنظُرُ‌وا إِلَى السَّمَاءِ (Did they not, then, look to the sky above them? - 50:6). Apparently this sentence indicates that it is possible to see the sky, while the general impression is that the blue colour that we see above is the colour of the atmosphere, and not that of the heaven. However, there is no proof for non-existence of the sky, nor of the presumption that the colour of the heaven is not blue. Besides, the word nazar (seeing) used in the verse could mean perceiving through reason, that is, thinking, pondering etc. (Bayan-ul-Qur’ an)

خلاصہ تفسیر ق ( اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن مجید کی (یعنی جس کو دوسری کتابوں پر فضیلت و شرف ہے کہ ہم نے آپ کو عذاب قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے مگر ان لوگوں نے نہ مانا) بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی ( کی جنس) میں سے (یعنی انسانوں میں سے) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آ گیا (جس نے ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا) سو ( اس پر) کافر لوگ کہنے لگے کہ (اول تو خود) یہ (ایک) عجیب بات ہے (کہ بشر پیغمبر ہو، دوسرے پھر دعویٰ بھی عجیب بات کا کرے کہ دوبارہ زندہ ہوں گے بھلا) جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید ہے (خلاصہ یہ ہے کہ اول تو وہ ہم جیسے انسان ہیں ان کو پیغمبری کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں، پھر وہ اپنے دعوے میں ایک محال چیز کا دعویٰ کرتے ہیں، کہ مرنے اور مٹی ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاویں گے، اس کے جواب میں حق تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا امکان ثابت کر کے ان کے محال کہنے کو رد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کو تم جو غیر ممکن کہتے ہو اس کی دو وجہ ہو سکتی ہیں، یا تو یہ کہ جن چیزوں کے زندہ ہونے کو کہا گیا ہے ان میں زندہ ہونے کی صلاحیت ہی نہ ہو، یہ تو مشاہدہ سے غلط ہے، کیونکہ وہ اس وقت تمہارے سامنے زندہ موجود ہیں، اگر زندگی کی صلاحیت ہی نہ ہوتی تو اس وقت کیسے زندہ ہیں، دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت اس لئے نہ ہو کہ جو اجزاء میت کے مٹی ہو کر منتشر ہوگئے وہ اس کو معلوم نہ ہوں کہ کہاں بکھرے ہیں، تو اس کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے علم کی تو یہ شان ہے کہ) ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو مٹی (کھاتی ہے اور) کم کرتی ہے اور (یہ نہیں کہ آج سے جانتے ہیں بلکہ ہمارا علم تو قدیم ہے، حتیٰ کہ ہم نے قبل و قوع ہی سب اشیاء کے سب حالات اپنے علم قدیم سے ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیئے تھے اور اب تک) ہمارے پاس (وہ) کتاب (یعنی لوح) محفوظ (موجود) ہے (جس میں ان اجزاء منتشر کا مکان اور وضع اور مقدار اور وصف سب کچھ ہے، سو اگر علم قدیم کسی کی سمجھ میں نہ آوے تو یوں ہی سمجھ لے کہ وہ دفتر جس میں سب کچھ ہے، حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے مگر یہ لوگ پھر بھی بلاوجہ تعجب ہی میں ہیں اور صرف تعجب ہی نہیں) بلکہ سچی بات کو (جس میں مسئلہ نبوت اور آخرت کی دوبارہ زندگی بھی ہے) جبکہ وہ ان کو پہنچتی ہے جھٹلاتے ہیں، غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں (کہ کبھی تعجب ہے، کبھی تکذیب ہے، یہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے تھا، آگے بیان ہے قدرت کا یعنی) کیا ان لوگوں ( کو ہماری قدرت کا علم نہیں ہے اور کیا انہوں) نے اپنے اوپر کی طرف آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا (اونچا اور بڑا) بنایا اور (ستاروں سے) اس کو آراستہ کیا اور اس میں (بوجہ مکمل استحکام کے) کوئی رخنہ تک نہیں (جیسا کہ اکثر تعمیرات سے زمانہ کے دراز ہونے کے بعد رخنہ پڑجایا کرتا ہے، یہ تو آسمان میں ہماری قدرت نمایاں ہے) اور زمین (میں یہ قدرت ظاہر ہے کہ اس) کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور اس میں ہر قسم کی خوش نما چیزیں اگائیں جو ذریعہ دانائی اور بینائی کا (یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا) ہر رجوع ہونے والے بندے کے لئے (یعنی ایسے شخص کے لئے جو مصنوعات کو اس نظر سے دیکھے کہ ان کو کس نے بنایا ہے) اور (ہماری قدرت اس سے ظاہر ہے کہ) ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ اور لمبی لمبی کجھور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں، بندوں کے رزق دینے کے لئے اور (دوسری نباتات مثل گھاس وغیرہ کے جمانے کے لئے بھی) ہم نے اس (بارش) کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا (پس) اسی طرح (سمجھ لو کہ مردوں کا) زمین سے نکلنا ہوگا (کیونکہ قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے تمام مقدورات برابر ہیں بلکہ جو ذات بڑی چیزوں پر قادر ہے اس کا چھوٹی چیزوں پر قادر ہونا اور زیادہ ظاہر ہے، اسی لئے آسمان و زمین کا یہاں ذکر کیا گیا، کہ ان کی تخلیق ایک مردہ کو دوبارہ زندہ کرنے سے بہت بڑی بات ہے کماقال تعالیٰ (آیت) لخلق السٰموٰت والارض اکبر) تو جب ان بڑے بڑے کاموں پر اللہ تعالیٰ کی قدرت ثابت ہوگئی تو مردہ کو زندہ کردینے