Surat Qaaf

Surah: 50

Verse: 21

سورة ق

وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾

And every soul will come, with it a driver and a witness.

اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک لانے والا ہوگا اور ایک گواہی دینے والا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And every person will come forth along with a Sa'iq and a Shahid. meaning, an angel to drive him to the gathering place and an angel to bear witness against him with regards to his deeds. This is the apparent meaning of this honorable Ayah and it is the meaning that Ibn Jarir preferred. It was narrated from Yahya bin Rafi`, the freed servant of Thaqif, that he heard Uthman bin Affan, may Allah be pleased with him, giving a speech in which he recited this Ayah, وَجَاءتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَايِقٌ وَشَهِيدٌ (And every person will come forth along with a Sa'iq and a Shahid), and then said, "A Sa'iq to drive every person to Allah the Exalted, and a Shahid to witness against him what he has done." The statement of Allah the Exalted, لَقَدْ كُنتَ فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَذَا فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 سَائِق (ہانکنے والا) اور شھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] اس سے مراد غالباً وہی دو فرشتے ہیں جو اس کا ریکارڈ ثبت کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک تو اسے پیچھے سے ہانک کر اللہ کے سامنے پیش کردے گا اور کہے گا کہ مجرم حاضر ہے۔ دوسرا اس کا پوری زندگی کا ریکارڈ سامنے لاحاضر کرے گا۔ یعنی مجرم بھی حاضر اور گواہی بھی حاضر۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(وجآء ت کل نفس معھا سآئق و شھید :” سآئق “ ” ساق یسوق سوفاً “ سے اسم فاعل ہے، ہانکنے والا جو جانوروں کو یا کسی گروہ کو ہانک کر کسی جگہ پہنچاتا ہے۔ ” شھید “ شہادت دینے اولا۔ یعنی قبر سے نکلتے ہی ہر کافر کے ساتھ ایک فرشتہ ہانکنے والا ہوگا جو اسے ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گا اور ایک اس کے اعمال بد کی شہادت دینے ولا ہوگا۔ یہ فرشتہ کراماً کاتبین میں سے بیھ ہوسکتا ہے جو اس کا نامہ اعمال لے کر شہادت کے لئے حاضر ہوگا۔ گویا مجرم بھی حاضر ہوگا اور اس کے خلاف مکمل شہادتیں بھی حاضر ہوں گی۔” کل نفس “ سے مراد یہاں ہر کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس اہانت اور تذلیل کے ساتھ کفار ہی کو لے جایا جائے گا۔ بعد کی آیات سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Two Angels to Lead Man to the Plane of Hashr وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ (And everybody will come, along with one [ angel ] to drive [ him to the field of reckoning ] and one [ angel ] to testify [ about his deeds ] 50:21). The verse before this depicts the way the Day of Judgment will be established. This verse describes the way in which all human beings will be brought to the plane of Hashr. With every man there will be a Sa&iq and a Shahid. Sa&iq, literally, denotes a person who remains behind a herd of animals or behind a group of people and drives them to a particular place. And Shahid refers to a witness. As for Sa&iq, by the consensus of traditions, it refers to an angel. But there are different views of scholars of Tafsir regarding Shahid. Some say that it too refers to an angel. In this way, there are two angels - Sa&iq and Shahid. Sa&iq&s duty is to drive the people to the gathering place, and Shahid&s task is to bear witness when the people&s deeds will be presented. Another possible interpretation is that these two angels refer to the |"honorable scribes|" who used to accompany human beings all the time in the world on the right and left to record their deeds. A third possibility is that they refer to some other angels besides the ones mentioned here. Some scholars interpret Shahid as referring to man&s action, and other scholars think that the reference is to man himself. Ibn Kathir opines that the apparent context of the verse indicates that Shahid is also an angel who will bear witness to man&s actions. Sayyidna ` Uthman Ibn ` Affan (رض) whilst delivering a sermon recited this verse and said: |"Sa` iq will drive every person to Allah, and Shahid will testify about what one has done.|" Interpreters like Sayyidna Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid (رض) placed the same interpretation on the two names. Ibn Jarir has preferred this interpretation.

انسان کو میدان حشر میں لانے والے دو فرشتے : (آیت) وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَهِيْدٌ، اس آیت سے اوپر قیامت قائم ہونے کا ذکر ہے، اس آیت میں میدان حشر میں تمام انسانوں کے حاضر ہونے کی ایک خاص کیفیت بیان کی گئی ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک سائق ہوگا، سائق کہتے ہیں اس شخص کو جو جانوروں کے یا کسی جماعت کے پیچھے رہ کر اس کو کسی خاص جگہ پر پہنچانا چاہتا ہے اور شہید کے معنی گواہ کے ہیں، سائق کا فرشتہ ہونا تو باتفاق روایات سے ثابت ہے، شہید کے بارے میں علماء تفسیر کے اقوال مختلف ہیں، بعض کے نزدیک وہ بھی ایک فرشتہ ہی ہوگا، اس طرح سائق اور شہید دو فرشتے ہوگئے، ایک کا کام اس کو میدان حشر میں پہنچانا ہے، دوسرے کا کام یہ ہے کہ جب اس کے اعمال پیش ہوں تو وہ اس پر گواہی دیں یہ دو فرشتے وہ بھی ہو سکتے ہیں جو انسان کے داہنے اور بائیں اعمال کی کتابت کے لئے ہر وقت دنیا میں ساتھ رہتے ہیں، یعنی کراما کاتبین اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے علاوہ اور دو ہوں۔ اور شہید کے متعلق بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ انسان کا عمل ہوگا اور بعض نے خود اسی انسان کو شہید فرمایا، ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ظاہر آیت سے یہی ہے کہ وہ بھی ایک فرشتہ ہی ہوگا جو اس کے اعمال پر شہادت دے گا، حضرت عثمان غنی نے خطبہ میں یہ آیت تلاوت فرما کر یہی تفسیر فرمائی ہے اور حضرت مجاہد، قتادہ، ابن زید مفسرین سے بھی یہی منقول ہے، ابن جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَہِيْدٌ۝ ٢١ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ ساق سَوْقُ الإبل : جلبها وطردها، يقال : سُقْتُهُ فَانْسَاقَ ، والسَّيِّقَةُ : ما يُسَاقُ من الدّوابّ. وسُقْتُ المهر إلى المرأة، وذلک أنّ مهورهم کانت الإبل، وقوله : إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] ، نحو قوله : وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] ، وقوله : سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : ملك يَسُوقُهُ ، وآخر يشهد عليه وله، وقیل : هو کقوله : كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] ، وقوله : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] ، قيل : عني التفاف الساقین عند خروج الروح . وقیل : التفافهما عند ما يلفّان في الکفن، وقیل : هو أن يموت فلا تحملانه بعد أن کانتا تقلّانه، وقیل : أراد التفاف البليّة بالبليّة نحو قوله تعالی: يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] ، من قولهم : کشفت الحرب عن ساقها، وقال بعضهم في قوله : يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] :إنه إشارة إلى شدّة «2» ، وهو أن يموت الولد في بطن الناقة فيدخل المذمّر يده في رحمها فيأخذ بساقه فيخرجه ميّتا، قال : فهذا هو الکشف عن الساق، فجعل لكلّ أمر فظیع . وقوله : فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] ، قيل : هو جمع ساق نحو : لابة ولوب، وقارة وقور، وعلی هذا : فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] ، ورجل أَسْوَقُ ، وامرأة سَوْقَاءُ بيّنة السّوق، أي : عظیمة السّاق، والسُّوقُ : الموضع الذي يجلب إليه المتاع للبیع، قال : وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] ، والسَّوِيقُ سمّي لِانْسِوَاقِهِ في الحلق من غير مضغ ( س و ق) سوق الابل کے معنی اونٹ کو سنکانے اور چلانے کے ہیں یہ سفقتہ ( ن) کا مصدر ہے اور انسان ( انفعال ) کے معنی ہنکانے کے بعد چل پڑنے کے ہیں ان جانوروں کو جو ہنکائے جاتے ہیں سیقۃ کہا جاتا ہے ۔ اور عورت کو مہر ادا کرنے کے لئے سقت المھر الی المرءۃ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اس لئے کہ عرب حق مہر میں وعام طور پر ) اونٹ دیا کرتے تھے ۔ اور آیت : ۔ إِلى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَساقُ [ القیامة/ 30] میں امساق سے معنی پروردگار کی طرف چلنا کے ہیں جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهى [ النجم/ 42] میں ہے یعنی تمہیں اپنے پروردگار کے پاس پہچنا ہے اور آیت سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک ( اس کے عملوں کی ) گواہی دینے والا ۔ میں سابق سے وہ فرشتہ مراد ہے جو اسے چلا کر حساب کے لئے پیش کرے گا اور دوسرا فرشتہ شہید بطور گواہ کے اس کے ساتھ ہوگا جو اسکے حق میں یا سکے خلاف گواہی گا بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت : ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کیطرف دھکیلے جاتے ہیں کے ہم معنی ہے اور آیت : ۔ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ [ القیامة/ 29] اور پنڈلی لپٹ جائے گی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں قبض روح کے وقت پنڈلیوں کا لپٹنا مراد لیا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ان لپٹنے سے مراد موت ہے کہ زندگی میں وہ اس کے بوجھ کو اٹھا کر چلتی تھیں لیکن موت کے بعد وہ اس بار کی متحمل نہیں ہوسکیں گی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک شدت کا دوسری شدت سے لپٹنا مراد ہے اسی طرح آیت : ۔ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ [ القلم/ 42] جس دن پنڈلی سے کپڑا اٹھا دیا جائیگا ۔ میں پنڈلی سے کپرا ا اٹھانا صعوبت حال سے کنایہ ہے اور یہ کشفت الحرب عن ساقھا کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی لڑائی کے سخت ہوجانے ہیں ۔ بعض نے اس کی اصل یہ بیان کی ہے کہ جب اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو مزمر ( جنوانے والا ) اس کے رحم کے اندر ہاتھ ڈالتا ہے : ۔ اور اسے پنڈلیوں سے پکڑ کر ذور سے باہر نکالتا ہے ۔ اور یہ کشف عن الناق کے اصل معنی ہیں پھر ہر ہولناک امر کے متعلق یہ محاورہ استعمال ہوناے لگا ہے تو یہاں بھی شدت حال سے کنایہ ہے اور آیت : ۔ فَاسْتَوى عَلى سُوقِهِ [ الفتح/ 29] اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ سوق ساق کی جمع ہے جیسے لابۃ کی جمع لوب اور فارۃ کی جمع فور آتی ہے ۔ اور اسی طرح آیت : ۔ فَطَفِقَ مَسْحاً بِالسُّوقِ وَالْأَعْناقِ [ ص/ 33] پھر ان کی ٹانگوں اور گر دنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ۔ میں بھی سوق صیغہ جمع ہے اور رجل اسوق کر معنی بڑی پنڈلیوں والے آدمی کے ہیں اسکی مؤنث سوقاء آتی ہے اور سوق کے معنی بازار بھی آتے ہیں جہاں خرید فروخت ہوتی ہے اور فروخت کے لئے وہاں سامان لے جایا جاتا ہے اس کی جمع اسواق ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَقالُوا مالِ هذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْواقِ [ الفرقان/ 7] یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے ۔ اور بازروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ السویق کے معنی ستو کے ہیں کیونکہ وہ بغیر جائے حلق سے نیچے اتر جاتے ہیں ۔ شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] ، وقوله : أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، أي : يشهدون ما يسمعونه بقلوبهم علی ضدّ من قيل فيهم : أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ، وقوله : أَقِمِ الصَّلاةَ إلى قوله : مَشْهُوداً أي : يشهد صاحبه الشّفاء والرّحمة، والتّوفیق والسّكينات والأرواح المذکورة في قوله : وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ [ الإسراء/ 82] ، وقوله : وَادْعُوا شُهَداءَكُمْ [ البقرة/ 23] ، فقد فسّر بكلّ ما يقتضيه معنی الشهادة، قال ابن عباس : معناه أعوانکم وقال مجاهد : الذین يشهدون لكم، وقال بعضهم : الذین يعتدّ بحضورهم ولم يکونوا کمن قيل فيهم شعر : مخلّفون ويقضي اللہ أمرهمو ... وهم بغیب وفي عمیاء ما شعروا وقد حمل علی هذه الوجوه قوله : وَنَزَعْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ القصص/ 75] ، وقوله : وَإِنَّهُ عَلى ذلِكَ لَشَهِيدٌ [ العادیات/ 7] ، أَنَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ [ فصلت/ 53] ، وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] ، فإشارة إلى قوله : لا يَخْفى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ [ غافر/ 16] ، وقوله : يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، ونحو ذلک ممّا نبّه علی هذا النحو، والشَّهِيدُ : هو المحتضر، فتسمیته بذلک لحضور الملائكة إيّاه إشارة إلى ما قال : تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَّا تَخافُوا ... الآية [ فصلت/ 30] ، قال : وَالشُّهَداءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ [ الحدید/ 19] ، أو لأنهم يَشْهَدُونَ في تلک الحالة ما أعدّ لهم من النّعيم، أو لأنهم تشهد أرواحهم عند اللہ كما قال : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ آل عمران/ 169- 170] ، وعلی هذا دلّ قوله : وَالشُّهَداءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ، وقوله : وَشاهِدٍ وَمَشْهُودٍ [ البروج/ 3] ، قيل : الْمَشْهُودُ يوم الجمعة وقیل : يوم عرفة، ويوم القیامة، وشَاهِدٌ: كلّ من شهده، وقوله : يَوْمٌ مَشْهُودٌ [هود/ 103] ، أي : مشاهد تنبيها أن لا بدّ من وقوعه، والتَّشَهُّدُ هو أن يقول : أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أنّ محمدا رسول الله، وصار في التّعارف اسما للتّحيّات المقروءة في الصّلاة، وللذّكر الذي يقرأ ذلک فيه . شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو لوگوں کا حال بتانے کو گواہ طلب کریں گے ۔ میں بھی شہید بمعنی شاہد ہی ہے اور آیت کریمہ ؛ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہوکر سنتا ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں ان کے دل اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ بخلاف ان لوگوں کے جن کے متعلق فرمایا ہے ۔: أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو ( گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَقِمِ الصَّلاةَ ۔۔ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور ملائکہ ہے ۔ میں قرآن کے مشہود ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قرات کرنے والے پر شفاء رحمت ، توفیق ، سکینت اور ارواح نازل ہوتی ہیں ۔ جن کا کہ آیت ؛ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ [ الإسراء/ 82] اور ہم قرآن کے ذریعہ سے وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے ۔ میں ذکر پایا جاتا ہے ۔ اور آیت : وَادْعُوا شُهَداءَكُمْ [ البقرة/ 23] اور جو تمہارے مددگار ہیں ان کو بلا لو ۔ میں شھداء کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں جن پر معنی شہادت مشتمل ہے ۔ چناچہ ابن عباس نے اس کے معنی اعوان یعنی مددگار کے کئے ہیں اور مجاہدہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ جو تمہارے حق میں گواہی دیں ۔ اور بعض نے شہداء سے وہ لوگ مراد لئے ہیں ۔ جن کے موجود ہونے کو قابل قدر اور معتبر سمجھا جائے یعنی وہ ایسے لوگ نہ ہوں جن کے متعلق کہا گیا ہے ( البسیط) (269) مخلّفون ويقضي اللہ أمرهمو ... وهم بغیب وفي عمیاء ما شعروا وہ پیچھے رہتے ہیں اور لوگ اپنے معاملات کا فیصلہ کرلیتے ہیں وہ غیر حاضر اور بیخبر ہوتے ہیں اور ان کو اس بات کو علم تک نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : وَنَزَعْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً [ القصص/ 75] اور ہم امت میں سے گواہ نکال لیں گے ۔ میں بھی شہید کا لفظ انہی معانی پر حمل کیا گیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِنَّهُ عَلى ذلِكَ لَشَهِيدٌ [ العادیات/ 7] اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے ۔ أَنَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ [ فصلت/ 53] کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے باخبر ہے ۔ وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] اور ( حق ظاہر کرنے کو ) خدا ہی کافی ہے ۔ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے ک حق تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : لا يَخْفى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ [ غافر/ 16] اور کوئی چیز خدا سے مخفی نہیں رہے گی ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ تو چھپے بھید اور پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے ۔ علی ہذالقیاس متعدد آیات ایسی ہیں جو اس معنی ( یعنی علم باری تعالیٰ کے محیط ہونے ) پر دال ہیں ۔ اور قریب المرگ شخص کو بھی شہید کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں چناچہ آیت کریمہ : تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَّا تَخافُوا ... الآية [ فصلت/ 30] آلایۃ ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ خوف نہ کرو ۔ میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ اور فرمایا ۔ وَالشُّهَداءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ [ الحدید/ 19] اور اپنے پروردگار کے نزدیک شہید ہیں ان کے لئے ان کے اعمال کا صلہ ہوگا ۔ اور شھداء کو شھداء یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حالت نزع میں ان نعمتوں کا مشاہدہ کرلیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیار کی ہیں اور یا اس لئے کہ ان کے ارواح باری تعالیٰ کے ہاں حاضر کئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ فرمایا : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ آل عمران/ 169- 170] اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے اور ان کو مردہ مت سمجھنا اور آیت کریمہ : وَالشُّهَداءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْاور پروردگار کے نزدیک شہید ہیں ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے اور آیت کریمہ : وَشاهِدٍ وَمَشْهُودٍ [ البروج/ 3] اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی قسم۔ میں بعض نے کہا ہے کہ مشھود سے یوم جمعہ مراد ہے اور بعض نے یوم عرفہ مراد لیا ہے ۔ اور بعض نے یوم قیامت اور شاھد سے ہر وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو اس روز میں حاضر ہوگا اور آیت کریمہ : يَوْمٌ مَشْهُودٌ [هود/ 103] اور یہی وہ دن ہے جس میں خدا کے روبرو حاضرکئے جائینگے ۔ میں مشھود بمعنی مشاھد ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ وہ دن ضرور آکر رہے گا ۔ التشھد کے معنی اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا رسول اللہ پڑھنے کے ہیں اور عرف میں تشہد کے معنی التحیات اور ان اذکار کے ہیں جو حالت تشہد ( جلسہ ) میں پڑھے جاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢١ { وَجَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّشَہِیْدٌ ۔ } ” اور ہر جان آئے گی (اس حالت میں کہ) اس کے ساتھ ہوگا ایک دھکیلنے والا اور ایک گواہ۔ “ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ جو دو فرشتے (کِرَامًا کَاتِبِیْنَ ) مامور ہیں وہی قیامت کے دن اسے لا کر اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک فرشتہ اس کا اعمال نامہ اٹھائے ہوئے ہوگا جب کہ دوسرا اسے عدالت کی طرف دھکیل رہا ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 Most probably this implies the same two angels who had been appointed for compiling the record of the words and deeds of the person in the world. On the Day of Resurrection, when every man will rise from his grave on the sounding of the Trumpet, the two angels will come forth immediately and take him into their custody. One of them will drive him to the Divine Court and the other will be carrying his record.