پر کیوں نہ ہوگی، تو معلوم ہوا کہ مردوں کو زندہ کرنا محال نہیں، ممکن ہے اور زندہ کرنے والا فاعل مختار بڑی قدرت والا ہے، پھر اس میں تعجب یا تکذیب کی کیا بات ہے، آگے تکذیب کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے پچھلی امتوں کے واقعات بتلا کر وعید کی گئی ہے کہ جس طرح یہ لوگ انکار قیامت سے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح) ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد اور فرعون اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں (یعنی) سب نے پیغمبروں کو (یعنی اپنے اپنے پیغمبر کو توحید اور رسالت اور قیامت کے معاملہ میں) جھٹلایا سو میری وعید ( ان پر) محقق ہوگئی ( کہ ان سب پر غذاب نازل ہوا، اسی طرح ان مکذبین پر عذاب آوے گا، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں، وعید کے بعد پھر مضمون اول کی طرف دوسرے طور پر عود ہے کہ) کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے میں تھک گئے ( کہ دوبارہ زندہ نہ کرسکیں، یعنی ایک مانع یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کام بھی ممکن ہو اور کرنے والے کو قدرت بھی پوری ہو، مگر کوئی عارضی مانع پیش آجائے جیسے کرنے والا تھک گیا ہو، اس لئے یہ کام نہیں کرسکا، اس آیت میں اس کی بھی نفی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے عیوب سے پاک ہے اور وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا، نہ اس کو تکان ہونے کا کوئی امکان ہے، اس لئے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونا دلائل سے ثابت ہوگیا اور یہ لوگ جو انکار کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف سے (محض بےدلیل) شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں (جو دلائل کے سامنے کسی طرح قابل التفات نہیں۔ معارف و مسائل سورة ق کی خصوصیات : سورة ق میں بیشتر مضامین آخرت اور قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے اور حساب و کتاب سے متعلق ہیں اور یہی مناسبت ہے اس کو اس سے پہلی سورة حجرات سے کہ اس کے آخر میں انہی مضامین کا ذکر تھا۔ سورة ق کی ایک خاص اہمیت اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ ام ہشام بنت حارثہ بن النعمان کہتی ہے کہ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت قریب میرا مکان تھا) دو سال کے قریب ہمارا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تنور ( جس میں روٹی پکتی تھی) ایک ہی تھا، مجھے سورة ق پوری اس طرح حفظ ہوئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سورت ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ میں تلاوت فرماتے تھے (رواہ مسلم از قرطبی) اور حضرت عمر بن خطاب نے ابو واقد لیثی سے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین کی نمازوں میں کونسی سورت پڑھا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : قۗ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ ، اور اقتربت الساعتہ اور حضرت جابر سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں بکثرت سورة ق تلاوت فرماتے تھے ، (یہ سورت خاصی بڑی ہے) مگر اس کے باوجود نماز ہلکی رہتی تھی (قرطبی) یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تلاوت کا خاص اثر تھا کہ بڑی سے بڑی سورت اور طویل سے طویل نماز بھی پڑھنے والوں پر ہلکی رہتی تھی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قۗ۝ ٠ ۣ ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ۝ ١ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ مجد الْمَجْدُ : السّعة في الکرم والجلال، وقوله في صفة القرآن : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ [ ق/ 1] ( م ج د ) مجد یمجد مجدا ومجا دۃ کے معنی کرم وشرف اور بزرگی میں وسعت اور پہنائی کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ [ ق/ 1] قرآن مجید کی قسم ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٢) ق۔ یہ دنیا میں سبز رنگ کا پہاڑ کا اس کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور قسم ہے قرآن مجید کی۔ قریش سے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے تو اس پر ان لوگوں کو تعجب ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ قسم کھا کر بیان کرتا ہے اور ان تعجب کرنے والوں میں ابی بن خلف، امیہ بن خلف، منبہ بن الحجاج اور نبیہ بن حجاج ہیں کہ ان لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان کے خاندان میں سے ایک ڈرانے والا رسول ان کے پاس آیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١{ قٓ قف وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ۔ } ” ق ‘ قسم ہے عظیم الشان قرآن کی۔ “ قرآن کی تین سورتیں ایسی ہیں جن کے آغاز میں صرف ایک ایک حرفِ مقطعہ ہے۔ ان میں سورة قٓ کے علاوہ تیئسویں پارے کی سورة صٓ اور انتیسویں پارے کی سورة القلم (یا سورة نٓ) شامل ہیں۔ بہت سی دوسری سورتوں کے آغاز کی طرح اس سورت کے آغاز میں بھی قرآن مجید کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے ۔ بہرحال چونکہ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن حکیم کی قسم کا مقسم علیہ موجود ہے اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی وہی ہوگا ‘ یعنی { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ } (یٰسٓ) ۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم ہے اس عظیم الشان قرآن کی ‘ بیشک آپ مرسلین میں سے ہیں۔ اس قسم کے فوراً بعد دوسری آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعارف انذارِ آخرت کے حوالے سے کرایا گیا ہے جو اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The word "majid" is used for expressing two meanings in Arabic: for expressing the high rank, status, honor and dignity of a person, and for saying that somebody is highly generous, charitable and beneficent. This word has been used for the Qur'an in both these meanings. The Qur'an is great and glorious in the sense that no book of the world can be brought up against it. It is a miracle both in its language and literary excellence and in its teaching and wisdom. Humans were helpless to produce the like of it at the time when it was sent down and are likewise helpless even today. Nothing of it could ever be proved wrong in any age, nor can anything of it be proved wrong in the present age. Falsehood can neither attack it from the front nor from the rear, and defeat it. And it is generous and beneficent in the sense that the more a man goes on trying to gain guidance from it, the more of guidance it goes on giving him, and the more he follows and obeys its commands and instructions the more he continues to be blessed with good, things of the world and the Hereafter. There is no limit to its benefits and advantages where a man may become independent of it, and where it may cease to be beneficial and useful for him.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :1 مجید کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ ایک ، بلند مرتبہ ، با عظمت ، بزرگ اور صاحب عزت و شرف ۔ دوسرے ، کریم ، کثیر العطاء ، بہت نفع پہنچانے والا ۔ قرآن کے لیے یہ لفظ ان دونوں معنوں میں استعمال فرمایا گیا ہے ۔ قرآن اس لحاظ سے عظیم ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب اس کے مقابلے میں نہیں لائی جا سکتی ۔ اپنی زبان اور ادب کے لحاظ سے بھی وہ معجزہ ہے اور اپنی تعلیم اور حکمت کے لحاظ سے بھی معجزہ ۔ جس وقت وہ نازل ہوا تھا اس وقت بھی انسان اس کے مانند کلام بنا کر لانے سے عاجز تھے اور آج بھی عاجز ہیں ۔ اس کی کوئی بات کبھی کسی زمانے میں غلط ثابت نہیں کی جا سکی ہے نہ کی جا سکتی ۔ باطل نہ سامنے سے اس کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ پیچھے سے حملہ آور ہو کر اسے شکست دے سکتا ہے ۔ اور اس لحاظ سے وہ کریم ہے کہ انسان جس قدر زیادہ اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اسی قدر زیادہ وہ اس کو رہنمائی دیتا ہے اور اتنی زیادہ اس کی پیروی کرے اتنی ہی زیادہ اسے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ اس کے فوائد و منافع کی کوئی حد نہیں ہے جہاں جا کر انسان اس سے بے نیاز ہو سکتا ہو ، یا جہاں پہنچ کر اس کی نفع بخشی ختم ہو جاتی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١۔ ١٠۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی رہے گا۔ قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہ نبوت اور حشر کا ثبوت ہے جس کا ذکر آگے فرمایا۔ حشر میں مشرکین مکہ کا شبہ یہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک کی تمیز اور خاک سے کیونکہ ہوگی۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ہمارے پاس انسان کی خاک اسم وار لوح محفوظ میں تفصیل سے لکھی ہے جس سے ہر انسان کی خاک کی تمیز انسان کی عقل میں آسکتی ہے۔ اس جواب کی کچھ صراحت آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں بھی آتی ہے حق سے مطلب یہاں قرآن ہے نبوت کے شبہ کا جواب سورة انعام کے جواب کے علاوہ یہاں جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نادانی سے نبی آخر الزمان اور قرآن کے باب میں الجھی ہوئی باتیں کرتے ہیں کہ کبھی اللہ کے رسول کو جادوگر اور قرآن کو جاود بتاتے ہیں اور کبھی ایسے ہی اور بکواس لگاتے ہیں۔ ان کو تو سیدھی سی ایک بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں جانتے ہیں تو یہ اور ان کے وہ جنات جو ان کے نجومیوں اور کاہنوں کو آسمانی باتیں چرا چرا کر پہنچاتے ہیں سب مل کر قرآن جیسی کوئی سورت بنا کر پیش کریں۔ جب ان سے یہ نہیں ہوسکتا تو پھر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کلام اتر ہے ان کو اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاننے میں ان لوگوں کو شبہ کرنے کا کیا موقع باقی رہا صحیحین ١ ؎ کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیث قدسی میں فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی عقل کے خلاف میں نے اس کو ایک بوند پانی سے پیدا کیا اور اس کے مرجانے کے بعد پھر دوبارہ اس کے جلانے اور نیک و بد کی جزا و سزا کی میں نے اپنے کلام میں خبر دی۔ لیکن اس نے اس کا انکار کرکے مجھ کو جھٹلایا اور میرے کلام میں عقلی اعتراض نکالے اور اپنے خلاف عقل پیدائش کو بھول گیا۔ اسی طرح صحیحین ٢ ؎ کی ابوہریرہ (رض) کی دوسری حدیث بھی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہر ایک نبی کو ضرورت کے موافق معجزات دیئے گئے ہیں مگر اور معجزات کے علاوہ قرآن ہی میرا ایک ایسا معجزہ ہے کہ موجودہ لوگوں کے سوا ناموجود لوگوں پر بھی قیامت تک اس کا اثر باقی رہے گا۔ ان آیتوں میں حشر نبوت اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں اس کے بعد آسمان زمین ‘ زمین کے پہاڑ اور آسمان سے مینہ برس کر کھیتی باغ جو زمین کی پیداوار کے طور پر اس مینہ سے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا ذکر فرما کر انسان کو یاد دلایا کہ جس نے بغیر نمونہ کے ان سب عجائبات کو پیدا کیا۔ ایک دفعہ کے نمونہ کے بعد انسان کی دوبارہ پیدائش کو ایسے صاحب قدرت سے بعد جاننا کسی عقل مند کا کام نہیں ہے۔ ) ١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اخلاص ص ٧٤٣ ج ٢) (٢ ؎ باب کفی نزل الوحی الخ ص ٧٤٤ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:1) ق۔ حروف مقطعات میں سے ہے۔ والقرآن المجید واؤ قسمیہ ہے القرآن المجید موصوف صفت۔ جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) انک جئتھم منذرا بالبعث۔ بیشک آپ ان کے پاس آئے ہیں ان کو حشر کے دن جی اٹھنے سے ڈرانے کے لئے۔ (ابو حیان) (2) وقیل تقدیرہ : لتبعثن۔ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (3) وقیل ھو : قد علمنا ما تنقص الارض منھم : ہم خوب جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں کو (کھا کھا کر) گھٹاتی ہے۔ (الاخفش) (4) وقیل ھو : ما یلفظ من قول الاولیدیہ رقیب عتید کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے (ابن کیسان) (5) اہل کوفہ کے نزدیک اگلی متصل آیت جواب قسم ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ المجید۔ صفت مشبہ معرفہ۔ مجد (باب نصر) مصدر۔ بزرگ ہونا۔ شریف ہونا۔ (اونٹوں کا) بہت چارہ والی چراگاہ میں چرنا اور مجدت الابل، وسیع اور بڑے سبزہ زار میں اونٹ پہنچ گئے۔ عرب کہتے ہیں فی کل شجرنا رواستمجد المرخ والعفار۔ ہر درخت میں آگ ہے لیکن مرخ اور عفار سب سے بڑ چڑھ کر ہیں۔ اور اس کے معنی میں کثرت اور وسعت کا مفہوم غالب ہے۔ عرف عام میں وسعت کرم اور رفعت عزت کے معنی میں ہوگیا۔ اللہ وسیع الفضل ہے کثیر الخیر ہے۔ سب سے بڑھ کر بزرگ ہے۔ رفیع الشاش ہے۔ اس لئے مجید ہے۔ قرآن مجید میں تمام مکارم دنیویہ و اخرویہ کو حاوی ہے (راغب)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 ” ہمیں نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے لیکن یہ مکہ والے آپ پر ایمان نہیں لائے۔ “ قسم کا یہ جواب محذوف ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١ تا ١٥۔ اسرار ومعارف۔ ق۔ اور قسم ہے قرآن مجید کی یعنی یہ عظیم الشان کتاب جسے تمام کتابوں پر بھی فضیلت دی گئی ہے اس بات پر گواہ ہے کہ آگے بیان ہونے والاسب سچ ہے جو عقلابھی ثابت ہے نقل سے تو پہلی کتابوں میں اور اسمیں بھی ثابت ہے۔ کفار کو اس بات پر حیرت ہورہی ہے ان میں سے یعنی بنی آدم میں سے کوئی بھلا کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے مزید اس پر یہ کہ بڑی ہی عجیب بات ہے یہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ کیے جاسکیں گے یہ بات محال ہے اور ایسا ہوناممکن نہیں فرمایا انسان اپنے ناقص علم اور اپنی کمزوریوں پر قیاس کرتا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ مرنے والے کے اجزاء کو مٹی نے کہاں کہاں ملایا اور وجود کا ہر ذرہ کہاں پر ہے ہمارے علم تو ازلی اور قدیم ہے کچھ بھی نہ تھا تو اللہ کو سب کچھ معلوم تھا کہ کہاں کیا ہوگا اور کون سا ذرہ کہاجائے گا جیسے زندگی میں بھی توروئے زمین سے غذا ودوا کی صورت میں ذرات خاکی ہی تو جزو بدن بنتے جاتے ہیں اور اس قدر پھیلے ہوئے ہیں کہ مرکر کسی کے اجزاء اس طرح پھیلنا ممکن نظر نہیں آتا ، جب یہ سب جمع ہو کر زندہ وجود سامنے ہے تو وہ کیسے نہ ہوں گے بلکہ ان تمام امور کا علم تو لوح محفوظ میں محفوظ کردیا گیا ہے ان کی بدنصیبی اور ان شبہات کا سبب ان کا کفر ہے کہ جب ان کے پاس نبی (علیہ السلام) دین برحق کا پیغام لائے تو انہوں نے انکار کردیا یوں انکے دلوں میں شبہات کے طوفان امنڈ ائے ۔ کیا یہ آسمان میں غور نہیں کرتے کہ سارے عالم کے سروں پر کس طرح تان دیا ہے اور اسے کس قدر خوبصورتی دی ہے اور سجادیا ہے اور اس کی بناوٹ میں کوئی جوڑ تک نظر نہیں آتانہ کوئی ٹوٹ پھوٹ کا اثر پیدا ہوتا ہے۔ اور زمین کو پھیلادیا کہ یہ بیضوی کرہ ہر جگہ بچھا ہوا ہے اور اس میں مختلف راہیں ممالک حدود اور مختلف جگہوں میں مختلف خصوصیات رکھ دیں اور طرح طرح کی چیزیں اگادیں کہ ہر شے مختلف ذرات کا مجموعہ ہی تو ہے جو اتفاقا جمع نہیں ہوگئے بلکہ خالق مصطلق نے ہر ذرہ ہر شے کے لیے مقرر فرمادیا ہے اس پر غور فکر ہراس بندے کے لیے کافی ہے جس کے دل میں اللہ کی طرف رجوع موجود ہو آسمانوں سے پانی برسنا اس کا نظام ار کر بلندیوں تک جانا بادل بن کر برسنا اور پھر زمین پر بیشمار روئیدگی کا باعث بن جانا اور ہمارا باغات اگادینا اور انہیں پھلوں سے بھردینا کھیتوں کو فصلوں سے اٹ دینا کہ انسان کاٹ کر غذائے بنائے اور لمبی لمبی کھجوریں جن پر تہ درتہ خوشے لگے ہوتے ہیں ان سب کو اپنے بندوں اور مخلوق کی روزی بنانایہ سب جسمانی اجزاء اور ذرات ہی تو ہیں جو یکجا کیے جا رہے ہیں اور جس طرح یہ سب ایک موسم میں ختم ہوکرگل سڑ جاتے ہیں اور لگتا ہے زمین مردہ ہوگئی مگر پھر اس پر بارش برسا کر یہ سب کچھ اگادیتے ہیں اور سب کے ذرات پھر سے یکجا ہوکردرخت پھل سبزے اور کھیتیاں بن جاتے ہیں کہ انسانی اجسام کے ذرات کا مجموعہ ہی تو ہیں ایسے ہی روز قیامت تم سب کے اجزا جمع کرکے تم زندہ کیے جاؤ گے اور اگر انکار ہی کریں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے انکار کیا اور کنویں والے لوگ کہ یہ صالح (علیہ السلام) کی قوم وہ لوگ تھے جو عذاب سے بچ گئے اور صالح (علیہ السلام) کے ساتھ روانہ ہو کر ایک کچے کنویں پر مقیم ہوئے جہاں صالح (علیہ السلام) کو موت نے آلیا تو وہ جگہ حضر موت کہلاتی ہے اور ان کے بعد گمراہ ہوکرہلاک ہوئے ایسے ہی ثمود یہ بھی انہی کی قوم جو پہلے تباہ ہوئی اور قوم عاد جو بڑے زور آور تھے اور فرعون اور لوط (علیہ السلام) کی قوم یا وہ لوگ جو جنگل میں رہتے تھے ان کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے یا قوم تبع جن کا حال گزرچکا ہے یہ سب ایسے لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی بات کو جھٹلایا اور ان پر عذاب کی وعید لاگو ہوکرسچ ثابت ہوئی ان کے اثرات تم لوگوں کے گرد بکھرے پڑے ہیں یا ان کفار کو یہ دھوکا ہے کہ وہ قادر مطلق ایک بار پیدا کرکے تھک گیا ہے اور دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا یہ محض بےدلیل بات ہے جبکہ اس کی ذات عیوب سے پاک اور اس کی قدرت دلائل سے ثابت ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 15 : عجبوا (انہوں نے تعجب کیا) منذر (ڈرانے والا) متنا (ہم مر گئے) رجع بعید (یہ تو لوٹنا دور کا ہے) ‘ تنقص (گھٹاتی ہے) ‘ مریج (الجھا ہوا) ‘ فروج ( سوراخ) ‘ مددنا ہم نے پھیلا دیا) القینا (ہم نے ڈال دیا) رواسی (راسیۃ) بوجھ ‘ زوج بھیج (طرح طرح کی خشنمائی۔ خوبصورتی) ‘ تبصرۃ ( دکھانا۔ سمجھانا) ‘ منیب (پلٹنے والا۔ توجہ کرنے والا) ‘ الحصید (کٹا ہوا کھیت) النخل (کھجور کا درخت) ‘ بسقت (باسقۃ) لمبے لمبے ‘ طلع (خوشہ) نضید (ایک دوسرے سے ملا ہوا۔ گتھا ہوا) ‘ الرس (پرانا کنواں) الایکۃ (گھنا جنگل) ‘ تبع (پیچھے چلنے والا) حق (ثابت ہوا) وعید (میراڈراوا) ‘ لبس (شک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر : 1 تا 15 : سورئہ ق سے قرآن کریم کی ساتویں اور آخری منزل کا آغاز ہو رہا ہے۔ ق حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی عظمت کی قسم کھا کر فرمایا یہ وہ بلند رتبہ اور عظمت و جلال والی کتاب ہے جیسے ان تمام کتابوں پر عزت و شرف حاصل ہے جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہیں۔ اس کتاب کا مقابلہ اور کوئی کتاب نہیں کرسکتی۔ اس کتاب میں اس بات کو نہایت واضح طریقے سے بیان کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں انسان کا قیام عارضی ہے حقیقی زندگی کا آغاز آخرت سے ہوگا۔ دنیا میں وقتی زندگی گذارنے کے بعد ہر شخص کو ایک مقرر دن (قیامت کے دن) اللہ کی بار گاہ میں حاضر ہو کر اپنے تمام اعمال کا حساب دینا ہو گا پھر جزا اور سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان تمام باتوں کو اللہ کے پیغمبر آکر بتاتے ہیں تاکہ راستہ سے بھٹکے ہوئے انسان سیدھے راستے پر آجائیں جو انکی اطاعت و فرماں برداری کرتے ہیں وہ کامیاب ہوتے ہیں لیکن اللہ و رسول کے منکر جب گناہوں کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں تو پھر ان کو عبرت ناک سزادی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کفار اس بات کو بڑی حیرت اور تعجب سے کہتے رہتے ہیں کہ یہ تمام باتیں بتانے والے پیغمبر ان ہی جیسے بشر ہیں۔ ان میں اور ہم میں فرق کیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے پیغمبر ان ہی میں سے ان کی اصلاح کے لئے نہ بھیجے جائیں تو پھر وہ کون سی مخلوق ہوگی جو پیغمبر بنا کر بھیجی جائے گی۔ انبیاء کی بشریت کا انکار کفار کا مزاج رہا ہے جس کا مظاہرہ وہ کرتے رہتے ہیں۔ قرآن کریم میں صاف صاف فرمادیا گیا ہے کہ اگر اللہ فرشتے کو بھی پیغمبر بنا کر بھیجتا تو وہ بھی بشر ہی ہوتا۔ کفار اس بات میں بھی تعجب کرتے ہیں کہ جب وہ مر کر مٹی ہوجائیں گے ان کی ہڈیاں گل سڑ جائیں گی اور ان کے جسم کے سارے اجزا بکھر جائیں گے تو ان کے اجزاء کس طرح جمع کئے جاسکیں گے ؟ دنیا کے اربوں کھربوں انسانوں کے اجزا جمع ہو کر دوبارہ کس طرح انسانی شکل اختیار کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اس میں تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اللہ کو معلوم ہے انسانی جسم کے اعضاء کو کس زمین نے کھایا ہے اور ان کے جسم کے کون کون سے اجزاباقی ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے ان تمام باتوں کا پورا حساب ایک ایسی کتاب میں دج کررکھا ہے جو ہر طرح کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور وہ کتاب خود اس کی حفاظت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ درحقیقت یہ کفار کسی ایک بات پر جم کر سوچ ہی نہیں سکتے کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ یہ ہر چیز میں ڈانواڈول ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ کائنات میں ظاہری انقلاب اور قوموں کے انجام پر ذرا بھی سنجیدگی سے غور کرلیں تو انہیں ان میں سے کسی بات پر نہ تو حیرت ہوگی اور نہ تعجب ہوگا۔ فرمیا کہ ذرا اپنے اوپر ایک بلند وبالا آسمان کو دیکھو اور اللہ نے اس کو کس طرح بنایا ہے نہ ستون ہے نہ سہارا اور آسمان اپنی عظمتوں کے ساتھ چھت کی طرح سے تان دیا گیا ہے جسے چاند ‘ سورج اور ستاروں کی چمک سے روشن ومنور کر رکھا ہے اس میں کہیں شگاف یا دراڑ نہیں ہے ۔ اپنے پاؤں تلے زمین کو دیکھیں کہ اللہ نے اسکو پھیلا کر اس میں کس طرح تو ازن برقرار رکھنے کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا تاکہ وہ زمین انہیں لے کر ایک طرف کو نہ ڈھلک جائے۔ پھر زمین میں طرح طرح کے حسن و جمال اور خوبصورتیوں کو بکھیر دیا ہے۔ جب یہ زمین خشک اور مردہ سی ہوجاتی ہے تو بلندی سے پانی برسایا جاتا ہے جس سے مردہ سی زمین دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے ہر طرف خوبصورت باغات ‘ لہلہاتے کھیت ‘ کھجوروں کے جھنڈ کے جھنڈ اس میں لگے ہوئے گابھے اور رزق کے مختلف سامان اسی پانی سے پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں میں تعجب اور حیرت کی کوئی بات نہیں ہے ۔ اگر پانی کے چھینٹے سے زمین دوبارہ سرسبز و شاداب ہو کر ایک نئی زندگی حاصل کرسکتی ہے اور اللہ کے حکم سے پھل دینے لگتی ہے وہی اللہ جب سارے مردوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے اجزا کو جمع کر کے ان کی اپنی شکل و صورت پر دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا تو اس میں کسی حیرت کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ کی قدرت و طاقت ہے وہ کائنات میں جس طرح چاہتا ہے تبدیلیاں کرتا ہے وہی انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کی طاقت و قوت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ یہ تو دنیاوی انقلابات ہیں۔ اگر دنیا بھر کی بڑی بڑی قوموں کے عبرت ناک انجام کو دیکھا جائے تو یہ بات لکل واضح ہو کر سامنے آجائے گی کہ اللہ کے سامنے دنیا کی طاقتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جب بھی اس کی زمین پر نافرمانی کی جات ہے تو اللہ کا قانون قدرت دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ چناچہ اللہ نے نافرمان قوموں کے متعلق فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو پھر ان کی ترقیات ‘ مال و دولت اور اونچی اونچی بلڈنگیں ان کے کام نہ آسکیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قومیں قوم ثمود اور قوم عاد ‘ فرعون اور لوط (علیہ السلام) کی قوم گھنے جنگل والے اور قوم تبع ان قوموں کی زندگیاں گواہ ہیں کہ اللہ نے ان قوموں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھیجے۔ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تو ان تباہ و برباد کر کے نشان عبرت بنادیا۔ اصحابہ الرس ‘ اصحاب ایکہ اور قوم تبع کون تھے ان کی تفصیل یہ ہے۔ { اصحاب الرس }(کنویں والے) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم ثمود کو ان کی نافرمانیوں سے روکا تو وہ ان کے مخالف ہوگئے اور اس قوم کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی گئیں۔ آخر کار اس قوم پر عذاب کا فیصلہ آگیا اور وہ قوم تہس نہیس کردی گئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے تقریباً چار ہزار آدمی تھے جنہیں اللہ نے اس عذاب سے بچا لیا اور حضر موت کے علاقے میں حضرت صالح اور ان کی قوم کے لوگ جا کر آباد ہوگئے۔ جس جگہ قیام کیا تھا وہاں ایک کنواں تھا۔ (الرس کنویں کو کہتے ہیں) ۔ فرمایا کہ اصحاب الرس (کنویں والے) شروع میں تو اللہ کے فرماں بردار رہے جب حضرت صالح (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو آہستہ آہستہ اس قوم میں بت پرستی شروع ہوگئی۔ اسی کفرو شرک اور نافرمانی کی وجہ سے اس قوم پر عذاب نازل کیا گیا ۔ وہ کنواں جس پر ان کا دارو مدار تھا وہ کنواں خشک ہو کر ویران ہوگیا اور ان کی بنائی ہوئی اونچی اونچی بلڈنگیں تباہ برباد کردی گئیں۔ { اصحاب الایکہ } الایکہ گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ یہ علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور گھنے باغات سے گھرا ہوا تھا۔ پانی بھی بڑی کثرت سے تھا۔ آج کل یہ علاقہ اردن کی سلطنت میں ہے۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں بڑھ گئیں تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا جب اس قوم نے ان کی مسلسل نافرمانیاں کیں اور اللہ و رسول کی باتیں ماننے سے انکار کردیا تو اس قوم پر اللہ کا عذاب آیا اور وہ قوم تباہ وبربادہو کر رہ گئی۔ { قوم تبع } یمن کے بادشاہوں کو ” تبع “ کہا جاتا ہے جس طرح مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ قوم تبع کو اپنی خوش حالی پر بڑا ناز تھا۔ وہ کوئی صحیح بات سننے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ نے اس قوم کو شدید عذاب کے ذریعہ تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ ان کا مال اور دولت اور ان کی ترقیات ان کے کسی کام نہ آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ قوموں کا ذکر کرکے مکہ کے کفار و مشرکین کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانیاں نہ کریں ورنہ وہ بھی اللہ کے غضب کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ کا دستور اور قانون ہر زمانہ میں یکساں رہا ہے۔ وہ نافرمانوں کو سزادیتا ہے اور فرماں برداروں کو دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی کامیابیاں عطا کرتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورت :” ق “ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع “ کرنا۔ (المنجد) المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کیا انہی سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو ان کو ڈراتا ہے۔ کفّار اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں زندہ کیا جائے گا ؟ یہ بات عقل سے بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ زمین مرنے والوں کو کھا جاتی ہے اور مرنے والا مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے۔ کفار کی تکذیب اور تعجب کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمیں نہ صرف اس بات کا پوری طرح علم ہے کہ انسان کے وجود سے زمین کیا کھاتی ہے اور کیا بچائے رکھتی ہے۔ ہم نے اپنے پاس ہر چیز کا انداج بھی کر رکھا ہے۔ مر کر جی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے تعجب انہیں اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کے پاس حق آچکا ہے لیکن اس کے باوجود یہ انکار کررہے ہیں۔ یہ بات فہم القرآن میں پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کی دعوت کے بنیادی ارکان تین ہیں۔ اللہ کی توحید، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آخرت پر ایمان لانا۔ کفار مختلف انداز اور الفاظ میں قرآن مجید کی دعوت کے تینوں اجزاء کا انکار کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی دعوت کفار کے سامنے پیش کی اور دعوت کا انکار کرنے والوں کو آخرت کے انجام سے ڈرایا۔ جس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا اور آپ کی رسالت کا انکار کیا۔ اس سے پہلے ان کے آخرت کے بارے میں کفار کے تعجب اور انکار کا یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ جہاں تک کفار کی اس بات کا تعلق ہے کہ ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کون اٹھائے گا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مٹی کے ایک ذرے ذرے سمیت ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ میں ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ یہ لوگ مر کر جی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں اس مٹی سے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہیں وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا کیونکہ وہ زمین کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اور ہر ذرّے پر اسے اختیار اور اقتدار حاصل ہے پھر اس کے پاس ہر چیز کا اندراج بھی موجود ہے۔ کفار کو تعجب اس بات پر کرنا چاہیے کہ ان کے پاس حق پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کی الجھن کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ ” مَرِیْجٍ “ سے مراد ایسا شک جو انسان کو ہمیشہ ذہنی کشمکش میں مبتلا کیے رکھے۔ یاد رہے کہ انسان کا وجود دو چیزوں پر مشتمل ہے ایک روح جس کی بنیاد پر انسان چلتا پھرتا، اٹھتا، بیٹھتا کھاتاپیتا آرام اور کام کرتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی روح باقی رہتی ہے جس کا ٹھکانہ ” عِلِّیِّیْنَ “ یا ” سِجِّیْنٌ“ میں ہوتا ہے۔ ” عِلِّیِّیْنَ “ وہ رجسٹر ہے جس میں جنتی رحوں کا اندراج ہوتا ہے۔ ” سِجِّیْنٌ“ سے مراد وہ رجسٹر یا مقام ہے جہاں جہنمیوں کی ارواح کو رکھا جاتا ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق ہے یہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اس میں ایک ذرہ (SELL) باقی رہتا ہے جس سے قیامت کے دن اس کے وجود کی ابتدا ہوگی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ ) (رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ ” حضرت برا بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے۔ ہم قبرستان پہنچے تو قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔ “ (رواہ احمد : مسند براء بن عازب (رض) ، قال الشیخ البانی ہذا حدیث صحیح) مسائل ١۔ قرآن ہر حوالے سے عظیم کتاب ہے۔ ٢۔ کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کی دعوت پر تعجب کا اظہار کرتے تھے۔ ٣۔ کفار مر کر زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ٤۔ اہل مکہ کی طرف حق پہنچ چکا تھا لیکن پھر بھی وہ الجھن میں پڑے رہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت : ١۔ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : ٥) ٢۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦ ) ٣۔ لوگوں لوہا بن جاؤ یا پتھر اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور زندہ کرے گا۔ ( بنی اسرائیل : ٥٠، ٥١) ٤۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ : ٦) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٧٣) ٦۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٥٩) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٦٠) ٨۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : ٢٥) ٩۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں : (البقرۃ : ٢٤٣) (الاعراف : ١٥٥) (المائدۃ : ١١٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٤٧ ایک نظر میں یہ اس سورت کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع مسئلہ بعث بعد الموت ہے۔ مشرکین مکہ اس کا انکار کرتے تھے بلکہ جو لوگ بعث بعد الموت کے قائل تھے وہ ان کی جانب سے یہ عقیدہ رکھنے پر تعجب کرتے تھے۔ لیکن قرآن صرف ان کے اس غلط خیال ہی کو موضوع بحث نہیں بناتا۔۔۔۔ ۔ انکار پر بحیثیت مجموعی تنقید کرتا ہے اور ان کی اصلاح کر کے اور ان کی کج فکری کو درست کر کے ان کو سچائی کی راہ کی طرف لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم کی سعی یہ ہے کہ ان کے غافل دلوں کو جھنجھوڑے اور خوب جگائے تا کہ وہ اس کائنات کے اندر جو عظیم حقائق ہیں ، ان کو سمجھنے کے لئے اپنے دل کے دروازے کھولیں ۔ اس لیے قرآن کریم محض منطقی انداز مناظرہ میں ان کے ساتھ موضوع بعث بعد الموت پر کوئی مباحثہ نہیں کرتا ۔ وہ صرف ان کے مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ ان کے زنگ آلود دماغ کو صیقل کرتا ہے کہ وہ غور وفکر سے کام لیں۔ وہ ان کے وجدان کو چھوتا ہے تا کہ اس کے اندر احساس تیز ہو اور وہ اپنے ماحول کے اندر پائے جانے والے حقائق سے براہ راست متاثر ہو سکے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جس سے وہ لوگ خوب استفادہ کرسکتے ہیں جن کا کام دلوں کی اصلاح کرنا ہو۔ سورت کا آغاز حرف ق اور قرآن مجید کی قسم سے ہوتا ہے ، مطلب یہ کہ یہ قرآن مجید تو ایسے ہی حروف سے مرکب ہے اور لفظ قرآن کا پہلا حرف ہی قاف ہے۔ ٭٭٭٭٭ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کس بات پر قسم اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ قسم کلام کے آغاز میں ہے۔ اس کا پہلا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کلام کا آغاز قسم سے کر رہا ہے ، لہٰذا بیدار ہوجاؤ، معاملہ غیر معمولی ہے۔ اللہ اور قسم ، لہٰذا معاملہ خطرناک ہے۔ شاید اس آغاز کا مقصد یہی ہے کیونکہ بجائے اس کے کہ بعد میں وہ بات ذکر کی جائے جس کے لئے قسم اٹھائی جا رہی ہے ، حرف اضراب “ بل ” کو لایا گیا ہے۔ کیونکہ قسم نے مخاطب پر خوب اثر ڈال دیا۔ اس لیے اب ان کے تعجب اور بعث بعد موت کو ایک “ انہونی بات سمجھنے ” کے موضوع کو لیا جاتا ہے ، اس اندز میں کہ گویا مشرکین کے سامنے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ اٹھائے جانے کی بات کی تو انہوں نے اس کا یوں انکار کردیا گویا کفار کے نزدیک یہ ایک نئی بات ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کا بیان، نعمتوں کا تذکرہ منکرین بعث کی تردید یہاں سے سورة ٴ ق شروع ہو رہی ہے۔ اس میں دلائل توحید اور وقوع قیامت اور قیامت کے دن کے احوال اور مومنین و کافرین کا انجام بتایا ہے۔ درمیان میں باغی اور طاغی قوموں کی ہلاکت کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے۔ قٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہوا ہے۔ ﴿قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ٠٠١﴾ (قسم ہے قرآن مجید کی) تم ضرور اٹھائے جاؤ گے اور قیامت کے دن حاضر ہو گے یہ جواب قسم لتبعثن محذوف کا ترجمہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

2:۔ ” ق، والقرآن المجید “ یہ ترغیب مع زجر ہے۔ ” المجید “ ذو المجد والشرف (مدارک، روح) ۔ بزرگی اور شرف والا۔ ایسا کلام، جو صفات جلالیہ کا حامل ہے اور جس سے صاحب کلام کا جلال و جبروت اور کبریائی و عظمت نمایا ہے جواب قسم محذوف ہے۔ اخفش، مبرد اور زجاج کے نزدیک ” لتبعثن “ (خازن) ۔ ابو حیان کے نزدیک انک جئتہم منذرا بالبعث (بحر ج 8 ص 120) ۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک انک لرسول حق وان الساعۃ لاتیۃ۔ یعنی یہ صفات جلالیہ کا حامل قرآن شاہد ہے کہ قیامت ضرور آئیگی اور آپ سچے رسول ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(1) ق ٓ قف قسم ہے قرآن مجید بڑے شان والے کی۔ ق تو حروف مقطعات میں سے ہے اور قارئین کو معلوم ہے کہ ہم حروف مقطعات کے کوئی معنی نہیں کرتے اس لئے ان حروف کا حقیقی علم اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں۔ اگرچہ اکثر مفسرین نے معنی بیان کئے ہیں لیکن ہم نے احتیاطاً کسی جگہ اس کے معنی تیسیر میں نہیں کئے۔ مجد کے معنی شرف اور بزرگی کے ہیں اس لئے ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے۔ قرآن کا مجد اور شرف ظاہر ہے دوسری کتب سماویہ پر قرآن کو ایک خاص شرف اور بزرگی حاصل ہے یہ سب کا ناسخ ہے اس میں تحریف نہیں جس طرح نازل ہوا اسی طرح امت کے سینوں میں محفوظ ہے اس قسم کا جواب محذوف ہے۔ بعض نے کہا بیشک ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے بعض نے کہا کفار مکہ ایمان نہیں لاتے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض نے کہا ہم نے آپ کو قیامت سے ڈرانے والا بھیجا ہے ہم نے ترجمے میں جواب قسم یہ لکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے رسول ہیں مگر یہ کافر یقین نہیں کرتے۔ بہرحال المحذوف کا لملفوظ کی بنا پر ہم نے جواب قسم لکھ دیا ہے ورنہ قرآن میں مذکور نہیں بعض حضرات نے قدعلمنا ما تنقص الارض کو اور بعض حضرات نے مایلفظ من قول کو جواب قسم کہا ہے۔