سورة قٓ حاشیہ نمبر :25 اغلب یہ ہے کہ اس سے مراد وہی دو فرشتے ہیں جو دنیا میں اس شخص کے قول و عمل کا ریکارڈ مرتب کر نے کے لیے مامور رہے تھے ۔ قیامت کے روز جب صور کی آواز بلند ہوتے ہی ہر انسان اپنے مرقد سے اٹھے گا تو فوراً وہ دونوں فرشتے آ کر اسے اپنے چارج میں لے لیں گے ۔ ایک اسے عدالت گاہ خداوندی کی طرف ہانکتا ہوا لے چلے گا اور دوسرا اس کا نامۂ اعمال ساتھ لیے ہوئے ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: یعنی جب قبروں سے نکل کر انسان میدان حشر کی طرف جائیں گے تو دو فرشتے ہر ایک کے ساتھ ہوں گے، ان میں سے ایک تو انہیں میدان حشر کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور ایک فرشتہ اس لئے ہوگا کہ وہ حساب و کتاب کے وقت اس کے اعمال کی گواہی دے، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ وہی ددو فرشتے ہوں گے جو دنیا میں اس کا اعمال نامہ لکھا کرتے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(50:21) معھا : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کل نفس کے لئے ہے (ہر نفس کے ساتھ) یہ جملہ معھا سابق وشھید حال ہے کل نفس سے درآں حالیکہ ایک (فرشتہ) ہانکنے والا اور ایک (فرشتہ) بطور گواہ اس کے ساتھ ہوگا۔ سابق۔ ہانکنے والا۔ اسم فاعل کا سیغہ واحد مذکر سوف (باب نصر) مصدر۔ شھید۔ گواہ ۔ یہاں اس کا استعمال بطور گواہ ہی آیا ہے ۔ شرع کی اصطلاح میں شھید وہ ہے جو کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے بھی شھید آیا ہے اس وقت اس کے معنی ہوں گے وہ ذات جس کے علم سے کوئی چیز غائب نہ ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 آیت کا یہی مطلب حضرت عثمان اسی کے مطابق شاہ صاحب فرماتے ہیں، ایک فرشتہ ہانک لاتا ہے اور ایک (کے) پاس نامہ اعمال ساتھ ہے۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (٥٠ : ٢١) ” ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا “۔ وہ آیا ، وہ جس کا حساب کی جا رہا ہے ، جسے سزا ہونے والی ہے۔ ایک چلا کر لانے والا ہے اور ایک شہادت دینے والا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں لکھنے والے اور دنیا میں اس کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اور فرشتے ہوں۔ لیکن پہلی تفسیر راجح ہے۔ عدالت میں پیشی کا یہ بہترین طریقہ ہے لیکن یہ اللہ جبار کی عدالت ہے۔ ایسے مشکل وقت میں اسے یہ کہا جائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور ہر شخص اس طرح آئے گا کو دو فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے ایک ہانکنے والا اور ہمراہ لانے والا اور ایک گواہی دینے والا اور احوال بتانے والا۔ یہ دونوں فرشتے یا تو وہی کراماً کاتبین ہیں یا دوسرے دو فرشتے ہوں گے ایک نیکی کا فرشتہ جس کو شہید فرمایا اور ایک بدی لکھنے والا جس کو سائق کہا گیا ہے۔ بہرحال مفسرین کے کئی قول ہیں اسی طرح کل نفس میں بھی علماء کے دو قول ہیں ایک یہ کہ آیت عام ہے ہر مسلمان اور کافر اسی طرح آئے گا دوسرا قول یہ ہے کہ کل نفسی سے مراد صرف منکر اور کافر ہیں۔ بہرحال آگے کی آیت کا تعلق صرف منکروں کے ساتھ ہے کہ میدان حشر میں دین حق کے منکروں سے کہا جائیگا۔